Itni mohhbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Second last episode
وہ بے یقینی سے رسیور کو دیکھے گئی جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جھول رہا تھا۔۔۔ اس کے کانوں میں انسپکٹر سعد کے الفاظ گونج رہے تھے
"معاویہ"
وہ بھاگتی ہوئی ڈرائیور کے کوارٹر کے پاس گئی اور زور زور سے کواٹر کا دروازہ بجانے لگی
"چھوٹی بی بی کیا ہوا آپ کو"
ڈرائیور نیند میں انکھیں ملتا ہوا حیرت سے حیا کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"شاہد ہمیں ہسپتال چلنا ہے جلدی چلو ایڈریس میں گاڑی میں بتاؤں گی"
حیا نے اپنے آنسووں کو روکتے ہوئے بمشکل بولا
"مگر بی بی جی اس طرح سب خیریت ہے"
ڈرائیور ابھی بھی حیرت میں تھا
"باتوں پر ٹائم نہیں ہے شاہد جلدی چلو" اب حیا نے چیختے ہوئے کہا
شاہد گاڑی کی چابی لے کر آیا ہے تو حیا کار میں بیٹھی ۔۔۔۔معاویہ کی پتہ نہیں کون کون سی باتیں اسکو یاد آ رہی تھی اور وہ روئے جارہی تھی جیسے ہی جھٹکے سے کار اسپتال کے سامنے رکھی۔۔۔ حیا بھاگتی ہوئی اسپتال کے اندر گئی ریسپشن سے معلومات لے کر وہ بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور دروازہ کھولا۔۔۔
تو سامنے بیڈ پر معاویہ نیچے پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا ڈاکٹر اس کے ہاتھ میں پٹی باندھ رہے تھے ان کے برابر میں نرس کھڑی تھی اور دوسری طرف روم کے کونے میں دو انسپکٹر
دروازہ کھلنے کی آواز پر معاویہ سمیت سب کی نظریں دروازے پر گئیں۔ ۔۔۔ معاویہ ایک دم حیا کو دیکھ کر حیرت سے کھڑا ہوگیا حیا روم کے اندر آئی اور روتی ہوئی معاویہ کے گلے سے لگ گئی جس پر معاویہ سب کو دیکھ کر ایک دم سٹپٹا گیا
"تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی پریشان کرتے ہو معاویہ، تمہیں زرا بھی کوئی احساس نہیں ہے میرا، ،،جھوٹ بولتے ہو کوئی پیار نہیں ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔۔ اگر پیار ہوتا تو یوں میری جان کو ہلکان نہیں کرتے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا تمہیں پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں"
حیا معاویہ کے گلے لگتے ہی روتے ہوئے نون-سٹاپ شروع ہو چکی تھی اور معاویہ باری باری سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ انسپکٹر سعد اور کانسٹیبل جو کہ سر نیچے جھکائے بناء آواز کے یقینا ہنس رہے تھے۔۔۔۔ چار قدم کے فاصلے پر کھڑی نرس مسلسل ہنسی روکنے کے چکر میں لال ہوچکی تھی اور ڈاکٹر صاحب کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا مگر انہوں نے چہرے پر سنجیدگی قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہوئی تھی
"حیا میں ٹھیک ہوں"
معاویہ نے نرمی سے کہتے ہوئے اس بازو سے تھام کر پیچھے ہٹانا چاہا۔۔۔۔جس پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی
"اگر اب تم نے میرے ساتھ اس طرح کا مذاق کیا تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں شوٹ کر دوں گی معاویہ"
وہ ویسے ہی گلے کے گلے ہوئے بولی
"خبر کس نے دی تھی"
معاویہ نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"سر جی وہ میں سمجھا جی"
انسپکٹر سعد نے گلہ کھنکھار کر بولا
"شٹ اپ سعد"
معاویہ نے گھورتے ہوئے اسے کہا
