Showing posts with label muhabbat barsadena tu hy aymen nauman. Show all posts
Showing posts with label muhabbat barsadena tu hy aymen nauman. Show all posts
Friday, May 31, 2019
Friday, December 28, 2018
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 8
Muhabbat barsadena tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 8
حسام گلے رانا کو اپنی حیوانیت کی بھینٹ چڑھا چکا تھا ۔
اور اب اٹھ کر کمرے میں کچھ تلاش کر رہا تھا چند ہی لمحوں میں اس کو اپنی مطلوبہ شہر مل ہی گئی تھی آخر کار ۔۔۔
حسام نے زمین پہ پڑا گل رانا کا دوپٹہ اٹھایا اور بے جان و بے ہوش اسکے ساکت وجود کےاوپر پھینکنے کے انداز میں پھیلا دیا ۔۔۔
البتہ خود فریش ہونے کے لئے چلا گیا ۔۔۔
فریش ہو کہ وہ دوبارہ کمرے میں آیا تھا۔۔
گل ابھی تک ویسی ہی تھی جس حال میں وہ چھوڑ کر گیا تھا ۔۔
ہونہہ۔ ۔۔
نخرے تو دیکھو ذرا ایسے ہیں جیسے کسی محل سے آئی ہو بہت پاک باز بی بی ۔
وہ گل پر تمسخر اڑاتی ہنسی اچھالتا باہر نکل گیاتھا ۔۔
اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل ڈریسنگ ٹیبل پرسے اٹھا کر ۔۔
دو گھنٹے بعد وہ گھر واپس آیا تھا اور آتے ہی اس کو پہلا خیال گل کا ہی آیا تھا ۔۔
ہو نہ ہو اب تک تو محترمہ کی عقل ٹھکانے آ چکی ہوگی اچھی طرح سے۔۔
حسام کی غیرت کو للکارنے کا اب تک تو بہت اچھا سبق سیکھ چکی ہو گی ۔۔۔۔
وہ سفاکی سے پوچھتا واپس گل کی طرف بڑھا تھا ۔
حسان نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا وہ ٹھٹک سا گیا گل بےحس اور حرکت صبح والے انداز میں ہی بستر پر دراز تھی ۔۔
حسام کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا اور جھک کر اس کے ہاتھ کی نبض ٹٹولنے لگا ۔
اس کے اندازے کے عین مطابق گل کے ہاتھ کی نبض بہت ہلکی چل رہی تھی ۔۔
اومائی گڈنیس۔ ۔
اس کی نبض کو بہت سست حرکت کررہی ہے اب کیا کروں ؟؟
وہ اپنے سر کے بال دونوں مٹھیوں میں قید کئے سوچ رہا تھا ۔۔۔
اگر ہوسپٹل لے کر گیا تو لمبے چوڑے سوالات ہوں گے اور میرا خود کا نام بھی خراب ہو گا ۔۔
پھر اب کیا کروں ؟؟؟
کوئی تو راستہ ہوگا کوئی تو حل ہوگا اس مسئلے کا ؟؟؟
وہ غصے اور پریشانی کے ملے جلے انداز میں پورے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔
اب ایسا بھی کیا کردیا کہ یہ ہوش میں ہی نہیں آ رہی ؟؟
وہ اس کے ناک کے قریب بار بار اپنی دو انگلیاں لے جا کر دیکھ رہا تھا کے سانسیں چل رہی ہیں یا نہیں ۔۔۔
اور پھر ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندھا تھا ۔۔
ہاں یار تم فوری میرے گھر آؤ ۔۔
یار تم آ تو جاؤ سب کچھ بتاؤں گا۔۔۔
بس جلدی سے میرے گھر پہنچوں اور کسی کو بھی بتا کر مت آنا۔۔۔
اب وہ بہت گہری نظروں سے گل کو دیکھ رہا تھا ۔۔
❤
وہ اپنی ماں صدف اور باپ میرحسن سعدان کے ساتھ زمل کے گھر اس کے ڈرائنگ روم میں برجمان تھا۔ ۔
ساتھ ہی دو گارڈ بھی تھے جن کو اس نے گھر کے باہر کھڑا رہنے کا حکم دیا تھا ۔۔
آج اتوار کا دن تھا جس کی وجہ سے گھر کے سبہی فرد تقریبا گھر میں ہی تھے۔۔۔
سوائے زید کے وہ اپنے کسی دوست کی والدہ کی تدفین میں گیا ہوا تھا ۔
گھر کے سبھی افراد حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرحسن سعدان ملک کا اتنا بڑا سیاستدان
ان کے گھر میں آخر اتنے ڈھیروں تحفے تحائف پھلوں کی ٹوکریاں، مٹھائیوں کے ٹوکرے لےکر کیوں آیا ہے؟؟
دیکھئے احمد صاحب ہم خاص ایک سلسلے میں آپ کے گھر تشریف لائے ہیں ۔۔
میر حسن سعدان نے بہت طریقے سے گفتگو کا آغاز کیا ۔۔
وہ ایک قدرے سلجھے ہوئےانسان تھے ۔۔۔
اور ابھی موجودہ دور کے بہترین سیاست دان ثابت ہو رہے تھے ۔۔
وہ حقیقتا نیک فطرت آدمی تھے ۔۔
جی میر صاحب فرمائیں ۔۔
احمد کی بجائے طاہر صاحب نے بڑے شایستہ انداز میں استفسار کیا ۔۔
میں آپ کی بیٹی ز مل کو اپنی وائف کے عہدے پر فائز کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
صدف اور حسن کے بولنے سے پہلے ہی میر نے سیدھے لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ۔۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھے سبہی افراد پیر میر حنید کی بات کو سننے کے بعد دم بخود رہ گئے تھے ۔۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ لوگ ہمارے گھر تشریف لائے مگر ۔۔۔
مگر کیا ؟۔۔
میر کے چہرے کے زاویوں میں یکدم سختی سے پیدا ہوئی تھی ۔۔۔
میں بہت معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی زمل کا نکاح چار دن پہلے ہی میرے بڑے بھائی صاحب کے بیٹے زید سے ہوچکا ہے ۔۔
احمد صاحب ٹھہر ٹھہر کے زمل کے نکاح کے متعلق ان لوگوں کو آگاہی دے رہے تھے ۔۔۔
نکاح ہی ہوا تھا نہ رخصتی تو نہیں ہوئی ہے نہ ؟؟؟
ختم ہوجائے گا نکاح بھی کتنی دیر لگے گی؟ ؟؟
۔۔۔
میر بہت سفاکی سے بولا ۔۔
مسٹر نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ جب جی میں آیا ختم کردیا اور جب جی میں آیا کر لیا ۔۔۔۔
آدم سے مزید ظبط نہ ہوا اور وہ بھی میر کے ہی انداز میں سرد تاثرات چہرے پہ سجائے گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کو جلد ہی جواب دوں گا اس سلسلے میں ۔۔
کافی دیر سے خاموش دادا نے گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ میت اور آدم ایک دوسرے سے بھڑیں اور کوئی بدمزگی پیدا ہو ۔۔۔
ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی مول لیں ۔۔
اس لئے کہ میر کا تو کچھ نہیں بگڑنا تھا ان کے گھرانے کا ٹھیک ٹھاک نقصان ہو جانا تھا ۔۔۔
دادا بہت آگے کی سوچ رہے تھے ۔۔
السلام علیکم ۔۔
ابھی دادا کچھ اور بھی کہنے والے تھے کہ حورم ڈرائنگ روم میں آ دھمکی تھی ۔۔۔۔
آدم نے تیز نظروں سے اس کو گھورا تھا وہ اس وقت بھی اپنے اول جلول لاپروا سے ہولیہ میں آپنا تشریف کا ٹوکرا اٹھائے چلی آئی تھی ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
تینوں مہمانوں نے ایک سا تھ جواب دیا تھا ۔۔۔
جبکہ حورم کا تو خوشی کا ٹھکانا ہی نہیں تھا انہیں اپنے گھر میں دیکھ کے ۔۔
سر آپ یہاں کیسے ؟؟؟۔
حورم بڑے بے تکلفانہ انداز میں میر حنید سے گویا ہوئی تھی ۔۔
آدم نے چبھتی ہوئی نظر حورم پہ ڈالی تھی ۔۔
جیسے آنکھوں سے ہی اٹھا کر ڈرائنگ روم کے باہر پٹخ دے گا ۔۔۔
کیسی ہو پرنسس؟ ؟
پھر کسی نے تہیں تنگ تو نہیں کیا ؟؟
میراس کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔۔
حورم تم کمرے میں جاؤ اپنے ۔۔۔
آدم نے حورم کو ڈانٹنے کے انداز میں گویا ڈرائنگ روم سے جانے کا کہا تھا
مسٹر تمیز سے بات کرو ۔۔۔
مجھے پتہ ہے کہ مجھے کس طرح بات کرنی ہے اور کس طرح بات نہیں کرنی ۔۔
برائے مہربانی آپ لوگ جس مقصد کے تحت آئے تھے اگر وہ پورا ہو گیا ہے تو آپ لوگ جاسکتے ہیں ۔۔
آدم نے بہت چبا چبا کے ہر ایک لفظ کو ادا کیا تھا ۔۔۔
ادم اور میر حنید دونوں کی آنکھیں طیش اور غصے سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔
یاد رکھنا یہ میری سالی ہے اور اس سے تمیز سے بات کرو ۔۔۔
اور میرے نزدیک میری سالی میری چھوٹی بہن کی برابر ہے ۔۔
زبان کو لگام دو ۔۔
خیر بہت جلد ملاقات ہو گی جب میں اپنی بیوی کو پورے حق سے رخصت کروا کے لے کر جاؤں گا ۔۔۔
جاری ہے۔ ۔
By Aymen Nauman
Epi 8
حسام گلے رانا کو اپنی حیوانیت کی بھینٹ چڑھا چکا تھا ۔
اور اب اٹھ کر کمرے میں کچھ تلاش کر رہا تھا چند ہی لمحوں میں اس کو اپنی مطلوبہ شہر مل ہی گئی تھی آخر کار ۔۔۔
حسام نے زمین پہ پڑا گل رانا کا دوپٹہ اٹھایا اور بے جان و بے ہوش اسکے ساکت وجود کےاوپر پھینکنے کے انداز میں پھیلا دیا ۔۔۔
البتہ خود فریش ہونے کے لئے چلا گیا ۔۔۔
فریش ہو کہ وہ دوبارہ کمرے میں آیا تھا۔۔
گل ابھی تک ویسی ہی تھی جس حال میں وہ چھوڑ کر گیا تھا ۔۔
ہونہہ۔ ۔۔
نخرے تو دیکھو ذرا ایسے ہیں جیسے کسی محل سے آئی ہو بہت پاک باز بی بی ۔
وہ گل پر تمسخر اڑاتی ہنسی اچھالتا باہر نکل گیاتھا ۔۔
اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل ڈریسنگ ٹیبل پرسے اٹھا کر ۔۔
دو گھنٹے بعد وہ گھر واپس آیا تھا اور آتے ہی اس کو پہلا خیال گل کا ہی آیا تھا ۔۔
ہو نہ ہو اب تک تو محترمہ کی عقل ٹھکانے آ چکی ہوگی اچھی طرح سے۔۔
حسام کی غیرت کو للکارنے کا اب تک تو بہت اچھا سبق سیکھ چکی ہو گی ۔۔۔۔
وہ سفاکی سے پوچھتا واپس گل کی طرف بڑھا تھا ۔
حسان نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا وہ ٹھٹک سا گیا گل بےحس اور حرکت صبح والے انداز میں ہی بستر پر دراز تھی ۔۔
حسام کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا اور جھک کر اس کے ہاتھ کی نبض ٹٹولنے لگا ۔
اس کے اندازے کے عین مطابق گل کے ہاتھ کی نبض بہت ہلکی چل رہی تھی ۔۔
اومائی گڈنیس۔ ۔
اس کی نبض کو بہت سست حرکت کررہی ہے اب کیا کروں ؟؟
وہ اپنے سر کے بال دونوں مٹھیوں میں قید کئے سوچ رہا تھا ۔۔۔
اگر ہوسپٹل لے کر گیا تو لمبے چوڑے سوالات ہوں گے اور میرا خود کا نام بھی خراب ہو گا ۔۔
پھر اب کیا کروں ؟؟؟
کوئی تو راستہ ہوگا کوئی تو حل ہوگا اس مسئلے کا ؟؟؟
وہ غصے اور پریشانی کے ملے جلے انداز میں پورے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔
اب ایسا بھی کیا کردیا کہ یہ ہوش میں ہی نہیں آ رہی ؟؟
وہ اس کے ناک کے قریب بار بار اپنی دو انگلیاں لے جا کر دیکھ رہا تھا کے سانسیں چل رہی ہیں یا نہیں ۔۔۔
اور پھر ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندھا تھا ۔۔
ہاں یار تم فوری میرے گھر آؤ ۔۔
یار تم آ تو جاؤ سب کچھ بتاؤں گا۔۔۔
بس جلدی سے میرے گھر پہنچوں اور کسی کو بھی بتا کر مت آنا۔۔۔
اب وہ بہت گہری نظروں سے گل کو دیکھ رہا تھا ۔۔
❤
وہ اپنی ماں صدف اور باپ میرحسن سعدان کے ساتھ زمل کے گھر اس کے ڈرائنگ روم میں برجمان تھا۔ ۔
ساتھ ہی دو گارڈ بھی تھے جن کو اس نے گھر کے باہر کھڑا رہنے کا حکم دیا تھا ۔۔
آج اتوار کا دن تھا جس کی وجہ سے گھر کے سبہی فرد تقریبا گھر میں ہی تھے۔۔۔
سوائے زید کے وہ اپنے کسی دوست کی والدہ کی تدفین میں گیا ہوا تھا ۔
گھر کے سبھی افراد حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرحسن سعدان ملک کا اتنا بڑا سیاستدان
ان کے گھر میں آخر اتنے ڈھیروں تحفے تحائف پھلوں کی ٹوکریاں، مٹھائیوں کے ٹوکرے لےکر کیوں آیا ہے؟؟
دیکھئے احمد صاحب ہم خاص ایک سلسلے میں آپ کے گھر تشریف لائے ہیں ۔۔
میر حسن سعدان نے بہت طریقے سے گفتگو کا آغاز کیا ۔۔
وہ ایک قدرے سلجھے ہوئےانسان تھے ۔۔۔
اور ابھی موجودہ دور کے بہترین سیاست دان ثابت ہو رہے تھے ۔۔
وہ حقیقتا نیک فطرت آدمی تھے ۔۔
جی میر صاحب فرمائیں ۔۔
احمد کی بجائے طاہر صاحب نے بڑے شایستہ انداز میں استفسار کیا ۔۔
میں آپ کی بیٹی ز مل کو اپنی وائف کے عہدے پر فائز کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
صدف اور حسن کے بولنے سے پہلے ہی میر نے سیدھے لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ۔۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھے سبہی افراد پیر میر حنید کی بات کو سننے کے بعد دم بخود رہ گئے تھے ۔۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ لوگ ہمارے گھر تشریف لائے مگر ۔۔۔
مگر کیا ؟۔۔
میر کے چہرے کے زاویوں میں یکدم سختی سے پیدا ہوئی تھی ۔۔۔
میں بہت معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی زمل کا نکاح چار دن پہلے ہی میرے بڑے بھائی صاحب کے بیٹے زید سے ہوچکا ہے ۔۔
احمد صاحب ٹھہر ٹھہر کے زمل کے نکاح کے متعلق ان لوگوں کو آگاہی دے رہے تھے ۔۔۔
نکاح ہی ہوا تھا نہ رخصتی تو نہیں ہوئی ہے نہ ؟؟؟
ختم ہوجائے گا نکاح بھی کتنی دیر لگے گی؟ ؟؟
۔۔۔
میر بہت سفاکی سے بولا ۔۔
مسٹر نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ جب جی میں آیا ختم کردیا اور جب جی میں آیا کر لیا ۔۔۔۔
آدم سے مزید ظبط نہ ہوا اور وہ بھی میر کے ہی انداز میں سرد تاثرات چہرے پہ سجائے گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کو جلد ہی جواب دوں گا اس سلسلے میں ۔۔
کافی دیر سے خاموش دادا نے گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ میت اور آدم ایک دوسرے سے بھڑیں اور کوئی بدمزگی پیدا ہو ۔۔۔
ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی مول لیں ۔۔
اس لئے کہ میر کا تو کچھ نہیں بگڑنا تھا ان کے گھرانے کا ٹھیک ٹھاک نقصان ہو جانا تھا ۔۔۔
دادا بہت آگے کی سوچ رہے تھے ۔۔
السلام علیکم ۔۔
ابھی دادا کچھ اور بھی کہنے والے تھے کہ حورم ڈرائنگ روم میں آ دھمکی تھی ۔۔۔۔
آدم نے تیز نظروں سے اس کو گھورا تھا وہ اس وقت بھی اپنے اول جلول لاپروا سے ہولیہ میں آپنا تشریف کا ٹوکرا اٹھائے چلی آئی تھی ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
تینوں مہمانوں نے ایک سا تھ جواب دیا تھا ۔۔۔
جبکہ حورم کا تو خوشی کا ٹھکانا ہی نہیں تھا انہیں اپنے گھر میں دیکھ کے ۔۔
سر آپ یہاں کیسے ؟؟؟۔
حورم بڑے بے تکلفانہ انداز میں میر حنید سے گویا ہوئی تھی ۔۔
آدم نے چبھتی ہوئی نظر حورم پہ ڈالی تھی ۔۔
جیسے آنکھوں سے ہی اٹھا کر ڈرائنگ روم کے باہر پٹخ دے گا ۔۔۔
کیسی ہو پرنسس؟ ؟
پھر کسی نے تہیں تنگ تو نہیں کیا ؟؟
میراس کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔۔
حورم تم کمرے میں جاؤ اپنے ۔۔۔
آدم نے حورم کو ڈانٹنے کے انداز میں گویا ڈرائنگ روم سے جانے کا کہا تھا
مسٹر تمیز سے بات کرو ۔۔۔
مجھے پتہ ہے کہ مجھے کس طرح بات کرنی ہے اور کس طرح بات نہیں کرنی ۔۔
برائے مہربانی آپ لوگ جس مقصد کے تحت آئے تھے اگر وہ پورا ہو گیا ہے تو آپ لوگ جاسکتے ہیں ۔۔
آدم نے بہت چبا چبا کے ہر ایک لفظ کو ادا کیا تھا ۔۔۔
ادم اور میر حنید دونوں کی آنکھیں طیش اور غصے سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔
یاد رکھنا یہ میری سالی ہے اور اس سے تمیز سے بات کرو ۔۔۔
اور میرے نزدیک میری سالی میری چھوٹی بہن کی برابر ہے ۔۔
زبان کو لگام دو ۔۔
خیر بہت جلد ملاقات ہو گی جب میں اپنی بیوی کو پورے حق سے رخصت کروا کے لے کر جاؤں گا ۔۔۔
جاری ہے۔ ۔
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 7
محبّت برسادینا تو ۔۔۔❤
از ایمن نعمان
قسط 7
گل رعنا خوفزدہ سی سن کھڑی رہی اپنے پیچھے ہوتی آہٹ کو محسوس کر کے ۔۔
اسکے پیروں کی جان نکلنے کو تھی۔۔۔
وہ جیسے تیسےہمت کرکے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑی بھی دیکھنے کے لئے ۔۔
اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر گل کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے پورے وجود کا خون نچڑتا محسوس ہوا۔۔
شاباش! کرلی کوشش بھاگنے کی ہو گیا تمہارا شوق پورا ؟؟
سامنے کھڑا شخص تین تالیاں بجاکر تمسخر انہ انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔
وہ برق رفتاری سے بھاگنے کو تھی جب حسام ایک ہی جست لگا کر اس تک پہنچا تھا ۔۔۔
خوف اور سراسیمگی سے کانپتی سسکتی گل کو اٹھا کر چند ہی لمحوں میں آدھا اپنے شانے پر ڈالا تھا ۔۔
مجھے جانے دو چھوڑ دو مجھے رحم کرو مجھ پہ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا ؟؟؟
تمہیں جانے دوں ؟؟
اور رحم بھی کروں ؟؟
واہ ڈائیلاگ تو بہت اچھے مار لیتی ہوں ۔۔
ویسے اب تک مجھ جیسے کتنوں کو آپنی ان دو کوڈی کی باتوں کہ جال میں پھانس چکی ہو ؟؟
وہ بہت ہی آرام سے گلے رانا کی ذات کی دھجیاں اڑا رہا تھا اور ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ دونوں بچپن کے دوست ہوں۔ ۔۔
تمنے مجھے کیا کچا کھلاڑی سمجھ رکھا تھا ؟؟
جو بڑے مزے سے بھگ رہی تھیں ؟؟؟
میں وہ شخص ھوں جو سوتا تو ہے مگر سوتا نہیں ۔۔۔
سوتے ہوئے میں بھی جاگتا ہے ۔۔۔
تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم میری قید سے اتنی آسانی سے چھٹکارا اختیار کر سکتی ہوں ؟؟؟
ہاہاہا ۔۔۔
بھول ہے تمہاری وہ اس کو شانے پہ ڈالے گھر کے اندر لے جاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ۔۔
اس کو بد دعائیں اور کوسنے دیتے ہوئے زاروقطار پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ۔۔۔
تم جیسی سے معافی مانگ بھی کون رہا ہے ؟۔؟
وہ" تم جیسی "پہ زور دے کے بولا ۔۔
اس کی باتیں گل رانا کو اندر تک چھلنی کر رہی تھی ۔ ۔۔
حسام اس کو بیڈروم میں لایا اور بیٹھ پہ پھیکنے کے انداز میں گرا چھوڑا۔
پھر واپس پلٹ کر دروازے کا لاک لگانے لگا ۔۔۔
گل رعنا نے جیسے ہی حسّام کو روم کا دروازہ لاک کرتے دیکھا اسکی آنکھوں میں وحشت سی اتر آی ۔۔
تو گویا اسکی عزت کا جنازہ نکلنے کو تھا ۔۔۔
خوف و ہراس اسکے خوبصورت چہرے پے ناچ رہے تھے ۔۔۔
وہ حسام کے اسکی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ڈر اور سراسیمگی سےسمٹ کر بیڈ کے کونے سے جالگی۔ ۔۔
مم ۔۔ممم میرے قریب مت آنا ۔۔۔
وہ وحشت زدہ سی کہہ رہی تھی ۔۔
ہاں میں تو جیسے تمھیں صرف دیکھنے کے لیے تو اتنے لاکھوں روپے برباد کرکے خرید کر لایا ہوں ۔۔
دیکھو تم مجھ سے نکاح کرلو پھر چاہے جتنا بھی میرے وجود سے اپنی ہوس پوری کرنا ہو کر لینا میں تمھیں روکونگی نہیں ۔۔۔
وہ بےبسی سے اسکے اگے گڑگڑاہ کر کہنے لگی ۔۔۔
مگر سامنے موجود شخص کے سینے میں دل نہیں شاید وہ جذبات سے آری انسان تھا ۔۔۔
وہ اب اپنی شرٹ اتار کہ سائیڈ پہ رکھے صوفے پر اچھال چکا تھا۔ ۔۔
تمھیں اتنا تو پتا ہی ہوگا کہ کوٹھے سے لائی گئ عورت کو دوسرے لفظوں میں کیا کہتے ہیں؟ ؟۔
وہ تمسخرانہ انداذ میں کہتا بیڈ پہ نیم دراز ہوچکا تھا۔ ۔۔
اب ان دونوں کے درمیان بس ہاتھ بھر کا فاصلہ ہی تھا۔ ۔
مجھے بھلے ہی نکاح کے دوسرے دن ہی چھوڑدینا مگر ابھی مجھ پر تھوڑا ہی ترس کھالو ۔۔۔
او سویٹ ہارٹ ابھی تم دیکھنا میں تم پہ کتنی مہربانیاں کرتا ہوں۔ ۔۔
وہ معنے خیزی سے کہتا اسکے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لے چکا تھا۔ ۔
۔ ۔
حسام کی نظریں اب اسکے نرم و گداز گلابی پیروں پہ تھیں۔ ۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر ایک ہی لمحے میں گل کا پائوں کھینچ کر خود سے بے پناہ قریب کیا تھا۔ ۔
بہت برداشت کرلی تمہاری منمانی اب تم میری منمانیاں برداشت کروگی۔ ۔۔
تم ایک گٹھیا انسان ہو بلکہ انسان کے بھیس میں وہشی درندے ہو۔ ۔
وہ روتی بلکتی کہہ رہہی تھی۔ ۔
کیا کہا میں جانور ہوں میں بھیڑیا ہوں؟ ؟
اب دکھائونگا میں سہی طرح سے اپنی حیوانیت ۔۔
یہ کہہ کر اسنے گل رعنا کے چہرے اور گردن پے اپنے دانتوں سے جگا جگا کآٹنا شروع کردیا۔ ۔
حد یہ کہ اسکے پورے وجود پر کسی بھوکے شیر کی طرح پل پڑا تھا۔ ۔
اس معصوم کو مزاہمت کرنے تک کا بھی حق نہ دیا تھا۔ ۔
وہ نازک و دھان پان سی گڑیا حسام کی درندگی کچھ گھنٹے ہی جھیل پائی تھی اور پھر بے جان سی ہوکر ہوش و خرد کی دنیا سے بےگانی ہوتی چلی گئ۔ ۔۔۔
❤
ماضی🌼
حنا شرجیل کو اپنے سامنے دیکھ کر دنگ سی رہ گئی تھی ۔۔
جبکہ شرجیل حنا کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
میس مے آئی۔ سٹ ہئیر؟ ؟؟
شرجیل نے حنا کو غائب دماغ پا کر اپنا سوال دوبارہ دہرایا تھا ۔۔
جی ضرور ۔۔
وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی ۔۔
کیا میں آپ سے تھوڑی دیر آپ کا قیمتی وقت ادھار مانگ سکتا ہوں ؟؟
شرجیل شائستگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
حنا مدہوش سی ہو کر اس کی مدھر آواز میں کھو سی گئی اسکو اپنے اردگرد سب کچھ تھمتا محسوس ہوا۔۔۔
مس اگر آپ نے مجھ پہ مکمل رسرچ کر لی ہے تو واپس ہوش کی دنیا میں آجائیں ؟؟
وo چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔۔
جی جی کہیں ؟؟
وہ اس کی اپنے چہرے کے آگے چٹکی بجانے پر چونکی تھی اور اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میرے پیچھے کل کیوں آئی تھی ؟؟
معین کے پیچھے آپ وہاں تک بالکل بھی نہیں آئ تھی کیونکہ میں کئی دن سے نوٹ کر رہا ہوں آپ میرے تعاقب میں ہے ۔۔
وہ جتاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
جی ہاں میں بالکل آپ ہی کی وجہ سے روز تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی ہوتی ہو محض صرف آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ۔۔
وہ سچائی سے گویا ہوئی ۔۔
مبادہ اگر وہ سچ نہ کہتی تو پھر شاید زندگی میں کبھی وہ شرجیل کو اپنے سامنے نہ دیکھ پاتی ۔۔
محترمہ وجہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے اتنی تکلیف کیوں ڈھاتی ہیں ؟
وہ بہت گہری نظروں سے حنا کہ چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
❤
آدم عمر میں سب بچوں سے بڑا تھا جبکہ حورم گھر میں سب سے چھوٹی بچی تھی ۔۔
آدم شروع سے سخت مزاج اور سنجیدہ رہنے والا بچہ تھا ۔۔۔
حورم کی پیدائش کے وقت وہ تیرہ سال کا تھا جب چاچی اس گلاب کی پنکھڑی جیسی بچی کو ہاسپٹل سے گھر لے کر آئیں تھی ۔۔۔
سب بچے خوشی سے اس ننھی گل گوتھنی کی طرف دوڑے تھے مگر ان سب کےپہنچنے سے پہلے ہی آدم نے اس کو اپنی چاچی کی گود میں سے جھپٹنے کے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
چاچی یہ صرف میری گڑیا ہے ۔۔
اور یہ صرف اور صرف میرے پاس ہی رہے گی ۔۔
ہاہا چاچی کی جان یہ تمہاری ہی ہے رکھ لو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس ۔۔۔
حنا اس کے گلابی پھولے پھولے گالوں پر چٹا چٹ پیار کر کے بولی۔۔
نہیں چاچی غلط بات ہم بھی کھیلیں گے یہ ہماری بھی گڑیا ہے ۔۔
زید اور راحم جلدی سے برا منا کر بولے ۔
جبکہ تین سالہ ننھی زمل تالیاں بجاتی ٹکر ٹکر سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔
حنا نے پیار بھری نظروں سے سب بچوں کو دیکھا اور پھر سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہاں بھئی یہ سب کی ہے سب کھیلنا ۔۔
نہیں چاچی یہ بس میری حورم ہے ۔۔
آدم نے اس کا نام بھی منٹوں میں خود ہی رکھ لیا تھا ۔۔
ارے لڑکے نام تو اس کے اماں بابا کو رکھنے دے ۔۔
زارا نے سمجھانا چاہا اپنے ضدی بیٹے کو ۔۔
امی بس یہ میری حورم ہے وہ اس کو لے کر بغیر کسی کی سنے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
8سالہ زید اور چھ سالہ راہم اپنے اس اکڑو بھائی کو
ننھی حورم کو لے جاتا دیکھتے رہ گئے ۔۔
چاچی جب حورم بھائی کی فرینڈ ہے تو پھر زمل میری فرینڈ ہے ۔۔۔
جائو راحم تم بھی اب میری فرینڈ سے مت کھیلنا ۔۔۔
زید بھی زمل کا ہاتھ پکڑے اسکو اپنی بنائی ہوئی ٹرین کے پاس لے گیا ۔۔
جبکہ راحم آنکھوں میں بڑے بڑے موتی جیسے آنسو لیے کبھی زارہ تو کبھی حنا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
پھر وقت آہستہ آہستہ سرکتا رہا آدم حورم کو کسی کانچ کی گڑیا کی طرح سینچ سینچ کر رکھتا جب بھی حناء اس کو کسی بھی کام سے لینے آتی آدم صاف کہہ دیتا کہ ۔۔
مجھے بتا دیں جو بھی کام حورم کاہے میں خود کر دوں گا ۔۔
حنا لاکھ کہتی رہ جاتی کہ۔ ۔
بیٹا یہ تمہیں رات بھر تنگ کرے گی اور پھر صبح تمہیں اسکول بھی تو جانا ہوگا لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
مگر آدم یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ آپ چھوڑ دے وہ مجھے بالکل بھی تنگ نہیں کرتی ۔۔
