Wednesday, May 1, 2019

itni mohbbat karo na (season 2) episode 60

Itni mohbat karo na 2
By zeenia sharjeel
Epi # 60


ہادی کا دن آفس میں کافی بزی گزرا میٹنگ کی وجہ سے وہ فضا کی کال اٹینڈ نہیں کر پایا۔۔۔ اس نے سوچا گھر جاکر فضا سے بات کرے گا،، دماغ بھٹک کر صنم کی طرف گیا تو اسے اپنے کل کے رویہ پر افسوس ہوا اس نے سوچا صنم کو بھی منالے گا اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی نہیں دیکھ سکتا تھا یہی سوچتے ہوئے اس نے گاڑی پارک کی۔ ۔۔ گاڑی سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوا

"کیسی ہیں مما آپ"  ہادی نے گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے سامنے صوفے پر بیٹھی فضا کو دیکھ کر پوچھا

"کال کیوں نہیں ریسیو کر رہے تھے تم میں نے کتنی دفعہ ٹرائے کیا"
فضا نے ہادی کو دیکھ کر شکوہ کیا

"بس میٹنگ میں بزی تھا سب خیریت ہے نا"
فضا کے برابر میں بیٹھے ہوئے ہادی نے پوچھا

"خیریت ہوتی تو پھر اتنی دفعہ کال کیوں کرتی"
فضا نے پریشانی سے کہا اور صبح شہناز کے آنے کا سارا واقعہ ہادی کو سنایا۔۔۔۔ ہادی جو آرام سے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا فضا کی بات سن کر پریشان ہو گیا

"آپ نے صنم کو جانے کیوں دیا مما" ہادی نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا اور صنم کا نمبر ملانے لگا

"بتا تو رہی ہوں مجھے اس کے جانے کو کچھ پتہ ہی نہیں چلا، ہادی پلیز اس کو منا کر لے آؤ اس کی غلط فہمی دور کر دو"
فضا نے پریشانی سے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا

"اچھا پریشان نہیں ہوں میں اس کو لینے جاتا ہوں"  ہادی نے اپنا موبائل پاکٹ میں رکھا اور گاڑی کی کیز اٹھا کر صنم کو لینے چلا گیا

**

"کیسی ہو"
حیا ٹیرس میں گرل تھامے کھڑی تھی۔۔۔ معاویہ نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر کان میں سرگوشی کی، وہ اسی وقت گھر لوٹا تھا

"ٹھیک ہو تم کب آئے"
حیا نے مڑ کر معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ٹھیک ہوں مگر مجھے لگ نہیں رہی کیا ہوا ہے تمہیں"
معاویہ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ کل رات وہ خوش تھی اپنی آمادگی سے اس نے اپنا آپ معاویہ کو سونپا تھا۔۔۔ گھر آنے پر وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا اسی طرح خوش باش چہرے لیے اس کا انتظار کر رہی ہوگی مگر اس کے برعکس حیا کا بجھا ہوا چہرہ دیکھ کر اسے لگا کہ کوئی بات ضرور ہوگی

"نہیں میں تو ٹھیک ہوں تمھیں ایسا کیوں لگا"
اب کے حیا نہیں مسکرا کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"کیوکہ میں اپنی شیرنی کا چہرہ دیکھ کر اس کے موڈ کے بارے میں اچھی طرح جان سکتا ہوں اب بتاؤ کیا ہوا ہے"
معاویہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دوبارہ سوال کیا

"صنم آئی ہوئی ہے میں اس کے پاس دو دفعہ گئی مگر اس نے ویسے بات نہیں کی جیسے وہ کرتی ہے شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوگی"
حیا نے معاویہ کو دیکھتے ہوئے بتایا اور پھر خود ہی اس کے بات نہ کرنے کی وجہ بھی بیان کردی۔۔۔ معاویہ نے مسکرا کر اس کے گال تھپتھپائے

"اس کی وجہ سے پریشان اور افسردہ مت ہو بےبی۔۔۔ صبح جب وہ آئی تھی تو کچھ اپ سیٹ لگ رہی تھی اس لئے تم سے بات وغیرہ نہیں کی ہوگی۔۔۔ تم زیادہ فیل نہیں کرو، وہ شروع سے تھوڑی ریزرو نیچر کی ہے اس لئے تم سے شیئر نہیں کیا ہوگا میں دیکھ لیتا ہوں اس کو، یہ بتاؤ مام ڈیڈ کہاں ہیں"
معاویہ نے روم میں آکر چیئر پر بیٹھتے ہوئے حیا سے پوچھا

