Showing posts with label itni mohabbat kro na season 2. Show all posts
Showing posts with label itni mohabbat kro na season 2. Show all posts

Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 62 final episode

Itni mohhbat karo na
by zeenia sharjeel
❤last epi❤




"تم یہاں کیوں آئے ہوئے"
اویس شیرازی نے ساحر سے پوچھا جو کہ جیل میں ملاقات کرنے آیا تھا

"آف کورس ڈیڈی آپ سے ملنے آیا ہوں کیسے ہیں آپ، کیا حال کر لیا ہے آپ نے ایک ہفتے میں اپنا"
ساحر نے باپ حالت پر ترس کھاتے ہوئے بولا

"یہ حالت میں نے نہیں بلکہ اس اے۔ایس۔پی نے میری بنائی ہے، موقع سے فائدہ اٹھا کر بدلہ تو میں نے لیا تھا اس سے، مرا نہیں ہوگا مگر تڑپ ضرور رہا ہوگا اسپتال میں میری گولی کھا کر"
اویس شیرازی نے حقارت سے ذکر کرتے ہوئے ساحر کو بتایا

"کچھ نہیں ہوا اسے ڈیڈ قسمت اچھی ہے اس سالے کی گولی بھی چھو کر نکل گئی لیکن اب میں ایسا سبق سکھاو گا جو ساری زندگی یاد رکھے گا اور تڑپے گا"
ساحر نے بدلے کی آگ میں جل کر کہا

"تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ساحر، کم ازکم جب تک میں باہر نہ آ جاؤ، وکیل نے ابھی تک کانٹیکٹ کیوں نہیں کیا مجھ سے بیل کے کاغذات تیار کرو آؤ اس سے"
اویس شیرازی نے ساحر کو کہا

"کینسل ہوگئی بیل آپ کی، اس سالے نے بڑی بری طرح گھیرا ہے جتنے بھی ایویڈنس ملے ہیں سب آپ کے خلاف ہیں اور کافی اس اسٹرونگ ہیں۔۔۔۔ آپ کے دوست بھی پیچھے ہٹ گئے کوئی مدد کو تیار نہیں، سب برباد کر دیا اس نے اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاو"
ساحر نے غصے میں کہا

"ساحر تم جوش سے نہیں ہوش سے کام لو تمہارا کوئی بھی غلط قدم مجھے تو کیا تمہیں بھی مشکل میں ڈال سکتا ہے میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ کر لوں گا تم اس وقت ملک سے باہر نکلنے کی کرو جلد از جلد"
اویس شیرازی نے اپنے جذباتی بیٹے کو مشورہ دیا وہ اپنے بیٹے کی جذباتی نیچر کو خوب سمجھتا تھا

ضبط کر لیا گیا ہے میرے پاسپورٹ جب تک آپ کے خلاف کیس چل رہا ہے ملک چھوڑ کر میں بھی نہیں جاسکتا بتایا تو ہے بہت بڑا جال بچھایا ہے اس اے۔ایس۔پی نے" ساحر بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا

"ساحر رکو میری بات سنو ابھی کچھ غلط مت کرنا"
اویس شیرازی نے پیچھے سے آواز دے کر کہا مگر جب تک ساحر جا چکا تھا

**

"مما بابا میں آپ دونوں کو بہت مس کروں گی" حیا نے زین اور حور سے ملتے ہوئے بولا

"معاویہ ہے نہ بیٹا تمہارے پاس وہ تمہارا خیال رکھے گا اور تم اس کا خیال رکھنا"
زین نے حیا کو پیار کرتے ہوئے کہا

زین حور بلال فضا خضر اور نعیمہ گروپ کی صورت میں حج کی ادائیگی کے لیے جا رہے تھے۔۔۔ معاویہ حیا ہادی اور صنم ان کو چھوڑنے ایئرپورٹ پر آئے ہوئے تھے

"بس صنم کافی دن تم ہمارے پاس رہ لی بیٹا، اب تمہیں ہادی کے ساتھ جانا چاہیے وہ اکیلا کیسے مینیج کرے گا"
 ناعیمہ نے صنم کو پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا

"جی مام"
 صنم نے ایک نظر ہادی پر ڈالی جو اسی کو دیکھ رہا تھا پھر نظر جھکا کر ناعیمہ کو جواب دیا

"مام ڈیڈ آپ دونوں اپنا خیال رکھیے گا، یہاں کی بالکل فکر نہیں کرئیے گا میں آفس دیکھ لوں گا ڈیڈ۔۔۔ آپ آفس کی طرف سے بالکل ٹینشن فری ہو جائے اور گھر اور آپ کی بہو کو بھی اچھے سے سنبھال لوں گا آپ فکر نہیں کریں" معاویہ کی بات پر جہاں افسردہ شکل لیے ہوئے حیا نے اس کو گھور کر دیکھا وہی خضر ناعیمہ کے ساتھ زین اور حور بھی مسکرا دئیے

"صنم بیٹا میں صرف اتنا کہوں گی تم اپنا دل صاف کر لو ہادی کی طرف سے، اس طرح زندگی نہیں گزاری جاتی رشتے مزید کمزور ہو جاتے ہیں اس طرح دوریوں سے،، ہادی کو اپنی بات کرنے کا موقع دو وہ تمہارے لئے واقعی بہت پریشان ہے پلیز اب گھر چلے جانا اس کے ساتھ"
فضا نے آہستہ آواز میں صنم کو اپنی طرف سے سمجھایا

"جی آنٹی آپ بے فکر ہو کر حج کی ادائیگی اور اپنا فریضہ انجام دیں میں ایک اچھی بیوی بن کر اپنا فرض پورا کروں گی"
صنم نے آہستہ آواز میں فضا سے بولا

"مما بابا آپ دونوں ایک دوسرے کا بہت خیال رکھیئے گا"
ہادی نے بلال اور فضا سے بولا

"اور تم اپنا اور ہماری بہو کا خیال رکھنا"
بلال نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

اناؤنسمنٹ ہوئی تو سب الوداعی کلمات ادا کر کے آگے بڑھے

"کیا ہوگیا بےبی میں ہونا تمہارے پاس اس طرح اداس ہو گئی تو پھر میرا کیا ہوگا"
معاویہ نے حیا کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آواز میں  کہا جو کہ زین اور حور کو دور جاتا دیکھ کر رونے والی ہوگئی تھی

"پھر کیا پروگرام ہے چلنا ہے گھر یا ابھی بھی میکے روکنے کا موڈ ہے"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا

"ایک دو دن میں بھائی کے ساتھ آ جاؤں گی"
صنم نے سر جھکاتے ہوئے کہا

معاویہ اور حیا بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے

"صنم آئی تھینک تمہیں اب ہادی کے ساتھ اپنے گھر جانا چاہیے، ہادی اکیلا ہے اسے اور اس کے گھر کو تمہاری ضرورت ہے"
معاویہ نے صنم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"او تو اب آپ کے گھر سے میرا تعلق نہیں ہے جو مجھے اپنے گھر سے نکل جانے کے لیے کہہ رہے ہیں"
صنم نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے معاویہ کو دیکھ کر کہا

"صنم معاویہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا"
حیا نے بولنا چاہا

"آپ بیچ میں مت بولئے میں آپ سے نہیں اپنے بھائی سے بات کر رہی ہوں" صنم نے بدتمیزی سے حیا کو بولا جس پر حیا کا چہرہ ایک دم اتر گیا۔۔۔۔ معاویہ نے پہلے صنم کو حیرت سے دیکھا پھر اس کے ماتھے پر ایک شکن ابھری

"صنم یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو"
ہادی جو اتنی دیر سے خاموش تھا ایک دم صنم سے بولا

"او آپ کو تو برا لگے گا ہی"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا ہادی اس کی بات کا مفہوم سمجھ ضبط کر کے رہ گیا

"دیکھو صنم تمہیں اچھا لگے یا برا مگر حقیقت یہی ہے لڑکی کا اصل گھر اسکا میکہ نہیں سسرال ہوتا ہے اس کے شوہر کا گھر۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تم دونوں کے بیچ کونسی ایسی بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے تم ہادی سے ناراض ہوکر یہاں پر آگئی ہو مگر وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے۔۔۔ تمہیں اس کی بات سننی چاہیے بہتر یہی ہے میاں بیوی کے بیچ کا معاملہ وہ دونوں آپس میں solve کریں۔۔۔ صنم تم میکے سو دفعہ آو مگر اس طرح ہادی سے ناراض ہو کر نہیں،، تم ابھی اور اسی وقت ہادی کے ساتھ جارہی ہوں اپنے گھر۔۔۔ اور ایک بات اور حیا کا کسی بھی معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ سب کے ساتھ فیئر ہے،، آئندہ اس سے اس لہجے میں بات نہیں کرنا ورنہ مجھے بہت برا لگے گا"
معاویہ کے بات کرنے پر صنم آنکھوں میں شکوہ اور نمی لیے ہوئے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔ ہادی اس کے پیچھے جانے لگا جب معاویہ نے اسے پکارا

"رکو ہادی"
معاویہ کے پکارنے پر ہادی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور چلتا ہوا معاویہ کے پاس آیا

"اگر تم دونوں کے رشتے میں میری یا حیا کی وجہ سے دراڑ آرہی ہے۔۔۔ تو تم صنم کو ساری حقیقت بتا کر اس کی غلط فہمی دور کر دو"
معاویہ نے اترے ہوئے چہرے کے ساتھ ہادی سے کہا

"اچھا اگر اسے حقیقت پتہ چل جائے گی تو پھر کیا ہوگا۔۔۔ اپنے بھائی کے کارنامے جان کر تو وہ مزید گلٹ فیل کرے گی اور میں اس کی آنکھوں میں شرمندگی نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس سارے معاملے میں صنم کا بھی کوئی لینا دینا نہیں۔۔۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے سب کچھ جاننے کے بعد وہ تم سے مزید ناراض ہوجائے۔۔۔ تمہارہ چہرہ تو ابھی سے اترا ہوا ہے۔۔۔ حقیقت معلوم ہو جائے گی تو مزید اس کی ناراضگی برداشت کر پاؤ گے"
ہادی نے معاویہ سے سوال کیا

"تم دونوں کے بیچ تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا نہ۔۔۔ میں چاہتا ہوں صنم تمہارے ساتھ خوش رہے"
معاویہ نے ہادی سے کہا

"اور تم دونوں کو یہ نہیں لگتا کہ تم دونوں کے بیچ بھی سب کچھ ٹھیک ہونا چاہیے، سالے بہنوئی ہو تم دونوں کس طرح ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہو۔۔۔ کوئی دور کا رشتہ نہیں بہت قریبی رشتہ ہے تم دونوں کا اب، سب لوگ نوٹ کرتے ہیں تم دونوں کو"
حیا نے بیچ میں مداخلت کی تو وہ دونوں نظریں چرانے لگے

"معاویہ پہل کرنے سے کوئی جھک نہیں جاتا بڑے ظرف کا کہلاتا ہے"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

معاویہ نے ایک نظر حیا کو دیکھا اور پھر ہادی کو، ہادی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہادی ایک پل لگائے بغیر اس سے بغل گیر ہوا

"میں اپنے رویے کی تم سے ایکسکیوز کرتا ہوں اور تمہارا شکر گزار ہوں تم نے صنم کو خوش رکھا، اس سے میرے کیے کا بدلہ نہیں لیا پلیز آگے بھی صنم کا خیال رکھنا اس کی غلط فہمی دور کردو وہ ناراض ہے مگر چاہتی ہے تمہیں"
معاویہ نے گلے ملتے ہوئے ہادی سے کہا

"صنم میری بیوی ہے تمہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں اس کا خیال رکھو اور رہی بات بدلہ لینے کی تو میں اتنا ظالم ہرگز نہیں ہوں جو بھائی کا بدلہ بہن سے لیتا۔۔۔ اس بات کی فکر نہیں کرو میں اسے منالوں گا"
ہادی نے معاویہ سے کو دیکھتے ہوئے کہا

"ویسے تو تم دونوں ہی دو کوڑی کے انسان ہو، مگر اس طرح بات کرتے ہوئے اچھے لگ رہے ہو" حیا نے ہنستے ہوئے ان دونوں سے کہا۔۔ ہادی حیا کی بات پر ہنسا تو معاویہ نے ہنسی دبا کر حیا کو گھورا

"آوکے اب تم دونوں اجازت دو میری بیگم، یقینا گاڑی میں بیٹھی ہوئی آنسو بہا رہی ہوگی"
ان دونوں سے ملتا ہوا ہادی چلا گیا

"تو جانم چلے ہم بھی"
معاویہ نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"تھوڑی دیر روکتے ہیں یہاں پر رونق ہے یہاں"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"اور میرا اس رونق میں رومینس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔گولی کیا چھو کر گئی مجھے، تم نے میرے چھونے پر پابندی لگا دی اور جاکر خود میکے بیٹھ گئی"
معاویہ حیا کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کی طرف لے کر آیا

"معاویہ بابا مما اتنے دنوں کے لیے جارہے تھے اس لیے صرف دو دن ان کے پاس روکنے کے لئے گئی تھی"
حیا نے معاویہ کو جتاتے ہوئے کہا

"صرف 2 دن،، اور ان دو دنوں میں پتہ ہے مجھ میں وٹامن k کی کتنی کمی ہو گئی تھی"
معاویہ نے شکوہ کرتے ہوئے حیا سے کہا

"اور یہ ویٹامن k کس میں پایا جاتا ہے"
حیا نے معاویہ سے پوچھا

"یہ کس میں نہیں kiss میں پایا جاتا ہے"
معاویہ نے معنی خیزی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"تم واقعی دو ٹکے کے پولیس والے ہو۔۔۔ تمہیں بھی حج پر جانا چاہیے تھا سب کے ساتھ"
حیا نے اپنی ہنسی دبا کر اس کو مشورہ دیا

"چلیں گے جانم وہاں پر بھی حاضری دیں گے مگر پہلے ببلو ڈبلو چنو منو پپو گڈو پنکی شنکی کو آ لینے دو"
معاویہ گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے حیا سے بولا

"یہ سب لوگ کون ہے اور کب آرہے ہیں"
حیا نے حیرانگی سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"آف کورس جانم یہ سب ہمارے بچے ہیں اور ان سب کو لانے کے لئے ہمیں آج سے ہی کوشش کرنی پڑے گی"
معاویہ نے اپنا پلان بتایا تو حیا نے گھور کر معاویہ کو دیکھا جس پر وہ ہنس دیا

**

ہادی صنم کو لے کر گھر پہنچا راستے میں دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔ گھر آکر وہ چپ چاپ گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی اور سامنے لان کو دیکھنے لگی۔۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ہادی صنم کے پاس آیا وہی سیڑھی پر اس کے پاس بیٹھ گیا اور اسی کو دیکھنے لگا۔۔۔ صنم نے جیسے ہی وہاں سے جانے کے لئے پر تولے تو ہادی نے اس کا ارادہ بھانپ کر اس کا ہاتھ پکڑا

"یہ بہت غلط بات ہے صنم، کہ تم مجھے کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دے رہی ہوں"
ہادی نے شکوہ کرتے ہوئے صنم سے کہا

"بولنے کے لئے بچا ہی کیا ہے ہادی، مجھے کس طرح بھی وضاحت کی ضرورت نہیں میں نے آپ سے بنا کسی غرض کے بنا کسی مفاد کے محبت کی۔۔۔ آپ پر اعتبار کیا اپنے گھر والوں کا سوچے بناء اتنا بڑا قدم اپکی محبت میں اٹھایا اور بدلے میں مجھے کسی تیسرے بندے سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ آپ حیا بھابھی سے شادی۔۔۔"
آواز لڑکھڑانے سے آگے اس سے بولا نہیں گیا

"صنم سب سے پہلے تو اپنے دماغ سے یہ فتور نکال دو کہ میں حیا سے محبت کرتا ہوں اور تمہارے بھائی سے نفرت کی وجہ حیا ہے۔۔۔ یہ ٹھیک ہے میں حیا سے شادی کا خواہشمند تھا، بچپن سے اسے جانتا تھا دیکھتا آیا تھا، اچھی لگتی تھی حیا مجھے۔۔۔۔ مجھے لگتا تھا وہ اور میں ایک ساتھ اچھی زندگی گزار سکیں گے،، مگر پھر حیا اور معاویہ کی شادی ہوگئی جس کا مجھے دکھ بھی ہوا۔۔۔ صنم میں ایک پریکٹیکل انسان ہوں صحیح ہے حیا اچھی لگتی تھی مگر میں نے ریلائز کیا کہ وہ میری قسمت میں نہیں تھی اس بات کو میں دل کا روگ بنا کر بیٹھ جاتا یا اسکی محبت میں جوگ لے لیتا اور اپنی زندگی برباد کر لیتا ایسا میرے نزدیک کمزور بے وقوف انسان کرتے ہیں۔۔۔۔۔ تم میری زندگی میں آئیں تم حیا سے مختلف نیچر اور عادت واطوار کی تھی مگر اچھی لگیں،، پھر مجھے پتہ چلا کہ معاویہ تمہارا بھائی ہے تمہیں خود سے تمہاری طرف بڑھا۔۔۔ بے شک اس وقت میری نیت ٹھیک نہ ہو کیونکہ میں بھی کوئی فرشتہ صفت نہیں مگر جب تم سے نکاح کیا میرا اللہ جانتا ہے میری نیت صاف تھی۔۔۔ یہ مت پوچھنا کے معاویہ سے میرا کیا بیر تھا وہ جو بھی تھا اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ معاویہ اور حیا اپنی زندگی میں خوش ہیں اور مطمئن ہے میری دعا ہے ان دونوں کے لیے وہ ہمیشہ خوش رہیں۔ ۔ مجھے حیا پسند تھی اگر میری اس سے شادی ہوتی تو میں اس سے محبت کرتا مگر میری شادی تم سے ہوئی ہے۔۔۔۔ تم بیوی ہو میری اور میری محبت بھی کیوکہ تم اپنی محبت سے ہادی کو اپنا عادی بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے"
ہادی جو اتنی دیر سے اس کا ہاتھ تھامے اس سے ساری باتیں کر رہا تھا آخر میں اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھا

"اس دن تم نے گاڑی میں کہا تمہاری قسمت تمہاری مام کی طرح ہے،  بہت غلط بات کی تھی تم نے۔۔ تمہارے ڈیڈ کا علم نہیں مگر تمہارے شوہر کے دل میں تمہارے سوا کوئی بھی نہیں"
صنم نے ہادی کی آنکھوں میں دیکھا تو اسے ہادی کی آنکھوں میں اور لفظوں میں سچائی محسوس ہوئی۔۔۔ بدگمانی کے سارے بادل چھٹ گئے

"آئی ایم سوری ہادی میں واقعی بیوقوف ہوں جو آپ کو بھی پریشان کیا اور خود بھی پریشان رہی" صنم نے ہادی کو دیکھتے ہی اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو وہ مسکرا دیا

"اتنے دن تم مجھ سے ناراض رہی ہوں اور مجھے پریشان رکھا، ابھی اگر میں ایک گھنٹے کے لیے تم سے ناراض ہو جاؤں تو تم سے برداشت نہیں ہوگا فورا رونے بیٹھ جاؤں گی اور میرا مسئلہ یہ ہے میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا"
ہادی کے شکوہ کرنے پر بھی صنم کو اس پر پیار آیا

"آئی لو یو ہادی" صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"اس آئی لو یو کا جواب میں یہاں نہیں بلکہ روم میں دوں گا چلو اندر"
ہادی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اس کی بات ہر صنم کی نظریں جھک گئی۔۔۔ ہادی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو صنم اس کا ہاتھ تھامتی ہوئی سیڑھیوں سے اٹھ گئی اور دونوں گھر کے اندر چلے گئے