ڈاکٹر نے سب کو اشارے سے روم سے باہر جانے کے لئے کہا سب روم سے باہر نکلے تو ڈاکٹر صاحب خود بھی روم سے باہر نکلے مگر دروازہ بند کرنا نہیں بھولے۔۔۔۔ سب کو روم سے باہر جاتا دیکھ کر اور روم کا دروازہ بند دیکھ کر معاویہ نے لمبا سانس کھینچنا اور حیا کی کمر کے گرد اپنا ایک بازو حاہل کیا
"میری شیرنی کچھ نہیں ہوا تمھارے شیر کو بس گولی چھو کر نکل گئی"
معاویہ کے کہنے پر حیا نے معاویہ سے الگ ہونا چاہا، تو معاویہ نے اس کی کمر پر ہاتھ کی گرفت سخت کردی
"اب کیا فائدہ اب تو سب تمہاری محبت کے نظارے دیکھ کر انجوائے کر کے جاچکے ہیں۔۔۔۔ اب ایسے ہی کھڑی رہو تھوڑی دیر"
معاویہ کے بولنے پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو معاویہ اس کو دیکھ کر مسکرایا
"تمہیں واقعی کچھ نہیں ہوا"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"بےبی تمہارے سامنے صحیح سلامت تو کھڑا ہو" معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے کہا
حیا کی نظر اس کے بازو پر گئی آستین پر خون کے نشان اور بازو پر بندھی ہوئی پٹی۔۔۔ حیا نے پٹی پر سرخ دھبہ دیکھ کر اسے زور سے دبایا جس سے معاویہ درد سے بری طرح اچھل پڑا
"حیا"
معاویہ نے غصے میں اسے دیکھ کر اس کا نام پکارا
"کیا حیا۔۔۔۔ ہاں تمہیں تو کچھ نہیں ہوا ناں"
حیا نے بھی اس کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا اس کے اس طرح غصہ کرنے پر معاویہ کو ہنسی آگئی
"میرے سامنے زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے چپ کر کے لیٹو بیڈ پر۔۔۔۔ انکل تمہارے بارے میں بالکل ٹھیک کہتے ہیں تم نے سب کی ناک میں دم کر کے رکھا ہوا ہے یہاں آتے ہوئے مجھے پتا نہیں کیا کیا خیال آرہے تھے، کون کون سی بات ہے یاد آ رہی تھی تمہاری مجھے آج ہارٹ اٹیک کرانے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی"
حیا اس کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے ایک دفعہ پھر نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھی اور معاویہ مسکراہٹ دبائے اس کو دیکھ رہا تھا
"پوری حوالدارنی لگ رہی ہو اس وقت" معاویہ نے مسکرا کر حیا سے کہا۔۔۔۔ حیا جو اس کو چادر اڑا رہی تھی اس سے پہلے وہ اس کو جواب دیتی روم کا دروازہ ناک ہوا
"یس کم ان"
معاویہ کی آواز پر دروازہ کھلا خضر ناعیمہ اور صنم روم کے اندر داخل ہوئے اب کے ناعیمہ اور صنم رونے لگیں ایک دفعہ پھر جذباتی سین شروع ہوگیا
"مام، گڑیا میں بالکل ٹھیک ہوں یار کیا ہوگیا آپ سب کو" معاویہ نے ان دونوں کو چپ کراتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں وہی پر زین حور کے ساتھ ہی بلال فضا ہادی بھی پہنچ گئے۔۔۔ زین اور بلال کے ملنے کے بعد ہادی معاویہ کے پاس آیا صنم معاویہ کے پاس ہی بیٹھی تھی،، ہادی نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر معاویہ سے اس کی طبیعت کا پوچھا جس کا معاویہ نے نارمل انداز میں جواب دیا
"انکل آپ سب لوگ کیسے آئے"
حیا نے خضر سے پوچھا
"تمہارے نکلنے کے بعد واچ مین نے بتایا کہ تم روتے ہوئے ڈرائیور کے ساتھ گئی ہو۔۔۔ ڈرائیور کو کال کرنے پر صورت حال کا پتہ چلا تو پھر میں نے ہی زین کو فون کرکے بتایا۔۔۔۔ بیٹا تمہیں ہمیں تو بتانا چاہیے تھا"
خضر نے حیا کو تفصیل سے بتایا
"انکل میں اتنا گھبرا گئی تھی بس کچھ سمجھ میں نہیں آیا"