"آنٹی انکل ڈنر پر گئے ہیں اپنے کسی فرینڈ کے گھر۔۔۔ کہو تو ساجدہ سے کھانے  کا کہو"
حیا نے کھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے معاویہ سے پوچھا

"ہاں کھانے کا کہہ دو جب تک میں صنم سے بات کر کے آتا ہوں اور کھانے کے بعد میں سویٹ ڈش اپنی مرضی کی لوں گا"
وہ حیا کو معنی خیزی سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔ تو حیا بلش کر کے اس کو گھورتے ہوئے روم سے نکل گئی

**

"یہاں اکیلے کیو بیٹھی ہو گڑیا"
معاویہ لان میں چیئر پر بیٹھی ہوئی صنم کے پاس آکر بولا

"ویسے ہی بیٹھی ہوئی تھی بھائی آپ کب آئے"
صنم نے افسردگی دور کرتے ہوئے معاویہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"تمہیں معلوم ہے صنم میں ہادی سے تمہاری شادی کیوں نہیں کروانا چاہتا تھا"
معاویہ نے دوسری چیئر پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو صنم نے کچھ بولے بناء معاویہ کو دیکھا جیسے وہ جاننا چاہتی ہوں

"کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میری نازک سی معصوم دل رکھنے والی بہن کا شوہر ایسا ہو جو اسے پھولوں کی طرح رکھے اور مجھے ہادی سے اس کی امید نہیں تھی"
معاویہ بول کر چپ ہو گیا

"تمہیں معلوم ہے میں اس رشتے پر بعد میں جو راضی کیو ہوا، وہ وجہ تمہارا اور ہادی کا پہلے سے نکاح نہیں تھی"
معاویہ کی بات پر صنم نے نظریں نیچے جھکائی

"بلکہ میں ہادی سے تمہارے رشتے پر صرف اس لئے راضی ہوا کیوکہ میں نے تمہاری آنکھوں میں ہادی کے لئے محبت دیکھی۔ ۔۔۔ صنم تمہارا بھائی تم سے بہت پیار کرتا ہے،، تمہیں میں ہر وقت خوش دیکھنا چاہتا ہوں،، یہی وجہ تھی کہ میں ہادی کے رشتے کے لئے راضی ہوا۔۔۔ اب تم مجھے بتاو ایسی کیا بات ہے جس پر تم خوش نہیں ہو،، یہ مت کہنا کے کوئی بات نہیں ہے تمہاری آنکھیں صبح ہی کہانی عیاں کر چکی ہے کہ تم ناراض ہوکر آئی ہو ہادی سے۔۔۔ مگر تمہارے منع کرنے پر میں اس کے پاس نہیں گیا اب تم بتاؤ کیا ہوا ہے"
معاویہ نے صنم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس سے پوچھا تو صنم کی آنکھوں میں آنسو آگئے

"بھائی ہادی"
ابھی صنم نے بولا ہی تھا دور سے ہادی کی گاڑی گیٹ سے اندر آتی دکھائی دی گاڑی سے اتر کر ہادی ان دونوں کے پاس آیا۔۔۔ تو صنم اور معاویہ اس کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے

"اس طرح بتائے بغیر گھر سے آنے کا مقصد"
ہادی نے صنم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

"آنٹی کو معلوم ہے ان سے پوچھ لئے گا"
صنم نے نظریں ملائے بغیر ہادی سے کہا اور لان سے جانے لگی ہادی نے اس کو جاتا دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑا معاویہ چپ کر کے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

"ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی تم میری بات سنو"
ہادی نے اس کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا

"مجھے آپ سے اس وقت کوئی بات نہیں کرنی"
صنم نے ہاتھ چھڑا کر جانا چاہا

"تم ایسے نہیں جاسکتی صنم"
ہادی نے سختی سے اس کا ہاتھ دوبارہ پکڑا تو،، معاویہ نے آپ کی بار ہادی کا ہاتھ پکڑا

"جب وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی ہے تو تم اس سے زبردستی نہیں کرو"
معاویہ نے ہادی کو دیکھتے ہوئے تحمل سے کہا

"میں صنم سے بات کر رہا ہوں بیوی ہے وہ میری"
ہادی نے معاویہ کو جتاتے ہوئے کہا

"اور میں صنم کی بات کر رہا ہوں وہ بہن ہے میری"
معاویہ نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا

"کیا ہوگیا ہے تم دونوں کو یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا"
حیا جو لان میں معاویہ اور صنم کو کھانے کے لئے بلانے آئی تھی اس نے معاویہ اور ہادی کو ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھا اور صنم کو سرجھکائے ہوئے ایک طرف کھڑا دیکھا۔ ۔۔ تو وہ اکر بولی

"اپنے شوہر سے کہو آئندہ میرے اور میری بیوی کے بیچ میں وہ نہ آئے"
ہادی نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا

"آپ ان سے کیا بات کر رہے ہیں میں خود آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی تو اتنا ہنگامہ کیو پلیز آپ جائے یہاں سے"
صنم نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اور خود گھر کے اندر چلی گئی ہادی لب بینچ کر وہاں سے جانے لگا

"ہادی میری بات سنو آخر ہوا کیا ہے" حیا نے اس کو روکتے ہوئے پوچھا

"تمھارے شوہر کو سب پتہ ہوگا اس سے پوچھو"
ہادی حیا سے کہتا ہوا گاڑی لے کر وہاں سے نکل گیا

"اندر چلو حیا" معاویہ نے حیا کو کہا اور خود بھی اندر چلا گیا

**

بہت مشکل سے وہ صنم کو بہلا کر کھانے کی ٹیبل پر لایا اور کھانا کھلایا پھر وہ اپنے روم میں چلی گئی خضر اور ناعیمہ بھی واپس آ چکے تھے حیا تھوری دیر ناعیمہ کے ساتھ بیٹھ گئی ناعیمہ سے باتیں کر کے وہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے بیڈ رومبیٹھ کے کرم سے ٹیک لگاکر اسمگل کرنے میں  میں آئی تم معاویہ بیڈ کے کراون سے ٹیک لگا کر اسموکنگ کرنے میں مصروف تھا

"ہر وقت اس کو منہ مت لگایا کرو" حیاء نے اس کے ہونٹوں میں دبی ہوئی سگریٹ نکال کر ایش ٹرے میں مسلی

"تو پھر تمہیں بیڈ روم میں موجود ہونا چاہیے بندوں کچھ نہ کچھ تو منہ لگائے گا ناں" معاویہ نے حیا کو کھینچ کر اپنے اوپر گرایا اور اسکے  ہونٹوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے بولا 

"ہٹو چینج کرنے دو" حیا نے معاویہ کو ہٹاتے ہوئے کہا

"سنو وہی اس دن والی نائیٹی پہن لو" معاویہ اپنی جگہ پر لیٹتا ہوا آنکھوں میں شرارت لیے ہوئے بولا جس پر اسے حیا نے گھور کر دیکھا

"زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے آج۔۔ چپ کرکے لیٹے رہو"
حیا ڈریسنگ روم میں جانے لگی

"بےبی رات کا ٹائم ہی میرے فری ہونے کا ٹائم ہے اس لئے نخرے دکھائے بغیر نائیٹی پہن کر آؤ"
معاویہ کی آنکھوں میں شرارت کا عنصر صاف نمایاں تھا۔۔۔ حیا اپنا تمیز والا نائٹ ڈریس پہن کر بیڈروم میں آئی اور مسکرائٹ دبا کر چپ کر کے بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔ معاویہ نے اس کو دیکھا اپنی طرف کھینچ کر اس پر جھکا

"پتہ ہے نہ پولیس والے سے پنگا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے پولیس والے کی بات نہ مان کر جو غلطی تم نے کی ہے اب اس کی سزا بھگتنے کے لئے آپ تیار ہو جاؤ"
وہ کہتے ہوئے حیا کی گردن پر جھکا

چند سیکنڈ گزرے تھے کہ معاویہ کے موبائل پر کال آنے لگی۔۔۔۔ معاویہ نے اٹھ کر کال ریسیو کی تھوڑی دیر پہلے چہرے پر چھائی ہوئی شوخی سنجیدگی میں بدل گئی

"اوکے سر میں ٹیم ریڈی کرتا ہو۔۔۔ ایک گھنٹے کے اندر ہم اس کے گھر ہوگیں"
معاویہ موبائل کی ایک طرف رکھ کر وارڈروب سے اپنا یونیفارم نکالنے لگا

"کس کا فون تھا یونیفارم کیوں نکال رہے ہو تم"
حیا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

"ڈیوٹی ہے جانم۔۔۔سمجھو آج رات تمہاری بچت ہوگئی"
وہ حیا کے گال کو چھوتا ہوا بولا

"یہ کیا بات ہوئی اس وقت کونسا ڈیوٹی کا ٹائم ہے پوری بات بتاؤ کہاں جا رہے ہو"
حیا نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا

"اویس شیرازی کے خلاف وارنٹ جاری ہوگئے اسے گرفتار کرنے کے آرڈرز مل گئے ہیں آج اسے حراست میں لینا ہے۔۔۔ میرا انتظار مت کرنا اور مام کو بتا دینا"
معاویہ کہتا ہوا ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔ واپس آیا تو حیا ویسے ہی کھڑی تھی