**

"ارے یار یہ کار کو کیا ہوا"
گھر سے تھوڑی دور گاڑی اچانک رکی معاویہ نے دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو اسٹارٹ نہیں ہوئی

"کیا ہوگیا اچانک" حیا نے پوچھا

"پتہ نہیں بےبی رکو چیک کرتا ہوں" معاویہ اتر کر باہر نکلا اور کار کا بونٹ کھول کر دیکھنے لگا

"چل اتر گاڑی سے جلدی"
اچانک ساحر حیا کی کنپٹی پر پسٹل رکھتا ہوا بولا۔۔۔۔ کافی دنوں سے وہ ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھا جو اس کے ہاتھ میں آج آیا تھا۔ ۔۔۔ حیا نے خوف سے پسٹل اپنے اوپر دیکھی تو جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔ کار تو ٹھیک ہوگئی تھی مگر ساحر کی آواز پر معاویہ نے جلدی سے کار کا بونٹ نیچے کیا

"وہی کھڑے رہو اے۔ایس۔پی ورنہ ساری کی ساری گولیاں اس کی کھوپڑی میں گھسیڑ دوگا"
ساحر کی دھمکی نے معاویہ کے قدم روکے

"اس کو چھوڑ دو ساحر اس نے تمھارا کچھ بھی نہیں بگاڑا"
معاویہ نے ساحر کو دیکھتے ہوئے کہا حیا کا رنگ خوف سے اڑ ہوچکا تھا

"میں نے اور میرے باپ نے تیرا کیا بگاڑا تھا ہمہیں برباد کر دیا تو نے اور یہ سالی اس نے کچھ نہیں بگاڑا دو دفعہ تھپڑ مار چکی ہے میرے منہ پر۔۔۔ تم دونوں کو تو آج میں ایسا مزا چکاو گا جو ساری زندگی یاد رکھو گے۔۔۔ ۔ اے۔ایس۔پی تم دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر سامنے کھڑے ہو جاؤ اور تم چل کر بیٹھو میرے ساتھ گاڑی میں"
معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر کیے حیا نے گھبرا کر معاویہ کو دیکھا معاویہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حیا کو تسلی دی۔۔۔۔ ساحر حیا کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اسے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے لگا معاویہ کی نظر نیچے پڑے ہوئے پتھر پر تھی اس سے پہلے وہ اپنا سوچا ہوا قدم اٹھاتا۔۔۔ حیا نے اچانک پیچھے مڑ کر ساحر کو دھکا دیا وہ گرا تو حیا معاویہ کا نام پکار کر اس کی طرف دوڑی

"حیا وہی رکو" معاویہ چیخا

ساحر نے حیا پر فائر کیا گولی کی آواز کے بعد حیا کی چیخ فضا میں گونجی معاویہ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے حیا کا وجود نیچے زمین پر گرتے دیکھا

"حیا"
معاویہ چیختا ہوا حیا کہ پاس آیا

"حیا آنکھیں کھولو پلیز"
معاویہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر حیا کا سر اپنی گود میں رکھا معاویہ کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں اور پھر دوبارہ بند کرلی

معاویہ نے سر اٹھا کر ساحر کو دیکھا اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔ حیا کو واپس لٹا کر وہ ساحر کی طرف بڑھا

ساحر کا ارادہ حیا پر گولی چلانے کا نہیں تھا صرف ڈرانے کے لئے پسٹل اس کے اوپر رکھی ہوئی تھی وہ خود شاکڈ ہوگیا کہ اس سے گولی کیسے چل گئی۔ ۔۔۔معاویہ کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ مزید گھبرا گیا پسٹل وہی پھینک کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھنے لگا

"کیسے مارا تو نے اسے بول"

معاویہ نے اسے پکڑ کر  مکوں اور گھنسوں کی برسات اس پر شروع کردی 7 8 مکو کھانے کے بعد ہی وہ لاغر ہو گیا مگر معاویہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اس نے ساحر کا گرا ہوا پسٹل اٹھایا تین سے چار فائر ساحر کے سینے پر اور اس کے تڑپتے ہوئے وجود پر پسٹل پھینک کر دوبارہ حیا کی طرف بڑھا

"حیا آنکھیں کھولو میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"
حیا کی سانس بہت مدعم رفتار میں چل رہی تھی اس نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کر کے  حیا کو اٹھا کر کار میں لٹایا

کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کار اسٹارٹ کی کتنی بار سگنل توڑے۔۔۔ اپنی گاڑی یہاں وہاں مارتا ہوا اسپتال پہنچا

**

رات کا آخری پہر تھا اسپتال کے کوریڈور میں اس وقت سناٹا تھا۔  معاویہ وہاں تنہا بیٹھا ہوا ٹکٹکی باندھ کر آپریشن تھیٹر کی جلتی ہوئی لال بتی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس کا رواں رواں آپریشن تھیٹر کے اندر موجود حیا کے لئے دعا گو تھا

"اگر اسے کچھ ہوجائے تو۔۔۔"
یہ سوچ ذہن میں آتے ہی، معاویہ کو اپنی بھی سانسے تھمتی ہوئی محسوس ہورہی تھی وہ خود اپنے آپ کو زندگی اور موت کے بیج کسی جگہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔اس کے کپڑے ابھی بھی خون سے رنگے ہوئے تھے، اس نے آپ اپنی پتھرائی ہوئی آنکھیں بندکیں تو کانوں میں فجر کی آذان کی آواز گونجی

"ہاں مجھے خدا سے اس کی زندگی مانگنی چاہیے بلکہ اس کی نہیں خود اپنے آپ کی زندگی"
یہ سوچ آتے ہیں معاویہ وہاں سے اٹھ گیا اور اسپتال کے پاس بنی مسجد میں چلا گیا

**

معاویہ جب مسجد سے فجر کی نماز ادا کرکے واپس لوٹا تو ڈاکٹر نے اسے حیا کی زندگی کی نوید سنائی جسے سن کر اس کی جان میں جان آئی

"ڈاکٹر صاحب نے اپنی وائف سے مل سکتا ہوں"
معاویہ نے تشکر بھری نظر سے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے بےقراری سے پوچھا

"جی ابھی تھوڑی دیر میں انھیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ مل سکتے ہیں"
ڈاکٹر کے جانے کے بعد معاویہ نے ایک بار پھر خدا کا شکر ادا کیا

حیا کو روم میں شفٹ کرنے کے بعد معاویہ روم میں حیا کے پاس آیا،، حیا نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا معاویہ نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے اور کافی دیر تک ویسے ہی کھڑا رہا پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے تے ہوئے بولا

"تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی پریشان کرتی ہوں تمہیں ذرا بھی کوئی احساس نہیں ہے میرا،،، جھوٹ بولتی ہو تم تمہیں کوئی پیار نہیں ہے مجھ سے،،مجھ سے پیار ہوتا نا تو یوں میری جان کو ہلکان نہیں کرتی۔۔۔ تم نے سوچا اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا"
معاویہ حیا کا ہاتھ تھام کر تھوڑے دن پہلے اسی کے بولی ہوئی باتیں واپس  اسے بول رہا تھا فرق صرف اتنا تھا کہ آج معاویہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی اور حیا کے چہرے پر اس کی باتیں سن کر ہلکی سی مسکراہٹ

"ڈر گئے تھے"
حیا نے آہستہ آواز میں پوچھا

"بہت زیادہ"
معاویہ نے ایک بار پھر آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کیا

"اچھے نہیں لگ رہے اس طرح روتے ہوئے"
حیا اس کو دیکھتی ہوئی بولی

"جیسے تم تو بہت اچھی لگ رہی ہو اس طرح لیٹی ہوئی"
معاویہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے کہا

تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ہادی اور صنم روم میں آئےے

"بھابھی یہ کیا ہو گیا آپ کو"
صنم آگے بڑھ کر حیا کے پاس آئی اس کا ہاتھ تھام کر پریشانی سے کہنے لگی

ہادی معاویہ سے ملتا ہوا ہے حیا کو دیکھ کر کہنے لگا
 
"کیا تم دونوں میاں بیوی نے ٹھیکا لے رکھا ہے ہم سب کو پریشان کرنے کا"
ہادی کے بولے گئے جملے پر حیا کے ساتھ معاویہ بھی ہلکا سا مسکرا دیا

"بھابھی آئی ایم سوری،،میں نے آپ سے بہت بدتمیزی کی بہت برا رویہ رکھا جس کے لئے میں بہت شرمندہ ہوں میں بہت بری ہوں"
صنم کو اپنی باتیں اور رویہ جو چند دنوں سے حیا کے ساتھ اختیار کیا ہوا تھا یاد آیا تو حیا سے معافی مانگی

"کیسی باتیں کر رہی ہو مجھے کوئی برا نہیں لگا تم میری بہت پیاری نند ہو"
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا

"بھائی کیسے ہیں آپ"
صنم اٹھ کر معاویہ کے پاس آئی

"ٹھیک ہے گڑیا تم ناراض ہو مجھ سے" معاویہ نے صنم سے پوچھا

"میں آپ سے ناراض ہو سکتی ہو بھلا"
صنم معاویہ کے گلے لگتے ہوئے بولی

"کیا انٹی انکل کو بتایا تم نے"
ہادی نے معاویہ سے پوچھا

"نہیں فی الحال تو نہیں بتایا اور نہ ہی کوئی ایسا ارادہ ہے بتانے کا۔۔۔ سب لوگ وہاں پر پریشان ہو جائیں گے ان کی عبادت میں خلل پڑے گا"
ہادی کے پوچھنے پر معاویہ نے اسے جواب دیا۔۔۔ مسجد سے آنے کے بعد معاویہ نے ہی ہادی  فون کر کے رات والا واقعہ بتایا تھا

"ویسے یہ بھی اچھا ہے حیا دو دن تم نے اپنے میاں کی خدمت کی اور اب پورے ایک مہینے تک اس سے خدمت لو تم"
ہادی نے دوبارہ حیا کو دیکھتے ہوئے کہا ایک دفعہ پھر چاروں مسکرا دیے

**

 پانچ سال بعد

"گڈ مارننگ بےبی روز معمول کی طرح وہ جاگنگ سے واپس آیا تو سوئی ہوئی حیا کو اپنے انداز میں گڈ مارننگ کر کے جگایا۔۔۔ حیا نے نیند سے بھری ہوئی آنکھیں کھول کر معاویہ کو دیکھا

"بےبی کی ساری زندگی میں ہی تمہیں جو آتا رہوں گا میرا بھی دل چاہتا ہے کبھی تم بھی صبح مجھے میرے انداز میں جگاؤ"
معاویہ معنی خیزی سے کہتا ہوا مزید حیا کے اوپر جھکا

"کیا معاویہ تم رات کو بھی مجھے نہیں سونے دیتے دن میں تمہارے دونوں افلاطون مجھے خوار کرکے رکھتے ہیں۔۔۔ اور ابھی بھی مجھے جگا دیا۔۔۔۔اور ویسے بھی کچھ چیزیں تمہیں پر سوٹ کرتی ہیں لہٰذا جگانے کا کام تم ہی کیا کرو،، پیچھے ہٹو تمہاری ثپوتوں کو بھی تیار کرنا ہے اسکول بھیجنے کے لئے"
حیا نے جمائی روکتے ہوئے معاویہ سے کہا

"میرے دونوں لاج دلاروں کو ان کی دادی تیار کررہی ہیں اسکول کے لئے،، کتنی بار کہا ہے تم بس اپنے اس دو ٹکے کے پولیس والے پر دھیان دیا کرو"
معاویہ نے اسے واپس لٹاتے ہوئے کہا

پانچ سال بعد بھی معاویہ کی محبت میں حیا کے لیے کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔۔ البتہ چار سال پہلے ان کی زندگی میں حنان اور منان ٹوئنس کی صورت میں ضرور آئے تھے بقول خضر کہ وہ دونوں اپنے باپ سے بھی کوئی پہنچی ہوئی چیز تھے۔۔ ۔

منان حیا اور خضر کا لاڈلا تھا اور شرارتوں میں اپنے بھائی حنان سے کم مگر باتوں میں سب کا ریکارڈ توڑنے والا۔۔۔
اس نے اپنی پھپھو کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ منال میری ہے اور حنان کے لیے آپ ایک اور منال جیسی ڈول لے آئے

جبکہ حنان معاویہ اور زین کا چہیتا تھا اور زیادہ تر اپنے نانا نانی کے پاس پایا جاتا تھا اور حور کی ناک میں خوب دم کر کے رکھتا تھا۔۔۔ جہاں سب کی سوچ آخر ختم ہوتی وہی اس کی شرارتیں شروع ہوتی اس کو کنٹرول کرنا بھی صرف معاویہ کے بس کا کام تھا۔۔۔۔۔
جبکہ ہادی اور صنم کے پاس تین سال پہلے منال کی صورت ایک خوبصورت سی بیٹی پیدا ہوئی اور چھے ماہ پہلے گپو سے عباس نے ان دونوں کی فیملی کمپلیٹ کردی

❤The end❤

itni mohbbat karo na (season 2) episode 61

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Second last episode


وہ بے یقینی سے رسیور کو دیکھے گئی جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جھول رہا تھا۔۔۔ اس کے کانوں میں انسپکٹر سعد کے الفاظ گونج رہے تھے

"معاویہ"
 وہ بھاگتی ہوئی ڈرائیور کے کوارٹر کے پاس گئی اور زور زور سے کواٹر کا دروازہ بجانے لگی

"چھوٹی بی بی کیا ہوا آپ کو"
ڈرائیور نیند میں انکھیں ملتا ہوا حیرت سے حیا کو دیکھ کر پوچھنے لگا

"شاہد ہمیں ہسپتال چلنا ہے جلدی چلو ایڈریس میں گاڑی میں بتاؤں گی"
حیا نے اپنے آنسووں کو روکتے ہوئے بمشکل بولا

"مگر بی بی جی اس طرح سب خیریت ہے"
ڈرائیور ابھی بھی حیرت میں تھا

"باتوں پر ٹائم نہیں ہے شاہد جلدی چلو" اب حیا نے چیختے ہوئے کہا

شاہد گاڑی کی چابی لے کر آیا ہے تو حیا کار میں بیٹھی ۔۔۔۔معاویہ کی پتہ نہیں کون کون سی باتیں اسکو یاد آ رہی تھی اور وہ روئے جارہی تھی جیسے ہی جھٹکے سے کار اسپتال کے سامنے رکھی۔۔۔ حیا بھاگتی ہوئی اسپتال کے اندر گئی ریسپشن  سے معلومات لے کر وہ بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور دروازہ کھولا۔۔۔
تو سامنے بیڈ پر معاویہ نیچے پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا ڈاکٹر اس کے ہاتھ میں پٹی باندھ رہے تھے ان کے برابر میں نرس کھڑی تھی اور دوسری طرف روم کے کونے میں دو انسپکٹر


دروازہ کھلنے کی آواز پر معاویہ سمیت سب کی نظریں دروازے پر گئیں۔ ۔۔۔ معاویہ ایک دم حیا کو دیکھ کر حیرت سے کھڑا ہوگیا حیا روم کے اندر آئی اور روتی ہوئی معاویہ کے گلے سے لگ گئی جس پر معاویہ سب کو دیکھ کر ایک دم سٹپٹا گیا

"تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی پریشان کرتے ہو معاویہ، تمہیں زرا بھی کوئی احساس نہیں ہے میرا، ،،جھوٹ بولتے ہو کوئی پیار نہیں ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔۔ اگر پیار ہوتا تو یوں میری جان کو ہلکان نہیں کرتے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا تمہیں پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں"
حیا معاویہ کے گلے لگتے ہی روتے ہوئے نون-سٹاپ شروع ہو چکی تھی اور معاویہ باری باری سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ انسپکٹر سعد اور کانسٹیبل جو کہ سر نیچے جھکائے بناء آواز کے یقینا ہنس رہے تھے۔۔۔۔ چار قدم کے فاصلے پر کھڑی نرس مسلسل ہنسی روکنے کے چکر میں لال ہوچکی تھی اور ڈاکٹر صاحب کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا مگر انہوں نے چہرے پر سنجیدگی قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہوئی تھی

"حیا میں ٹھیک ہوں"
معاویہ نے نرمی سے کہتے ہوئے اس بازو سے تھام کر پیچھے ہٹانا چاہا۔۔۔۔جس پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی

"اگر اب تم نے میرے ساتھ اس طرح کا مذاق کیا تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں شوٹ کر دوں گی معاویہ"
وہ ویسے ہی گلے کے گلے ہوئے بولی

"خبر کس نے دی تھی"
معاویہ نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"سر جی وہ میں سمجھا جی"
انسپکٹر سعد نے گلہ کھنکھار کر بولا

"‏شٹ اپ سعد"
معاویہ نے گھورتے ہوئے اسے کہا

ڈاکٹر نے سب کو اشارے سے روم سے باہر جانے کے لئے کہا سب روم سے باہر نکلے تو ڈاکٹر صاحب خود بھی روم سے باہر نکلے مگر دروازہ بند کرنا نہیں بھولے۔۔۔۔ سب کو روم سے باہر جاتا دیکھ کر اور روم کا دروازہ بند دیکھ کر معاویہ نے لمبا سانس کھینچنا اور حیا کی کمر کے گرد اپنا ایک بازو حاہل کیا

"میری شیرنی کچھ نہیں ہوا تمھارے شیر کو بس گولی چھو کر نکل گئی"
معاویہ کے کہنے پر حیا نے معاویہ سے الگ ہونا چاہا، تو معاویہ نے اس کی کمر پر ہاتھ کی گرفت سخت کردی

"اب کیا فائدہ اب تو سب تمہاری محبت کے نظارے دیکھ کر انجوائے کر کے جاچکے ہیں۔۔۔۔ اب ایسے ہی کھڑی رہو تھوڑی دیر"
معاویہ کے بولنے پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو معاویہ اس کو دیکھ کر مسکرایا
                     
"تمہیں واقعی کچھ نہیں ہوا"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"بےبی تمہارے سامنے صحیح سلامت تو کھڑا ہو" معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے کہا

حیا کی نظر اس کے بازو پر گئی آستین پر خون کے نشان اور بازو پر بندھی ہوئی پٹی۔۔۔ حیا نے پٹی پر سرخ دھبہ دیکھ کر اسے زور سے دبایا جس سے معاویہ درد سے بری طرح اچھل پڑا

"حیا"
معاویہ نے غصے میں  اسے دیکھ کر اس کا نام پکارا

"کیا حیا۔۔۔۔ ہاں تمہیں تو کچھ نہیں ہوا ناں"
حیا نے بھی اس کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا اس کے اس طرح غصہ کرنے پر معاویہ کو ہنسی آگئی

"میرے سامنے زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے چپ کر کے لیٹو بیڈ پر۔۔۔۔ انکل تمہارے بارے میں بالکل ٹھیک کہتے ہیں تم نے سب کی ناک میں دم کر کے رکھا ہوا ہے یہاں آتے ہوئے مجھے پتا نہیں کیا کیا خیال آرہے تھے، کون کون سی بات ہے یاد آ رہی تھی تمہاری مجھے آج ہارٹ اٹیک کرانے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی"
 حیا اس کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے ایک دفعہ پھر نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھی اور معاویہ مسکراہٹ دبائے اس کو دیکھ رہا تھا

"پوری حوالدارنی لگ رہی ہو اس وقت" معاویہ نے مسکرا کر حیا سے کہا۔۔۔۔ حیا جو اس کو چادر اڑا رہی تھی اس سے پہلے وہ اس کو جواب دیتی روم کا دروازہ ناک ہوا

"یس کم ان"
معاویہ کی آواز پر دروازہ کھلا خضر ناعیمہ اور صنم روم کے اندر داخل ہوئے اب کے ناعیمہ اور صنم رونے لگیں ایک دفعہ پھر جذباتی سین شروع ہوگیا