حیا نے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ خضر کو حیا کا معاویہ کا یوں احساس کرنا بہت اچھا لگا
"بہت پیاری بیٹی ہو تم، معاویہ نے جو تمہارے ساتھ کیا اسکے باوجود"
"انکل پلیز میری ریکویسٹ ہے آپ سے اس بات کو دوبارہ مت دہرائیے گا۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے مما بابا کو کچھ پتہ چلے۔۔۔ میں اپنے مما بابا کی نظر میں معاویہ کے لئے ہمیشہ ریسپکٹ دیکھنا چاہتی ہوں"
حیا نے آئستہ سے خضر کو بولا
"ہمیشہ خوش رہو" خضر نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھکر کہا
"یہ سب ہوا کیسے" ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اویس شیرازی کو اریسٹ کرنے کے آرڈرز ملے تھے اس کو پہلے سے ہی خبر ہوگئی تھی، اس لئے فرار ہونے کے چکر میں اس سے گولی چل گئی مگر اس کا نشانہ چوک گیا ہے،، خیر اریسٹ تو اسے کر لیا گیا ہے"
معاویہ ویسے تو آفیشل باتیں کسی کو نہیں بتاتا تھا مگر ہادی کے پوچھنے پر اس نے آہستہ آواز میں بتانے لگا
"کچھ حاصل نہیں ہے اس طرح اپنی جان مشکل میں ڈال کر صرف پریشان کرنے والی بات ہے اپنے گھر والوں کو اور خود کو۔۔۔ کیا صلہ ملے گا بس وردی پہ دوچار ستاروں میں اضافہ ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ"
خضر جو کہ غصے میں بھرا ہوا تھا معاویہ کے قصے سنانے پر شروع ہو گیا
"کیسی بات کردی خضر تم نے میں تمھاری بات سے ایک پرسنٹ بھی متفق نہیں ہو۔۔ اگر سب اپنی جان کی پرواہ کرنے لگ جائیں گے تو پھر ملک کے بارے میں کون سوچے گا،، تمہیں تو فخر ہونا چاہیے اپنی اولاد پر اور بھابھی آپ اس طرح پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوا آپ کے بیٹے کو،، ماشااللہ جوان ہے، بہادر ہے آپ کا بیٹا"
زین نے خضر کے بولنے کے بعد ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا جوکہ چہرے سے ابھی بھی پریشان لگ رہی تھی
تھوڑی دیر کے بعد کے بعد زین، حور، بلال اور فضا نے اجازت لی اور وہاں سے چلے گئے۔۔۔ معاویہ نے نوٹ کیا ہادی وقفے وقفے سے صنم کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل سر جھکائے صوفے پر ناعیمہ کے ساتھ بیٹھی تھی،،، ہادی نے رات میں صنم کا نمبر کافی دیر تک ٹرائی کیا مگر صنم کا نمبر of تھا
"ڈیڈ میں یہاں کمفرٹیبل نہیں ہو، گھر جانا چاہتا ہوں آپ ڈاکٹر سے بات کریں"
معاویہ نے بیزار ہو کر خضر سے بولا
خضر سر ہلا کر روم سے باہر نکلا تھوڑی دیر میں اسپتال کی فارملیٹیسز پوری کرکے معاویہ کو ڈسچارج کردیا گیا۔۔۔ خضر نے کال کر کے ڈرائیور کو بلایا اور اپنی گاڑی لے کر آفس نکل گیا
"صنم تم ایسا کرو ہادی کے ساتھ آجاؤ کیوں ہادی صنم کو چھوڑ دو گے گھر"
ناعیمہ اور حیا گاڑی میں بیٹھ گئی تھی صنم بیٹھنے لگی تو معاویہ نے صنم کو بولا
"ہاں کیوں نہیں آو صنم"
ہادی نے کہا صنم معاویہ کو دیکھنے لگی معاویہ نے آنکھوں کے اشارے سے اسے ہادی کی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا، وہ چپ کر کے ہادی کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ تو معاویہ بھی اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا
"کیا ہوا صنم ہمارے ساتھ نہیں آرہی" حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"ہادی چھوڑ دے گا تم اس کی فکر نہیں کرو، بس اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر دھیان دیا کرو"