حتیٰ کہ حورم کی تمام تر ذمہ داری کھلانے پلانے سے لے کر اس کو شاور دلانا سب کام وہ خود ہی کرتا تھا ۔۔
اسکول جاتے وقت بھی حورم کو بڑی مشکل سے دل پہ بھاری پتھر رکھ کے وہ حنا کو دیتا تھا اور جاتے جاتے بھی اس کو پلٹ کر دیکھتا اور روز کہتا کہ ۔۔
چاچی اس کو کسی کو بھی دینا نہیں میں آکر خود لونگا اس کو بس ۔۔
اور حنا بس مسکرا کر رہ جاتی ۔۔
وہ حورم کے لئے انتہا سے زیادہ پو سیسو اور کئیرنگ تھا۔۔
حورم کسی اور کے ساتھ کھیلنا تو دور کی بات اگر کسی کی وجہ سے اس کو خراش بھی آ جاتی تو آدم چراغ پا ہو جاتا ۔۔
جبکہ حورم بڑی ہورہی تھی وہ سب کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی باقی سب بچوں کے ساتھ ملکر مستی کرنا چاہتی تھی مگر آدم کے روکنے ٹوکنے پر دل مسوس کر رہ جاتی ۔۔
وہ آدم کی حد سے زیادہ روک ٹوک سے سہمتیں جا رہی تھی ۔۔
آدم اس سے جتنی شدید محبت کرتا تھا اتنی ہی سختی بھی کرتا تھا یا شاید سختی اس کی فطرت کا حصہ تھی جو اس کے ہر ہر انداز سے جھلکتی تھی ۔۔
آدم 21 سال کا ہوچکا تھا جب کہ حورم محض نو سال کی تھی جب ایک دن حناء نے آدم کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی جٹھانی زارہ سے بات کرنے کا سوچا وہ کئی دنوں سے پریشان تھی ۔۔
بھابھی حورم اب بڑی ہو رہی ہے اس کا اب آدم کے ساتھ اس کے کمرے میں رہنا مجھے بالکل بھی مناسب نہیں لگ رہا مناسب تو خیر پہلے بھی نہیں لگتا تھا مگر میں آدم کے مزاج اور اس کا حورم سے شدید لگاؤ کی وجہ سے خاموش ہو جاتی تھی۔۔
میں پہلے بھی کئی دفعہ آدم سے اس بارے میں بات کر چکی ہوں مگر حناءیقین جانو وہ حورم کے لئے بہت زیادہ جذباتی ہے۔۔
بلکہ تم شاید میری بات پہ یقین نہ کرو میں نے تو خود ایک فیصلہ کیا تھا کہ میں اب اس کے بابا سے بات کروں گی تاکہ وہی اس کو سمجھائین گے خود۔ ۔
اور پھر انہوں نے اپنی جیٹھانی سے ڈھکے چھپے لفظوں میں بات کی جس پر وہ خود بھی پریشان تھی ۔۔۔
حنا میں کیا کروں وہ حورم کو لے کر اس طرح بھی حیو کرتا ہے جیسے سب اس کے دشمن ہو اور وہ واحد اس کا خیر خواہ پیدا ہوا ۔
بھابی میں جانتی ہوں مگر اب حورم کا اس کے ساتھ رہنا کچھ مناسب نہیں ہے ۔۔۔
پہلے حورم چھوٹی تھی مگر اب وہ بڑی ہو رہی ہے ۔۔
باہر کھڑا آدم ساری باتیں سن چکا تھا خاموشی سے واپس پلٹ کر اپنے اور حورم کے مشترکہ کمرے میں آیا اور پهر دل پہ بھاری پتهر رکھ کے اپنا کچھ ضروری سامان لے کر دوسرے کمرے میں شفٹ ہو گیا۔۔
یہ سب اس نے جس طرح کیا تھا یہ صرف وہ جانتا تھا اور اس کا خدا ۔۔۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا حورم 17 سال کی ہوچکی تھی وہ سب کے ساتھ خوب کھیلتی مستی کرتی اسکو تو گویا آزادی مل گئی تھی ۔۔
مگر آدم کے سامنے وہ پھر سے سہم سی جاتی آدم کی حد درجہ روک ٹوک اور بے پناہ خیال رکھنا اس کو بہت ہی ایریٹیڈ کرنے لگا تھا ۔۔
وہ آدم سے چھپتی پھرتی جب وہ گھر میں ہوتا ۔۔
مگر آدم اس کے ہر ہر فیل پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔
بیٹا میں تمہاری چاچی سے حورم کے لئے بات کر رہی ہوں اس کو اپنے گھر کی رونق بنانے کے لئے ۔۔
تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟؟
آدم گم سم سا ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے حورم کے متعلق کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔ ۔۔
آپ دیکھلیں جیسا آپ کو مناسب لگے ۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ امی حورم کا رشتہ راحم کے لئے طے بھی کرائی تھیں اور منگنی کی انگوٹھی بھی ہاتھ میں ڈال آئی تھیں ۔۔
وہ اپنی لاعلمی میں ہی رہا تھا کہ ایک دن جب روزہ افطار کرتے وقت امی راہم سے بولی ۔۔
بیٹا کل میرے ساتھ بازار چلنا اور حورم کے لیے اپنی مرضی سے شاپنگ کر لینا اس کی عیدی لے کر جانی ہے ۔۔
حورم کی شاپنگ راحم کیوں کرے گا آخر؟؟؟
اس کو حیرت ہوئی اس کی حورم کی شاپنگ راحم کی پسند کی کیوں ہو گی ؟؟؟
آدم کی تیوریاں چڑھ گئی تھیں۔ ۔۔
ارے بیٹا اتنا تو حق بنتا ہی ہے میرے لاڈلے کا اس کی خیر سے منگیتر ہے وہ۔ ۔
کیا کہا آپ نے ابھی؟؟؟
آدم کرسی دکھیل کے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
ارے بھائی آپ کو نہیں پتہ کیا ماما حورم کو انگوٹھی پہنا کر آئی ہے راحم کی ۔۔
زید بڑے ہو جاؤ راحم کی نہیں راہم کے نام کی ۔۔
امی نے اس کے جملے کی تصحیح کی ۔۔
مجھے کسی نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔
مجه سے پوچھے بغیر ہی اتنا اہم فیصلہ کیسے لے لیا آپ لوگوں نے ۔۔۔
آدم کے چہرے پر بڑھتا تناؤ دیکھ کر زارہ جلدی سے بولیں ۔۔۔
بیٹا میں حنا سے بات کرنے گئی تھی تب ہی حنا نے ہی مجھے کہا تھا کہ پہلے تم سے پوچھ لو جب تم سے میں نے پوچھا تو تم نے حامی بھر لی تھی۔ ۔
آدم کچھ بھی کہے بغیر لاؤنج سے واک آؤٹ کر دیا تھا ۔۔۔
❤
جاری۔ ہے۔ ۔
از ایمن نعمان
قسط 7
گل رعنا خوفزدہ سی سن کھڑی رہی اپنے پیچھے ہوتی آہٹ کو محسوس کر کے ۔۔
اسکے پیروں کی جان نکلنے کو تھی۔۔۔
وہ جیسے تیسےہمت کرکے ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑی بھی دیکھنے کے لئے ۔۔
اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر گل کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا ۔۔۔
اس کو اپنے پورے وجود کا خون نچڑتا محسوس ہوا۔۔
شاباش! کرلی کوشش بھاگنے کی ہو گیا تمہارا شوق پورا ؟؟
سامنے کھڑا شخص تین تالیاں بجاکر تمسخر انہ انداز میں گویا ہوا تھا ۔۔
وہ برق رفتاری سے بھاگنے کو تھی جب حسام ایک ہی جست لگا کر اس تک پہنچا تھا ۔۔۔
خوف اور سراسیمگی سے کانپتی سسکتی گل کو اٹھا کر چند ہی لمحوں میں آدھا اپنے شانے پر ڈالا تھا ۔۔
مجھے جانے دو چھوڑ دو مجھے رحم کرو مجھ پہ میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا ؟؟؟
تمہیں جانے دوں ؟؟
اور رحم بھی کروں ؟؟
واہ ڈائیلاگ تو بہت اچھے مار لیتی ہوں ۔۔
ویسے اب تک مجھ جیسے کتنوں کو آپنی ان دو کوڈی کی باتوں کہ جال میں پھانس چکی ہو ؟؟
وہ بہت ہی آرام سے گلے رانا کی ذات کی دھجیاں اڑا رہا تھا اور ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ دونوں بچپن کے دوست ہوں۔ ۔۔
تمنے مجھے کیا کچا کھلاڑی سمجھ رکھا تھا ؟؟
جو بڑے مزے سے بھگ رہی تھیں ؟؟؟
میں وہ شخص ھوں جو سوتا تو ہے مگر سوتا نہیں ۔۔۔
سوتے ہوئے میں بھی جاگتا ہے ۔۔۔
تم نے یہ سوچا بھی کیسے کہ تم میری قید سے اتنی آسانی سے چھٹکارا اختیار کر سکتی ہوں ؟؟؟
ہاہاہا ۔۔۔
بھول ہے تمہاری وہ اس کو شانے پہ ڈالے گھر کے اندر لے جاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔
میں تمہیں کبھی بھی معاف نہیں کروں گی ۔۔
اس کو بد دعائیں اور کوسنے دیتے ہوئے زاروقطار پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی ۔۔۔
تم جیسی سے معافی مانگ بھی کون رہا ہے ؟۔؟
وہ" تم جیسی "پہ زور دے کے بولا ۔۔
اس کی باتیں گل رانا کو اندر تک چھلنی کر رہی تھی ۔ ۔۔
حسام اس کو بیڈروم میں لایا اور بیٹھ پہ پھیکنے کے انداز میں گرا چھوڑا۔
پھر واپس پلٹ کر دروازے کا لاک لگانے لگا ۔۔۔
گل رعنا نے جیسے ہی حسّام کو روم کا دروازہ لاک کرتے دیکھا اسکی آنکھوں میں وحشت سی اتر آی ۔۔
تو گویا اسکی عزت کا جنازہ نکلنے کو تھا ۔۔۔
خوف و ہراس اسکے خوبصورت چہرے پے ناچ رہے تھے ۔۔۔
وہ حسام کے اسکی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ کر ڈر اور سراسیمگی سےسمٹ کر بیڈ کے کونے سے جالگی۔ ۔۔
مم ۔۔ممم میرے قریب مت آنا ۔۔۔
وہ وحشت زدہ سی کہہ رہی تھی ۔۔
ہاں میں تو جیسے تمھیں صرف دیکھنے کے لیے تو اتنے لاکھوں روپے برباد کرکے خرید کر لایا ہوں ۔۔
دیکھو تم مجھ سے نکاح کرلو پھر چاہے جتنا بھی میرے وجود سے اپنی ہوس پوری کرنا ہو کر لینا میں تمھیں روکونگی نہیں ۔۔۔
وہ بےبسی سے اسکے اگے گڑگڑاہ کر کہنے لگی ۔۔۔
مگر سامنے موجود شخص کے سینے میں دل نہیں شاید وہ جذبات سے آری انسان تھا ۔۔۔
وہ اب اپنی شرٹ اتار کہ سائیڈ پہ رکھے صوفے پر اچھال چکا تھا۔ ۔۔
تمھیں اتنا تو پتا ہی ہوگا کہ کوٹھے سے لائی گئ عورت کو دوسرے لفظوں میں کیا کہتے ہیں؟ ؟۔
وہ تمسخرانہ انداذ میں کہتا بیڈ پہ نیم دراز ہوچکا تھا۔ ۔۔
اب ان دونوں کے درمیان بس ہاتھ بھر کا فاصلہ ہی تھا۔ ۔
مجھے بھلے ہی نکاح کے دوسرے دن ہی چھوڑدینا مگر ابھی مجھ پر تھوڑا ہی ترس کھالو ۔۔۔
او سویٹ ہارٹ ابھی تم دیکھنا میں تم پہ کتنی مہربانیاں کرتا ہوں۔ ۔۔
وہ معنے خیزی سے کہتا اسکے وجود کو اپنی نظروں کے حصار میں لے چکا تھا۔ ۔
۔ ۔
حسام کی نظریں اب اسکے نرم و گداز گلابی پیروں پہ تھیں۔ ۔
اسنے ہاتھ بڑھا کر ایک ہی لمحے میں گل کا پائوں کھینچ کر خود سے بے پناہ قریب کیا تھا۔ ۔
بہت برداشت کرلی تمہاری منمانی اب تم میری منمانیاں برداشت کروگی۔ ۔۔
تم ایک گٹھیا انسان ہو بلکہ انسان کے بھیس میں وہشی درندے ہو۔ ۔
وہ روتی بلکتی کہہ رہہی تھی۔ ۔
کیا کہا میں جانور ہوں میں بھیڑیا ہوں؟ ؟
اب دکھائونگا میں سہی طرح سے اپنی حیوانیت ۔۔
یہ کہہ کر اسنے گل رعنا کے چہرے اور گردن پے اپنے دانتوں سے جگا جگا کآٹنا شروع کردیا۔ ۔
حد یہ کہ اسکے پورے وجود پر کسی بھوکے شیر کی طرح پل پڑا تھا۔ ۔
اس معصوم کو مزاہمت کرنے تک کا بھی حق نہ دیا تھا۔ ۔
وہ نازک و دھان پان سی گڑیا حسام کی درندگی کچھ گھنٹے ہی جھیل پائی تھی اور پھر بے جان سی ہوکر ہوش و خرد کی دنیا سے بےگانی ہوتی چلی گئ۔ ۔۔۔
❤
ماضی🌼
حنا شرجیل کو اپنے سامنے دیکھ کر دنگ سی رہ گئی تھی ۔۔
جبکہ شرجیل حنا کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
میس مے آئی۔ سٹ ہئیر؟ ؟؟
شرجیل نے حنا کو غائب دماغ پا کر اپنا سوال دوبارہ دہرایا تھا ۔۔
جی ضرور ۔۔
وہ کھوئی کھوئی سی بولی تھی ۔۔
کیا میں آپ سے تھوڑی دیر آپ کا قیمتی وقت ادھار مانگ سکتا ہوں ؟؟
شرجیل شائستگی سے پوچھ رہا تھا ۔۔
حنا مدہوش سی ہو کر اس کی مدھر آواز میں کھو سی گئی اسکو اپنے اردگرد سب کچھ تھمتا محسوس ہوا۔۔۔
مس اگر آپ نے مجھ پہ مکمل رسرچ کر لی ہے تو واپس ہوش کی دنیا میں آجائیں ؟؟
وo چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔۔
جی جی کہیں ؟؟
وہ اس کی اپنے چہرے کے آگے چٹکی بجانے پر چونکی تھی اور اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔۔۔
کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میرے پیچھے کل کیوں آئی تھی ؟؟
معین کے پیچھے آپ وہاں تک بالکل بھی نہیں آئ تھی کیونکہ میں کئی دن سے نوٹ کر رہا ہوں آپ میرے تعاقب میں ہے ۔۔
وہ جتاتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
جی ہاں میں بالکل آپ ہی کی وجہ سے روز تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑی ہوتی ہو محض صرف آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ۔۔
وہ سچائی سے گویا ہوئی ۔۔
مبادہ اگر وہ سچ نہ کہتی تو پھر شاید زندگی میں کبھی وہ شرجیل کو اپنے سامنے نہ دیکھ پاتی ۔۔
محترمہ وجہ بتانا پسند کریں گے کہ آپ میری ایک جھلک دیکھنے کے لئے اتنی تکلیف کیوں ڈھاتی ہیں ؟
وہ بہت گہری نظروں سے حنا کہ چہرے کے اتارچڑھاؤ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
❤
آدم عمر میں سب بچوں سے بڑا تھا جبکہ حورم گھر میں سب سے چھوٹی بچی تھی ۔۔
آدم شروع سے سخت مزاج اور سنجیدہ رہنے والا بچہ تھا ۔۔۔
حورم کی پیدائش کے وقت وہ تیرہ سال کا تھا جب چاچی اس گلاب کی پنکھڑی جیسی بچی کو ہاسپٹل سے گھر لے کر آئیں تھی ۔۔۔
سب بچے خوشی سے اس ننھی گل گوتھنی کی طرف دوڑے تھے مگر ان سب کےپہنچنے سے پہلے ہی آدم نے اس کو اپنی چاچی کی گود میں سے جھپٹنے کے انداز میں لے لیا تھا ۔۔
چاچی یہ صرف میری گڑیا ہے ۔۔
اور یہ صرف اور صرف میرے پاس ہی رہے گی ۔۔
ہاہا چاچی کی جان یہ تمہاری ہی ہے رکھ لو ہمیشہ کے لیے اپنے پاس ۔۔۔
حنا اس کے گلابی پھولے پھولے گالوں پر چٹا چٹ پیار کر کے بولی۔۔
نہیں چاچی غلط بات ہم بھی کھیلیں گے یہ ہماری بھی گڑیا ہے ۔۔
زید اور راحم جلدی سے برا منا کر بولے ۔
جبکہ تین سالہ ننھی زمل تالیاں بجاتی ٹکر ٹکر سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔
حنا نے پیار بھری نظروں سے سب بچوں کو دیکھا اور پھر سمجھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
ہاں بھئی یہ سب کی ہے سب کھیلنا ۔۔
نہیں چاچی یہ بس میری حورم ہے ۔۔
آدم نے اس کا نام بھی منٹوں میں خود ہی رکھ لیا تھا ۔۔
ارے لڑکے نام تو اس کے اماں بابا کو رکھنے دے ۔۔
زارا نے سمجھانا چاہا اپنے ضدی بیٹے کو ۔۔
امی بس یہ میری حورم ہے وہ اس کو لے کر بغیر کسی کی سنے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔
8سالہ زید اور چھ سالہ راہم اپنے اس اکڑو بھائی کو
ننھی حورم کو لے جاتا دیکھتے رہ گئے ۔۔
چاچی جب حورم بھائی کی فرینڈ ہے تو پھر زمل میری فرینڈ ہے ۔۔۔
جائو راحم تم بھی اب میری فرینڈ سے مت کھیلنا ۔۔۔
زید بھی زمل کا ہاتھ پکڑے اسکو اپنی بنائی ہوئی ٹرین کے پاس لے گیا ۔۔
جبکہ راحم آنکھوں میں بڑے بڑے موتی جیسے آنسو لیے کبھی زارہ تو کبھی حنا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
پھر وقت آہستہ آہستہ سرکتا رہا آدم حورم کو کسی کانچ کی گڑیا کی طرح سینچ سینچ کر رکھتا جب بھی حناء اس کو کسی بھی کام سے لینے آتی آدم صاف کہہ دیتا کہ ۔۔
مجھے بتا دیں جو بھی کام حورم کاہے میں خود کر دوں گا ۔۔
حنا لاکھ کہتی رہ جاتی کہ۔ ۔
بیٹا یہ تمہیں رات بھر تنگ کرے گی اور پھر صبح تمہیں اسکول بھی تو جانا ہوگا لاؤ اس کو مجھے دے دو ۔۔
مگر آدم یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ آپ چھوڑ دے وہ مجھے بالکل بھی تنگ نہیں کرتی ۔۔
حتیٰ کہ حورم کی تمام تر ذمہ داری کھلانے پلانے سے لے کر اس کو شاور دلانا سب کام وہ خود ہی کرتا تھا ۔۔
اسکول جاتے وقت بھی حورم کو بڑی مشکل سے دل پہ بھاری پتھر رکھ کے وہ حنا کو دیتا تھا اور جاتے جاتے بھی اس کو پلٹ کر دیکھتا اور روز کہتا کہ ۔۔
چاچی اس کو کسی کو بھی دینا نہیں میں آکر خود لونگا اس کو بس ۔۔
اور حنا بس مسکرا کر رہ جاتی ۔۔
وہ حورم کے لئے انتہا سے زیادہ پو سیسو اور کئیرنگ تھا۔۔
حورم کسی اور کے ساتھ کھیلنا تو دور کی بات اگر کسی کی وجہ سے اس کو خراش بھی آ جاتی تو آدم چراغ پا ہو جاتا ۔۔
جبکہ حورم بڑی ہورہی تھی وہ سب کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی باقی سب بچوں کے ساتھ ملکر مستی کرنا چاہتی تھی مگر آدم کے روکنے ٹوکنے پر دل مسوس کر رہ جاتی ۔۔
وہ آدم کی حد سے زیادہ روک ٹوک سے سہمتیں جا رہی تھی ۔۔
آدم اس سے جتنی شدید محبت کرتا تھا اتنی ہی سختی بھی کرتا تھا یا شاید سختی اس کی فطرت کا حصہ تھی جو اس کے ہر ہر انداز سے جھلکتی تھی ۔۔
آدم 21 سال کا ہوچکا تھا جب کہ حورم محض نو سال کی تھی جب ایک دن حناء نے آدم کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی جٹھانی زارہ سے بات کرنے کا سوچا وہ کئی دنوں سے پریشان تھی ۔۔
بھابھی حورم اب بڑی ہو رہی ہے اس کا اب آدم کے ساتھ اس کے کمرے میں رہنا مجھے بالکل بھی مناسب نہیں لگ رہا مناسب تو خیر پہلے بھی نہیں لگتا تھا مگر میں آدم کے مزاج اور اس کا حورم سے شدید لگاؤ کی وجہ سے خاموش ہو جاتی تھی۔۔
میں پہلے بھی کئی دفعہ آدم سے اس بارے میں بات کر چکی ہوں مگر حناءیقین جانو وہ حورم کے لئے بہت زیادہ جذباتی ہے۔۔
بلکہ تم شاید میری بات پہ یقین نہ کرو میں نے تو خود ایک فیصلہ کیا تھا کہ میں اب اس کے بابا سے بات کروں گی تاکہ وہی اس کو سمجھائین گے خود۔ ۔
اور پھر انہوں نے اپنی جیٹھانی سے ڈھکے چھپے لفظوں میں بات کی جس پر وہ خود بھی پریشان تھی ۔۔۔
حنا میں کیا کروں وہ حورم کو لے کر اس طرح بھی حیو کرتا ہے جیسے سب اس کے دشمن ہو اور وہ واحد اس کا خیر خواہ پیدا ہوا ۔
بھابی میں جانتی ہوں مگر اب حورم کا اس کے ساتھ رہنا کچھ مناسب نہیں ہے ۔۔۔
پہلے حورم چھوٹی تھی مگر اب وہ بڑی ہو رہی ہے ۔۔
باہر کھڑا آدم ساری باتیں سن چکا تھا خاموشی سے واپس پلٹ کر اپنے اور حورم کے مشترکہ کمرے میں آیا اور پهر دل پہ بھاری پتهر رکھ کے اپنا کچھ ضروری سامان لے کر دوسرے کمرے میں شفٹ ہو گیا۔۔
یہ سب اس نے جس طرح کیا تھا یہ صرف وہ جانتا تھا اور اس کا خدا ۔۔۔
وقت تیزی سے گزرتا گیا حورم 17 سال کی ہوچکی تھی وہ سب کے ساتھ خوب کھیلتی مستی کرتی اسکو تو گویا آزادی مل گئی تھی ۔۔
مگر آدم کے سامنے وہ پھر سے سہم سی جاتی آدم کی حد درجہ روک ٹوک اور بے پناہ خیال رکھنا اس کو بہت ہی ایریٹیڈ کرنے لگا تھا ۔۔
وہ آدم سے چھپتی پھرتی جب وہ گھر میں ہوتا ۔۔
مگر آدم اس کے ہر ہر فیل پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔
بیٹا میں تمہاری چاچی سے حورم کے لئے بات کر رہی ہوں اس کو اپنے گھر کی رونق بنانے کے لئے ۔۔
تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟؟
آدم گم سم سا ان کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے حورم کے متعلق کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔ ۔۔
آپ دیکھلیں جیسا آپ کو مناسب لگے ۔۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ امی حورم کا رشتہ راحم کے لئے طے بھی کرائی تھیں اور منگنی کی انگوٹھی بھی ہاتھ میں ڈال آئی تھیں ۔۔
وہ اپنی لاعلمی میں ہی رہا تھا کہ ایک دن جب روزہ افطار کرتے وقت امی راہم سے بولی ۔۔
بیٹا کل میرے ساتھ بازار چلنا اور حورم کے لیے اپنی مرضی سے شاپنگ کر لینا اس کی عیدی لے کر جانی ہے ۔۔
حورم کی شاپنگ راحم کیوں کرے گا آخر؟؟؟
اس کو حیرت ہوئی اس کی حورم کی شاپنگ راحم کی پسند کی کیوں ہو گی ؟؟؟
آدم کی تیوریاں چڑھ گئی تھیں۔ ۔۔
ارے بیٹا اتنا تو حق بنتا ہی ہے میرے لاڈلے کا اس کی خیر سے منگیتر ہے وہ۔ ۔
کیا کہا آپ نے ابھی؟؟؟
آدم کرسی دکھیل کے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
ارے بھائی آپ کو نہیں پتہ کیا ماما حورم کو انگوٹھی پہنا کر آئی ہے راحم کی ۔۔
زید بڑے ہو جاؤ راحم کی نہیں راہم کے نام کی ۔۔
امی نے اس کے جملے کی تصحیح کی ۔۔
مجھے کسی نے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔
مجه سے پوچھے بغیر ہی اتنا اہم فیصلہ کیسے لے لیا آپ لوگوں نے ۔۔۔
آدم کے چہرے پر بڑھتا تناؤ دیکھ کر زارہ جلدی سے بولیں ۔۔۔
بیٹا میں حنا سے بات کرنے گئی تھی تب ہی حنا نے ہی مجھے کہا تھا کہ پہلے تم سے پوچھ لو جب تم سے میں نے پوچھا تو تم نے حامی بھر لی تھی۔ ۔
آدم کچھ بھی کہے بغیر لاؤنج سے واک آؤٹ کر دیا تھا ۔۔۔
❤
جاری۔ ہے۔ ۔
Wednesday, December 26, 2018
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 6
Muhabbat barsadena tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 6..
🌹🌼🌹
یس سر آپ نے بلایا حکم کریں بندہ حاضر ہے ۔۔۔
سامنے کھڑا شخص میر حنید کو سلوٹ پیش کرنے کے بعد مئو دب کھڑا اس کے حکم کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
میر حنید بڑے سے ہال نما کمرے میں
اپنے شہانہ لاکھوں روپے کے صوفے نما تخت پر نیم دراز ساتھ میں رکھی سلور ٹیبل کے اوپر سجے پیور چاندی سے بنائے گئے اینٹک ٹچ کےحقے سے کش پہ کش لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
پورا ہال کمرا خوبصورتی اور بہت ہی نفاست سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔۔
پورے ایک منٹ اور چھ سیکنڈ تم لیٹ آئے ہو ۔۔
خیر پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کیا۔۔
کیونکہ آج میر حنید بہت خوش ہے۔ ۔۔
معافی سر آئندہ غلطی نہیں ہو گی ۔۔
سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر خوف کے سائے واضح طور پر منڈلا رہے تھے ۔۔
جاؤ جا کر 20 کلو مٹھائی اور 20کلو پھل کے ٹوکرے بنوا کر لاؤ ۔۔
آج میر حنید اپنا رشتہ خود لے کر جا رہا ہے اپنی محبت کے کوچے میں ۔۔
اس کے پیروں میں اپنے نام کی بیڑیاں ڈالنے کیلئے ۔۔
ججی ۔۔جی سر۔ ۔
اسد بہت حیران ہوا تھا کیومکہ اسکا مالک شادی کے نام سے بھی الرجک تھا کجا کہ اپنا رشتہ لیکر جانا۔ ۔
پہلے اسکا باپ انکا خاص وفاءشعارملازم تھا اور پھر باپ کی وفات کے بعد وہ اپنے باپ کی ہی طرح وفاء شعاری سے اپنے فرائض سر انجام دےرہاتھا۔۔
اس طویل عرصے میں وہ میر حنیر کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا۔ ۔
آسد کو بخوبی اندازہ ہورہا تھا کہ جس لڑکی کی معلومات میر حنید جس شدت سے حاصل کرواچکا تھا اس سے وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہوسکتی۔ ۔۔
اور ہونا ہو اسکا مالک اسی کے گھر رشتہ لیکر جارہا تھا اپنا۔ ۔
اسد اپنےمالک کی خوشیوں کیلئے دل سے دعاء گوتھا۔ وہ ان میں سے تھا جو اپنے مالک کیلئے اپنی جان کی قربانی بھی دیدے۔ ۔
اورمیر حنید یہ محبت ڈزرو بھی کرتا تھا۔ ۔
"گولی نہیں مارو نگا سالے تجھے "۔۔
تیری پوری فوج کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر اپنا نام لکھوا کر دلہن بنا کر لاؤں گا اسے۔ ۔
ایسی نس دبائونگا تیری کہ چیخیں آسمان تک گونجینگی۔ ۔۔۔
وہ زید کو اپنے شعور میں مخاطب کرتے ہوئے بولا ۔
مجھ سے ہوشیاری کرنے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ ۔
ہاہاہا۔ ۔
اور تجھ جیسے گیس کے بھرے غباروں کی ہوا پھس کرنا تو میر حنید کا بچپن کا شوق ہے۔ ۔۔۔
سامنے استادہ اسد آنکھوں میں حیرانی لیے بس سر کو ہلا کے ہاں بول پایا تھا ۔۔
خیر۔ ۔۔
میں نے تمہیں جس جگہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بولا تھا کچھ رپورٹ ملی وہاں کی ؟۔۔
جی سر میں نے بہت ساری معلومات اکھٹی کر لی ہے ۔۔۔
آپ کاشک بالکل درست تھا اس کو ٹھےکو چلانے میں صرف اس عورت چندہ بائی کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ پوری چین ہے اور چندہ بائی کے اوپر کچھ خاص لوگوں کے ہاتھ ہیں ۔۔
جس کی وجہ سے ہم ایک دم سے کوئی ایکشن نہیں لے سکتے ۔۔
مجھے تم یہ بتاؤگے کہ میں کیا ایکشن لے سکتا ہوں اور کیا نہیں ۔۔
میں میر حسن سعدان کا بیٹا ہوں مجھے کوئی بھی کہیں بھی کچھ بھی کرنے سے روک نہیں سکتا ۔۔۔
ٹھیک ہے کتنی لڑکیاں اب تک کوٹھے سے بیچی جا چکی ہے بہار ممالک میں ؟؟
سر باہرممالک میں کوئی 146 کے قریب لڑکیاں بیچی گئی ہیں جبکہ اندرون ملک میں سے جمع کی گئی 81 لڑکیوں کے ساتھ کوٹھے کے اندر ہی زیادتی کی گئی ہے ۔۔
جن میں سے چند ایک حاملہ بھی تھیں ۔۔
میر حنیدکی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔
تفصیل جاننے کے بعد ۔۔
سر جی آگے کا حکم؟ ؟؟
آئی جی سے کہو سب کو ہلا کے رکھ دے ۔۔
مگر۔ ۔۔
گھمانے کا کام میں خود کروں گا ۔۔
میر حنید آنکھوں میں چمک اور برہمی لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جی سر بہتر۔ ۔
سامنے کھڑا شخص تعبداری سے گویا ہوا ۔ ۔۔
❤
وہ اور زید رات کے دس بجے ڈاکٹر سے بینڈیج کروانے کے بعد گھر لوٹے تھے واپس ۔
وہ دونوں گھرکے سیٹنگ ایریا میں داخل ہو ئے ہی تھے۔۔
جب د ادا سامنے سنگل صوفے پہ بیٹھے ریڈیو سنتے نظر آئے تھے۔۔
وہ ساتھ ساتھ اونگھ بھی رہے تھے۔۔
جبکہ دادی جا ئے نماز پہ بیٹھی عشاء کی نماز ادا کر کے دعاء مانگ رہی تھیں ۔۔۔
اسلام علیکم دادا ۔۔۔!