"مام، گڑیا میں بالکل ٹھیک ہوں یار کیا ہوگیا آپ سب کو" معاویہ نے ان دونوں کو چپ کراتے ہوئے کہا

تھوڑی دیر میں وہی پر زین حور کے ساتھ ہی بلال فضا ہادی بھی پہنچ گئے۔۔۔ زین اور بلال کے ملنے کے بعد ہادی معاویہ کے پاس آیا صنم معاویہ کے پاس ہی بیٹھی تھی،، ہادی نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر معاویہ سے اس کی طبیعت کا پوچھا جس کا معاویہ نے نارمل انداز میں جواب دیا

"انکل آپ سب لوگ کیسے آئے"
حیا نے خضر سے پوچھا

"تمہارے نکلنے کے بعد واچ مین نے بتایا کہ تم روتے ہوئے ڈرائیور کے ساتھ گئی ہو۔۔۔ ڈرائیور کو کال کرنے پر صورت حال کا پتہ چلا تو پھر میں نے ہی زین کو فون کرکے بتایا۔۔۔۔ بیٹا تمہیں ہمیں تو بتانا چاہیے تھا"
خضر نے حیا کو تفصیل سے بتایا

"انکل میں اتنا گھبرا گئی تھی بس کچھ سمجھ میں نہیں آیا"
حیا نے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ خضر کو حیا کا معاویہ کا یوں احساس کرنا بہت اچھا لگا

"بہت پیاری بیٹی ہو تم، معاویہ نے جو تمہارے ساتھ کیا اسکے باوجود"

"انکل پلیز میری ریکویسٹ ہے آپ سے اس بات کو دوبارہ مت دہرائیے گا۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے مما بابا کو کچھ پتہ چلے۔۔۔ میں اپنے مما بابا کی نظر میں معاویہ کے لئے ہمیشہ ریسپکٹ دیکھنا چاہتی ہوں"
حیا نے آئستہ سے خضر کو بولا

"ہمیشہ خوش رہو" خضر نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھکر کہا     

"یہ سب ہوا کیسے" ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"اویس شیرازی کو اریسٹ کرنے کے آرڈرز ملے تھے اس کو پہلے سے ہی خبر ہوگئی تھی، اس لئے فرار ہونے کے چکر میں اس سے گولی چل گئی مگر اس کا نشانہ چوک گیا ہے،، خیر اریسٹ تو اسے کر لیا گیا ہے"
معاویہ ویسے تو آفیشل باتیں کسی کو نہیں بتاتا تھا مگر ہادی کے پوچھنے پر اس نے آہستہ آواز میں بتانے لگا

"کچھ حاصل نہیں ہے اس طرح اپنی جان مشکل میں ڈال کر صرف پریشان کرنے والی بات ہے اپنے گھر والوں کو اور خود کو۔۔۔ کیا صلہ ملے گا بس وردی پہ دوچار ستاروں میں اضافہ ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ"
خضر جو کہ غصے میں بھرا ہوا تھا معاویہ کے قصے سنانے پر شروع ہو گیا

"کیسی بات کردی خضر تم نے میں تمھاری بات سے ایک پرسنٹ بھی متفق نہیں ہو۔۔ اگر سب اپنی جان کی پرواہ کرنے لگ جائیں گے تو پھر ملک کے بارے میں کون سوچے گا،، تمہیں تو فخر ہونا چاہیے اپنی اولاد پر اور بھابھی آپ اس طرح پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوا آپ کے بیٹے کو،، ماشااللہ جوان ہے، بہادر ہے آپ کا بیٹا"
زین نے خضر کے بولنے کے بعد ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا جوکہ چہرے سے ابھی بھی پریشان لگ رہی تھی

تھوڑی دیر کے بعد کے بعد زین، حور، بلال اور فضا نے اجازت لی اور وہاں سے چلے گئے۔۔۔ معاویہ نے نوٹ کیا ہادی وقفے وقفے سے صنم کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل سر جھکائے صوفے پر ناعیمہ کے ساتھ بیٹھی تھی،،، ہادی نے رات میں صنم کا نمبر کافی دیر تک ٹرائی کیا مگر صنم کا نمبر of تھا

"ڈیڈ میں یہاں کمفرٹیبل نہیں ہو، گھر جانا چاہتا ہوں آپ ڈاکٹر سے بات کریں"
معاویہ نے بیزار ہو کر خضر سے بولا

خضر سر ہلا کر روم سے باہر نکلا تھوڑی دیر میں اسپتال کی فارملیٹیسز پوری کرکے معاویہ کو ڈسچارج کردیا گیا۔۔۔ خضر نے کال کر کے ڈرائیور کو بلایا اور اپنی گاڑی لے کر آفس نکل گیا

"صنم تم ایسا کرو ہادی کے ساتھ آجاؤ کیوں ہادی صنم کو چھوڑ دو گے گھر"
ناعیمہ اور حیا گاڑی میں بیٹھ گئی تھی صنم بیٹھنے لگی تو معاویہ نے صنم کو بولا

"ہاں کیوں نہیں آو صنم"
ہادی نے کہا صنم معاویہ کو دیکھنے لگی معاویہ نے آنکھوں کے اشارے سے اسے ہادی کی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا، وہ چپ کر کے ہادی کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ تو معاویہ بھی اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا

"کیا ہوا صنم ہمارے ساتھ نہیں آرہی" حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا

"ہادی چھوڑ دے گا تم اس کی فکر نہیں کرو، بس اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر دھیان دیا کرو"
معاویہ نے آخری بات سرگوشی میں حیا کے کان میں کہی حیا نے معاویہ کو ابرو اچکا کر دیکھا

**

"بات کیوں نہیں کر رہی تم مجھ سے"
صنم کے گاڑی میں بیٹھتے ہیں ہادی نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا

"مجھے آپ سے کسی بھی موضوع پر کوئی بھی بات نہیں کرنی آپ مجھے میرے گھر چھوڑ آئے پلیز"
صنم نے بنا ہادی کو دیکھے اس سے کہا گاڑی میں موجود ٹیپ آن کیا تاکہ وہ مزید کچھ نہ بول سکے

"صنم رے صنم رے تو میرا صنم ہوا رے کرم رے کرم رے تیرا مجھ پہ کرم ہوا رے"

گانے کے بول پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہادی مسکرایا صنم نے چینل چینج کیا تو دوسرا سونگ اسٹارٹ ہوا

"کہو نہ کہو یہ انکھیں بولتی ہیں او صنم او صنم او  میرے صنم"

دوبارہ گانے میں اپنا نام سن کر اس نے جھینپ کر ہادی کو دیکھا وہ مسکراتا ہوا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ صنم نے دوبارہ چینل چینج کیا

"جتنے بھی تو کر لے ستم، ہنس ہنس کے سہی گے ہم یہ پیار نہ ہوگا کم صنم تیری قسم"

صنم نے گھور کے ٹیپ کو دیکھا اور دوبارہ چینل چینج کیا

"ہم دل دے چکے صنم تیرے ہو گئے ہیں ہم تیری قسم"

صنم نے ٹیپ بند کرنا چاہا تو ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا

"کس کس کا منہ کراؤں گی سب کے سب میرے دل کی حالت بیان کرتے رہے گے"

ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگانا چاہا تو صنم نے فورا اپنا ہاتھ ہٹا لیا

"مانا کہ میں سیدھی ہوں مگر اتنی نہیں کہ آپ کے فلمی ڈائیلاگ بول کر مجھے پاگل بنائے۔۔۔ آپ کے دل میں، میں کہیں بھی نہیں ہوں یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے اس لیے اب مجھے الٹی سیدھی وضاحت دے کر بہلانے کی ضرورت نہیں ہے"
صنم کے کہنے کی دیر تھی ہادی نے کار ایک جھٹکے سے اس کے گھر کے پاس روکی، صنم اترنے لگی تبھی ہادی نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھاما

"نہیں آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سیدھی نہیں بلکہ بیوقوف ہوں پوری ۔۔۔ ویسے اگر میں فلمی ڈائیلاک بول رہا ہو تو کون ہے میرے دل میں۔۔۔ وضاحت دینا پسند کرو گی،  ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے"
ہادی نے ویسے ہی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے سنجیدگی سے صنم سے پوچھا

"حیا بھابی۔۔۔ انہی سے شادی کرنا چاہتے تھے نا آپ اور یہی وجہ ہے نہ میرے بھائی سے نفرت کی"
صنم نے شکوہ بھری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"سب سے پہلی بات مجھے تمہارے بھائی سے کوئی نفرت نہیں ہے وقتی غصہ تھا اوکے اور رہی بات شادی کی تو ٹھیک ہے میں کرنا چاہتا تھا حیا سے شادی مگر اب تم میری بیوی ہو، اس لیے میں تمھیں ہر بات کی وضاحت دوں گا"
ہادی نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا

"میں نے سنا تھا مگر آج یہ یقین ہو کیا ہے لڑکی قسمت اس کی ماں جیسی ہوتی ہے مام نے بھی ساری زندگی ڈیڈ کے نام کردی۔۔۔ ڈیڈ نے ہمیشہ حور انٹی کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔۔۔۔ اور میری جس سے شادی ہوئی اس کے دل میں بھی پہلے سے کوئی اور بستی ہے یعنی حور آنٹی کی بیٹی۔۔۔۔ ان دونوں ماں بیٹیوں نے ہم دونوں ماں بیٹیوں کا۔ ۔۔ جانے انجانے میں ہی سہی مگر حق مارا ہے"
صنم گاڑی سے اتر کر روتی ہوئی اندر چلی گئی

جاری ہے



itni mohbbat karo na (season 2) episode 60

Itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 60


ہادی کا دن آفس میں کافی بزی گزرا میٹنگ کی وجہ سے وہ فضا کی کال اٹینڈ نہیں کر پایا۔۔۔ اس نے سوچا گھر جاکر فضا سے بات کرے گا،، دماغ بھٹک کر صنم کی طرف گیا تو اسے اپنے کل کے رویہ پر افسوس ہوا اس نے سوچا صنم کو بھی منالے گا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی نہیں دیکھ سکتا تھا یہی سوچتے ہوئے اس نے گاڑی پارک کی۔ ۔۔ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوا

"کیسی ہیں مما آپ"  ہادی نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے سامنے صوفے پر بیٹھی فضا کو دیکھ کر پوچھا

"کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے تھے تم میں نے کتنی دفعہ ٹرائے کیا"
فضا نے ہادی کو دیکھ کر شکوہ کیا

"بس میٹنگ میں بزی تھا سب خیریت ہے نا"
فضا کے برابر میں بیٹھے ہوئے ہادی نے پوچھا

"خیریت ہوتی تو پھر اتنی دفعہ کال کیوں کرتی"
فضا نے پریشانی سے کہا اور صبح شہناز کے آنے کا سارا واقعہ ہادی کو سنایا۔۔۔۔ ہادی جو آرام سے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا فضا کی بات سن کر پریشان ہو گیا

"آپ نے صنم کو جانے کیوں دیا مما" ہادی نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا اور صنم کا نمبر ملانے لگا

"بتا تو رہی ہوں مجھے اس کے جانے کو کچھ پتہ ہی نہیں چلا، ہادی پلیز اس کو منا کر لے آؤ اس کی غلط فہمی دور کر دو"
فضا نے پریشانی سے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"اچھا پریشان نہیں ہوں میں اس کو لینے جاتا ہوں"  ہادی نے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھا اور گاڑی کی کیز اٹھا کر صنم کو لینے چلا گیا

**

"کیسی ہو"
حیا ٹیرس میں گرل تھامے کھڑی تھی۔۔۔ معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کان میں سرگوشی کی، وہ اسی وقت گھر لوٹا تھا

"ٹھیک ہو تم کب آئے"
حیا نے مڑ کر معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ٹھیک ہوں مگر مجھے لگ نہیں رہی کیا ہوا ہے تمہیں"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ کل رات وہ خوش تھی اپنی آمادگی سے اس نے اپنا آپ معاویہ کو سونپا تھا۔۔۔ گھر آنے پر وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا اسی طرح خوش باش چہرے لیے اس کا انتظار کر رہی ہوگی مگر اس کے برعکس حیا کا بجھا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے لگا کہ کوئی بات ضرور ہوگی

"نہیں میں تو ٹھیک ہوں تمھیں ایسا کیوں لگا"
اب کے حیا نہیں مسکرا کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیوکہ میں اپنی شیرنی کا چہرہ دیکھ کر اس کے موڈ کے بارے میں اچھی طرح جان سکتا ہوں اب بتاؤ کیا ہوا ہے"
معاویہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دوبارہ سوال کیا

"صنم آئی ہوئی ہے میں اس کے پاس دو دفعہ گئی مگر اس نے ویسے بات نہیں کی جیسے وہ کرتی ہے شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوگی"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے بتایا اور پھر خود ہی اس کے بات نہ کرنے کی وجہ بھی بیان کردی۔۔۔ معاویہ نے مسکرا کر اس کے گال تھپتھپائے

"اس کی وجہ سے پریشان اور افسردہ مت ہو بےبی۔۔۔ صبح جب وہ آئی تھی تو کچھ اپ سیٹ لگ رہی تھی اس لئے تم سے بات وغیرہ نہیں کی ہوگی۔۔۔ تم زیادہ فیل نہیں کرو، وہ شروع سے تھوڑی ریزرو نیچر کی ہے اس لئے تم سے شیئر نہیں کیا ہوگا میں دیکھ لیتا ہوں اس کو، یہ بتاؤ مام ڈیڈ کہاں ہیں"
معاویہ نے روم میں آکر چیئر پر بیٹھتے ہوئے حیا سے پوچھا

"آنٹی انکل ڈنر پر گئے ہیں اپنے کسی فرینڈ کے گھر۔۔۔ کہو تو ساجدہ سے کھانے  کا کہو"
حیا نے کھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے معاویہ سے پوچھا

"ہاں کھانے کا کہہ دو جب تک میں صنم سے بات کر کے آتا ہوں اور کھانے کے بعد میں سویٹ ڈش اپنی مرضی کی لوں گا"
وہ حیا کو معنی خیزی سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔ تو حیا بلش کر کے اس کو گھورتے ہوئے روم سے نکل گئی

**

"یہاں اکیلے کیو بیٹھی ہو گڑیا"
معاویہ لان میں چیئر پر بیٹھی ہوئی صنم کے پاس آکر بولا

"ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی بھائی آپ کب آئے"
صنم نے افسردگی دور کرتے ہوئے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"تمہیں معلوم ہے صنم میں ہادی سے تمہاری شادی کیوں نہیں کروانا چاہتا تھا"
معاویہ نے دوسری چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو صنم نے کچھ بولے بناء معاویہ کو دیکھا جیسے وہ جاننا چاہتی ہوں

"کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میری نازک سی معصوم دل رکھنے والی بہن کا شوہر ایسا ہو جو اسے پھولوں کی طرح رکھے اور مجھے ہادی سے اس کی امید نہیں تھی"
معاویہ بول کر چپ ہو گیا

"تمہیں معلوم ہے میں اس رشتے پر بعد میں جو راضی کیو ہوا، وہ وجہ تمہارا اور ہادی کا پہلے سے نکاح نہیں تھی"
معاویہ کی بات پر صنم نے نظریں نیچے جھکائی

"بلکہ میں ہادی سے تمہارے رشتے پر صرف اس لئے راضی ہوا کیوکہ میں نے تمہاری آنکھوں میں ہادی کے لئے محبت دیکھی۔ ۔۔۔ صنم تمہارا بھائی تم سے بہت پیار کرتا ہے،، تمہیں میں ہر وقت خوش دیکھنا چاہتا ہوں،، یہی وجہ تھی کہ میں ہادی کے رشتے کے لئے راضی ہوا۔۔۔ اب تم مجھے بتاو ایسی کیا بات ہے جس پر تم خوش نہیں ہو،، یہ مت کہنا کے کوئی بات نہیں ہے تمہاری آنکھیں صبح ہی کہانی عیاں کر چکی ہے کہ تم ناراض ہوکر آئی ہو ہادی سے۔۔۔ مگر تمہارے منع کرنے پر میں اس کے پاس نہیں گیا اب تم بتاؤ کیا ہوا ہے"
معاویہ نے صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا تو صنم کی آنکھوں میں آنسو آگئے

"بھائی ہادی"
ابھی صنم نے بولا ہی تھا دور سے ہادی کی گاڑی گیٹ سے اندر آتی دکھائی دی گاڑی سے اتر کر ہادی ان دونوں کے پاس آیا۔۔۔ تو صنم اور معاویہ اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے

"اس طرح بتائے بغیر گھر سے آنے کا مقصد"
ہادی نے صنم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"آنٹی کو معلوم ہے ان سے پوچھ لئے گا"
صنم نے نظریں ملائے بغیر ہادی سے کہا اور لان سے جانے لگی ہادی نے اس کو جاتا دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑا معاویہ چپ کر کے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

"ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی تم میری بات سنو"
ہادی نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"مجھے آپ سے اس وقت کوئی بات نہیں کرنی"
صنم نے ہاتھ چھڑا کر جانا چاہا

"تم ایسے نہیں جاسکتی صنم"
ہادی نے سختی سے اس کا ہاتھ دوبارہ پکڑا تو،، معاویہ نے آپ کی بار ہادی کا ہاتھ پکڑا

"جب وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی ہے تو تم اس سے زبردستی نہیں کرو"
معاویہ نے ہادی کو دیکھتے ہوئے تحمل سے کہا

"میں صنم سے بات کر رہا ہوں بیوی ہے وہ میری"
ہادی نے معاویہ کو جتاتے ہوئے کہا

"اور میں صنم کی بات کر رہا ہوں وہ بہن ہے میری"
معاویہ نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا

"کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا"
حیا جو لان میں معاویہ اور صنم کو کھانے کے لئے بلانے آئی تھی اس نے معاویہ اور ہادی کو ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھا اور صنم کو سرجھکائے ہوئے ایک طرف کھڑا دیکھا۔ ۔۔ تو وہ اکر بولی

"اپنے شوہر سے کہو آئندہ میرے اور میری بیوی کے بیچ میں وہ نہ آئے"
ہادی نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"آپ ان سے کیا بات کر رہے ہیں میں خود آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو اتنا ہنگامہ کیو پلیز آپ جائے یہاں سے"
صنم نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اور خود گھر کے اندر چلی گئی ہادی لب بینچ کر وہاں سے جانے لگا

"ہادی میری بات سنو آخر ہوا کیا ہے" حیا نے اس کو روکتے ہوئے پوچھا

"تمھارے شوہر کو سب پتہ ہوگا اس سے پوچھو"
ہادی حیا سے کہتا ہوا گاڑی لے کر وہاں سے نکل گیا

"اندر چلو حیا" معاویہ نے حیا کو کہا اور خود بھی اندر چلا گیا

**

بہت مشکل سے وہ صنم کو بہلا کر کھانے کی ٹیبل پر لایا اور کھانا کھلایا پھر وہ اپنے روم میں چلی گئی خضر اور ناعیمہ بھی واپس آ چکے تھے حیا تھوری دیر ناعیمہ کے ساتھ بیٹھ گئی ناعیمہ سے باتیں کر کے وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے بیڈ رومبیٹھ کے کرم سے ٹیک لگاکر اسمگل کرنے میں  میں آئی تم معاویہ بیڈ کے کراون سے ٹیک لگا کر اسموکنگ کرنے میں مصروف تھا

"ہر وقت اس کو منہ مت لگایا کرو" حیاء نے اس کے ہونٹوں میں دبی ہوئی سگریٹ نکال کر ایش ٹرے میں مسلی