معاویہ نے آخری بات سرگوشی میں حیا کے کان میں کہی حیا نے معاویہ کو ابرو اچکا کر دیکھا
**
"بات کیوں نہیں کر رہی تم مجھ سے"
صنم کے گاڑی میں بیٹھتے ہیں ہادی نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
"مجھے آپ سے کسی بھی موضوع پر کوئی بھی بات نہیں کرنی آپ مجھے میرے گھر چھوڑ آئے پلیز"
صنم نے بنا ہادی کو دیکھے اس سے کہا گاڑی میں موجود ٹیپ آن کیا تاکہ وہ مزید کچھ نہ بول سکے
"صنم رے صنم رے تو میرا صنم ہوا رے کرم رے کرم رے تیرا مجھ پہ کرم ہوا رے"
گانے کے بول پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہادی مسکرایا صنم نے چینل چینج کیا تو دوسرا سونگ اسٹارٹ ہوا
"کہو نہ کہو یہ انکھیں بولتی ہیں او صنم او صنم او میرے صنم"
دوبارہ گانے میں اپنا نام سن کر اس نے جھینپ کر ہادی کو دیکھا وہ مسکراتا ہوا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ صنم نے دوبارہ چینل چینج کیا
"جتنے بھی تو کر لے ستم، ہنس ہنس کے سہی گے ہم یہ پیار نہ ہوگا کم صنم تیری قسم"
صنم نے گھور کے ٹیپ کو دیکھا اور دوبارہ چینل چینج کیا
"ہم دل دے چکے صنم تیرے ہو گئے ہیں ہم تیری قسم"
صنم نے ٹیپ بند کرنا چاہا تو ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
"کس کس کا منہ کراؤں گی سب کے سب میرے دل کی حالت بیان کرتے رہے گے"
ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگانا چاہا تو صنم نے فورا اپنا ہاتھ ہٹا لیا
"مانا کہ میں سیدھی ہوں مگر اتنی نہیں کہ آپ کے فلمی ڈائیلاگ بول کر مجھے پاگل بنائے۔۔۔ آپ کے دل میں، میں کہیں بھی نہیں ہوں یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے اس لیے اب مجھے الٹی سیدھی وضاحت دے کر بہلانے کی ضرورت نہیں ہے"
صنم کے کہنے کی دیر تھی ہادی نے کار ایک جھٹکے سے اس کے گھر کے پاس روکی، صنم اترنے لگی تبھی ہادی نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھاما
"نہیں آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سیدھی نہیں بلکہ بیوقوف ہوں پوری ۔۔۔ ویسے اگر میں فلمی ڈائیلاک بول رہا ہو تو کون ہے میرے دل میں۔۔۔ وضاحت دینا پسند کرو گی، ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے"
ہادی نے ویسے ہی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے سنجیدگی سے صنم سے پوچھا
"حیا بھابی۔۔۔ انہی سے شادی کرنا چاہتے تھے نا آپ اور یہی وجہ ہے نہ میرے بھائی سے نفرت کی"
صنم نے شکوہ بھری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"سب سے پہلی بات مجھے تمہارے بھائی سے کوئی نفرت نہیں ہے وقتی غصہ تھا اوکے اور رہی بات شادی کی تو ٹھیک ہے میں کرنا چاہتا تھا حیا سے شادی مگر اب تم میری بیوی ہو، اس لیے میں تمھیں ہر بات کی وضاحت دوں گا"
ہادی نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا
"میں نے سنا تھا مگر آج یہ یقین ہو کیا ہے لڑکی قسمت اس کی ماں جیسی ہوتی ہے مام نے بھی ساری زندگی ڈیڈ کے نام کردی۔۔۔ ڈیڈ نے ہمیشہ حور انٹی کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔۔۔۔ اور میری جس سے شادی ہوئی اس کے دل میں بھی پہلے سے کوئی اور بستی ہے یعنی حور آنٹی کی بیٹی۔۔۔۔ ان دونوں ماں بیٹیوں نے ہم دونوں ماں بیٹیوں کا۔ ۔۔ جانے انجانے میں ہی سہی مگر حق مارا ہے"