اسلام علیکم دادی۔۔۔ !
دونوں نے ساتھ سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام بچوں۔۔۔!
جیتے رہو خوش رہو اللہ تم لوگوں کی جوڑی سدا سلامت رکھے ۔۔
دادی نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو اپنے پاس بلا کے دم کیا اور دعا دی ۔۔
یہ کیا ہو گیا ہے زائد کے ہاتھ کو ؟؟
جبکہ دادا زید کے ہاتھ کو دیکھ کر ایک دم چونکے تھے۔ ۔
جو وہ دادی کی وجہ سے کمر کے پیچھے چھپایا ہوا تھا ۔۔
زید خاموش رہا اور دادا کے بالکل سامنے رکھے تھری سیٹر صوفے پر دراز ہو گیا ۔۔
جبکہ زمل دادی کی گود میں سر رکھے وہیں ڈھے سی گئی ۔۔۔
کچھ نہیں دادو بس زمل نے میرے ہاتھ پہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر دیا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر کیوں کہ میں زمل کو اسکے فیورٹ ریسٹورانٹ نہیں لے کر گیا تھا۔۔
زید چہرے پے بلا کی معصومیت طاری کئے دادا سے کہنے لگا۔۔
ہیں میں نے ؟؟؟
میں نے کبھی سب کیا تمہارے ساتھ؟؟؟
زمل آنکھوں میں حیرانی لیے زید سے استفسار کر رہی تھی ۔۔
چلو بہت ہوگیا مذاق اب بند کرو الٹی سیدھی ہانکنا اور سیدھے طریقے سے بتاؤ یہ کیا ہوا ہے یہ بینڈیج کیوں چھوڑی ہوئی ہے ہاتھ پہ ؟؟؟
دادی پریشانی سے پوچھ رہی تھیں ۔۔
دادی میں بتاتی ہوں اصل وجہ کہ یہ سب کیوں ہوا ہے ۔۔۔
وہ نجانے کیا بولنے کو تھی جب زید جلدی سے بولا ۔۔۔
زمل میں نے دادا کو جو سچ تھا وہ بتا دیا ہے ۔
وہ زمل کو آنکھیں دکھاکراور دانت پیستے ہوئے تنبیہی انداز میں کہنے لگا ۔۔
اسکی قینچی کی طرح چلتی زبان کو زید کی خطرناک گھوری نے ایک دم بریک لگائے تھے
سامنے کچن سے نکلتی حناء اور زارا کو بھی وہ آتا دیکھ چکی تھی ۔۔
ورنہ وہ دونوں دادا اور پوتی ایک دوسرے کے بیسٹ فرینڈ تھے اپنے دل کی ہر چھوٹی سے بڑی بات ایک دوسرے کے ساتھ بہت آرام سے ڈسکس کر لیا کرتے تھے ۔۔
تم نے مجھے دادو کو سب کچھ سچ سچ بتا نے کیوں نہیں دیا آخر ؟؟؟
زمل نے اس کو رات کے بارہ بجے آج ہوئے واقعے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو کر میسج کیا اور کہا کہ باہر لان میں آئو میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ہماری فیورٹ جگہ پہ۔ ۔۔
زمل خفا خفا سی پوچھ رہی تھی وہ دونوں لون میں لگے بڑے سے جھولے پر بیٹھے تھے جو بہت خوبصورت سندھی انداز میں بنا ہوا تھا۔۔۔
خاص آدم کی پسند تھا جو اس نے بہت پیار سے جورم کو ڈیرھ سال پہلے اس کی سولہویں سالگرہ پہ گفٹ کیا تھا ۔۔
اچھا تم مجھے خود ہی بتاؤ کہ آخردادا اور دادی کو بتا کر کیا فائدہ ہوتا ؟؟
وہ دونوں پریشان ہو جاتے اور اپنی اپنی طبیعت خراب کر بیٹھتے ہماری وجہ سے ۔۔۔
تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟؟
تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اطمینان رکھو اس بات کا کہ تمہارے شوہر کے زورِ بازو میں اتنی ہمت ضرور ہے کہ وہ تمہاری حفاظت کرسکے۔۔۔
مگر زید آپ نے دیکھا نہیں تھا وہ شخص کس قسم کی باتیں کر رہا تھا عجیب و غریب انداز میں اپنی اپنی سو کالڈ محبت کے دم بھر رہا تھا ۔۔۔
مجھے بہت خوف آ رہا تھا اس شخص کی باتوں سے ۔۔۔
دیکھو زمل میری بات سنو اپنے زہن سے ہر قسم کی پریشانی کو بالکل ہٹادو ریلکس ہو جاؤ تم ۔۔
وہ اس کے من موہنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کےپیالےمیں لےکر کہنے لگا ۔۔۔
یاد رکھنا میری ایک بات ہمیشہ ۔۔
"محبت کرنے کا دم تو ہر کوئی بھرسکتا ہے "۔
مگر میرے جیسی شدید انتہاؤں کو چھوتی محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے "۔۔
کیونکہ تم جیسی مقدس لڑکی ہر کسی کے پاس جو نہیں ہے ۔
وہ اسکے کان کے قریب جا کے بہت آہستہ سے بولا ۔۔
زمل کو اس کی نرم گرم سانسیں اپنی گردن پہ محسوس ہو رہی تھیں۔ ۔
زیدپلیز۔۔
اس طرح نہ کریں کوئی آجائے گا میں ویسے ہیں بہت پریشان ہوں ۔۔
وہ سٹپٹا کر بولی حیاء سے اس کے خوبصورت گلابی رخصار کچھ اور بھی حیاء کی لالی سے سرخ ہو چکے تھے ۔۔
یار تم تو بس زرہ بھی رومینٹک نہیں ہونے دیتیں بند ے کو اب تو ہمارا نکاح ہو چکا ہے یار تم میری شرعی بیوی ہو ۔۔
اتنا تو حق بنتا ہے نہ میرا ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
زیدپلیز تھوڑی دیر کے لئے سیرئیس ہوجاؤ۔۔
تمہیں پتا ہے یہ شخص کون تھا جس نے آج اس قدر بدتمیزی کی ہے ۔۔
ارے یار دفعہ کرو نہ اس شخص کو تم کیوں اس بدتمیز،بدکردار اور اخلاق سے عاری شخص کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کر رہی ہوں ؟؟؟
ذید وہ کوئی معمولی بندہ نہیں ہے بلکہ وہ میر حسن ۔۔
ملک کے مشہور سیاستدان کا اکلوتا بیٹا ہے جو ابھی کچھ دن پہلے ہی لندن سے واپس آیا ہے ۔۔
زمل کی بات سنکر زید بھی صحیح معنوں میں اب پریشان ہواٹھا تھا ۔۔
وہ بہت زیادہ ڈسٹرب تھی میر حنیدکی باتوں سے ۔۔۔
اور آج جب وہ سونے سے پہلے اپنے بیڈ پر لیٹی فیس بک چیک کر رہی تھی۔۔
تو اس میں زمل نے میر حنید کومیر حسن کے بازو کے حصار میں کھڑے دیکھا تھا اور نیچے تحریر رقم تھی کہ ۔۔
میر حسن کا اکلوتا بیٹا پندرہ سال بعد لندن سے ہمیشہ کے لئے اپنی اسٹیڈیز کمپلیٹ کر کے واپس آ گیا ہے اور اپنے باپ کی کرسی سنبھال چکا ہے ۔۔۔
یار تم پریشان نہ ہو میں اس سے خود ہی نمٹ لوں گا۔۔
ہوگا بڑے آدمی کا بیٹا اپنے گھر ۔۔
میری نظر میں تو اسکی کوئی اوقات ہی نہیں ہے دفعہ کرو اس کو ۔۔
مگر زید اگر اس نے واقعی جو کہا ہے اس پر عمل کرکے دکھایا تو ۔۔؟
زمل کی آنکھوں میں انجانا سا خوف ہچکولے لے رہا تھا ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا وہ بہت ہی فضول قسم کا شخص ہے ۔۔
وہ محض سب کی انٹینشن اپنی طرف کھینچنے کے لیے ایز اے تھرل یہ۔ سب کچھ کر رہا تھا ۔۔
اور ابھی تو تم نے بتایا کہ وہ ملک کے مشہور سیاستدان کا بیٹا ہے بس اسی لیے وہ اپنی ویلیو بڑھا رہا تھا اس کو کوئی پہچانتا تو ہے نہیں ہے ۔۔
وہ۔ زمل کو ہر صورت مطمئن کرنا چاہ رہا تھا مگر اندر سے وہ خود ہی صحیح معنوں میں پریشان ہو چکا تھا ۔۔
اس شخص کے انداز و اتوار خالی خولی بھرم والے نہیں لگ رہے تھے ۔۔
زیدنے چند ہی لمحوں میں ایک اٹل فیصلہ کیا تھا اور اب اس فیصلے سے بس اس نے صبح سب گھر کے بڑوں کو آگاہی فراہم کرنی تھی ۔۔۔
❤
اگلے دن گل رعنا فجر کے وقت ہی اٹھ گئی تھی وضو کر کے نماز ادا کرنے کے بعد آپنے اللہ کے سامنے اپنا ہر دکھ ہر درد بیان کر رہی تھی ۔۔
اے میرے پیارے اللہ میاں مجھ پر رحم کر دے۔۔ مجھے اس گناہوں کی دلدل میں دھنسنے سے بچا لے۔۔
اے میرے رب جس طرح تو نے میری اب تک اس عزت و آبرو کی حفاظت کی ہے آگے بھی مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھ ۔۔
مجھے کسی بھی نامحرم شخص کے سامنے بے پردہ ہونے سے بچا لے یا اللہ پاک مجھے ایک محفوظ سائباں عطا فرمادے میرے مالک ۔۔۔
وہ روروکے اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔۔
ابھی وہ دعا مانگ کے اٹھی ہی تھی جب ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندہ تھا ۔۔۔
اس نے ٹائم دیکھا گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی وہ آہستہ سے اٹھی اور بہت ہلکے سے دروازے کا لاک کھول کر ب باہر جھانکا ۔۔
حسام سامنے بڑے سے لاؤنج میں تھری سیٹر صوفے پے دراز بے ترتیب سا سو رہا تھا ۔۔۔
گل کو ایسا لگا جیسے اللہ نے اس کو ایک موقع فرا ہم کیا ہو خود کو محفوظ کرنے کا ۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی حسام تک پہنچی اور ٹیبل پر رکھی اس کی گاڑی کی چابی اور وولٹ اٹھا کر بہت آہستہ سے چلتی رہداری میں بنے دو راستوں میں سے اللہ کا نام لیکر ایک راستے پر چل پڑی تھی ۔۔۔
گاڑی کی چابی اس نے اس لیے لی تھی کہ اگر حسان جاگ جائے اور اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرے تو کچھ دیر تک وہ اس تک پہنچ نہ پائے ۔۔
اتنی دیر میں وہ اس جگہ سے بہت دور نکل چکی ہوگی اور حسان کی پہنچ سے بھی ۔۔۔
وہ کسی نہ کسی طرح سے آخرکار باہر تک پہنچ ہی گئی تھی ۔۔
بس اب اس کی آزادی کے بیچ میں ایک بڑا سا لوہے کا بنا مین گیٹ تھا۔ ۔
وہ راستہ صاف دیکھ کر مین گیٹ کو عبور کرنے ہی والی تھی خوشی سے یہ سوچ کر کہ چوکیدار بھی عدم موجود ہے ۔۔
اچانک اس کو اپنے پیچھے تھوڑا فاصلے پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔
❤
آج وہ پورے ایک ہفتے بعد یونیورسٹی آئی تھی مگر اس کی ہمت نہ تھی کے باہر کھڑی ہوکر اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھ لےتی۔۔
جبکہ اندر سے اس کا دل شرجیل کے ایک دیدار کے لئے مچل رہا تھا ۔۔
وہ بے دلی سے لیکچر سن رہی تھی ۔۔
مس حنا بتائے ابھی میں نے کیا کہا ہے تھوڑی دیر پہلے ؟؟
سامنے کھڑے سر آفتاب اس کی غیر دماغی کافی دیر سے نوٹس کر رہے تھے ۔۔
وہ سر میں ۔۔
مس حنا اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آپ کلاس اف کر سکتی ہیں ۔۔
تھینک یو سو ویری مچ سر۔ ۔۔
حنا خاموشی سے کلاس سے باہر نکل آئی اور چلتی چلتی جب تھک گئی تو قدرے سنسان جگہ تلاش کرکے وہاں کونے میں درختوں کے بیچ تھنڈی گھانس پر جا بیٹھی ۔۔
وہ درخت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی زہریلی سوچیں اس کے دماغ پہ قابض تھیں۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟
حنا نے جانی پہچانی آواز سن کر جھٹ جسے آنکھیں کھول دی تھیں۔ ۔۔
حنا کے بالکل سامنے کھڑا شرجیل اس کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
حنا اپنی محبت کو اتنا بالکل قریب ہاتھ بھر کے فاصلے پر دیکھ کر تم سی رہ گئی تھی ۔۔
❤
خالہ جانی میں آگیا۔ ۔۔
خالہ جانی کہاں ہے آپ؟؟؟۔۔
وہ بھاگ رہا تھا پورے گھر میں اپنی چہیتی خالہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
اب وہ سامنے بنے گول سے زینے چڑھ رہا تھا بھاگنے کے انداز میں ۔۔
بچاو ہنی میری مدد کرو ۔۔
مجھے بچا لو ہنی آو اپنی خالہ کے پاس جلدی۔۔۔
نہیں تو یہ مجھے مار دے گا ۔۔
اس کو سیڑھیوں پہ اپنی خالہ کی روتی چلاتی آواز گونجتی محسوس ہوئی ۔۔
زینا گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس سامنے ایک کمرہ تھا اس میں سے لال اور ہری روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔
وہ بھاگ بھاگ کر تھک گیا تھا مگر زینا تھا کہ ختم ہی نہیں ہوکے دے رہا تھا وہ ہانپ رہا تھا ۔۔
مگر پھر بھی خالہ جانی تک پہنچ نہیں پا رہا تھا ۔۔
آخرکار وہ خوفناک زینا ختم ہوا اور وہ ٹھیک بالکل اپنی خالہ کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔
میں آگیا خالہ جانی ۔۔
چھوڑ دو میری خالہ کو چھوڑ دو میں تمہیں مار دوں گا چھوڑ دو میری خالہ کو ۔۔
وہ زور زور سے اپنے تکیے پر سر پٹخ رہا تھا ۔۔
وہ بری طرح سے پسینے میں شرابور تھا ۔۔
وہ چیخ مار کے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔۔
میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا اگر وہ جہنم میں بھی ہو گا تو میں اس کو وہاں سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا ۔۔
وہ نیند سے جاگ چکا تھا اور اب خوف و ہراس کی جگہ انتقام نے لے لی تھی ۔۔
خالہ جانی میں آپ کو انصاف دے لا کر رہوں گا ۔۔۔
چاہے اس کے لئے مجھے اپنی جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے ۔۔
وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا ۔۔
💕
سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب حورم چائے پیتے ہوئے بولی ۔
ماما میں آج گھر لیٹ آونگی ونیورسٹی سے اپنی دوست کے ہاں جاؤں گی ۔۔
کونسی دوست کے گھر۔ ۔
حناکے پوچھنے سے پہلے ہی آدم پوچھ بیٹھا تھا ۔۔
ماتھے پہ چڑھی تیوریاں واضح تھی ۔۔
وہ مجھے اپنی دوست کی اسٹیڈی کرنے جانا ہے سارا کے گھر۔۔۔
حورم نہ چاہتے ہوئے بھی چھڑ کہ بولی ۔۔
وجہ ۔۔۔؟؟
میری پریزنٹیشن ہے اس کی وجہ سے مجھے جانا ہے ۔۔
حورم کے لہجے میں غصہ اور ناراضگی واضح تھی ۔۔۔
شام کو میں جلدی آ جاؤ گا 8 بجے ٹھیک میرے او سوری ہمارے کمرے میں آ جاؤ میں خود پریزنٹیشن کی تیاری کروائونگا۔۔
وہ ایک جگاتی ہوئی نظر وہاں بیٹھے سب نفوس پر ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
❤
جاری ہے۔ ۔۔
By Aymen Nauman
Epi 6..
🌹🌼🌹
یس سر آپ نے بلایا حکم کریں بندہ حاضر ہے ۔۔۔
سامنے کھڑا شخص میر حنید کو سلوٹ پیش کرنے کے بعد مئو دب کھڑا اس کے حکم کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔
میر حنید بڑے سے ہال نما کمرے میں
اپنے شہانہ لاکھوں روپے کے صوفے نما تخت پر نیم دراز ساتھ میں رکھی سلور ٹیبل کے اوپر سجے پیور چاندی سے بنائے گئے اینٹک ٹچ کےحقے سے کش پہ کش لگا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
پورا ہال کمرا خوبصورتی اور بہت ہی نفاست سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔۔
پورے ایک منٹ اور چھ سیکنڈ تم لیٹ آئے ہو ۔۔
خیر پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کیا۔۔
کیونکہ آج میر حنید بہت خوش ہے۔ ۔۔
معافی سر آئندہ غلطی نہیں ہو گی ۔۔
سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر خوف کے سائے واضح طور پر منڈلا رہے تھے ۔۔
جاؤ جا کر 20 کلو مٹھائی اور 20کلو پھل کے ٹوکرے بنوا کر لاؤ ۔۔
آج میر حنید اپنا رشتہ خود لے کر جا رہا ہے اپنی محبت کے کوچے میں ۔۔
اس کے پیروں میں اپنے نام کی بیڑیاں ڈالنے کیلئے ۔۔
ججی ۔۔جی سر۔ ۔
اسد بہت حیران ہوا تھا کیومکہ اسکا مالک شادی کے نام سے بھی الرجک تھا کجا کہ اپنا رشتہ لیکر جانا۔ ۔
پہلے اسکا باپ انکا خاص وفاءشعارملازم تھا اور پھر باپ کی وفات کے بعد وہ اپنے باپ کی ہی طرح وفاء شعاری سے اپنے فرائض سر انجام دےرہاتھا۔۔
اس طویل عرصے میں وہ میر حنیر کو بہت اچھی طرح سے سمجھ چکا تھا۔ ۔
آسد کو بخوبی اندازہ ہورہا تھا کہ جس لڑکی کی معلومات میر حنید جس شدت سے حاصل کرواچکا تھا اس سے وہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہوسکتی۔ ۔۔
اور ہونا ہو اسکا مالک اسی کے گھر رشتہ لیکر جارہا تھا اپنا۔ ۔
اسد اپنےمالک کی خوشیوں کیلئے دل سے دعاء گوتھا۔ وہ ان میں سے تھا جو اپنے مالک کیلئے اپنی جان کی قربانی بھی دیدے۔ ۔
اورمیر حنید یہ محبت ڈزرو بھی کرتا تھا۔ ۔
"گولی نہیں مارو نگا سالے تجھے "۔۔
تیری پوری فوج کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر اپنا نام لکھوا کر دلہن بنا کر لاؤں گا اسے۔ ۔
ایسی نس دبائونگا تیری کہ چیخیں آسمان تک گونجینگی۔ ۔۔۔
وہ زید کو اپنے شعور میں مخاطب کرتے ہوئے بولا ۔
مجھ سے ہوشیاری کرنے والے ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ ۔
ہاہاہا۔ ۔
اور تجھ جیسے گیس کے بھرے غباروں کی ہوا پھس کرنا تو میر حنید کا بچپن کا شوق ہے۔ ۔۔۔
سامنے استادہ اسد آنکھوں میں حیرانی لیے بس سر کو ہلا کے ہاں بول پایا تھا ۔۔
خیر۔ ۔۔
میں نے تمہیں جس جگہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بولا تھا کچھ رپورٹ ملی وہاں کی ؟۔۔
جی سر میں نے بہت ساری معلومات اکھٹی کر لی ہے ۔۔۔
آپ کاشک بالکل درست تھا اس کو ٹھےکو چلانے میں صرف اس عورت چندہ بائی کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ پوری چین ہے اور چندہ بائی کے اوپر کچھ خاص لوگوں کے ہاتھ ہیں ۔۔
جس کی وجہ سے ہم ایک دم سے کوئی ایکشن نہیں لے سکتے ۔۔
مجھے تم یہ بتاؤگے کہ میں کیا ایکشن لے سکتا ہوں اور کیا نہیں ۔۔
میں میر حسن سعدان کا بیٹا ہوں مجھے کوئی بھی کہیں بھی کچھ بھی کرنے سے روک نہیں سکتا ۔۔۔
ٹھیک ہے کتنی لڑکیاں اب تک کوٹھے سے بیچی جا چکی ہے بہار ممالک میں ؟؟
سر باہرممالک میں کوئی 146 کے قریب لڑکیاں بیچی گئی ہیں جبکہ اندرون ملک میں سے جمع کی گئی 81 لڑکیوں کے ساتھ کوٹھے کے اندر ہی زیادتی کی گئی ہے ۔۔
جن میں سے چند ایک حاملہ بھی تھیں ۔۔
میر حنیدکی آنکھوں میں خون اتر آیا ۔۔
تفصیل جاننے کے بعد ۔۔
سر جی آگے کا حکم؟ ؟؟
آئی جی سے کہو سب کو ہلا کے رکھ دے ۔۔
مگر۔ ۔۔
گھمانے کا کام میں خود کروں گا ۔۔
میر حنید آنکھوں میں چمک اور برہمی لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔
جی سر بہتر۔ ۔
سامنے کھڑا شخص تعبداری سے گویا ہوا ۔ ۔۔
❤
وہ اور زید رات کے دس بجے ڈاکٹر سے بینڈیج کروانے کے بعد گھر لوٹے تھے واپس ۔
وہ دونوں گھرکے سیٹنگ ایریا میں داخل ہو ئے ہی تھے۔۔
جب د ادا سامنے سنگل صوفے پہ بیٹھے ریڈیو سنتے نظر آئے تھے۔۔
وہ ساتھ ساتھ اونگھ بھی رہے تھے۔۔
جبکہ دادی جا ئے نماز پہ بیٹھی عشاء کی نماز ادا کر کے دعاء مانگ رہی تھیں ۔۔۔
اسلام علیکم دادا ۔۔۔!
اسلام علیکم دادی۔۔۔ !
دونوں نے ساتھ سلام کیا ۔۔
وعلیکم اسلام بچوں۔۔۔!
جیتے رہو خوش رہو اللہ تم لوگوں کی جوڑی سدا سلامت رکھے ۔۔
دادی نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو اپنے پاس بلا کے دم کیا اور دعا دی ۔۔
یہ کیا ہو گیا ہے زائد کے ہاتھ کو ؟؟
جبکہ دادا زید کے ہاتھ کو دیکھ کر ایک دم چونکے تھے۔ ۔
جو وہ دادی کی وجہ سے کمر کے پیچھے چھپایا ہوا تھا ۔۔
زید خاموش رہا اور دادا کے بالکل سامنے رکھے تھری سیٹر صوفے پر دراز ہو گیا ۔۔
جبکہ زمل دادی کی گود میں سر رکھے وہیں ڈھے سی گئی ۔۔۔
کچھ نہیں دادو بس زمل نے میرے ہاتھ پہ گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر دیا تھا اور وہ بھی جان بوجھ کر کیوں کہ میں زمل کو اسکے فیورٹ ریسٹورانٹ نہیں لے کر گیا تھا۔۔
زید چہرے پے بلا کی معصومیت طاری کئے دادا سے کہنے لگا۔۔
ہیں میں نے ؟؟؟
میں نے کبھی سب کیا تمہارے ساتھ؟؟؟
زمل آنکھوں میں حیرانی لیے زید سے استفسار کر رہی تھی ۔۔
چلو بہت ہوگیا مذاق اب بند کرو الٹی سیدھی ہانکنا اور سیدھے طریقے سے بتاؤ یہ کیا ہوا ہے یہ بینڈیج کیوں چھوڑی ہوئی ہے ہاتھ پہ ؟؟؟
دادی پریشانی سے پوچھ رہی تھیں ۔۔
دادی میں بتاتی ہوں اصل وجہ کہ یہ سب کیوں ہوا ہے ۔۔۔
وہ نجانے کیا بولنے کو تھی جب زید جلدی سے بولا ۔۔۔
زمل میں نے دادا کو جو سچ تھا وہ بتا دیا ہے ۔
وہ زمل کو آنکھیں دکھاکراور دانت پیستے ہوئے تنبیہی انداز میں کہنے لگا ۔۔
اسکی قینچی کی طرح چلتی زبان کو زید کی خطرناک گھوری نے ایک دم بریک لگائے تھے
سامنے کچن سے نکلتی حناء اور زارا کو بھی وہ آتا دیکھ چکی تھی ۔۔
ورنہ وہ دونوں دادا اور پوتی ایک دوسرے کے بیسٹ فرینڈ تھے اپنے دل کی ہر چھوٹی سے بڑی بات ایک دوسرے کے ساتھ بہت آرام سے ڈسکس کر لیا کرتے تھے ۔۔
تم نے مجھے دادو کو سب کچھ سچ سچ بتا نے کیوں نہیں دیا آخر ؟؟؟
زمل نے اس کو رات کے بارہ بجے آج ہوئے واقعے کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہو کر میسج کیا اور کہا کہ باہر لان میں آئو میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ہماری فیورٹ جگہ پہ۔ ۔۔
زمل خفا خفا سی پوچھ رہی تھی وہ دونوں لون میں لگے بڑے سے جھولے پر بیٹھے تھے جو بہت خوبصورت سندھی انداز میں بنا ہوا تھا۔۔۔
خاص آدم کی پسند تھا جو اس نے بہت پیار سے جورم کو ڈیرھ سال پہلے اس کی سولہویں سالگرہ پہ گفٹ کیا تھا ۔۔
اچھا تم مجھے خود ہی بتاؤ کہ آخردادا اور دادی کو بتا کر کیا فائدہ ہوتا ؟؟
وہ دونوں پریشان ہو جاتے اور اپنی اپنی طبیعت خراب کر بیٹھتے ہماری وجہ سے ۔۔۔
تم پریشان کیوں ہوتی ہو؟؟
تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اطمینان رکھو اس بات کا کہ تمہارے شوہر کے زورِ بازو میں اتنی ہمت ضرور ہے کہ وہ تمہاری حفاظت کرسکے۔۔۔
مگر زید آپ نے دیکھا نہیں تھا وہ شخص کس قسم کی باتیں کر رہا تھا عجیب و غریب انداز میں اپنی اپنی سو کالڈ محبت کے دم بھر رہا تھا ۔۔۔
مجھے بہت خوف آ رہا تھا اس شخص کی باتوں سے ۔۔۔
دیکھو زمل میری بات سنو اپنے زہن سے ہر قسم کی پریشانی کو بالکل ہٹادو ریلکس ہو جاؤ تم ۔۔
وہ اس کے من موہنے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کےپیالےمیں لےکر کہنے لگا ۔۔۔
یاد رکھنا میری ایک بات ہمیشہ ۔۔
"محبت کرنے کا دم تو ہر کوئی بھرسکتا ہے "۔
مگر میرے جیسی شدید انتہاؤں کو چھوتی محبت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے "۔۔
کیونکہ تم جیسی مقدس لڑکی ہر کسی کے پاس جو نہیں ہے ۔
وہ اسکے کان کے قریب جا کے بہت آہستہ سے بولا ۔۔
زمل کو اس کی نرم گرم سانسیں اپنی گردن پہ محسوس ہو رہی تھیں۔ ۔
زیدپلیز۔۔
اس طرح نہ کریں کوئی آجائے گا میں ویسے ہیں بہت پریشان ہوں ۔۔
وہ سٹپٹا کر بولی حیاء سے اس کے خوبصورت گلابی رخصار کچھ اور بھی حیاء کی لالی سے سرخ ہو چکے تھے ۔۔
یار تم تو بس زرہ بھی رومینٹک نہیں ہونے دیتیں بند ے کو اب تو ہمارا نکاح ہو چکا ہے یار تم میری شرعی بیوی ہو ۔۔
اتنا تو حق بنتا ہے نہ میرا ۔۔
وہ چڑھ کر بولا ۔۔
زیدپلیز تھوڑی دیر کے لئے سیرئیس ہوجاؤ۔۔
تمہیں پتا ہے یہ شخص کون تھا جس نے آج اس قدر بدتمیزی کی ہے ۔۔
ارے یار دفعہ کرو نہ اس شخص کو تم کیوں اس بدتمیز،بدکردار اور اخلاق سے عاری شخص کے بارے میں سوچ سوچ کر خود کو ہلکان کر رہی ہوں ؟؟؟
ذید وہ کوئی معمولی بندہ نہیں ہے بلکہ وہ میر حسن ۔۔
ملک کے مشہور سیاستدان کا اکلوتا بیٹا ہے جو ابھی کچھ دن پہلے ہی لندن سے واپس آیا ہے ۔۔
زمل کی بات سنکر زید بھی صحیح معنوں میں اب پریشان ہواٹھا تھا ۔۔
وہ بہت زیادہ ڈسٹرب تھی میر حنیدکی باتوں سے ۔۔۔
اور آج جب وہ سونے سے پہلے اپنے بیڈ پر لیٹی فیس بک چیک کر رہی تھی۔۔
تو اس میں زمل نے میر حنید کومیر حسن کے بازو کے حصار میں کھڑے دیکھا تھا اور نیچے تحریر رقم تھی کہ ۔۔
میر حسن کا اکلوتا بیٹا پندرہ سال بعد لندن سے ہمیشہ کے لئے اپنی اسٹیڈیز کمپلیٹ کر کے واپس آ گیا ہے اور اپنے باپ کی کرسی سنبھال چکا ہے ۔۔۔
یار تم پریشان نہ ہو میں اس سے خود ہی نمٹ لوں گا۔۔
ہوگا بڑے آدمی کا بیٹا اپنے گھر ۔۔
میری نظر میں تو اسکی کوئی اوقات ہی نہیں ہے دفعہ کرو اس کو ۔۔
مگر زید اگر اس نے واقعی جو کہا ہے اس پر عمل کرکے دکھایا تو ۔۔؟
زمل کی آنکھوں میں انجانا سا خوف ہچکولے لے رہا تھا ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا وہ بہت ہی فضول قسم کا شخص ہے ۔۔
وہ محض سب کی انٹینشن اپنی طرف کھینچنے کے لیے ایز اے تھرل یہ۔ سب کچھ کر رہا تھا ۔۔
اور ابھی تو تم نے بتایا کہ وہ ملک کے مشہور سیاستدان کا بیٹا ہے بس اسی لیے وہ اپنی ویلیو بڑھا رہا تھا اس کو کوئی پہچانتا تو ہے نہیں ہے ۔۔
وہ۔ زمل کو ہر صورت مطمئن کرنا چاہ رہا تھا مگر اندر سے وہ خود ہی صحیح معنوں میں پریشان ہو چکا تھا ۔۔
اس شخص کے انداز و اتوار خالی خولی بھرم والے نہیں لگ رہے تھے ۔۔
زیدنے چند ہی لمحوں میں ایک اٹل فیصلہ کیا تھا اور اب اس فیصلے سے بس اس نے صبح سب گھر کے بڑوں کو آگاہی فراہم کرنی تھی ۔۔۔
❤
اگلے دن گل رعنا فجر کے وقت ہی اٹھ گئی تھی وضو کر کے نماز ادا کرنے کے بعد آپنے اللہ کے سامنے اپنا ہر دکھ ہر درد بیان کر رہی تھی ۔۔
اے میرے پیارے اللہ میاں مجھ پر رحم کر دے۔۔ مجھے اس گناہوں کی دلدل میں دھنسنے سے بچا لے۔۔
اے میرے رب جس طرح تو نے میری اب تک اس عزت و آبرو کی حفاظت کی ہے آگے بھی مجھے اپنے حفظ و امان میں رکھ ۔۔
مجھے کسی بھی نامحرم شخص کے سامنے بے پردہ ہونے سے بچا لے یا اللہ پاک مجھے ایک محفوظ سائباں عطا فرمادے میرے مالک ۔۔۔
وہ روروکے اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔۔
ابھی وہ دعا مانگ کے اٹھی ہی تھی جب ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندہ تھا ۔۔۔
اس نے ٹائم دیکھا گھڑی صبح کے ساڑھے چار بجا رہی تھی وہ آہستہ سے اٹھی اور بہت ہلکے سے دروازے کا لاک کھول کر ب باہر جھانکا ۔۔
حسام سامنے بڑے سے لاؤنج میں تھری سیٹر صوفے پے دراز بے ترتیب سا سو رہا تھا ۔۔۔
گل کو ایسا لگا جیسے اللہ نے اس کو ایک موقع فرا ہم کیا ہو خود کو محفوظ کرنے کا ۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی حسام تک پہنچی اور ٹیبل پر رکھی اس کی گاڑی کی چابی اور وولٹ اٹھا کر بہت آہستہ سے چلتی رہداری میں بنے دو راستوں میں سے اللہ کا نام لیکر ایک راستے پر چل پڑی تھی ۔۔۔
گاڑی کی چابی اس نے اس لیے لی تھی کہ اگر حسان جاگ جائے اور اس کا پیچھا کرنے کی کوشش کرے تو کچھ دیر تک وہ اس تک پہنچ نہ پائے ۔۔
اتنی دیر میں وہ اس جگہ سے بہت دور نکل چکی ہوگی اور حسان کی پہنچ سے بھی ۔۔۔
وہ کسی نہ کسی طرح سے آخرکار باہر تک پہنچ ہی گئی تھی ۔۔
بس اب اس کی آزادی کے بیچ میں ایک بڑا سا لوہے کا بنا مین گیٹ تھا۔ ۔
وہ راستہ صاف دیکھ کر مین گیٹ کو عبور کرنے ہی والی تھی خوشی سے یہ سوچ کر کہ چوکیدار بھی عدم موجود ہے ۔۔
اچانک اس کو اپنے پیچھے تھوڑا فاصلے پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔
❤
آج وہ پورے ایک ہفتے بعد یونیورسٹی آئی تھی مگر اس کی ہمت نہ تھی کے باہر کھڑی ہوکر اپنے محبوب کی ایک جھلک دیکھ لےتی۔۔
جبکہ اندر سے اس کا دل شرجیل کے ایک دیدار کے لئے مچل رہا تھا ۔۔
وہ بے دلی سے لیکچر سن رہی تھی ۔۔
مس حنا بتائے ابھی میں نے کیا کہا ہے تھوڑی دیر پہلے ؟؟
سامنے کھڑے سر آفتاب اس کی غیر دماغی کافی دیر سے نوٹس کر رہے تھے ۔۔
وہ سر میں ۔۔
مس حنا اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آپ کلاس اف کر سکتی ہیں ۔۔
تھینک یو سو ویری مچ سر۔ ۔۔
حنا خاموشی سے کلاس سے باہر نکل آئی اور چلتی چلتی جب تھک گئی تو قدرے سنسان جگہ تلاش کرکے وہاں کونے میں درختوں کے بیچ تھنڈی گھانس پر جا بیٹھی ۔۔
وہ درخت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی زہریلی سوچیں اس کے دماغ پہ قابض تھیں۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟
حنا نے جانی پہچانی آواز سن کر جھٹ جسے آنکھیں کھول دی تھیں۔ ۔۔
حنا کے بالکل سامنے کھڑا شرجیل اس کو بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
حنا اپنی محبت کو اتنا بالکل قریب ہاتھ بھر کے فاصلے پر دیکھ کر تم سی رہ گئی تھی ۔۔
❤
خالہ جانی میں آگیا۔ ۔۔
خالہ جانی کہاں ہے آپ؟؟؟۔۔
وہ بھاگ رہا تھا پورے گھر میں اپنی چہیتی خالہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
اب وہ سامنے بنے گول سے زینے چڑھ رہا تھا بھاگنے کے انداز میں ۔۔
بچاو ہنی میری مدد کرو ۔۔
مجھے بچا لو ہنی آو اپنی خالہ کے پاس جلدی۔۔۔
نہیں تو یہ مجھے مار دے گا ۔۔
اس کو سیڑھیوں پہ اپنی خالہ کی روتی چلاتی آواز گونجتی محسوس ہوئی ۔۔
زینا گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا بس سامنے ایک کمرہ تھا اس میں سے لال اور ہری روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی ۔۔
وہ بھاگ بھاگ کر تھک گیا تھا مگر زینا تھا کہ ختم ہی نہیں ہوکے دے رہا تھا وہ ہانپ رہا تھا ۔۔
مگر پھر بھی خالہ جانی تک پہنچ نہیں پا رہا تھا ۔۔
آخرکار وہ خوفناک زینا ختم ہوا اور وہ ٹھیک بالکل اپنی خالہ کے کمرے کے سامنے کھڑا تھا ۔
میں آگیا خالہ جانی ۔۔
چھوڑ دو میری خالہ کو چھوڑ دو میں تمہیں مار دوں گا چھوڑ دو میری خالہ کو ۔۔
وہ زور زور سے اپنے تکیے پر سر پٹخ رہا تھا ۔۔
وہ بری طرح سے پسینے میں شرابور تھا ۔۔
وہ چیخ مار کے ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔۔
میں اس شخص کو نہیں چھوڑوں گا اگر وہ جہنم میں بھی ہو گا تو میں اس کو وہاں سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا ۔۔
وہ نیند سے جاگ چکا تھا اور اب خوف و ہراس کی جگہ انتقام نے لے لی تھی ۔۔
خالہ جانی میں آپ کو انصاف دے لا کر رہوں گا ۔۔۔
چاہے اس کے لئے مجھے اپنی جان کی بازی ہی کیوں نہ لگانی پڑے ۔۔
وہ ہذیانی انداز میں چیخ رہا تھا ۔۔
💕
سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب حورم چائے پیتے ہوئے بولی ۔
ماما میں آج گھر لیٹ آونگی ونیورسٹی سے اپنی دوست کے ہاں جاؤں گی ۔۔
کونسی دوست کے گھر۔ ۔
حناکے پوچھنے سے پہلے ہی آدم پوچھ بیٹھا تھا ۔۔
ماتھے پہ چڑھی تیوریاں واضح تھی ۔۔
وہ مجھے اپنی دوست کی اسٹیڈی کرنے جانا ہے سارا کے گھر۔۔۔
حورم نہ چاہتے ہوئے بھی چھڑ کہ بولی ۔۔
وجہ ۔۔۔؟؟
میری پریزنٹیشن ہے اس کی وجہ سے مجھے جانا ہے ۔۔
حورم کے لہجے میں غصہ اور ناراضگی واضح تھی ۔۔۔
شام کو میں جلدی آ جاؤ گا 8 بجے ٹھیک میرے او سوری ہمارے کمرے میں آ جاؤ میں خود پریزنٹیشن کی تیاری کروائونگا۔۔
وہ ایک جگاتی ہوئی نظر وہاں بیٹھے سب نفوس پر ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
❤
جاری ہے۔ ۔۔
Monday, December 24, 2018
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 5
Muhabbat barsadenq tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 5
اگلے دو دن تک وہ یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو چکا تھا ...
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شرجیل کا جوا خانے سے آخر کیا تعلق ہے ۔۔؟؟
وہ ایک سمجهدار لڑکئ تهی اور یہ بات تو روشن هے کہ جوئے خانے میں کسی کا کیا کام ہو سکتا هے؟؟
لیکن نہیں۔۔۔
یهاں ایک سمجهدار لڑکی کا پالا محبت سے پڑا تها
اور محبت میں کہاں سمجهداری مداخلت کی زحمت کر سکتی هے بھلا؟؟----
معین کیوں اسے لے کر گیا تھا آج اس کو اس مکروہ جگہ پہ آخر؟؟؟
ایک اور سوال ذہین میں انگڑائ لینے لگا---
معین کی کماش کو تو وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی وہ ایک انتہائی آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔---
-
سب کی برائ برائ هی ہوتی هے۔۔
سواے محبوب کہ -----
مگر شرجیل جیسا ڈیسینٹ شخص ؟؟؟ ۔۔۔
محبوب پاک هے معشوق کی نظر میں همیشہ بیشق----
حنا شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے بیمار پڑ گئی تھی وہ کسی بھی فیصلے پر نہیں پہنچ پارہی تھی۔۔۔
محبت اس کو شرجیل کو ہر الزام سے با عزت بری کرنے کا پابند کررہی تھی۔۔
اور پھر آخر کار وہ ایک فیصلہ کرچکی تھی دل و دماغ کی جنگ میں دل جیت چکا تھا ۔۔۔
اور محبت تو محبوب کو کم تر سمجهنے کی گستاخی کرنے هی نہیں دیتی....
اسی کا نام محبت جو ٹہرا۔ ۔۔
❤
تم نے مجھے تھپڑ مارا تمہاری اتنی مجال ۔۔
کسی شیر کی طرح وہ اس پر دهاڑا تھا ۔۔
گل رعنا اپنی کم عقلی میں آ کر ایک مرد کی انا و نام نیہاد غیرت کو جیلا بخش چکی تهی---
گل رعنا اس کی آنکه میں خون اترتے دیکه کے ایک دم خوف کے زیرے اثر وہیں جم سی گئ ۔۔
جبکہ حسام اپنے غصے کو کمرے میں موجود ہر چیز کو تیهس نیهس کر رها تها---
اس کی توجہ اپنی طرف نہ پا کہ گل رعنا بهاگتی ہوئی لاونج تک گئی ۔۔۔
آگے کہاں جانا هے وہ اسی سوچ میں ہی تهی ---
دو راہ داریاں ایک ساتھ بناِئی گئ تھی عجب بھول بھلیا سا گھر ایسا لگ رہا تھا جیسے پرانے وقتوں کا ویران سا گھر جہاں ہر سو سناٹے کا راج تھا۔ ۔
مگر گل رعنا کسی بھی خوف کو خود پہ ہاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔
ادکے سر پہ تو بس ایک دھن سی سوار تھی۔ ۔۔
وہ جلد اس جلد اس وحشی درندے سے دور ہونا چاہرہی تھی۔ ۔
حسام اپنا غصہ ڈریسنگ کے شیشہ پہ نکال کر جوں ہی مڑا کمرہ خالی دیکه کہ ایک دم باهر کا رخ کیا --
-
ابهی وہ باهر کا راستہ ڈهونڈ ہی رہئ تهی جب اسے لاونج کی طرف آتے حسام کےقدموں کی آواز سنائی دی--
گل رعنا کے هاته پاوں پهول گئے وہ ابهی اپنے بچاو کی کوئی راہ کوئی ترقیب ہی سوچ رہئ تهی۔۔
راہ نجات کا را ستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ تھکنے کو تزھی ہمت ہسرنے کو تھی ۔۔۔
کہ اچانک اسکی بھٹکتی ہوئی نظر واز پہ پڑی جو ساته ہی ٹیبل پر رکھا تها ۔۔
ایک دم برقی روح سی اسکے اندر سماء گئی ۔۔۔
اس نے لپک کے گلدان اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا ۔۔۔
گویا جیسے یہ اسکا قیمتی ہتھیار ہو۔ ۔
دیکھو اگر تم میرے قریب بھی آئے تو میں یہ یہ یہ..
. تمہارے سر پہ مار دوں گی ۔۔۔
گل رعنا نے کهڑے کهڑے واز کا کار آمد استمال سوچلیا تھا ....
حسام اس کو لاونج مئں دیکه کہ پر سکون هو گیا ۔۔
وه ابهی بهی اس کی تحویل میں تهی---
تم اگر ایسا کرنا چاہتی ہوں تو میں قریب آرہا ہوں اپنا یہ شوق بخوشی پوری کرلو ۔۔۔
وہ بے خوفی سے کہتا اس تک آیا تھا ۔
ٹھیک ہے تمہیں میرے وجود سے اپنی حاجت پوری کرنی ہے نا؟؟؟
تو کر لو مگر اس کے لئے پہلے تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہو گا ۔۔
اپنے آپ کو هر طرح سے حسام کی قید میں مقید کسی بے زبان پرندے کی مانند دیکه کہ اس نے بیچ کی راه نکالی --
مگر اسکا دل۔۔
دماغ کا ساتھ دینے سے انکاری تھا۔ ۔
وہ کبھی بھی حسام جیسے اوباش مرد کے ساتھ زندگی گزارنا تو دور کی بات ۔۔
اسکو حسام کی پرچھائی بھی گوارہ نہ تھی۔ ۔۔
پھر بھی دل پہ بھاری سل رکھ کے گویا ہوئی۔ ۔۔
اس کے بعد جتنی دفعہ تمہارا دل کرے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کر دینا اور جب میرے وجود سے دل بھر جائے تو مجھے بے شک آزاد کر دینا---
وہ بے بسی کی انتہا پہ تهی بس اپنے ضمیر کی مار سے بچنے کیلئے حل نکانے لگی ---
❤
آدم بھائی آپ؟؟
حورم حیران سی آدم کو دروازے کا لاک کرتے دیکھ رہی تھی کیوں راحم ہونا چاہیے تھا یہاں میری جگہ پر ۔؟؟؟
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟؟؟
میں سمجھ نہیں پا رہی ۔۔
، پلیز مجھے باہر جانا ہے ۔۔
اس نے ایک ساته دونوں باتوں سے آدم کو آگاہ کیا---
تم مجھے سمجھ نہیں پا رہی۔۔؟
مجھے جسکے ساتھ تم 11سال ایک کمرے میں رہی ہو ۔۔۔
آدم نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ ۔۔
اور ایک آئی برو اٹها کے مصنوعئ حیرانگی سے پوچها ۔
خوبصورتی سے تراشی گئ مونچھوں کے ۔ نیچے ضپط سے بھینچے ہوئے ہونٹ ۔۔۔
چہرے پر طاری بلا کی سختی ۔۔۔
وہ پہلے ہی آدم سے بہت خوفزدہ رہتی تھی اس پر تضاد اس کی باتیں ، تنہائی اور ایک دفعہ پھر ایک ہی کمرہ ۔۔۔۔
اسکو پہلے کبھی بھی اس سے اتنا جوف محسوس نہیں ہوا تھا۔
جتنا آج آدم کے چہرے پہ موجود برہمی دیکھ کہ ہورہا تھا۔ ۔۔
یہ جو رسی کی طرح گلے میں دوپٹہ لٹکایا ہوا هے نہ آج کے بعد میں تمہیں اس طرح خود سے بے پروا نہ دیکھوں خود سے اور اس دوپٹے سے ۔۔۔
ترتیب سے دوپٹہ لیا کرو اور دوسری بات میری کان کھول کر سن لو میں تمهیں راحم کے ساتھ بے تکلف نہ ہوتے دیکھوں ۔۔
مگر آدم بھائی ۔۔
وہ تو میرے منگیتر ہے یہی کہنے والے تهی نا تم ؟؟؟ ۔
حورم حیران سی آدم کو آنکھیں پهاڑھے دیکھنے لگی کہ وہ واقعی وہ یہی بولنے والی تھی ۔۔۔۔
میں تمہاری ہر اس بات کو جانتا ہوں جو تم سوچ رہی ہوتی ہو ۔۔۔
تمہاری ہر سوچ جہاں ختم ہوتی وہاں سے میرء سوچ آغازکرتی هے ۔۔۔
آدم اس کی سوچوں پہ اپنی دسترس فائز ہونے کو جتلاتے ہوئے گویا هوا---
اس کی نیلی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی ۔۔
وہ ہاتھ بڑھا کر اس کی گردن میں رسی بنا دوپٹہ لینے کے لئے بڑا ہی تھا ۔۔۔
حب کہ حورم سراسیمہ سی ہوکر بولی۔ ۔۔
آدم بھائی پلیز ۔۔
جبکہ حورم نے خوف سے آنکھیں ہی بند کرلیں ۔
آدم کے هونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک ابهری اورلمحوں میں غائب ہو چکی تھی ۔۔
آدم نے اس کا دوپٹہ کھول کر اس کے دونوں شانوں پر پھیلا کے اڑایا ۔۔
اگر تم اس وقت۔۔۔
اس طرح ڈوپٹہ کیری کرتیں تو میں تمہیں بتاتا تھا صحیح طریقے سے ۔۔۔۔
خیر دسترس سے تم اب بھی میری دور نہیں ہوں ۔۔۔
وہ حورم کو خوف سے کانپتا دیکھ کر کافی محضوض ہوا تھا ۔۔
جاو ۔۔۔۔۔
حورم نے جھٹ آنکھیں کھول کر آدم کو دیکھا ۔۔
اور پھر اپنے ڈھکے ہوئے سرابے پر نظر ڈالیں ۔
اور اب یہ حیرانی سے منہ بند کرو اور آئیندہ کیلئے جو کہا ہےاس پر عمل کرنا ۔
۔۔
اس کی تیز لہجے میں واضح پھنکار تھی۔ ۔،حورم کانپت۔ک بہار جاچکی تھی ۔۔
کاش میں اس دن اتنا بڑا فیصلہ نہ کرتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ۔
❤
یہ کیا حرکت ہے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔؟؟ï
وہ زید کو تکلیف میں تڑپتہ دیکھ کر پہلے ہی آگ بگولہ ہوئی بس شدت غم و غصہ میں رونے کو ہی تهی ۔
میرا دماغ تو بالکل ٹھکانے پر ہے مگر اب تمہیں ٹھکانے لگاؤ گا ۔
یہ کس انداز میں تم اس سے بات کر رہے ہو ۔؟؟
زید اپنا درد بھول کر زمل کے دفاع میں بولا ۔
انداز کی تو بات ہی نہیں کرو تم یہ تو میرا بہت لائٹ موڈ ہے ۔
مسٹر تم نے جو ابھی ابھی کارنامہ کیا ہے اس کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ۔
آواز میں نرمی لے کر بات کرو ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے ۔
میرحنید زمل کو اپنی آنکھوں میں قید کرتے ہوئے بولا ۔
میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں میری وائف سے تمیز سے بات کرو ۔
زید ان جیسے بگڑے امیرزادوں کی بات سننے کی ضرورت نہیں ہے امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولادیں ہیں اپنی ایسی فضول حرکتوں سے باپ کا بھی نام خراب کرتے ہیں ۔۔
زمل کا دماغ زید کےخون آلود هاته کی تکلیف دیکھ کر پہلے ہی معاوف ہوچکا تھا اس پر تضاد سامنے والا شخص اس کو مزید طیش دلانے پر تلا ہوا تھا ۔
زمل چلو پلیز
زید کے ہاتھ میں کانٹا اندر تک گھس چکا تھا اس کا تکلیف سے حال خراب ہو رہا تھا ۔۔
زمل زید کا ہاتھ تھامے جانے کو تھی جب یک دم میر حنید نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوآیا تھا ۔
آئندہ یہ ہاتھ میں کسی غیر مرد کے ہاتھ میں نہ دیکھو ورنہ تمہں تو کچھ نہیں ہو گا اگلا بندہ دوسری سانس نہیں لے سکے گا ۔
زمل کا ہاتھ حنید کی مضبوط گرفت میں تھا ۔
چھوڑ میری بیوی کا ہاتھ یہ میری بیوی ہے اور تو ہوتا کون ہے یہ بات کرنے والا ۔۔؟؟؟
اوہو بیوی ہے واہ کیا کانفیڈنس ہے تمہارا؟؟
۔
وہ اپنا گریبان زید سے آزاد کراتے ہوئے بولا ۔
ہاں یہ شوہر ہے میرا اپنی اوقات میں رہو تم سے اب پولیس نمبٹے گی ۔۔
بگڑا ہوا امیر زادہ نہ ہو تو ۔۔
واقعی؟؟؟
کیا بات ہے تمہاری ۔۔
آئی ایم ایمپریسٹ ۔۔
اوقات تو تمہیں بہت جلد میری پتہ چل جائے گی اور کیا کہا تم نے یہ ٹچ پعیاں شوہر ہے تمہارا۔۔۔
بہت جلد میر حنید اس رتبے پر فائز ہوگا ۔
الٹی گنتی شروع کر دو ۔۔۔۔
وہ ان دونوں پر ایک ترحم بھری مسکراہٹ اچھالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا چکا تھا ریستورنٹ سے باہر----
❤
جاری ہے ۔۔
By Aymen Nauman
Epi 5
اگلے دو دن تک وہ یونیورسٹی نہیں جا سکی تھی سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو چکا تھا ...
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ شرجیل کا جوا خانے سے آخر کیا تعلق ہے ۔۔؟؟
وہ ایک سمجهدار لڑکئ تهی اور یہ بات تو روشن هے کہ جوئے خانے میں کسی کا کیا کام ہو سکتا هے؟؟
لیکن نہیں۔۔۔
یهاں ایک سمجهدار لڑکی کا پالا محبت سے پڑا تها
اور محبت میں کہاں سمجهداری مداخلت کی زحمت کر سکتی هے بھلا؟؟----
معین کیوں اسے لے کر گیا تھا آج اس کو اس مکروہ جگہ پہ آخر؟؟؟
ایک اور سوال ذہین میں انگڑائ لینے لگا---
معین کی کماش کو تو وہ بہت اچھی طرح جانتی تھی وہ ایک انتہائی آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔---
-
سب کی برائ برائ هی ہوتی هے۔۔
سواے محبوب کہ -----
مگر شرجیل جیسا ڈیسینٹ شخص ؟؟؟ ۔۔۔
محبوب پاک هے معشوق کی نظر میں همیشہ بیشق----
حنا شدید ذہنی تناؤ کی وجہ سے بیمار پڑ گئی تھی وہ کسی بھی فیصلے پر نہیں پہنچ پارہی تھی۔۔۔
محبت اس کو شرجیل کو ہر الزام سے با عزت بری کرنے کا پابند کررہی تھی۔۔
اور پھر آخر کار وہ ایک فیصلہ کرچکی تھی دل و دماغ کی جنگ میں دل جیت چکا تھا ۔۔۔
اور محبت تو محبوب کو کم تر سمجهنے کی گستاخی کرنے هی نہیں دیتی....
اسی کا نام محبت جو ٹہرا۔ ۔۔
❤
تم نے مجھے تھپڑ مارا تمہاری اتنی مجال ۔۔
کسی شیر کی طرح وہ اس پر دهاڑا تھا ۔۔
گل رعنا اپنی کم عقلی میں آ کر ایک مرد کی انا و نام نیہاد غیرت کو جیلا بخش چکی تهی---
گل رعنا اس کی آنکه میں خون اترتے دیکه کے ایک دم خوف کے زیرے اثر وہیں جم سی گئ ۔۔
جبکہ حسام اپنے غصے کو کمرے میں موجود ہر چیز کو تیهس نیهس کر رها تها---
اس کی توجہ اپنی طرف نہ پا کہ گل رعنا بهاگتی ہوئی لاونج تک گئی ۔۔۔
آگے کہاں جانا هے وہ اسی سوچ میں ہی تهی ---
دو راہ داریاں ایک ساتھ بناِئی گئ تھی عجب بھول بھلیا سا گھر ایسا لگ رہا تھا جیسے پرانے وقتوں کا ویران سا گھر جہاں ہر سو سناٹے کا راج تھا۔ ۔
مگر گل رعنا کسی بھی خوف کو خود پہ ہاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔
ادکے سر پہ تو بس ایک دھن سی سوار تھی۔ ۔۔
وہ جلد اس جلد اس وحشی درندے سے دور ہونا چاہرہی تھی۔ ۔
حسام اپنا غصہ ڈریسنگ کے شیشہ پہ نکال کر جوں ہی مڑا کمرہ خالی دیکه کہ ایک دم باهر کا رخ کیا --
-
ابهی وہ باهر کا راستہ ڈهونڈ ہی رہئ تهی جب اسے لاونج کی طرف آتے حسام کےقدموں کی آواز سنائی دی--
گل رعنا کے هاته پاوں پهول گئے وہ ابهی اپنے بچاو کی کوئی راہ کوئی ترقیب ہی سوچ رہئ تهی۔۔
راہ نجات کا را ستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ تھکنے کو تزھی ہمت ہسرنے کو تھی ۔۔۔
کہ اچانک اسکی بھٹکتی ہوئی نظر واز پہ پڑی جو ساته ہی ٹیبل پر رکھا تها ۔۔
ایک دم برقی روح سی اسکے اندر سماء گئی ۔۔۔
اس نے لپک کے گلدان اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا ۔۔۔
گویا جیسے یہ اسکا قیمتی ہتھیار ہو۔ ۔
دیکھو اگر تم میرے قریب بھی آئے تو میں یہ یہ یہ..
. تمہارے سر پہ مار دوں گی ۔۔۔
گل رعنا نے کهڑے کهڑے واز کا کار آمد استمال سوچلیا تھا ....
حسام اس کو لاونج مئں دیکه کہ پر سکون هو گیا ۔۔
وه ابهی بهی اس کی تحویل میں تهی---
تم اگر ایسا کرنا چاہتی ہوں تو میں قریب آرہا ہوں اپنا یہ شوق بخوشی پوری کرلو ۔۔۔
وہ بے خوفی سے کہتا اس تک آیا تھا ۔
ٹھیک ہے تمہیں میرے وجود سے اپنی حاجت پوری کرنی ہے نا؟؟؟
تو کر لو مگر اس کے لئے پہلے تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہو گا ۔۔
اپنے آپ کو هر طرح سے حسام کی قید میں مقید کسی بے زبان پرندے کی مانند دیکه کہ اس نے بیچ کی راه نکالی --
مگر اسکا دل۔۔
دماغ کا ساتھ دینے سے انکاری تھا۔ ۔
وہ کبھی بھی حسام جیسے اوباش مرد کے ساتھ زندگی گزارنا تو دور کی بات ۔۔
اسکو حسام کی پرچھائی بھی گوارہ نہ تھی۔ ۔۔
پھر بھی دل پہ بھاری سل رکھ کے گویا ہوئی۔ ۔۔
اس کے بعد جتنی دفعہ تمہارا دل کرے اپنے جذبات کو ٹھنڈا کر دینا اور جب میرے وجود سے دل بھر جائے تو مجھے بے شک آزاد کر دینا---
وہ بے بسی کی انتہا پہ تهی بس اپنے ضمیر کی مار سے بچنے کیلئے حل نکانے لگی ---
❤
آدم بھائی آپ؟؟
حورم حیران سی آدم کو دروازے کا لاک کرتے دیکھ رہی تھی کیوں راحم ہونا چاہیے تھا یہاں میری جگہ پر ۔؟؟؟
آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟؟؟
میں سمجھ نہیں پا رہی ۔۔
، پلیز مجھے باہر جانا ہے ۔۔
اس نے ایک ساته دونوں باتوں سے آدم کو آگاہ کیا---
تم مجھے سمجھ نہیں پا رہی۔۔؟
مجھے جسکے ساتھ تم 11سال ایک کمرے میں رہی ہو ۔۔۔
آدم نے اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے لا کھڑا کیا۔ ۔۔
اور ایک آئی برو اٹها کے مصنوعئ حیرانگی سے پوچها ۔
خوبصورتی سے تراشی گئ مونچھوں کے ۔ نیچے ضپط سے بھینچے ہوئے ہونٹ ۔۔۔
چہرے پر طاری بلا کی سختی ۔۔۔
وہ پہلے ہی آدم سے بہت خوفزدہ رہتی تھی اس پر تضاد اس کی باتیں ، تنہائی اور ایک دفعہ پھر ایک ہی کمرہ ۔۔۔۔
اسکو پہلے کبھی بھی اس سے اتنا جوف محسوس نہیں ہوا تھا۔
جتنا آج آدم کے چہرے پہ موجود برہمی دیکھ کہ ہورہا تھا۔ ۔۔
یہ جو رسی کی طرح گلے میں دوپٹہ لٹکایا ہوا هے نہ آج کے بعد میں تمہیں اس طرح خود سے بے پروا نہ دیکھوں خود سے اور اس دوپٹے سے ۔۔۔
ترتیب سے دوپٹہ لیا کرو اور دوسری بات میری کان کھول کر سن لو میں تمهیں راحم کے ساتھ بے تکلف نہ ہوتے دیکھوں ۔۔
مگر آدم بھائی ۔۔
وہ تو میرے منگیتر ہے یہی کہنے والے تهی نا تم ؟؟؟ ۔
حورم حیران سی آدم کو آنکھیں پهاڑھے دیکھنے لگی کہ وہ واقعی وہ یہی بولنے والی تھی ۔۔۔۔
میں تمہاری ہر اس بات کو جانتا ہوں جو تم سوچ رہی ہوتی ہو ۔۔۔
تمہاری ہر سوچ جہاں ختم ہوتی وہاں سے میرء سوچ آغازکرتی هے ۔۔۔
آدم اس کی سوچوں پہ اپنی دسترس فائز ہونے کو جتلاتے ہوئے گویا هوا---
اس کی نیلی آنکھوں میں حیرانی اتر آئی تھی ۔۔
وہ ہاتھ بڑھا کر اس کی گردن میں رسی بنا دوپٹہ لینے کے لئے بڑا ہی تھا ۔۔۔
حب کہ حورم سراسیمہ سی ہوکر بولی۔ ۔۔
آدم بھائی پلیز ۔۔
جبکہ حورم نے خوف سے آنکھیں ہی بند کرلیں ۔
آدم کے هونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک ابهری اورلمحوں میں غائب ہو چکی تھی ۔۔
آدم نے اس کا دوپٹہ کھول کر اس کے دونوں شانوں پر پھیلا کے اڑایا ۔۔
اگر تم اس وقت۔۔۔
اس طرح ڈوپٹہ کیری کرتیں تو میں تمہیں بتاتا تھا صحیح طریقے سے ۔۔۔۔
خیر دسترس سے تم اب بھی میری دور نہیں ہوں ۔۔۔
وہ حورم کو خوف سے کانپتا دیکھ کر کافی محضوض ہوا تھا ۔۔
جاو ۔۔۔۔۔
حورم نے جھٹ آنکھیں کھول کر آدم کو دیکھا ۔۔
اور پھر اپنے ڈھکے ہوئے سرابے پر نظر ڈالیں ۔
اور اب یہ حیرانی سے منہ بند کرو اور آئیندہ کیلئے جو کہا ہےاس پر عمل کرنا ۔
۔۔
اس کی تیز لہجے میں واضح پھنکار تھی۔ ۔،حورم کانپت۔ک بہار جاچکی تھی ۔۔
کاش میں اس دن اتنا بڑا فیصلہ نہ کرتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ ۔
❤
یہ کیا حرکت ہے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ۔؟؟ï
وہ زید کو تکلیف میں تڑپتہ دیکھ کر پہلے ہی آگ بگولہ ہوئی بس شدت غم و غصہ میں رونے کو ہی تهی ۔
میرا دماغ تو بالکل ٹھکانے پر ہے مگر اب تمہیں ٹھکانے لگاؤ گا ۔
یہ کس انداز میں تم اس سے بات کر رہے ہو ۔؟؟
زید اپنا درد بھول کر زمل کے دفاع میں بولا ۔
انداز کی تو بات ہی نہیں کرو تم یہ تو میرا بہت لائٹ موڈ ہے ۔
مسٹر تم نے جو ابھی ابھی کارنامہ کیا ہے اس کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ۔
آواز میں نرمی لے کر بات کرو ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے ۔
میرحنید زمل کو اپنی آنکھوں میں قید کرتے ہوئے بولا ۔
میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں میری وائف سے تمیز سے بات کرو ۔
زید ان جیسے بگڑے امیرزادوں کی بات سننے کی ضرورت نہیں ہے امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولادیں ہیں اپنی ایسی فضول حرکتوں سے باپ کا بھی نام خراب کرتے ہیں ۔۔
زمل کا دماغ زید کےخون آلود هاته کی تکلیف دیکھ کر پہلے ہی معاوف ہوچکا تھا اس پر تضاد سامنے والا شخص اس کو مزید طیش دلانے پر تلا ہوا تھا ۔
زمل چلو پلیز
زید کے ہاتھ میں کانٹا اندر تک گھس چکا تھا اس کا تکلیف سے حال خراب ہو رہا تھا ۔۔
زمل زید کا ہاتھ تھامے جانے کو تھی جب یک دم میر حنید نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوآیا تھا ۔
آئندہ یہ ہاتھ میں کسی غیر مرد کے ہاتھ میں نہ دیکھو ورنہ تمہں تو کچھ نہیں ہو گا اگلا بندہ دوسری سانس نہیں لے سکے گا ۔
زمل کا ہاتھ حنید کی مضبوط گرفت میں تھا ۔
چھوڑ میری بیوی کا ہاتھ یہ میری بیوی ہے اور تو ہوتا کون ہے یہ بات کرنے والا ۔۔؟؟؟
اوہو بیوی ہے واہ کیا کانفیڈنس ہے تمہارا؟؟
۔
وہ اپنا گریبان زید سے آزاد کراتے ہوئے بولا ۔
ہاں یہ شوہر ہے میرا اپنی اوقات میں رہو تم سے اب پولیس نمبٹے گی ۔۔
بگڑا ہوا امیر زادہ نہ ہو تو ۔۔
واقعی؟؟؟
کیا بات ہے تمہاری ۔۔
آئی ایم ایمپریسٹ ۔۔
اوقات تو تمہیں بہت جلد میری پتہ چل جائے گی اور کیا کہا تم نے یہ ٹچ پعیاں شوہر ہے تمہارا۔۔۔
بہت جلد میر حنید اس رتبے پر فائز ہوگا ۔
الٹی گنتی شروع کر دو ۔۔۔۔
وہ ان دونوں پر ایک ترحم بھری مسکراہٹ اچھالتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا جا چکا تھا ریستورنٹ سے باہر----
❤
جاری ہے ۔۔
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 4
muhabbat barsadena tu.
By Aymen Nauman
Epi 4
💗
پورا گھر برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا ۔۔
گلاب اور موتیا کے پھول خوبصورت اور نفاست سے لان میں لگائی گئی ٹیبلوں پر گلدان کی زینت بنائے گئے تھے ۔۔
اس پوری سجاوٹ کو کرنے میں ساری ینگ پارٹی کا ہاتھ تھا خاص کر حورم اور راحم زیادہ پیش پیش تھے ۔۔
پورے گھر میں رونق کا سماء تھا ۔
زمل اور زید صبح سے مسرور سے تھے ان کی بچپن کی محبت کو آج بہت ہی خوبصورت نام ملنے والا تھا ۔
دونوں کے دل اپنی محبت کو اتنی آسانی سے پا لینے پر خوشی سے جھوم اٹھے تھے ۔
اور پھر پتہ ہی نہیں چلا تیاریوں میں کہ کب صبح سے شام ہو گئی تھی اور نکاح کا وقت بھی آن پہنچا تھا ۔۔
آپی بابا اور تایا ک
قاری صاحب کو لے کر آرہے ہیں مامانے کہا ہے کہ آپ سے کہوں گھونگھٹ نکالنا تھوڑا سا ۔
تائی ماں کا بھی آرڈر ہے ایک آپ کے لیے ۔
وہ کیا؟!
زمل ناسمجھی سے بولی ۔۔
یہ ۔
ھورم نے لال رنگ کا دوپٹہ زمل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
مگر یہ تو تائی امی کی شادی کا ہے نا ۔؟
جی بالکل ۔۔۔
یہ تائی امی کی شادی کا ہی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ آپ نے نکاح کے وقت یہ اوڑ ہیں ۔۔
زمل کو خوشگوار سی حیرت ہوئی کیونکہ تائ امی اپنی جہیز کی ایک ایک چیز کو بہت سنبھال سنبھال کر رکھتی تھیں ۔۔
ایک دفعہ وہ امی ساتھ بیٹھی تھیں جب امی نے ان سے کہا کہ ۔۔۔
بھابھی آپ اپنا شادی کا دوپٹہ اپنی بہو کو اڑایئے گا اچھا شگون ہوتا ہے آپ کی عادتیں اور پرچھاواں پڑے گا اس پہ ۔۔
ارے نہیں حنا میں کبھی اپنی جہیز کی کوئی بھی چیز بہو کو نہ دوں آج کل کی لڑکیاں قدر کرنا نہیں جانتی ۔۔۔
امی تآئی کے انداز کے مسکرائی اور بولیں۔ ۔۔
ارے بھابھی آپ تو ابھی سے ساس بن گئی ۔۔۔
نہیں حنا میں اپنی بہو کا ہر طریقے سے خیال رکھنے کو تیار ہوں مگر میرے اماں بابا کی دی ہوئی
چیزیں میرے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔
میں جانتی ہوں میرے ماں باپ نے کس طرح ایک ایک چیز لے کر میرا جحیزتیار کیا تھا ۔
اپنی حق حلال کی محنت کی کمائی ہوئی ایک ایک پائی کو جوڑ جوڑ کر مجھے دنیا کی ہر چیز دی تھی ۔۔
اب اگر آنے والی اس کی قدر نہ کرے تو میرے ماں باپ کی دی ہوئی ہرچیز تو بے مول ہو جائے گی ۔۔
ارے کہاں کھو گئیں آپی!!!
مراقبہ بعد میں کرلینا باہر قاری صاحب آنے والے ہوں گے ۔
ہاں نہیں بس اس دوپٹے سے تائی اور امی کی کچھ خوبصورت یادیں ذہن پر بکھر گئی تھی ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی۔۔
اور یہ تم اتناالہج کیوں رہی ہو دوپٹے سے ۔؟؟!۔
آ پی سیفٹی پن لگانا تھی مگر اس وقت تو پورے گھر میں پنس کا کال ہی پڑھ چکا ہے ۔۔۔
کیونکہ مجھے جو ضرورت ہے بیوی سے ہر جگہ نظر آ رہی ہوتی ہیں ۔۔
وہ جلدی جلدی میں دوپٹہ بس گردن میں رسی کی طرح لیتے ہوئے بولی ۔۔
کمر پہ بکھرے اسٹریٹ سلکی بال جو کافی لمبے تھے ۔۔
اس پر اس کا ناز ک خوبصورت سا معصوم سراپا ۔۔
وہ دونوں بہنیں معدے کی طرح رنگت کی حامل نازک سی تھیں ۔۔اس پہ تضادایک کی آنکھیں نیلی اور دوسری کی آنکھیں ہری دیکھنے والا پہلی نظر کے بعد نظر اٹھانا ہٹانا ہی بھول جاتا تھا ۔۔۔
زمل نے فوری دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔۔
کی خوشیوں کے لئے تہہ دل سے دعا کی ۔۔
ارے آپ سے جو بات کرنی تھی اہم وہ تو بھولی ہی گئی۔ ۔
کیا سب خیریت ہے نا ؟؟۔۔
جی جی آپی سب خیریت ہے ۔
یہ کیا ہوا ہے بولو !؟
دادی نے کہا ہے نکاح کے وقت آپ رونے کے بجائے اپنے لئے اپنی خوشیوں کے لئے دعا مانگئے گا اور نیک صالح اولاد کے لئے بھی ۔۔
دادی نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت لڑکی کی دعا فورا عرش پہ جاکے قبول ہوتی ہے ۔۔
اچھا میری چھوٹی اماں مانگ لو نگی دعا ۔۔۔
دوپٹہ تو سہی سے لو ابھی سب لوگ آئیں گے
زمل نے اس کو ٹوکا ۔
ارے آپی اتنی دیر سے ن
یہیں تو کوشش کر رہی ہو مگر یہ ٹیشو کا دوپٹہ افف۔۔
وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اور بابا تایا کے ساتھ قاضی صاحب سمیت گھر کے باقی بڑے بھی کمرے میں اندر داخل ہوئے تھے ۔
حورم وہیں کھڑی بڑے اشتیاق سے سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔
جب ایجاب و قبول کے وقت را حم بڑی خاموشی سے لونگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس حورم کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔
اے یہ تم کیوں ساون بھادوں میں مصروف ہوں ؟
آپی کتنا رو رہی ہے ۔۔۔
وہ را ھم کو دیکھ کر نرم لہجے میں گویا ہوئی ۔
وہ تمہاری طرح بے حیاء تھوڑی ہیں جو کھی کھی کھی لگائے رکھیں جیسے تم منگنی کے وقت اپنے دانت شاید ف
ہونٹوٹوں کے باہر ہی لگا کر بھول گئی تھیں۔۔
بتیسی ایک دفعہ جو کھولی تو واپس اندر ہی نہیں ہورہی تھی ۔
وہ حورم کو اداس دیکھ کر جلانے والے انداز میں بولا تھا کہ اس کا ذہن ڈائیوڈ کر سکے ۔
حورم نے اپنی بڑی بڑی نشیلی آنکھیں نکال کر راہم کو گھورا ۔
وہ دونوں اپنی چھیڑچھاڑ میں مصروف تھے مگر وہ کوئی بہت ہی غیض و غضب سے انکو دیکھتا ضبط سےمٹھیاں بھینجے کھڑا تھا ۔۔۔
💕💕💕
گل رعنا بہت دیر سے رو رہی تھی حسام نے اس کو لا کر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا ۔
کب تک میری زندگی میں اندھیرے رہیں گے میرے اللہ کب میری بھی عزت کی زندگی گزرے گی ۔۔؟؟؟
میرے مالک کب میں اس دل دل سے آزاد ہو نگی ۔۔؟؟
آخر کب میرے اللہ ؟؟؟
وہ چیخ چیخ کے روتی اللہ سے اپنی عزت و آبرو کی بقا کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی۔ ۔
ابھی تک اس کے اوپر وہی چادر ڈھکی ہوئی تھی جو وہ کوٹھے سے پہن کر آئی تھی ۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے خود کو مزید چادر میں ڈھانپا تھا ۔۔
خوف سے اس کی آنکھوں میں وحشت سی اتر آئی تھی مگر اس نے طے کر لیا تھا کے اپنے لیے جنگ ضرور لڑے گی ۔۔
حسام سفید ململ کا کرتہ شلوار میں ملبوس ہلکی ہلکی بڑی ہوئی شیو۔ ۔۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی لیے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔
کتنا سوبر اور ڈیسنٹ دیکھنے والا چہرہ ہے اس شخص کا مگر اندر سے کتنا بیہانک ہے یہ ۔
گل نے افسوس سے سوچا ۔۔
حسام آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس تک آیا تھا ۔
وہ بیڈ کے پاس ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھی تھی ۔۔
میرے پاس مت آئیے گا ۔۔
وہ اس کو اپنےقریب دو زانو بیٹھا دیکھ کر جھٹکے سے ایک فٹ کے فاصلے پر ہوئی تھی ۔۔
کیوں اگر آ بھی گیا تو تم کیا کر سکتی ہوں ؟؟
وہ انکھوں میں تمسخر لئے پوچھ رہا تھا ۔۔
میں بتا رہی ہوں میرے قریب مت آنا وہ ڈرتے ڈرتے خود کو نیڈر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
حسام پل بھر کو اس کی معصومیت سے تھک سا گیا تھا ۔
وہ اس کو جس جگہ سے" خرید "کر لایا تھا وہاں اتنی معصومیت ملنا ناممکن سی بات تھی ۔۔
وہ کچھ اور ہی ارا دے لے کر کمرے میں آیا تھا مگر اس کا مزاحمت کرتا انداز دیکھ کر بہت کچھ محسوس کرکے ا تھا ۔۔
اتنی معصوم تو تم ہو نہیں دجتنی نظر آ رہی ہو ۔۔۔
میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟؟
مجھے یہاں سے جانے دو ۔
وہ کسی بھی طرح اس قید سے آزاد ہونا چاہتی تھی ۔۔
اچھا یہاں سے کہاں جاؤں گی ویسے ؟؟
وہ اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے ہوئے بولا ۔۔
۔
میں کہیں بھی چلی جاؤں گی مگر مجھے اس طرح تمہاری ہوس کا نشانہ نہیں کرنا ۔۔
چھٹانک بھر کی اتنی سی تو تم ہو اور مزاحمت کا انداز تو چیک کرو ذرا اپنا ۔۔۔
واہ کیا بات ہے ۔۔۔
پہلی دفعہ اتبا اینٹک پیس ٹکر آیا ہے ۔۔
میں آپ سے بس اتنا چاہتی ہوں کہ آپ مجھے یہاں سے جانے دیں ۔۔
مانا عمر تمہاری کم ہے مگر جس جگہ سے تم آئی ہوں وہاں پر تو یہ سب عام ہے ۔۔۔۔
وہ جتاتے ہوئےتمسخرانہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔۔
وہ اس کو قریب آتا دیکھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔۔
گل کے سر پر تو گویا جنون سوار تھا کہ وہ خود کو حسام کی ناجائز خواہشات کا۔ہرگز بھی نشانہ نہیں بننے دے گی چاہے اپنی جان گنوا بیٹھے ۔
اس دور ان مزاحمت کرتے ہوئے گل کی چادر زمین پر گر چکی تھی ۔۔
حسام دنگ سہ اس کے حسن میں کھو سا گیا تھا ۔۔
وہ اس کی سوچ سے کہیں سادہ حسین تھی کسی اپسرا کی پرچھائی ہو جیسے ۔
اوپر سے اس کا ضدی انداز اس کو بہت اٹریکٹ کر رہا تھا ۔۔
وہ بہت کم ان جگہوں پہ جاتا تھا مگر اس دن بھی اس کے دوستوں کی زبردستی کرنے پر وہ وہاں گیا تھا اور بے ارادہ ہی اس کی نظر گل پہ پڑ گئی تھی ۔۔
حسام نے اپنی 32 سالہ زندگی میں پہلی دفعہ اتنا مکمل اور ضد سے بھرپور حسن دیکھا تھا ۔۔
حسام نے ہاتھ بڑھا کر اس کے نارما وقت اس گلابی چہرے کو چھوا تھا ۔۔
وہ کرنٹ کا کر جھٹکے سے اس سے دور ھوئی تھی ۔۔
اور زناٹے دار تھپڑ حسام کے رخسار پر دے مارا تھا ۔۔
وہ پلٹ کر باہر کا دروازہ پھلانگنے کو تھی جب حسام نے تیزی سے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا تھا ۔۔
💕💕💕
اگلے دن وہ جلدی سے یونیورسٹی آف کرکے شرجیل کے آنے سے پہلے ہی یونیورسٹی کے باہر کھڑی تھی ۔
کچھ ہی دیر میں شرجیل بھی آ گیا تھا اور پھر وہ اسی لڑکے کے ساتھ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جانے کہیں لگا ۔
بھائی صاحب اس گاڑی کا پیچھا کرنا ہے ۔۔
حنا نے رکشے میں بیٹھ کر ڈرائیور سے کہا ۔
رکشہ کچھ دور ہی پہنچا تھا جب وہ گاڑی ایک عجیب سی جگہ پر رکی۔ ۔
اس کو دیکھنے میں وہ جگہ پٹھان کا ڈھابہ لگ رہی تھی ۔۔
وہ رکشے سے اتر کر اپنی چادر خود پراچھی طرح لپیٹ لینے کے بعد شرجیل کے پیچھے چل پڑی ۔
بھائی آپ رکنا یہی میں بس میں آئی ۔
رکشے والے کو کہہ کر وہ آگے بڑھ چکی تھی
۔
یار تیرے پیچھے ایک لڑکی ہے میرے یونیورسٹی کی چو یونیورسٹی سے ہی ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ ۔
شرجیل کے دوست معین نے اس کو بتایا ۔
شرجیل نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
وہاں وہی لڑکی کھڑی تھی جو روز شاید بس کے انتظار میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی ہوتی تھی ۔
وہ یکدم پلٹہ اورحنا کی طرف تیز قدم اٹھانے لگا ۔
حنا نے جیسا ہی شرجیل کو خود تک آتا دیکھا وہ واپس بھاگتی ہوئی کشی میں جا بیٹھی تھی ۔
بھائی جلدی چلو واپس ۔
وہ رکشے میں بیٹھ کر ماتھے پہ آیاپسینہ صاف کر کے بولی ۔
بھائی صاحب یہ ڈھابا کس جگہ پر ہے ۔؟؟؟
وہ رکشہ چلاتے ضعیف سے شخص سے پوچھ رہی تھی ۔
بیٹا آپ کو نہیں پتا یہ مشہور جوا خانہ تھا جہاں ابھی آپ کو کی تھی ۔۔
رکشے والے نے حنا کو بڑی حیرت سے دیکھا ۔
حنا کو لگا جیسے پتھروں کا ریلا اس کے اوپر دھڑام سے گرا ہو ۔۔
💓
نکاح کے دوسرے دن زید ز مل کو لے کر ڈینر کروانے کے لئے لایا تھا سب کی اجازت سے باہر۔
تم کل دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی ۔
اور تمہیں پتا ہے زمل تم پہلی لڑکی ہو جس کی میرے دل میں خواہش کی ہے ۔۔
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرو اتنا کم ہے کہ اس نے مجھے اتنی آسانی سے میری محبت دیدی۔ ۔
وی زمل کے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔
زمل نے گھبرا کر اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جب زید نے اس کا ھاتھ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا اور محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا ۔
۔
یار اب تو شوہر ہوں میں اتنا تو حق بنتا ہے میرا ۔۔
اچھا نہ مجھے کنفیوز مت کرو زید ہم ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہیں ۔۔
زمل جتاتے ہوئے بولی۔ ۔
اور پھر سے دوبارہ اس سے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
سامنے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا میر حونید مزید اپنا غصہ ضبط نہیں کر سکا تھا وہ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی دھکیل کر اٹھا ۔
طیش کے عالم میں سامنے رکھی خوبصورت کانچ کی ٹیبل کو ایک ہاتھ سے ہوا میں اچھالا تھا اور کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ان دونوں کی طرف آیا تھا ۔۔
زید زمل کا ہاتھ ہنوز تھامے پریشان سا اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ آنکھوں میں غیض و غضب کے ابلتے ہوئے شرارےلیے زید کی طرف جھکا اور سائیڈ میں رکھ اک اٹھا یا۔۔۔
میں رہوں نعت نے ہاتھ میں لیا کانٹا اٹھا کر زیمل کے ہاتھ پر دھرے زید کے ہاتھ میں بری طرح گھونپ دیا چند ہی لمحوں میں ۔۔۔
💕
پورا بیٹا اپنی امی کو کہو کہ جلدی آئی مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔
بابا کو نہیں پتا تھا کہ وہ پہلے ہی تیار ہو کر کھڑی باہر ان کا انتظار کر رہی ہیں ۔۔
جی باباا بھی بتا کر آئی۔۔
حورم اوپر کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی زمل اور اپنے مشترکہ کمرے کی طرف جا رہی تھی سارے گھر والے نیچے لون میں زید نکاح کے بعد رخصتی کے مراحل طے کروانے میں مصروف تھے ۔۔
حورم کوریڈور کے آخری سرے پر ہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ کھینچ تے ہوئے اس سائٹ پر بنے کمرے میں دھکیلا تھا ۔۔
وہ سنبھل کر دیکھنے کے لئے پلٹی کی تھی کہ کس نے یہ کیا ہے ۔۔
سامنے کھڑے آدم کو دیکھ کر وہ حیران و پریشان سی ہو کر بولی
آدم کمرے کا دروازہ لاک کر کے پیچھے مڑا تھا ۔۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
By Aymen Nauman
Epi 4
💗
پورا گھر برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا ۔۔
گلاب اور موتیا کے پھول خوبصورت اور نفاست سے لان میں لگائی گئی ٹیبلوں پر گلدان کی زینت بنائے گئے تھے ۔۔
اس پوری سجاوٹ کو کرنے میں ساری ینگ پارٹی کا ہاتھ تھا خاص کر حورم اور راحم زیادہ پیش پیش تھے ۔۔
پورے گھر میں رونق کا سماء تھا ۔
زمل اور زید صبح سے مسرور سے تھے ان کی بچپن کی محبت کو آج بہت ہی خوبصورت نام ملنے والا تھا ۔
دونوں کے دل اپنی محبت کو اتنی آسانی سے پا لینے پر خوشی سے جھوم اٹھے تھے ۔
اور پھر پتہ ہی نہیں چلا تیاریوں میں کہ کب صبح سے شام ہو گئی تھی اور نکاح کا وقت بھی آن پہنچا تھا ۔۔
آپی بابا اور تایا ک
قاری صاحب کو لے کر آرہے ہیں مامانے کہا ہے کہ آپ سے کہوں گھونگھٹ نکالنا تھوڑا سا ۔
تائی ماں کا بھی آرڈر ہے ایک آپ کے لیے ۔
وہ کیا؟!
زمل ناسمجھی سے بولی ۔۔
یہ ۔
ھورم نے لال رنگ کا دوپٹہ زمل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
مگر یہ تو تائی امی کی شادی کا ہے نا ۔؟
جی بالکل ۔۔۔
یہ تائی امی کی شادی کا ہی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ آپ نے نکاح کے وقت یہ اوڑ ہیں ۔۔
زمل کو خوشگوار سی حیرت ہوئی کیونکہ تائ امی اپنی جہیز کی ایک ایک چیز کو بہت سنبھال سنبھال کر رکھتی تھیں ۔۔
ایک دفعہ وہ امی ساتھ بیٹھی تھیں جب امی نے ان سے کہا کہ ۔۔۔
بھابھی آپ اپنا شادی کا دوپٹہ اپنی بہو کو اڑایئے گا اچھا شگون ہوتا ہے آپ کی عادتیں اور پرچھاواں پڑے گا اس پہ ۔۔
ارے نہیں حنا میں کبھی اپنی جہیز کی کوئی بھی چیز بہو کو نہ دوں آج کل کی لڑکیاں قدر کرنا نہیں جانتی ۔۔۔
امی تآئی کے انداز کے مسکرائی اور بولیں۔ ۔۔
ارے بھابھی آپ تو ابھی سے ساس بن گئی ۔۔۔
نہیں حنا میں اپنی بہو کا ہر طریقے سے خیال رکھنے کو تیار ہوں مگر میرے اماں بابا کی دی ہوئی
چیزیں میرے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔
میں جانتی ہوں میرے ماں باپ نے کس طرح ایک ایک چیز لے کر میرا جحیزتیار کیا تھا ۔
اپنی حق حلال کی محنت کی کمائی ہوئی ایک ایک پائی کو جوڑ جوڑ کر مجھے دنیا کی ہر چیز دی تھی ۔۔
اب اگر آنے والی اس کی قدر نہ کرے تو میرے ماں باپ کی دی ہوئی ہرچیز تو بے مول ہو جائے گی ۔۔
ارے کہاں کھو گئیں آپی!!!
مراقبہ بعد میں کرلینا باہر قاری صاحب آنے والے ہوں گے ۔
ہاں نہیں بس اس دوپٹے سے تائی اور امی کی کچھ خوبصورت یادیں ذہن پر بکھر گئی تھی ۔۔۔
وہ مسکرا کر بولی۔۔
اور یہ تم اتناالہج کیوں رہی ہو دوپٹے سے ۔؟؟!۔
آ پی سیفٹی پن لگانا تھی مگر اس وقت تو پورے گھر میں پنس کا کال ہی پڑھ چکا ہے ۔۔۔
کیونکہ مجھے جو ضرورت ہے بیوی سے ہر جگہ نظر آ رہی ہوتی ہیں ۔۔
وہ جلدی جلدی میں دوپٹہ بس گردن میں رسی کی طرح لیتے ہوئے بولی ۔۔
کمر پہ بکھرے اسٹریٹ سلکی بال جو کافی لمبے تھے ۔۔
اس پر اس کا ناز ک خوبصورت سا معصوم سراپا ۔۔
وہ دونوں بہنیں معدے کی طرح رنگت کی حامل نازک سی تھیں ۔۔اس پہ تضادایک کی آنکھیں نیلی اور دوسری کی آنکھیں ہری دیکھنے والا پہلی نظر کے بعد نظر اٹھانا ہٹانا ہی بھول جاتا تھا ۔۔۔
زمل نے فوری دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری ۔۔
کی خوشیوں کے لئے تہہ دل سے دعا کی ۔۔
ارے آپ سے جو بات کرنی تھی اہم وہ تو بھولی ہی گئی۔ ۔
کیا سب خیریت ہے نا ؟؟۔۔
جی جی آپی سب خیریت ہے ۔
یہ کیا ہوا ہے بولو !؟
دادی نے کہا ہے نکاح کے وقت آپ رونے کے بجائے اپنے لئے اپنی خوشیوں کے لئے دعا مانگئے گا اور نیک صالح اولاد کے لئے بھی ۔۔
دادی نے کہا ہے کہ نکاح کے وقت لڑکی کی دعا فورا عرش پہ جاکے قبول ہوتی ہے ۔۔
اچھا میری چھوٹی اماں مانگ لو نگی دعا ۔۔۔
دوپٹہ تو سہی سے لو ابھی سب لوگ آئیں گے
زمل نے اس کو ٹوکا ۔
ارے آپی اتنی دیر سے ن
یہیں تو کوشش کر رہی ہو مگر یہ ٹیشو کا دوپٹہ افف۔۔
وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اور بابا تایا کے ساتھ قاضی صاحب سمیت گھر کے باقی بڑے بھی کمرے میں اندر داخل ہوئے تھے ۔
حورم وہیں کھڑی بڑے اشتیاق سے سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔
جب ایجاب و قبول کے وقت را حم بڑی خاموشی سے لونگ شرٹ اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس حورم کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا ۔۔
اے یہ تم کیوں ساون بھادوں میں مصروف ہوں ؟
آپی کتنا رو رہی ہے ۔۔۔
وہ را ھم کو دیکھ کر نرم لہجے میں گویا ہوئی ۔
وہ تمہاری طرح بے حیاء تھوڑی ہیں جو کھی کھی کھی لگائے رکھیں جیسے تم منگنی کے وقت اپنے دانت شاید ف
ہونٹوٹوں کے باہر ہی لگا کر بھول گئی تھیں۔۔
بتیسی ایک دفعہ جو کھولی تو واپس اندر ہی نہیں ہورہی تھی ۔
وہ حورم کو اداس دیکھ کر جلانے والے انداز میں بولا تھا کہ اس کا ذہن ڈائیوڈ کر سکے ۔
حورم نے اپنی بڑی بڑی نشیلی آنکھیں نکال کر راہم کو گھورا ۔
وہ دونوں اپنی چھیڑچھاڑ میں مصروف تھے مگر وہ کوئی بہت ہی غیض و غضب سے انکو دیکھتا ضبط سےمٹھیاں بھینجے کھڑا تھا ۔۔۔
💕💕💕
گل رعنا بہت دیر سے رو رہی تھی حسام نے اس کو لا کر ایک کمرے میں بند کر دیا تھا ۔
کب تک میری زندگی میں اندھیرے رہیں گے میرے اللہ کب میری بھی عزت کی زندگی گزرے گی ۔۔؟؟؟
میرے مالک کب میں اس دل دل سے آزاد ہو نگی ۔۔؟؟
آخر کب میرے اللہ ؟؟؟
وہ چیخ چیخ کے روتی اللہ سے اپنی عزت و آبرو کی بقا کے لئے دعائیں مانگ رہی تھی۔ ۔
ابھی تک اس کے اوپر وہی چادر ڈھکی ہوئی تھی جو وہ کوٹھے سے پہن کر آئی تھی ۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے خود کو مزید چادر میں ڈھانپا تھا ۔۔
خوف سے اس کی آنکھوں میں وحشت سی اتر آئی تھی مگر اس نے طے کر لیا تھا کے اپنے لیے جنگ ضرور لڑے گی ۔۔
حسام سفید ململ کا کرتہ شلوار میں ملبوس ہلکی ہلکی بڑی ہوئی شیو۔ ۔۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی لیے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔
کتنا سوبر اور ڈیسنٹ دیکھنے والا چہرہ ہے اس شخص کا مگر اندر سے کتنا بیہانک ہے یہ ۔
گل نے افسوس سے سوچا ۔۔
حسام آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اس تک آیا تھا ۔
وہ بیڈ کے پاس ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھی تھی ۔۔
میرے پاس مت آئیے گا ۔۔
وہ اس کو اپنےقریب دو زانو بیٹھا دیکھ کر جھٹکے سے ایک فٹ کے فاصلے پر ہوئی تھی ۔۔
کیوں اگر آ بھی گیا تو تم کیا کر سکتی ہوں ؟؟
وہ انکھوں میں تمسخر لئے پوچھ رہا تھا ۔۔
میں بتا رہی ہوں میرے قریب مت آنا وہ ڈرتے ڈرتے خود کو نیڈر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
حسام پل بھر کو اس کی معصومیت سے تھک سا گیا تھا ۔
وہ اس کو جس جگہ سے" خرید "کر لایا تھا وہاں اتنی معصومیت ملنا ناممکن سی بات تھی ۔۔
وہ کچھ اور ہی ارا دے لے کر کمرے میں آیا تھا مگر اس کا مزاحمت کرتا انداز دیکھ کر بہت کچھ محسوس کرکے ا تھا ۔۔
اتنی معصوم تو تم ہو نہیں دجتنی نظر آ رہی ہو ۔۔۔
میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟؟
مجھے یہاں سے جانے دو ۔
وہ کسی بھی طرح اس قید سے آزاد ہونا چاہتی تھی ۔۔
اچھا یہاں سے کہاں جاؤں گی ویسے ؟؟
وہ اپنے دونوں ہاتھ سینے پہ باندھتے ہوئے بولا ۔۔
۔
میں کہیں بھی چلی جاؤں گی مگر مجھے اس طرح تمہاری ہوس کا نشانہ نہیں کرنا ۔۔
چھٹانک بھر کی اتنی سی تو تم ہو اور مزاحمت کا انداز تو چیک کرو ذرا اپنا ۔۔۔
واہ کیا بات ہے ۔۔۔
پہلی دفعہ اتبا اینٹک پیس ٹکر آیا ہے ۔۔
میں آپ سے بس اتنا چاہتی ہوں کہ آپ مجھے یہاں سے جانے دیں ۔۔
مانا عمر تمہاری کم ہے مگر جس جگہ سے تم آئی ہوں وہاں پر تو یہ سب عام ہے ۔۔۔۔
وہ جتاتے ہوئےتمسخرانہ ہنسی ہنستے ہوئے بولا ۔۔
وہ اس کو قریب آتا دیکھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھی ۔۔
گل کے سر پر تو گویا جنون سوار تھا کہ وہ خود کو حسام کی ناجائز خواہشات کا۔ہرگز بھی نشانہ نہیں بننے دے گی چاہے اپنی جان گنوا بیٹھے ۔
اس دور ان مزاحمت کرتے ہوئے گل کی چادر زمین پر گر چکی تھی ۔۔
حسام دنگ سہ اس کے حسن میں کھو سا گیا تھا ۔۔
وہ اس کی سوچ سے کہیں سادہ حسین تھی کسی اپسرا کی پرچھائی ہو جیسے ۔
اوپر سے اس کا ضدی انداز اس کو بہت اٹریکٹ کر رہا تھا ۔۔
وہ بہت کم ان جگہوں پہ جاتا تھا مگر اس دن بھی اس کے دوستوں کی زبردستی کرنے پر وہ وہاں گیا تھا اور بے ارادہ ہی اس کی نظر گل پہ پڑ گئی تھی ۔۔
حسام نے اپنی 32 سالہ زندگی میں پہلی دفعہ اتنا مکمل اور ضد سے بھرپور حسن دیکھا تھا ۔۔
حسام نے ہاتھ بڑھا کر اس کے نارما وقت اس گلابی چہرے کو چھوا تھا ۔۔
وہ کرنٹ کا کر جھٹکے سے اس سے دور ھوئی تھی ۔۔
اور زناٹے دار تھپڑ حسام کے رخسار پر دے مارا تھا ۔۔
وہ پلٹ کر باہر کا دروازہ پھلانگنے کو تھی جب حسام نے تیزی سے بڑھ کر اس کا راستہ روک لیا تھا ۔۔
💕💕💕
اگلے دن وہ جلدی سے یونیورسٹی آف کرکے شرجیل کے آنے سے پہلے ہی یونیورسٹی کے باہر کھڑی تھی ۔
کچھ ہی دیر میں شرجیل بھی آ گیا تھا اور پھر وہ اسی لڑکے کے ساتھ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ کر جانے کہیں لگا ۔
بھائی صاحب اس گاڑی کا پیچھا کرنا ہے ۔۔
حنا نے رکشے میں بیٹھ کر ڈرائیور سے کہا ۔
رکشہ کچھ دور ہی پہنچا تھا جب وہ گاڑی ایک عجیب سی جگہ پر رکی۔ ۔
اس کو دیکھنے میں وہ جگہ پٹھان کا ڈھابہ لگ رہی تھی ۔۔
وہ رکشے سے اتر کر اپنی چادر خود پراچھی طرح لپیٹ لینے کے بعد شرجیل کے پیچھے چل پڑی ۔
بھائی آپ رکنا یہی میں بس میں آئی ۔
رکشے والے کو کہہ کر وہ آگے بڑھ چکی تھی
۔
یار تیرے پیچھے ایک لڑکی ہے میرے یونیورسٹی کی چو یونیورسٹی سے ہی ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ ۔
شرجیل کے دوست معین نے اس کو بتایا ۔
شرجیل نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔
وہاں وہی لڑکی کھڑی تھی جو روز شاید بس کے انتظار میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی ہوتی تھی ۔
وہ یکدم پلٹہ اورحنا کی طرف تیز قدم اٹھانے لگا ۔
حنا نے جیسا ہی شرجیل کو خود تک آتا دیکھا وہ واپس بھاگتی ہوئی کشی میں جا بیٹھی تھی ۔
بھائی جلدی چلو واپس ۔
وہ رکشے میں بیٹھ کر ماتھے پہ آیاپسینہ صاف کر کے بولی ۔
بھائی صاحب یہ ڈھابا کس جگہ پر ہے ۔؟؟؟
وہ رکشہ چلاتے ضعیف سے شخص سے پوچھ رہی تھی ۔
بیٹا آپ کو نہیں پتا یہ مشہور جوا خانہ تھا جہاں ابھی آپ کو کی تھی ۔۔
رکشے والے نے حنا کو بڑی حیرت سے دیکھا ۔
حنا کو لگا جیسے پتھروں کا ریلا اس کے اوپر دھڑام سے گرا ہو ۔۔
💓
نکاح کے دوسرے دن زید ز مل کو لے کر ڈینر کروانے کے لئے لایا تھا سب کی اجازت سے باہر۔
تم کل دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی ۔
اور تمہیں پتا ہے زمل تم پہلی لڑکی ہو جس کی میرے دل میں خواہش کی ہے ۔۔
میں اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرو اتنا کم ہے کہ اس نے مجھے اتنی آسانی سے میری محبت دیدی۔ ۔
وی زمل کے ہاتھ پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ۔۔
زمل نے گھبرا کر اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جب زید نے اس کا ھاتھ مزید مضبوطی سے پکڑ لیا اور محبت سے چور لہجے میں گویا ہوا ۔
۔
یار اب تو شوہر ہوں میں اتنا تو حق بنتا ہے میرا ۔۔
اچھا نہ مجھے کنفیوز مت کرو زید ہم ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہیں ۔۔
زمل جتاتے ہوئے بولی۔ ۔
اور پھر سے دوبارہ اس سے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
سامنے تھوڑے فاصلے پر بیٹھا میر حونید مزید اپنا غصہ ضبط نہیں کر سکا تھا وہ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی دھکیل کر اٹھا ۔
طیش کے عالم میں سامنے رکھی خوبصورت کانچ کی ٹیبل کو ایک ہاتھ سے ہوا میں اچھالا تھا اور کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ان دونوں کی طرف آیا تھا ۔۔
زید زمل کا ہاتھ ہنوز تھامے پریشان سا اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ آنکھوں میں غیض و غضب کے ابلتے ہوئے شرارےلیے زید کی طرف جھکا اور سائیڈ میں رکھ اک اٹھا یا۔۔۔
میں رہوں نعت نے ہاتھ میں لیا کانٹا اٹھا کر زیمل کے ہاتھ پر دھرے زید کے ہاتھ میں بری طرح گھونپ دیا چند ہی لمحوں میں ۔۔۔
💕
پورا بیٹا اپنی امی کو کہو کہ جلدی آئی مجھے دیر ہو رہی ہے ۔۔
بابا کو نہیں پتا تھا کہ وہ پہلے ہی تیار ہو کر کھڑی باہر ان کا انتظار کر رہی ہیں ۔۔
جی باباا بھی بتا کر آئی۔۔
حورم اوپر کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی زمل اور اپنے مشترکہ کمرے کی طرف جا رہی تھی سارے گھر والے نیچے لون میں زید نکاح کے بعد رخصتی کے مراحل طے کروانے میں مصروف تھے ۔۔
حورم کوریڈور کے آخری سرے پر ہی تھی جب کسی نے اس کا ہاتھ کھینچ تے ہوئے اس سائٹ پر بنے کمرے میں دھکیلا تھا ۔۔
وہ سنبھل کر دیکھنے کے لئے پلٹی کی تھی کہ کس نے یہ کیا ہے ۔۔
سامنے کھڑے آدم کو دیکھ کر وہ حیران و پریشان سی ہو کر بولی
آدم کمرے کا دروازہ لاک کر کے پیچھے مڑا تھا ۔۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 3
Muhabbat barsadena tu..💖
By Aymen Nauman
Epi 3
🌼🌼🌼
میں اس گندگی میں نہیں اترنا چاہتی۔۔
وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔
دیکھ لڑکی تیری من مانی پچھلے آٹهارا سال سے سن رہے ہیں ۔۔
ہم اب تیرا سودا کر چکے ہیں وہ بھی منہ مانگے داموں میں۔ ۔
ریما چندہ بائی کی خاص لڑکی تھی چندہ بائی کے بعد اس کا راج چلتا تھا اس کوٹھے پہ ۔۔
میں نے کہہ دیا نا میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔
وہ روتے ہوئے غصے سے ضدی لہجے میں گویا ہوئی ۔۔
تجھے اس لیے تھوڑی ابھی تک سمبهال کر رکھا تھا کہ ہم ہنسی خوشی تیری شادی کر کے تجھے کوٹھے سے رخصت کردینگے ۔۔
ریما مکروہ ہنسی چہرے پہ لیے اپنی غلیظ نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی ۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی گل رعنا کو اپنا بے جان مقدمہ ان جسم کے بیوپاریوں سے لڑتے ہوئے کہ جب حسام نے بغیر کسی دستک کے کمرے میں قدم رکھا ۔۔
ریما اس کو سامنے دیکھ کر ٹھٹکی دیں اور پھر بڑی چالاکی سے بولی ۔۔
سیٹھ صاحب یہ لڑکی نہیں مان رہی آپ کے ساتھ جانے کے لئے ۔۔
میں جانتا ہوں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
وہ اندر آتے ہوئے گل رعنا اور ریما کے مابین ہونے والی تمام گفتگو سن چکا تھا ۔۔۔
گل رعنا کی آنکھوں میں اس لمبے چوڑے کسرتی وجود
کے حامل مرد کو دیکھ کر سراسیمگی اتر آئی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کہ اب اس کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔
اس نے گل کو ایک بھرپور نظر سےدیکھا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے گل کے چہرے اور خوبصورت جسم پر سائیڈ میں رکھی چادر ڈال دی تھی ۔۔
اس نے گل کے روتے سسکتے وجود کو اچھی طرح سے چادر میں لپیٹ نے کے بعد اسکو اپنے کندھے پر اوندھا ڈالا تھا ۔۔
وہ فریاد کر رہی تھی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی اس سے ۔۔
وہ بغیر کچھ بھی کہے اور سنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کوٹھے کی دہلیز پار کر گیا تھا ۔۔۔
اور وہ سوچ رہی تھی کہ ناجانے اس بازار حسن سے نکلنے کے بعد اب مزید کن کٹهن حالات کا سامنا کرنا ہوگا ۔۔؟؟؟
💕💕💕
حنا آج بھی اسی ٹائم پر یونیورسٹی کے دروازے پر کھڑی شرجیل کا انتظار کر رہی تھی۔۔
وہ یک طرفہ محبت کی زد میں بری طرح سے آچکی تھی شرجیل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پچھلے ایک گھنٹے سے بےقراری سے کڑی دھوپ میں کھڑی تھی ۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دشمن جان اس کو سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ ۔
حناء بغیر پلک جھپکائے ٹرانس کی سی کیفیت میں اس کو یکٹک دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ کسی سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنی جیب سے کوئی چھوٹی سی چیز اس کو تھما رها تها جو دوسرے لڑکے نے بڑی خاموشی سے اپنی جیب میں رکھی تھی ۔۔۔
حنا کو کافی حیرت ہوئی تھی یہ سب دیکھ کر ۔۔
حیرت کا جھٹکا اس کو اس بات سے لگا تھا کہ سامنے کھڑا شخص پوری یونیورسٹی کا سب سے لوفر اور آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔۔
اس کا شرجیل سے کیا تال میل ہوسکتا تھا ۔۔۔
وہ بری طرح سے کشمکش کا شکار ہو گئی تھی ۔۔
وہ کچھ حیران اور پریشان سی شرجیل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر جا چکے تھے ۔۔۔
حنا کا یہ روز کا معمول بن چکا تھا وہ ہر روز شرجیل کے صرف ایک دیدار کے لئے تپتی ہوئی کڑی دھوپ میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی رہتی تھی ۔۔۔
شرجیل روزانہ اسی لڑکے سے ملنے کے لئے آتا تھا ۔۔
کبھی وہ اس کو ساتھ لے جاتا یا پھر کبھی بڑی رازداری سے وہی چھوٹی سی چیز اس کے ہاتھ میں تھما کر چلتا بنتا تھا۔ ۔
حنا نے سوچ لیا تھا کہ وہ کل کسی بھی طرح یونیورسٹی سے آف لے کر شرجیل کا پیچھا کرے گی کہ آیا وہ آخر جاتا کہاں ہے ۔؟؟
حنا کے دل میں شرجیل کی محبت بری طرح سے جگہ چکی تھی وہ اپنے محبوب کی ہر ایک عادت و ادا ،پسند تهی حد یہ کہ ہر وہ چیز جو شرجیل سے جڑی تھی
وہ اس کو جاننا چاہتی تھی ۔۔
💕💕💕
مجھے ہر حال میں اس لڑکی کے مطابق ایک ایک
معلومات چاہیے ۔۔
جی سر آپ کو تمام معلومات جلد ہی مل جائیں گی ۔۔۔
اسد تابداری سے گویا ہوا تھا ۔۔
وہ لان میں بیٹھا رات کے وقت سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور ساتھ میں اپنے خاص بندے اسد سے فون پر بات بھی کر رہا تھا ۔۔
ایڈریس میں تمہیں سمجھا چکا ہوں تمہارا کام پہلے ہی میں نے بہت آسان کر دیا ہے ۔
جی جی سر بالکل ۔۔
اسد نے فرمانبرداری سے کہا ۔۔
۔
میں اس کی تصویر واٹس ایپ کر رہا ہوں اگلے دو گھنٹے میں مجھے اس لڑکی کا شجرہ نصب مل جانا چاہیے ۔۔
مگرسر 2گھنٹے ۔؟؟
اسد پریشانی سے بولا۔ ۔
ہاں دو گھنٹے میں اس سے ایک منٹ بھی آگے پیچھے ہوا تو تیسرے گھنٹے میں تیرا شجرہ نسب صفا ہستی سے مٹ چکا ہو گا ۔۔
میر حنید اپنی بات کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔۔
اور اب وہ پھر سے زمل کی تصویر کو دیکھنے میں محو ہو چکا تھا ۔۔
زمل کی تصویر اس نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ڈنکے کی چوٹ پہ لی تھی کہ اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو اس کو کسی کا ڈر خوف نہیں تھا ۔۔
میر حنید بہت جلد تمہارے تمام جملہ حقوق اپنے نام کروانے کے لیے آ رہا ہے ۔۔
Just Wait and Watch ۔
snow White ۔
You are mine ۔۔
Very soon you will be in my life..
Insha Allah..
💕💕💕
حورم بڑے مزے سے کانوں میں ہینڈ فری لگائے گا نے سنتے ہوئے واک کر رہی تھی ۔۔
ہیلو بیوٹیفل ۔۔
راحم نے حورم کے پیچھے سے آکر اسکی ہینڈ فری کوکان سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا ہے کتنا مزے کا سونگ سن رہی تھی سب ٹیمپو توڑ کے رکھ دیا ۔۔
وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں ہر راحم پر چیخی۔۔
واپس کرو میری ہینڈ فری اور موبائل ۔۔
راحم نے ہینڈ فری اور موبائل سیدھے ہاتھ میں لے کر ۔۔
اپنے ہاتھ کو اوپر کر لیا ۔۔
اوھو چھوٹی بچی کو یہ چاہئے۔۔
آئو آئو لیلو۔ ۔۔
اس لئے چھوٹی منی الو کی طرح رو رہی ہے ۔۔
راحم نے اس کو چڑایا ۔۔
حورم ا چک اچک کے راحم کے ہاتھ سے اپنی ہینڈ فری اور موبائل لینے کی کوشش میں بار بار ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔
اب راحم پورے لاؤنج میں اس کو اپنے پیچھے لگا رہا تھا ۔۔
میں کہتی ہوں دے دو نہیں تو وہ حال کروں گی کہ زندگی بھر یاد رکھو گے ۔
وہ جنگلی بلی کی طرح اپنے پنجے تیز کیے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
راحم بھاگتے بھاگتے لمحے بھرکو سانس لینے کے لئے رکا تھا کہ ایک جھٹکے سے جب حورم بھاگتے ہوئے اس کے چوڑے سینے سے بری طرح ٹکرا گئی تھی ۔۔
کیا ہے رو کیوں گئے تھے ؟؟؟
دیکھا پیری ناک ۔۔۔
کیا ہوا تمہاری ناک کو؟ ؟
کہو تو ابھی ٹھیک کردیتا ہوں سب درد بھاگ جائے گا ۔۔
وہ حورم پہ جھکا بڑے مزے سے رومانٹک ہوتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
اس بات سے بے خبر کے اس کے پیچھے ڈایناسور آندھمکا ہے ۔
حورم کی تو آدم کو دیکھ کر بولتی ہی بند ہو چکی تھی ۔
وہ راحم کے کچھ ہی لمحوں پہلے بولے گئے جملے کو بڑے مزے سے انجوائے ہی کر رہی تھی کہ حجاب لاؤنچ کے اندر داخل ہوتے آدم پر اس کی نظر پڑی تھی ۔۔
آدم راحم کی پوری بات سن چکا تھا ۔۔
جبکہ حورم شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔۔
اس کو آدم کے سامنے کھڑے رہنا دنیا کا سب سے دشوار ترین کام لگ رہا تھا ۔۔
اب کیا ہوا کیا میرے خیالوں میں کھو گئی ہو؟ ؟؟
راحم اپنی ہی ہو کر رہا تھا ۔۔
راحم پیچھے دیکھو ۔۔
یارپہلے تمہیں تو دیکھنے سے فرست ملے پیچھے بھی دیکھ ہی لو نگا ۔۔۔
آدم دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
آدم کا خوف ساری ینگ پارٹی کے دل میں اسی طرح سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
ادم عالم خان کا سب سے بڑا پوتا تھا ۔۔۔
بڑا ہونے کی وجہ سے وہ کافی حد تک غسیلہ اور حاکم مزاج طبیعت کا مالک تھا۔۔
حورم کو اپنایہ طرم خان کزن ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔۔
حورم نے چڑھ کے آدم کی لمبی چوڑی کرسکتی پرسنالٹی کو مدنظر رکھ کر اس کا نام ڈایناسور رکھ دیا تھا ۔۔
جو بعد میں باقی ساری ینگ پارٹی کی زبانوں پر چڑھ گیا تھا ۔۔
حورم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور راحم کا رخ موڑ کر آدم کے سامنے کر دیا ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بکواس اس ڈایناسور کے سامنے کرتا خورم کو یہی بہتر لگا کہ وہ خود ہی دیکھلےپیچھے کا حسین نظارہ ۔۔
وہہہہہ۔ ۔۔آآاااااادم ۔،۔۔بھائی آپ ۔۔۔
وہ آدم کو دیکھ کر کسی غبارے کی طرح پھوس ہوگیا تھا اور ہکلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔
اورپھر بڑی مہارت سے امی بلا رہی ہیں کا بہانا بنا کے وہاں سے کھسک لیا ۔۔۔
تو باہر سے کھو رہے ہیں جیسے کچا ہی نکل جائینگے ۔۔
تمیز کے دائرے میں رہا کرو ابھی صرف منگنی ہوئی ہے ۔۔
وہ سخت لہجے میں گویا ہوا آنکھوں سے انگارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔
میں وہ ڈایناسور بھائی ۔۔
وہ زبان دا نتو ں تلے دبا گئی تھی۔
بوکھلاہٹ میں کیا سے کیا زبان سے پھسل گیا تھا۔
نہیں نہیں وہ آدم بھائی ۔۔
دوسری غلطی یہ تھی کہ اسی جملے کو درست کرکے بولی ۔۔
ڈایناسور ۔۔
وہ اس کی طرف پڑھتے ہوئے خوفناک حد تک خطرناک آنکھوں میں سرخی لیے بولا ۔۔
دایناسور ابھی بنا نہیں ہوں جس دن بن گیا نہ اس دن یاد رکھنا تم جیسی چھپکلی کل لمحوں میں مثل کے رکھ دوں گا ۔۔
وہ آتشفشاں لہجے میں بولتا حورم کا ہاتھ پکڑ کے لاؤنج سے باہر نکال چکا تھا اس کو ۔
💕💕💕
جاری ہے ۔۔۔🌹
By Aymen Nauman
Epi 3
🌼🌼🌼
میں اس گندگی میں نہیں اترنا چاہتی۔۔
وہ روتے ہوئے بولی تھی ۔
دیکھ لڑکی تیری من مانی پچھلے آٹهارا سال سے سن رہے ہیں ۔۔
ہم اب تیرا سودا کر چکے ہیں وہ بھی منہ مانگے داموں میں۔ ۔
ریما چندہ بائی کی خاص لڑکی تھی چندہ بائی کے بعد اس کا راج چلتا تھا اس کوٹھے پہ ۔۔
میں نے کہہ دیا نا میں کہیں نہیں جاؤں گی ۔۔
وہ روتے ہوئے غصے سے ضدی لہجے میں گویا ہوئی ۔۔
تجھے اس لیے تھوڑی ابھی تک سمبهال کر رکھا تھا کہ ہم ہنسی خوشی تیری شادی کر کے تجھے کوٹھے سے رخصت کردینگے ۔۔
ریما مکروہ ہنسی چہرے پہ لیے اپنی غلیظ نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی ۔۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی گل رعنا کو اپنا بے جان مقدمہ ان جسم کے بیوپاریوں سے لڑتے ہوئے کہ جب حسام نے بغیر کسی دستک کے کمرے میں قدم رکھا ۔۔
ریما اس کو سامنے دیکھ کر ٹھٹکی دیں اور پھر بڑی چالاکی سے بولی ۔۔
سیٹھ صاحب یہ لڑکی نہیں مان رہی آپ کے ساتھ جانے کے لئے ۔۔
میں جانتا ہوں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
وہ اندر آتے ہوئے گل رعنا اور ریما کے مابین ہونے والی تمام گفتگو سن چکا تھا ۔۔۔
گل رعنا کی آنکھوں میں اس لمبے چوڑے کسرتی وجود
کے حامل مرد کو دیکھ کر سراسیمگی اتر آئی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی کہ اب اس کا انجام کیا ہونے والا ہے ۔۔۔۔
اس نے گل کو ایک بھرپور نظر سےدیکھا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے گل کے چہرے اور خوبصورت جسم پر سائیڈ میں رکھی چادر ڈال دی تھی ۔۔
اس نے گل کے روتے سسکتے وجود کو اچھی طرح سے چادر میں لپیٹ نے کے بعد اسکو اپنے کندھے پر اوندھا ڈالا تھا ۔۔
وہ فریاد کر رہی تھی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی اس سے ۔۔
وہ بغیر کچھ بھی کہے اور سنے لمبے لمبے ڈگ بھرتا کوٹھے کی دہلیز پار کر گیا تھا ۔۔۔
اور وہ سوچ رہی تھی کہ ناجانے اس بازار حسن سے نکلنے کے بعد اب مزید کن کٹهن حالات کا سامنا کرنا ہوگا ۔۔؟؟؟
💕💕💕
حنا آج بھی اسی ٹائم پر یونیورسٹی کے دروازے پر کھڑی شرجیل کا انتظار کر رہی تھی۔۔
وہ یک طرفہ محبت کی زد میں بری طرح سے آچکی تھی شرجیل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پچھلے ایک گھنٹے سے بےقراری سے کڑی دھوپ میں کھڑی تھی ۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ دشمن جان اس کو سامنے سے آتا دکھائی دیا۔ ۔
حناء بغیر پلک جھپکائے ٹرانس کی سی کیفیت میں اس کو یکٹک دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ کسی سے مصافحہ کرنے کے بعد اپنی جیب سے کوئی چھوٹی سی چیز اس کو تھما رها تها جو دوسرے لڑکے نے بڑی خاموشی سے اپنی جیب میں رکھی تھی ۔۔۔
حنا کو کافی حیرت ہوئی تھی یہ سب دیکھ کر ۔۔
حیرت کا جھٹکا اس کو اس بات سے لگا تھا کہ سامنے کھڑا شخص پوری یونیورسٹی کا سب سے لوفر اور آوارہ قسم کا لڑکا تھا ۔۔
اس کا شرجیل سے کیا تال میل ہوسکتا تھا ۔۔۔
وہ بری طرح سے کشمکش کا شکار ہو گئی تھی ۔۔
وہ کچھ حیران اور پریشان سی شرجیل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔
اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر جا چکے تھے ۔۔۔
حنا کا یہ روز کا معمول بن چکا تھا وہ ہر روز شرجیل کے صرف ایک دیدار کے لئے تپتی ہوئی کڑی دھوپ میں یونیورسٹی کے باہر کھڑی رہتی تھی ۔۔۔
شرجیل روزانہ اسی لڑکے سے ملنے کے لئے آتا تھا ۔۔
کبھی وہ اس کو ساتھ لے جاتا یا پھر کبھی بڑی رازداری سے وہی چھوٹی سی چیز اس کے ہاتھ میں تھما کر چلتا بنتا تھا۔ ۔
حنا نے سوچ لیا تھا کہ وہ کل کسی بھی طرح یونیورسٹی سے آف لے کر شرجیل کا پیچھا کرے گی کہ آیا وہ آخر جاتا کہاں ہے ۔؟؟
حنا کے دل میں شرجیل کی محبت بری طرح سے جگہ چکی تھی وہ اپنے محبوب کی ہر ایک عادت و ادا ،پسند تهی حد یہ کہ ہر وہ چیز جو شرجیل سے جڑی تھی
وہ اس کو جاننا چاہتی تھی ۔۔
💕💕💕
مجھے ہر حال میں اس لڑکی کے مطابق ایک ایک
معلومات چاہیے ۔۔
جی سر آپ کو تمام معلومات جلد ہی مل جائیں گی ۔۔۔
اسد تابداری سے گویا ہوا تھا ۔۔
وہ لان میں بیٹھا رات کے وقت سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہا تھا اور ساتھ میں اپنے خاص بندے اسد سے فون پر بات بھی کر رہا تھا ۔۔
ایڈریس میں تمہیں سمجھا چکا ہوں تمہارا کام پہلے ہی میں نے بہت آسان کر دیا ہے ۔
جی جی سر بالکل ۔۔
اسد نے فرمانبرداری سے کہا ۔۔
۔
میں اس کی تصویر واٹس ایپ کر رہا ہوں اگلے دو گھنٹے میں مجھے اس لڑکی کا شجرہ نصب مل جانا چاہیے ۔۔
مگرسر 2گھنٹے ۔؟؟
اسد پریشانی سے بولا۔ ۔
ہاں دو گھنٹے میں اس سے ایک منٹ بھی آگے پیچھے ہوا تو تیسرے گھنٹے میں تیرا شجرہ نسب صفا ہستی سے مٹ چکا ہو گا ۔۔
میر حنید اپنی بات کہہ کر فون بند کر چکا تھا ۔۔
اور اب وہ پھر سے زمل کی تصویر کو دیکھنے میں محو ہو چکا تھا ۔۔
زمل کی تصویر اس نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ڈنکے کی چوٹ پہ لی تھی کہ اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو اس کو کسی کا ڈر خوف نہیں تھا ۔۔
میر حنید بہت جلد تمہارے تمام جملہ حقوق اپنے نام کروانے کے لیے آ رہا ہے ۔۔
Just Wait and Watch ۔
snow White ۔
You are mine ۔۔
Very soon you will be in my life..
Insha Allah..