"تو پھر تمہیں بیڈ روم میں موجود ہونا چاہیے بندوں کچھ نہ کچھ تو منہ لگائے گا ناں" معاویہ نے حیا کو کھینچ کر اپنے اوپر گرایا اور اسکے  ہونٹوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے بولا 

"ہٹو چینج کرنے دو" حیا نے معاویہ کو ہٹاتے ہوئے کہا

"سنو وہی اس دن والی نائیٹی پہن لو" معاویہ اپنی جگہ پر لیٹتا ہوا آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے بولا جس پر اسے حیا نے گھور کر دیکھا

"زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج۔۔ چپ کرکے لیٹے رہو"
حیا ڈریسنگ روم میں جانے لگی

"بےبی رات کا ٹائم ہی میرے فری ہونے کا ٹائم ہے اس لئے نخرے دکھائے بغیر نائیٹی پہن کر آؤ"
معاویہ کی آنکھوں میں شرارت کا عنصر صاف نمایاں تھا۔۔۔ حیا اپنا تمیز والا نائٹ ڈریس پہن کر بیڈروم میں آئی اور مسکرائٹ دبا کر چپ کر کے بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔ معاویہ نے اس کو دیکھا اپنی طرف کھینچ کر اس پر جھکا

"پتہ ہے نہ پولیس والے سے پنگا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے پولیس والے کی بات نہ مان کر جو غلطی تم نے کی ہے اب اس کی سزا بھگتنے کے لئے آپ تیار ہو جاؤ"
وہ کہتے ہوئے حیا کی گردن پر جھکا

چند سیکنڈ گزرے تھے کہ معاویہ کے موبائل پر کال آنے لگی۔۔۔۔ معاویہ نے اٹھ کر کال ریسیو کی تھوڑی دیر پہلے چہرے پر چھائی ہوئی شوخی سنجیدگی میں بدل گئی

"اوکے سر میں ٹیم ریڈی کرتا ہو۔۔۔ ایک گھنٹے کے اندر ہم اس کے گھر ہوگیں"
معاویہ موبائل کی ایک طرف رکھ کر وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا

"کس کا فون تھا یونیفارم کیوں نکال رہے ہو تم"
حیا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

"ڈیوٹی ہے جانم۔۔۔سمجھو آج رات تمہاری بچت ہوگئی"
وہ حیا کے گال کو چھوتا ہوا بولا

"یہ کیا بات ہوئی اس وقت کونسا ڈیوٹی کا ٹائم ہے پوری بات بتاؤ کہاں جا رہے ہو"
حیا نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا

"اویس شیرازی کے خلاف وارنٹ جاری ہوگئے اسے گرفتار کرنے کے آرڈرز مل گئے ہیں آج اسے حراست میں لینا ہے۔۔۔ میرا انتظار مت کرنا اور مام کو بتا دینا"
معاویہ کہتا ہوا ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔ واپس آیا تو حیا ویسے ہی کھڑی تھی

"مت جاؤ پلیز"
حیا نے اس کو تیار ہوتے دیکھ کر کہا

"تم نے نائٹی نہیں پہنی تو میں تمہاری بات کیوں مانو"
معاویہ اپنا لوڈڈ ریوالور چیک کرتے ہوئے کہنے لگا

"معاویہ میں مذاق نہیں کر رہی ہوں" حیا نے ضد کرتے ہوئے کہا

"پولیس والوں کی ڈیوٹی ایسے ہی ہوتی ہے جانم۔۔۔ اب تم ریسٹ کرو اور لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ مجھے الوداع نہیں کرو اسمائل دو شاباش"
وہ حیا کا چہرہ تھام کر کہنے لگا حیا زبردستی کا مسکرائی۔۔۔ تو وہ اسکے ماتھے پر لب رکھ کر روم سے چلا گیا

حیا کا دل افسردہ ہونے لگا پھر وہ ناعیمہ کو معاویہ کا بنانے چلی گًئی۔۔۔۔ واپس آکر کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد جب اس کو نیند نہیں آئی تو اس نے اپنی شادی کا البم نکالا اور تصویریں دیکھنے لگی۔۔۔ ایک ایک تصویر دیکھتی گئی تو اس کے چہرے پر خود بخود مسکراہٹ آتی گئی خاص کر اپنے اور معاویہ کے ولیمے کے پوز دیکھ کر اور وہ دن یاد کر کے۔۔۔۔۔ البم دیکھتے ہوئے کب اس کی آنکھ لگ گئی اس کو پتہ نہیں چلا نیند میں اسے محسوس ہوا جیسے معاویہ نے اسے پکارا ہو۔۔۔ آنکھ کھولی تو برابر والی جگہ خالی تھی اور بیڈ پر البم کھلا ہوا تھا وہ البم بند کر کے روم سے باہر آ گئی۔۔۔۔ کچن کے ساتھ والی روم کی لائٹ جلتی دیکھ کر وہ روم میں داخل ہوئی تو ناعیمہ کو جائے نماز پر بیٹھے پایا

"آپ تہجد پڑتی ہیں آنٹی"
حیا نے امپریس ہوتے ہوئے ناعیمہ سے پوچھا

"کبھی کبھی جب آنکھ کھل جائے مگر جب معاویہ اس طرح نکلتا ہے تو خاص اس کی سلامتی اور کامیابی کے لئے پڑھتی ہو"
ناعیمہ نے جائے نماز تہہ کرتے ہوئے حیا کو بتایا

"میں ابھی سوچ رہی تھی اس کو کال کرنے کا" حیا نے اپنے دل کی بات ناعیمہ شیئر کی

"کوئی فائدہ نہیں کال کرنے کا ڈیوٹی ٹائم میں وہ کال ریسیو نہیں کرے گا۔۔۔۔ فجر میں تھوڑا ٹائم ہے میں ریسٹ کرتی ہوں تم بھی سو جاؤ شاباش"
ناعیمہ حیا سے کہتے ہوئے روم سے نکل گئی۔۔۔۔۔

حیا اپنے روم میں آئی مگر اس کو نیند نہیں آ رہی تھی روم میں آکر اس نے ڈریس چینج کیا اور فجر کی نماز کی نیت سے وضو کیا۔۔ ۔ اپنے لیے کافی بنانے کے غرض سے وہ کچن میں آئی کافی بنا کر وہ واپس روم میں جانے لگی تبھی لینڈ لائن پر کال آنے لگی

"اس وقت اس کی کال ہوسکتی ہے"
حیا نے سوچتے ہوئے کال ریسیو کی

"اسلام علیکم یہ اے۔ایس۔پی معاویہ مراد کے گھر کا نمبر ہے دوسری طرف سے نوجوان کی آواز  ابھری

"جی انہی کے گھر کا نمبر ہے مگر آپ کون بات کر رہے ہیں"
حیا نے نوجوان سے پوچھا

"میں انسپیکٹر سعد بات کر رہا ہوں آپ ان کے فادر سے بات کروا دیں"
دوسری طرف سے بولا گیا

"میں مسسز معاویہ مراد ہوں آپ مجھ سے بات کریں۔۔۔ بلکہ میری معاویہ سے بات کروائے"
حیا نے ہاتھ میں موجود کافی کے مگ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا

"آپ ہاسپیٹل کا ایڈریس نوٹ کریں میم۔۔۔ سر جی میرا مطلب ہے اے۔ایس۔پی معاویہ مراد کو گولی لگنے کی وجہ سے"
حیا کے ہاتھ سے ریسیور اور کافی کا مگ دونوں چھوٹے


جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 59

Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 59




بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ قدم بڑھاتا بیڈ کے قریب حیا کے پاس آیا۔۔۔ جو کہ بیڈ پر اس کے دلائے ہوئے برئیڈل ڈریس میں گھونگٹ نکلے بیٹھی تھی۔۔۔۔
معاویہ نے اس کے چہرے پر پڑا ہوا دوپٹہ اوپر سرکایا
تو حیا کا حسین چہرے اس کی نظر کے سامنے آیا

"اس سے زیادہ حسین کوئی اور سرپرائز ہو ہی نہیں سکتا"
معاویہ نے اسمائل دے کر اس کے ماتھے کی بندیا سیٹ کرتے ہوئے کہا

"میں نے سوچا تمہیں کوئی شکوہ نہ رہ جائے۔۔۔ دوسروں کو دولہا دلہن بنے دیکھ تم ساری زندگی اپنی ویڈنگ نائٹ یاد کر کے جلتے سڑتے رہو اور مجھے طعنے دیتے رہو جبکہ طعنے دینا اور شکوہ شکایت کا ڈپارٹمنٹ میرا ہے"
حیا نے اسکو ایک ادا سے باور کرایا۔۔۔ جسے معاویہ نے مسکرا کر اپنا سر خم کر کے تسلیم کیا

"اب"
معاویہ نے لو دیتی نگاہوں سے اس سے آگے کا پروگرام پوچھا

"میری منہ دکھائی"
حیا نے اس کے سامنے اپنی ہتھیلی پھیلا کر کہا تو معاویہ ہنس دیا اور اس کی ہتھیلی پر اپنے ہونٹ رکھے

"آج بھی کسی صورت بخشنا نہیں مجھے"
وہ اٹھ کر وارڈروب کی طرف گیا اور خوبصورت سا بریسلیٹ لے کر حیا کے پاس آیا۔۔۔ اور حیا کی نازک کلائی میں وہ بریسلیٹ پہنا دیا۔۔۔ چہرے پر آئی ہوئی مسکراہٹ دبا کر حیا کو دیکھنے لگا

"اب"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا

"تمہاری ڈراز میں بریسلیٹ کے ساتھ ایک نیکلس بھی رکھا ہوا ہے۔۔۔ وہ کب دوگے مجھے"
حیا نے معصومیت سے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"اٹس ناٹ فیئر یعنی تم میرے پیچھے میرے وارڈروب کی تلاشی لیتی ہو"
معاویہ نے حیا کو گھور کر دیکھا

"تم بھول رہے ہو میں ایک پولیس والے کی بیوی ہو اس لیے تلاشی لینے کی شکایت تم نہیں کر سکتے اور ویسے بھی ہر عقلمند بیوی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی حرکتوں پر اور اس کے کرتوتوں پر نظر رکھے۔۔۔ ویسے تم وہ نیکلس میرے لئے ہی لائے ہو ناں"
آخر میں حیا نے شکی نظروں سے دیکھتے معاویہ سے سوال کیا۔۔۔ جس پر وہ زور سے قہقہ مار کر ہنسا

"نہیں وہ نیکلیس میں نیناں کی لئے لایا ہو،، خود آج سارا دن مجھے سرپرائز پر سرپرائز دیتی رہی ہوں اور میرے سرپرائز گفٹ تک فورا پہنچ گئی"
معاویہ نے مصنوعی گھوری سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
تو حیا مسکرا دی

"گھوگٹ اٹھادیا،، منہ دکھائی بھی دیدی"
معاویہ نے اس کے ہاتھ پر کس کرتے ہوئے دوبارہ سوال کیا "اب"

"اب تم میری تعریف کرو پورے دو گھنٹے لگا کر اتنی محنت سے تمھارے لیے سجی سنوری ہو"
حیا نے آخر میں اس کو جتانا نہیں بھولا

"اووو یہ میں کیسے بھول گیا یہ تو ہر شوہر کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی تعریف کرے"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا

"تم دنیا کی وہ لڑکی ہوں جس نے پہلی نظر میں معاویہ مراد کا دل چرانے کا جرم کیا ہے۔۔۔ معاویہ مراد کے حواسوں پر سوار ہو کر اسے اپنا اسیر کر لیا ہے حور بیشک تمہاری مما کا نام ہے مگر تم میرے لیے کسی حور سے کم نہیں۔۔۔آج مجھے یقین ہوگیا ہے میرے کسی عمل سے اللہ پاک مجھ سے بہت خوش ہے جو اس نے حور مجھے دنیا میں ہی عطا کردی۔۔۔  نئی زندگی کی شروعات سے پہلے میں اب تک کی اپنی تمام غلطیوں کی معافی مانگتا ہوں جس کی وجہ سے تم مجھ سے ہرٹ ہوئی اور اب میں پوری کوشش کروں گا کہ تم کبھی بھی مجھے میری غلطیاں نہیں گنواؤ"
معاویہ حیا کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ اس سے بولے جارہا تھا اور حیا لبوں پر مسکراہٹ لائے اس کی باتیں سن رہی تھی

"گھونگھٹ اٹھانے کے بعد منہ دکھائی بھی دیدی اور تعریف بھی ہوگئی"

معاویہ نے حیا کا دوپٹہ اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور اس کو لٹا کر اسکے اوپر جھکتے ہوئے پوچھا "اب"

"اب باری ہے میری چند معصوم سی شرطیں ماننے کی"
حیا نے مسکرا کر آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا

"شرطیں۔۔۔۔۔ بےبی ایسا کچھ نہیں کرتے اس دن"
معاویہ نے اسے کو سمجھاتے ہوئے کہا

"دوسرے لوگ نہیں کرتے مگر ہم کریں گے اور تم میری ساری شرط مانو گے"
حیا نے شہادت کی انگلی دکھاتے ہوئے کہا

"اوکے"
معاویہ نے اس کی انگلی پر کس کرتے ہوئے کہا اور انگلیوں سے اس کی رینگز اتارنے لگا 

"مہینے میں دو دفعہ مجھے شاپنگ کرایا کرو گے"
حیا نے سیریس ہو کر اپنی پہلی شرط بتائی

"مہینے میں دو دفعہ لیڈیز شاپنگ میری پولیس کی تنخواہ میں۔۔۔ چلو منظور ہے"
معاویہ نے اس کی شرط کو قبول کیا اور اس کے کانوں سے ایرنگ اتار "اب" 

"ساجدہ کے ہاتھ کا کھانا مجھے زیادہ پسند نہیں ہے اور آنٹی سے کہتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے اس لئے سیٹرڈے اور سنڈے کو کھانا تم بنایا کرو گے"
حیا نے اپنی دوسری شرط بتائی۔۔۔ جس پر معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا

"باہر لوگ مجھ سے میرے غصے سے ڈرتے ہیں اور گھر میں تم مجھ سے کھانا بنوانے کی بات کر رہی ہوں"
معاویہ نے سیریز انداز اپناتے ہوئے کہا

"تمہیں شرط منظور ہے یا نہیں"
حیا نے بھی سیریس انداز اپناتے ہوئے پوچھا

"چلو کوئی نہ کوئی جگاڑ ڈھونڈ لیں گے منصور ہے"
معاویہ نے اس کے ماتھے پر سجی ہوئی بندیا اتارتے ہوئے بولا "اب"

"ہر پندرہ دن بعد میں دو دن کے لئے ماما بابا کے پاس روکنے جاؤں گی منظور ہے"
حیا نہ بولنے کے ساتھ یہ اپنی چوڑیوں والے ہاتھ آگے کیے

"بےبی یہ تو تم آئستہ آئستہ پھیل رہی ہو ایسا کچھ نہیں ہونے والا بس صبح جانا اور شام میں واپسی"
معاویہ اس کے ہاتھوں کی چوڑیاں اترتے ہوئے بولا

"یعنی تم مجھے میرے مما بابا کے پاس روکنے نہیں دو گے"
حیا نہ ابرو اچکا کر بولا

"بےبی پھر میں گھر میں کیا کیا کروں گا۔۔۔چلو تمہارے ساتھ میں بھی رک جایا کروں گا ڈن ہو گیا یہ بھی"
معاویہ نے ہلکا سا اٹھا کر اس کے گلے سے نیکلس اتارتے ہوئے کہا۔۔۔ واپس اسے لٹا کر اس کے اوپر جھکا "اب"

"آج سے 10 سال بعد اگر میں موٹی ہو جاؤ تب بھی میری تعریف کیا کرو گے"
حیا کی بات سن کر وہ زور سے ہنسا

"تب صرف تعریف سے کام نہیں چلے گا بلکہ پورے پورے دیوان لکھو گا تمھارے وزن کے حساب سے"
معاویہ نے جھومر اتار کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہا "اب"

"ساری زندگی مجھے پیار کرنا پڑے گا بالکل اسی طرح"
حیا نے نظریں جھکا کر اس کی شرٹ پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ معاویہ نے مسکرا کر اپنے ہونٹ حیا کے ماتھے پر رکھے

"نہیں یہ شرط اب تم پر عائد ہوتی ہے کیوکہ میرے پیار میں اور شدتوں میں دن بدن اضافہ ہوگا اور وہ تمہیں برداشت کرنا پڑے گا بولو منظور ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا

"منظور ہے"
حیا نے نظریں جھکا کر آہستہ سے بولا

"گھونگھٹ بھی اٹھا دیا، منہ دکھائی بھی دے دی تعریف بھی ہوگئی اور شرطیں بھی مان لی۔۔۔۔ اب"

معاویہ نے اپنی انگلی حیا کی تھوڑی پر رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے کہا

"اب"
حیا نے آہستہ سے بول کر مزید اپنا چہرہ نیچے کرلیا اور آنکھیں بند کرلی

"تمام ثبوتوں اور اقرار جرم کو مدنظر رکھتے ہوئے۔۔۔۔حیا مراد پر یہ جرم عائد ہوتا ہے کہ۔۔۔ اس نے اپنے شوہر معاویہ مراد کو اپنے عشق میں دیوانہ بنا دیا ہے۔۔۔ لہٰذا حیا مراد کا شوہر اس پر دفع 143 لگاتے ہوئے اسے ساری رات جگانے اور اپنی محبت اس پر نچھاور کرنے کی سزا سناتا ہے"
معاویہ کے بڑے اسٹائل سے بولنے پر حیا ہے ایک دم مسکرا دی

*

صنم کی آنکھ کھلی تو گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی اس کا زہن ابھی بھی سن تھا۔۔۔ وہ رات کافی دیر تک جاگتی رہی اور رونے کے باعث اس کے سر ابھی بھی درد کر رہا تھا۔۔۔ ہادی اپنی جگہ پر موجود نہیں تھا صنم فریش ہو کر روم سے باہر آئی

"آو صنم اٹھ گئی سو کر"
صنم کو دیکھ کر فضا نے پوچھا

"جی آنٹی۔۔۔ ہادی اور انکل نظر نہیں آ رہے"
صنم نے چاروں طرف نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا

"دونوں ہی آفس کے لئے نکل گئے تم بیٹھو تمہارے لئے ناشتے کا کہہ کر آتی ہوں"
فضا کچن کی طرف جانے لگی

"کیسی ہو فضا بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ ہادی کی شادی کردی ہے تم نے"
ہال کے دروازے سے فضا کی دوست شہناز نمودار ہوئی جو کہ باہر ملک جانے کی وجہ سے شادی اٹینڈ نہیں کر سکی تھی

"ارے شہناز کیسی ہو تم۔۔۔ کب آئیں جرمنی سے آؤ تمہیں صنم سے ملواتی ہو"
فضا نے شہناز سے ملتے ہوئے خوش دلی سے کہا

"پہلے یہ بتاؤ حیا کہاں ہے آخر بنا ہی لیا اس کو بہو۔۔۔۔ ہادی تو بہت خوش ہوگا حیا سے شادی کر کے پسند جو کرتا تھا۔۔ مجھے بہت خوشی ہوئی مسز انصار نے جب ہادی کی شادی کا بتایا،،، شادی اٹینڈ نہیں کرسکی اس بات کا مجھے بڑا دکھ ہے"
شہناز اپنی دھن میں ہی بولے جا رہی تھی جبکہ فضا نے ایک نظر صنم کو دیکھا جو زرد پڑتی رنگت کے ساتھ اپنے پاس رکھی چیئر کو مضبوطی سے تھامے ہوئی تھی

"شہناز تم بیٹھو پلیز میں ابھی آتی ہوں"
فضا نے مسکرا کے کہا

"صنم تم یہاں آو پلیز"
شہناز کو بیٹھا کر فضا صنم کے پاس آئی۔۔۔صنم نے بہت بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا

"ایسا کچھ نہیں ہے صنم میں تمہیں سب بتاتی ہوں" فضا نے سے صنم کی کیفیت دیکھتے ہو اسے وضاحت دینی چاہیے

"انٹی آپ کی فرینڈ آپ کا ویٹ کر رہی ہیں پلیز آپ انہیں ٹائم دیں"
صنم فضاء سے کہتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئ۔۔۔ فضا تاسف سے سر ہلاتی ہوئی شہناز کے پاس آئی۔۔۔۔ اس نے سوچا شہناز کے جانے کے بعد، ہادی کے آنے سے پہلے وہ صنم کی غلط فہمی کو دور کردے گی۔۔۔ ابھی شاید صنم اکیلا رہنا چاہتی ہو۔ ۔۔ تھوڑی دیر شہناز کے پاس وہ بھی غائب دماغی میں بیٹھی باتیں کرتی رہی اس کا سارا دھیان صنم کی طرف تھا۔۔۔ شہناز کے جانے کے بعد وہ فورا صنم کے پاس بیڈ روم میں آئی تو صنم بیڈ روم میں موجود نہیں تھی۔۔۔ پورے گھر میں صنم کی تلاش کرنے کے بعد جب صنم فضا کو نہ ملی تو وہ گھبرا گئی باہر گیٹ پر چوکیدار سے معلوم ہوا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی ہے۔۔۔ فضا سر پکڑ کر بیٹھ گئی اس نے ہادی کو کال ملائی تو کال ریسیو نہیں کر رہا تھا پھر فضا نے صنم کا نمبر ٹرائی کیا مگر دوسری طرف اس کا نمبر پاورڈ of تھا

**

جاگنگ کرکے وہ اپنے بیڈ روم میں آیا تو حیا کو گہری نیند میں سوتے ہوئے پایا۔۔۔اس کے قریب آکر معاویہ نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ ہلکا سا کسمسائی معاویہ اس کی نیند خراب ہونے کے خیال سے پیچھے ہوا۔۔۔ وہ چند گھنٹوں پہلے ہی سوئی تھی پوری رات اسے معاویہ نے اپنی محبت کی برسات میں بھی بھگوئے رکھا اور اپنی تمام تر شددتیں اس پر لٹا کر،، اسے اچھی طرح سمجھایا کہ وہ ان دو مہینوں میں اسے کتنا تڑپا چکی ہے۔۔۔۔۔ یونیفارم پہن کا وہ روم سے نکلا ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو وہاں ناعیمہ اور خضر موجود تھے

"حیا کہاں رہ گئی" ناعیمہ نے سیڑھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے معاویہ سے پوچھا

"وہ لیٹ اٹھے گی مام"
معاویہ نے جوس کا سپ لیتے ہوئے کہا

"طبیعت ٹھیک ہے اس کی"
خضر نے معاویہ سے پوچھا 

"جی ڈیڈ طبیعت ٹھیک ہے"
معاویہ نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ناشتے سے فارغ ہو کر وہ پولیس اسٹیشن جانے کی غرض سے اپنی کار کی طرف بڑھا تو صنم کو دوسری گاڑی سے باہر نکلتے دیکھا معاویہ اس کے پاس آیا

"صنم سب خیریت ہے تم ٹھیک ہو" معاویہ نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا جو کہ اسے سب کچھ ٹھیک ہونے کی نشاندہی نہیں دے رہا تھا

"بھائی"
اس سے آگے صنم سے کچھ نہیں بولا گیا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آنسووں کا طوفان جو کہ کب سے تھاما ہوا تھا ایک دم معاویہ کو دیکھ کر امڈ آیا۔۔۔ معاویہ کے سینے پر سر رکھ کر وہ بری طرح رونے لگی

"گڑیا کیا ہوا یہاں دیکھو میری طرف مجھے بتاؤ"
معاویہ کے پوچھنے پر صنم کے رونے میں اور شدت آئی

"میں چھوڑوں گا نہیں اس ہادی کو" معاویہ نے غصہ میں کہا تو صنم بے ساختہ بول اٹھی

"بھائی پلیز آپ ہادی کو کچھ نہیں کہیں گے آپ کو میری قسم ہے"
صنم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

"کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ مجھے بتاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے"
معاویہ نے سنجیدگی سے صنم سے سوال کیا

"کچھ نہیں کیا انھوں نے اور نہ ہی مجھے کچھ کہا ہے میرا دل گھبرا رہا تھا تو اس لیے آگئی لیکن اگر آپ ہادی سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو میں ابھی واپس چلی جاؤ گی"
صنم نے نارمل ہوتے ہوئے معاویہ سے کہا

"اوکے چہرہ صاف کرو مام ڈیڈ کے پاس جاو میں شام میں آکر بات کرتا ہوں"
معاویہ نے اس کو رومال پکڑایا جس سے صنم چہرہ صاف کر کے اندر چلی گئی
     
 **


حیا سو کر اٹھی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو دن کے 12 بج رہے تھے

"اف اتنی دیر سوتی رہ گئی"
انگڑائی لیتے اپنے ہاتھ میں موجود بریسلیٹ پر نظر پڑی تو بہت سارے خوبصورت رنگ اس کے چہرے پر بکھر گئے۔۔۔۔ شاور لینے کے  بعد سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ نیچے ہال میں پہنچی تو سامنے صوفے پر صنم کو بیٹھے دیکھا

"ارے صنم تم کب آئی"
حیا مسکراتے ہوئے صنم سے ملنے کے لیے اس کی طرف بڑھی۔ ۔۔۔ مگر صنم کے چہرے کے سرد تاثرات نے اس کے قدم وہی روک لیے

"سب ٹھیک ہے میرا مطلب ہے تم ٹھیک ہو"
وہ حیا کو ہی دیکھے جا رہی تھی۔۔ حیا کو کچھ نہیں سمجھ میں آیا تو اس کی خیریت معلوم کی

"کچھ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے آپ کے ہوتے ہوئے"
صنم نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔۔۔ حیا حیران ہو کر اس کو اپنے روم کی طرف جاتا ہوا دیکھتی رہی


جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 58

Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 58


شام کے وقت ہادی اور صنم زین کی طرف حیا سے ملنے آئے تو وہاں پر معاویہ کی موجودگی سے ہادی کا موڈ اف ہوگیا معاویہ نے بھی اسے برداشت کرنا ہی تھا
سب لوگ ڈرائنگ روم میں موجود تھے

"اور بھئی حیا کب آئی تم میکے۔۔ شادی کے بعد تو لگتا ہے آنٹی انکل کو بھول ہی گئی ہو یا پھر آنے کی اجازت نہیں ملتی"
ہادی نے حیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اور آخری جملہ بولتے ہوئے معاویہ کو دیکھا

"اتنے گڈس تو خود مرد میں ہونے چاہیے کے وہ پیار اور توجہ سے بیوی کو اپنا پابند کرلے۔۔  اسے خود میکے کی یاد نہ آئے خیر اب تم صنم کو بھی ہمارے پاس آنے کی اجازت دے دو شادی کے دوسرے دن ہی تم نے صاف منع کردیا تھا۔۔۔۔ ویسے بھی ہم نے صنم کو وداع کیا ہے خود سے جدا نہیں کیا"
حیا کے بولنے سے پہلے معاویہ نے ہادی کو اس کی بات کا جواب دیا
ڈرائنگ روم میں ایک دم خاموشی چھا گئی جسے صنم کی آواز میں توڑا

"بھائی آپ کب آئے" صنم نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"معاویہ تو کل رات میں آئے تھے اور پھر مما بابا کے اصرار پر یہاں پے رک گئے"
حیا نے مسکرا کر صنم کو جواب دیا تو صنم بھی مسکرا دی

"ویسے سسرال میں داماد کا رکنا کچھ عجیب سا نہیں لگتا مطلب"
ہادی کچھ اور بولتا زین بول اٹھا

"معاویہ داماد نہیں ہے بیٹا ہے ہمارا اور یہ گھر نہیں سسرال ہے اس کا"
زین نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا ایک دفعہ پھر کمرے میں خاموشی چھا گئی معاویہ کا دل چاہا سامنے بیٹھے شخص کو خوب پیٹے مگر اپنی بہن کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان بھی بند کرنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ ۔۔۔حیا اٹھ کر کچن میں گئی تو معاویہ کی نظر صنم کے ہاتھ پر پڑی

"صنم ہاتھ کو کیا ہوا ہے تمہارے"
معاویہ نے صنم کا ہاتھ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا

"کل ناشتے میں انڈہ فرائی کرتے ہوئے ہاتھ جل گیا تھا۔۔ مگر زیادہ نہیں جلا اب تو ٹھیک ہوگیا"
صنم نے معاویہ کو بتانے کے ساتھ مطمئن بھی کرنا چاہا

"لگتا ہے تمہارے ہاں ایک دن کی دلہن سے کام کرنے کا رواج ہے۔۔۔ یہ بات داماد کے سسرال رکنے سے زیادہ عجیب ہے ویسے"
معاویہ نے ہادی کو دیکھ کر جتانے والے انداز میں کہا

"اس میں کچھ عجیب نہیں ہے۔۔۔ ویسے صنم میرے لئے اپنی خوشی سے میری پسند کا ناشتہ بنا رہی تھی تو اس کا ہاتھ جل گیا۔۔۔ ویسے وہ مرد بھی بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی بیویاں ان کو ویلیو دیں،  اپنے ہاتھ سے کچھ بنائے ورنہ بہت سے مردوں کو تو ان کی بیویاں منہ تک نہیں لگاتی"
اب ہادی نے معاویہ کو جتانے والے انداز میں کہا جس پر معاویہ ضبط کرکے رہ گیا،، زین اور حور ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔ صنم مسلسل اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی۔۔ آج بہت پچھتا رہی تھی ہادی کے ساتھ یہاں آنے پر

"یہ لیجئے حاضرین اور ناظرین گرما گرم گاجر کا حلوہ نوش فرمائیں"
حیا کی چہکتی ہوئی آواز نے ایک بار پھر کمرے کی خاموشی کو ختم کیا۔۔۔۔ وہ ٹرالی میں گاجر کے حلوے کے ساتھ مختلف قسم کے لوازمات رکھ کر ڈرائنگ روم کے اندر داخل ہوئی

"بیٹا نسیمہ کو لانے دیتی تمہیں کیا ضرورت تھی"
زین نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیوں لانے دیتی نسیمہ کو محنت سے میں نے بنایا ہے گاجر کا حلوہ، تو سب کو سرو بھی میں کرو گی لیکن جس کے لئے اتنی محنت کی ہے پہلے وہ ٹیسٹ کر کے بتائے گا کہ کیسا بنا ہے حلوہ"
حیا نے معاویہ کی طرف باول بڑھاتے ہوئے کہا تو معاویہ نے حیرت سے اس کو دیکھا

"یہ آج میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے بنایا ہے۔۔۔ تمہاری پسند کو مدنظر رکھ کر"
حیا نے مسکرا کر معاویہ کو کہا معاویہ نے اسمائل دے کر باول اس کے ہاتھ سے تھام لیا۔۔ اور حلوہ ٹیسٹ کیا۔ ۔۔

"تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو ہادی وہ مرد واقعی خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی بیوی ان کو ویلیو دیں اور میں اللہ پاک کا شکر گزار ہوں میری گنتی بھی انہی مردوں میں ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے ہادی سے کہا

"حیا اس سے زیادہ مزیدار حلوہ میں نے آج تک نہیں کھایا تھینک یو۔۔۔ ویسے انکل میں صبح آپ کی قسمت پر رشک کر رہا تھا،، آنٹی کے ہاتھ میں واقعی بہت ذائقہ ہے مگر دیکھ لیں میری بیگم بھی کم نہیں۔۔میں گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں آپ حیا کے ہاتھ کا حلوہ کھائیں گے تو اگلی بار خود اس سے فرمائش کر کے بنوائے گے"
معاویہ نے مسکرا کر زین کا صبح والا جملہ اسی کو لوٹ آیا۔۔۔ جس پر زین ہنس پڑا

حیا نے زین کے بعد باری باری سب کو سرو کیا۔۔۔

"بھابھی حلوہ بہت ٹیسٹی بنایا ہے آپ نے"
صنم نہ حیا کی تعریف کرتے ہوئے کہا جو اس نے خوش دلی سے وصول کی اور جا کر معاویہ کے برابر میں بیٹھ گئی۔۔۔ معاویہ نے آنکھوں میں نرم تاثر لیے اس کو دیکھا تو حیا مسکرا دی

"ہاں حیا حلوہ تو واقعی زبردست بنایا ہے ویسے بنانے کا کام تو معاویہ بھی بہت اچھا کرتا ہے جیسے تصویریں کیوں معاویہ"
ہادی نے مسکرا کر معاویہ کو دیکھا جس پر معاویہ کا ضبط کرنا مشکل ہو گیا مگر وہاں زین اور حور کی موجودگی نے اسے بےبس کر دیا ورنہ وہ آگے بڑھ کر ہادی کا منہ ضرور توڑتا     

"ہادی تم صنم کے ساتھ پہلی دفعہ یہاں آئے ہو تو اچھا نہیں ہے کہ تم اچھے مہمانوں کی طرح یہاں بی ہیو کرو"
حیا نے سیریز انداز میں ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"ارے میں تو مذاق کر رہا تھا تم تو سیریس ہوگئی"
ہادی نے مسکرا کر کہا

"مذاق کو مذاق کی طرح کیا جائے تو اچھا لگتا ہے آئندہ خیال رکھنا ورنہ میں نہ خیال کرو گی نہ لحاظ کرو گی"
حیا نے ہادی کو تنبہی کرتے ہوئے کہا

"ویسے واقعی بیوی تم بہت اچھی ثابت ہوئی ہوں"
ہادی نہ حیا کو دیکھ کر کہا

"صنم بھی بہت اچھی بیوی ثابت ہوگی اس کا خیال رکھا کرو اور اس سے جڑے ہوئے دوسرے رشتوں کا بھی"
حیا نے ہادی کو ایک اور دفعہ باور کرایا

"کون سی گفتگو ہو رہی ہے یہ ایسا کیا ہے جو میں نہیں جانتا"
زین جو کافی دیر سے چپ کرکے سب کی سن رہا تھا ایک دم بولا

"بابا اگر کوئی خاص بات ہوتی تو آپ کو ضرور بتاتی ایسی کوئی خاص بات نہیں"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے بولا پھر معاویہ کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اپنا غصہ کنٹرول کر رہا تھا

"میرے خیال میں رات کے ڈنر کا وقت ہونے والا ہے میں ڈنر کی تیاری کر لو صنم بیٹا آپ کو کیا پسند ہے کھانے میں"
حور نے موضوع چینج کرنے کے غرض سے اٹھتے ہوئے صنم سے پوچھا

"حور آنٹی آپ تکلف نہ کریں کھانے کا صنم نے کہا تھا کہ حیا کو دیکھنا ہے اس لیے اسے لے آیا۔۔۔اور آج حیا کو دیکھ بھی لیا"
ہادی نے اٹھتے ہوئے اور صنم کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا

"بیٹھ جاو ہادی بیٹا کھانا کھا کر جانا" زین نے ہادی کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا

"پھر کبھی صحیح انکل اپنا گھر ہے کھانے کا کیا،، دوبارہ آجائیں گے،، ابھی اجازت دیں"
ہادی زین سے ہاتھ ملاتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا

**

"حیا مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے" زین نے حیا کی روم میں آتے ہوئے کہا۔۔۔ معاویہ تھوڑی دیر ہوئی تھی اسموکنگ کے غرض سے باہر نکلا تھا تبھی زین حیا کے پاس آیا

"جی بابا پوچھئے"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی بہت خاص بات ھے جس سے میں لاعلم ہوں اور وہ بات میرے علم ہونی چاہیے۔۔۔ ایسی کیا بات ہے حیا"
زین نے حیا سے استفادہ کیا

"بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے ہادی فضول کی ہانک کر گیا ہے اس کی کسی بھی بات کو سیریز نہیں لیں آپ"
حیا نے زین کو مطمئن کرنا چاہا

"کیا معاویہ کا رویہ تمہارے ساتھ ٹھیک ہے"
زین نے حیا سے پوچھا

"آپ کو معاویہ کا رویہ میرے ساتھ کیسا فیل ہوا ہے بابا۔۔وہ کل رات سے یہاں پر موجود ہے مجھے دیکھنے آیا، آپ لوگوں کے اصرار پر یہاں پر رکا۔۔۔ آپ تو انسان کو اچھی طرح جج کرلیتے ہیں پھر ایسے کیوں سوچ رہے ہیں"
حیا رسانیت سے زین کو جواب دیا

"پھر میں ہادی کی باتوں کے کیا معنی آخذ کرو"
زین سوچتے ہوئے کہنے لگا

"بابا اس کی باتیں بے معنی تھی آپ میرا یقین رکھیں مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا، اگر آپ ان باتوں کو لے کر معاویہ سے بدگمان ہوگے۔۔ معاویہ میرا شوہر ہے، آپ کی بہت عزت کرتا ہے اور میں آپ کی آنکھوں میں بھی اس کے لیے وہی اپنائیت دیکھنا چاہتی ہوں جو آج ہمیشہ میں نے دیکھی ہے"
حیا نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"میری پرنسسز خوش اور مطمئین ہے تو اس کے بابا بھی خوش اور مطمئن"
زین نے مسکرا کر حیا کا سر تھپتھپایا

**

زین کے جانے کے بعد حیا اپنے بیڈ روم میں ہی تھی جب اس کی نظر اپنے جیولری باکس پر پڑی۔۔۔۔ جیولری باکس میں سے اس نے معاویہ کا دیا ہوا پینڈنٹ نکال کر دیکھا جو اس نے حیا کو برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا

"اب یہ جب پہننا جب تمہیں لگے کہ تم نے معاویہ کہ دل تک رسائی حاصل کر لی"
حیا پینڈنٹ گلے میں ڈالتے ہوئے معاویہ کے جملے یاد کرنے لگی۔۔۔۔ حیا نے اس وقت سوچا بھی نہیں تھا یہ شخص کبھی اس کے دل تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔۔۔ دروازہ بند کرنے کی آواز پر حیا نے مڑ کر دیکھا

"حیا کیوں نہ ہم"
معاویہ جو اس سے روم میں کچھ کہنے آیا تھا اپنا پینڈنٹ پہننا دیکھ کر وہی رک گیا اور اس کے جملے منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا

"جانم آج تو تم بار بار حیران کرنے پر تلی کو"
معاویہ حیا کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرکے اس کی گردن پر جھکا

"گھر کب تک چلنا ہے"
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا

"شادی کے بعد فرسٹ ٹائم بابا مما کے آئی ہو تو ہفتہ دس دن تو رکو گی نا"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"تھوڑی دیر میں ہم لوگ واپس جا رہے ہیں،، اب آگے سے کوئی بات نہیں"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"پھر تم بابا سے بات کرلو وہ تو مجھے اسی ارادے سے لائے ہیں اور انکل نے بھی خوشی خوشی اجازت دی تھی"
حیا نے اپنی ہنسی دبا کر اس کو ستانے کے غرض سے کہا

"گھر چلو پلیز"
معاویہ نے التجائی انداز میں حیا سے کہا

"اوکے ایک شرط پر"
حیا نے اس کی شرٹ کے بٹن کو چھیڑتے ہوئے اپنی شرٹ بتائی

**

ہادی صنم کو لے کر گھر پہنچا تو دونوں کے درمیان کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔۔۔ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ہادی روم میں آیا تو صنم آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے لیٹی تھی روم کی لائٹ بھی آف تھی ہادی نے برابر بیٹھتے ہوئے لیمپ آن کیا