صنم گاڑی سے اتر کر روتی ہوئی اندر چلی گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Second last episode
وہ بے یقینی سے رسیور کو دیکھے گئی جو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جھول رہا تھا۔۔۔ اس کے کانوں میں انسپکٹر سعد کے الفاظ گونج رہے تھے
"معاویہ"
وہ بھاگتی ہوئی ڈرائیور کے کوارٹر کے پاس گئی اور زور زور سے کواٹر کا دروازہ بجانے لگی
"چھوٹی بی بی کیا ہوا آپ کو"
ڈرائیور نیند میں انکھیں ملتا ہوا حیرت سے حیا کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"شاہد ہمیں ہسپتال چلنا ہے جلدی چلو ایڈریس میں گاڑی میں بتاؤں گی"
حیا نے اپنے آنسووں کو روکتے ہوئے بمشکل بولا
"مگر بی بی جی اس طرح سب خیریت ہے"
ڈرائیور ابھی بھی حیرت میں تھا
"باتوں پر ٹائم نہیں ہے شاہد جلدی چلو" اب حیا نے چیختے ہوئے کہا
شاہد گاڑی کی چابی لے کر آیا ہے تو حیا کار میں بیٹھی ۔۔۔۔معاویہ کی پتہ نہیں کون کون سی باتیں اسکو یاد آ رہی تھی اور وہ روئے جارہی تھی جیسے ہی جھٹکے سے کار اسپتال کے سامنے رکھی۔۔۔ حیا بھاگتی ہوئی اسپتال کے اندر گئی ریسپشن سے معلومات لے کر وہ بھاگتی ہوئی روم میں آئی اور دروازہ کھولا۔۔۔
تو سامنے بیڈ پر معاویہ نیچے پیر لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا ڈاکٹر اس کے ہاتھ میں پٹی باندھ رہے تھے ان کے برابر میں نرس کھڑی تھی اور دوسری طرف روم کے کونے میں دو انسپکٹر
دروازہ کھلنے کی آواز پر معاویہ سمیت سب کی نظریں دروازے پر گئیں۔ ۔۔۔ معاویہ ایک دم حیا کو دیکھ کر حیرت سے کھڑا ہوگیا حیا روم کے اندر آئی اور روتی ہوئی معاویہ کے گلے سے لگ گئی جس پر معاویہ سب کو دیکھ کر ایک دم سٹپٹا گیا
"تم ہمیشہ مجھے ایسے ہی پریشان کرتے ہو معاویہ، تمہیں زرا بھی کوئی احساس نہیں ہے میرا، ،،جھوٹ بولتے ہو کوئی پیار نہیں ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔۔ اگر پیار ہوتا تو یوں میری جان کو ہلکان نہیں کرتے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا تمہیں پتہ ہے کتنا ڈر گئی تھی میں"
حیا معاویہ کے گلے لگتے ہی روتے ہوئے نون-سٹاپ شروع ہو چکی تھی اور معاویہ باری باری سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ انسپکٹر سعد اور کانسٹیبل جو کہ سر نیچے جھکائے بناء آواز کے یقینا ہنس رہے تھے۔۔۔۔ چار قدم کے فاصلے پر کھڑی نرس مسلسل ہنسی روکنے کے چکر میں لال ہوچکی تھی اور ڈاکٹر صاحب کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا مگر انہوں نے چہرے پر سنجیدگی قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہوئی تھی
"حیا میں ٹھیک ہوں"
معاویہ نے نرمی سے کہتے ہوئے اس بازو سے تھام کر پیچھے ہٹانا چاہا۔۔۔۔جس پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی
"اگر اب تم نے میرے ساتھ اس طرح کا مذاق کیا تو میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں شوٹ کر دوں گی معاویہ"
وہ ویسے ہی گلے کے گلے ہوئے بولی
"خبر کس نے دی تھی"
معاویہ نے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"سر جی وہ میں سمجھا جی"
انسپکٹر سعد نے گلہ کھنکھار کر بولا
"شٹ اپ سعد"
معاویہ نے گھورتے ہوئے اسے کہا
