Muhabbat barsadena tu..❤
By Aymen Nauman
Epi 8
حسام گلے رانا کو اپنی حیوانیت کی بھینٹ چڑھا چکا تھا ۔
اور اب اٹھ کر کمرے میں کچھ تلاش کر رہا تھا چند ہی لمحوں میں اس کو اپنی مطلوبہ شہر مل ہی گئی تھی آخر کار ۔۔۔
حسام نے زمین پہ پڑا گل رانا کا دوپٹہ اٹھایا اور بے جان و بے ہوش اسکے ساکت وجود کےاوپر پھینکنے کے انداز میں پھیلا دیا ۔۔۔
البتہ خود فریش ہونے کے لئے چلا گیا ۔۔۔
فریش ہو کہ وہ دوبارہ کمرے میں آیا تھا۔۔
گل ابھی تک ویسی ہی تھی جس حال میں وہ چھوڑ کر گیا تھا ۔۔
ہونہہ۔ ۔۔
نخرے تو دیکھو ذرا ایسے ہیں جیسے کسی محل سے آئی ہو بہت پاک باز بی بی ۔
وہ گل پر تمسخر اڑاتی ہنسی اچھالتا باہر نکل گیاتھا ۔۔
اپنی گاڑی کی چابی اور موبائل ڈریسنگ ٹیبل پرسے اٹھا کر ۔۔
دو گھنٹے بعد وہ گھر واپس آیا تھا اور آتے ہی اس کو پہلا خیال گل کا ہی آیا تھا ۔۔
ہو نہ ہو اب تک تو محترمہ کی عقل ٹھکانے آ چکی ہوگی اچھی طرح سے۔۔
حسام کی غیرت کو للکارنے کا اب تک تو بہت اچھا سبق سیکھ چکی ہو گی ۔۔۔۔
وہ سفاکی سے پوچھتا واپس گل کی طرف بڑھا تھا ۔
حسان نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا وہ ٹھٹک سا گیا گل بےحس اور حرکت صبح والے انداز میں ہی بستر پر دراز تھی ۔۔
حسام کو خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا اور جھک کر اس کے ہاتھ کی نبض ٹٹولنے لگا ۔
اس کے اندازے کے عین مطابق گل کے ہاتھ کی نبض بہت ہلکی چل رہی تھی ۔۔
اومائی گڈنیس۔ ۔
اس کی نبض کو بہت سست حرکت کررہی ہے اب کیا کروں ؟؟
وہ اپنے سر کے بال دونوں مٹھیوں میں قید کئے سوچ رہا تھا ۔۔۔
اگر ہوسپٹل لے کر گیا تو لمبے چوڑے سوالات ہوں گے اور میرا خود کا نام بھی خراب ہو گا ۔۔
پھر اب کیا کروں ؟؟؟
کوئی تو راستہ ہوگا کوئی تو حل ہوگا اس مسئلے کا ؟؟؟
وہ غصے اور پریشانی کے ملے جلے انداز میں پورے کمرے میں ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔
اب ایسا بھی کیا کردیا کہ یہ ہوش میں ہی نہیں آ رہی ؟؟
وہ اس کے ناک کے قریب بار بار اپنی دو انگلیاں لے جا کر دیکھ رہا تھا کے سانسیں چل رہی ہیں یا نہیں ۔۔۔
اور پھر ایک خیال اس کے دماغ میں بجلی کی سی تیزی سے کوندھا تھا ۔۔
ہاں یار تم فوری میرے گھر آؤ ۔۔
یار تم آ تو جاؤ سب کچھ بتاؤں گا۔۔۔
بس جلدی سے میرے گھر پہنچوں اور کسی کو بھی بتا کر مت آنا۔۔۔
اب وہ بہت گہری نظروں سے گل کو دیکھ رہا تھا ۔۔
❤
وہ اپنی ماں صدف اور باپ میرحسن سعدان کے ساتھ زمل کے گھر اس کے ڈرائنگ روم میں برجمان تھا۔ ۔
ساتھ ہی دو گارڈ بھی تھے جن کو اس نے گھر کے باہر کھڑا رہنے کا حکم دیا تھا ۔۔
آج اتوار کا دن تھا جس کی وجہ سے گھر کے سبہی فرد تقریبا گھر میں ہی تھے۔۔۔
سوائے زید کے وہ اپنے کسی دوست کی والدہ کی تدفین میں گیا ہوا تھا ۔
گھر کے سبھی افراد حیران پریشان ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میرحسن سعدان ملک کا اتنا بڑا سیاستدان
ان کے گھر میں آخر اتنے ڈھیروں تحفے تحائف پھلوں کی ٹوکریاں، مٹھائیوں کے ٹوکرے لےکر کیوں آیا ہے؟؟
دیکھئے احمد صاحب ہم خاص ایک سلسلے میں آپ کے گھر تشریف لائے ہیں ۔۔
میر حسن سعدان نے بہت طریقے سے گفتگو کا آغاز کیا ۔۔
وہ ایک قدرے سلجھے ہوئےانسان تھے ۔۔۔
اور ابھی موجودہ دور کے بہترین سیاست دان ثابت ہو رہے تھے ۔۔
وہ حقیقتا نیک فطرت آدمی تھے ۔۔
جی میر صاحب فرمائیں ۔۔
احمد کی بجائے طاہر صاحب نے بڑے شایستہ انداز میں استفسار کیا ۔۔
میں آپ کی بیٹی ز مل کو اپنی وائف کے عہدے پر فائز کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
صدف اور حسن کے بولنے سے پہلے ہی میر نے سیدھے لفظوں میں اپنا مدعا بیان کیا ۔۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھے سبہی افراد پیر میر حنید کی بات کو سننے کے بعد دم بخود رہ گئے تھے ۔۔
مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ لوگ ہمارے گھر تشریف لائے مگر ۔۔۔
مگر کیا ؟۔۔
میر کے چہرے کے زاویوں میں یکدم سختی سے پیدا ہوئی تھی ۔۔۔
میں بہت معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی زمل کا نکاح چار دن پہلے ہی میرے بڑے بھائی صاحب کے بیٹے زید سے ہوچکا ہے ۔۔
احمد صاحب ٹھہر ٹھہر کے زمل کے نکاح کے متعلق ان لوگوں کو آگاہی دے رہے تھے ۔۔۔
نکاح ہی ہوا تھا نہ رخصتی تو نہیں ہوئی ہے نہ ؟؟؟
ختم ہوجائے گا نکاح بھی کتنی دیر لگے گی؟ ؟؟
۔۔۔
میر بہت سفاکی سے بولا ۔۔
مسٹر نکاح کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے کہ جب جی میں آیا ختم کردیا اور جب جی میں آیا کر لیا ۔۔۔۔
آدم سے مزید ظبط نہ ہوا اور وہ بھی میر کے ہی انداز میں سرد تاثرات چہرے پہ سجائے گویا ہوا۔۔۔
ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کو جلد ہی جواب دوں گا اس سلسلے میں ۔۔
کافی دیر سے خاموش دادا نے گفتگو میں حصہ لیا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ میت اور آدم ایک دوسرے سے بھڑیں اور کوئی بدمزگی پیدا ہو ۔۔۔
ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی مول لیں ۔۔
اس لئے کہ میر کا تو کچھ نہیں بگڑنا تھا ان کے گھرانے کا ٹھیک ٹھاک نقصان ہو جانا تھا ۔۔۔
دادا بہت آگے کی سوچ رہے تھے ۔۔
السلام علیکم ۔۔
ابھی دادا کچھ اور بھی کہنے والے تھے کہ حورم ڈرائنگ روم میں آ دھمکی تھی ۔۔۔۔
آدم نے تیز نظروں سے اس کو گھورا تھا وہ اس وقت بھی اپنے اول جلول لاپروا سے ہولیہ میں آپنا تشریف کا ٹوکرا اٹھائے چلی آئی تھی ۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
تینوں مہمانوں نے ایک سا تھ جواب دیا تھا ۔۔۔
جبکہ حورم کا تو خوشی کا ٹھکانا ہی نہیں تھا انہیں اپنے گھر میں دیکھ کے ۔۔
سر آپ یہاں کیسے ؟؟؟۔
حورم بڑے بے تکلفانہ انداز میں میر حنید سے گویا ہوئی تھی ۔۔
آدم نے چبھتی ہوئی نظر حورم پہ ڈالی تھی ۔۔
جیسے آنکھوں سے ہی اٹھا کر ڈرائنگ روم کے باہر پٹخ دے گا ۔۔۔
کیسی ہو پرنسس؟ ؟
پھر کسی نے تہیں تنگ تو نہیں کیا ؟؟
میراس کو چھیڑتے ہوئے بولا ۔۔۔
حورم تم کمرے میں جاؤ اپنے ۔۔۔
آدم نے حورم کو ڈانٹنے کے انداز میں گویا ڈرائنگ روم سے جانے کا کہا تھا
مسٹر تمیز سے بات کرو ۔۔۔
مجھے پتہ ہے کہ مجھے کس طرح بات کرنی ہے اور کس طرح بات نہیں کرنی ۔۔
برائے مہربانی آپ لوگ جس مقصد کے تحت آئے تھے اگر وہ پورا ہو گیا ہے تو آپ لوگ جاسکتے ہیں ۔۔
آدم نے بہت چبا چبا کے ہر ایک لفظ کو ادا کیا تھا ۔۔۔
ادم اور میر حنید دونوں کی آنکھیں طیش اور غصے سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔
یاد رکھنا یہ میری سالی ہے اور اس سے تمیز سے بات کرو ۔۔۔
اور میرے نزدیک میری سالی میری چھوٹی بہن کی برابر ہے ۔۔
زبان کو لگام دو ۔۔
خیر بہت جلد ملاقات ہو گی جب میں اپنی بیوی کو پورے حق سے رخصت کروا کے لے کر جاؤں گا ۔۔۔
جاری ہے۔ ۔
Friday, December 28, 2018
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

0 comments:
Post a Comment