"سو تو نہیں رہی ہوں تم اس کا مجھے اندازہ ہے"
ہادی نے اسکا ہاتھ آنکھوں سے ہٹاتے ہوئے کہا

"اندازہ تو آپ کو ساری باتوں کا ہوتا ہے ہادی مگر پھر بھی آپ کو فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی یہ باتیں کسی دوسرا انسان کتنا ہرٹ کر رہی ہیں"
صنم آنکھیں کھول کر اٹھ کر بیٹھی اور اس سے شکوہ کیا

"ہرٹ نہیں ہوگا تمہارا بھائی۔۔ جو دوسروں کا دل دکھانا جانتے ہیں جب کوئی ان کا دل دکھائے تو وہ ہرٹ نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر جلتے ہیں اور یہ جلن مجھے کافی مزا دے رہی تھی اس وقت"
ہادی نے صنم کو دیکھتے ہوئے کہا

"میں بھائی کی بات نہیں کر رہی ہوں ہادی۔۔۔ میں اپنی بات کر رہی ہوں،، آپ کی باتیں مجھے ہرٹ کرتی ہیں"
صنم شکوہ بھری نظروں سے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی

"کیوں ایسا کیا کہہ دیا میں نے تمہارے بھائی کو جو تم ہرٹ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ اس نے تو میری باتوں کو بکواس سمجھ کر ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا ہوگا اور تم یہاں سوگ منانے بیٹھی ہو۔۔۔ صنم چینج کرو اپنی عادت کو اس طرح چھوٹی چھوٹی اور بے ضرر باتوں کو دل سے لگاو گی تو اپنا نقصان کرو گی" ہادی نے صنم کو سمجھاتے ہوئے کہا

"ہوتی ہوگی کچھ ایسی باتیں جو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی جائے مگر کبھی کبھی کچھ باتیں یہاں لگتی ہیں اور پھر وہ کبھی بھی دل سے نہیں نکلتی"
صنم نے انگلی سے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

"سونے کا موڈ ہے یا آج رات ایسی ہی ماتم کرنا ہے بیٹھ کر" ہادی نے سنجیدگی سے صنم سے پوچھا

"آخر ایسی کیا وجہ ہے جو آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ہیں"
صنم نے نم آنکھیں لئے ہوئے ہادی سے سوال کیا

"مجھے تمہارے بھائی کی شکل پسند نہیں بالکل اسی طرح جس طرح اسے میری شکل پسند نہیں سن لی وجہ آپ خود بھی سو جاو اور مجھے بھی سونے دو"
ہادی لیمپ بند کرتا ہوا لیٹ گیا اور صنم اندھیرے میں ویسے ہی کافی دیر تک بیٹھی رہی

**

گھر آئی ہوئے اسے دو گھنٹے ہوگئے تھے مگر جب سے وہ نیچے ہال میں صوفے پر نیم دراز اسکرین پر نظر جمائے سگریٹ کے کش لگانے میں مصروف تھا۔۔۔ حیا اس کے ساتھ اسی شرط پر واپس آئی تھی کہ جب تک وہ اسے خود کمرے میں آنے کے لئے نہیں کہے گی وہ روم میں نہیں آئے گا۔ ۔۔۔
اسکرین پر نظر جمائے ہوئے وہ کوئی ایکشن مووی بڑی بے دلی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب وہ تھوڑی دیر بعد حیا کو میسج کرتا تو حیا دس منٹ ویٹ ٹائپ کر دیتی۔۔۔

"پتہ نہیں اب یہ شیرنی کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے"
ابھی معاویہ سوچ ہی رہا تھا کی خضر صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔۔ تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اور سگریٹ ایش ٹرے میں مسلی۔ ۔۔۔  یہ اس کی عادت میں شامل تھا کہ وہ خضر اور ناعیمہ کے سامنے اسموکنگ نہیں کرتا تھا۔۔۔خضر نے ٹیبل پر رکھا ہوا ریموٹ اٹھایا اور کرکٹ میچ لگایا۔۔۔ اس دن کے بعد سے وہ معاویہ سے بات نہیں کر رہا تھا مگر یہ پہلی دفعہ تھاکہ معاویہ اسے خود جان بوجھ کر مخاطب کرتا تھا مگر وہ ضروری بات کا جواب ہاں ہوں میں دے دیتا تھا اور یہ بھی پہلی دفعہ ہوا تھا کہ معاویہ کو پہلی دفعہ خضر کی ناراضگی بری طرح کھلی

"بہت بری پرفارمنس ہے ان لوگوں کی مجھے نہیں لگتا کہ ان سے کچھ ہو پائے گا"
معاویہ نے میچ دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگا مگر دوسری طرف خاموشی

"تو آپ کبھی بھی آب بات نہیں کریں گے مجھ سے" معاویہ نے خضر کی خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے پوچھا

"کیا فرق پڑتا ہے تمہیں اس سے"
خضر نے اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے معاویہ کو بولا

"فرق نہیں پڑتا تو پہل کیوں کرتا۔۔۔اوکے سوری بس اب موڈ ٹھیک کرلیں اپنا"
معاویہ نے پہل کرتے ہوئے کہا جوکہ اس کی عادت کے خلاف تھا

"آنکھوں اور لہجے میں تو تمہارے پشیمانی ہے نہیں۔۔۔ مگر پھر بھی تم نے سوری کہاں اپنے باپ کو باپ سمجھا۔۔ آئندہ سے کبھی ایسا کام نہیں کرنا جس سے میرا سر جھکے۔۔۔ اور اپنا اسٹائل کے درست کرو حیا بیوی ہے تمہاری کوئی مجرم یا غلام نہیں"
خضر نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا

"جی ڈیڈ"
معاویہ نے کہا وہی موبائل پر حیا کا میسج آیا

"چلو صبح اٹھنا ہوگا تمہیں بیڈ روم میں جاو اپنے"
خضر نے والیوم بڑھاتے ہوئے کہا مطلب صاف تھا وہ اب کرکٹ دیکھنا چاہتا ہے خاموشی سے

"گڈنائٹ ڈیڈ"
معاویہ خضر کو کہتا ہوں اٹھا جس پر خضر نے اس کا سر ہلا کر جواب دیا اور میچ دیکھنے لگا۔۔۔۔ معاویہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں پہنچا۔۔۔۔ بیڈروم کا دروازہ کھولا تو سامنے دیکھ کر ایک دم رکا اور اس کی آنکھوں میں حیرت کا عنصر ابھرا

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 57

Itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Surprice epi # 57

صبح حیا کی آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں حیا معاویہ کو سوتے ہوئے پایا کل رات اسے اپنے ماتھے پر اور چہرے پر معاویہ کے ہونٹوں کا لمس کا احساس ہو رہا تھا مگر وہ سمجھی خواب میں فیل کررہی ہے سگریٹ اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو جو ہر وقت اسے معاویہ کے پاس سے آتی تھی شروع شروع میں جو زہر بھی لگتی تھی اب خود اس خوشبو کی عادی ہوگئی تھی۔۔۔
اپنے قریب اس خوشبو کو محسوس کرکے وہ معاویہ کو دیکھے گئی اسے معلوم ہی نہیں ہواکپور کو اچھا لگنے لگا کب اس سے محبت ہو گئی جب وہ اس کے لئے خوفی بنا کر لائی تھی تب یا پھر جب اس کا سر دبا رہی تھی تب جو بھی تھا صنم کی بارات والے دن معاویہ کا اسے اگنور کرنا شدت سے محسوس ہوا معاویہ کا نیناں کا ہاتھ پکڑنا اسے جلن میں مبتلا کر گیا اور جب اس نے کل رات جنگل میں گولیوں کی آواز سنی معاویہ کا خیال آتے ہی اس کا دل بند ہونے لگا یا پھر شاید ہی نکاح کے تین بولو کا اثر ہوتا ہے۔ ۔۔ دل میں محبت نہ ہونے کے باوجود دل اپنے محرم کی طرف کھنچتا چلا جاتا ہے۔۔۔ جو بھی تھا سے اپنے دو ٹکے کا پولیس والا اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ حیا کو اپنی سوچ پر خود ہی ہنسی آ گئی معاویہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حیا کا مسکراتے ہوئے چہرہ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔ معاویہ نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا تو رات کو ہلکی سی حرارت جو محسوس ہو رہی تھی اس وقت اس کا ماتھا بالکل نارمل تھا

"بخار تو اتر گیا میرا"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں مجھے لگ رہا ہے بخار دماغ پر چڑھ گیا ہے جبھی اکیلے میں مسکرا رہی ہو"
معاویہ اسکو چھیڑتے ہوئے اپنے سے قریب کر کے اس پر جھکا

"کیا کر رہے ہو"
حیا نے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

"تمہارا علاج"
معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں سے ہٹا کر بیڈ پر رکھے اور اس کی گردن پر جھکا

"معاویہ یہ میرے بابا کا گھر ہے"
حیا نے اس کے کام میں مداخلت کرتے ہوئے کہا

"تو"
معاویہ نے حیران ہو کر اس کو دیکھا جیسے اس کی بات نہیں سمجھی ہو

"میرا مطلب ہے بابا کے گھر اس طرح رومنٹک ہونے کی ضرورت نہیں مجھے شرم آ رہی ہے"
حیا نے اپنی لاجگ بیان کی جس پر معاویہ کا غش کھا کر رہ گیاا

"یعنی میرے ڈیڈ کا گھر کوئی لاور پوائنٹ ہے"
معاویہ نے گھور کر اس کو دیکھا اور پھر دوبارہ جھکا

"ابھی تم پیار جتا رہے ہو کل میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو تم نے خبر بھی نہیں لی"
حیا کو یکدم شکوہ یاد آیا

"کل کے کام بہت ضروری تھے جو نمٹانے تھے یاد تو تمہاری وقفے وقفے سے آتی رہی جبھی تو خبر لینے آگیا رات کو ہی مگر تم ہی مجھ سے بے خبر ہو کر سو رہی تھی" وہ اس کا چہرہ چومتا ہوا وضاحت دینے لگا

"ایکسپلینیشن نہیں چاہیے اب تو غلطی کی پنشنمیںنٹ ملے گی"
حیا نے زین کے اسٹائل میں بولا

"اور اپنی سزا میں خود تجویز کروں گا"
وہ اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے بولا

"پولیس والے تم باہر ہو گھر میں صرف میری چلے گی"
حیا نے اس کو پیچھے کرتے ہوئے بولا اور خود اٹھ گئی

"اب بالکل ظلم نہیں کرنے دوں گا تمہیں اپنے اوپر۔۔۔ ذرا بھی ترس نہیں آتا تمہیں اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر"
معاویہ دوبارہ حیا کو اپنے اوپر گراتا ہوا بولا

"تم ترس کھانے والی چیز ہرگز نہیں ہو"
حیا نے آنکھیں سکھیڑ کر بولا۔۔حیا نے اٹھنا چاہا معاویہ نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر پر باندھ کر اس کی کوشش ناکام بنائی

"ترس نہیں کھاؤ مگر اپنی محبت کا یقین دلاؤ"
معاویہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انوکھی سی فرمائش کی

"اور وہ یقیناً جناب کو کیسے آئے گا"
حیا نے ابرو اچکا کر پوچھا

"صرف ایک چھوٹی سی کس دینے سے"
معاویہ نے حیا کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہونٹ پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کی بات سن کر حیا بلش ہوئی

"زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی"
حیا نے گھور کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"اور جب تک تم ایسا نہیں کروں گی میں تمہیں بخشنے والا نہیں"
معاویہ نے چیلنج کرتے ہوئے اس کو کہا۔۔اور کروٹ لے کر وہ حیا کے اوپر جھک گیا

"مما بابا اٹھ گئے ہوگیں مجھے باہر جانا ہے"
حیا نے فرار کے راستے بند دیکھے تو نظریں جھکا کر بولا

"پہلے کس"
معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا

"معاویہ پلیز"
حیا نے روہانسی انداز اپنا کر بولا

"حیا پلیز"
معاویہ نے اسی کے اسٹائل میں بولا

"گھر جا کر"
حیا نے کہا

"نہیں یہی پر"
معاویہ نے کہا

"گال پر"
حیا نے کہا

"نہیں ہونٹوں پر"
معاویہ نے کہا

"آنکھیں بند کرو"
حیا نے کہا

معاویہ نے مسکرا کر آنکھیں بند کرلی۔۔۔ حیا نے اس سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کیا اور بیڈ پر لٹایا اور خود اس پر جھکی اپنی دو انگلیاں معاویہ کے ہونٹوں پر رکھی

"اتنا آسان ٹاسک میں بھی نہیں"
سرگوشی کے انداز میں کہتی ہوئی اس نے دروازے کی طرف دوڑ لگادی

معاویہ نے اس کو گھور کر دیکھا۔۔۔  دروازے کے پاس جاکر فلائنگ کس دیتی ہوئی وہ باہر چلی گئی۔۔۔

**

"میری جان تم اٹھ کر کیوں آگئی بخار کم ہوا"
زین نے اس کو ہال میں آتا دیکھ کر بولا اور خود بخار چیک کرنے لگا

"بابا بخار بالکل ٹھیک ہو گیا مما کہاں ہیں"
زین کو جواب دے کر وہ حور کو کچن میں دیکھنے لگی

"آج تمہاری مما اپنے داماد کے لیے خاص ناشتے کی ہدایت نسیمہ کو دے رہی ہیں"
زین کے بتانے پر حیا اور زین دونوں ہنس دیے۔۔۔ معاویہ بھی روم سے نکل کر وہی آگیا

"آجاؤ بھئی معاویہ تم بھی یہی ہمارے پاس بیٹھو"
زین نے معاویہ کو دیکھ کر کہا وہ وہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ حیا زین کے برابر میں بیٹھی ہوئی پاؤٹ بنا کر اسے دیکھنے لگی

"معاویہ کیا پسند ہے تمہیں ناشتے میں سب سے زیادہ"
حور کچن سے نکل کر آئی معاویہ سے پوچھنے لگی

"انٹی آپ تکلفات میں نہیں پڑے جو سب کھائے گے میں وہی کھالوں گا"
اس کی سعادت مندی پر حیا بےہوش ہوتے ہوتے بچی

"ارے ایسے کیسے تکلفات میں نہیں پڑے۔۔۔ بھئی فرسٹ ٹائم تم ہمارے گھر رکے ہو ہمارے داماد ہو۔۔ حور ایسا کرو آج تم اپنے ہاتھ کے پراٹھے بنا کر کھلاؤ معاویہ کو"
زین کی شوشے چھوڑنے پر جہاں حور نے گھور کر زین کو دیکھا وہی حیا کی ہنسی نکل گئی۔۔۔

زین کو حور کے ہاتھ کے پراٹھے بہت پسند تھے مگر جتنے ذائقے دار وہ پراٹھے بناتی تھی،، اتنی ہی اسے کوفت پراٹھے بنانے میں آتی تھی اس لئے زین جب کبھی فرمائش کرتا تو ایک پراٹھے کے بعد آنکھیں دکھا دیتی جب کہ زین کا ایک پراٹھے میں گزارا نہیں ہوتا       

"نہیں آ نکل آپ انٹی پر صبح صبح برڈن نہیں ڈالیں پراٹھے ویسے بھی ہیوی ہوجائیں گے" معاویہ نے حور کی شکل دیکھتے ہوئے اور حیا کی مسکراہٹ سے سمجھ گیا بندوق اس کے کندھے پر رکھے چلائی جا رہی ہے پراٹھا اس کے سسر نے کھانا ہے

"ارے نہیں برڈن کی کیا بات ہے میں بنا دیتی ہوں"
حور نے داماد کو پروٹوکول دیتے ہوئے زبردستی مسکرا کر کہا

"یہ ہوئی نہ بات حور جو کل رات قیمہ بنایا تھا وہ بھی گرم کر لینا" زین نے حور کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا۔۔  وہ زین کو گھورتے ہوئے کچن میں چلی گئی

"ویسے پراٹھے پسند ہیں نہ تمہیں"
زین نے معاویہ سے پوچھا

"مجھے لگتا ہے آنٹی کو بنانا زیادہ پسند نہیں"
اس نے زین کو مسکراتے ہوئے جواب دیا

"ارے یار اتنے دنوں بعد مجھے پراٹھے کھانے کا موقع ملا ہے بے فکر رہو اگر تمہیں پسند نہیں بھی ہوئے تو گارنٹی سے کہہ سکتا ہوں میری بیگم کے ہاتھ کے پراٹھے کھاؤ گے تو اگلی دفعہ یہاں آکر خود فرمائش کرو گے"
زین نے وثوق سے کہا

"آپ کی تعریفوں سے تو اب بھوک جاگنے لگی ہے" معاویہ نے مسکراتے ہوئے کہا

حیا کو اس طرح زین اور معاویہ کا باتیں کرنا بہت اچھا لگا وہ مسکراتی ہوئی وہاں سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔۔۔ جہاں حور پراٹھے بنانے میں مصروف تھی

"مما میں کچھ ہیلپ کرو"
حیا نے حور کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا

"بس اپنے بابا کو آنکھوں کے ذریعے کنٹرول میں رکھنا کہ ایک پراٹھے کے علاوہ دوسرے کو ہاتھ بھی نہ لگائے باقی سب میں کر لیتی ہوں تم ریسٹ کرو جاکر"
حور نے اپنے چہرے پر آئی ہوئی لٹوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا اور پراٹھا کا پیڑا بنانے لگی

"اتنی ساری گاجریں کیوں منگوائی ہیں آپ نے"
حیا نے ایک کاجر اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا

"سوچا تھا گاجر کا حلوہ بناؤ گی لیکن اب پروگرام کینسل"
حور نے پراٹھا بیلتے ہوئے کہا

"مما معاویہ کو گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے آنٹی نے بتایا تھا مجھے۔۔۔ آج میں گاجر کا حلوا بناتی ہو"
حیا کی فرمائش سن کر حور نے اسے گھور کر دیکھا

"نکلو کچن سے تم، بیمار ہو اور تمہیں کب آتا ہے کچھ بنانا۔۔۔ جو تم گاجر کا حلوہ بناؤں گی،، الٹا میرا کام اور بڑھے گا۔۔ باہر سے منگوالیں گے آج گاجر کا حلوہ" حور نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"اوہو ماما آپ کو تھوڑی کہہ رہی ہوں آپ پراٹھے بنائے میں نے نسیمہ سے ہیلپ لے لیتی ہوں تھوڑی بہت آجاو میدان میں نسیمہ"
حیا نے نسیمہ کو اپنے ساتھ لگایا۔۔ پراٹھے واقعی بہت مزے دار تھی زین اور معاویہ باتیں کرتے کرتے کھاگئے پتہ ہی نہیں چلا مگر حور کی حالت پراٹھے بنا بنا کر پتلی ہوگئی

"ماما جب سے پراٹھے ہی بنائے جاری ہیں"
کافی دیر بعد حیا نے حور کو کہا

"حیا پتا نہیں ان دونوں کو کیا ہوگیا دونوں رک ہی نہیں رہے ہیں۔۔ شاہ تو میرے گھورنے کا نوٹس ہی نہیں لے رہا ہے۔۔ مجھے فکر ہو رہی ہے ان دونوں کے پیٹ میں کوئی جن ون تو نہیں بیٹھا ہوا۔۔۔ میں 6 پراٹھے بنا چکی ہوں وہ دونوں ابھی بھی کھائے جارہے ہیں"
حور نے گھبراتے ہوئے کہا

"کیا آپ 6 پراٹھے بنا چکی ہیں۔۔ او گاڈ وہ تو پولیس والے ہے خیر مگر یہ بابا کو کیا ہوگیا ہے" حیا نے حیرت سے کہا

"اپ روم میں جائے میں ان دونوں کو دیکھتی ہوں"
حیا کو ماں پر ترس آیا تو وہ حور کو روم میں بھیج کر ڈائننگ ٹیبل پرگئی

"کیا ہوگیا آپ دونوں کو۔۔۔۔۔ یہ کوئی انسانوں والی بات ہوتی ہے  6 پراٹھے کھا چکے ہیں آپ دونوں"
حیا نے صدمے سے ان دونوں کو بتایا

"6 پراٹھے کون کھا سکتا ہے بھلا، کیا ہوگیا تم کو"
معاویہ نے حیا کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا

"حیا ٹھیک ہے رہی ہے ہم نے کھائے ہوگے" زین نے مسکراتے ہوئے کہا

"کیا مذاق کر رہے ہیں انکل 6 پراٹھے" معاویہ کو یقین نہیں آیا

"یہی تو بات ہے میری بیگم کے ہاتھوں کے پراٹھوں کی کھاتے جاؤ کھاتے تو پتہ ہی نہیں چلتا"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا معاویہ کو ابھی بھی یقین نہیں آیا

**

شام کے وقت ہادی اور صنم زین کی طرف حیا سے ملنے تو وہاں پر معاویہ کی موجودگی سے ہادی کا موڈ آف ہو گیا معاویہ نے بھی اسے برداشت کرنا ہی تھا۔ ۔۔۔

جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 56

Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 56



"دروازہ کھولو"
معاویہ نے اویس شیرازی کے گیٹ پر کھڑے ہوئے گارڈ سے کہا

"کون ہو بھائی کس سے ملنا ہے"
گارڈ نے معاویہ سے پوچھا

"جاکر اپنے باپ سے کہو گے تمہارا باپ معاویہ مراد تم سے ملنے آیا ہے"
معاویہ کے نام بتانے پر دوسرے گارڈ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے دیا

"اے۔ایس۔پی کہو کیسے آنا ہوا"
اویس شیرازی کو اسے اپنے سامنے زندہ دیکھ کر غصہ تو بہت آیا مگر ضبط کرتے ہوئے اس نے پوچھا

"بہت ہی کم ہمت اور بزدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو پیٹھ پیچھے وار کرتے ہیں خیر مجھے تم سے امید بھی نہیں تھی کہ تم مردانگی کا ثبوت دیتے اور سامنے سے وار کرتے"
معاویہ نے اویس شیرازی کو دیکھتے ہوئے کہا

"بہت بول رہے ہو اے۔ایس۔پی زیادہ بولنے والے لوگ مجھے پسند نہیں،، میرے خلاف بولنے کرنے والوں کی زبانیں بند کر آنے میں مجھے زیادہ  وقت نہیں لگتا۔۔۔ تمہیں تو ڈرنا چاہیے تم میرے گھر میں آکر اور مجھے ہی باتیں سنا رہے ہو۔۔۔آئے تم اپنے پیروں سے چل کر ہوئے کہیں یہ نہ ہو، جانا تمہیں چار کندھوں پر پڑے"
اویس شیرازی نے اس کی غلطی کا اسے احساس دلایا جو اس سے اکیلے اس کے گھر آکر سرزد ہوگئی تھی

"میں صرف بولتا ہی نہیں ہو شیرازی بلکہ جو کرنا ہوتا ہے وہ کر گزرتا ہوں۔۔۔ میرے واپس جانے کی تو فکر نہیں کرو کیونکہ اگر میں یہاں سے آدھے گھنٹے کے اندر صحیح سلامت واپس نہیں گیا تو پوری پولیس ٹیم یہاں پر ہوگی۔۔۔

"تم ہمارے ہی گھر پہ کھڑے ہیں ہمیں دھمکیاں دے رہے ہو"
ساحر بیچ میں آ کر ایک دم معاویہ سے بولا تو معاویہ نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔۔۔۔ ایک دم سے حامد نے پسٹل نکال کر معاویہ پر تانی شیرازی نے ہاتھ کے اشارے سے حامد کو منع کیا

"تمہارے باپ سے بات کر رہا ہوں نہ میں اب بیچ میں نہیں بولنا"
معاویہ نے ساحر کو دیکھ کر سنجیدگی سے وارن کیا

"ہاں تو شیرازی میں بول رہا تھا یہاں سے میرے جانے کی فکر نہیں کرو اب تم اپنی خیر مناؤ۔۔۔کل جو گھٹیا حرکت تم نے اپنے کتوں کو بھیج کر کی ہے اس کا خمیازہ تو تم بہت جلد بھگتوں گے لیکن اگر تم نے میری فیملی کے کسی بھی فرد کو بری نظر رکھی یا اب کوئی بھی سازش کی تو میں تمہاری اور تمہارے اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا یہ تم یاد رکھنا"     
معاویہ اسے وارن کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا

**

"ارے زین کیسے ہو تم بیٹھو"
خضر آفس سے تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا ناعیمہ نے اس کو زین کی آمد کا بتایا

"میں ٹھیک ھوں تم سناؤ جلدی آگئے آج آفس سے"
زین نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے خضر سے پوچھا

"میں ٹھیک ہوں آجکل معاویہ بھی چکر لگا لیتا ہے آفس کا،، تو میرا جلدی ہی آنا ہو جاتا ہے تم بتاؤ سب ٹھیک ہے"
خضر نے زین سے پوچھا ناعیمہ بھی وہی آکر بیٹھ گئی

"ہاں ویسے تو سب ٹھیک ہے لیکن حیا کی کال آئی تھی میرے پاس،، طبیعت ٹھیک نہیں ہے اسکی بس مجھے فکر ہونے لگی تو سوچا اسے دیکھ لوں"
زین اپنے آنے کا ریزن بتایا

"کیا ہوا  حیا کو مجھے تو علم نہیں کل رات تو یہ دونوں گئے ہوئے تھے اپنے فرینڈ کے گھر وہی اسٹے کیا۔۔۔ ناعیمہ نے مجھے فون پر بتایا"
خضر نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا پھر ناعیمہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا

"ہاں حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جب وہ معاویہ کے ساتھ گھر پہنچی فیور ہورہا تھا صبح۔۔ دو دفعہ میں دیکھنے گئی تھی مگر سو رہی تھی اس لئے جگانا مجھے مناسب نہیں لگا"
ناعیمہ نے خضر کو دیکھتے ہوئے بتایا

"خضر حیا کی طبیعت خراب ہو تو وہ کچھ زیادہ ہی سینسٹیو ہوجاتی ہے میں چاہ رہا تھا حیا کو اپنے ساتھ لے جاو ویسے میرا بھی دھیان اب حیا کی طرف ہی لگا رہے گا۔۔ جب تو اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہو جائے"
زین نے خضر کو بتایا

"ہاں یار اس میں پوچھنے کی کون سی بات ہے،، تم اسے کچھ دنوں کے لیے لے جاؤ اچھا ہے وہ روکی بھی نہیں ہے شادی کے بعد سے"
خضر نے زین کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا

"پھر تم معاویہ کو بتا دینا کافی دیر سے اس کے نمبر پر ٹرائے کر رہا ہوں مگر اس کا نمبر بند ہے"
زین نے اٹھتے ہوئے کہا

"بھائی بیٹھے ساجدہ چائے لا رہی ہے"
ناعیمہ نے زین سے کہا تھا

"نہیں بھابھی حور ویٹ کر رہی ہوگی آپ حیا کو بھلا دیں"
زین نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

**

"کیا ہو رہا تھا"
رات کے کھانے سے فارغ ہوکر صنم موبائل پر ناعیمہ سے بات کر رہی تھی ہادی نے بیڈ روم میں آکر صنم کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

"مام سے بات کر رہی تھی، کیا کوئی گہسٹ آئے ہوئے ہیں"
صنم نے موبائل کو ایک طرف رکھ کر پوچھا

"مما کی فرینڈ آئی ہیں"
ہادی نے اسے بتایا تو صنم اٹھ کر روم سے جانے لگی ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑا

"ابھی میں آیا ہوں اور تم چل دی یہی بیٹھ میرے پاس" ہادی نے صنم کو اپنے پاس صوفے پر واپس بٹھاتے ہوئے کہا

"دکھاؤ اب ہاتھ کیسا ہے"
ہادی نے اس کے ہاتھ کے زخم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

"اب تو بہتر ہے ٹھیک ہوجائے گا سب پریشان ہوگئے میری وجہ سے مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔ آنٹی کی تو کوئی غلطی بھی نہیں تھی میں نے ان سے کہا تھا کہ میں ناشتہ بنانا چاہتی ہو"
صنم کے بتانے پر ہادی نے مسکرا کر اس کے ہاتھ کو ہونٹوں سے چھوا

"تو پورا پورا پلان ہے تمہارا معدے کے ذریعے دل میں گھر کر لینے ایسی کوشش آب کرنا بے کار ہے یہ کام تم پہلے ہی کر چکی ہوں"
ہادی نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میرا دل چاہ رہا تھا اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے کچھ بناو"
صنم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا

"تمہارے آنسو دیکھ کر مجھے بھی تکلیف ہوئی تھی اور درد ہوا تھا یہاں"
اس نے صنم کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتے ہوئے کہا

"اس لیے اب ایسا کوئی کام نہیں کرنا میری جان، جس پر تمہارے ساتھ ساتھ میری جان پر بھی بن آئے"
ہادی نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے کہا

"میں بہت خوش نصیب ہوں ہادی کیوکہ آپ بہت اچھے شوہر ہیں"
صنم نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"نہیں میں بالکل اچھا نہیں تم اتنی اچھی ہوکہ تم سے خود پیار ہو جائے"
ہادی نے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا

"ہادی مام بتا رہی تھی کہ حیا بھابی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہیں۔۔۔یہاں سے تو قریب ہے انکا گھر ہم ابھی دیکھنے چلے"
صنم نے جھجھکتے ہوئے کہا

"بس آگئی تم بیویوں والے حربے پر جہاں شوہر رومنٹک ہوا وہی فرمائش شروع۔۔چپ کر کے بیٹھی رہو کل چلیں گے ابھی بھی ویسے رات ہو رہی ہے۔۔۔ حیا کے آرام میں اور میرے رومینس خلل ڈالنے کی ضرورت نہیں" ہادی نے ڈپٹنے کے انداز میں صنم کو بولا

**

معاویہ گھر پہنچا تو رات ہوچکی تھی اسے احساس بھی تھا حیا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے مگر جو کام نمٹانے تھے وہ بھی بہت ضروری تھے۔ ۔۔ اپنی کاڑی وہاں سے لانا۔۔ پھر ڈی۔ایس۔پی افتخار کو سارے معاملے کا بتانا۔۔ اپنے اور حیا کے لئے موبائل لینا ان سب کاموں کو نمٹاتے نمٹاتے رات ہوگئی۔۔۔ مگر گھر پہنچ کر اسے ناعیمہ نے بتایا کہ زین حیا کو لے گیا ہے۔۔۔ اس لئے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے یقینا 11 بج جائے گے وہاں پر پہنچتے پہنچتے۔۔۔ اس نے سوچا پھر گاڑی کی کیز اٹھا کر زین کی طرف نکل گیا

**

"حور باجی حیا بی بی کے شوہر آئے ہیں"
وہ ابھی ابھی حیا کے بیڈروم سے اپنے بیڈ روم میں آئی تھی۔۔۔ نسیمہ نے حور کو آکر بتایا

"معاویہ آیا ہے اس وقت صحیح ہے تم جاؤ میں آتی ہوں" حور شال لپیٹ کر روم سے باہر آئی ہے

"اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ" معاویہ نے حور کو آتا دیکھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا

"وعلیکم اسلام بیٹا میں ٹھیک ہوں تم سناؤ کیسے ہو، بیٹھو"

"میں بھی ٹھیک ہوں آج تھوڑا ٹف دن گزرا واپس گھر گیا تو پتہ چلا حیا یہاں آگئی ہے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو سوچا اس کو دیکھ لو"
معاویہ کی تفصیل سے بتانے پر حور مسکرائی

"اتنی لمبی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہے داماد نہیں ہو تم، بیٹا سمجھتے ہیں میں اور شاہ تمہیں اپنا۔۔ یہ تمہارا گھر ہے حیا تمہاری بیوی ہے جب چاہے یہاں آؤ یہ بتاؤ کھانا کھا لیا تم نے یا نہیں"
اور نے اس سے اٹھتے ہوئے پوچھا

"آنٹی تکلف کی ضرورت نہیں ہے کھانا تو میں گھر سے کھا کر آرہا ہوں"
حور کو اٹھتا دیکھ کر وہ خود بھی اٹھ گیا

"چلو تم حیا کے بیڈ روم میں جاؤ شاہ بھی وہی موجود میں کافی لے کر آتی ہوں"
حور نے معاویہ کو دیکھ کر کہا تو معاویہ نے اسمائل دے کر سر ہلایا۔۔۔

حیا کے روم کا دروازہ کھولا تو زین وہ وہی حیا کے پاس بیٹھا ہوا اس کا سر سہلا رہا تھا اور حیا سوچکی تھی۔۔۔ آہٹ پر چونک کر زین نے دروازے کی طرف دیکھا۔۔ تو معاویہ کو دیکھ کر چونکا۔۔ معاویہ نے حیا کی نیند کے احساس سر کے اشارے سے اسے سلام کیا جس کا زین نے ہلکی آواز میں جواب دیا

"کیسی طبیعت ہے حیا کی سوگئی ہے" معاویہ نے ایک نظر ہے حیا کو دیکھتے ہوئے زین سے پوچھا

"تھوڑی دیر پہلے سوئی ہے تم بتاؤ کیسے ہو، فون بند تھا تمہارا شام سے" زین نے بیڈ سے اٹھ کر معاویہ کے برابر میں چیئر پر بیٹھتے ہوئے کہا

"جی میں ٹھیک ہوں موبائل ایکچولی اچانک خراب ہوگیا تھا اس لئے آف تھا" معاویہ نے زین کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔ وہ دونوں ہی حیا کی نیند کے احساس سے آہستہ بات کر رہے تھے

"حیا کی طبیعت کیسے خراب ہوئی معاویہ کل رات کو تو بالکل ٹھیک تھی"
زین معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"انکل طبیعت تو انسان کی کبھی بھی کسی بھی وقت خراب ہو سکتی ہے"
معاویہ نے مسکراتے ہوئے کہا

"طبیعت تو کبھی بھی خراب ہوسکتی ہے مگر مجھے فیل ہو رہا ہے کل رات تم دونوں کے ساتھ کوئی مسہیپ یا خدانخواستہ کوئی حادثہ۔۔۔یہ کچھ ہوا ضرور ہے"
وین جاتی ہوئی نظروں سے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو معاویہ نے زین کو دیکھا مگر فیس ایکسپریشن کو نارمل رکھتے ہوئے کہا

"آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں"

"حیا میری بیٹی ہے میں صرف اس لئے تم سے جاننا چاہ رہا  تھا۔ ۔۔ کیا ہوا کل رات کو۔۔۔ کیونکہ کل رات تم دونوں گھر پر نہیں تھے موبائل تمہارے بھی بند ہے اور حیا کے پاس بھی اس وقت موجود نہیں ہے اور حیا کا اس طرح بیمار ہو جانا کہیں خوف سے تو نہیں" زین نے ساری کڑیاں ملاتے ہوئے سوال کیا تو معاویہ زین کو دیکھتا رہا

"سب ٹھیک ہے انکل حیا ٹھیک ٹھاک آپ کے سامنے موجود ہے اور یقین رکھیے میں اپنی زندگی میں حیا کی حفاظت اپنی جان سے پہلے کروں گا"
معاویہ نے زین کو یقین دہانی کروائی مگر وہ اصل بات ٹال گیا وہ اپنی جاب سے متعلق ایشوز گھر میں کسی سے ڈسکس نہیں کرتا تھا

"اس کا مجھے اندازہ ہے اس لئے اپنی بیٹی کے لئے تمہارا انتخاب کیا لیکن آگے اللہ نہ کرے کوئی مشکل ہو یا کوئی پرابلم ہو تو تم سب سے پہلے مجھے یاد کرنا" معاویہ کے بات ٹالنے پر زین نے بھی اس سے کریدنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔  اتنے میں حور کافی لےکر روم میں آگئی

"شاہ حیا کب سوئی حور نے زین کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"تمہارے جانے کے بعد آنکھ لگ گئی تھی"
زین نے کافی کا مگ تھامتے ہوئے جواب دیا حور نے دوسرا مگ معاویہ کی طرف بڑھایا

"معاویہ حیا کو دیکھنے آیا ہے"
حور نے زین کی طرف دیکھ کر بتایا

"ہاں تو صبح ملاقات ہوجائے گی حیا سے۔۔۔ معاویہ کون سا جارہا ہے یہی رکنا تمہیں آج ہمارے ساتھ"
زین نے کافی کا سپ لیتے ہوئے معاویہ سے کہا

"ارے نہیں انکل میں صبح آ جاؤں گا ویسے بھی صبح چھٹی کا دن ہے"
معاویہ نے ایک دم سے سٹپٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ حیا کو قریب سے دیکھنے کا اس سے بات کرنے کا دل تو چاہ رہا تھا مگر سسرال میں رکنا اسے تھوڑا اکورڈ لگا

"چھٹی کا دن ہے اس لئے تو کہہ رہا ہوں ایک دن ہمارے ساتھ بھی اسپینڈ کرو۔ ۔۔ مجھے یقین ہے خضر برا نہیں مانے گا"
زین مسکرا کر کہا تو معاویہ بھی ہنس دیا

"ٹھیک ہی کہہ رہا ہے شاہ تم رکو گے تو ہمیں خوشی ہو گی"
اب کے حور نے بھی معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"ٹھیک ہے پھر آج سسرال میں بھی رکھ کر دیکھ لیتے ہیں"
ان دونوں کے اصرار پر اس نے مسکرا کر کہا تو زین اور حور بھی مسکرا دئیے

"کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بنا دینا اب تم ریسٹ کرو چلے حور"
معاویہ سے کہتے ہوئے زین نے حور کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ دونوں اپنے روم میں چلے گئے

معاویہ نے لمبی سانس کھینچ کر دروازہ بند کیا اور ایک نظر بیڈ پر سوتی ہوئی حیا پر ڈالی


جاری ہے

itni mohbbat karo na (season 2) episode 54

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 54


وہ حیا کا ہاتھ تھام کر اسے دوسرے روم کی طرف لے گیا وہاں ایک اور چھوٹا سا کمرہ تھا اس کے بعد صحن۔۔۔۔ صحن میں ایک اور دروازہ تھا جو کہ گھر کے دوسری طرف کھلتا تھا جس سے وہ لوگ باآسانی دوسرے راستے سے باہر نکل سکتے تھے مگر معاویہ کا دماغ کچھ اور سوچنے میں لگا ہوا تھا۔۔۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور صحن کا جائزہ لیا

"کون ہے یہاں پر جلدی سے کھولو دروازہ"
وہ لوگ یقینا وہاں پہنچ چکے تھے اور زور زور سے دروازہ بجا رہے تھے

"یہاں وہاں کیا دیکھ رہے ہو معاویہ، وہ سامنے دروازہ نہیں دکھ رہا تمہیں ہم وہاں سے نکل جاتے ہیں چلو"
حیا نے اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے اسے آئیڈیا دیا

"حیا پلیز اس وقت منہ بند رکھو اور یہ جو تمہارے پاس دماغ جیسی چیز ہے اسے کم چلاو"
معاویہ نے نیچے ٹینک کا ڈھکنا کھول کر دیکھا سامنے پڑی ہوئی اسٹک اس میں ڈال کر اس کی گہرائی کا جائزہ لیا جو کہ زیادہ گہرا نہیں تھا

"تم کیا کر رہے ہو معاویہ وہ لوگ اندر آجائیں گے نکلو یہاں سے"
کیوکہ دوسری طرف آب دروازہ توڑنے کی کوشش کی جارہی تھی