ڈاکٹر نے سب کو اشارے سے روم سے باہر جانے کے لئے کہا سب روم سے باہر نکلے تو ڈاکٹر صاحب خود بھی روم سے باہر نکلے مگر دروازہ بند کرنا نہیں بھولے۔۔۔۔ سب کو روم سے باہر جاتا دیکھ کر اور روم کا دروازہ بند دیکھ کر معاویہ نے لمبا سانس کھینچنا اور حیا کی کمر کے گرد اپنا ایک بازو حاہل کیا
"میری شیرنی کچھ نہیں ہوا تمھارے شیر کو بس گولی چھو کر نکل گئی"
معاویہ کے کہنے پر حیا نے معاویہ سے الگ ہونا چاہا، تو معاویہ نے اس کی کمر پر ہاتھ کی گرفت سخت کردی
"اب کیا فائدہ اب تو سب تمہاری محبت کے نظارے دیکھ کر انجوائے کر کے جاچکے ہیں۔۔۔۔ اب ایسے ہی کھڑی رہو تھوڑی دیر"
معاویہ کے بولنے پر حیا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو معاویہ اس کو دیکھ کر مسکرایا
"تمہیں واقعی کچھ نہیں ہوا"
حیا نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"بےبی تمہارے سامنے صحیح سلامت تو کھڑا ہو" معاویہ نے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے کہا
حیا کی نظر اس کے بازو پر گئی آستین پر خون کے نشان اور بازو پر بندھی ہوئی پٹی۔۔۔ حیا نے پٹی پر سرخ دھبہ دیکھ کر اسے زور سے دبایا جس سے معاویہ درد سے بری طرح اچھل پڑا
"حیا"
معاویہ نے غصے میں اسے دیکھ کر اس کا نام پکارا
"کیا حیا۔۔۔۔ ہاں تمہیں تو کچھ نہیں ہوا ناں"
حیا نے بھی اس کو غصے میں دیکھتے ہوئے کہا اس کے اس طرح غصہ کرنے پر معاویہ کو ہنسی آگئی
"میرے سامنے زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیں ہے چپ کر کے لیٹو بیڈ پر۔۔۔۔ انکل تمہارے بارے میں بالکل ٹھیک کہتے ہیں تم نے سب کی ناک میں دم کر کے رکھا ہوا ہے یہاں آتے ہوئے مجھے پتا نہیں کیا کیا خیال آرہے تھے، کون کون سی بات ہے یاد آ رہی تھی تمہاری مجھے آج ہارٹ اٹیک کرانے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی"
حیا اس کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے ایک دفعہ پھر نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھی اور معاویہ مسکراہٹ دبائے اس کو دیکھ رہا تھا
"پوری حوالدارنی لگ رہی ہو اس وقت" معاویہ نے مسکرا کر حیا سے کہا۔۔۔۔ حیا جو اس کو چادر اڑا رہی تھی اس سے پہلے وہ اس کو جواب دیتی روم کا دروازہ ناک ہوا
"یس کم ان"
معاویہ کی آواز پر دروازہ کھلا خضر ناعیمہ اور صنم روم کے اندر داخل ہوئے اب کے ناعیمہ اور صنم رونے لگیں ایک دفعہ پھر جذباتی سین شروع ہوگیا
"مام، گڑیا میں بالکل ٹھیک ہوں یار کیا ہوگیا آپ سب کو" معاویہ نے ان دونوں کو چپ کراتے ہوئے کہا
تھوڑی دیر میں وہی پر زین حور کے ساتھ ہی بلال فضا ہادی بھی پہنچ گئے۔۔۔ زین اور بلال کے ملنے کے بعد ہادی معاویہ کے پاس آیا صنم معاویہ کے پاس ہی بیٹھی تھی،، ہادی نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر معاویہ سے اس کی طبیعت کا پوچھا جس کا معاویہ نے نارمل انداز میں جواب دیا
"انکل آپ سب لوگ کیسے آئے"
حیا نے خضر سے پوچھا
"تمہارے نکلنے کے بعد واچ مین نے بتایا کہ تم روتے ہوئے ڈرائیور کے ساتھ گئی ہو۔۔۔ ڈرائیور کو کال کرنے پر صورت حال کا پتہ چلا تو پھر میں نے ہی زین کو فون کرکے بتایا۔۔۔۔ بیٹا تمہیں ہمیں تو بتانا چاہیے تھا"
خضر نے حیا کو تفصیل سے بتایا
"انکل میں اتنا گھبرا گئی تھی بس کچھ سمجھ میں نہیں آیا"
حیا نے خضر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ خضر کو حیا کا معاویہ کا یوں احساس کرنا بہت اچھا لگا
"بہت پیاری بیٹی ہو تم، معاویہ نے جو تمہارے ساتھ کیا اسکے باوجود"
"انکل پلیز میری ریکویسٹ ہے آپ سے اس بات کو دوبارہ مت دہرائیے گا۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے مما بابا کو کچھ پتہ چلے۔۔۔ میں اپنے مما بابا کی نظر میں معاویہ کے لئے ہمیشہ ریسپکٹ دیکھنا چاہتی ہوں"
حیا نے آئستہ سے خضر کو بولا
"ہمیشہ خوش رہو" خضر نے حیا کے سر پر ہاتھ رکھکر کہا
"یہ سب ہوا کیسے" ہادی نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"اویس شیرازی کو اریسٹ کرنے کے آرڈرز ملے تھے اس کو پہلے سے ہی خبر ہوگئی تھی، اس لئے فرار ہونے کے چکر میں اس سے گولی چل گئی مگر اس کا نشانہ چوک گیا ہے،، خیر اریسٹ تو اسے کر لیا گیا ہے"
معاویہ ویسے تو آفیشل باتیں کسی کو نہیں بتاتا تھا مگر ہادی کے پوچھنے پر اس نے آہستہ آواز میں بتانے لگا
"کچھ حاصل نہیں ہے اس طرح اپنی جان مشکل میں ڈال کر صرف پریشان کرنے والی بات ہے اپنے گھر والوں کو اور خود کو۔۔۔ کیا صلہ ملے گا بس وردی پہ دوچار ستاروں میں اضافہ ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ"
خضر جو کہ غصے میں بھرا ہوا تھا معاویہ کے قصے سنانے پر شروع ہو گیا
"کیسی بات کردی خضر تم نے میں تمھاری بات سے ایک پرسنٹ بھی متفق نہیں ہو۔۔ اگر سب اپنی جان کی پرواہ کرنے لگ جائیں گے تو پھر ملک کے بارے میں کون سوچے گا،، تمہیں تو فخر ہونا چاہیے اپنی اولاد پر اور بھابھی آپ اس طرح پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوا آپ کے بیٹے کو،، ماشااللہ جوان ہے، بہادر ہے آپ کا بیٹا"
زین نے خضر کے بولنے کے بعد ناعیمہ کو دیکھتے ہوئے کہا جوکہ چہرے سے ابھی بھی پریشان لگ رہی تھی
تھوڑی دیر کے بعد کے بعد زین، حور، بلال اور فضا نے اجازت لی اور وہاں سے چلے گئے۔۔۔ معاویہ نے نوٹ کیا ہادی وقفے وقفے سے صنم کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل سر جھکائے صوفے پر ناعیمہ کے ساتھ بیٹھی تھی،،، ہادی نے رات میں صنم کا نمبر کافی دیر تک ٹرائی کیا مگر صنم کا نمبر of تھا
"ڈیڈ میں یہاں کمفرٹیبل نہیں ہو، گھر جانا چاہتا ہوں آپ ڈاکٹر سے بات کریں"
معاویہ نے بیزار ہو کر خضر سے بولا
خضر سر ہلا کر روم سے باہر نکلا تھوڑی دیر میں اسپتال کی فارملیٹیسز پوری کرکے معاویہ کو ڈسچارج کردیا گیا۔۔۔ خضر نے کال کر کے ڈرائیور کو بلایا اور اپنی گاڑی لے کر آفس نکل گیا
"صنم تم ایسا کرو ہادی کے ساتھ آجاؤ کیوں ہادی صنم کو چھوڑ دو گے گھر"
ناعیمہ اور حیا گاڑی میں بیٹھ گئی تھی صنم بیٹھنے لگی تو معاویہ نے صنم کو بولا
"ہاں کیوں نہیں آو صنم"
ہادی نے کہا صنم معاویہ کو دیکھنے لگی معاویہ نے آنکھوں کے اشارے سے اسے ہادی کی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا، وہ چپ کر کے ہادی کی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ تو معاویہ بھی اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا
"کیا ہوا صنم ہمارے ساتھ نہیں آرہی" حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"ہادی چھوڑ دے گا تم اس کی فکر نہیں کرو، بس اپنے دو ٹکے کے پولیس والے پر دھیان دیا کرو"
معاویہ نے آخری بات سرگوشی میں حیا کے کان میں کہی حیا نے معاویہ کو ابرو اچکا کر دیکھا