💕💕💕
حورم بڑے مزے سے کانوں میں ہینڈ فری لگائے گا نے سنتے ہوئے واک کر رہی تھی ۔۔
ہیلو بیوٹیفل ۔۔
راحم نے حورم کے پیچھے سے آکر اسکی ہینڈ فری کوکان سے نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا ہے کتنا مزے کا سونگ سن رہی تھی سب ٹیمپو توڑ کے رکھ دیا ۔۔
وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں ہر راحم پر چیخی۔۔
واپس کرو میری ہینڈ فری اور موبائل ۔۔
راحم نے ہینڈ فری اور موبائل سیدھے ہاتھ میں لے کر ۔۔
اپنے ہاتھ کو اوپر کر لیا ۔۔
اوھو چھوٹی بچی کو یہ چاہئے۔۔
آئو آئو لیلو۔ ۔۔
اس لئے چھوٹی منی الو کی طرح رو رہی ہے ۔۔
راحم نے اس کو چڑایا ۔۔
حورم ا چک اچک کے راحم کے ہاتھ سے اپنی ہینڈ فری اور موبائل لینے کی کوشش میں بار بار ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔
اب راحم پورے لاؤنج میں اس کو اپنے پیچھے لگا رہا تھا ۔۔
میں کہتی ہوں دے دو نہیں تو وہ حال کروں گی کہ زندگی بھر یاد رکھو گے ۔
وہ جنگلی بلی کی طرح اپنے پنجے تیز کیے اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔
راحم بھاگتے بھاگتے لمحے بھرکو سانس لینے کے لئے رکا تھا کہ ایک جھٹکے سے جب حورم بھاگتے ہوئے اس کے چوڑے سینے سے بری طرح ٹکرا گئی تھی ۔۔
کیا ہے رو کیوں گئے تھے ؟؟؟
دیکھا پیری ناک ۔۔۔
کیا ہوا تمہاری ناک کو؟ ؟
کہو تو ابھی ٹھیک کردیتا ہوں سب درد بھاگ جائے گا ۔۔
وہ حورم پہ جھکا بڑے مزے سے رومانٹک ہوتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
اس بات سے بے خبر کے اس کے پیچھے ڈایناسور آندھمکا ہے ۔
حورم کی تو آدم کو دیکھ کر بولتی ہی بند ہو چکی تھی ۔
وہ راحم کے کچھ ہی لمحوں پہلے بولے گئے جملے کو بڑے مزے سے انجوائے ہی کر رہی تھی کہ حجاب لاؤنچ کے اندر داخل ہوتے آدم پر اس کی نظر پڑی تھی ۔۔
آدم راحم کی پوری بات سن چکا تھا ۔۔
جبکہ حورم شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔۔
اس کو آدم کے سامنے کھڑے رہنا دنیا کا سب سے دشوار ترین کام لگ رہا تھا ۔۔
اب کیا ہوا کیا میرے خیالوں میں کھو گئی ہو؟ ؟؟
راحم اپنی ہی ہو کر رہا تھا ۔۔
راحم پیچھے دیکھو ۔۔
یارپہلے تمہیں تو دیکھنے سے فرست ملے پیچھے بھی دیکھ ہی لو نگا ۔۔۔
آدم دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
آدم کا خوف ساری ینگ پارٹی کے دل میں اسی طرح سے بیٹھا ہوا تھا ۔۔
ادم عالم خان کا سب سے بڑا پوتا تھا ۔۔۔
بڑا ہونے کی وجہ سے وہ کافی حد تک غسیلہ اور حاکم مزاج طبیعت کا مالک تھا۔۔
حورم کو اپنایہ طرم خان کزن ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا ۔۔
حورم نے چڑھ کے آدم کی لمبی چوڑی کرسکتی پرسنالٹی کو مدنظر رکھ کر اس کا نام ڈایناسور رکھ دیا تھا ۔۔
جو بعد میں باقی ساری ینگ پارٹی کی زبانوں پر چڑھ گیا تھا ۔۔
حورم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور راحم کا رخ موڑ کر آدم کے سامنے کر دیا ۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بکواس اس ڈایناسور کے سامنے کرتا خورم کو یہی بہتر لگا کہ وہ خود ہی دیکھلےپیچھے کا حسین نظارہ ۔۔
وہہہہہ۔ ۔۔آآاااااادم ۔،۔۔بھائی آپ ۔۔۔
وہ آدم کو دیکھ کر کسی غبارے کی طرح پھوس ہوگیا تھا اور ہکلاتے ہوئے کہنے لگا۔ ۔
اورپھر بڑی مہارت سے امی بلا رہی ہیں کا بہانا بنا کے وہاں سے کھسک لیا ۔۔۔
تو باہر سے کھو رہے ہیں جیسے کچا ہی نکل جائینگے ۔۔
تمیز کے دائرے میں رہا کرو ابھی صرف منگنی ہوئی ہے ۔۔
وہ سخت لہجے میں گویا ہوا آنکھوں سے انگارے پھوٹے پڑھ رہے تھے ۔۔
میں وہ ڈایناسور بھائی ۔۔
وہ زبان دا نتو ں تلے دبا گئی تھی۔
بوکھلاہٹ میں کیا سے کیا زبان سے پھسل گیا تھا۔
نہیں نہیں وہ آدم بھائی ۔۔
دوسری غلطی یہ تھی کہ اسی جملے کو درست کرکے بولی ۔۔
ڈایناسور ۔۔
وہ اس کی طرف پڑھتے ہوئے خوفناک حد تک خطرناک آنکھوں میں سرخی لیے بولا ۔۔
دایناسور ابھی بنا نہیں ہوں جس دن بن گیا نہ اس دن یاد رکھنا تم جیسی چھپکلی کل لمحوں میں مثل کے رکھ دوں گا ۔۔
وہ آتشفشاں لہجے میں بولتا حورم کا ہاتھ پکڑ کے لاؤنج سے باہر نکال چکا تھا اس کو ۔
💕💕💕
جاری ہے ۔۔۔🌹
Friday, December 21, 2018
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 2
محبت برسا دینا تو ۔۔💕
از ایمان نعمان ۔
قسط نمبر 2 ۔۔
❤
وہ شام کے وقت اپنے آفس سے باہر نکلا تھا ۔۔
آگے پیچھے باوردی کارڈ بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔۔۔
سلام صاحب ۔۔!
ڈرائیور نے اسے جیسے ہی آتا دیکھا سلوٹ کے انداز میں سلام کیا اور تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔
وہ اپنا بوٹ میں مقید ایک قدم گاڑی میں رکھ ہی چکا تھا جب سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی دماغ کی رگیں تن سی گئیں۔ ۔
آنکھوں کے ڈورے مزید سرخی مائل ہوگئے تھے ۔۔
گویا ابهی خون آنکهوں سے ٹپک پڑے گا۔۔
اس نے گاڑی کا دروازہ دھآڑ سے بند کیا اور تیز تیز بجلی کی سی چال چلتا ہوا سامنے کھڑی ہائیروف تک پہنچا۔۔
اور آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنے ہاتھ کا پنچ بنا کر سامنے والے کے جبڑے پر زور دار انداز میں دے مارا ۔۔
اپنے باس کو نوجوان لڑکوں پہ یوں ٹوٹ پڑتا دیکھ کر اس کے گارڈز تیزی سے بھاگتے ہوئے آئےتھے۔ ۔
جنہیں هاته کہ ایک اشارے سے ہی اس نے وہیں رکنے کا اشارہ کیا۔۔
ْمیری مددکریں سریہ لوگ مجھے زبردستی اغوا کرکے لے کر جا رہے ہیں ۔۔
اس شخص کو یوں مدد کو آتا دیکه کر ایک چھوٹی سی لڑکی جو شاید کسی سینٹر سے پڑھ کر اپنے گھر جا رہی تھی۔۔
اس کا زمین پر پڑا کالج بیگ اس بات کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
اسکو دو لڑکے زبردستی ہائی روف میں بٹھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
وہ لڑکی روتے ہوئے اب اسکو مدد طلب نگاهوں سے دیکه رہی تهی
اے شہزادے زیادہ ہیرو پنتی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا چھوٹی سی گن نکال کر دھمکانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔ بہت دیکھیں ہےتیرے جیسے اپنا راستہ ناپ اور پتلی گلی سے نکلتا ہوا نظر آ ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے گن کا ٹریگر دباتے ہوئے کہا۔ ۔
ان نوجوان لڑکوں کی بچگانہ باتوں پہ اس کےماتهے پہ اک رگ اور ابهری مگر لب سے ایک لفظ بهی ادا نہ کیا .....
اور ایک حقیر سی نظر ان کے ہتهیاروں پہ ڈال کر جب گویا هوا تو بس اتنا کہ....
اس لڑکی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔
اے بہت ہو گئی تیری بک بک چل اب نکلیہاں سے
۔۔
ان میں سے ایک لڑکا طرم خان بن کے بولا ۔۔
چپ کر جا مجھے لگ رہا ہے یہ جیسے ہمارے ملک کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا بیٹا ہے جو ابھی ابھی لندن سے پڑھ کر آیا ہے ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے آہستہ سے سرگوشیا نہ انداز میں اپنے ساتھی کو کہا ۔۔۔
جس کو سن کے اسکا رنگ فق ہو گیا۔۔
صاحب جی معاف کر دو اس کے بعد آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔
معاف کر دو۔۔
بس ایک دفعہ معاف کر دو صاحب۔۔۔۔
وہ نقاب پوش اب اس کو اچھی طرح پہچان چکا تھا جھٹ سے اس لڑکی کو چھوڑ کر میر حنید سے معافی تلافی کرنے لگا ۔۔۔
معاف کر دوں وہ بھی اتنی آسانی سے۔۔
تیری ہمت بھی کیسے ہوئی اس لڑکی کا راستہ روکنے کی ؟؟؟
میر حنید نے اس کو گریبان سے پکڑ کر اس کا سر پشت کی طرف سے ہائیروف میں دے مارا۔۔
میرحنید کے اوپر جیسے جنون سا طاری ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے اس کے ساتھ ساتھ موجود شخص کی بھی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دی تھی ۔۔
جیسے دنیا میں سارے گناہوں کے مجرم یہ دو ہی تهے ...
دونوں کو مار مار کہ اده موہہ کرنے کی بعد میر حنید نے اپنا هاتھ روکا اور اک ادا سے کوٹ کا بٹن بند کیا جو مار پئیٹ میں کهل گیا تها ....
پھر یک لخت مڑا اور اپنے گارڑز کو اشارہ کیا جس کا مطلب وہ با خوبی جانتے تهے۔۔
کہ اب ان دونوں نقاب پوش کا ٹهکانہ میر حنید کی حویلی کا اندهیر تہہ خانہ تها۔۔
اٹھا لو ان دونوں کو ۔
وہ دونوں زمین پر خون سے لت پت حالت میں پڑے ہوئے تھے ۔۔
گارڈ نے ترحم بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا اور اٹھا کے لینڈ کروزر میں ڈالا ۔۔۔
میرحنید نے روتی ہوئی لڑکی کو اپنے ساتھ گاڑی میں آنے کا اشارہ کیا ۔۔
شکریہ آپ کا بہت بہت ۔۔
وہ لڑکی میر کی گاڑی سے اترتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولی۔۔
آج کے بعد محتاط رہنا یہ دنیا درندوں اور وحشیوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ میرا کارڈ ہے اگر کبھی بھی دوبارہ ایسی صورتحال کسی کےساتھ بھی پیش آئے تو مجھے بتانا ۔۔
میرحنید نے اس کو اپنا وزٹنگ کارڈ دیکھ کر گھر کے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
حورم ممنون نظروں سے دیکھتی گھر کے اندر جا چکی تھی ۔
حنید اس وقت تک گاڑی روکے کهڑا رها جب تک وہ دروازے کے اندر گھر میں نہیں چلی گئی تھی ۔۔
مگر جیسے ہی وہ پلٹنے کو تھا اس کی نظریں نہ دانستگی میں حورم کے گھر کی بالکونی پر پڑھی تھیں۔ ۔
سامنے موجود بے پناہ حسن لیے ایک لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی ۔
میر حنید کی نظریں گویا پلٹنا بھول گئی تھی ۔۔
💕💕💕
میرحنید شہر کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔
اپنی ماں صدف اور باپ سعدان کی آنکھوں کا تارا ۔۔۔
میر سادان اور صدف نے اس کی پرورش بہت بہترین انداز میں کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔۔۔
مگر اسکو اتنی توجہ اور محبت دینےکے باوجود بھی میر حنید کی طبیعت میں ضد اور انا کا عنصر اپنی جڑیں مضبوط کر گیا تها۔۔۔
میرحنید جس چیز پر ہاتھ رکھ دیتا تھا وہ اس کی ملکیت ہو جاتی تھی ۔۔
پہلی نظر میں پسند آنے والی ہر شے چاہے وہ کسی کی بھی ملکیت ہو ۔۔
وہ حنید کی سلطنت کا حصہ بن جاتی تهی چاهے اگلے کی مرضی ہو یا ز بردستی هی۔۔
میر حنید اپنی من چاہی چیزکو ہر صورت میں حاصل کرکے ہی رہتا تھا ۔۔
وہ جتنا بھی ضدی اور مغرور سہی مگر اپنے سے جڑے رشتوں کا بہت اچھے طریقے سے احترام کرنابھی جانتا تھااور کروانا بھی جانتا تھا ۔۔۔
💕💕💕
یہ جو لڑکی یہاں ابھی میرے سامنے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بیچ دو ۔۔
سگریٹ سلگاتے ہوئے وہ بغیر کسی تاثر کہ بولا۔۔
چندا بائ نے غور سے اپنے سامنے بیٹھے حسام صدیقی کوتولتی ہوئی نظروں دیکھا ۔۔
حسام صاحب وہ ہمارے بازار حسن کا سب سے نایاب اور" ان ٹچ "پیس ہے ۔۔
وہ ان ٹچ پہ زور دے کر جتاتے انداز میں بولی۔۔
اس کے علاوہ بات کرو سیٹھ صاحب ۔
جندا بائ اس کهیل کی پکی کهیلاڑی تهی کیسے اپنے هیرے کو بے مول بیچ دیتی۔۔
میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔۔
وہ برہمی سے بولا ۔۔
حسام صاحب گل رعنا نے پرسوں ہی آٹهارویں برس میں قدم رکھا ہے ۔۔
اور یہ جو رقص ابھی آپ نے دیکھا یہ گل رعنا کی زندگی کا پہلا رقص تھا ۔۔
میں اس کو ابھی کئی دفعہ اپنی مرضی سے کیش کروں گی اسی لیے تو میں نے اس کے معصوم حسن کو ابھی تک اتنا احتیاط سے سینج سینج کے رکھا ہے ۔۔
ہاں لیکن اب وہ مجھے چاہیے ۔۔
حسام کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
سیٹھ صاحب گل رعنا پورے کوٹھے میں سب سے خوبصورت لڑکی ہے جو ابھی تک اپنی ضدی طبیعت کی وجہ سے کسی بھی مرد کی ہوس کا نشانہ نہ بن سکی ہے۔۔
اور نا ہی ہم نے زیادہ اس پر زور ڈالا ۔۔
چندہ بائی نے ابھی تک گل رعنا کو کسی بھی گاہک کے آگے پیش نہیں کیا تھا وہ اس کے لئے بہت آگے کا لائحہ عمل اپنے دماغ میں پہلے ہی طے کیے بیٹھی تھی ۔۔
حسام کی فرمائش نے اسکو اندر تک شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
مگر وہ حسام جیسی ملک کی نامور ہستی کو بھی ناراض کرکے اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
وہ بڑے تحمل سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو جواب دے رہی تھی ۔۔
بلائو اس لڑکی گل رعنا کو جلدی میں اور انتظار نہیں کرسکتا ۔۔
یہ بلینک چیک جتنی رقم چاہیے لے لو ۔۔
حسام نے لمبی بحث کو چندا بائ کی فطرت کے مطابق چال چل کے مختصر کیا...
چندہ بائی کی تو آنکھیں ہی کھل گئی تھیں۔ ۔
جائو ریما گل رعنا سے کہو کہ دس منٹ میں اپنا سامان پیک کرکے آجائے ۔۔
ایک منٹ یہ کس نے کہا ہے کہ میں اس کو سامان کے ساتھ لے کر جاوں گا ؟
وہ اپنی مغرورانہ آنکھوں میں غیض وغضب لیے بول رہا تھا ۔۔
اے لڑکی اس سے کہو بس جس حال میں ہے ایک چادر خود پر لے کر آ جائے ۔۔
وہ ریما کو انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
جا جس حسال میں ہے لے آ۔ ۔
چندا بائ نے اپنی لومڑی جیزی مکار آنکھوں کو نچاتے ہوئے بولا۔
مبادہ حسام غصہ میں آ کر پلٹ هی نہ جائے۔ ۔
ریما نے استہفامیہ نظروں سے چندہ بائی کو دیکھا اور اس کا اشارہ ملتے ہی گل رعنا کو لینے چلی گئی ۔۔۔۔
💕💕💕
♡ ♡♡ماضی♡♡
حنا یونیورسٹی سے باہر نکل رہی تھی جب اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی تھی ۔۔
چند لمحوں کے لئے وہ تھم سی گئی ۔
سامنے کھڑا شخص اپنی گاڑی کا بونٹ کھولے کھڑا تھا ۔۔
گرمی سے اسکی پوری شرٹ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی ۔۔
6 فٹ سے نکلتا ہوا قد اور ہلکی بڑھی ہوئی شیو ، ساتھ ہی ماتھے پر بکھرے بال ۔۔
اس کی وجیہہ پرسنالٹی میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔
حنا کو لگا جیسے آج اس نے اپنا دل اس سامنے کھڑے مغرورانہ نقوش کے حامل شخص پہ ہار دیا ہو ۔۔۔
💕💕💕
عالم خان اور فاطمہ خان کی تین اولادیں تھیں۔ ۔
بڑا بیٹا طاہر اور اس کی بیوی زارہ جو کہ فاطمہ اپنی سگی بہن کی بیٹی بیاہ کر لائیں تھیں۔۔
طاہر کے دو بیٹے تھے آدم، زید اور راحم۔
دوسرے نمبر پر تھے احمد اور انکی بیوی حنا جو کہ عالم خان کے دوست کی بیٹی تھی ۔
۔احمد کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا ۔
بڑی بیٹی زمل اور چھوٹی بیٹی حورم ۔۔
آخری نمبر پر تھی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی فلک ۔۔
جو کہ اپنے ماں باپ اوربھائیوں کی آنکھوں کا تارا تھی ۔۔
فلک کی شادی پسند سے ہوئی تھی جو اس نے زبردستی گھر والوں کو راضی کرکے کی تھی ۔
فلک کی اولاد کے نام پر ایک بیٹی ہوئی تھی جو پیدائش کے پانچ سال بعد اپنے باپ کے ساتھ گھومنے سمندر پہ گئی تھی اور وہیں ڈوب کے مر چکی تھی ۔۔
فلک اپنی بیٹی کی وفات پر پہلے ہی بہت بیمار ہو گئی تھی اور پھر جب بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی کئی مہینوں تک بیٹی کی ڈیڈ باڈی نہ ملی تو وہ نیم پاگل سی ہو کر ایک دفعہ پھر اپنے باپ کی دہلیز پر آ بیٹھی تھی ۔۔۔
💕💕💕
زید آپ کا جانا بہت ضروری ہے کیا ؟
زمل آنکھوں میں نمی لیے زید سے افسردہ لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔۔
وہ دونوں بڑے مزے سے بالکونی میں بیٹھے موسم انجوائے کر رہے تھے ۔۔
یار دو سال کی تو بات ہے یوں ہی چٹکیوں میں گزر جائیں گے اور پھر یہ بهی تو دیکھو ہم دونوں نے کتنی رازداری سے دادو سے کہہ کر سب کو اپنےنکاح کے لیے بھی منا لیا ہے ۔۔
زید پہلی بار آپ اتنے دور جا رہے ہیں میں تو آپ سے کبھی اتنےزیادہ عرصہ کیلئے دور بھی نہیں رہی ہوں ۔۔
زمل کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا وہ واقعی اپنی بیس سالہ زندگی میں زید سے کبھی اتنے طویل عرصے کے لیے دور نہیں رہی تھی وہ شروع سے ہی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے آرہے تھے ہزار گز کے بنگلے میں سے هی دو حصے کئے گئے تھے جس میں ایک طرف طاہر اور دوسری طرف احمد کی فیملیز رہائش پزیرتھیں۔ ۔
عالم خان اور فاطمہ خان احمد والے پورشن میں رہتے تھے جبکہ فلک کو طاہر نے اپنے ۔ پاس رکھا ہوا تھا۔ ۔
یہ دونوں نام کو کی الگ رہتی تھیں مگر عالم خان کے سخت آرڈر تھے کہ کھانا سب ساتھ ہی کھائنگے۔ ۔۔
اب کیوں یہ اداس شکل بنا کر گھوم رہی ہوں اب تو میں تمهیں اپنے نام کرکے جا رہا ہوں ن؟؟؟۔ ۔
اور خبردار جو میرے پیچھے کسی کو آنکھ اٹھا کردیکھنا تو دور کی بات آنکھ مارنے کی بھی کوشش کی تو اسی وقت رخصتی کروا لوں گا ۔۔
زید اس کا موڈ بحال کرنے کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔
ٹھیک ہے اگر آپ نے کسی سے بھی عشق یا عاشقی کرنے کی کوشش کی تو آپ کے ساتھ ساتھ اسکی بھی ایسی کم تیسی کروں گی کہ دونوں پوری زندگی کے لئے لولے لنگڑے ہو جائیں گے ۔۔
زمل نے بھی حساب برابر کیا ۔۔
ارے یار تم میری دھڑکنوں میں بستی ہو۔۔
میری آنکھوں کی راحت ہو تم مجھے کبھی بھی اس کمٹمنٹ سے ناانصافی کرتے نہیں پاو گی ۔۔
زید کے لہجے میں اس کی باتوں کی سچائی اور زمل کے لئے سچی محبت وضح تھی۔ ۔
زمل اپنی نظریں جھکا گی ۔۔
چلو اب یہ اداسی ختم کرو ابھی بہت ٹائم ہے میرے جانے میں ،دو دن بعد ہمارا نکاح ہے اور ان دو ماہ میں ہم ان پلوں کو بہت خاص بنا دیں گے تاکہ تم اور میں تنہا رہ کے بھی تنہا نہ ہو ایک دوسرے کی یادوں کے حصار میں قید رہے۔ ۔ ۔۔
زمل زید کو دیکھ کر محبت سے مسکرا دی ۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
از ایمان نعمان ۔
قسط نمبر 2 ۔۔
❤
وہ شام کے وقت اپنے آفس سے باہر نکلا تھا ۔۔
آگے پیچھے باوردی کارڈ بھی اس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے ۔۔۔
سلام صاحب ۔۔!
ڈرائیور نے اسے جیسے ہی آتا دیکھا سلوٹ کے انداز میں سلام کیا اور تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔
وہ اپنا بوٹ میں مقید ایک قدم گاڑی میں رکھ ہی چکا تھا جب سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی دماغ کی رگیں تن سی گئیں۔ ۔
آنکھوں کے ڈورے مزید سرخی مائل ہوگئے تھے ۔۔
گویا ابهی خون آنکهوں سے ٹپک پڑے گا۔۔
اس نے گاڑی کا دروازہ دھآڑ سے بند کیا اور تیز تیز بجلی کی سی چال چلتا ہوا سامنے کھڑی ہائیروف تک پہنچا۔۔
اور آؤ دیکھا نہ تاؤ اپنے ہاتھ کا پنچ بنا کر سامنے والے کے جبڑے پر زور دار انداز میں دے مارا ۔۔
اپنے باس کو نوجوان لڑکوں پہ یوں ٹوٹ پڑتا دیکھ کر اس کے گارڈز تیزی سے بھاگتے ہوئے آئےتھے۔ ۔
جنہیں هاته کہ ایک اشارے سے ہی اس نے وہیں رکنے کا اشارہ کیا۔۔
ْمیری مددکریں سریہ لوگ مجھے زبردستی اغوا کرکے لے کر جا رہے ہیں ۔۔
اس شخص کو یوں مدد کو آتا دیکه کر ایک چھوٹی سی لڑکی جو شاید کسی سینٹر سے پڑھ کر اپنے گھر جا رہی تھی۔۔
اس کا زمین پر پڑا کالج بیگ اس بات کی گواہی دے رہا تھا۔۔۔
اسکو دو لڑکے زبردستی ہائی روف میں بٹھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
وہ لڑکی روتے ہوئے اب اسکو مدد طلب نگاهوں سے دیکه رہی تهی
اے شہزادے زیادہ ہیرو پنتی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا چھوٹی سی گن نکال کر دھمکانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔ بہت دیکھیں ہےتیرے جیسے اپنا راستہ ناپ اور پتلی گلی سے نکلتا ہوا نظر آ ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے گن کا ٹریگر دباتے ہوئے کہا۔ ۔
ان نوجوان لڑکوں کی بچگانہ باتوں پہ اس کےماتهے پہ اک رگ اور ابهری مگر لب سے ایک لفظ بهی ادا نہ کیا .....
اور ایک حقیر سی نظر ان کے ہتهیاروں پہ ڈال کر جب گویا هوا تو بس اتنا کہ....
اس لڑکی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔
اے بہت ہو گئی تیری بک بک چل اب نکلیہاں سے
۔۔
ان میں سے ایک لڑکا طرم خان بن کے بولا ۔۔
چپ کر جا مجھے لگ رہا ہے یہ جیسے ہمارے ملک کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا بیٹا ہے جو ابھی ابھی لندن سے پڑھ کر آیا ہے ۔۔
دوسرے نقاب پوش نے آہستہ سے سرگوشیا نہ انداز میں اپنے ساتھی کو کہا ۔۔۔
جس کو سن کے اسکا رنگ فق ہو گیا۔۔
صاحب جی معاف کر دو اس کے بعد آپ کو کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔۔
معاف کر دو۔۔
بس ایک دفعہ معاف کر دو صاحب۔۔۔۔
وہ نقاب پوش اب اس کو اچھی طرح پہچان چکا تھا جھٹ سے اس لڑکی کو چھوڑ کر میر حنید سے معافی تلافی کرنے لگا ۔۔۔
معاف کر دوں وہ بھی اتنی آسانی سے۔۔
تیری ہمت بھی کیسے ہوئی اس لڑکی کا راستہ روکنے کی ؟؟؟
میر حنید نے اس کو گریبان سے پکڑ کر اس کا سر پشت کی طرف سے ہائیروف میں دے مارا۔۔
میرحنید کے اوپر جیسے جنون سا طاری ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے اس کے ساتھ ساتھ موجود شخص کی بھی ٹھیک ٹھاک ٹھکائی کر دی تھی ۔۔
جیسے دنیا میں سارے گناہوں کے مجرم یہ دو ہی تهے ...
دونوں کو مار مار کہ اده موہہ کرنے کی بعد میر حنید نے اپنا هاتھ روکا اور اک ادا سے کوٹ کا بٹن بند کیا جو مار پئیٹ میں کهل گیا تها ....
پھر یک لخت مڑا اور اپنے گارڑز کو اشارہ کیا جس کا مطلب وہ با خوبی جانتے تهے۔۔
کہ اب ان دونوں نقاب پوش کا ٹهکانہ میر حنید کی حویلی کا اندهیر تہہ خانہ تها۔۔
اٹھا لو ان دونوں کو ۔
وہ دونوں زمین پر خون سے لت پت حالت میں پڑے ہوئے تھے ۔۔
گارڈ نے ترحم بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا اور اٹھا کے لینڈ کروزر میں ڈالا ۔۔۔
میرحنید نے روتی ہوئی لڑکی کو اپنے ساتھ گاڑی میں آنے کا اشارہ کیا ۔۔
شکریہ آپ کا بہت بہت ۔۔
وہ لڑکی میر کی گاڑی سے اترتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کرنا نہ بھولی۔۔
آج کے بعد محتاط رہنا یہ دنیا درندوں اور وحشیوں سے بھری ہوئی ہے اور یہ میرا کارڈ ہے اگر کبھی بھی دوبارہ ایسی صورتحال کسی کےساتھ بھی پیش آئے تو مجھے بتانا ۔۔
میرحنید نے اس کو اپنا وزٹنگ کارڈ دیکھ کر گھر کے اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
حورم ممنون نظروں سے دیکھتی گھر کے اندر جا چکی تھی ۔
حنید اس وقت تک گاڑی روکے کهڑا رها جب تک وہ دروازے کے اندر گھر میں نہیں چلی گئی تھی ۔۔
مگر جیسے ہی وہ پلٹنے کو تھا اس کی نظریں نہ دانستگی میں حورم کے گھر کی بالکونی پر پڑھی تھیں۔ ۔
سامنے موجود بے پناہ حسن لیے ایک لڑکی کسی لڑکے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی ۔
میر حنید کی نظریں گویا پلٹنا بھول گئی تھی ۔۔
💕💕💕
میرحنید شہر کے مشہور سیاستدان میر سعدان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔
اپنی ماں صدف اور باپ سعدان کی آنکھوں کا تارا ۔۔۔
میر سادان اور صدف نے اس کی پرورش بہت بہترین انداز میں کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔۔۔
مگر اسکو اتنی توجہ اور محبت دینےکے باوجود بھی میر حنید کی طبیعت میں ضد اور انا کا عنصر اپنی جڑیں مضبوط کر گیا تها۔۔۔
میرحنید جس چیز پر ہاتھ رکھ دیتا تھا وہ اس کی ملکیت ہو جاتی تھی ۔۔
پہلی نظر میں پسند آنے والی ہر شے چاہے وہ کسی کی بھی ملکیت ہو ۔۔
وہ حنید کی سلطنت کا حصہ بن جاتی تهی چاهے اگلے کی مرضی ہو یا ز بردستی هی۔۔
میر حنید اپنی من چاہی چیزکو ہر صورت میں حاصل کرکے ہی رہتا تھا ۔۔
وہ جتنا بھی ضدی اور مغرور سہی مگر اپنے سے جڑے رشتوں کا بہت اچھے طریقے سے احترام کرنابھی جانتا تھااور کروانا بھی جانتا تھا ۔۔۔
💕💕💕
یہ جو لڑکی یہاں ابھی میرے سامنے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بیچ دو ۔۔
سگریٹ سلگاتے ہوئے وہ بغیر کسی تاثر کہ بولا۔۔
چندا بائ نے غور سے اپنے سامنے بیٹھے حسام صدیقی کوتولتی ہوئی نظروں دیکھا ۔۔
حسام صاحب وہ ہمارے بازار حسن کا سب سے نایاب اور" ان ٹچ "پیس ہے ۔۔
وہ ان ٹچ پہ زور دے کر جتاتے انداز میں بولی۔۔
اس کے علاوہ بات کرو سیٹھ صاحب ۔
جندا بائ اس کهیل کی پکی کهیلاڑی تهی کیسے اپنے هیرے کو بے مول بیچ دیتی۔۔
میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں ۔۔
وہ برہمی سے بولا ۔۔
حسام صاحب گل رعنا نے پرسوں ہی آٹهارویں برس میں قدم رکھا ہے ۔۔
اور یہ جو رقص ابھی آپ نے دیکھا یہ گل رعنا کی زندگی کا پہلا رقص تھا ۔۔
میں اس کو ابھی کئی دفعہ اپنی مرضی سے کیش کروں گی اسی لیے تو میں نے اس کے معصوم حسن کو ابھی تک اتنا احتیاط سے سینج سینج کے رکھا ہے ۔۔
ہاں لیکن اب وہ مجھے چاہیے ۔۔
حسام کا لہجہ کسی بھی قسم کی رعایت سے عاری تھا ۔۔
سیٹھ صاحب گل رعنا پورے کوٹھے میں سب سے خوبصورت لڑکی ہے جو ابھی تک اپنی ضدی طبیعت کی وجہ سے کسی بھی مرد کی ہوس کا نشانہ نہ بن سکی ہے۔۔
اور نا ہی ہم نے زیادہ اس پر زور ڈالا ۔۔
چندہ بائی نے ابھی تک گل رعنا کو کسی بھی گاہک کے آگے پیش نہیں کیا تھا وہ اس کے لئے بہت آگے کا لائحہ عمل اپنے دماغ میں پہلے ہی طے کیے بیٹھی تھی ۔۔
حسام کی فرمائش نے اسکو اندر تک شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
مگر وہ حسام جیسی ملک کی نامور ہستی کو بھی ناراض کرکے اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
وہ بڑے تحمل سے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو جواب دے رہی تھی ۔۔
بلائو اس لڑکی گل رعنا کو جلدی میں اور انتظار نہیں کرسکتا ۔۔
یہ بلینک چیک جتنی رقم چاہیے لے لو ۔۔
حسام نے لمبی بحث کو چندا بائ کی فطرت کے مطابق چال چل کے مختصر کیا...