"حیا تمہیں تھوڑی دیر کے لیے اس ٹینکی میں چھپنا پڑے گا"
حیا کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے معاویہ نے کہا

"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا بھلا اتنی ٹھنڈ میں اتنے۔۔۔اس پانی میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔مجھے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہم اس دروازے سے کیوں نہیں نکل رہے ہیں"
حیا نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے معاویہ کو دیکھتے ہوئے کہا

"حیا بحث کا وقت نہیں ہے اس وقت،، بالکل آواز نہیں نکالنا اب"
معاویہ نے اسے اٹھا کر نیچے ٹینکی میں اترنے میں مدد دی۔۔۔

"تم کہاں جارہے ہو"  حیا کو ایک دفعہ پھر رونا آیا

"یہی ہو بےبی آواز نہیں نکالنا ذرا سی بھی"
معاویہ اسے تسلی دے کر تلقین کرتا ہوا ٹینکی کا ڈھکنہ بند کر دیا۔۔۔۔ پھر جلدی سے جاکر اس نے صحن والے دروازے کی کنڈی کھولی اور پورا دروازہ کھول دیا۔۔ صحن میں واپس آکر خود پائپ کے ذریعے اوپر چھت پر چڑھ گیا۔۔۔۔۔۔

وہاں سے نکلنے کا تو کوئی فائدہ نہیں تھا اگر وہ اکیلا ہوتا تو نکل بھی جاتا مگر حیا کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ وہ تیز نہیں بھاگ سکتی تھی اور حیا کو اٹھا کر وہ خود بھی تیز نہیں بھاگ سکتا تھا نتیجہ یہی ہوتا کہ وہ لوگ ان دونوں کو آسانی سے پکڑ سکتے تھے۔۔۔۔ اگر ان لوگوں کے پاس اصلحہ نہیں ہوتا تو وہ یوں چھپنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرتا مگر اپنی اور حیا کی جان بچانے کے لئے اسے یہی بہتر طریقہ لگا۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں وہ لوگ دروازہ توڑ کر اندر آگئے دونوں کمروں کو چھان کر جب وہ صحن میں آئے

"وہ دیکھو دروازہ کھلا ہے لگتا ہے دروازے سے نکل گئے"
ان میں سے ایک آدمی بولا اور پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر کال ملانے لگا

"شیرازی صاحب معذرت کے ساتھ آج آپ کا کام نہیں ہو سکا۔۔۔ وہ اے۔ایس۔پی ہماری سوچ سے زیادہ شاطر نکلا۔۔۔ ہم نے پوری کوشش کی کہ وہ بچ نہ پائے مگر اس نے چکمہ دے کر پہلے لڑکی کو بھگایا پھر خود بھی فرار ہوگیا اور ہمارے دو آدمی بھی زخمی ہوگئے"
شکیل کو اپنا پلان ناکام ہوتا محسوس ہوا تو اس نے شیرازی کال ملاکر بتایا

"ناکارہ انسان ہو تم سب کے سب تم سات افراد ایک آدمی کو نہیں سنبھال پائے لعنت ہے تم سب کے اوپر۔ ۔۔اور مجھے فون کرکے اس کے کارنامے کیا سنا رہے ہو، گم کرو وہاں سے سب اپنی شکلیں"
اویس شیرازی نے غصے میں شکیل کو جھاڑتے ہوئے کہا
شکیل نے فون رکھا اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتا ہوا بولا

"تم دونوں اس راستے سے جاو۔۔۔ اور تم لوگ میرے ساتھ پیچھے کے راستے سے آو۔۔۔  اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی نظر آئے فورا گولی مار دینا"
شکیل نے باقی ساتھیوں کو ہدایت دی اور وہ لوگ اس گھر سے نکل گئے۔۔۔۔ چند منٹ گزارنے کے بعد جب معاویہ کو یقین ہو گیا وہ لوگ تھوڑی دور نکل گئے ہونگے تب وہ واپس پائپ کے ذریعے اترا بھاگ کر اس نے سب سے پہلے صحن کا دروازہ بند کیا اور ٹین کا ڈھکنا ہٹا کر حیا کو پکارا

"حیا۔۔۔ حیا میں ہوں ہاتھ دو اپنا جلدی"
معاویہ کی آواز سن کر حیا نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ باہر نکالا معاویہ نے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ یخ برف ہورہا تھا۔۔۔ اسے اندازہ تھا اسے ٹھنڈ میں، ٹھنڈے پانی میں رہنا حیا کے لیے یہ یقینا مشکل ٹاسک ہوگا۔۔۔ مگر جس طرح حیا نے صبر اور ہمت کا مظاہرہ دکھایا معاویہ کو اس کی بھی امید نہیں تھی۔۔۔ معاویہ نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حیا کو باہر نکالا وہ بری طرح کانپ رہی تھی سردی سے اس کے ہونٹ نیلے پڑہ رہے تھے

"اگر تھوڑی دیر اور نہیں نکالتے تو میں یقینا مر جاتی"
معاویہ کے سینے پر اپنا سر ٹکرا کر حیا نے کانپتے ہوئے کہا۔۔۔ کندھوں تک اس کی ساڑھی پوری گیلی ہوچکی تھی

"ایسے ہی مرنے دے دیتا چلو اندر چلیں"
معاویہ اسے اپنے بازوں میں اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔۔۔ اور کمرے میں پڑی ہوئی چارپائی پر اس سے لٹایا۔۔۔ دوسری طرف دروازے کے پٹ بند کر کے کمرے میں موجود میز دروازے سے لگایا،،، کونے میں موجود ٹرنگ میں سے دو موٹی چادریں نکال کر وہ حیا کے پاس آیا

"حیا اٹھو یہ گیلے کپڑے اتارو ورنہ اور ٹھنڈ لگے گی"
معاویہ اس کے پاس آ کر بولا

دونوں چادر ایک طرف رکھی اور اپنی جیکٹ اتارنے لگا۔۔۔ حیا ویسے ہی آنکھیں بند کرکے لیٹی ہوئی تھی

"حیا"
معاویہ نے اس کو پکار کر اس کے گال تھپتھپائے حیا نے ایک دفعہ آنکھیں کھول کر پھر بند کرلی۔۔۔ وہ ویسی ہی سمٹی ہوئی لیٹی تھی

"بےبی شاید آج تمہیں میری مدد کی ضرورت ہے"
معاویہ نے جھک کر حیا کو اٹھاتے ہوئے کہا

"تم فری مت ہو زیادہ"
حیا نے آہستہ آواز میں کہا

"نہیں میرا یہاں فری ہونے کا کوئی خاص ارادہ نہیں۔۔۔ مگر گھر جاکر فری ہونے سے تم مجھے بالکل نہیں روک سکتی اب"
وہ ساڑھی کا پلو نیچے گرا کر ساڑھی کی فال آہستہ آہستہ کھولتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔حیا نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا

گیلی ساڑھی اتار کر ایک طرف رکھی تو حیا دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔

"حیا اٹھو اس طرح طبیعت خراب ہو جائے گی یہ گیلے کپڑے اتار کر جیکٹ پہنوں پھر لیٹنا"
معاویہ نے حیا کو کھڑا کرتے ہوئے کہا۔۔۔ خود صحن کی سائڈ چلا گیا

حیا نے بلاوز اور پیٹیکوٹ اتار کر معاویہ کی جیکٹ پہنی جو کہ اس کے سائز سے کافی بڑی تھی اس کے ہاتھ آستینوں کے اندر کہیں گم ہوگئے تھے۔۔۔ مگر سردی میں گیلے کپڑوں کی جگہ یہ نعمت لگی جیکٹ پہن کر حیا چارپائی پر پڑی ہوئی دونوں چادر اوڑھ کر لیٹ گئی

معاویہ اندر آیا تو حیا کو لیٹے ہوئے دیکھا اس کی ساڑھی اٹھاکر دروازے پر لگی کھوٹی پر لٹکا دی تاکہ وہ سوکھ جائے اور خود چارپائی کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا موبائل جلدی میں اس کا گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔۔۔۔ حیا کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا یہ گھر کس کا تھا جانے کب کون آجائے وہ یہی سوچ رہا تھا

"ہم گھر کیسے جائے گے معاویہ"
معاویہ کی جیکٹ اور دو چادریں اوڑھ کر سردی کا احساس کم ہوا تو حیا کو ٹینشن شروع ہوگئی

"کیا ہوا سردی لگ رہی ہے"
معاویہ نے حیا کا چہرہ تھامتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا

"سردی نہیں لگ رہی مگر مجھے گھر جانا ہے"
حیا نے منہ بنا کر بولا وہ اس وقت معاویہ کو چھوٹے بچے کی طرح لگی۔۔۔ معاویہ اٹھ کر چارپائی پر اسکے پاس بیٹھا اور جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے

 "کیو بےبی مزہ نہیں آرہا پکنک کا۔۔۔ دیکھ لیا اپنی ضد کا انجام اچھا خاصہ مام ڈیڈ کے ساتھ چلی جاتی تو یوں خوار نہ ہونا پڑتا"
وہ ابھی بھی اس پر جھکا ہوا اسے بچوں کی طرح سمجھاتے ہوئے بولا

"اگر میں نہیں ہوتی تمہارے ساتھ تو تمہارا کیا ہوتا"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے بولا

"یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں آج تم نہیں ہوتی تو میری جان کیسے بچتی"
معاویہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا

"میرا وہ مطلب نہیں تھا، زیادہ میرا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں ہے اگر آج تمہیں کچھ ہو جاتا تو"
خوف سے حیا سے نہ آگے سوچا گیا اور نہ بولا گیا

"تو ہمیشہ کے لیے آزادی مل جاتی تمہیں،، اس دو ٹکے کے پولیس والے سے"
معاویہ نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"اللہ نہ کرے۔۔۔۔ آئندہ ایسی فضول بات مت کرنا پلیز"
حیا نے بے ساختہ کہا اور اپنا ہاتھ اسکے ہونٹوں پر رکھا جسے معاویہ نے چوم کر اپنے ہاتھوں میں لیا

"اس وقت پیار آرہا ہے اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر۔۔ یا پھر پیار ہوگیا ہے، اپنے دو ٹکے کے پولیس والے سے۔۔۔ یا پھر اسے بھی میں ہمدردی سمجھو"
معاویہ نے حیا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا

"تمہیں یہ ہمدردی لگ رہی ہے یا پھر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں تمہارے ساتھ یہاں پھنس گئی ہو تو پیار جتا رہی ہو"
حیا نے ناراض ہوتے ہوئے معاویہ سے پوچھا

"تو پھر کیا تمہیں پیار ہوگیا ہے"
معاویہ نے اس کے منہ سے سننا چاہا

"اس سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ تم نے آبھی چند گھنٹوں پہلے مجھ سے گاڑی میں کہا کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتے"
حیا نے اس کو آج کی گاڑی والی بات یاد دلاتے ہوئے اترا کر کہا

"اور تمہیں گاڑی سے اتارنے سے پہلے یہ بھی تو کہا تھا کہ میں تمہیں محبت کرنا کبھی نہیں چھوڑ سکتا"
معاویہ نے کہنے کے ساتھ اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے

اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے دوبارہ پوچھا 

"تم ہمیشہ سے میرے ساتھ من مانی کرتے آئے ہو مجھ پر دھونس جمانا روعب چلانا حق جتاتے ہو"
حیا نے موقع دیکھ کر اس کو اسکی غلطیوں کا بتایا

"بیوی پر اپنا حق نہیں جتاؤ گا تو کیا نیناں پر جتاو گا۔۔۔ میرے روعب جمانے سے تم کہاں میرے روعب میں آتی ہوں۔۔ ۔ اگر آسانی سے پٹ جاتی تو  دھونس جمانے کی ضرورت نہیں پڑتی"
حیا کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر اس کا چہرہ اوپر کر کے گردن پر جھکا

"اب بتاو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا 

"نیناں سے یاد آیا۔۔ اب تم کبھی بھی نیناں سے ہنس کر بات نہیں کرو گے بلکہ اس کی طرف دیکھو گے تک نہیں"
حیا نے اس کی دوسری غلطی بتائی اور ساتھ میں تنمبہی کی

"اوکے جانم نیناں کو میں اپنی بہن بنا لیتا ہوں آج سے۔۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا ہے نا"
معاویہ نے اس کے رخسار پر ہونٹ رکھتے ہوئے ایک بار پھر پوچھا

"کل تک تو تم چار شادیاں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے"
حیا نے معاویہ کو اس کی ایک اور سنگین غلطی کے بارے میں بتایا۔۔۔ جس پر معاویہ نے اپنے ہونٹوں کو آپس میں دبا کر اپنی ہنسی کو روکا

"آئندہ چار شادیوں کے بارے میں منہ سے بولنا تو دور کی بات۔ ۔۔ کبھی دماغ میں خیال بھی نہیں لاو گا۔۔ اب بولو تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کے دوسرے رخسار پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے پھر پوچھا

"کل تم نے میرا ہاتھ موڑا اور مجھے کمرے سے نکل جانے کے لیے کہا"
حیا کو اس کی ایک اور غلطی یاد آئی

"آگے سے اب کوئی فضول حرکت نہیں کروں گا اگر اب ہاتھ موڑا تو تم ڈیڈ سے کہہ دینا وہ یقینا اس دن سے بھی زیادہ زور کا تھپڑ لگائیں گے اور اگر مجھے غصہ تو روم سے میں خود نکل جاؤں گا۔۔۔ اب تو پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اس کا ہاتھ چومتے ہوئے پوچھا       

"کل تم نے سب کی تعریف کی مما کی صنم کی اور یہاں تک کہ اس چڑیل نیناں کی بھی اور مجھے ایک نظر دیکھا تک نہیں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں"
حیا نے معاویہ کو اس کی اس غلطی کے بارے میں بتایا جس کا دکھ اسے کل سے کھائے جا رہا تھا

"بےبی کل تم پرپل ڈریس میں بہت پیاری لگ رہی تھی اس ڈریس پر مام سے ادھار مانگی ہوئی جیولری کافی میچ کررہی تھی۔۔۔بس کل جو لپ اسٹک لگائی تھی پنک کلر کی اس کا ٹیسٹ اچھا نہیں لگتا مجھے باقی سب پرفیکٹ تھا۔۔۔ اب تو بتا دو یار تمہیں مجھ سے پیار ہو گیا نا"
معاویہ نے اب کے بیچارگی سے پوچھا

"وہ ادھار مانگیں کی جیلری نہیں تھی آنٹی نے مجھے خود آفر کی تھی۔۔۔ جو انہوں نے بعد میں مجھے گفٹ کردی اس لئے اب میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ اب وہ جیولری میری ملکیت ہے"
حیا نے ابرو اچکا کر اترا کر کہا

"جیولری سے پہلے میری مام اپنا ثپوت بھی تمہیں گفٹ کیا ہے بےبی۔۔۔ میں بھی تمھاری ہی ملکیت ہو۔ ۔۔۔بتاؤ نا پلیز تمہیں پیار ہوگیا نا"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوچھا

"ہاں معاویہ مراد مجھے آپ سے پیار ہوگیا ہے"
حیا کے اقرار پر معاویہ نے جاندار مسکراہٹ کے ساتھ اس کو دیکھا اور اپنے ہونٹ حیا کے ہونٹوں پر رکھ دئے
اج حیا کو معاویہ کی قربت کا احساس زرا برا نہیں لگا نہ اس نے معاویہ کو خود سے دور ہٹانے کی کوشش کی۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر گزری باہر سے کسی جانور کے غرانے کی آواز آنے لگی۔۔۔ حیا کے ڈرنے پر معاویہ کھڑا ہوا اور ریوالور ہاتھ میں لے کر کھڑکی سے باہر جھانکا

"ریلیکس کوئی نہیں ہے"
معاویہ نے حیا کو تسلی دیتے ہوئے کہا اور واپس کرسی پر آ کر بیٹھ گیا 

"معاویہ تمہیں بھی سردی لگ رہی ہوگی نا"
جیسے جیسے رات بڑھ رہی تھی سردی بھی بڑھ رہی تھی حیا نے معاویہ کے احساس سے بولا

"بےبی اگر تم مجھے جیکٹ واپس کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں یا اپنے ساتھ چادر شیئر کرنے کا بولتی ہوں۔۔۔ تو سوچ لو دونوں صورت میں فری ہونے والا کام یہی ہوجائے گا"
معاویہ نے شرارت سے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"تم پر تو ترس بھی نہیں کھانا چاہیے تم ہو ہی دو ٹکے کے پولیس والے"
حیا نے اس کی بات پر جھینپتے ہوئے کہا تو معاویہ ہنس دیا

"ریلیکس ہوکر سو جاؤ تھوڑی دیر"
معاویہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا

"تم کہاں جارہے ہو"
حیا نے اس کو اٹھتا دیکھ کر پوچھا

"یہی ہوں آتا ہو تھوڑی دیر میں"
وہ پاکٹ سے سگریٹ اور لائٹر نکالتا ہوا بولا

تھوڑی دیر بعد حیا کو نیند آنے لگی تو وہ سوگئی۔۔۔ معاویہ نے ساری رات کرسی پر بیٹھ کر سوتے جاگتے گزاری

*


وہ ابھی باتھ لے کر نکلی تھی آج اس کا ارادہ فضا کے دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے  روم سے نکلنے کا تھا۔۔۔۔ گردن موڑ کر اس نے ہادی کو دیکھا جو ابھی بھی سو رہا تھا وہ جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا اسے بہت چاہنے والا شوہر ملا تھا۔۔۔ ہادی کو سوتا ہوا دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی بیٹھ کے قریب آکر اپنے گیلے بالوں کو ہادی کے چہرے پر لا کر زور سے جھٹکا۔۔۔ چہرے پر پڑنے والی پانی کی بوندوں سے ہادی کی نیند میں خلل پڑا اور اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے صنم کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا

"صبح بخیر"
صنم نے مسکرا کر کہا
ہادی نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنے اوپر گرایا صنم کے ہونٹ اس کے گالوں کو چھوگئے

"ویسے تو جگانے کا وہ طریقہ بھی برا نہیں تھا جو تم نے اپنایا۔۔۔ مگر تم اسطرح بھی جگا سکتی ہو"
صنم نے گھور کر اس کو دیکھا اور اس کے گالوں پر سے اپنی لپ اسٹک کا نشان صاف کیا

"ہادی آپ بھی نہ بس۔۔۔ اب جلدی سے اٹھ کر باہر آئے میں آنٹی کے پاس جا رہی ہوں اس سے پہلے وہ روم میں آئیں"
صنم نے اٹھتے ہوئے کہا

"ارے یار اب اتنی بھی ظالم نہیں ہے میری مما فکر نہیں کرو اج نہیں آئیں گی"
ہادی اس کو دوبارہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا

"اب صبح کا آغاز ہوگیا ہے اب اچھے بچوں کی طرح ری ایکٹ کریں"
صنم نے اس کا موڈ بدلتے ہوئے دیکھ کر کہا

"تمہیں کس نے کہا یہ بچہ اچھا ہے یہ بچہ بہت ضدی ہے اور سامنے والے کو جب تک نہیں بخشتا جب تک اپنی ضد پوری نہ کرے"
ہادی کہتا ہوا اس کے اوپر جھکا

"ہادی۔۔۔۔  بلال انکل"
صنم نے گھبرا کر کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

ہادی نے ایک دم پیچھے ہو کر کھڑکی کی طرف دیکھا جو کہ بند تھی مگر اتنے میں صنم اٹھ کر روم کے دروازے کی طرف بھاگی

"شاور لےکر جلدی سے باہر آجائے"
مسکرا کر کہتی ہوئی وہ روم سے نکل گئی اس کی شرارت سمجھ کر ہادی مسکرا دیا

جاری ہے