**
"بات کیوں نہیں کر رہی تم مجھ سے"
صنم کے گاڑی میں بیٹھتے ہیں ہادی نے کار اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا
"مجھے آپ سے کسی بھی موضوع پر کوئی بھی بات نہیں کرنی آپ مجھے میرے گھر چھوڑ آئے پلیز"
صنم نے بنا ہادی کو دیکھے اس سے کہا گاڑی میں موجود ٹیپ آن کیا تاکہ وہ مزید کچھ نہ بول سکے
"صنم رے صنم رے تو میرا صنم ہوا رے کرم رے کرم رے تیرا مجھ پہ کرم ہوا رے"
گانے کے بول پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ہادی مسکرایا صنم نے چینل چینج کیا تو دوسرا سونگ اسٹارٹ ہوا
"کہو نہ کہو یہ انکھیں بولتی ہیں او صنم او صنم او میرے صنم"
دوبارہ گانے میں اپنا نام سن کر اس نے جھینپ کر ہادی کو دیکھا وہ مسکراتا ہوا ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔ صنم نے دوبارہ چینل چینج کیا
"جتنے بھی تو کر لے ستم، ہنس ہنس کے سہی گے ہم یہ پیار نہ ہوگا کم صنم تیری قسم"
صنم نے گھور کے ٹیپ کو دیکھا اور دوبارہ چینل چینج کیا
"ہم دل دے چکے صنم تیرے ہو گئے ہیں ہم تیری قسم"
صنم نے ٹیپ بند کرنا چاہا تو ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
"کس کس کا منہ کراؤں گی سب کے سب میرے دل کی حالت بیان کرتے رہے گے"
ہادی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگانا چاہا تو صنم نے فورا اپنا ہاتھ ہٹا لیا
"مانا کہ میں سیدھی ہوں مگر اتنی نہیں کہ آپ کے فلمی ڈائیلاگ بول کر مجھے پاگل بنائے۔۔۔ آپ کے دل میں، میں کہیں بھی نہیں ہوں یہ بات مجھے معلوم ہو چکی ہے اس لیے اب مجھے الٹی سیدھی وضاحت دے کر بہلانے کی ضرورت نہیں ہے"
صنم کے کہنے کی دیر تھی ہادی نے کار ایک جھٹکے سے اس کے گھر کے پاس روکی، صنم اترنے لگی تبھی ہادی نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھاما
"نہیں آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سیدھی نہیں بلکہ بیوقوف ہوں پوری ۔۔۔ ویسے اگر میں فلمی ڈائیلاک بول رہا ہو تو کون ہے میرے دل میں۔۔۔ وضاحت دینا پسند کرو گی، ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے"
ہادی نے ویسے ہی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے سنجیدگی سے صنم سے پوچھا
"حیا بھابی۔۔۔ انہی سے شادی کرنا چاہتے تھے نا آپ اور یہی وجہ ہے نہ میرے بھائی سے نفرت کی"
صنم نے شکوہ بھری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"سب سے پہلی بات مجھے تمہارے بھائی سے کوئی نفرت نہیں ہے وقتی غصہ تھا اوکے اور رہی بات شادی کی تو ٹھیک ہے میں کرنا چاہتا تھا حیا سے شادی مگر اب تم میری بیوی ہو، اس لیے میں تمھیں ہر بات کی وضاحت دوں گا"
ہادی نے اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا
"میں نے سنا تھا مگر آج یہ یقین ہو کیا ہے لڑکی قسمت اس کی ماں جیسی ہوتی ہے مام نے بھی ساری زندگی ڈیڈ کے نام کردی۔۔۔ ڈیڈ نے ہمیشہ حور انٹی کو اپنے دل میں بسائے رکھا۔۔۔۔ اور میری جس سے شادی ہوئی اس کے دل میں بھی پہلے سے کوئی اور بستی ہے یعنی حور آنٹی کی بیٹی۔۔۔۔ ان دونوں ماں بیٹیوں نے ہم دونوں ماں بیٹیوں کا۔ ۔۔ جانے انجانے میں ہی سہی مگر حق مارا ہے"
صنم گاڑی سے اتر کر روتی ہوئی اندر چلی گئی
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment