Showing posts with label tu kitni masoom hai by aymen nauman. Show all posts
Showing posts with label tu kitni masoom hai by aymen nauman. Show all posts

Friday, December 21, 2018

tu kitni masoom hai last episode written by aymen nauman

Tu itni  masoom he...💕by Aymen Nauman
Last episode..

جی نہیں جب تک حمدان بھائی آپ میری ڈیمانڈ پوری نہیں کریں گے تب تک آپ کو اندر نہیں جانے دیا جائے گا ۔۔
حجاب محرون اور وائٹ کے امتزاج کا گھاگرا چولی پہنی بشر کے ساتھ دلہن کی طرح پور پور سجی کھڑی تھی ۔۔
بشر بار بار اس کے وجود میں گم ہو رہا تھا اور حجاب بار بار اس کی بیتابیوں پر برف انیڈیل رہی تھی ۔۔۔
پیار تمہاری ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے ۔۔
حمدان بشر کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
یار میں کچھ نہیں کرسکتا تم اور تمہاری عزیز جان بہن خو دہی منٹو ۔۔
بشیر نے صاف ہری جھنڈی دکھائی دی ۔۔
یہ میرا والٹ ہے ۔۔
یہ لو چیک بک جو بہی کرنا ہے کرلو بس میری جان چھوڑو ۔۔۔
ہاں حجاب بس اب چلتے ہیں ویسے ہی دو مہینے کے قریب تمہاری وجہ سے سولی پر لٹکا رہا ہے میرا چہیتا دوست ۔۔۔
سمیر کو ہمدان کی حالت پر رحم آنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔
ہاں بھائی بس اب تم لوگ میری جان بخشو ۔۔
حمدان سمیت کا فیور پاکر فوراً معصومیت طاری کرکے بولا خود پر ۔۔۔
میری بیچاری دلہن اب تک تو بے ہوش ہو چکی ہو گی میرا انتظار کرتے کرتے ۔۔۔
وہ بیچارگی سے مزید گویا ہوا ۔۔
ہاں بس ٹھیک ہے ڈن ۔۔۔
ہم خود لے لیں گے جو لینا ہو گا چیک بک تو ہمارے پاس ہے نا حجاب۔ ۔
اریج نے بھی ہمدان کی بیچارگی دیکھ کر حجاب کو ٹالنا چاہا ۔۔۔
نانا بالکل بھی نہیں۔۔
 مجھے یہ سب کچھ بالکل بھی نہیں چاہیے ۔۔۔
مجھے تو آپ دونوں کے ساتھ اریج اور سمیر بھائی کو بھی لے کر ہنی مون پر جانا ہے۔۔۔

ہاں ہاں اور نہیں تو کہا کیا ہمیں بھی تو اپنا ہنی مون منانا ہے جو ابھی تک نہیں منسکا  ۔۔
بشر دوبارہ چوڑا ہوا ۔۔
اور جھٹ سے حجاب کی ہاں میں ہاں ملا کر بولا ۔۔

ہمدان نے ان چاروں کا باب میں بڑے والی ہڈیوں کو دیکھا اور بے بسی سے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
اوہو چلو گڈ ہو گیا یہ تو ۔۔۔
حجاب نے خوشی سے بچوں کی طرح تالیاں بجائی ۔۔
وہ چاروں جھٹ سے راستہ چھوڑ کر ہرٹ چکے تھے ۔۔۔۔

💕💕💕

حمدان کمرے میں جلدی سے گھسا تھا اور کمرے کا دروازہ اندر سے فوری لاک کیا تھا۔۔
 مبادا کہیں پھر سے وہ چاروں دھاوا نہ بولدیں اور واپس اندر کودہی نا پڑیں۔ ۔
اسرارحمد ان کو اندر آتا دیکھ کر سمٹ سی گئیں تھی۔۔
حمدان اس کو اس طرح سے خود میں سمٹتا دیکھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھا تھا ۔۔
اسراء اس کو خود سے قریب بیٹھتا دیکھکر گھبرا کر تھوڑا کھسک گئی تھی ۔۔۔

ہمدان نے اس کا ہاتھ تھام کر گویا اب مزید اس کو دور ہونے سے روکا تھا ۔۔۔

بس اب میں تمہیں اس کمرے سے تو کیا ان بیڈ سے بھی ٹس سے مس نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔
وہ اس کی ناک میں پہنی خوبصورت سی نتھنی کو آہستہ سے کھول کر ناک سے جدا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

اسراء اس کے لمس کی حدت محسوس کر کے گھبرا سی گئی  اور ہیاء سے بوجھل پلکیں اٹھا نا پائی تھی ۔۔۔

تم نہیں جانتیں میں نے تمہیں ا سروپ میں دیکھنے کے لئے کتنا صبر کیا ہے ۔۔
سب سے میں پہلے تمہیں شکریہ کہنا چاہتا ہوں ۔۔
کس بات کا ؟؟
وہ آہستہ سے نہ سمجھیں سے بولی ۔۔
دیکھو ہم لوگ تمہارے ایکسپیکٹ کرنے کی خوشی بھی ٹھیک طرح سے منع نہیں سکے تھے ۔۔
اور میں چاہ کر بھی تمہارا شکریہ ادا نہیں کر پایا تھا ۔۔
تم نے مجھے اتنی بڑی خوشی سے نوازا ہے ۔۔
تم نہیں جانتیں باپ بننے کی خبر میرے لئے کیا تھی ۔۔
کتنا پیارا احساس تھا جو میرے دل میں میری اولاد کو لے کر جاگا تھا ۔۔۔
وہ آج اپنا دل کھول کے آسرا کے سامنے رکھ چکا تھا ۔۔
میں تم سے کسی بھی قسم کی محبت کا دعوی نہیں کروں گا ۔۔
ہاں بس اتنا ضرور کہوں گا کہ وقت ضرور تمہیں میری محبت کا یقین دلائے گا ۔
۔وہ اسراء کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے بولا ۔۔
وقت نے مجھے یقین دلادیا ہے آپ کی محبت کا ۔۔
اسراء نے بڑی محبت سے پیار بھرے لہجے میں اقرار کیا تھا ۔۔۔
آج تم دلہن کے اس روپ میں سجی سنوری آخر کان میںری سیج سجائے بیٹھی ہو۔۔۔
وہ اسراء کو بیڈ پر کر اس پر جھک کے  سرگوشیان انداز میں بولا ۔۔
ہمدان ۔۔۔
اسراء نے بڑی مشکل سے کپکپاتے ہوئے لبوں سے یہ اپنے محبوب شوہر کانام ادا کیا تھا  ۔۔
جی جا نے ہمدان ۔۔۔
ہمدان میں بھی آپ کی محبت میں پور پور بھی چکی ہوں ۔۔۔
وہ خود پہ جھکے ہمدان کی شرٹ کو  کو اپنی مٹھیوں میں قید کرتے ہوئے حیا سے چور کپکپاتے لہجے میں کہہ رہی تھی ۔۔۔
اور بہت ہی پیارے انداز میں اپنے ریڈلپسٹک سے سجے ہونٹ  اس کے چوڑے سینے پر رکھے تھے  ۔۔۔

مگر میں تم سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔
ہمدان نے اس کے دوپٹے کی پنوں کوسر سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔
اور آہستہ سے اس کی بندیا بالوں میں سے جدا کرنے لگا ۔۔
اسراء سہم کر ہمدان کو دیکھا تھا ۔۔
حمدان اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر جلدی سے بولا مبادہ وہ پھر سے رونا ہی نہ شروع کردیتی ۔۔۔
میں تم سے میری جان عشق کرتا ہوں ۔۔۔
یہ کہ کر ہمدان نے اس پر اپنی محبت کی بوند بوند پر سات کرکےوجود کو صندل کر دیا ۔۔۔

💕💕💕💕

حجاب کو اللہ تعالی نے نئی زندگی عطا کی تھی وہ اور اس کی پریگنسی دونوں خطرے سے باہر تھیں۔ ۔۔
 ڈاکٹر نے کچھ عرصے میں جسم پر آنے والے تمام زخموں کو بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہونے کا کہا تھا ۔۔۔
ان دو ماہ میں بشرنے حجاب کو گویا اپنی ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔
وہ بشر اور ماما بابا سمیت اسراء،  سمیر ،اریج اور ہمدان سب کی محبت اور توجہ پا کر جلد ریکور کر رہی تھی ۔۔۔

💕💕💕💕

آریج نے اپنے باپ سے تمام تر تعلقات ختم کر لئے تھے۔۔
 سمیر کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ اپنے باپ سے ہر قسم کا تعلق ختم کر بیٹھی تھی ۔۔۔
حجاب کے گھرانے کے بعد سے وہ ابھی تک اسی کے پاس تھی کسی سائے کی طرح اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی ۔۔۔
آرزو کو اس نے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا بشر کے گھرمیں۔۔
 حجاب اور بشر سمیت گھر کےباقی لوگ بھی آرزو سے اٹکھیلیاں کرتے نظر آتے تھے ۔۔
آرزو بھی بہت جلدی سب کی محبتیں پا کر سب سے مانوس ہو گئی تھی ۔۔
پنجاب کا دل اپنی بھتیجی کی ننھی ننھی کلکاریوں سے بہت خوش ہوتا تھا ۔۔۔
اس حادثے کو اپنی میموری میں سے بالکل بلاک اور ڈیلیٹ کر چکی تھی ۔۔۔
ایک بھیانک اور درد ناک خواب سمجھ کر ۔۔۔

💕💕💕

اریج مو آج دو مہینے بعد ہمدان اور اسرار کی شادی کے دوسرے سمیر لینے آیا تھا ۔۔
ویسے تو وہ روز ہی شام میں آفس سے فارغ ہوکر سیدھا وہی آرزوکے پاس آجاتا تھا ۔۔
مگر کل بارات کے فنکشن میں حجاب نے سمیر کا اترا اترا سہ چہرہ دیکھ کر زبردستی  اریج کو اس کے ساتھ جانے کے لئے کہا تھا ۔۔
حجاب میری بات سمجھ نہے کوشش کرو۔۔۔
 میرا ابھی تمہیں چھوڑ کر جانے کا دل نہیں ہے تم ٹھیک ہو جاؤ میں پھر آرام سے چلی جاؤں گی ۔۔۔
میں اب بہت بہتر ہو بلکہ یہ سمجھو کہ اب میں بالکل ٹھیک ہو چکی ہوں ۔۔۔
بس اب تم اپنا شوہر بچی اور گھر سنبھالو ۔۔
حجاب نے تھوڑا رعب ڈالتے ہوئے کہا تھا ۔۔
ارے بھئی رہی حجاب کا خیال رکھنے کی بات تو سالی صاحبہ ہم ہے نہ آپ کی ننھی منی دوست کا خیال رکھنے کے لیے ۔۔۔
وہ حجاب کے پاس اریج کی وجہ سے تھوڑا فاصلہ قائم کرکے بیٹھتے ہوئے بولا ۔۔
بس دیکھ لیا میرے میاں صاحب نے ابھی صاف کہہ دیا ہے کہ میں ہوں آپ کی اب ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
حجاب نے بشر کی ٹانگ کھینچنے کو بولی ۔۔۔

نہیں نہیں اریج میرا یہ مطلب تو بالکل بھی نہیں تھا بشر سٹپٹاکر کہنے لگا۔۔۔
حجاب پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔
اریج قریب ہوکر ایجاب کے ہاتھ پکڑ کر بولی تھی ۔۔
میری وجہ سے تمہیں اس قدر تکلیف اٹھانی پڑی ہے ۔۔
وہحجاب کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی  ۔۔
بشر خاموشی سے ان دونوں کو تنہائی بخشنے کے خیال سے باہر نکل گیا تھا کمرے سے ۔۔۔
کریں اسطرح کیوں رو رہی ہو پاگل لڑکی ؟؟
وہ عریج کی کمر سہلاتے ہوئے بولی ۔۔۔
حجاب تمہیں یا تمہاری بچے کو اگر کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

نہ میں تمہارے گھر آتی اور نہ ہی یہ سب کچھ ہوتا۔۔۔
ادھر دیکھو میری طرف ۔۔
حجاب نےروتی ہوئی اریج کی تھوڑی اپنے ہاتھ سے اونچی کی اور پھر خود بھی آنکھوں میں آئی نمیں کو واپس دھکیل کر اریج سے گویا ہوئی ۔۔

میرے ساتھ جو بھی  ہوا وہ اسی طرح کاتب تقدیر میں لکھا تھا اس میں تمہارا یا میرا کوئی دخل نہیں تھا ۔۔
تمہاری جگہ مجھے اس تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور میرے بچانے کے لئے بشر کو بھیجا گیا ۔۔
اور یہ میرے نزدیک دیکھا جائے تو بشر کی محبت کا امتحان بھی تھا ۔۔
اور وہ واقعی اپنی محبت کے اس کٹھن امتحان میں سرخرو ہوئے ہیں ۔۔
ورنہ ایک اغوا شدہ لڑکی کو واپس اپنی عزت بنانا بہت بڑے بڑے ظرف والے بھی نہیں کرسکتے ۔۔
اور تم خود کو الزام ٹھہرانا بند کرو تمہیں اللہ نے میرے معصوم بھائی کی دلہن اور میری بھتیجی کی ماما بنانے کے لئے چنا تھا۔ ۔۔
💕💕💕💕

اریج سمیر کے ساتھ گھر آ چکی تھی ۔۔
پورا راستہ خاموشی سے کٹا تھا ۔۔
آرزو کو زبردستی نہ جانے کیوں حجاب نے رکھ لیا تھا ۔۔۔
پورے راستے وہ بس آرزو کے متعلق ہی سوچتی رہی تھی ۔۔
گھر آکر وہ اپنے اور آرزو کے مشترکہ کمرے میں جانے کو تھی جب سمیر اس کا بازو کھینچ کر اسکو اپنی طرف گھمایا تھا ۔۔
کہاں جا رہی ہو ؟؟
کمرے میں ۔۔۔
وہ گھڑی کی طرف ٹائم دیکھ کر بولی تھی جو رات کے ساڑھے نو بجا رہی تھی ۔
ان کو کھانا کھاتے اور سب سے الوداع لیتے لیتے آنے میں دیر ہو گئی تھی ۔۔
تمہارا کمرہ کہاں ہے ؟؟؟
سمیر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔
وہ سامنے ۔۔
اریج بوکھلاہٹ میں یہ یہ بالکل ہی بھول گئی تھی کہ اس کا روم اب وہ نہیں بلکہ سمیر کا بیڈر وم ہی ہے ۔۔
کیا واقعی ؟؟؟
سمیر اس کو خود سے قریب کر کے بولا ۔۔
جججج۔ ۔۔ججج۔ جی۔ ۔۔۔
وہ سمیر کی قربت اور اس کی ساہرانہ  پرسنیلیٹی سے خائف سی ہو کر گویا ہوئی۔۔
شادی کے بعد ویسے بیوی کا کمرہ کہاں ہوتا ہے ؟؟
میرا مطلب ہے کہ کس کے ساتھ ہوتا ہے ؟

وہ اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کرتے ہوئے اس کو سینے سے لگا کر پوچھ رہا تھا ۔۔
کک۔ ۔ککک۔ کیا مطلب ؟؟
وہ میں کھڑے تلفظ کے ساتھ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بول پائی تھی ۔۔
ہاں یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ۔
چلو اچھا شاعر تمہیں ایسے نہیں سمجھ آرہا ہوگا ۔۔
میں تمہارے لئے آسان لفظوں میں پوچھتا ہوں تم سے ۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔
اریج نے اس کی باتیں کرتی آنکھوں سے گھبراکر پلکیں جھکا لی تھیں۔  ۔۔

یونہ چلو یہ بتاؤ شادی کی پہلی رات لڑکی کس کی سے سجاتی ہے ؟؟
اریج کو اس قسم کی بولڈ گفتگو کی امید نہیں تھی وہ کانوں کی لو تک سرخ پڑ گئی تھی ۔۔
بتاؤ نہ  ؟؟؟
؟؟؟
یہ میں بتاؤ ؟؟
وہ اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بولا ۔۔۔
شوہر کی ۔۔
وہ جلدی سے بولی اس  خیال کے تحت کے شاید اب سمیر اس کو چھوڑ دے گا ۔۔
ماشاءاللہ جب سب کچھ جانتی ہو تو پھر ادھر ادھر کیوں جا رہی تھیں؟ ؟
وہ ممممممم۔ ۔۔ میں بھول گئی تھی ۔۔
اب میں جاؤ ؟؟
وہ اس کی گھبراہٹ دیکھ کر محضوض ہوا۔۔
اس نے پہلی دفعہ اتنی گھبرائی ہوئی لڑکی دیکھی تھی جو اس کے لمس سے ہی سرخ پڑ گئی تھی۔۔
وہ فرح کو  بھی دیکھ چکا تو  وہ انتہائی درجے کی بورڈ قسم کی عورت تھی۔۔
وہ اس کے پہلی دفعہ قریب آنے پر شرما نہ تو دور کی بات گھبرائی تک نہیں تھی ۔۔
سمیر نے اس کی گردن پہ اپنے دہکھتے ہوئے لب رکھ کر بوسہ دیا اور پھر  اس کو آہستہ سے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا ۔۔۔
جاؤ تم ہمارے بیڈروم میں جاؤں۔۔
 میرا انتظار کرو میں تھوڑی دیر میں آیا ایک کام سے جارہا ہوں ۔۔
وہ اپنی دھڑکنوں کے شور سے گھبرا کر سمیر کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دے سکتی تھی ۔۔

اور ہاں میرا انتظار کرنا سونا نہیں ۔۔

وہ جاتے ہوئے کچھ یاد آنے پر واپس پلٹا اور اریج کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا تھا ۔۔

💕💕💕💕
اریج اپنا سہما ہوا وجود لے کر بھاری بھاری قدموں سے اوپر کمرے میں آئی تھی ۔۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی پہلی نظر ان شاپنگ بیگز پر پڑی تھی ۔۔
وہ شاپنگ بیگز ابھی تک وہیں صوفے پر رکھے تھے جہاں وہ چھوڑ کر گئی تھی ۔۔
وہ شاپرز کی طرف بڑھی تھی۔۔
 وہ اس دن حجاب کی پریشانی میں اس کے لیے کی گئی سمجھ کی شاپنگ کھولنا تو دور کی بات ایک نظر دیکھ بھی نہیں پائی تھی۔۔
 وہ ایک ایک شا پر کھول کر اس میں سے ساری چیزیں نکال رہی تھی جب سمیت دروازے پر بغیر دستک دیے کمرے میں آیا تھا ۔۔
اریج اسکو  ایک دفعہ پھر سامنے دیکھ کر گھبرا سی گئی تھی۔۔
 سمیر نے اس کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کی تھی جس میں جیولری سینڈلز ہینڈ بیگ ڈیزائنر سوٹ اور انتہائی ضرورت کی ایشیاء سب ہی کچھ موجود تھا ۔۔
سب چیزیں پوری ہیں یا کوئی چیز کم ہے تو بتا دو ؟؟؟
وہ ہاتھ میں تھامے شاپر میں سے شیمپونکال رہی تھی جب  اس میں موجود انتہائی پرسنل یوز کی چیزیں دیکھ کر شرم سے پسینے میں شرابور ہو گئی تھی اس پر تضاد سمیر کا پوچھنا اور اس کی پرتپش نظریں ۔۔۔
کیا ہوا کچھ کمی ہے کیا ؟؟
اس کے چہرے پر اپنی نظریں فوکس کر کے بولا ۔۔
سمیر کو لگا کی شاید کسی چیز کی کمی رہ گئی ہے اس لئے وہ خاموش ہے ۔۔
نہیں۔۔نہیں۔ ۔
 وہ بڑی مشکل سے یہ بول پائی تھی ۔۔
سمیر اس کے پاس اٹھ کر آیا اور اک شوپرمیں سے کچھ ڈھونڈنے کے بعد اس کو اپنی مطلوبہ چیز مل گئی تھی ۔۔
سمیر نے شاپر میں سے ایک ریڈ  کلر  کی نائیٹی نکال کر اریج کی طرف بڑھائی۔۔۔
یہ چینج کر کے آ جاؤ۔۔
وہ جذبات سے چور لہجے میں بولا ۔۔
وہ اس کی کہی بات اور نائیٹی کو دیکھ کر سٹپٹا سی گئی دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہو چکی تھی  ۔۔
وہ حیران تھی کہ سمیر اس کو واقعی ایک بیوی کا درجہ دینے کے لئے تیار ہے ۔۔
مممم۔ ممم۔ ۔میں کیسے یہ؟ ؟؟
کیسے کیا مطلب تمہاری لیے نہ آیا ہو تم ہی پہنوں گی ۔۔۔
وہ لہجے میں مصنوعی سختی سمو کر بولا ۔۔
سمیر کو اس کے چہرے پر بکھرے ہیآ کے رنگ بہت خوبصورت اور انوکھے لگ رہے تھے ۔۔
اریج چار و ناچار سمیر کے ہاتھ سے نائٹی لے کر واش روم کی طرف بڑھ چکی تھی ۔۔
سمیر اس کو جاتا دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور پھر کمرے میں موجود ہوم ٹھیٹر کی طرف بڑھ گیا ۔۔
پندرہ منٹ تک جب اریج واش روم سے باہر نہ نکلی تو سمیر دروازہ کے باہر جا کر زور سے بولا ۔۔۔
اگر تم ابھی اور اسی وقت واش روم سے باہر نہیں آئی تو میں ڈوپلیکیٹ کی سے دروازہ کھول دوں گا۔۔۔
میں جانتا ہوں تم باہر کیوں نہیں آ رہی ہو ۔۔
سمیر کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور ایک منٹ بعد اس نے دروازہ کھول دیا  ۔۔۔
سمیر کے سامنے اس انداز میں آنا اس کے لئے ایک نئی دنیا دریافت کرنے کے برابر تھا ۔۔
سمیر کی اس کو دیکھ کر ہنسی نکل گئی تھی ۔۔
وہ اپنا دوپٹہ نائیٹی کے اوپر خود پہ اچھی طرح پھیلا ئے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔
اس کے باوجود بھی اس کی شرم سے پلکیں نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔
اریج اسکو ہنستہ دیکھ کر مزید کنفیوز ہو گئی تھی۔۔
اور کچھ ماحول کا بھی اثر تھا جو اس کو بوکھلاہٹ کا شکار کر رہا تھا ۔۔۔
کمرے میں ہلکی سی لیمپ کی لائٹ روشن تھی اور ہوم تھیٹر پر لگا سونگ اس کے حواسوں کو مزید اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا  ۔۔
ابھی مجھ میں کہیں باقی تھوڑی سی ہے زندگی ۔۔
جگی دھڑکن نئی جانا زندہ ہوں میں تو ابھی۔۔۔
کچھ ایسی لگن اس لمحے میں ہے یہ لمحہ کہاں تھا میرا ۔۔
اب ہے سامنے اسے چھو لو زرا مر جاؤں یا جی لوں ذرا ۔۔
ماحول کی فسوں خیزی اور اس پر فضا میں سرائیت کرتاخوبصورت گیت  اریج اور سمیر دونوں کو اس ماحول میں بری طرح جکڑرہا تھا ۔۔۔
سمیر آگے بڑھا اور آہستہ سے اسکے کے او پر سےدوپٹہ ہٹا کے سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔
آریج شرما کے خود میں سمٹ سی گئی۔۔
سمیر اسکے حسین وجود کے نشیب و فراز میں کھو سا گیا ۔۔
آریج کا تنفس تیز ہونے لگا تو وہآہستہ آہستہ کانپ رہی تھی ۔۔۔
سمیر اس کو تھام کر بیڈ تک لایا اور اپنے سامنے بٹھا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر گویا ہوا ۔۔۔
اریج کیا تم دل سے میری ہمسفری قبول کر سکتی ہوں ؟؟؟
وہ خاموش رہی ۔۔
وہ معصوم تو اس دن ھی سمیر کو اپنا آپ سونپ چکی تھی جس دن سمیر اس کی ڈھال بن کر اس کو اپنے نکاح میں لیا تھا ۔۔
ہو سکتا ہے کہ تم مجھے دل سے قبول نہ کروں۔۔
 مگر میں تم سے وعدہ کرتا ہوں آنے والے وقت میں میں تمھیں اتنی محبت دوں گا کہ تم میری محبت کا جواب مجھ سے  عشق کرکےدوں گی ۔۔۔
کیا تمہیں میری ہمراہی ایک عدد ریڈیمیٹ  بیٹی کے ساتھ قبول ہے ؟؟؟
وہ اپنا ہاتھ اریج کے سامنے پھیلا کر بولا ۔۔
اس نے بے ساختہ اپنا ہاتھ سمیر ےمضبوط ہاتھ میں تھما دیا ۔۔
سمیر نے اس کے خوبصورت محبت کے اظہار پر عریج کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے ڈائمنڈ کی خوبصورت رنگ اس کی نازک سی انگلی میں ڈال دی۔۔
آریج نے اس کے چوڑے سینے پر اپنا سر دکھدیا بہت خوبصورت انداز تھا خود سپردگی کا ۔۔
سمیر نے اس کو کسی کانچ کی گڑیا کی طرح خود میں سمیٹ لیا ۔۔۔
اور اس کے پورے وجود کے ایک ایک پور کو اپنی محبت سے شرابور کرتا چلا گیا ۔۔۔
💕💕💕💕
اگلے دن حجاب اور بشر کی انیورسری تھی اور ساتھ ہی ہمدان اور سمیر کا ولیمہ بھی تھا ۔۔۔
پہلے ہمدان آسرا کا ہاتھ تھام کر اس کو لے کر اسٹیج پر آیا ۔۔
اسر اء سی گرین کلر کے اسٹائلش فرشی غرارہ میں خوبصورتی کے تمام ریکارڈ توڑ رہی تھی ۔۔
جبکہ ہمدان بلیک کلر کے پینٹ کوٹ میں ملبوس انتہائی ڈیسنٹ لگ رہا تھا ۔۔
دونوں کی جوڑی بہت آفت ڈھا رہی تھی ہر ایک دیکھنے والے کی نظر میں ستائش تھی ۔۔۔
وہ دونوں اسٹیج پر بیٹھ چکے تھے جب حجاب بشر کے ساتھ ہمدان اور اسراءکے پاس آئی اور شرارت سے ہمدان کو دیکھ کر گویا ہوئی۔۔۔
اسراء اپنا بیگ لے کرآئی ہونا؟؟؟
 گاڑی میں ہے نہ تمہارا سامان ؟؟؟
کیوں ایسا کیوں ؟؟
ہمدان نے حیرانی سے حجاب اور بشر کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ۔۔۔
وہ کیا ہے جیٹ جی ہمارے ہاں رسم ہے کہ ولیمے والے دن دلہن دولہا کے ساتھ جانے کے بجائے پورے ایک ہفتے کے لئے پکھ پھیرے کے لیے میں کی جاتی ہے ۔۔
کیا ؟؟؟
حمدان کے ساتھ ساتھ بشر کے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا تھا ۔۔۔
بشر کو اپنی فکر لاحق ہو گئی تھی کہ کہی حجاب بھی سمیر کے ساتھ آج ان دونوں کی ویڈنگ اینیورسری کے دن روانہ نہ ہو جائے ۔۔۔
اسراء شرمائی شرم ایسی مسکرا رہی تھی ۔۔
جی ہاں یہ برسوں سے چلی آ رہی رسم ہے ۔۔۔
حجاب بڑی بوڑھیوں کی طرح مزید بولی ۔۔
اسی لئے آج ہم اپنی دلہنیا لے کر ہی جائیں گے ۔۔۔
بشر دیکھ یہ غلط بات ہے پہلےہی اس چڑیل کی وجہ سے میری شادی ڈلے ہوئی ہے بہت ۔۔
کے پہلے یہ محترمہ صحت یاب ہوجائے مکمل۔۔۔۔
 اور اب جب صبر کا پھل انجوائے کرنے کا موقع ملا ہے تو پھر سے یہ چڑیل بیچ میں آ گئی ہے ۔۔

حمدان کا دماغ بھنوٹ ہونے لگا ۔۔۔
حجاب بشراور آسرا کے بے ساختہ کہکے بلند ہوئے ۔۔۔
اور پھر پورے ہال میں اندھیرا چھا گیا ۔۔۔
جب اریج اور سمیر ماما بابا کے ساتھ چلتے ہوئے اسٹیج پر آ رہے تھے ۔۔
اسپاٹ لائٹ میں ان دونوں کی جوڑی جان سورج کی جوڑی لگ رہی تھی ۔۔۔
ننھی آرزو ساڑھے تین ماہ کی ہوچکی تھی اور بابا کی گود دے بڑے مزے سے اٹکھیلیاں کرتی ساتھ آرہی تھی دلہن دولہا کے۔ ۔
پھر وہ دونوں بابا ماما کے ساتھ اسٹیج پر آ کر بیٹھے تھے ۔۔
اریج نے ٹی پنک کلرکی نفیس سے کام والی میکسی نما ٹیل  گاؤن پہن رکھا تھا ۔۔
جب کہ سمیر نے ڈارک نیوی بلو کلر کا پینٹ کوٹ سے تن کیا ہوا تھا ۔۔
۔۔اریج کے چہرے کی آج جھپ ہی نرالی تھی اس کے چہرے پے سمیر کی بخشی ہوئی محبتوں کا روپ بھرپورانداز میں رج کے  چڑھا تھا ۔۔
سمیر اور عریج کو یہ سرپرائز دوپہر میں ملا تھا جب حجاب عریج کو پالر کے لئے لینے آئی تھی ۔۔
سمیر اور وہ دونوں تو ہمدان کے ولیمے کی تیاری کر رہے تھے جو رخصتی کے تیسرے دن گیپ سے کر ارپایا گیا تھا۔۔
اس کو اب سمجھ میں آئی تھی کہ اس تین دن کے گیپ کی وجہ  ۔۔
جب حجاب نے سمیرکے اوپر آکر بم پھوڑا تھا کہ آج ہماری اینیورسری اور ہمدان کی ولیمے کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کا بھی ریسیپشن ہے ۔۔۔
سمیر کی آنکھوں میں اپنی بہن کے لئے محبت اور اپنائیت کچھ اور بھی بڑھ گئی تھی ۔۔
کہ وہ اس کی خوشیوں کے لئے کتنے جتن کرتی آ رہی تھی ۔۔۔
سمیر نے آگے بڑھ کر اس کو اپنے سینے سے لگا یا۔ ۔ شفقت سے بھرپور ہاتھ حجاب کے سر پر پھیرکر کہا ۔۔۔۔
حجاب تم میری خاطر کیا کیا نہیں کرتے ۔۔۔
بس بھائی ابھی اموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
حجاب نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی  کو پہنچتے ہوئے کہا۔۔
 وہ اپنے بھائی کی محبت پا کر بہت مطمئن اور شاداں تھی ۔۔
میں اریج کو لے کر جا رہی ہوں رات میں ملتے ہیں۔۔۔ اور آپ کا ڈریس میں نے بوا کو دے دیا ہے آپ بھی ریڈی ہو کے پہنچ جائے گا ٹائم پہ ۔  ۔۔
💕💕💕

بشر ڈارک براون کرتے  شلوار میں کسی سلطنت کے شہنشاہ سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
 جبکہ حجاب بلیک اور سلور نفیس سے کام والی ساڑھی میں کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔۔
ان کی شادی کی سالگرہ دو مہینے پہلے تھی مگر حجاب کی وجہ سے آج کے دن سیلیبریٹ کی جارہیتھی۔۔۔
اور آج کا دن ہمدان کے بہت زور دینے پر رکھا گیا تھا۔۔۔۔
 کہ اس کا ولیمہ اس دن کیا جائے۔۔
 وہ چاہتا تھا کہ اس کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس کے دوست کی بھی خوشیاں دوبالا ہو جائے ۔۔

اور یہی وجہ تھی کہ آج ہمدان کے ولیمے کے ساتھ بشر اور حجاب کی انیورسری بھی سلیبریٹ کی جا رہی تھی تاکہ خوشیوں کے رنگ مزید خوبصورتی سے ابھریں۔۔
اور پھر ماما بابا کی خواہش پر سمیر اور آریج کا ولیمہ بھی اسی دن قرار پایا گیا تھا ۔
اریج سمیر اور بیچ میں ننھی آرزو اور  ان کے برابر میں اسراء اور ہمدان جب کہ دونوں سائیڈوں پر ہمدان اور بشر کے پیرنٹس برجمان تھے ۔۔
پیچھے حجاب اور بشر کسی بات پر لوگ جو کر رہے تھے جب کیمرہ مین نے کہا ۔۔۔
ریڈی۔ ۔۔۔
سب نے ایک دم کیمرے کی طرف دیکھا ۔۔
کیمرے کی آنکھ نے جھٹ سب مکمل اور ہنستے مسکراتے چہروں کو خود میں قید کر لیا ۔۔۔۔
اور ایک مکمل تصویر میں یہ پورا گھرانہ بڑی خوبصورتی سے اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔۔۔

💕💕💕

حجاب کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب بشر جلدی سےبھاگتا  ہوا اس کی طرف آیا اور تیزی سے اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھیں بند کردیں۔ ۔
 اف
آًفف۔۔۔۔۔ بشرکیاہے میں بہت تھک گئی ہوں اور آپ کو ابھی بھی مستیاں سو ج رہی ہیں ۔۔۔
وہ جھنجھلا کر بولی ۔۔
اف میں نے تو ابھی کوئی مستی کی بھی نہیں ہے اور تم ہو کہ ابھی سے تھک گئی ہو شاباش ۔۔۔
اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھےبشر اس کو کمرے میں لے گیا اور آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر اسکی آنکھوں پر سے اپنے ہاتھ ہٹا دیئے تھے ۔
حجاب نے اپنی آنکھیں کھولی ہی تھی کہ نظروں کے سامنے موجود منظر نے اس کو مبہوت سا کر دیا تھا ۔۔۔۔
پورا کمرہ گلاب اور موتیا کے پھولوں سے سجا ہوا تھا ۔۔۔
وائٹ اور ریڈ کلر کے ہارڈ شیپ کے بلون پورے کمرے میں خوبصورتی سے بکھرے ہوئے تھے ۔۔
لائٹ کے بجائے صرف کمرے کو چھوٹی چھوٹی کینڈل سے روشن کیا گیا تھا ۔۔۔
اور سامنے چھوٹی سی ٹیبل پر کیک اور ان دونوں کی شادی کی تصویر فریم کی ہوئی رکھی تھی ۔۔۔
وہ بشر کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھی۔۔
بشر اس کے چہرے پر موجود مسرت کو دیکھ کر ایک دفعہ پھر سے جی اٹھا تھا۔ ۔
حجاب کی نظریں ٹیبل پر رکھے اس گفٹ اور کارڈ پر پڑھیں تھی۔۔
 جو اس نے اس حادثے کے دن اس مال سے خریدا تھا بشر کیلئے بڑی محبت سے۔۔۔
یہ ۔۔۔۔
وہ گفٹ  کو ہاتھ میں لے کر ڈبڈوبائی آنکھوں سے بشر کو دیکھ کر بولی ۔۔
وہ اس کو خود سے قریب کر کے کہنے لگا ۔۔
ہاں یہ میں نے بہت سنبھال کر رکھا تھا ۔۔
اس سے آگے وہ اس بات کو ختم کرتے ہوئے بولا ۔۔
یہ دیکھو یہ تمہارا پریزنٹ ہے ۔۔۔
اس نے جھک کر ایک باکس اٹھایا اور کھول کر اس میں سے جڑاؤ کنگن رتون سٹائل کے حجاب کے ہاتھوں میں پہنائے ۔۔
اور اسی مخملی کیس کے باکس میں سے ایک اور لفافہ نکال کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ۔۔
یہ کھول کے دیکھو یہ کیا ہے ۔۔
اس میں کیا ہے ؟؟
وہ بولی ۔۔
ارے کھول کر تو دیکھو ۔۔
وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔
حجاب نے آہستہ سے آینولپ کھولا بشر محبت بھری نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آوہ بشرآپ بہت اچھے ہیں ۔
وہ لفافے میں موجود عمرے کے ٹکٹ دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔
جی بالکل آپ کوئی خواہش کریں اور ہم پوری نہ کریں ۔۔
وہ آہستہ سے اس کی ساڑی کا پلو کھینچتے ہوئے بولا ۔۔
بشرآپ بھی نہ میں بہت تھک گئی ہوں مجھے سونا ہے ۔۔
ہاں تو سو جانا ساڑھی پہن کر تو نہیں سوگی میں تمہاری مدد ہی تو کر رہا ہوں چینج کرنے میں ۔
وہ اس کی ساڑی کا پلو زمین پر گرا چکا تھا اور اب آہستہ آہستہ اس کے بلاؤز کے بٹن کھول رہا تھا ۔۔۔
حجاب نے شرما کر چہرہ اپنے ہاتھوں میں جو چھپایا اور ایک ادا سے اس کے سینے پر مکا مار کر ہلکا سا دھکا دینے کی اپنی سی کوشش کی ۔۔۔
بشر نے اس کو اپنے بازووُ کے گھیرےمیں اٹھا کر خوشی سے گول گول گھومآیا ۔۔
پلیز بشر مجھے چکر آ رہے ہیں ۔۔
وہ منمنا کر بولی ۔۔
یار چکروں کو گولی مارو چلو بیڈ پر چلتے ہیں جلدی سے ۔۔
وہ حجاب کو لیے کودنے کے انداز میں بیڈ پر گرا تھا ۔۔
کہ اچانک دونوں کے بیڈ پر اس طرح گرنے سے بیڈ کا نیچے سے تختہ ٹوٹا تھا۔۔
 اور وہ دونوں زور دار چھنا کے کی آواز کیساتھ زمین بوس ہو چکے تھے ۔۔
حجاب اوربشر نے ایک دوسرے کو آفسردہ نظروں سے دیکھا اور دونوں اس صورتحال پر زور سے ہنس پڑے۔ ۔۔

💕💕💕💕

ختم شد 🍁

tu kitni masoom hai last episode by aymen nauman

https://www.classicurdumaterial.com/2018/12/19/tu-kitni-masoom-hey-last-episode-written-by-aymen-nouman/

Tuesday, December 18, 2018

tu kitni masoom hai episode 37 by aymen nauman

Tu kitni masoom he.  ..💕
By Aymen Nauman
Episode 37
(2nd last episode)

اسراء جیسے ہی سوٹ خرید کر واپس آئی تھی ۔۔
سامنے گاڑی کا شیشہ ٹوٹا دیکھ کر تیزی سے ڈرائیور اور وہ بھاگتے ہوئے گاڑی کی طرف آئے تھے۔۔۔
 اندر حجاب کو نہ پاکر اسرا شدید پریشانی کے عالم میں بشر کو فون ملا نے لگی ۔۔
ہاتھ میں اس کے وہ خط بھی تھا جو وہ دو غنڈے سیٹ پر رکھ کے چلے گئے تھے پچھلی ۔۔۔

السلام علیکم ۔۔
ہوگی شاپنگ تم لوگوں کی ۔۔؟؟
بشر نے فون اٹھاتے ہی آسرا کا نمبر دیکھ کر خوشگوار موڈ میں دریافت کیا ۔۔
بشر وہ ۔۔۔
اسراء اتنا ہی کہہ پائی کی باقی کے الفاظ اس کے حلق میں ہی رہ گئے تھے وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔
کیا ہواتم  کیوں رو رہی ہو سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟؟
ھجاب سےمیری بات کروائو کیا ہوا ہے؟؟؟
 جو اس طرح سے تم رورہی رہی ہو ؟؟؟
حجاب۔۔۔۔ بشر۔۔۔۔
وہ بڑی مشکل سے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں یہ دو نام کہہ پائی تھی ۔۔
کیا ہوا حجاب کو ٹھیک تو ہے نہ وہ ؟؟؟
وہ بیٹھے سے اٹھ گیا تھا ۔۔
اور چیخ کے اس سے دریافت کر رہا تھا ۔۔
وہ آسرا کے اس طرح سے رونے سے گھبرا گیا تھا ۔۔
حجاب نہیں ہیں گاڑی میں  ۔۔
وہ مرد بڑی ہمت مجتمع کرکے   یہ کہہ پائی۔۔۔
 تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے حجاب کو؟؟!
 کہا ہے حجاب۔۔۔۔؟؟؟
 لاؤ ڈرائیور کو فون دو۔۔۔
وہ چیخا تھا ۔۔۔
اسر آنے سامنے کھڑے سہمے ہوئے ڈرائیور چچا کو فون تھمایا تھا ۔۔
وہ بھی حجاب کو نہ پا کر شدید پریشانی کے عالم میں گھرے ہوئے تھے ۔
ان کے بھی چہرے کی ہوائیاں اڑھی ہوئی تھی ۔۔
کیا ہوا ہے چاچا؟؟؟
اسراء اس طرح کیوں رو رہی ہے ؟؟؟
جاب کہاں ہے؟ ؟؟
وہ سختی سے دھاڑا تھا ۔۔
جی بشر بابا میں اسرا بی بی کے ساتھ مال میں گیا تھا حجاب بی بی ضد کر کے یہی گاڑی میں ہی رک گئی تھیں۔ ۔
اور جب ہم واپس آئے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اندر سے ایک خط ملا ہے ۔۔
ڈرائیور نے پوری تفصیل بشر کو کہہ سنائی تھی ۔۔

💕💕💕💕

وہ خالی خالی ذہن کے ساتھ پورے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی اس کو چند منٹوں پہلے ہی خوش آیا تھا ۔۔

کمرے کی حالت بہت بری تھی پورے کمرے میں ایک عجیب طرح کی اسمیل تھی ۔۔
حجاب کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اس کا سر بری طرح سے اس انجیکشن کی وجہ سے چکرا رہا تھا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس کو خود کے ساتھ ہوئی واردات مکمل طور پر یاد آ چکی تھی ۔۔
کیوں لائے ہو مجھے یہاں ؟؟؟
وہ پوری طرح سے روتے ہوئے چیخ رہی تھی۔۔
 فریاد کر رہی تھی ۔
مگر وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا اس کی فریاد و کو ۔
نکالو مجھے یہاں سے ۔۔
بشر کہاں ہوں دیکھو تمہاری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے ۔۔
وہ بالکل تنہا ہے ۔۔
اس کے دھاڑنے اور چیخنے چلانے سے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھلا تھا اور ایک فربہی سیاہ رنگت کی عورت اندر داخل ہوئی تھی ۔۔
حجاب اس کو دیکھ کر اور زور سے چیخنے لگی تھی ۔۔
کون ہو تم کیوں لائی ہوں مجھے یہاں ؟؟؟
کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا بولو ؟؟؟
وہ اپنے آپے میں نہیں رہی تھی ۔۔
کون ہوں میں ؟؟؟
ہاہاہا ۔۔۔۔
میں تیرے نہ ہونے والی شوہر کی رکھیل ہوں ۔۔۔
وہ سفاکی سے بے ہنگم کہ کا لگا کر بولی تھی ۔۔

اور ساتھ ہی حجاب کے بالوں کو پکڑ کر اس کا سر دیوار میں زور سے دے مارا تھا ۔۔
حجاب کو شدید تکلیف کا احساس ہواتھا ۔۔
 ماتھے سے خون رسنا شروع ہو گیا تھا ۔۔

مجھ پر رحم کرو ۔
مجھ پر رحم کرو ۔۔۔
میں تم سے رحم کی بھیک مانگتی ہوں ۔۔
حجاب گرگڑا رہی تھی مگر اس عورت کے دل میں شاید رحم تو کیا ہمدردی بھی مر چکی تھی ۔۔

وہ عورت اب حجاب کو چھوڑ کر واپس جا رہی تھی جب حجاب نے ہمت کرکے واپس آ سورج کی طرف خود کو گھسیٹا تھا ۔۔
میرا کیا قصور ہے ؟؟؟
تم بھی تو ایک عورت ہوں؟؟؟
پھر تم کیسے اس طرح ایک عورت کے ساتھ اتنی بہ رحم ہو سکتی ہو ۔۔؟؟؟
حجاب اس کے پاؤں کے تھوڑا قریب زمین پر بیٹھی تھی۔ ۔
تیرا کیا قصور ہے واہ کیا بات کی ہے تونے جیسے تو تو نہیں دودھ پیتی بچی ہے ۔۔۔؟؟
آئے گا تیرا منگیتر اسی سے پوچھ لیو۔ ۔۔
ویسے مانگئی زوار کو بڑی اونچی جگہ ہاتھ مارا ہے اس دفعہ تو ۔۔
زوار کا نام سن کر ہی جواب پورہ ماجرا سمجھ گئی تھی ۔۔
تو گویا اس کو اریج سمجھ کے اغوا کر لیا گیا ہے ۔۔
مگر اب کیا کہتی اب تو وہ پوری طرح پھنس چکی تھی ۔۔
آریج کا بتا کر وہ عروج کو بھی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی ۔۔
دیکھو تم جو کہو گی جو مانگو گی میرے گھر والے تمھیں دے دیں گے بس تم مجھے چھوڑ دو میرے شوہر اور میرے ماں باپ میرے نئے بہت پریشان ہو رہے ہوں گے ۔۔۔
وہ گڑ گڑائی تھی ۔۔
اے لڑکی جب لڑکی اغوا ہو جاتی ہے نہ کوئی تو۔۔۔
 کچھ دن گھر والے ماتم کرتے ہیں اس کا ۔۔
گھر سے اغواہ ہوئی لڑکیوں کو واپس کوئی بھی اپنے گھر کی زینت نہیں بناتا ۔۔
وہ کہتے ہوئے ٹھٹہ لگا کر ہنسی تھی ۔۔۔
کیسی سفاک عورت تھی ۔۔
کتنے آرام سے ہو یہ بات کہہ کہہ گئی تھی ۔۔
حجاب بے جان سی ہوکر اس کے آگے اپنے ہاتھ جوڑ رہی تھی جب اس عورت نے زور سے اس کے منہ پر اپنی لات رسید کی تھی ۔۔۔
حجاب کا سر پہلے ہی چوٹ لگنے کی وجہ سے درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔
اب اس پر تضاد اس عورت کا منہ پر مارنا اس کے ہونٹ پہ سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔
حجاب بے ہوش ہونے کو تھی۔۔
 وہ  بے جان سی ہو کر وہیں سر فرش پر ڈھے گئی تھی ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہی عورت دوبارہ واپس آئی تھی۔۔

 مگر اب وہ اکیلی نہ تھی اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی آدمی اندر داخل ہوا تھا۔۔
 خوفناک سا لمبا تڑنگا وہ شخص حجاب کو کسی بھیڑئے کی طرح دیکھ رہا تھا انتہائی گندی نظروں سے ۔۔
اس آدمی کے چہرے پر درندگی ٹپک رہی تھی ۔۔
حجاب اپنی بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس شخص کو دھندلا سا دیکھ پائی تھی اس کا زہن ان دونوں کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔

وہ عورت کہہ رہی تھی اس آدمی سے کہ ۔۔
دیکھ میری بات غور سے سن اس لڑکی کو کل صبح۔۔
 باہر بیٹھی  لڑکیوں کے ساتھ روانہ کرنا ہے ۔۔
زوار کا حکم ہے کہ اس کا وہ حال کرو کہ۔۔۔
 اس کے ساتھ ساتھ باہر بیٹھی تمام لڑکیوں کی روح تک کانپ جائے اور وہ بغاوت کرنے کا انجام اچھی طرح سے دیکھ اور سمجھ لیں ۔۔۔۔

بے فکر ہو جا چندا بائی میں ر وح تو کیا اس کا پورا جسم تک نچوڑ لوں گا ۔۔
وہ اپنی ناپاک نظریں حجاب کے مقدس وجود پہ گاڑتے ہوئے بولا ۔۔
اے بات سن پہلے میری پوری ۔۔
وہ اس کی طرف ایک ترے بڑھاتے ہوئے بولی جس کے اندر چھوری ،چابک ،سگریٹ ،ماچس اور اس طرح کی کئی چیزیں تھیں جس سے تشدد کیا جاسکے ۔۔
اس کے ساتھ اپنی ہوس نہیں مٹانے کو کہاں ہے تجھ سے ۔۔
یہ لڑکی بالکل کھنچا جائے گی سے کے پاس ۔۔
زوار کا حکم ہے اس نے سیٹ سے اس کے بڑے پیسے اٹھائے ہیں ۔۔
دھت تیری۔ ۔۔
وہ اپنے غلیظ ارادوں پے پانی پھرتا دیکھ اس سے سے ٹری میں رکھا چابک اٹھا کر حجاب کی کمر پر مار کر بولا تھا ۔۔
حجاب کے بے جان ہوتے دھان پان سے وجود پر جب وہ چابک پڑا تھا اس کو لگا جیسے اس کی روح قبض ہو چکی ہے۔۔۔


وہ آدمی حجاب کی طرف بڑھتا گیا ۔۔
اور جگہ جگہ اس کے جسم پر پہلے چھری سے بری طرح کٹ مارتا گیا ۔۔
اس کے بعد چابوک سے اس کو پوری طرح دھون ڈالا تھا ۔۔۔
حجاب کی اتنی بھی ہمت باقی نہ رہی تھی کہ وہ زبان سے ایک خوش بھی نکال پاتی وہ بس بے جان سی فرش کے پڑھی خون سے لت پت کر اہ رہی تھی ۔۔
وہ آدمی واپس ٹرے کی طرف موڑا اور سگریٹ کو لائیٹر سے جلا کر جگہ جگہ حجاب کے پورے جسم پر نقش ونگار بناتا چلا گیا ۔۔
ہر اس چیز سے اس کے جسم پے ضرب لگائے گئے تھے جن سے وہ تڑپے اور چیخے۔ ۔
حجاب کی چیخیں باہر بیٹھی لڑکیاں سنکر سہم رہی تھی ۔۔
ہر لڑکی کے لفظ بے بس ایک ہی دعا تھی کہ یا اللہ ہمیں عزت کی موت دے دے۔ ۔
ادھرجاب شاید تڑپ تڑپ کے مردہ ہوچکی تھی ۔۔
اس کی چیخ نے جلنا نے اور رونے کی آوازیں اب بند ہو گئی تھی ۔۔
ہاں بھائی دیکھ لیا تم لوگوں نے انجام ؟؟؟
وہ حجاب کو رسی سے باندھ کر بہار کھینچتہہ ہوا لایا تھا ۔۔
بار بیٹھی تمام لڑکیاں چینخھیں مار مار کر حجاب کاحال دیکھ کر خوف سے رو رہی تھی ۔۔
 اس کو ہوش آئے گا اس کی دوبارہ اس سے بدتر حالت کریں گے ۔۔
وہ تمام لڑکیوں کو جتاتے ہوئے بولا تھا ۔۔
دیکھ لو یہ ہوتا ہے ضد کا انجام ۔۔۔
وہ عورت بولی تھی۔ ۔۔

💕💕💕💕

وہ سب لوگ پریشان حال ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اریج سمیر اور ہمدان بھی انن فانن آچکے تھے
۔۔
ماما کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
آریج اور آسرا کا حال بھی ماں سے مختلف نہ تھا ۔۔

مجھے پتہ ہے یہ سب زوار کا کیا دھرا ہے ۔۔
اریج روتے ہوئے بولی ۔۔
اس نے میری جگہ حجاب کو افواہ کیا ہے ۔۔۔
۔
یہ سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔
اریج خود کو الزام ٹھہراتے ہوئے ہچکیوں سے زاروقطار رو رہی تھی اس کی پیاری دوست آج اس کی وجہ سے اتنی بڑی مشکل میں پھنس چکی تھی ۔۔۔
بشر گھر میں نہیں تھا وہ اپنے دوست آئی جی کے ساتھ حجاب کو مارا مارا ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔
حمدان اپنے ذرائع سے حجاب کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر رہا تھا اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔
اس طرح سے کچھ نہیں ہو گا عرہج تم آنٹی انکل کو لے کر آؤ گاڑی میں ۔۔
ہمدان بشر اور اپنے آفیسر دوست کو بلاؤ ۔۔
مگر کہاں ؟؟
ہمدان نے سمیرکو دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔۔
آریج کے باپ کے گھر ۔۔
ہم سب کو ہی جا رہے ہیں ۔۔
💕💕

وہ سب لوگ اریج کے گھر پہنچ چکے تھے۔
پوری پولیس فورس ان کے ساتھ تھی ۔۔

حیدر صاحب نوکر کے بلانے پر گھبرا کر نیچے آئے تھے ۔۔
سامنے کھڑی پولیس اور باقی سب لوگوں کو دیکھ کر ان کو کسی بہت بڑی گڑبڑ کا احساس ہوا تھا ۔۔۔

کیوں آئے ہیں آپ لوگ یہاں ؟؟؟
اور آپ لوگوں کی اس طرح میرے گھر میں گھسنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی ؟؟؟

وہ آواز کو تھوڑا دباتے ہوئے مگر شعلہ وار لہجے میں بولے ۔۔

میں بتاتی ہوں ڈیڈی کے یہ کیوں آئے ہیں سب ؟؟
اریج سمیر کی پشت کے پیچھے سے نکلتے ہوئے بولی ۔۔
اریج تم ؟؟؟
البتہ بشر ہمدان پولیس کے ساتھ پورے گھر میں دلآویز کو گھس کر ڈھونڈ رہے تھے ۔۔
حیدر صاحب بیٹی کو دیکھ کر داڑھے تھے ۔۔

کیوں آۓ ہو اپنی منہوس شکل لے کر میری عزت کو تازیانے لگانے ؟؟؟
وہ ایج کو مارنے کے لئے بڑے تھے ۔۔۔
جب سمیر نے آگے بڑھ کر اپنے مضبوط ہاتھ سے ان کا بڑا ہوا ہاتھ دبوچا تھا ۔۔۔
خبردار اگر اس کو چھوا بھی تو۔ ۔۔
تم کون ہوتے ہو؟؟؟
 میں اپنی بیٹی سے کسی بھی طرح پیش او میری مرضی  ۔۔۔
میں کون ہوتا ہوں؟؟؟
 ابھی بتاتا ہوں میں کون ہوں ۔۔۔
میں آپ کی بیٹی کا شوہر ہوں ۔۔۔
سمیر نے ان کا ہاتھ بری طرح سے جھٹکتے ہوئے کہا تھا ۔۔
وہ عریج کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کر خونخوار نظروں سے حیدر صاحب کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
یہ میری بیوی ہے۔۔۔
 آپ اس کے سائے تک بھی نہیں پہنچ سکتے ۔۔۔
وہ اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر حیدر صاحب کی طرف کرکے بولا ۔۔۔
حیدر صاحب اس انکشاف پر دنگ رہ گئے تھے ۔۔۔
آریج اس کی مضبوط پناہوں میں آ کر پرسکون ہو چکی تھی کوئی ڈر کوئی خوف باقی نہ رہا تھا ۔ 
اب سمیر دندناتا ہوا حیدر صاحب کے گھر میں گھس رہا تھا ۔۔
ارے یہ تم کہاں میرے گھر میں گھسے چلے جا رہے ہو ۔۔
حیدر صاحب غصے سے بے قابو ہو کر بولے تھے ۔۔

وہ پلٹا اور حیدر صاحب کا گریبان پکڑ کے بولا ۔۔
اگر میری بہن حجاب نہیں ملی تو یاد رکھنا میں تجھ سمیت تیرے گھر کو آگ لگادوں گا ۔۔۔
وہ ان کی شرٹ کو کھینچتے ہوئے بولا ۔۔۔

آپ چپ رہے اور ہمیں اپنی کاروائی کرنے دیں ۔۔

ایک پولیس آفیسر مداخلت کرتا ہوا ان دونوں کو الگ کرتے ہوئے سختی سے بولا ۔۔۔
بابا کو آج زندگی میں اپنا آپ جتنا بھی بس لگا تھا۔۔۔
 اس سے پہلے کبھی نہیں اتنی بے بسی انہوں نے محسوس کی تھی ۔۔۔
وہ گم سم سے بس خاموش ایک کونے میں کھڑے تھے ۔۔
ان کو حجاب کا ہنستا مسکراتا چہرہ آنکھوں میں گھومتا محسوس ہو رہا تھا بار بار ۔۔۔

یا اللہ میرے بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔
میں نے اگر زندگی میں کوئی ایسا کام کیا ہو جو تجھے اچھا لگاہو۔ ۔۔
تو تو میری حجاب کو دے دے واپس ۔۔
میرے رب میرے حبیب کے صدقے میں تو میری بچی کو با حفاظت ہم تک پہنچا دے۔ ۔۔
وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہے تھے ۔۔
بول بتا میری حجاب کہاں ہے ؟؟؟

بشر دلاویز کور تہ خانے میں سے کھینچتا ہوا باہر لا رہا تھا ۔۔
مجھے نہیں پتا میں کچھ نہیں جانتی وہ بلبلا کر بولی تھی ۔۔۔
وہ اس کی طرف مارنے کو بڑا تھا ۔۔۔
بشررکو اسکول لیڈی کانسٹیبل کو ہینڈل کرنے دو ۔۔۔

خاندان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکا تھا ۔۔
💕💕💕💕

💕💕💕💕


یہ کیا حال کیا ہے تم لوگوں نے اس کا ؟؟؟
زوار وہاں موجود عورت اور مرد پر دھارا تھا ۔۔۔
اس کی تو نفس بھی بہت ہلکی چل رہی ہے ۔۔
لیکن سر جی مجھے بائی نے یہی کہا تھا کرنے کو ۔۔۔۔

ہاں میں نے کہا تھا بائی سے مگر اتنا بھی نہیں اب کل یہ بھیجنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے ۔۔۔
یہ زندہ بھی شاید کل تک نہ رہ پائے ۔۔
وہ حجاب کا چہرہ پلٹ کر دیکھنے لگا ۔۔
یہ دیکھو اس کے چہرے سے بھی خون رس رہا ہے ۔۔
اب کیا سیٹھ اس کا اچار ڈالے گا ؟؟
مگر سر جی میں نے اس کے ساتھ کوئی ریپ تھوڑی کیا ہے ۔۔
ریپ نہیں کیا لیکن اس کا حال دیکھو اس کو موت کے قریب پہنچا دیا ہے۔۔
 کون جواب دے گا ؟؟
 سیٹھ کو تو بھکتے گا ؟؟؟
کون لائے گا اتنی رقم جو میں نے اس سے لے لی تھی پہلے ھی؟؟؟
وہ جارحانہ انداز میں اس آدمی کی طرح بڑا تھا اور گھونسوں اور لاتوں کی بوچھاڑ کر ڈالی تھی ۔۔
حجاب کے اوپر اتنا تشدد کیا گیا تھا کہ زواریہ تک نہیں پہچان پایا تھا کہ یہ اریج نہیں بلکہ کوئی اور لڑکی ہے ۔۔
ایک دم دھڑام سے باہر کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔

خبردار کسی نے بھی ہلنے یا کسی کی بھی قسم کی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو ادھر ہی گاڑھ دوں گا ۔۔۔
پولیس آفیسر ازجلد اور ان کے اہلکار اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے اور پورے فارم ہاؤس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا ۔۔
بشر ہمدان اور سمیر تیزی سے آفیسر کی پوزیشن سنبھالتے ہیں اندر داخل ہو چکے تھے ۔۔
باقی سب لوگ وہی عریج کے گھر پر ہی تھے ۔۔
بتا کون ہے اس میں سے کون ہے تیرا وہ یار۔۔۔
 پولیس افسر بولا تھا ۔۔

دلاویز نے بڑی مشکل سے زوار کی طرف اشارہ کرکے بتایا تھا   ۔۔۔
زوار کو دیکھ کر بشر اس کے اوپر بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑا تھا ۔۔
بتا کہا ہے میری حجاب ؟؟؟
وہ اس کے منہ پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بولا تھا ۔۔
میرے پاس کوئی حجاب نہیں ہے ۔۔
وہ تڑپتے ہوئے بولا تھا ۔۔
تو اس طرح منہ نہیں کھولے گا ۔۔۔
بشر نے اپنی بیلٹ اتار کر۔۔۔
 اس کے کئی ضرب ایک ساتھ لگا ڈالے تھے ۔۔
بشر اس وقت جنونی سا ہو رہا تھا ۔۔
بشر چھوڑو اس کو ۔۔۔
سمیر نے بڑی مشکل سے اس کو چھڑواتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
بہار شور سن کر کمرے میں بند لڑکیوں نے فورا دروازہ پیٹنا شروع کر دیا تھا ۔۔
اہلکار نے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا بھاگ کے ۔۔
مگر اندر لڑکیوں کو دیکھ کر وہ فوری پیچھے ہٹا تھا اور لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہو گئی تھی ۔۔۔
اور پھر دوسری اپنی ساتھی کانسٹیبل کو اشارہ کیا تھا گاڑی میں سے چادریں لانے کا ۔۔۔
دلاویز جب زب زبان کھولی تھی تو سب بتا دیا تھا ۔۔
لیڈی کانسٹیبل پوری تیاری سے آئی تھی ۔۔
تم لوگوں کو پتہ ہے کسی کو حجاب کے بارے میں ؟؟؟
لیڈی کونسٹیبل نے وہاں باندی بنی معصوم لڑکیوں سے نرمی سے پوچھا تھا ۔۔
سب نے ڈر کر نفی میں سر ہلا یا تھا مگر ان میں سے ایک لڑکی ہمت کرکے بولی تھی ۔۔
کہیں آپ اس لڑکی کی تو بات نہیں کر رہی جس کو ابھی ابھی ان لوگوں کا ساتھی دفنانے لے کر گیا ہے؟؟؟
کیا مطلب ؟؟
وہ تمام حجاب کے ساتھ ہوئی جارہیت کے بارے بتاتی چلی گئی۔۔۔
 اندر آتے بچھڑنے دروازے کو تھام کر بڑی مشکل سے خود کو گرنے سے روکا تھا ۔۔۔
اس نے سب سن کر زوار  کی طرف لائیٹر سے آگ لگانا شروع کی تھی ۔۔۔
بتا کہاں ہے میری حجاب کہاں لے کر گیا ہے تیرا آدمی اس کو ؟؟؟؟
بول نہیں تو تجھے ایسی جگہ تکلیف دوں گا کہ تو نہ زندوں میں شمار ہوگا نہ مردوں میں بول جلدی ۔۔۔۔۔
بتاتا ہوں ۔۔۔
اور پھر اس کو لے کر بشر اور پولیس  اس  تک پہنچ چکے تھے ۔۔

وہ فارم ہاؤس کے پچھلی طرف موجود گارڈن میں قبر کھود کر حجاب کو اندر لٹا چکا تھا اور اب اس کے اوپر مٹی ڈال رہا تھا۔۔
تمام لڑکیوں کو با حفاظت پولیس کی گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا تھا ۔۔
اور اب وہ لوگ حجاب کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس تک پہنچ چکے تھے ۔۔
بشر نے آگے بڑھ کر اس کو دھکا دیا اور خود جھک کر حجاب کے اوپر سے مٹی ہٹانے لگا تھا ۔۔
وہ رو رہا تھا چیخ رہا تھا مسلسل ۔۔۔
ہمدان اور سمیر نے اس درندے آدمی کو پکڑ کر اتنا دھونا تھا کہ بس سانس بند ہونے کی کمی باقی رہ گئی تھی ۔۔
سمیر اور ہمدان بھاری قدموں سے بشر کی طرف بڑھے تھے دونوں کے دل غم سے نڈھال تھے ۔۔
بشر اس کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا ۔۔
یار اس کی نبض ابھی چل رہی ہے جلدی کرو ہاسپٹل لے کر اس کو چلو۔۔
ہمدان نے حجاب کہ ہاتھ کو واپس چھوڑ کر کہا ۔۔
وہ بھی اس کی حالت دیکھ کر اس سے سے بےقابو ہو رہا تھا ۔۔
بشر اس کو بازوؤں میں بھر کر ہوسپٹل کے لئے نکل چکا تھا وہ پچھلی سیٹ پر اپنی گود میں لئے اس کو بیٹھا تھا ۔۔۔
💕💕💕

ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف ؟؟؟
ڈاکٹر کو آئی سی یو سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ ڈوڑتا ہوا ان کی طرف پہنچا تھا۔ ۔۔
دیکھے آپ کی وائف کی حالت ٹھیک نہیں ہے اوپر سے وہ ایکسپیکٹ بھی کر رہی ہیں ۔۔
یی اللہ کا کوئی معجزہ ہی ہے کہ ان کے حمل کو کوئی نقصان نہیں ہوا ہے اتنے تشدد کے باوجود ۔۔
اگلے 24 گھنٹے بہت اہم ہیں ۔۔
آپ لوگ دعا کریں ۔۔
میں آپ کو کوئی امید نہیں دلانا چاہتا پشینٹ کی حالت بہت خطرناک تھا خراب ہوچکی ہے ۔۔۔
💕
جاری ہے۔ ۔


tu kitni masoom hai episode 36 by aymen nauman

Tu itni masoom he..💕
By Aymen Nauman
Epi 36..(3rd last epi)

میں سمجھی نہیں آپ کی بات کو؟؟
 اریج حیران پریشان تھی سمیر کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
اوپر چلو سب سمجھاتا ہوں ۔۔
وہ کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا ج۔۔
جو بھی بات کرنی ہے یہی کریں ۔۔
اریج کو سمی رکا رویہ کچھ مختلف سا  محسوس ہو رہا تھا  ۔۔
سمیرا سکی نا نا کی تکرار پر چڑھ سہ گیا تھا ۔۔

وہ اب کچھ بھی کہے بغیر اریج کی طرف بڑھا اور آرزو کواسکی  گود لیا۔ ۔
اور پھر اریج کا بازو تھام کر کھینچنے کے انداز میں اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا ۔۔
اریج کو اپنے حواس معطل ہوتے محسوس ہونے لگے تھے وہ کھلی ہوئی سمیر کے ساتھ حواس باختہ سی اس کے کمرے میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔
ہاں اب بولو ۔۔
رکیا کہنا چاہتی ہو؟؟؟
وہ آرزو کو بیڈ پر احتیاط سے لیٹا کر واپس اریج کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
ساتھ ہی فون ملا کر کسی ملازم کو شاید اوپر شو پر زلانے کا آرڈر بھی دے رہا تھا ۔
یہ سب کچھ کیا ہے ؟؟؟
اریج کا ضبط جواب دے چکا تھا وہ کچھ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر گویا ہوئی ۔۔۔
اپنے لہجے کو زرہ دھیما رکھو اور یہ مت بھولو کہ تم اپنے شوہر سے مخاطب ہوں ۔۔
سمیر اس کو وارن کرنے والے انداز میں بولا تھا ۔۔۔
شوہر ۔؟؟
وہ آنکھیں پھاڑ ے اسکا الفاظ دہرا کر بولی۔۔۔
ہاں بالکل ٹھیک سنا شوہر ۔۔
اور جتنی جلدی تم اس حقیقت کو ایکسپٹ کروں گی تمہارے لئے ہی بہتر ہے ۔۔۔
آر یوان یورسینسس؟ ؟؟؟
آپ شاید بھول رہے ہیں کہ یہ شادی ایز آ کانٹریکٹ میرج کے تحت کی گئ تھی۔ ۔
وہ اس کو باور کراتے ہوئے بولی
وہ ہوئی تھی ۔۔
مگر اب تم میری بیوی ہو ۔۔
وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے مزیدبولا ۔۔
اور  تھی اور ہے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔۔۔
اریج اس کے بدلتے ہوئے انداز دیکھ کر کچھ خوفزدہ  ہوئی تھی ۔۔
اور الٹے قدموں پیچھے ہوتی دیوار سے جا لگی تھی ۔۔
وہ نہ فہم نظروں سے سمیر کو گھبرا کر دیکھ رہی تھی۔۔
وہ اس کو  دیوار سے لگا دیکھ کر اس کے قریب ہوا اور ایک ہاتھ سے اس کی کمر کے گرد حصار بانھ کر دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کرتے ہوئے گویا ہوا ۔۔
شادی تمہاری مرضی سے ہوئی تھی مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ تمہاری ہی مرضی چلے ۔۔

وہ تیز ہوتی دھڑکنوں اور سمیر کی حددرجہ قربت سے خائف ہو کر ۔۔
اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر اس کو دور ہٹانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی ۔۔

مگر سمیر اس کو مزاحمت کرتا دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا ۔۔
اور پھر اس کو خود میں جکڑکر بولا ۔۔
ابھی تو چھوڑ رہا ہوں مگر تو چار دن سے زیادہ نہیں بس کوگی ۔۔
جو بھی خرافات ہے ذہن سے نکال باہر کرو ۔۔
عریج اس کی قید سے رہائی پا کر فوراًکمرے سے باہر جانے لگی تھی جب سمیر نے اس کا ہاتھ کھینچ کر دوبارہ خود سے قریب کیا ۔۔
وہ اس افتاد سےسنبھل نہ سکی اور  سمیر کے سینے سے دوبارہ آ لگی ۔۔
اور کمرے سے باہر جانے کا تو آپ بالکل بھی نہیں سوچنا ۔۔۔
میرے ساتھ  اس کمرے میں رہوں گی اب سے تم ۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔۔
یہ ممکن نہیں ہے ۔۔
اریج نے ایک دفعہ پھر سے ہمت مجتمع کر کے کہا ۔
اور اگر میں ابھی اور اسی وقت ممکن بنا دو تو ؟؟؟
اریج کو اس کی آنکھوں میں چیلنج سا نظر آیا تھا ۔۔
ٹھیک ہے یہی ہو ۔۔
کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔
آس نے تھک ہار کر آخر کار ہتھیار ڈال ہی دیے تھے ۔۔
۔
گڈ گرل ۔۔
اچھی بات ہے ابھی سے فرمابردار بیویوں کی طرح بات ماننا جانتی ہو ۔۔
وہ اس کے گال پر اپنی شہادت کی انگلی پھیر کے پیچھے ہٹ چکا تھا ۔۔۔
وہ کچھ ہی فاصلے پر رکھا صوفہ دیکھ کر اس پہ ڈھے سی گئی تھی ۔۔
کیا یہ کوئی خواب ہے ؟؟
کیا اللہ پاک اس طرح دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔؟؟
وہ کل تک جو یہ سوچ کر پریشان تھی کہ۔ ۔۔
سمیر کسی بھی لمحے اس کو آزادی کا پروانہ سنا سکتا ہے۔۔۔
مگراب اس  کے بدلے بدلے انداز پر اندر تک مطمئن سی ہو چکی تھی ۔۔
وہ نکاح کے بعد سے اپنے اندر آنے والی تبدیلی سمیر کے لئے نرم جذبات اور آرزو سے محبت کو محسوس کر چکی تھی ۔۔
وہ خود بھی اب اس رشتے کو ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔
اور سمیر نے تو آج جیسے اس کو نئی زندگی بخشتی تھی۔۔
طلاق کا داغ ایک پاکدامن لڑکی کے لیے بہت ازیت باک قسم کا دھبا ہوتا ہے ۔۔
اور وہ اپنے پاک دامن پہ کسی بھی قسم کا داغ لگتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔
اس وقت تووہ سمیر سے کہہ گئی تھی کے یہ شادی کچھ عرصے کے لئے کرلیں۔۔
 مگر بعد میں وہ بار بار اذیت کا شکار ہو رہی تھی یہ سوچ سوچ کر کیسے اب وہ اپنے ماتھے پر طلاق کا داغ لے کر جائے گی۔۔۔
 تو کیا اس وقت وہ وہی عریج ہوگی جو اپنے باپ کے گھر سے عزت بچاکر بھاگی تھی ۔۔۔؟؟؟
اور اپنے دامن میں مزید کیچر لگا کر واپس لوٹی تھی ۔۔۔
اس کو سمیر سے محبت نہیں تھی مگر سمیر اس کو بہت اپنا اپنا سا لگنے لگا تھا ۔
کریں محبت تو اس کو اتنا یقین تھا کہ نکاح کے تین بولو میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ۔۔
  دو دلوں میں محبت پیدا کرسکیے۔ ۔۔

💕💕💕

صبح کے وقتسب لوگ ناشتے سے فارغ ہوکر لاؤنج میں ہیں برجمان تھے چھٹی کا دن تھا ۔۔
 بھئی ہماری بیٹیاں پر بتائینگی کہ کے برات کے ڈنرمینیو کیا ہونا چاہیے ؟؟؟
شادی کے موضوع پہ ہی ڈسکشن ہو رہا تھا جب بات پر برات کے کھانے پر آئی تو بابا نے مسکرا کر حجاب اور اسرا کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔
ارے واہ کیا بات ہوئی۔۔۔
 انتظاماتسب میں کرو سارے اور آخر میں مین چیز یہ دونوں ڈیسائیڈ کریں ۔۔۔
بشر منہ بنا کر بولا ۔۔
ارے بھئی تم کیوں بے کر رہے ہو ؟؟؟
تم اور تمہاری ما ما مہندی کے فنکشن کو میں نے ڈیسائیڈ کرلو ۔۔۔
بابا نے فوری بشر کو منانے کے لئے حل نکالا اور مسکرا کر اس کو دیکھنے لگے ۔۔
اسراء شرمائی شرمائی سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔
عمامہ اس کو بہت پیار بھری نظروں سے دیکھتی سوچ رہی تھی کہ ۔۔
اللہ نے ان کی سن لی تھی۔ ۔
 ان کو قدسیہ کے آگے سرخرو کر دیا تھا۔ ۔
 ان کی بھانجی عزت سے اپنے گھر کو ہونے کو تھی اس کو اپنی خوشیاں ملنے والی تھی۔۔
وہ آج خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھیں۔ ۔
ارے دیکھو بس اب میں ڈی کے فنکشن میں پانچ دن رہ گئے ہیں باقی ۔۔
تم لوگ کب شاپنگ شروع کرو گے کب مکمل ہو گی ماما نے تینوں کو کہا ۔۔
اور نہیں تو کیا ۔۔
ویسے میں کیا پہنوں بارات میں اور باقی فنکشنز میں ؟؟؟
حجاب نیں بھی ٹکڑا لگایا وہ بہت خوش اور ایک سائٹ بھی اس راہ کی شادی کو لے کر ۔۔ 
اسراء کی بارات والے دن اس کی اینیورسری بھی تھی پہلی شادی کی ۔۔
کچھ بھی پہن لو چوڑیل کبھی ہور نہیں بن سکتی ۔۔۔
بشیر نے حجاب کو تنگ کرنے کے لئے چھیڑا ۔۔
میں نے آپ سے نہیں پوچھا آپ تو جلتے ہیں میرے حسن سے ۔۔
حجاب نے ایک ادا سے اپنے کھلے  سارے بال سمیٹ کر ایک شانے پر ڈال کے   کہا ۔۔
خوش فہمی تو چیک کریں ذرا میڈم کی ۔۔
بشر نے ہاتھ کے اشارے سے حجاب کی طرف اسراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔
حجاب ان دونوں کی لڑائی میں بچاری تھالئ کا بیگن بن کے کبھی ادھر لڑکتی تھی توکبھی ادھر لڑکتی تھی ۔۔
بس اب لڑائی جھگڑا نہیں شروع کر دینا تم لوگ ۔۔۔
اور بس آج ہی سے اپنی شاپنگ اسٹارٹ کرو ۔۔

بابا ما سکول تا دیکھ کر جلدی سے بولے اور حجاب جو دل چاہے خرید لینا تمہاری نیند کی شادی ہے ۔۔
حجاب کا چہرہ بابا کی اس بات سن کے کھل اٹھا تھا۔۔۔
او میرے پیارے بابا آپ دنیا کے سب سے پیارے بابا ہے
وہ اٹھی اور اٹھ کے بابا کے گلے لگ کے بولی تھی بڑے لاڈ سے ۔۔
اور اسراء تمہارے لئے بھی میں نے چیک بنا دیا ہے ہر چیز بہتر سے بہترین لینا ۔۔
میں اپنی پیاری بیٹی کی شادی میں  کسی بھی چیز میں کمپرومائز نہیں دیکھنا چاہتا ۔۔

وہ اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کے گویا ہوئے تھے ۔۔
حجاب اور اسرا دونوں کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے تھے
💕💕💕💕

ادھر ہمدان کے گھر میں تیاریاں بھی زور و شور سے شروع ہوچکی تھیں ہر طرف خوشیوں کا راج تھا ۔۔

بیٹا تم اسراء کو لے جاؤ اور جا کے برات اور ولیمے کا  ڈریس لے اور جو بھی شاپنگ تم دونوں نے کرنی ہے وہ کر لو ۔۔
میرا بہت ارمان تھا کہ میں خود جاکر تمہاری بڑی تیار کرتی مگر میرے پیر وں نے میرا ساتھ نہ دیا ۔۔

وہ اداسی سے بولی ان کا ایک ہی تو بیٹا تھا وہ ہر طریقے سے شادی کی تیاریاں کرنا چاہتی تھیں ۔۔

ارے میری اماں آپ کی اداس ہوتی ہے میں ہوں نہ۔۔
اسی طرح آپ کی بہو کے دیدار بھی ہو جائیں گے ۔۔
وہ ان کو اداس دیکھ کر بات کو مذاق رنگ دے گیا تھا ۔۔
جیتا رہے آباد رہے میرا پتر سدا خوش رہے تو ۔۔
زندگی کی ہر خوشی نصیب ہو  ۔۔
وہ اس کو دعائیں دیتیں واپس اسراءکے دوپٹے میں کرن لگانے میں مصروف ہو گئی تھی ۔۔
وہ بشر کو فون ملا نے لگاتا کہ اسراء کو لے کر شاپنگ پر آج ہی چلا جائے ۔۔
بشر کے فون اٹھانے پر اس نے سلام دعا کے بعد بےتابی سے کہا کہ ۔۔
یارا سرا کا فون بند جارہا ہے ۔۔
تو پھر ۔؟؟
بشر لہجے میں رکھائی سمو کر بولا ۔۔
تو پھر کیا مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔
حمدان نیں بھی کڑک آواز میں کہا ۔۔
جو بھی بات کرنی ہے مجھے کہہ دو میں بتادوں گا اس کو ۔۔
تم سے ضائع ہو جائے گا دیکھ بات کرا میری بیوی سے ۔۔
ہمدان نے بشر کو دھمکایا ۔۔
او اچھا واقعی میں ۔۔۔
بشر نے گویا ناک پہ مکھی لڑائی ۔۔
صبر کر رک ایک منٹ ۔۔
وہ سامنے سے گزرتی آسرا کو بلاتے ہوئے بولا ۔۔
کس کا فون ہے ؟؟
اسراء نے فون تھامتے ہوئے پوچھا تھا بشر سے ۔۔
تمہارے سرتاج کا ۔۔
وہ آسرا کو فون دینے سے پہلے اسپیکر اون کرنا نہیں بھولا تھا ۔۔
اسراء اسکی شرارت  پر گھور کے رہ گئی بشر کو۔۔۔
جی ۔۔
اس نے موبائل کان سے لگا کر کہا ۔۔
اس کو بشر کے سامنے بات کرنے سے ویسے ہی جھجک محسوس ہو رہی تھی۔۔
 اس پر تضاد وہ سامنے ہی بظاہر آنکھیں اورکان بند کرکے  کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
کہاں غائب ہو تم لگتا ہے اپائنمنٹ لینا ہو گئی تم سے ۔۔۔
وہ جتاتے ہوئے بولا ۔۔
کوئی کام تھا ؟؟؟
یہ پوچھو کیا کیا کام نہیں ہے تم کہو تو ابھی بتا دو سارے ۔۔۔؟؟؟
نہیں نہیں ابھی نہیں ۔۔
وہ اس کو پٹری سے اتر تا دیکھ کر جلدی سے بولی ۔۔۔
اچھا وہ کل چلیں گے بارات کا ڈریس لینے ۔۔۔
جی وہ آپ لے لیں اپنی پسند سے جو بھی لینا چاہیں۔ ۔۔
بشر نے اسپیکرکھولا ہوا ہے ۔۔
وہ جلدی سے بولی تھی اور فون زبردستی بشر کے ہاتھ میں رکھ کر یہ جا وہ جا ۔۔
بشر کے بچے نہ تجھے حجاب سے پٹوایا تو میرا نام بھی ہمدان نہیں ۔۔۔
وہ سلگ ہی تو گیا تھا ۔۔
ھاھاھا ۔۔
جو کرنا ہے کر لے میں نے بھی ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ۔۔۔
بشر کو اس کو تپآنے میں  بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔
اور ویسے بھی ابھی تو لڑکی بھائی کے گھر ہے ۔۔۔
بشر نے مزید لقمہ لگایا ۔۔۔
💕💕💕

حجاب اور آسرا شاپنگ کرکے پارکنگ سے ذرا فاصلے پر ڈرائیور کا انتظارکر رہی تھی۔۔
یار حجاب مجھے وہ ڈریس بہت اچھا لگا تھا مگر تم نے اتنی جلد بازی کی کہ میں لے ہی نہیں پائی  ۔۔
اسراء کو ایک کام دار سوٹ بہت اچھا لگا تھا مگر حجاب کے بھوک بھو ککا شور مچانے کی وجہ سے وہ خرید نہ پائی تھی ۔۔
ابھی ابھی وہ حجاب کو برگر سے انصاف کرتے دیکھ کر بولی ۔
ارے تو کیا ہوا؟؟
 ابھی تو ہم یہی ہیں جو لے لو جاکر ۔۔۔
چلو پھر چلتے ہیں ۔۔
اسرانے جھٹ کہا ۔۔
ہیںننن؟ ؟؟
 میں نہیں جا رہی۔۔
تو پھر میں کس کے ساتھ جاونگی ؟؟؟
وہ دیکھو ڈرائیور چاچا گاڑی لے کر آگئے ہیں ۔۔
وہ اب گاڑی میں بیٹھ چکی تھی  ۔۔
کیسے جاؤں کیا ؟؟
میں گاڑی میں ہوں تم ڈرائیور چاچا کو ساتھ لے جاؤ ۔۔۔
مگر تم ادھر اکیلے ۔۔۔؟؟
ارے یار تم جاؤ میں جب تک یہ برگر سکون سے کھا لوں پیٹ میں شدید چوہے  دنگل مچا رہے ہیں ۔۔۔
چلو ٹھیک ہے ۔۔
اندرسے گاڑی لاک کرلو ۔۔
اسراء نے کہا اور ڈرائیور کے ساتھ مال میں چلی گئی ۔۔
ان دونوں کو گئے ہوئے دس منٹ بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ کسی نے گاڑی کا شیشہ توڑ کر لو کھولا تھا ۔۔
حجاب نے خوفزدہ ہو کر چیخنا چاہا ہی تھا کہ 1 دیوہیکل سے آدمی  نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا تھا اور دوسرے اسی کے جیسے لمبے تڑنگے آدمی نے اس کے بازو میں تیزی سے انجیکشن لگایا تھا ۔۔۔
وہ کراہ کر رہ گئی تھی ۔۔
خوف سے اس کی آنکھیں پھٹی پڑ رہی تھی ۔۔
اور پھر ان دونوں آدمیوں نے حجاب کو ساتھ موجود گاڑی میں جلدی سے منتقل کیا ۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ گاڑی اپنی منزل کو روانہ ہو چکی تھی ۔۔
حجاب کے ہاتھوں سے بشر کے لئے چھوٹا سا اینیورسری کے لئے پیک کرایا ہوا گفٹ اور چھوٹا سا ہی کارڈ اس گفٹ پر لگاہوا تھا ۔۔
اس تمام کارروائی میں وہجاب کے ہاتھ سے اسی کی گاڑی میں کہیں لڑھک کر گر چکا تھا ۔۔۔

💕💕💕

جاری ہے۔ ۔۔

tu kitni masoom hai episode 35 by aymen nauman

Tu kitni masoom he..
By Aymen Nauman
Epi 35.

Do not Copy Paste Without My Permission ۔.

مگر میں اسراہ کے ساتھ شہر میں ہی رہوں گا اس حویلی میں اس کو کبھی بھی نہیں لاؤں گا ۔۔۔
اور دادی آپ کی جب تک زندگی ہے اماں  بابا آپ کے ساتھ ہے۔۔
 میں ان کو اپنے ساتھ  جانے پر مجبور نہیں کر رہا ۔۔
اس کے بعد میں اپنے ماں باپ کو بھی اس زندان میں نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔
وقت کسی کا نہیں ہوتا اور آج وقت نےبہت بڑا انصاف خود بخودکردیا تھا ۔۔
آج وہ اس ہزاروں مربعوں کی مالکان ۔۔
زندگیوں پر حکمرانی کرنے والی خود کو حاکم سمجھنے والی دوسروں کو ملظوم جاننے والی ۔۔۔

اپنے اکلوتے پوتے کے ہاتھوں بہت بری طرح سے عرش سے فرش پر اوندھے منہ گریں تھی ۔۔۔

حمدان اپنا فیصلہ سنا کر اٹھ گیا تھا ۔۔۔
اس کو اٹھتا دیکھ ماما نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا ۔۔

بیٹا کیا اپنی ماں کو ادھر ہی چھوڑ کے چلے جاؤ گے ؟؟؟
وہ ماں کو جھک کرماتھے پر بوسہ دے کے ویلچیئر احتیاط سے گھسیٹتے ہوئے ہوںئے حویلی کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔

ؓمکیم صاحب۔۔
اپنے شہانہ تخت پر بیٹھی دیوار سے سر ٹکائے غم کی تصویر بنی۔۔۔
 اپنی ماں پہ  ترہم بھری نظر ڈال کر بڑے افسوس سے کہنے لگے کہ ۔۔
اللہ جب تک اپنے نافرمان بندوں کی رسی دراز رکھتا ہے جب تک وہ مکمل طور پر نافرمانی کے دلدل میں اتر نہیں جاتے ۔۔۔
مگر جب وہ اپنی دراز کی ہوئی رسی کھینچتہ ہے تب  انسان برباد ہوجاتا ہے۔۔
 کہیں کا نہیں رہتا۔۔
 وہ پھر اس دلدل میں اپنے ہی گناہوں کی بدولت بری طرح دھنس کر رہ جاتا ہے ۔۔۔
میرے رب کو معصوم اور کمزور بندوں پر ظلم پسند نہیں ہے ۔۔۔
یہ کہہ کر مقیم صاحب بھی بیٹے اور بیوی کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔
انہوں نے ایک آخری نظر اپنی ماں اور اس حویلی کو دیکھا تھا اور جاتے جاتے رک کے اپنی ماں سے گویا ہوئے تھے۔ ۔۔
سنبھالیے اپنی جاگیر۔۔
 اب آپ کے ملازم آپ کی  جائیداد اور آپ کی حویلی آپ کے حوالے ہے ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ باہر تیزی سے ہمدان کی جیپ کی طرف بڑھ چکے تھے ۔۔۔

💕💕💕

ڈرائنگ روم میں ہمدان اپنے والدین کے ساتھ تشریف فرما تھا ۔۔۔
حجاب ہمدان کی پیرنٹس کو دیکھ کر اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی تھی مہمان نوازی کی ۔۔۔
بشر کو بہت خوشگوار حیرت کا جھٹکا اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھا ۔۔۔
میں آپ سے ان تمام مظالم کی ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں جو قدسیہ بھرجائی کے ساتھ ہوئے ۔۔۔
وہ خالہ کے سامنے ہاتھ جوڑ کو تھے ۔۔
جب بشر نے بڑھ کر ان کے ہاتھ تھام لئے ۔۔
ماما بھی حیران تھیں کہ ہمدان اتنی جلدی اپنے ماں باپ کو کیسے لے کر آ گیا تھا۔؟؟؟

بھائی صاحب آپ کی امی کی اس رشتے کو دل سے مانے گی ۔۔
کیا وہ اس رشتے  قبول کریں گی ؟؟؟
میں آسرا کو اپنی بہن کی پرچھائیں نہیں بننے دینا چاہتی ۔۔۔
وہ بہت تڑپی ہے ۔۔۔
وہ پوری زندگی دکھوں کی پاداش میں گزری ہے  اسکی۔ ۔
 اور اسی سسکیوں سمیت وہ قبر میں جا سوئی ہے ۔۔
میں اپنی بھانجی کو جانتے بوجھتے کھائی میں نہیں دیکھی نہ جاتی ۔۔
بس بہن وہ معنے یا  نہ ما نیں میں ہمدان کی ماں ہوں ۔۔
آپ کے سامنے بڑی محبت سے اپنے بیٹے کی خوشیاں مانگنے آئی ہو ں۔ ۔۔
میں آپ سے بہت محبت سے آسرا کا ہاتھ اپنے بیٹے کیلئے مانگتی ہوں ۔۔۔
وہ پورے خلوص کے ساتھ گویا ہوئیں ۔۔

ان کے لہجے میں بولتی سچائی اور اپنی بات کی پختگی کو محسوس کرکے خالا پھر کچھ نہ کہہ سکیں ۔۔
اور رہی بات نکاح نامے کی تو ۔۔
تو اب یہ شادی پورے دھوم دھام سے ہوگی ۔۔
حکیم صاحب خالہ اور خالو کو نیم رضامند دیکھ کرگویا ہوئے تھے۔ ۔۔
ہمدان نے ڈرائنگ روم کے باہر ایک سنہری  آنچل لہراتا ہوا دیکھا تھا ۔۔
اس کے لبوں پے ایک مسکراہٹ سیا کر معدوم ہو گئی۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ اسراء دروازے کے پیچھے گھڑی ہی چھپکے ۔۔۔
بشر مجھے اسموکنگ کرنی ہے ۔۔
وہ اپنے برابر میں بیٹھے بشر سے آہستہ سے بولا ۔۔
ہاں ہاں مجھے پتا ہے تجھے کس اسموکنگ کی کریونگ  ہو رہی ہے ۔۔
بشر بھی اسی کا دوست تھا ذومعنی لہجے میں بولا ۔۔۔
زیادہ بکواس نہ کر اور مجھے باہر لے کر جا۔۔
ہمدان نے بشر کو دھمکایا ۔۔
ویسے میں تجھے بات بتا دو تو اب اپنی بیگم سے کبھی ملے گا جب میری بیگم کی اجازت ہوگی ۔۔

اور میری بیگم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تیری اور اسراء صاحبہ کی ملاقات اب ڈائریکٹ حجلہ عروسی پر ہی ہوگی ۔۔۔
کہو تو حجاب سے پچھوا دیتا ہوں ۔۔
بشر ڈھٹائی سے بولا ۔۔۔
خیر مجھے پتاہے مجھے کس طرح سے اپنی بیوی سے ملنا ہے ۔۔
وہ میں مل ہی لونگا تو بس اپنی خیر منا اب ۔۔۔
وہ اس کے کندھے پر دھمو کا جڑ کے بھولا ۔۔۔

💕💕💕

شام کے وقت اسرا اپنے سسرال والوں کے جانے کے بعد خالہ کے پاس ہمت کرکے ان کے کمرے میں آ ہی گئی تھی ۔۔
اس کو خالہ کے سامنے جانے سے ایک عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ۔۔
جھجک سی آڑے آ رہی تھی ۔۔
اف۔۔۔
اللہ تعالی کیا سوچتی ہونگی خالہ میرے بارے میں؟؟؟
 اوپر سے ہمدان سے بھی بات نہیں کر پا رہی ۔۔
حجاب اور بشر سے تو  میں بعد میں نمٹونگی ۔۔
 بشرنے بڑی خاموشی سے اسراکا فون چھپا دیا تھا اور الزام حجاب کے اوپر ڈال دیا تھا ۔۔

کہ فون چاہیے تو اس سے لےلو میں تو باز آیا شہد کی مکھی کو چھیڑنے سے ۔۔
وہ صاف مقرر کیا تھا ۔۔۔
اسرا خاموشی سے دل مسوس کر رہ گئی ۔۔
خالہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی حجاب سے معلوم ہوا تھا ۔۔
 بی پی صبح سے ہی کافی بڈھا ہوا تھا ۔۔
وہ کمرہ اندھیرا کئے آنکھوں پر ہاتھ رکھے شاید سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔
پیروں کی استرا بیت بتا رہی تھی کہ ان کے اندر ایک سرد جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔۔
وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کے پیر دبانے لگی اس کے پیروں پر ہاتھ رکھ نے پر انہوں نے آنکھوں پر سے بازو ہٹا کر دیکھا ۔۔
اسراء کو اپنے سامنے دیکھ کر انہوں نے اپنے پیر اس کے ہاتھوں سے تھوڑے دور کر لیے۔۔۔
 گویا ناراضگی کا اظہار تھا ۔۔۔
خالا مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔
 وہ دوبارہ سے ان کے پاؤں کو اپنے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ دباتے ہوئے بولی ۔۔۔
میرا مطلب آپ کو تکلیف دینا ہرگز بھی نہیں تھا ۔۔
تو پھر کیا مطلب تھا ۔۔؟؟
وہ تھوڑی توقف کے بعد گویا ہوئیں ۔۔
مجھ سے کیوں چھپایا اپنے اور ہمدان کے نکاح کا ؟؟؟
شاید میں تمہیں ماں جیسی محبت نہ دے پائی تھی جو تم مجھ سے اپنا دکھ سکھ شیئر کرتیں؟؟؟۔۔۔
خالہ میں آپ کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی مگر سب کچھ اس طرح سے ہو جائے گا ۔۔
میں اس سچویشن سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی تھی اس وقت ۔۔۔
وہاب خالہ کے ہاتھ پکڑ کر زاروقطار رو دی تھی ۔۔۔
پلیز خالہ ایک دفعہ معاف کر دے مجھے ۔۔۔
ماں ہیں نہ۔۔۔
 اپنی اس  نالائق بیٹی کی غلطی کو صرف ایک دفعہ درگزر کردیں۔ ۔۔
وہ آسرا کو گلے لگا کر خود بھی زاروقطار رو دی تھیں۔ ۔۔
💕💕💕

وہ کئی دنوں سے نوٹ کررہا تھا کہ اریج کے پاس کپڑوں کے نام پر صرف ایک ہی سوٹ ہے جو شاید وہ بھی حجاب نیں اس کو دیا تھا وہ نکاح کے بعد سے اسی ایک ہی جوڑے میں نظر آ رہی تھی ۔۔۔

وہ لاؤنج میں بیٹھا اپنے آفس کے مینجر سے تمام ایک سال کی پروگریس کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آفس کے متعلق فون بند کر چکا تھا ۔۔۔

وہ موبائل سائیڈ میں رکھ کے لاؤنج میں ہی ٹی وی چلا کر بیٹھ گیا ۔۔
وہی تھوڑے فاصلے پر اریج آرزو سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی اس کو شدت سے محسوس ہوا کہ وہ جب سے آئی ہے بس اسی ایک ہی لباس میں ہے ۔۔
وہ خود پر افسوس کرتا ہے ۔۔
اور پھر اس کے دل میں ایک خیال سا آیا تھا کہ ۔۔
اریج شب تک میرے نکاح میں ہے مجھے اس کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے ۔ 
وہ میری بیٹی کی کتنی توجہ اور محبت سے دیکھ بھال کررہی ہے۔۔
 کیا میں اس معصوم لڑکی کے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتا ؟؟؟۔۔۔
وہ کافی دیر سے اریج کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
 اس کے لاکھ نہ چاہنے کے باوجود بھی وہ اس کے دل و دماغ میں خود بخود جگہ بناتی جا رہی تھی ۔ ۔
یہ میں کیا سوچ رہا ہوں؟؟؟؟
 کیا ایک دفعہ پھر میں عورت کے ہاتھوں خوار اور رسوا ہو نگا ؟؟؟
کیا ایک دفعہ پھر میری بیوی مجھ سے  طلاق کا مطالبہ کرے گی ؟؟؟
نہیں بالکل نہیں ۔۔۔
بس اب اور نہیں ۔۔
شادی پیا کوئی تماشا یا کھیل نہیں ہے ۔۔۔
وہ ایک فیصلہ کرکے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
طائرانہ نظر وہاں موجود اپنی بیوی اور بیٹی پہ ڈال کر بغیر کچھ کیے کہے گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا تھا ۔۔
💕💕💕

ہیں۔۔۔
 بڑے ہی عجیب ہیں یہ تو ۔۔۔
بیت ہی کوئی کھڑوس ٹائپ کے بندے ہیں۔۔۔
 تھوڑا سا بات چیت ہی کر لیتا ہے انسان ۔۔۔
ایسا لگتا ہے یہاں دیواروں کے ساتھ باتیں کرنی پڑے گی کچھ ہی دنوں میں ۔۔۔
مگر خیر مجھے کیا میرے پاس تو میری چھوٹی سی گڑیا آرزو ہے نہ ۔۔
وہ آرزؤں کے گالوں پر چٹاچٹ پیار کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
شکر ہے یہ شادی ساری زندگی کے لئے نہیں ہے ۔۔
کنٹریکٹ کے مطابق کی گئی ہے نہیں تو پوری زندگی بس ایسی ہی گزرنی تھی کہ ۔۔۔
تم کہاں اور ہم کہاں ۔۔۔
کے مطابق ۔
شکر ہو گیا یہ تو ۔۔
چلو بس جلدی سے زوار کا قصہ کسی طرح ختم ہو تو میں بھی سکون کا سانس لو۔۔
 کسی کے اوپر زبردستی بوجھ بننا اریج کو بہت عجیب سا لگ رہا تھا ۔۔۔
اوپر سے سمیرکا رویہ اس کو بہت زیادہ دلبرداشتہ کر رہا تھا ۔۔۔
مگر کیا میں اس ننھی سی گڑیا کو اپنی محبت اور شفقت سے بھرپور لمس کا احساس دلاکر تنہا کرکے مطمئن رہ سکونگی؟ ؟؟
اس سوچ کے آتے ہیں وہ بے کل سی ہو گئی تھی ۔۔

💕💕💕💕💕

سمیر کافی ٹائم بعد اریج اور آرزو کے لیے شاپنگ کرکے گھر واپس آیا تھا ۔۔
گھڑی رات کے ساڑھے دس بجا رہی تھی ۔۔
بو ابھی دس بجے اپنے کواٹر میں جا چکی تھی ۔
اریج آرزو کو لے کر سب چیزیں اس کی سمیٹ کر اپنے کمرے میں ہی جانے کو تھی ۔۔۔
سمیر کا انتظار بھی تھا کیونکہ کافی دیر ہوچکی تھی اس کو گھر سے نکلے ہوئے مگر اتنی ہمت نہ ہوئی کہ فون کر کے پوچھ لیتی ۔۔۔
سمیر کی گاڑی کار پورچ میں آتے دیکھ کر اسنے سکون کا سانس لیا تھا اور آرزو کو لے کر کمرے میں جانے لگی تھی ۔۔
آریج ٹھہرو ۔۔
سمیر کی آواز نے اس کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیے تھے ۔۔۔
جی چاچو ۔۔۔
وہ بے ساختگی میں کہہ گئی تھی ۔۔
سمیرنےاس کو گھور کر دیکھا اور پھر ملامتی انداز میں بولا ۔۔
شوہر کو تمہارا بہتر ہے کہ اسی رشتہ سے پکارا کرو ۔۔۔۔
ہیںںننننننن۔ ۔۔۔ مگر ۔۔۔!
سمیر نے تیز نظر ایک عریج پر ڈالی تھی ۔۔۔
اریج اس کی سخت نظروں سے خائف تھی ہو کر خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
مبادا اگر اور کچھ کہتی تو سمیر اس کو ہاتھ سے کھینچتا ہوا گھر سے ہی نہ نکال باہر کرتا ۔۔۔
جی بہتر ۔۔۔
وہ نظروں کا زاویہ آرزو کی طرف پھیر کر گویا ہوئی ۔۔۔
کھانا لگاو ۔؟؟
اس کے دل میں آیا کہ سمیر کے سامنے سےبھاگ کر غائب ہو جائے۔۔۔
 مگر پھر اس کو خود پر کیا گیا سمیر کا احسان یاد آ گیا ۔۔
اسی احساس کے تحت اس نے زمین سے کھانے کی بابت دریافت کیا تھا ۔۔
"بہت جلدی خیال آگیا میری بھوک کا "؟؟
اس کے لہجے میں ایسا کچھ ضرور تھا کہ ایک دم اریج سٹپٹائی تھی ۔۔
مگر پھر اپنا وہم جان کر سر جھٹک گئی تھی ۔۔
خیر میں کھا کر آیا ہوں ۔۔
وہ اس کے چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھ کر مولا ۔۔
وہ اس کا جواب سن کر پلٹنے والی تھی۔۔
 جب ایک دفعہ پھر سے سمیر کی آواز پر اس کو روکنا پڑا۔۔
یہ میں تمہاری اور آرزو کے لئے کچھ چیزیں لایا ہوں ۔۔
وہ چوکیدار سے رکھواتے ہوئے لاونج میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگ کی طرف اریج کو اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
عریج نے شکر کا سانس لیا اور سوچا کاش اس میں میرے کپڑے ہوں۔۔۔
 وہ کپڑے نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہوگئی تھی۔۔
 کئی دفعہ سوچا کہ حجاب سے بولے مگر پھر کیا بولتی کہ ۔۔
سمیر کیوں نہیں دلارہا ؟؟؟
یاحجاب  کے پوچھنے پر کیا جواب دے دیںتی کہ۔۔
 سمیر سے کیوں نہیں کہا کپڑے دلانے کے لئے ؟؟
بس یہی سوچ کے ہر دفعہ خاموش ہو جاتی تھی ۔۔

وہ شاپنگ بیگز اٹھا کر اپنے اور آرزو کے مشترکہ کمرے میں لے جانے لگی تھی جب سمیر کی آواز کسی ہتھوڑے کی طرح اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔۔
"یہاں نہیں اوپر ہمارے پیٹروم میں چلو اور یہ شو پر ز مجھے دو میں لے کر آتا ہوں تم آرزو کو لے کر جاو اوپر "۔۔۔
اس نے حکم صادر کیا  ۔۔
اریج نے سہم کر سمیر کو دیکھا تھا ۔۔
شاپر کے لیے بڑھتے ہوئے عریج کو اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔
اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔
💕💕💕

وہ دونوں شام کے وقت ٹیرس میں بیٹھے خوشگوار ماحول میں خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔۔
جب بشرحجاب کو چھیڑتے ہوئے کہا کہ ۔۔
محترمہ سات دن بعد ہماری اینیورسری ہے ۔۔۔
جی ہاں مجھے یاد ہے اس عظیم دن کے بارے میں ۔۔
حجاب بھی جتاتے ہوئے بولی  ۔۔
اچھا بتاؤ کیا پریزنٹ ہوگی مجھے ؟؟
وہ حجاب کے چہرے کو اپنی وارفتگی لٹاتی نظروں سے فوکس کر کے کہنے لگا ۔۔
جو آپ کہیں گے ۔۔
وہ بشر کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر سیریس ہو کر بولی۔۔
حجاب مجھ سے کبھی دور نہ جانا پلیز ۔۔۔
 بشر کو نہ جانے کیوں بس حجاب کی بچکانہ حرکتوں سے بہت خوف آتا تھا کہ کہیں اس کی بیوقوف یاں اس کو کوئی بڑے نقصان سے ہمکنار نہ کر بیٹھے ۔۔
میں آپ سے دور کہاں جاؤں گی بھلا ؟؟؟
میری تو تمام صبحیں اور تمام شامیں آپ سے شروع ہو کر آپ پرھی ختم ہو جاتی ہیں ۔۔
وہ ایک جذب کے عالم میں بولی ۔۔
اور بشر کے ہاتھوں پہ اپنے نرم و گداز ہاتھوں کا دباؤ ڈال کر جھک کے اس کے ہاتھوں کا بوسہ لیا ۔۔
حجاب کئی دنوں سے میں تمہیں خواب میں بہت عجیب سے انداز میں دیکھ رہا ہوں ۔۔
کہ تم بہت زیادہ رو رہی ہو اور تمھارا پورا وجود بے جان سا زمین بوس ہوا ہے ۔۔
آف بشر ۔۔
آپ بھی نہ ہر وقت میرے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔۔
اسی لیے بہت زیادہ پوزیسو ہوکر اس طرح کے خواب آپ کو آتے ہیں ۔۔
اس نے بشر کی بات کو چٹکیوں میں اڑایا تھا ۔۔
بے فکر رہیں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والی اپنی سانسیں چلنے تک تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔
 بشر خاموش نظروں سے کھویا کھویا سا اس کو دیکھتا رہا لیکن حجاب کی آخری بات میں اس کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔۔
"وہ الگ بات ہے کہ میری سانسیں تھم جائیں "۔۔
حجاب نے شرارتی انداز میں بشر کو تنگ کرنے کے لئے کہا ۔۔

"مگر کیا واقعی انسان کی کبھی کبھار  بے ساختگی میں بولی گئی بات سیدھا عر ش پر جاکر قبولیت کی سند حاصل کر لیتی ہے ؟"
💕💕💕

جاری ہے۔ ۔۔

💕

tu kitni masoom hai episode 34 by aymen nauman

tu kitni masoom he ..💕
By Aymen Nauman
Epi34..
Do not Copy Paste Without My Permission

حجاب صبح کے وقت  شاور لے کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی بال سلجھا  رہی تھی ۔
بن بتوڑی ذرا مجھے اٹھا کر واش روم تک پہنچا دو یار ۔۔۔
وہ منڈی مندی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے جمائی لے کر بولا ۔۔
کیوں کیا آپ کی بنائی رخصت ہوگئی ہے ؟؟؟
رات میں تو آپ کو ہر چیز بہت وعزہ نظر آتی ہے ۔۔
بلکہ رات میں تو آپ کی آنکھیں چار ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ چڑھ کر بولی ۔۔
حجاب اس کی شرارت اچھی طرح سمجھ رہی تھی اس لئے لہجے میں مصنوعی غصہ سمو کر بولی ۔۔

یاراندھاتومیں اسی دن ہو گیا تھا۔۔
کس دن۔ ؟
حجاب اچھنبے سے بولی۔ ۔۔
 جس دن تمہارا خوفناک چہرہ پہلی دفعہ دلہن کے روپ میں بیڈ کے اوپر  گلی ڈنڈا کھیلتے دیکھا تھا ۔۔۔
ہییںننننننن۔ ۔
کیا کہا میرا خوفناک چہرہ ؟؟؟؟؟
حجاب غصے سے چڑھ کر ہاتھ میں پکڑا برش اٹھا کراسکی کٹ لگانے دوڑھی ۔۔
بشر نے اپنی باتوں کی نمائش کی وہ حجاب ہوں تب آنے میں جو کامیاب ہوچکا تھا ۔۔
حجاب اس کے سر پر کھڑی تھی اور غصے سے گول گپے کی طرح پھولی پورا ا f - 16 طیارہ لگ رہی تھی ..
Have you ever seen yourself???
 look exactly like Strawberry...

او واقعی میں اسابری جیسا ہوں ؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر بولا ۔۔
ھاھاھا۔۔
 جاو آئینے میں کبھی سہی سے اپنا چہرہ تو دیکھو ۔۔۔۔
حجاب فخریہ بولی جیسے بشر کو واقعی حیرانی ہو ۔۔
ویسے غالباً  تمہیں اسٹابری ملک شیک بہت پسند ہے ۔۔
ہیں نا صحیح کہہ رہا ہونا ؟؟؟
وہ حجاب کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر بیڈ پر دھکیلتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ہے مجھے پسند لیکن شیک۔ ۔
وہ آپ کے چہرے میں سے نکلنے سے رہا ۔۔۔
حجاب میں بھی حساب برابر کرنا چاہا اور خود کو چھڑا کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ بغیر سوچے سمجھے کیا بھول گئی ہے ۔۔
ہو یعنی تمہیں ابھی ملک شیک پینا ہے ؟؟؟
وہ معنی خیزی سے حجاب کے لبوں کو فوکس کرتے ہوئے بولا ۔۔
اور کہتے کے ساتھ ہی حجاب کے اوپر جھک کر اس نرم و گدازگلابی ہونٹوں پر اپنے لب رکھ دیئے ۔۔
حجاب غصے میں اپنے ناخنوں سے اسکی پوری کمر خھرچ ڈالتی ہے ۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔
ظالم شیرنی ۔۔
بشر نے بلبلا کر دور ہٹ کے اپنا چہرہ صاف کرنے لگتا ہے اور پھر پوچھتا ہے اس سے کہ۔ ۔۔
ہاں تو ظالم حسینہ کیسا لگا نیچرل اسٹابری کا جوس ؟؟!
حجاب اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بشر کو دوبارہ خود پر جھکتادیکھ کر اندر اندر ہی کھول ہی رہی ہوتی ہے۔۔
 جب دروازہ ناک ہونے پر وہ بشر کو زور دار جھٹکا دے کر بیڈ سے جمپ لگانے کے انداز میں اترتی ہے ۔۔
اور بھاگتے ہوئے اس کو ٹھینگا دکھا تی دروازہ کھولنے کے لئے بڑھ جاتی ہے ۔۔۔

💕💕💕

حجاب جیسے ہی دروازہ کھولتی ہے اسراءکو کمرے کے باہر کھڑا دیکھ کر وہ اس کو اندر آنے کے لئے کہنے ہی والی تھی کہ ۔۔
یار کون ہے ؟؟!
جلدی دیکھو اور واپس آؤ میرے پاس آئو۔۔
 سارا ٹیمپو ٹوڑ کے رکھ دیا ہے۔ ۔۔
وہ جھنجھلاتے ہوئے بولا ۔۔
بشر کو لگا کہ کوئی ملازمہ جگانے کے لئے آئی ہوگی ۔۔
کیونکہ صبح کے وقت کوئی نہیں آتا تھا ان دونوں کو ڈسٹرب کرنے ۔۔۔
باہر کھڑی اسراء اور کمرے کے اندر کھڑی حجاب دونوں ہی بشر کی بات پر سٹپٹا گئیں۔ ۔
حجاب سے تو خفت کے مارے کچھ بولا  ہی نہیں جا رہا تھا ۔۔
اسراء بھی اس وقت آکر پچھتائی ۔۔

آواز نہیں آ رہی کب سے بلا رہا ہوں ؟؟
مزید انتظار نہیں ۔۔۔۔
وہ آنکھیں رگڑتا ہوا باہر آ رہا تھا جب سامنے کھڑی سٹپٹائی سی آسرا اور حیاء اور خفت  سے سرخ پڑھیں حجاب کو دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے ۔۔
جی آپ کیا کہہ رہے تھے ؟؟؟
حجاب کو تو گویا حساب برابر کرنے کا موقع مل چکا تھا ۔۔۔
وہ بشر کو شرم دلانے کو بولی ۔۔
ہاں تو یہ آسرا کی غلطی ہے کہ وہ غلط وقت پر آئی ۔۔
خوامخواہ ہمارا رومانس خراب کیا ۔۔
وہ ڈھٹائی سے کہتا اپنی جھنپ مٹانے لگا ۔۔
نہیں مجھے تو کچھ بات کرنا تھی ۔۔
اسرا اپنی شرمندگی چھپاتے ہوئے بولی ۔۔
ہمدان سے یہ بھی نہیں سیکھا تم نے کہ۔ ۔
وہ حجاب کو اس کی غصے سے گرتی ہوئی آنکھوں کی پرواہ کیے بغیر بولا ۔۔۔
اسره کا تو مآ نو بشر کی باتوں پر خون خشک ہونے لگا تھا ۔۔
وو بےوقت اکر پچتائی تھی بری طرح  ۔
میں بعد میں آجائونگی۔ ۔
یہ کہے کر وہ سر پٹ ڈور لگا گئی۔ ۔
پیچھے حجاب نے بشر کو بآ تھروم میں بھگ کر لوک لگاتے دیکھ کر اپنے دانت پیسے تھے ۔  💜

Tu itni masoom he...💕
By Aymen Nauman
Epi 34(part 2)

سمیر فریش ہو کے صبح کے وقت ناشتے کے لئے ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھا ۔۔
بوااس کے لئے ٹیبل پر ناشتہ لگا رہی تھیں۔ ۔

جب وہ اریج اور آرزوکی کمی کو محسوس کرکے بوا سے پوچھ بیٹھا نہ چاہتے ہوئے بھی ۔
۔
بوا آرزو کہاں ہے اور اریج نے کر لیا ناشتہ ؟؟
اس نے بادل ناخواستہ کہا ۔۔

جی سمیر بابا چھوٹی بی بی آپ کے اٹھنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی سوئی ہیں۔ ۔
۔
 میں جب اپنے کوارٹر سے صبح آئی تھی  تب اریج بی بی آرزو بیٹیاکو گود میں لیے لانچ میں ٹہلا رہی تھیں۔ ۔
آرزوکی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟؟
کو ناشتے سے ہاتھ روک کر بولا ۔۔۔

جی بابا طبیعت تو ٹھیک ہے ۔۔
مگر گڑیا کے شاید پیٹ میں درد تھا اس لئے بہت روروکر سوئی ہے ۔۔
سمیر سے بیٹی کا حال جان کر اس کو دیکھے بغیر رہا نہ گیا ۔۔

وہ اٹھ کر سیدھا اریج کے کمرے کی طرف آیا ۔۔

پہلے اس کے دل میں آئی کے نوک کرے۔ ۔

مگر پھر آرزوکی نیند کے خیال سے آہستہ سے یہ سوچ کر ہینڈل پر ہاتھ رکھا کہ اگر کھلا ہوا تو آرزو کو ایک جھلک دیکھ لوں گا اور اگر لاکھ ہوا تو پھر آہستہ سے ناک کرلونگا ۔۔
وہ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر گھماتا ہے ۔۔
کمرہ اندر سے لاک نہیں تھا ہینڈل گھمانے سے دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔
اس کو تھوڑا آکوٹ تو فیل ہوا تھا اس طرح اریج کی بغیر اجازت کے کمرے میں جانا مگر پھر اپنی بیٹی کی محبت غالب آ گئی ۔۔

وہ اندر داخل ہوکر جیسے ہی آرزو کو دیکھتا ہے اس کے سونے کے انداز پرسمیر کے لب بے ساختہ مسکرا اٹھتے ہیں ۔۔
وہ بڑے مزے سے اریج کے سینے پر الٹی لیٹی بڑے پرسکون انداز میں سو رہی تھی ۔۔

آریج نے اس کو دونوں ہاتھوں سے اپنے۔۔ خود میں چھپایا ہوا تھا ۔۔

سمیر کو یہ منظر بہت حسین لگا تھا کتنا مکمل لگ رہے تھے وہ دونوں ایک ساتھ ۔۔
۔
سمیر نے بلینکٹ کھول کر دونوں پر ڈھانپ دیا اور لائٹ آف کر کے باہر آ گیا ۔۔
اس کو اپنا بہت پرسکون لگا بہت تویل عرصے کے بعد۔ ۔
💜Tu kitni masoom he ..💕
By Aymen Nauman
Epi 34(part 3)end..

حمدان سب کے ساتھ حویلی کے بڑے ہال کمرے میں بیٹھا تھا  ۔۔
دادی اپنے تخت پر اور اماں حمد ان کے پاس رکھے صوفے تک اپنی ویل چیئر لے آئی تھیں۔۔

 جبکہ بابا بہت خاموش تھے آج وہ ہمدان کو اپنی اپنی عمر سے مزید کئی سال بوڑھے لگ رہے تھے ۔۔

ارے یہ دیکھو ہمارے ہاتھوں کا لڑکا ہم پر ہی زبان درازی پر اتر آیا ہے ۔۔

ہم پر یعنی  اپنی دادی پر الزام لگا رہا ہے شرم نہیں آئی اس کو؟؟؟؟ ۔۔۔

میرے پوتے اس میں تیرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔

 اس میں قصور اس ڈائن کی ہی بیٹی کا ہے اسی نے
تجھے ورغلا آیا ہے۔۔
 نا گن کی بیٹی جو ٹھہری ۔۔۔
بس۔۔۔۔۔
 دادی میں اب آپ کا احترام کر رہا ہوں میرے ضبط کو مزید نہ آزمائیں ۔۔۔

آپ کو اپنی ہی پوتی جو کہ آپ کے بیٹے کا خون ہے۔۔۔
 اسی سے نفرت ہے چڑھ ہے ۔۔
خیر حیرت ہے کس طرح کا دل ہے آپ کا ۔۔؟؟؟

مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کسی کی۔۔۔
 سچے دل سے میری شادی میں شرکت ہونا ہے تو ٹھیک ہے ۔۔
نہیں ہونا تو آپ کی مرضی ہے ۔۔
میں ویسے بھی اپنی بیوی کو اس حویلی سے دور رکھوں گا اور میں آج خود ابھی اور اسی وقت آخری دفعہ آپ کو یہاں نظر آ رہا ہو اس کے بعد میں آپ کو حویلی تو کیا اس گاؤں میں بھی نظر نہیں آؤں گا ۔۔

اے میرا پترا تو کیسے اتنی بڑی بات پر سکتا ہے ۔۔؟؟

تو جیسا کہے گا۔۔
 جو کہے گا۔۔
 بالکل ویسا ہی ہو گا۔۔
 دادی کا طنطنہ منٹوں میں ہمدان نے مٹی میں ملایا تھا ۔۔

ہاں۔۔
 اس طرح راضی نہیں ہوئیے گا جس طرح چاچا کی شادی کے وقت ہوئی تھیں ۔
 اور پھر اس بے بس عورت کو نکال باہر کھڑا کیا تھا ۔۔۔
ہمدان سے آج مزید قسمت نہیں ہو پا رہا تھا ۔
آج وہ صحیح معنوں میں دادی کو چھوٹا ہو کر بھی بہت کچھ سمجھا گیا تھا ۔۔

اسی طرح کیا گیارنٹی ہے کہ میری بیوی کو بھی میرے کچھ ہو جانے کے بعد ۔۔

اماں ایک دم سے ہمدان کے منہ پر ہاتھ رکھ گئیں۔۔۔

 بیٹے کی بات پر ان کا کلیجہ منہ کو کھنچا چلا آیا تھا ۔۔
نہیں میرے پتر جو ہوا وہ ماضی تھا ۔۔

اسے بھول جا بتا کب چلنا ہے تیری ووہٹی کو لینے ۔؟؟؟
۔
ہمدان نے ایک نظر وہاں موجود تمام نفوسو پر ڈالی اور پھر بہت ٹھہر کر بولا ابھی اور اسی وقت ۔۔۔

❤
جاری ہے۔ ۔

tu kitni masoom hai episode 33 by aymen nauman

Tu kitni masoom he..💕
By Aymen Nauman
Epi 33

Do not Copy Paste Without My Permission ....!

حجاب ڈریسنگ روم سے خوشبو سے مہکتی بہار آئی ۔۔۔
وہ بشر کو سوتا دیکھ کر سوچنے لگی کہ ۔۔
ایسے سو رہے ہیں جیسے زندگی میں پہلی بار نیند نصیب ہوئی ہو ۔۔۔
یہاں میری نیندیں اڑ گئی ہے ۔۔
اب کیا کروں اٹھاؤ ں یا نہ اٹھاؤ ں؟ ؟؟؟
ایک کام کرتی ھوں خود بھی سو جاتی ہو ۔
مگر مجھے ان کی ناراضگی سونے بھی تو نہیں دے گی ۔۔
وہ ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی ۔۔۔
کہاں پھنسا دیا  اریج مجھے۔۔
اس کو بشر کے پاس جانا ایسا لگ رہا تھا جیسے خود کو جان بوجھ کر شیر کے منہ میں دھکیلنا ۔۔۔
چلو اللہ کا نام لے کر ایس ہٹلر کے پاس چلی جاتی ہوں ۔۔
جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔۔۔
وہ اندر ہی اندر خوف زدہ بھی تھی کیونکہ بشر اس سے اس طرح پہلی دفعہ ناراض ہوا تھا  ۔۔
وہ ہمت کرکے بشر کے سرہانے پہنچ ہی جاتی ہے ۔۔
 ہاتھ بڑھا کر اس کو جگانے کے لئے بڑھ ہی رہی ہوتی ہے کہ ۔۔
بوکھلاہٹ میں بیڈ کے پاس رکھے میٹ اور بشر کی سلیپر سے الجھ کر آوندھی بشر کے اوپر گر پڑتی ہے ۔۔

بشر اس اچانک گرنے والے  خود پر بلڈوزر سے گھبرا کر گہری نیند سے جاگتا ہے ۔۔۔
حجاب کو ڈیپ مہرون نائٹی میں دیکھ کر وہ حواسوں میں جلدی سے واپس آتا ہے ۔۔
اوف لوگ اس قسم کی صورتحال پر حواس کھو بیٹھتے ہیں مگر میری اس چڑیل بیوی نے نیند میں میرے چودہ طبق روشن کر کے رکھ دئے ہے ہیں ۔۔
وہ غصے سے بڑبڑاتا ہے ۔۔
کیا ہوا ہے ؟؟؟؟
رات کے اس پہر تو سکون لینے دو ۔۔
یا میرے خوابوں میں بھی جھانک کر ڈھونڈ رہی ہوکہ کس لڑکی سے مل رہا ہوں اور عشق کی پینگیں بڑھا رہا ہوں،۔
وہ تپ کے چنگھاڑتے ہوئے بولا ۔۔
وہ میں آپ سے ناراض تھیں اس لئے آپ کے اوپر ھی گل گئی ۔۔۔
وہ بشر کے غصے سے خوف زدہ ہو کے الٹا ہی کہہ گئی تھی ۔،
یاالہی ۔۔۔
تو کیا میرے اوپر گرنے سے ناراضگی ختم ہو گی تمھاری ۔۔۔؟؟؟؟
وہ بھنا کر بولا ۔۔
اب کیا ساری رات ایسے ہی پڑے رہنے کا ارادہ ہے ؟؟؟
یا جب تک میں پورے طریقے سے اسٹیکر نہیں بن جاؤں گا تب تک نہیں ہٹوگی ؟؟؟
نن۔۔۔نننن نہیں تو ۔۔۔
وہ خود کو سنبھال کر اٹھنے کی کوشش کرتی ہے۔۔۔

 مگر جیسے ہی سر اٹھاتی ہے اس کے  لمبے بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں الجھ جاتے ہیں۔۔۔
اور وہ ایک دفعہ پھر اس کے چوڑے سینے سے الگ تی ہے ۔۔۔
رات کی فصوں خیزی ۔۔
خوبصورتی سے تراشا ہوا پیکر ۔۔
جائز رشتہ ۔۔۔
استحقاق ۔۔
وہ کچھ لمحوں کے لئے اس کے سحر میں گرفتار سا ہو گیا تھا ۔۔۔
مگر جذبات پر ایک دم دوپہر والا حجاب کا کارنامہ کسی فلم کے سین کی طرح دماغ کی سلیٹ پر چل گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کیا ۔۔
اوچ ۔۔
اس کے بے دردی سے جھٹکنے سے حجاب کے سرکے کئ بال بشر کی شرٹ کے بٹن میں رہ گئے تھے ۔۔
جب کہ حجاب اپنے بال کھینچنے پر تکلیف سے کراہ اٹھی تھی ۔۔۔
یہ کیا میرے سامنے بیہودہ قسم کا لباس پہنا ہوا ہے ؟؟
میں تو ایک دل پھینک اؤ باش قسم کا مرد ہو اس لباس میں میں تمہاری ہی عزت نہ اتار۔ ۔۔
۔
بشرحجاب کی آنکھوں میں چمکتے موتی دیکھ کر بڑی مشکل سے خود کے غصے کو کنٹرول کر پایا تھا ۔۔۔
حجاب سے مزید اس کی ناراضگی برداشت نہ ہوئی اور وہ تیزی سے بھاگ کر بشر کے چوڑے سینے سے آ لگی ۔۔
بشر پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔
 مگرمیں نے آپ پر شک کیا مگر میں آپ کی محبت میں ایسا سوچ میٹھی خودغرض ہو گئی تھی  ۔۔۔
آپ کو کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا خیال ہی میرے لئے جان لیوا تھا ۔۔
وہ اب باقاعدہ زاروقطار رو رہی تھی۔۔
 بشر نے اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے کان کے پیچھے کیا اور کہا ۔۔۔

حجاب دیکھو میاں بیوی کا رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے وہیں کچھ جگہوں پر آکر یہ بالکل کچے دھاگے کی مانند ہو جاتا ہے ذرا سا کینچانہیں اور ٹوٹ گیا ۔۔
وہ اس کی کمر سہلاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
اور اگر شک کا بیچ ایک دفعہ اس رشتے میں آجائے تو پھر یہ رشتہ ختم ہونے کے در پہ آ جاتا ہے ۔۔
لیکن مجھے بہت اچھا لگا کہ تم نے انا اور ضد کو بیچ میں لائے بغیر ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
کیونکہ اسی طرح اس رشتے میں انا کو ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کی غلطی کے ہونے کے باوجود بھی درگزر کر دینا۔۔
 اس رشتے کو بالکل ایسا کر دیتا ہے جیسے سچے موتی ۔۔۔
بشر میرا وعدہ ہے میں کبھی بھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔۔۔
بشر اسکے حسین سراپے کو اپنے بازوں میں اٹھا کر
پیار بھری شرارت کر بیٹھتا ہے ۔۔۔


رات کے چار بجے کے قریب عریج کی آنکھ آرزو کے رونے کی آواز سے کھلی ،۔۔
وہ پریشان سی ہو کر اٹھ بیٹھی ۔۔
کیا ہوا ہو گاآرزو کو ؟؟؟
کیوں اس طرح رو رہی ہے ؟؟؟
وہ پریشانی سے اپنی نازک انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔
مجھے جانا چاہیے۔۔
 پتا نہیں کہیں کوئی تکلیف تو نہیں ہے ؟؟
وہ خود ہی سے سوال جواب کر رہی تھی ۔۔
لیکن اگر ۔۔
میں گئی اور انہوںنے پھر مجھے رات کی طرح باتیں سنائیں اور میری عزت افزائی کرتی تو پھر ؟؟۔۔۔
اریج الجھن  کا شکار تھی ۔۔
سمیر کے غصے سے بھی اس کو ڈر سا لگ رہا تھا ۔۔
دوسری طرف آرزو کے رونے میں مزید شدت آ رہی تھی وہ بہت زور سے رورہی  تھی۔۔
اریج سے مزید صبر نہ ہوا اور وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر بھاگنے کے سے انداز میں سمیر کے کمرے کے سامنے پہنچی۔
۔دروازہ ناک کرنے کی اس کو ضرورت نہ پڑی وہ پہلے سے ہی وا تھا ۔۔
وہ پھر بھی ہلکا سا ناک کرکے ہمت مجتمع کر کے کمرے میں ذرا اندر داخل ہو ہی گئی تھی ۔
وہ ننھی گڑیا کو گود میں لیے ٹہل رہا تھا مگر وہ کسی صورت بھی چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی اور اس کی گود میں مچل رہی تھی بری طرح ۔۔۔
سمیر اس کے کھٹکا کرنے پر پلٹا تھا۔ ۔
 عریج  کو سامنے  دیکھ کر اس کے چہرے پر واضح سکون نمودار ہوا تھا ۔۔
جس کو وہ تیزی سے سردمہری کے تاثرات میں چھپا گیا ۔۔۔
  اریج اس کے سخت اثرات کو دیکھ کر آہستہ سے گویا ہوئی ۔۔۔
یہ بہت رو رہی تھی اس لئے میں یہاں آئی تھی ۔۔
یہی وجہ تھی جو میں اس کو تمہیں نہیں دے رہا تھا یہ تمہاری عادی نہ ہو جائے ۔۔
اب دیکھ لو نتیجہ تمہارے سامنے ہے۔۔
 کس طرح  محض دو دن میں ہی یہ  ضد کرنے لگ گئی ہے ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
مگر بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔۔
انہیں تو بس تھوڑی سی محبت اور توجہ چاہیے ہوتی ہے ۔۔
ان کو ضد پہ آنے سے پہلے ہی ہمیں کسی نہ کسی طریقے سے پر سکون کر دینا چاہیے ۔۔
آرزو کے رونے نے اس کو یہ سب کہنے پر مجبور کردیا تھا ۔۔
ہاں توں میں بھگت تو رہا ہوں تمہاری تھوڑی سی محبت اور توجہ کا نتیجہ آدھی رات کو ۔
وہ غصے میں آرزو کو زور سے دھپ لگانےکے انداز میں تھپک نے لگا ۔۔
اریج نے آرزو کو یکدم سمیر کی گود سے جھپٹنے کے سے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
آپ نے آج تو اس معصوم بچی پر یہ ظلم کر دیا ہے۔۔۔
 مگر اب جب تک میں یہاں ہوں یہ میری ذمہ داری ہے ۔۔۔
وہ شہادت کی انگلی سمیر کی طرف اٹھاتےہوئے وارننگ دینے کے انداز میں بولی ۔۔
اریج کی برداشت بس یہیں تک کی تھی ۔۔
وہ آرزو کو لیے اپنے کمرے کی طرف تیزی سے بڑھ چکی تھی ۔۔
سمیرہکا بکا سا اس کو اپنی ہی بچی چھین کر لے جاتے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
وہ ابھی تک حیران تھا اس کے اس طرح وارننگ دینے کے انداز پر ۔۔۔۔

صبح فجر کی کی اذانوں کی آوازیں سنتے ہی ہمدان نماز پڑھنے کے بعد اپنی جیپ کی چابی اٹھا کر سیدھا گاؤں کے لئے روانہ ہوگیا ۔۔۔
گاؤں کا بارہ گھنٹے کا طویل سفر ہمدان نے ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے آٹھ گھنٹے میں مکمل کرلیا تھا ۔
۔وہ ‏non stop ڈرائیو کرتا اپنے گاؤں کی حدود میں داخل ہو چکا تھا ۔۔
سلام صاحب ۔۔
راستے میں ملنے والے کئی لوگوں کا جواب وہ بس محض سر ہلا کر ہی دیتے ہوئے اپنی جیب کو اڑاتا ہوا جا رہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ حویلی کے اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔
اس کی واپسی اور برہمی کے تاثرات دیکھ کر تمام ملازمین کی روح اندر تک فنا ہو چکی تھی ۔۔۔

وہ وہ جیپ سیدھا حویلی کے کشادہ لون کے سامنے بنے حویلی کے دروازے پر ٹکر مارنے کے انداز میں کھڑی کرکے چھلانگ لگا کر نیچے آترا ۔۔۔
کہاں ہیں سب لوگ ؟؟؟
وہ ملازم سے گویا ہوا جو اس کو اندر آتا دیکھ کر فورا اس کی طرف لپک کے آیا تھا ۔۔

وہ شدید طیش کے عالم میں دندناتا ہوا سیدھا راہ داری سے گزرتے ہوئے ڈائننگ ایریا میں ملازم کے بتانے پر وحی آ گیا تھا ۔۔
وہ تینوں اطمینان سے دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے جب ۔۔
بابا کی نظر اس کے غیض وغضب سے بھرے انداز پر پڑھی۔۔
اماں( ہمدان کی ماں)  اسکا چہرے پر جھلکتا تناؤ اور قدموں میں پائی جانے والی دہشت دیکھ کرسمجھ گئی تھی کہ ۔۔۔
کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے جو وہ اس طرح سب کے سامنے شدید طیش کے عالم میں مٹیھاں بھینچے کھڑا ہوا ہے ۔۔
تو گویا اطمینان کی گھڑی آن پہنچی ہے ۔۔۔
بابا نے آہستہ سے کہا ۔۔
اماں نے ناسمجھی سے اپنے شوہرکی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی تمام تر صورتحال کو ۔۔۔

وہ سلام کر کے دھاڑنے کے انداز میں ٹیبل پر بیٹھے تینوں نفوس سے گویا ہوا ۔۔
دادی کا اس کے چہرے کا تنائو دیکھ کر سارا اطمینان رخصت ہوچکا تھا ۔۔
مجھے بتائیں کہ چاچی کا کیا قصور تھا ؟؟؟
جو اس گھر سے ان کو آدھی رات میں دھکے دے کر بےرہمی کا ثبوت دیتے ہوئے نکال دیا گیا تھا ۔؟؟؟

دادی جونکہ پوتے کا غصہ دیکھ کر لاڈ کرنے کے لئے اپنی لاٹھی پکڑ کے اٹھنے کو تھیں اس کی چھنگھاڑتی آواز سن کر واپس بیٹھ گئیں۔ ۔
بیٹا یہ کس انداز میں تم اپنی دادی سے بات کر رہے ہو ؟؟
اما ں آپ کو کچھ نہیں پتا کہ انہوں نے کس طرح دو معصوم زندگیوں کے ساتھ کھیلا ہے ۔۔۔
کس طرح ان کو رات کے اندھیرے میں بے یارومددگار اس بھیڑیوں سے بھری دنیا میں دھکہے دے کر نکالا تھا ۔۔۔
ہمدان کی ماں کافی عرصے سے فالج کے اٹیک کی وجہ سے پیروں سے پیرالائز ہوچکی تھیں۔ ۔
وہ ویل چیر اس کے پاس گھسیٹتی ہوئی لائیں اور اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گویا ہوئیں ۔۔۔

بیٹا عزت اور احترام کا دامن اپنے ہاتھ سے  مت چھوڑو جو بھی بات ہے سکون سے کرو ۔۔
 آپ ابھی بھی مجھے عزت و احترام کی بات کہہ رہی ہیں ؟؟؟
دادی مجھ سے اتنا بتا دیں کہ چلیں آپ کی دشمنی چاچی سے تھی نہ۔ ۔
 لیکن ان کی اولاد تو آپ کے بیٹے کا ہی خون تھی نہ ؟؟
ذرا سا رحم نہیں آیا اس 7 سالہ معصوم بچی کو گھر سے نکالتے ہوئے ۔۔؟؟
کیا آپ کے خود کے جگر میں اس چیز کی اجازت دے دی ۔۔؟؟؟
وہ آپ کے بیٹے کی اکلوتی آخری نشانی تھی ۔۔
آپ کس طرح اسے اپنی خود غرض ہوگئیں؟ ؟؟
حیرت ہوتی ہے مجھے ۔۔
شاید اسی چیز کو ہی خون سفید ہونا کہتے ہیں ۔۔۔
وہ آج ہر قسم کا لحاظ بالائے طاق رکھ کر ان کو حقیقت کا آئینہ دکھا رہا تھا ۔۔
حمدان بس اب میں ایک بات بھی نہ سنوں تمہارے منہ سے ۔۔
اما ں نے تنبیہہ کی ۔
جب کہ بابا خاموش تھے ۔۔
وہ جانتے تھے کہ وقت کبھی نہ کبھی کسی کے بھی ذریعے انصاف کر لیتا ہے ۔۔
ہمدان کی ماں ایک سمجھدار خاتون تھی اپنی دیورانی سے بھی وہ بہت پیار محبت سے رہتی تھیں۔ ۔۔
 ان کو آج تک اس بات کا یقین نہ آیا تھا کہ قدسیہ اس گھر سے کسی کے ساتھ فرار ہوئی ہے ۔۔۔

tu kitni masoom hai episode 32 by aymen nauman

تو کتنی معصوم ہے ۔۔🌷
از ایمن نعمان ۔
قسط نمبر 32

Do not Copy Paste Without My Permission ۔...

عریج سب لوگوں کے جانے کے بعد آرزو کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جا رہی تھی ۔۔۔
روکو اریج ۔۔

وہ ذرا سی مڑی اور حیران سی سمیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔

لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
سمیر کی آواز پر وہ ٹھٹک سی گئی ۔۔
آرزو  کو اٹھانے کے لئے اس کے بڑھے ہاتھ و ہیں تھم گئے ۔۔
مگر یہ تو کل بھی میرے ساتھ ہی سوئی تھی ۔۔
آپ پریشان نہ ہوں میرے پاس بہت سکون سے آرام سے رہتی ہے ۔۔۔
اس کو لگا شاید وہ اس کی پریشانی کی وجہ سے کہہ رہا ہے ۔۔
یہ میری بیٹی ہے میں اس کو بہت اچھے سے خیال رکھتا ہو تو اس کی ماں نہیں ہوں جو ۔۔۔
وہ سفاکی سے گویا ہوا ۔۔
مگر چا ۔۔۔۔
وہ چاچو بولنے والی تھی مگر پھر اپنی زبان کو دانتوں تلے دباہ کر خاموش ہو گئی ۔۔۔

میں اپنی بیٹی کو تمہارا عادی نہیں بنانا چاہتا ہوں۔۔

 وہ پہلےہی اپنی ماں کے لمس کو ترسی ہوئی ہے۔۔
 میں اس کو ایک دفعہ پھر سے اس قرب سے نہیں گزار سکتا ۔۔
۔
سمیر کے خود کے لہجے میں کئ کرب پنہاں تھے ۔
۔
اریج کو لگا جیسے اس کو کسی نے بری طرح اسے دھتکار کے رکھ دیا ہو ۔۔
وہ کل سے آرزو کے ساتھ تھی اس کو ایک دفعہ بھی اس معصوم سے الجھن یہ بیزاری محسوس نہیں ہوئی تھی بلکہ سمیر سے نکاح کے بعد تو آرزو کے لئے اس کے جذبات بہت نئے اور انوکھے سے ہو گئے تھے ۔۔
اس کو وہ ننھی سی گلگوتھنی اپنے وجود کا ہی حصہ لگنے لگی تھی ۔۔
وہ کل سے آرزو کو خود میں سمیٹے اپنے تمام دکھ اور تکلیف بھول چکی تھی ۔۔
اس بات کو بالکل ہی فرا موش کر بیٹھی تھی کہ یہ نکاح محض مجبوری کا سودا ہے اس نکاح  کا موئی مقام یا کوئی منزل نہیں ہے ۔۔۔
اس رشتے کو ایک نہ ایک دن ختم ہو جانا ہے ۔۔۔

سمیر نے اس کو بہت گہری نیند سے گویا جھنجوڑ کر اٹھا دیا تھا اور ایک ہی لمحے میں اس کو اس کی اوقات بہت اچھے سے یاد کرا دی تھی ۔
۔
وہ تنہا سی سمیر کو اور آرزو کو لےجاتا دیکھتی رہ گئی ۔۔
اتنے دنوں سے رورو کر اب تو اس کے آنسو بھی خشک ہو چکے تھے ۔۔۔

💕

مجھے اریج کے ٹھکانے کا پتہ چل چکا ہے ۔۔
وہ دلآویز سے بولا ۔۔

پتہ چل گیا تو اٹھایا کیوں نہیں اس کو ابھی تک ؟؟
اس کے باپ کے پہنچنے سے پہلے اس تک پہنچ جائو۔ ۔
اگر وہ حیدر کو پہلے مل گئی تو سمجھ لو پھر کچھ بھی ہاتھ نہیں آسکے گا بلکہ ہم دونوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے چکی پیس رہے ہوں گے ۔۔

دلاویز کے لہجے میں لالچ اور خباثت بول رہی تھی ۔۔

کرے تو کیوں پریشان ہو رہی ہے میں ہوں نہ ؟؟؟
جب اس چڑیاں کا پتہ کرلیا ہے تو بہت جلد وہ تیرے قدموں میں ہو گی ۔۔۔
حیدر کی غیرت اسو منہوس کے بھاگنے کے بعد  سے جاگ چکی ہے میرے لاکھ ورغلانے کے باوجود بھی وہ اپنی بیٹی کے غم میں گھلا جا رہا ہے ۔۔

چاروں طرف اس نے اپنے جان پہچان اثر و رسوخ رکھنے والے پولیس آفیسرز اریج کی کھوج میں لگا دیے ہیں ۔۔

ارے میری جان من تو کیوں پروا کرتی ہے تیرا یہ عاشق ابھی زندہ ہے وہ دلعویز کو خود پر گراتے ہوئے بولا ۔۔
چپ کر جا آہستہ بول یہاں پر کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ تو میرا یار ہے بھائی نہیں تو تیرے ساتھ ساتھ میری بھی خیر نہیں ۔۔
تو میری جان کی ٹوٹی توکیو ں دیر کر رہی ہے جلدازجلد مال سمیٹ اور نکل ۔۔۔؟؟

میں تو خود بھی یہی چاہتی ہوں مگر بڈھے نے سوائے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے علاوہ کچھ بھی ابھی تک میرے نام ہی نہیں کیا ۔۔

وہ زوار کے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے خباست سے بولی۔۔
اچھا چل سب کچھ مجھ پر چھوڑ دے آج بڑے ہی دن بعد موقع ملا ہے ۔۔
تو بڑی مشکل سے میرے ہتھے چڑھی ہے   ۔۔

وہ دونوں گندگی کے ڈھیر شیطانی کھیل میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔
اور یہ بھول بیٹھے تھے کہ ہمیں اپنے اعمال کا حساب اس دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور دینا ہے ۔۔۔

🍁

حمدان ساری رات غصے کی بھٹی میں جھلستا رہا ۔
۔
میری بیوی کو میں اپنے ساتھ ہی نہیں رکھ سکتا ۔۔
لعنت ہے مجھ جیسے شوہر پہ۔ ۔
زہریلی سوچیں اس کو سکون لینے نہیں دے رہی تھی وہ سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہا تھا ۔۔

اتنی بڑی خبر کے میری اولاد اس دنیا میں آنے والی ہے اور میں کیسا بدنصیب باپ ہوں کہ ۔۔
اپنے باپ بننے کی خوشی بھی نہیں منا سکا ۔۔۔
اس نے اپنی مٹھی کام کا بناکر سامنے رکھیں کہ پل پر دے مارا ۔۔
خاموشی سے اس کا دل و دماغ بھی قابو ہو رہا تھا ۔۔۔
ہمدان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ پوری دنیا کو تباہ کردے۔ ۔
 آگ لگا دے سب کچھ تہس نہس کرکے ختم کردیے۔ ۔

سب سے زیادہ افسوس اور خار اس کو اس بات پر چڑھی ہوئی تھی کہ خالہ نے ابارشن کی بات کیسے کی ؟؟۔
وہ ہوتی کون ہیں اس کے بچے کے بارے میں اس طرح کا سوچنے والی ۔۔؟؟؟
کتنی آسانی سے انھوں نے میری اولاد کو ختم کرنے کی بات کردی ۔۔۔
15 دن کا وقت دیا ہے نہ مجھے ۔۔
میں ایک ہفتے میں اپنی بیوی کو پورے استحقاق سے لے کر آؤں گا وہ بھی پورے زمانے کی موجودگی میں ۔۔۔
اس نے پاس پڑے گلدان کو اٹھا کر سامنے رکھی ڈریسنگ ٹیبل پر دے مارا ۔۔۔۔
کانچ کے ٹکڑے کرچی کرچی ہوکر بکھر کر رہ گئے ہمدان کی وجود کی طرح ۔۔۔

💕

حجاب اسرا کیلئے دودھ گرم کر رہی تھی دواؤں کے ساتھ دینے کے لیے اس کے دل میں اسراء کا مقام سب سے اونچائی پر پہنچ چکا تھا ۔۔

احساسات بدلنے پر جذبات بھی بدل گئے تھے ۔۔

 اسراء کی شکل میں اپنی ایک بڑی بہن نظر آنے لگی تھی ۔۔

وہ اپنے کیے کی تلافی کرنا چاہتی تھی ۔۔
اس لئے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ اسرہ کا زیادہ سے زیادہ ہر طریقے سے خیال رکھنے کی ممکن کوشش کرے گی ۔۔۔

وہ کچن میں اپنے لئے کافی بنانے کے لئے آیا تھا۔۔۔۔

 حجاب کو اس وقت خلاف توقع کے کچن میں دیکھ کر حیران ضرور ہوا پھر خاموشی سے اپنے لیے کافی بنانے کے لئے بڑھ گیا ۔۔

حجاب اس کو مگ میں خود سے کافی بیٹ کرتے دیکھ کر کہنے لگی۔۔

 لائیں میں بنا دیتی ہوں ۔۔

بشر ا سکو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو کہ۔۔
 تم صرف شک کرنا جانتی ہو اس کے علاوہ تمہیں آتا ہی کیا ہے؟؟؟ ۔۔

حجاب اپنا کافی کے لئے بڑھایا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیتی ہے۔۔
 اس کے دل میں چھن سے بہت کچھ ٹوٹا تھا ۔۔۔۔

💕

حجاب کمرے میں آتی ہے بشر کی اوپر ایک نظر ڈالکر ڈریسنگ روم میں چلی جاتی ہے ۔۔

بشر آنکھوں پہ بازو رکھے شاید سو رہا تھا ۔۔۔
ڈریسنگ روم میں جا کر وہ کچھ لمحے سوچتی ہے ۔۔
‏اف اللہ جی بشر تو  بہت ہی زیادہ ناراض ہو گئے ۔۔۔

اس کے دماغ میں اسراء کا دیا ہوا ایڈیا چل رہا ہوتاہے۔۔۔
وہ جب اس راگ کو دودھ کے ساتھ دوائی دینے گئی تھی تو اس وقت اسراءاس کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر سمجھ گئی  ۔۔۔
اور اس کے پوچھنے پر حجاب سنی معصومیت سے سب کچھ کہہ سنایا ۔۔

یار تو اس کو مناونا تم اس کے لئے تیار ہو اس کو یقین دلاؤ اپنی محبت کا ۔۔
وہ وارڈروب میں سے اپنی نائٹی ۔۔۔

اور اب حجاب اس کو اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔۔

❤
جاری ہے

tu kitni masoom hai episode 31 by aymen nauman

Tu kitni masoom he..🌷
By Aymen Nauman
Epi 31

Do not Copy Paste Without My Permission ۔..

حمدان نے فرش پر گری ہوئی اپنی متاۓ جان کو بازوں کی مضبوط گرفت میں بھر کر کسی کی بھی پروا کیے بغیر ۔۔
سیدھا لاؤنج میں اٹھا کر لایااور صوفے پر لٹا کر اس کو ہوش میں لانے کی انتھک کوشش کرنے لگا۔
۔۔
اسرا اٹھو آنکھیں کھولو کیا ہوا ہے ۔۔؟؟؟

وہ اس کے گال کو بار بار سہلا رہا تھا ۔۔
جب کہ سمیر میں فوری ڈاکٹر کو کال کرکے بلوا لیا تھا۔۔
 ماما بوکھلائیں تو تھی مگر ان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہمدان اس طرح سے آسرا کو لے کر بیہیو کیوں کر رہا ہے  ۔۔؟!؟

پانی لائیں پلیز ۔۔

وہ دو زانو بیٹھ کر اسرا کے ہاتھ پاوں سہلاتے ہوئے سامنے پریشان سی کھڑی اریج سے گویا ہوا ۔۔۔

جب کہ بابا نے بہت عجیب سی نظروں سے ہمدان کو دیکھا ۔۔
ان کی نظروں میں کئی سوال تھے جو باقاعدہ طور پر ماما کو نظر آ رہے تھے ۔۔۔

وہ ان سے نظریں چرا گئیں۔ ۔
وہ خود پریشان تھیں حمدان کے اس عجیب و غریب سے رویے پر ۔۔

سمیر ڈاکٹر کو لے کر ہال کمرے میں سیدھا آیا ۔۔۔

اسراء کو ہمدان کی کوششوں سے اب ہلکا ہلکا ہو ش آچکا تھا ۔۔
ڈاکٹر جمیل نے اس کو دیکھنے کے بعد پرسکرپشن لکھ کے پرچہ سمیر کی طرف بڑھایا ۔۔

تھینکیو میں دیکھ لیتا ہوں ۔۔
جو سمیر کے لینے سے پہلے ہی ہمدان نے اچک لیا اور ڈاکٹر سے بولا ۔۔

صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی تھی ۔ ۔

ڈاکٹر صاحب سب خیریت ہے نا یہ اس طرح کیوں بیہوش ہوئی ہے اچانک سے ؟؟؟

ماما کے لہجے میں بہت سارے اندیشے بول رہے تھے جو بابا سمیت بشر نے بھی محسوس کر لیے ۔۔۔

جی جی سب خیریت ہے اس کنڈیشن میں یہ سب ہونا معمولی سی باتیں ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔۔
ڈاکٹر کی بات پر سوائے ہمدان کے  باقی سب کے  پائوں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔۔۔
ماما اور باباحق دک کھڑے تھے ۔۔
ماما اچانک ملنے والی اس جان لیوا خبر  کو سن کے ساتھ پڑھی کرسی پر ڈھ سی گئیں۔ ۔۔

جب کہ بابا غصے سے مٹھیاں بھیجتے ہوئے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئے ۔۔
ڈاکٹر صاحب کس کنڈیشن میں ؟؟؟

ماما کو اپنی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی محسوس ہوءی  ۔۔
ان کا دل اندر سے ڈوب سا رہا تھا انہوں نے ایک پرشکوہ نظر روتی ہوئی آسرا پر ڈالیں ۔۔۔
کاش وہ جو سمجھ رہی ہیں وہ صرف ان کی خام خیالی ہو وہ ان کا وہم ٹھہرے ۔۔۔

وہ اس امید کو لے کر ایک دفعہ پھر ڈاکٹر سے سوال کر گئی تھیں ۔۔۔
او شاید آپ کو علم نہیں ہے شی از" ایکسپیکٹنگ"۔

میں کچھ ٹیسٹ لکھ کر دے رہا ہوں یہ کروا لیے گا اور ان کی خوراک کا خاص خیال رکھیں ان کو بالکل بھی ویکنس نہ ہونے پائے اور ہاں ان کو کسی بھی قسم کا اسٹریس اور ڈپریشن سے دور رکھے گا ۔۔
یہ پریگنینسی کے حساب سے کافی میں ہیں ۔۔۔

اسراء ڈاکٹر کی بات سن کر پتھرا سی گئی اس کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

سمیر اس سب صورتحال کی باریکی کو محسوس کرکے خاموشی سے ڈاکٹر کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
اور پھر تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر کو چھوڑ کر واپس آیا اور اریج سے کہا ۔۔
اریج آرزو بہت رو رہی ہے شاید وہ پریشان ہو رہی ہے کہیں درد تو نہیں ہے ذرا دیکھ لینا پلیز۔ ۔۔
سمیر نے جان کر اس کو بھی منظر سے ہٹ آیا ۔۔۔

وہ خود بھی وہاں سے جانا چاہ رہی تھی وہ اپنے آپ کو اس وقت اس صورتحال پر ا ن فٹ محسوس کر رہی تھی مگر سمجھ نہیں پارہی  تھی کہ کس طرح اس وقت وہ ادھر سے جائے ۔۔۔
سمیر نے گویا اس کی مشکل آسان کردی تھی ۔۔۔
اب کمرے میں پانچ نفوس موجود تھے کمرے میں ماتم کا سا سماں بن چکا تھا ۔۔

ماما صوفے پر اپنا سرتھام کر بیٹھی تھیں ان کے پاس بولنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔۔
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا حجاب کو لگا جیسے وہ کسی ٹرانس میں سے نکلی ہو ۔
حمدان اسراء کی صفائی دینے کے لئے لب کھول ہی رہا تھا جب حجاب نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر بشر کا گریبان پکڑ کر ہزیانی انداز میں چیختے ہوئے بولی ۔۔
بشر حیران پریشان سا صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے حجاب کو ایسا کیا ہوا جو وہ اس طرح سے اس کا گریبان پکڑے چیخ چلا رہی تھی ۔۔۔
ہمدان اور ماما کا بھی یہی حال تھا ۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا کیوں دیا تم نے مجھے دھوکا بتائو کیا کمی رہ گئی تھی میری محبت میں ۔۔۔

حجاب اپنے حواسوں میں نہیں تھی جو اس کے منہ میں آ رہا تھا وہ بس بول رہی تھی ۔۔۔
وہ چیخ رہی تھی زاروقطار رو رہی تھی ۔۔
حجاب بس کرو کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔
بشر ہمدان اور اسراء کے سامنے شرمندہ سا ہو کر حجاب کو جھنجوڑ تے ہوئے بولا ۔۔۔
اسرا خاموش تماشائی بنے اپنی موت کی دعائیں کر رہی تھی ۔۔
تم نےمجھے کہیں کا نہیں چھوڑا میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ تم میرے لئے مزید مشکلات کھڑی کر دو گے مگر تم نہیں مانے اور آج دیکھ لو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں۔۔۔
 تم نے میرے چند ہی بچے کچھے رشتوں کے   سامنے  مجھے ان کی کیا اپنی ہی نظروں سے گرادیا ۔۔۔
وہ اپنے دل و دماغ سے جنگ لڑ تی سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔
اس کا وجود زلزلوں کی زد میں تھا وہ ہولے ہولے کانپ رہی تھی ۔۔
حجاب اور چیختے ہوئے بولی کہ۔ ۔
 بتاؤ کیا تعلق ہے تمہارا اور اس کا؟!؟؟
 جو ڈاکٹر ابھی انکشاف کرکے گیا ہے تم جانتے تھے نا !؟؟؟
تم نے اس کے ساتھ ناجائز ۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ اور بھی بولتی  اور بشر کا ھاتھ اٹھتا دیکھتے ہوئے ۔۔
ہمدان کی نےآواز حجاب کے الفاظوں کو واپس حلق میں جانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔
بس میں اب کوئی بھی فضول بات نہیں سنوں گا ۔۔۔
وہ سسکتی ہوئی اس راہ کے پاس بیٹھ کر اس کا یا بستہ ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتے ہوئے بولا ۔۔
ما مانڈھال سی ھوکر  حجاب کو تو کبھی ہمدان کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
ان کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہونے لگا ۔۔

بشر نے ایک جھٹکے سے حجاب کو خود سے دور کرتے ہوئے ایک نفرت بھری نظر اس پر ڈالی اور کہنے لگا ۔۔
ہمدان میں ڈیل کرتا ہوں نا تم پریشان مت ہو ۔۔
نہیں بشر تو کچھ نہیں جانتا بس اب وقت آ گیا ہے ۔۔
اسرانے کبوتر کی طرح سختی سے آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔
اف اتنی رسوائی اس دن کو دیکھنے سے پہلے میرے رب تو نے مجھے اپنے پاس کیوں نہ بلا لیا میری سانسیں کیوں چل رہی ہیں ابھی تک ۔۔۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ خود کو ختم کردے یا کہیں غائب ہو جائے جہاں کوئی بھی اس تک پہنچ نہ سکے ۔۔۔
میں سب کچھ جانتا ہوں ۔۔۔
مجھے بی اماں نے اپنے جانے سے ایک دن پہلے سب کچھ بتا دیا تھا جب میں تجھ سے ملنے آیا تھا ۔۔
بشر نے ہمدان اور آسرا کے سر پر دھماکہ کیا ۔۔
کیا جانتے ہو تم بشر ۔۔؟!
ماما اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں۔ ۔
دیکھو جو بھی ہے مجھے سچ بتا دو میرے اندر اب مزید برداشت نہیں ہے میرا دل ڈوب جائے گا میرے ساتھ مزید یہ آنکھ مچولی مت کھیلو ۔۔۔

حجاب بس خاموش تھی اس کو بس اپنا شوہر سرخرو چاہیے تو اس کی نظروں میں بھی کئی سوال تھے ۔۔
میں بتاتا ہوں آنٹی ۔۔
حمدان اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور ان سے تھوڑا فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہنے لگا کہ ۔
دانی رک جامیں۔ ۔۔۔
بشر نے اس کو روکنے کے لئے لب کھولے ہی تھے جب ۔۔۔
ہمدان نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔

"اسرا میری بیوی ہے "۔۔۔
حجاب اور ماما ہمدان کی اس بات کو سن کر ہکا بکا سی رہ گئیں۔ ۔۔
 ماما سکتے کی حالت میں تھیں اس انکشاف پر ۔ ۔
جب کہ حجاب کو لگا جیسے حمدان نے کہا کچھ اور ہے اور اس کو سنائی کچھ اور دیا گیا ہے ۔۔
یہ کیسے ممکن ہے ؟؟؟
ماما خود کو سکتے کی کیفیت سے بہت مشکل سے نکال کر گویا ہوئیں ۔۔
اسرا ابھی تک اپنی آنکھیں بند کئے رو رہی تھی آنسو تواتر سے اس کی آنکھوں سے بہ رہےتھے۔۔

یہ حقیقت ہے کہ یہ میری بیوی ہے ۔۔
اور ساتھ ہی میری سگی چچازاد بھی ۔۔
وہ دھماکوں پہ دھماکے کر رہا تھا ۔۔
ہمارا نکاح آج سے بہت سال پہلے ہوگیا تھا ۔۔
حجاب ہمدان کی بات سن کر اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی ۔۔۔
جبکہ ماما کو اپنے دل میں تھوڑا سکون سا محسوس ہوا کہ ان کی بھانجی نے کچھ غلط نہیں کیا ان کی بہن کی تربیت میں کوئی کمی ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
 ان دونوں نے ایک جائز رشتے کے تحت تعلق قائم کیا ہے مگر کچھ باتیں وہ ہمد ان سے پھر بھی کرنا چاہتی تھیں۔ ۔۔

میں اسراہ کو لے کر جا رہا ہوں ۔۔
میرانہیں خیال ہے کہ اب کسی کو اعتراض ہو گا اس کو لے جانے پر میرے یہاں سے ۔۔۔

وہ آسرا کے اوپر ایک جتاتی ہوئی نظر ڈال کر گویا ہوا ۔۔
حجاب بھابھی بشر صرف آپ کا ہی ہے اور آپکا ہی رہے گا وہ حجاب کے سر پر ہاتھ رکھ کے بولا ۔۔
مگر آپ اپنے شریک سفر پہ اعتبار کریں کیونکہ یہ رشتہ محبت کے علاوہ اعتماد اور اعتبار کا بھی ہے ۔۔

حجاب کو خود سے اس وقت قراہیت سی محسوس ہو رہی تھی کہ وہ کیسےایک پاکدامن لڑکی کے دامن پر  کیچڑ اچھال گئ؟؟؟
 اور کیوں کر اس نے اپنے اتنے پیارے محبوب شوہر کو شک کی نظروں سے دیکھا ۔۔
چلو اسراء تمہارے کہنے پر میں نے تمہیں تمام معاملات ٹھیک کرنے کا وقت فراہم کیا تھا اب جب کہ تمام تر حالات درست ہو چکے ہیں اب تمہیں میں تمہارے شوہر کی حیثیت سے لے جا سکتا ہوں۔۔۔

حمدان کے لہجے میں کسی قسم کی لچک نہیں تھی ۔۔۔
آج وہ آ ریا پار کرنے پر تلا ہوا تھا ۔۔
غصے اور ذلت سے اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی دماغ کی رگیں تن سی گئی تھی ۔۔۔
وہ آسرا کو اٹھا کر سہارا دیتے ہوئے گویا ہوا ۔۔

جب ایک دم حجاب کو ہوش آیا اور وہ آسرا کے پاس جا کر اس کے سینے سے جا لگی ۔۔۔
اسراءپلیز مجھے معاف کر دو مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے میں نے تمہارے پاک دامن پر ۔۔۔
وہ بلاگ لکھ کر اس کے سینے سے لگی رو رہی تھی ااسرا بھی اس کے اسطرح بکھرنے پر ششدر سی رہ گئی۔۔
اسراء میں معافی کے قابل تو نہیں ہوں مگر پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔
حمدان بشر کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
بشر لاتعلق سا ہوا وا تھا حجاب سے ۔۔
بشر حجاب بھابھی کا دل بالکل کورے کاغذ کی طرح ہے صاف شفاف۔۔
 ان کو جیسے ہی اپنی غلطی کا احساس ہوا انہوں نے کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر سب کے سامنے معافی مانگی۔ ۔
جس طرح سب کے سامنے تم سے سوال کیا تھا اسی طرح سب کے سامنے ہی معافی کی بھی طلب گار ہیں ۔۔
وہ ان گنے چنے لوگوں میں سے ہیں جو غلطی کرکے اس سے سبق لے کر اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔۔
معافی مانگنا اور اپنا گناہ تسلیم کرنا بہت دل گردے کا کام ہوتا ہے ورنہ وہ چاہتیں تو اکیلے کمرے میں بھی اسراء سے معافی مانگ لیتی۔۔
 یا نہیں بھی مانگتی اور یہ کہہ دیتی کہ جس طرح کےحالات تھے تو وہ یہی اخذ کرسکیں ۔۔۔
اور یہ ان کا ری ایکشن اس بات کا گواہ ہے کہ وہ تمہیں ٹوٹ کے چاہتی ہیں ۔
میں جانتا ہوں ۔۔۔

بشر اس کی پوری بات سن کر بس اتنا ہی کہہ سکا اور اسراہ کے پاس گلے شکوے دور کرتی حجاب کو الگ کرتے ہوئے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے اسراء سے کہنے لگا کہ ۔۔۔

کیا تم میری چھوٹی سی معصوم سی بیوی کو معاف کر سکتی ہو یہ لڑکی عقل سے پیدل ہے بالکل ہی ۔۔۔
مگر یار جیسی بھی ہے اب تو تمہاری بھابھی ہے نا ؟؟؟

وہ ماحول میں تاری غمگین فضا کو تھوڑا ہلکا پھلکا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا ۔۔

جب کہ حجاب حیران تھی بشر کے رویے پر اس کو تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا وہ تو یہ سمجھ رہی تھی کہ بشر اب اسکو بخشے گا نہیں ۔۔

مگر حجاب کو آج صحیح معنوں میں پتہ چلا تھا کہ ایک بہترین مرد وہی ہے جو عورت کی عزت کرے  نہ کے اس پہ ہاتھ اٹھائے یا پھر بھری محفل میں اس کی بےعزتی کرے۔۔۔
ایک عظیم مرد وہی ہے جو وقت پڑنے پر جب عورت کو اس کی ضرورت ہو اور عورت حق پے ہو ۔۔
تب وہ اس کی ڈھال بن کے کھڑا ہوجائے ایسے کہ کوئی اس کی طرف نظر تو کیا بڑ بھی نہ سکے ۔۔۔۔

بلکہ اس کا غصہ اور ناراضگی اب ساری زندگی اس کے حصے میں آ ئے گی ۔۔۔
میں بشر تمہارے کہنے کے باوجود بھی اس کو معاف نہیں کروں گی اور تمہیں بھی ۔۔
تم نے اتنی بڑی بات جانتے پوچھتے بھی مجھ سے چھپائی ۔۔
وہ خفا خفا سی بشر سے گویا ہوئی ۔۔
ماما بہت خاموشی سے سب کو سن رہی تھی ان کا ذہن کچھ اور ہی لائحہ عمل تیار کرچکا تھا ۔۔

مگر آسرا ۔۔۔
حمدان نے کہا ۔۔

بشرا سرا کا جواب سن کر مایوسی سے خاموش ہو گیا جبکہ حجاب مزید زار و قطار رو پڑیں ۔۔

ٹھیک ہے میں تم دونوں کو معاف کرتی ہوں مگر میری ایک شرط ہے ۔۔
وہ بشر اور حجاب کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی اس کے پاس اب یہی تو کچھ رشتے باقی رہ گئے تھے اور وہ ان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
مخلص لوگ بہت کم ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے ۔۔۔
کیا پلیز تم جو کہو گی میں کروں گی لیکن تم ایک دفعہ بس مجھے معاف کردو اور اپنا دل میری طرف سے صاف کرو پلیز صرف ایک دفع ۔۔۔
ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا لیکن ۔۔۔
پوری طرح معافی اسی وقت ملے گی جب تم دونوں مجھے پھپو کے رتبے پر فائز کر دو گے ۔۔
اسراء کی بات پر بشر اور ہمدان نے بے ساختہ کہہ کا لگایا جبکہ حجاب حیاءسے لال ٹماٹر ہوکر بشر کے پیچھے جاچھپی ۔۔۔
چلیں اسراہ۔۔
 وہ اسراہ کے قریب آ کر بولا ۔۔
خالہ ۔۔۔
وہ دو زانو ں سختی سے مٹھیاں بھیچیں خالہ  کے پاس بیٹھ گئی ۔۔
آپ کو سب کچھ سچ بتانے ہی والی تھی مگر ۔۔
مگر کیا کیوں چھپایا سب تم نے ۔۔؟؟؟
ان کا لہجہ ہر قسم کے جذبات سے عاری تھا ۔۔
چہرے پر غم و غصے کے واضع تاثرات  تھے ۔۔

اسراء ان کو چند ہی منٹوں میں شروع سے لے کر آخر تک کی تمام روداد سنا گئی ۔۔
انہوں نے بڑے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر جب وہ بولی تو سب کو سانپ سونگھ گیا ۔۔
میں تمہیں اس کو لیجانے نہیں دو نگی جو کچھ بھی میری بہن کے ساتھ ہوا اسکے بعد میں اپنی بہن کی آخری نشانی کو جان بوجھ کر اندھی کھائی میں ہرگز بھی تھکی ل نہیں سکتی ۔۔
مگر خالہ ۔۔
تم خاموش رہو ۔۔
جو تم لوگوں نے کرنا تھا وہ تم لوگ کر چکے ۔۔
مزید کوئی حماقت میں تمہیں اب نہیں کرنے دوں گی آسرا ۔۔
حمدان ٹھیک ہے یہ تمہاری بیوی ہے اپنے سب بڑوں کو دادی سمیت لے کر آؤ اور نکاح نامہ یا پھر گواہ ساتھ لاؤ اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتے تو میں پھر دوبارہ سے تم دونوں کا نکاح کروائونگی ۔۔
وہ بھی اس صورت میں جب تمہاری دادی اس نے کام شریک ہوگی  ۔۔
اپنے گھر والوں کو لاؤ طریقے سے ساری دنیا کے سامنے اس کو رخصت کروا کے لے کر جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔
وہ سختی سے گویا ہوئیں ۔۔
اور ان سب کے لئے تمہارے ساتھ صرف پندرہ دن کا ٹائم ہے اور اگر ان پندرہ دنوں میں تم یہ سب نہیں کرسکے تو پھر تم اس طرح کے ساتھ اپنے اس بچے کو بھی بھول جانا میں اس کا عبورٹ کروا دوں۔۔۔
 گی ۔۔۔
ان کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
مگرماما یہ کیسے ممکن ہے ۔۔
بشر نے مداخلت کی ۔۔
وہ اس کی بیوی ہے ہم نہیں روک سکتے اس کو ۔۔
تمہارے پاس ثبوت ہے کہ یہ حملہ ان کی بیوی ہے لاؤ مجھے دکھاؤ میں ابھی اور اسی وقت اس کو عزت سے رخصت کردیتی ہوں اور اپنی بہن کے آگے سرخرو ہو جاتی ہوں ۔۔
جب کہ عصر اور ہمدان بے بسی سے خالہ کو دیکھ رہے تھے ہمدان کی آنکھیں اسے کی زیادتی سے صرف ہو رہی تھی اس کو اسراء کی اوپر شدید غصہ آ رہا تھا یہ تمام تر حالات صرف اس کی بیوقوفیوں سے ہی پیدا ہوئے تھے ۔۔
جن کا سامنا آج ان دونوں کو ہی کرنا پڑا تھا ۔۔
وہ سمجھ رہا تھا کہ خالہ کی بات اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے ۔۔
بغیر کسی ثبوت کے اسراف و نہیں لے جاسکتا ۔۔
وہ خاموشی سے ہال کمرے کا دروازہ عبور کرکے جانے والا تھا جب ماما کی  نے مزید کہا ۔۔۔
اور یاد رکھنا جب تک تمہاری دادی خوشی سے اس راگ کو رخصت کرانے نہیں آۓ گی میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گی ۔۔۔۔
ان کے رویے میں چٹانوں کی سی سختی اور چکی تھی ۔۔۔