چندہ بائی کی تو آنکھیں ہی کھل گئی تھیں۔ ۔
جائو ریما گل رعنا سے کہو کہ دس منٹ میں اپنا سامان پیک کرکے آجائے ۔۔
ایک منٹ یہ کس نے کہا ہے کہ میں اس کو سامان کے ساتھ لے کر جاوں گا ؟
وہ اپنی مغرورانہ آنکھوں میں غیض وغضب لیے بول رہا تھا ۔۔
اے لڑکی اس سے کہو بس جس حال میں ہے ایک چادر خود پر لے کر آ جائے ۔۔
وہ ریما کو انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔
جا جس حسال میں ہے لے آ۔ ۔
چندا بائ نے اپنی لومڑی جیزی مکار آنکھوں کو نچاتے ہوئے بولا۔
مبادہ حسام غصہ میں آ کر پلٹ هی نہ جائے۔ ۔
ریما نے استہفامیہ نظروں سے چندہ بائی کو دیکھا اور اس کا اشارہ ملتے ہی گل رعنا کو لینے چلی گئی ۔۔۔۔
💕💕💕
♡ ♡♡ماضی♡♡
حنا یونیورسٹی سے باہر نکل رہی تھی جب اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی تھی ۔۔
چند لمحوں کے لئے وہ تھم سی گئی ۔
سامنے کھڑا شخص اپنی گاڑی کا بونٹ کھولے کھڑا تھا ۔۔
گرمی سے اسکی پوری شرٹ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی ۔۔
6 فٹ سے نکلتا ہوا قد اور ہلکی بڑھی ہوئی شیو ، ساتھ ہی ماتھے پر بکھرے بال ۔۔
اس کی وجیہہ پرسنالٹی میں مزید اضافہ کر رہے تھے ۔
حنا کو لگا جیسے آج اس نے اپنا دل اس سامنے کھڑے مغرورانہ نقوش کے حامل شخص پہ ہار دیا ہو ۔۔۔
💕💕💕
عالم خان اور فاطمہ خان کی تین اولادیں تھیں۔ ۔
بڑا بیٹا طاہر اور اس کی بیوی زارہ جو کہ فاطمہ اپنی سگی بہن کی بیٹی بیاہ کر لائیں تھیں۔۔
طاہر کے دو بیٹے تھے آدم، زید اور راحم۔
دوسرے نمبر پر تھے احمد اور انکی بیوی حنا جو کہ عالم خان کے دوست کی بیٹی تھی ۔
۔احمد کی دو بیٹیاں تھیں اور ایک بیٹا ۔
بڑی بیٹی زمل اور چھوٹی بیٹی حورم ۔۔
آخری نمبر پر تھی سب سے چھوٹی اور اکلوتی بیٹی فلک ۔۔
جو کہ اپنے ماں باپ اوربھائیوں کی آنکھوں کا تارا تھی ۔۔
فلک کی شادی پسند سے ہوئی تھی جو اس نے زبردستی گھر والوں کو راضی کرکے کی تھی ۔
فلک کی اولاد کے نام پر ایک بیٹی ہوئی تھی جو پیدائش کے پانچ سال بعد اپنے باپ کے ساتھ گھومنے سمندر پہ گئی تھی اور وہیں ڈوب کے مر چکی تھی ۔۔
فلک اپنی بیٹی کی وفات پر پہلے ہی بہت بیمار ہو گئی تھی اور پھر جب بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی کئی مہینوں تک بیٹی کی ڈیڈ باڈی نہ ملی تو وہ نیم پاگل سی ہو کر ایک دفعہ پھر اپنے باپ کی دہلیز پر آ بیٹھی تھی ۔۔۔
💕💕💕
زید آپ کا جانا بہت ضروری ہے کیا ؟
زمل آنکھوں میں نمی لیے زید سے افسردہ لہجے میں پوچھ رہی تھی ۔۔
وہ دونوں بڑے مزے سے بالکونی میں بیٹھے موسم انجوائے کر رہے تھے ۔۔
یار دو سال کی تو بات ہے یوں ہی چٹکیوں میں گزر جائیں گے اور پھر یہ بهی تو دیکھو ہم دونوں نے کتنی رازداری سے دادو سے کہہ کر سب کو اپنےنکاح کے لیے بھی منا لیا ہے ۔۔
زید پہلی بار آپ اتنے دور جا رہے ہیں میں تو آپ سے کبھی اتنےزیادہ عرصہ کیلئے دور بھی نہیں رہی ہوں ۔۔
زمل کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا وہ واقعی اپنی بیس سالہ زندگی میں زید سے کبھی اتنے طویل عرصے کے لیے دور نہیں رہی تھی وہ شروع سے ہی جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے آرہے تھے ہزار گز کے بنگلے میں سے هی دو حصے کئے گئے تھے جس میں ایک طرف طاہر اور دوسری طرف احمد کی فیملیز رہائش پزیرتھیں۔ ۔
عالم خان اور فاطمہ خان احمد والے پورشن میں رہتے تھے جبکہ فلک کو طاہر نے اپنے ۔ پاس رکھا ہوا تھا۔ ۔
یہ دونوں نام کو کی الگ رہتی تھیں مگر عالم خان کے سخت آرڈر تھے کہ کھانا سب ساتھ ہی کھائنگے۔ ۔۔
اب کیوں یہ اداس شکل بنا کر گھوم رہی ہوں اب تو میں تمهیں اپنے نام کرکے جا رہا ہوں ن؟؟؟۔ ۔
اور خبردار جو میرے پیچھے کسی کو آنکھ اٹھا کردیکھنا تو دور کی بات آنکھ مارنے کی بھی کوشش کی تو اسی وقت رخصتی کروا لوں گا ۔۔
زید اس کا موڈ بحال کرنے کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔
ٹھیک ہے اگر آپ نے کسی سے بھی عشق یا عاشقی کرنے کی کوشش کی تو آپ کے ساتھ ساتھ اسکی بھی ایسی کم تیسی کروں گی کہ دونوں پوری زندگی کے لئے لولے لنگڑے ہو جائیں گے ۔۔
زمل نے بھی حساب برابر کیا ۔۔
ارے یار تم میری دھڑکنوں میں بستی ہو۔۔
میری آنکھوں کی راحت ہو تم مجھے کبھی بھی اس کمٹمنٹ سے ناانصافی کرتے نہیں پاو گی ۔۔
زید کے لہجے میں اس کی باتوں کی سچائی اور زمل کے لئے سچی محبت وضح تھی۔ ۔
زمل اپنی نظریں جھکا گی ۔۔
چلو اب یہ اداسی ختم کرو ابھی بہت ٹائم ہے میرے جانے میں ،دو دن بعد ہمارا نکاح ہے اور ان دو ماہ میں ہم ان پلوں کو بہت خاص بنا دیں گے تاکہ تم اور میں تنہا رہ کے بھی تنہا نہ ہو ایک دوسرے کی یادوں کے حصار میں قید رہے۔ ۔ ۔۔
زمل زید کو دیکھ کر محبت سے مسکرا دی ۔
💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
Muhabbat barsadena tu by Aymen nauman episode 1
Muhabbat barsadena tu...❤
By Aymen Nauman
Epi no# 1
ان آنکھوں کی مستی کے دیوانے ہزاروں ہیں ۔۔
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں ۔۔
باہر بڑے سے حال نما کمرے میں بھانت بھانت کے مرد اور رقص کرتی دوشیزائیں اپنے ہوش ربا حسن سے ہر مرد کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہوئی تھیں۔ ۔
وہاں موجود ہر مرد اپنی اپنی ہوس مٹا نے کو بیٹھا تھا ۔۔
پورے ہال کمرے میں خوبصورتی بکھری پڑی تھی۔۔۔۔۔
ناچ گانا گھنگروُں کی جھنکار پورے ماحول میں گونج رہی تھی ۔۔
ریشم اور ستارہ پاؤں میں گھنگرو پہنے گانے کے بولوں پر مدہوش ایک ایک تال پر بڑے ماہرانہ اندازمیں تھرک رہی تھیں ۔۔
اپنے جسم کی نمائش کرتی وہ دونوں وہاں بیٹھے تمام عیاش مردوں کی راتیں رنگین کرنے میں بڑی مہارت سے مصروف تھیں۔ ۔
بزار حسن کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔
چندا بائی آج تو ہمارے کوٹھے کے بھاگ کھل گئے ہیں۔۔۔
نیما پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بھاگتی ہوئی چندہ بائی کے پاس آئی تھی ۔۔
چندہ بائی جو بڑے مزے سے وہاں موجود مردوں سے جسم کی نمائش کے ذریعے ریشم اور ستارہ کے اوپر وارنے والے نذرانے بٹورنے میں مصروف تھی
۔۔
جب ریما نے آہستہ سے اس کے کان میں آ کے کہا ۔۔
چندا بائی نے منہ میں خوشبودار پان رکھتے ہوئے اپنے مخصوص شاطرانہ انداز میں ریما سے آنکھ
کا اشارہ کر کے بغیر کچھ کہے پوچھا ۔۔
آر ےملک کے مشہور بزنس ٹائیکون ہمارے اس غریب خانے پر پہلی دفعہ تشریف لائے ہیں ۔
۔
چندا بائی نے ایک ادا سے اپنا غرارہ سنبھالا تھا اور تالی بجاکر ریشم اور ستارہ کو اشارہ کیا تھا کہ اپنا کام جاری رکھو اور کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ۔۔
وہ دونوں اس کے تالی بجانے کے انداز میں دی جانے والی دھمکی سے اچھی طرح واقف تھیں۔ ۔
آداب صاحب آپ نے کیسے آج ہمارے غریب خانے کو رونق بخش دی ۔۔
چندا بائی اٹھلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔
اس کا پورا وجود دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا ۔۔
زیادہ سوال کرنے کی اجازت تو میں اپنے باپ کو بھی نہیں دیتا ۔۔
وہ چندا بائی کو دیکھتے ہوئے درشت لہجے میں بولا ۔۔۔
چندہ بھائی نے اوپر سے نیچے تک سامنے موجود تیس بتیس کے درمیانی عمر کے مرد کو دیکھا ۔۔
اس کی صحرا نہ پرسنالٹی اونچا لمبا قداور کسرتی جیسا مت وہاں موجود چندہ بائی کے ساتھ ساتھ ریمہ کو بھی چونکہ رہی تھی ۔۔۔
جی جی صاحب آپ کہیے کہیے حکم کیجئے ۔۔
ریما نے جھٹ سے اپنی خدمات پیش کیں ۔۔
یہ جو لڑکی ا بھی میرے سامنے روتے ہوئے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بھیج دو ۔۔
کون سی لڑکی ؟؟
ریشم یا پھر ستارہ ؟؟
چندا بائی کو لگا شاید وہ ریشم یا ستارہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بات کر رہا ہے کیونکہ اس وقت رقص وہ دونوں ہی کر رہی تھیں ۔۔
وہ آنکھوں میں عجیب سی چمک لئے پوچھ رہی تھی ۔۔
نہیں وہ لڑکی جو ابھی یہاں روتے ہوئے زبردستی رقص کر رہی تھی اور اس لڑکی کے ہاتھ میں پکڑے بیلٹ سے ساتھ ساتھ مار بھی کھا رہی تھی ۔۔
وہ ریما کی طرف اشارہ کرکے بولا کچھ دیر پہلے وہ زبردستی گلِ رعنا سے رقص کروا رہی تھی ۔۔
وہ بہت اچھی طرح چندا بائی کے چہرے پر ٹپکتی ہوئی ہوس اور لالچ کو پڑھ چکا تھا ۔۔
وہ خود ایک شاطر اور رنگین مزاج مرد تھا حسن اس کی کمزوری تھی ۔ ۔
💕💕💕💕
وہ فٹبال لے کر اپنے گھر کے ساتھ والے بنے خوبصورت سے بنگلے کا کھلا دروازہ دیکھ کر بہت حیران ہواتھا ۔۔
کیونکہ اس نے اپنی بارہ سالہ زندگی میں کبھی بھی خالہ کے گھر کا دروازہ کھلا نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا ۔۔
خالہ جانی ۔۔
خالہ جانی ۔۔
کہاں ہیں آپ دیکھیں میں آگیا ۔۔
وہ زور زور سے آوازیں دیتاپورے گھر میں عائزہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
وہ اس کو آوازیں دیتا ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اچانک اس کو بہت زور سے آئزہ کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی تھی ۔۔
وہ پریشان سا بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔
خالہ جانی کیا ہوا ؟؟؟
دل جانی کہاں ہیں آپ؟؟؟
مسلسل آئزہ کو آوازیں دے رہا تھا ۔۔
آئزہ کی چیخوں کی آوازیں مزید بلند ہوتی چلی گئی تھیں۔۔
وہ اوپر اس کے کمرے کے باہرکھڑا ہوا زور زور سے دروازہ پیٹنا تھا ۔۔
اس نے کی ہول سے اندر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔۔
سامنے نظر آتا بہت دھندلہ دھندلا سا منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ۔۔
وہ اس ننھے سے بچے کی معصومیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔
وہ روتا چلاتا اپنے گھر بھاگتا ہوا گیا اور اپنے ماں باپ کو کسی طرح کھینچ کھانچ کر لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں موجود جو بھی شخص تھا وہ کھڑکی کے راستے اپنی ہوس مٹا کر بھاگ چکا تھا ۔
بابا نے اس کو اپنے پاس رکنے کا کہا تھا۔۔۔
اور ماما کو اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
سمیرا جیسے ہی اندر گئی اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تھیں اندر کا منظر بہت ہی بھیانک تھا ۔۔
سمیرا نے تیزی سے اس کے وجود پر چادر ڈالی تھی اور پھر اپنے شوہر حسن کو اندر آنے کا کہا ۔۔
آئزہ بغیر کسی لباس کے مردہ حالت میں پڑھی تھی۔۔۔
وہ دونوں عائزہ کو لے کر کمرے سے جا چکے تھے۔۔۔۔
جب وہ روتے ہوئے اپنی خالہ کا دوپٹہ اٹھانے کے لئے بڑا تھا ۔۔
دوپٹے کو اٹھانے کے بعد زمین پر موجود سلور کلر کے بریسلیٹ نے اس چھوٹے سے لڑکے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی تھی ۔۔
💕💕💕💕
کتنی دیر ہوگئی ہیں نہ جانے کیوں ابھی تک بارات نہیں آئی ہے ۔۔
امی پریشان سی ڈریسنگ روم کے اندرآکر بولی تھیں۔۔۔
آجائے گی آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔
احمر صاحب نے اپنی بیگم کو دلاسہ دیا ۔۔
جب کہ اندر سے ان کا دل خود ڈر رہا تھا نہ جانے کیا تھا جو ابھی تک برات نہیں آئی تھی ۔؟؟؟
نہیں احمرٹائم تیزی سے گزر رہا ہے مجھے تو حال اٹھ رہے ہیں ۔۔
امی کے چہرے سے پریشانی حاویدہ تھی ۔۔
پریشان تو وہ بھی بہت زیادہ ہو رہی تھی آخر کیا بات تھی جو بات ابھی تک نہیں آئی تھی ؟؟؟۔
احمر صاحب نے کئی دفعہ فون ملایا تھا مگر ہر دفعہ فون بندجا رہا تھا ۔
۔
اور پھر وقت گزرتا گیا مہمان ایک ایک کرکے چلے گئے پورا ہال خالی ہوچکا تھا ۔۔
برات کو نہ آنا تھا نہ کوئی براتی آیا ۔
وہ بڑی سفاکی سے اس کے وجود کی کرچیاں بکھیر کر اور بڑے ہی آرام سے اس کے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال کر کہیں غائب ہو چکا تھا ۔۔۔
اس کو بدنامی کے خوفناک اندھیروں میں دھکیل کر وہ نہ جانے کہاں جا چکا تھا ۔۔۔
💕💕💕💕
میں اپنی اسٹڈیز مکمل کرنے کے لئے دو سال کے لئے مانچسٹر جانا چاہتا ہوں ۔۔
زید اپنے بڑوں کے سامنے بیٹھا کھانا کھاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
ہاں تو چلے جاؤ ۔۔
دادا نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد زید سے کہا ۔۔
او دادو یو آر گریٹ زید ان کے گلے کا ہار بن کر بولا ۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ اگر ایک دفعہ دادا مان گئے تو بابا اور مما بھی مان جائیں گے۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے سب ہی فریق خاموشی سے دادا اور پوتے کی گفتگو سن رہے تھے ۔۔
بھائی طاہر اور زارا میرے پوتے کو پڑھنے کے لئے جانے دو اور اب میں کوئی بحث نہیں سنوں گا ۔۔
دادا نے زید کے ماں باپ کو مخاطب کرتے ہوئے گویا اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔
لیکن زید میری بھی ایک شرط ہے ۔۔۔
دادا نے زید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
وہ کیا بس آپ حکم کریں دادا ۔۔۔
وآج اتنا خوش تھا کے دادا کی ہر شرط اس کو منظور تھی ۔۔
تمہیں اپنےچچا کی بیٹی سے نکاح کر کے جانا ہوگا اور رخصتی تمہاری اسٹڈیز کمپلیٹ ہونے کے بعد ہوگی۔ ۔
انہوں نے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا ۔۔
کیوں بہی احمد اور حنا تم اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہونہار پوتے کے ہاتھ میں دینے کیلئے تیار ہو؟؟؟۔
طاہر اور زارہ میرے خیال سے تمہیں بھی اپنے بیٹے کے اس رشتے پر اعتراض نہیں ہو گا ۔۔
یہ میری خواہش ہے ۔۔
اور میں تم سب سے یہی امید کرتا ہوں کہ تم میری یہ دیرینہ خواہش کو ڈالو گے نہیں ۔۔۔
💕💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
💖
By Aymen Nauman
Epi no# 1
ان آنکھوں کی مستی کے دیوانے ہزاروں ہیں ۔۔
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں ۔۔
باہر بڑے سے حال نما کمرے میں بھانت بھانت کے مرد اور رقص کرتی دوشیزائیں اپنے ہوش ربا حسن سے ہر مرد کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہوئی تھیں۔ ۔
وہاں موجود ہر مرد اپنی اپنی ہوس مٹا نے کو بیٹھا تھا ۔۔
پورے ہال کمرے میں خوبصورتی بکھری پڑی تھی۔۔۔۔۔
ناچ گانا گھنگروُں کی جھنکار پورے ماحول میں گونج رہی تھی ۔۔
ریشم اور ستارہ پاؤں میں گھنگرو پہنے گانے کے بولوں پر مدہوش ایک ایک تال پر بڑے ماہرانہ اندازمیں تھرک رہی تھیں ۔۔
اپنے جسم کی نمائش کرتی وہ دونوں وہاں بیٹھے تمام عیاش مردوں کی راتیں رنگین کرنے میں بڑی مہارت سے مصروف تھیں۔ ۔
بزار حسن کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔
چندا بائی آج تو ہمارے کوٹھے کے بھاگ کھل گئے ہیں۔۔۔
نیما پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بھاگتی ہوئی چندہ بائی کے پاس آئی تھی ۔۔
چندہ بائی جو بڑے مزے سے وہاں موجود مردوں سے جسم کی نمائش کے ذریعے ریشم اور ستارہ کے اوپر وارنے والے نذرانے بٹورنے میں مصروف تھی
۔۔
جب ریما نے آہستہ سے اس کے کان میں آ کے کہا ۔۔
چندا بائی نے منہ میں خوشبودار پان رکھتے ہوئے اپنے مخصوص شاطرانہ انداز میں ریما سے آنکھ
کا اشارہ کر کے بغیر کچھ کہے پوچھا ۔۔
آر ےملک کے مشہور بزنس ٹائیکون ہمارے اس غریب خانے پر پہلی دفعہ تشریف لائے ہیں ۔
۔
چندا بائی نے ایک ادا سے اپنا غرارہ سنبھالا تھا اور تالی بجاکر ریشم اور ستارہ کو اشارہ کیا تھا کہ اپنا کام جاری رکھو اور کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ۔۔
وہ دونوں اس کے تالی بجانے کے انداز میں دی جانے والی دھمکی سے اچھی طرح واقف تھیں۔ ۔
آداب صاحب آپ نے کیسے آج ہمارے غریب خانے کو رونق بخش دی ۔۔
چندا بائی اٹھلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔
اس کا پورا وجود دعوت نظارہ پیش کر رہا تھا ۔۔
زیادہ سوال کرنے کی اجازت تو میں اپنے باپ کو بھی نہیں دیتا ۔۔
وہ چندا بائی کو دیکھتے ہوئے درشت لہجے میں بولا ۔۔۔
چندہ بھائی نے اوپر سے نیچے تک سامنے موجود تیس بتیس کے درمیانی عمر کے مرد کو دیکھا ۔۔
اس کی صحرا نہ پرسنالٹی اونچا لمبا قداور کسرتی جیسا مت وہاں موجود چندہ بائی کے ساتھ ساتھ ریمہ کو بھی چونکہ رہی تھی ۔۔۔
جی جی صاحب آپ کہیے کہیے حکم کیجئے ۔۔
ریما نے جھٹ سے اپنی خدمات پیش کیں ۔۔
یہ جو لڑکی ا بھی میرے سامنے روتے ہوئے رقص کر رہی تھی اس کو مجھے بھیج دو ۔۔
کون سی لڑکی ؟؟
ریشم یا پھر ستارہ ؟؟
چندا بائی کو لگا شاید وہ ریشم یا ستارہ ان دونوں میں سے کسی ایک کی بات کر رہا ہے کیونکہ اس وقت رقص وہ دونوں ہی کر رہی تھیں ۔۔
وہ آنکھوں میں عجیب سی چمک لئے پوچھ رہی تھی ۔۔
نہیں وہ لڑکی جو ابھی یہاں روتے ہوئے زبردستی رقص کر رہی تھی اور اس لڑکی کے ہاتھ میں پکڑے بیلٹ سے ساتھ ساتھ مار بھی کھا رہی تھی ۔۔
وہ ریما کی طرف اشارہ کرکے بولا کچھ دیر پہلے وہ زبردستی گلِ رعنا سے رقص کروا رہی تھی ۔۔
وہ بہت اچھی طرح چندا بائی کے چہرے پر ٹپکتی ہوئی ہوس اور لالچ کو پڑھ چکا تھا ۔۔
وہ خود ایک شاطر اور رنگین مزاج مرد تھا حسن اس کی کمزوری تھی ۔ ۔
💕💕💕💕
وہ فٹبال لے کر اپنے گھر کے ساتھ والے بنے خوبصورت سے بنگلے کا کھلا دروازہ دیکھ کر بہت حیران ہواتھا ۔۔
کیونکہ اس نے اپنی بارہ سالہ زندگی میں کبھی بھی خالہ کے گھر کا دروازہ کھلا نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا تھا ۔۔
خالہ جانی ۔۔
خالہ جانی ۔۔
کہاں ہیں آپ دیکھیں میں آگیا ۔۔
وہ زور زور سے آوازیں دیتاپورے گھر میں عائزہ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
وہ اس کو آوازیں دیتا ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اچانک اس کو بہت زور سے آئزہ کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی تھی ۔۔
وہ پریشان سا بھاگتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔۔
خالہ جانی کیا ہوا ؟؟؟
دل جانی کہاں ہیں آپ؟؟؟
مسلسل آئزہ کو آوازیں دے رہا تھا ۔۔
آئزہ کی چیخوں کی آوازیں مزید بلند ہوتی چلی گئی تھیں۔۔
وہ اوپر اس کے کمرے کے باہرکھڑا ہوا زور زور سے دروازہ پیٹنا تھا ۔۔
اس نے کی ہول سے اندر دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔۔
سامنے نظر آتا بہت دھندلہ دھندلا سا منظر جو اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا ۔۔
وہ اس ننھے سے بچے کی معصومیت کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔۔
وہ روتا چلاتا اپنے گھر بھاگتا ہوا گیا اور اپنے ماں باپ کو کسی طرح کھینچ کھانچ کر لے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں موجود جو بھی شخص تھا وہ کھڑکی کے راستے اپنی ہوس مٹا کر بھاگ چکا تھا ۔
بابا نے اس کو اپنے پاس رکنے کا کہا تھا۔۔۔
اور ماما کو اندر جانے کا اشارہ کیا ۔۔
سمیرا جیسے ہی اندر گئی اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تھیں اندر کا منظر بہت ہی بھیانک تھا ۔۔
سمیرا نے تیزی سے اس کے وجود پر چادر ڈالی تھی اور پھر اپنے شوہر حسن کو اندر آنے کا کہا ۔۔
آئزہ بغیر کسی لباس کے مردہ حالت میں پڑھی تھی۔۔۔
وہ دونوں عائزہ کو لے کر کمرے سے جا چکے تھے۔۔۔۔
جب وہ روتے ہوئے اپنی خالہ کا دوپٹہ اٹھانے کے لئے بڑا تھا ۔۔
دوپٹے کو اٹھانے کے بعد زمین پر موجود سلور کلر کے بریسلیٹ نے اس چھوٹے سے لڑکے کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی تھی ۔۔
💕💕💕💕
کتنی دیر ہوگئی ہیں نہ جانے کیوں ابھی تک بارات نہیں آئی ہے ۔۔
امی پریشان سی ڈریسنگ روم کے اندرآکر بولی تھیں۔۔۔
آجائے گی آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔
احمر صاحب نے اپنی بیگم کو دلاسہ دیا ۔۔
جب کہ اندر سے ان کا دل خود ڈر رہا تھا نہ جانے کیا تھا جو ابھی تک برات نہیں آئی تھی ۔؟؟؟
نہیں احمرٹائم تیزی سے گزر رہا ہے مجھے تو حال اٹھ رہے ہیں ۔۔
امی کے چہرے سے پریشانی حاویدہ تھی ۔۔
پریشان تو وہ بھی بہت زیادہ ہو رہی تھی آخر کیا بات تھی جو بات ابھی تک نہیں آئی تھی ؟؟؟۔
احمر صاحب نے کئی دفعہ فون ملایا تھا مگر ہر دفعہ فون بندجا رہا تھا ۔
۔
اور پھر وقت گزرتا گیا مہمان ایک ایک کرکے چلے گئے پورا ہال خالی ہوچکا تھا ۔۔
برات کو نہ آنا تھا نہ کوئی براتی آیا ۔
وہ بڑی سفاکی سے اس کے وجود کی کرچیاں بکھیر کر اور بڑے ہی آرام سے اس کے ماں باپ کی عزت کا جنازہ نکال کر کہیں غائب ہو چکا تھا ۔۔۔
اس کو بدنامی کے خوفناک اندھیروں میں دھکیل کر وہ نہ جانے کہاں جا چکا تھا ۔۔۔
💕💕💕💕
میں اپنی اسٹڈیز مکمل کرنے کے لئے دو سال کے لئے مانچسٹر جانا چاہتا ہوں ۔۔
زید اپنے بڑوں کے سامنے بیٹھا کھانا کھاتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
ہاں تو چلے جاؤ ۔۔
دادا نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد زید سے کہا ۔۔
او دادو یو آر گریٹ زید ان کے گلے کا ہار بن کر بولا ۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ اگر ایک دفعہ دادا مان گئے تو بابا اور مما بھی مان جائیں گے۔۔
کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے سب ہی فریق خاموشی سے دادا اور پوتے کی گفتگو سن رہے تھے ۔۔
بھائی طاہر اور زارا میرے پوتے کو پڑھنے کے لئے جانے دو اور اب میں کوئی بحث نہیں سنوں گا ۔۔
دادا نے زید کے ماں باپ کو مخاطب کرتے ہوئے گویا اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔۔
لیکن زید میری بھی ایک شرط ہے ۔۔۔
دادا نے زید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔۔
وہ کیا بس آپ حکم کریں دادا ۔۔۔
وآج اتنا خوش تھا کے دادا کی ہر شرط اس کو منظور تھی ۔۔
تمہیں اپنےچچا کی بیٹی سے نکاح کر کے جانا ہوگا اور رخصتی تمہاری اسٹڈیز کمپلیٹ ہونے کے بعد ہوگی۔ ۔
انہوں نے سب کے سروں پر بم پھوڑا تھا ۔۔
کیوں بہی احمد اور حنا تم اپنی بیٹی کا ہاتھ میرے ہونہار پوتے کے ہاتھ میں دینے کیلئے تیار ہو؟؟؟۔
طاہر اور زارہ میرے خیال سے تمہیں بھی اپنے بیٹے کے اس رشتے پر اعتراض نہیں ہو گا ۔۔
یہ میری خواہش ہے ۔۔
اور میں تم سب سے یہی امید کرتا ہوں کہ تم میری یہ دیرینہ خواہش کو ڈالو گے نہیں ۔۔۔
💕💕💕💕
جاری ہے۔ ۔
💖
Subscribe to:
Posts (Atom)