"مت جاؤ پلیز"
حیا نے اس کو تیار ہوتے دیکھ کر کہا

"تم نے نائٹی نہیں پہنی تو میں تمہاری بات کیوں مانو"
معاویہ اپنا لوڈڈ ریوالور چیک کرتے ہوئے کہنے لگا

"معاویہ میں مذاق نہیں کر رہی ہوں" حیا نے ضد کرتے ہوئے کہا

"پولیس والوں کی ڈیوٹی ایسے ہی ہوتی ہے جانم۔۔۔ اب تم ریسٹ کرو اور لٹکے ہوئے منہ کے ساتھ مجھے الوداع نہیں کرو اسمائل دو شاباش"
وہ حیا کا چہرہ تھام کر کہنے لگا حیا زبردستی کا مسکرائی۔۔۔ تو وہ اسکے ماتھے پر لب رکھ کر روم سے چلا گیا

حیا کا دل افسردہ ہونے لگا پھر وہ ناعیمہ کو معاویہ کا بنانے چلی گًئی۔۔۔۔ واپس آکر کافی دیر کروٹیں بدلنے کے بعد جب اس کو نیند نہیں آئی تو اس نے اپنی شادی کا البم نکالا اور تصویریں دیکھنے لگی۔۔۔ ایک ایک تصویر دیکھتی گئی تو اس کے چہرے پر خود بخود مسکراہٹ آتی گئی خاص کر اپنے اور معاویہ کے ولیمے کے پوز دیکھ کر اور وہ دن یاد کر کے۔۔۔۔۔ البم دیکھتے ہوئے کب اس کی آنکھ لگ گئی اس کو پتہ نہیں چلا نیند میں اسے محسوس ہوا جیسے معاویہ نے اسے پکارا ہو۔۔۔ آنکھ کھولی تو برابر والی جگہ خالی تھی اور بیڈ پر البم کھلا ہوا تھا وہ البم بند کر کے روم سے باہر آ گئی۔۔۔۔ کچن کے ساتھ والی روم کی لائٹ جلتی دیکھ کر وہ روم میں داخل ہوئی تو ناعیمہ کو جائے نماز پر بیٹھے پایا

"آپ تہجد پڑتی ہیں آنٹی"
حیا نے امپریس ہوتے ہوئے ناعیمہ سے پوچھا

"کبھی کبھی جب آنکھ کھل جائے مگر جب معاویہ اس طرح نکلتا ہے تو خاص اس کی سلامتی اور کامیابی کے لئے پڑھتی ہو"
ناعیمہ نے جائے نماز تہہ کرتے ہوئے حیا کو بتایا

"میں ابھی سوچ رہی تھی اس کو کال کرنے کا" حیا نے اپنے دل کی بات ناعیمہ شیئر کی

"کوئی فائدہ نہیں کال کرنے کا ڈیوٹی ٹائم میں وہ کال ریسیو نہیں کرے گا۔۔۔۔ فجر میں تھوڑا ٹائم ہے میں ریسٹ کرتی ہوں تم بھی سو جاؤ شاباش"
ناعیمہ حیا سے کہتے ہوئے روم سے نکل گئی۔۔۔۔۔

حیا اپنے روم میں آئی مگر اس کو نیند نہیں آ رہی تھی روم میں آکر اس نے ڈریس چینج کیا اور فجر کی نماز کی نیت سے وضو کیا۔۔ ۔ اپنے لیے کافی بنانے کے غرض سے وہ کچن میں آئی کافی بنا کر وہ واپس روم میں جانے لگی تبھی لینڈ لائن پر کال آنے لگی

"اس وقت اس کی کال ہوسکتی ہے"
حیا نے سوچتے ہوئے کال ریسیو کی

"اسلام علیکم یہ اے۔ایس۔پی معاویہ مراد کے گھر کا نمبر ہے دوسری طرف سے نوجوان کی آواز  ابھری

"جی انہی کے گھر کا نمبر ہے مگر آپ کون بات کر رہے ہیں"
حیا نے نوجوان سے پوچھا

"میں انسپیکٹر سعد بات کر رہا ہوں آپ ان کے فادر سے بات کروا دیں"
دوسری طرف سے بولا گیا

"میں مسسز معاویہ مراد ہوں آپ مجھ سے بات کریں۔۔۔ بلکہ میری معاویہ سے بات کروائے"
حیا نے ہاتھ میں موجود کافی کے مگ کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا

"آپ ہاسپیٹل کا ایڈریس نوٹ کریں میم۔۔۔ سر جی میرا مطلب ہے اے۔ایس۔پی معاویہ مراد کو گولی لگنے کی وجہ سے"
حیا کے ہاتھ سے ریسیور اور کافی کا مگ دونوں چھوٹے


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment