Showing posts with label itni mohabbat kro na by zeenia sharjeel. Show all posts
Showing posts with label itni mohabbat kro na by zeenia sharjeel. Show all posts

Wednesday, December 12, 2018

itni mohabat kro na last episode

itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Last episode

تانیہ کا موبائل کافی دیر سے بج رہا تھا تانیہ نوٹس بنانے میں مصروف تھی موبائل پر نظر پڑی تو اسکرین پر اشعر کا نام جگمگا رہا تھا

"ہیلو"
تانیہ نے کال ریسیو کی

"کیسی ہیں آپ تانیہ"
اشعر نے کال اٹھانے پر شکر ادا کیا اور خیریت پوچھی

"میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں"
تانیہ نے جھجکتے ہوئے اس کی خیریت پوچھی اس دن بڑی دل گرفتہ ہو کر اس نے اشعر کو قصہ ختم کرنے کا کہہ دیا تھا مگر خود اس قصے کو دل سے ختم نہیں کر سکی تھی۔۔۔ اس کے بعد وہ آج اشعر کی آواز سن رہی تھی

"پرسوں تک تو مجھے خود اپنی خبر نہیں تھی مگر کل جب آپ کے بھائی کو عقل آئی اور اس نے گلے لگا کر مجھے زندگی کی نوید دی تو اپنے آپ کو ٹھیک محسوس کررہا ہوں اور تانیہ ایک بات یاد رکھیے گا۔۔۔ میں وہ انسان ہوں جو کسی چیز کی کمٹمنٹ کرلے تو پیچھے ہٹنا مجھے پسند نہیں۔۔ ۔ آگے زندگی میں بھی میں، میں آپ سے یہی امید رکھنا چاہتا ہوں،، کیا میں آپ سے کوئی امید رکھ سکتا ہوں"
آشعر نے تانیہ سے سوال کیا

"جی میں کوشش کروں گی آپ کی امیدوں پر پورا اتروں اور آپ کو شکایت کا موقع نہ دوں"
تانیہ نے آہستہ سے جواب دیا

"تو پھر میں ممی کو آپ کے گھر بھیج دو؟؟ پلیز یہ مت پوچھئے گا کس لئے"
اشعر نے ریسٹورنٹ والی بات یاد کرتے ہوئے کہا

"جی مجھے پتہ ہے کس لیے بھیجنا ہے" تانیہ کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا مگر پھر وہ پچھتائی

"اچھا کس لیے بھیجنا چاہتا ہوں میں ممی کو،، ذرا مجھے بھی تو پتہ چلے"
اشعر نے شرارتاً پوچھا

"میلاد کا بلاوا دینے کے لیے"
تانیہ نے کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کردی دوسری طرف اشعر مسکرانے لگا

*****

"اف یہ پھر آگئ سلوا، دکھانے اپنا جلوہ۔۔۔ اس کو تو میں چھوڑو گی نہیں قسم سے اگر آج اس نے کچھ چھچھورپن کیا تو"

فضا جو ابھی سیڑھیوں سے اتر کر اپنے روم سے آئی تھی،، ڈرائنگ روم میں سلوا کو دیکھ کر کچن میں آتے ہوئے جل کر بولی

"اوفو فضا آہستہ بولو اسے کہیں تمہاری آواز ہی نہ چلی جائے کیا سوچے گی"
تانیہ جو کہ کینٹ سے چائے کے کپ نکال رہی تھی فضا کے بولنے پر ایک دم سے بولی

"ارے جاتی ہے تو جاۓ آواز بلکہ میں تو چاہتی ہوں پتہ چلیں اسے میرے خیالات،، اس دن تم نے دیکھا نہیں تھا کہ کیسے آگے پیچھے منڈلا رہی تھی بلال کے"
فضا کو دعوت والا دن یاد کر کے نئے سرے سے غصہ آیا

"اچھا چھوڑو یار کوئی اچھی سی بات کرو اور موڈ ٹھیک کرو اپنا"
تانیہ نے فضا کا دھیان بٹانے کے لئے کہا

"اچھی بات سننی ہے تو سنو میری شہزادی۔۔۔۔ تمہاری ہونے والی ساس کا فون آیا تھا۔۔۔۔ بہت جلد رشتہ لے کر آرہی ہیں وہ اشعر بھائی کا تمہارے لیے"
فضا نے تانیہ کے بازو پر اپنا کندھا ٹکراتے ہوئے کہا

"تم دونوں یہاں کھڑی ہوئی باتیں بنا رہی ہو اور ممانی اور سلوا کب سے وہ اکیلے بیٹھی ہیں"
بلال نے کچن میں آکر تانیہ اور فضا کو کہا جو کہ باتیں  کر رہی تھی

"جی بھائی میں تو بس جاہی رہی تھی" تانیہ فورا کچن سے باہر نکل گئی

"وہ اکیلی کہاں تھی تم تھے تو اسے کمپنی دینے کے لئے وہ کیا کہتے ہیں حق میزبانی نبھانے کے لئے"
فضا بول ہی رہی تھی بلال نے ایک دم فضا کو کھینچ کر خود سے قریب کیا

"مجھے سلوا سے یا کسی سے بھی کوئی غرض نہیں ہے۔۔۔۔ تم مہمان بنو میرے دل کی،،، اگر اچھا میزبان ثابت نہیں ہوا تو نام بدل دینا"
بلال نے فضا کے گالوں پر اپنے ہونٹ مس کرتے ہوئے کہا وہ سٹپٹا کر پیچھے ہوئی بلال کچن سے باہر نکل گیا


*****

ممانی اور سلویٰ کے جانے کے بعد بلال اپنے روم میں آگیا ابھی وہ بیڈ پر لیٹا ہی تھا اسے فضا کی آواز آئی 

"ہیپی برتھ ڈے ٹو یو"
آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے فضا مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ میں کیک پکڑے اسے دیکھ رہی تھی

"ہہمم تو تمہیں یاد تھا آج کا دن"
بلال نے مسکراتے ہوئے کہا

"یاد کیوں نہیں ہوگا"
فضا نے مسکراتے ہوئے کہا کیک سامنے رکھا اور knife اسکے ہاتھ میں پکڑائی،،، بلال نے مسکراتے ہوئے کیک کاٹا چھوٹا سا ٹکرا فضا کو کھلایا۔۔۔ اس کے بعد فضا نے بھی کیک کا ٹکڑا بلال کے منہ میں ڈالا

"کیک سے زیادہ انگلیاں میٹھی ہیں" بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر فضا نے گھورنے پر اکتفاد کیا

"اور میرا گفٹ"
بلال نے معنی خیزی سے پوچھا

"زیارہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے بلال، تمہارا گفٹ اسی روم میں چھپایا ہوا ہے ڈھونڈ لو"
فضا کی تھوڑی دیر پہلے والی خوشگواریت ختم ہو گئی تھی اور اپنی ٹون میں واپس آچکی تھی

"کیا مطلب چھپایا ہوا ہے اس طرح کون گفٹ دیتا ہے" بلال نے حیرت سے کہا

"اس روم میں تمہارا گفٹ رکھا ہوا ہے جو تمھیں ڈھونڈ کر نکالنا ہے چلو شاباش لگ جاؤ کام سے"
فضا نے صوفے پر آرام سے بیٹھتے ہوئے جواب دیا اور بلال نے اپنی نرالی بیوی کو تاسف سے دیکھا

بلال نے وارڈروب کا دروازہ کھولا

"تمہیں کیا لگتا ہے اتنی بیوقوف ہوں جو تمہارا گفٹ یہاں چھپا کر رکھو گی" فضا نے بلال کی عقل پر افسوس کرتے ہوئے کہا

بلال نے ڈیوائیڈر، ڈریسر اور ساری ڈراس چیک کی وہاں پر بھی کچھ نہیں تھا،،، فضا اس کی ایک ایک کاروائی سے مخطوط ہو رہی تھی۔۔۔ بلال نے جھلا کر بیٹھ کے نیچے جھانکا وہاں پر ایک پیکٹ رکھا ہوا تھا جس پر گفٹ ریپر چڑھا ہوا تھا۔۔۔ بلال پیکٹ نکال کر فضا کو دیکھنے لگا تو فضا مسکرانے لگی

"اور میرا دوسرا گفٹ"
بلال فضا کے پاس اکر گہری نظروں سے اسے دیکھ کر کہنے لگا 

"گفٹ گفٹ ہوتا ہے اور وہ ایک ہی ہوتا ہے،، جو تمہیں مل چکا تھا اس لیے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے" فضا جانے لگی تو بلال نے اسے روک  کر خود سے قریب کرتے ہوئے کہا 

"پر مجھے تو آج دوسرا گفٹ بھی چاہیے"
ؑبلال اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے بولا 

"بلال تم اوور ہو رہے ہو"
فضا نے اسے دور ہٹانا چاہا

"نہیں اب تم اوور ہو رہی ہوں"
بلال نے مزید گھیرا تنگ کیا 

"ہمدردی اور ترس کھا کر تم نے مجھ سے شادی کی اور تم کہہ رہے ہو کہ میں اوور ہو رہی ہوں"
بولتے ہوئے فضا کا گلا رؤندھا، مگر آنسو اس نے آنکھوں  سے باہر نہیں آنے دیئے۔۔۔ اس نے بلال کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹائے 

"کیوں کھاو گا میں تم ترس اپاہچ ہو تم لنگڑی لولی ھو جو تم پر ترس کھایا جائے یا ہمدردی کی جائے۔۔۔۔ تم آج بتاو فضا اپنی محبت کا کیا ثبوت دوں تمہیں"
بلال نے اس سے کہا

"کون سی محبت کی بات کر رہے ہو تم"
فضا نے حیرانگی سے پوچھا

"اسی محبت کی جو تمہیں کبھی نظر نہیں آئی"
بلال نے دوبارہ فضا کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا

"مجھے تمہاری کسی بات پر یقین نہیں" فضا نے بے یقینی سے بولا

"ٹھیک ہے پھر تو تمہیں مجھے ایک موقع دینا چاہیے۔۔  تاکہ میں اپنی محبت کا تمہیں یقین دلا سکو۔۔۔ ویسے بھی میرے جذبوں کی سچائی کا اندازہ تم اس وقت اس بات سے لگا لو کہ تم میری بیوی بن کر میرے سامنے کھڑی ہو"
بلال نے بولتے ہوئے فضا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے،،، فضا اپنے دل سے بغاوت کر کے بلال کی محبت پر ایمان لے آئی 

*****

"خلع لینے کا شوق چڑھا ہوا ہے تمہیں،، خلع چاہیے تمہیں مجھ سے،،، جواب دو"
گھر پہنچتے ہی زین نے اپنا اف کیا ہوا موبائل کھولا اور حور کا بازو وہ اپنے ہاتھ میں جگڑتے ہوئے بولا 

"تمہیں لگتا ہے شاہ کے میں تم سے خلع لے سکتی ہو"
حور نے افسوس سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا

"پھر وہاں پر یہ سب کیا ڈرامہ ہوا تھا"
زین نے حور کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے کہا جس میں نرمی کی بجائے سختی تھی

"تم مجھ پر شک کر رہے ہو شاہ"
حور نے آنکھوں میں شکوہ لیے ہوئے اس سے کہا

"اور تم کیا کر رہی تھی کل رات جواب دو"
زین نے سختی دکھاتے ہوئے اس کو مزید اپنے سے قریب کیا

"بات مت کرو مجھ سے اس موضوع پر، تم بہت برے ہو"
حور نے اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا اور آنکھوں میں ایک دم آئے ہوئے آنسو صاف کیے زین اس کو دیکھتا رہا

"حور یہاں دیکھو میری طرف"
زین نے دونوں ہاتھوں کا پیالہ بناکر حور کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا

"بس اتنا یقین ہے تمہیں اپنے شاہ پر"
زین سنجیدگی سے حور سے پوچھ رہا تھا اب اس کے لہجے میں ہلکی سی بھی غصے کی رمق نہیں تھی

"تو پھر کیوں موجود تھے تم وہاں پر تانیہ کے ساتھ"
وہ اب منہ بناکر اس سے پوچھ رہی تھی اس طرح سے وہ زین کو بالکل بچپن والی پری لگی

"تانیہ نے اشعر کے لئے انکار کردیا تھا وہی اس کو سمجھانے کے لئے لے کر گیا تھا
زین نے حور کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا

"کیا اشعر بھائی اور تانیہ"
حور نے حیرت سے زین کے سینے سے سر اٹھا کر اسکو دیکھا تو زین نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے

"اشعر پسند کرتا ہے تانیہ کو مگر تانیہ نے بلال کی ناراضگی کی وجہ سے اشعر کو انکار کردیا تھا۔۔۔ اس لیے اس کو سمجھانے کے لئے وہاں لے کر گیا تھا
زین حور کو بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ تک لایا اور بیڈ پر لیٹاتے ہوئے کہنے لگا

"مگر بلال بھائی نے کیوں انکار کردیا اشعر بھائی تو ہر لحاظ سے تانیہ کے لیے پرفیکٹ ہیں"
زین نے اس کا دوپٹہ سائڈ پر رکھا

"کیونکہ بلال کا دماغ خراب ہوگیا تھا" 
زین نے بولتے ہوئے حور کے ہونٹ کے نیچے تل پر اپنے ہونٹ رکھے

"اور اس سے پہلے کیوں ملتے رہے تھے تم تانیہ سے"
حور کا دماغ اب بھی خضر والی بات پر اٹکا ہوا تھا

"کس نے خناس بھرا ہے تمہارے دماغ میں"
حور کی بات سن کر زین کی پیشانی پر بل بڑے وہ اپنا سر اٹھاتے ہوئے بولا

"جواب دو،، کیا پوچھ رہا ہوں میں"
حور کی چپ رہنے پر زین نے دوبارہ پوچھا

"خضر بھائی نے کہا تھا انہوں نے کئی بار تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے" حور نے ڈرتے ہوئے جواب دیا

"تم تو کل رات فون پر کہہ رہی تھی کہ تم نے دیکھا ہے مجھے،، ایک منٹ خضر بھی وہاں موجود تھا یعنی تم خضر کے ساتھ وہاں پر تھیں"
زین نے اٹھتے ہوئے کہا حور نے اسکی شرٹ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا

"شاہ پلیز ناراض مت ہونا اور نہ ہی غصہ کرنا"
حور نے بیچارگی سے کہا

"اور تم اپنے خضر بھائی کی باتوں پر یقین کرنا اور شوہر پر شک کرنا،،، میں نے بچپن سے ہی صرف ایک لڑکی کو چاہا ہے حور وہ تم ہو۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں کسی اور میں Involve ہو سکتا ہوں، کہاں کمی دکھی ہے تمہیں میرے پیار میں"
وہ آب سنجیدگی سے حور سے پوچھ رہا تھا

"اچھا نہ ایم سوری معاف نہیں کرو گے اپنی پری کو"   حور نے بیچارگی سے کہا

"خالی خالی سوری سے تو بالکل بھی معاف نہیں کروں گا اب سخت سے سخت پنیشمنٹ کے لئے تیار ہو جاؤ"
زین نے معنی خیزی سے کہا اور اس کی گردن پر جھگ گیا

"میرے جانے کے بعد تم نے گھر کی کیا حالت بنا رکھی ہے شاہ،، کتنی بے ترتیبی ہے پورے کمرے میں"
حور نے زین کو پیچھے کرتے ہوئے کہا

"ہاں یار وہ بعد میں مل کر سیٹ کرلیں گے نہ ہم دونوں"
خمار آلود آواز میں وہ حور کے ہونٹوں کو فوکس کرتے ہوئے کہہ رہا تھا

"شاہ اس دن تم کہہ رہے تھے کہ بلال بھائی اور فضا کو ڈنر پر بلائیں گے تو کیوں نہ ہم کل انوائٹ کرلیں ان لوگوں کو"
حور نے اپنی شہادت والی انگلی زین کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے زین سے کہا

"وہ بھی بات میں ڈیسایڈ کرلیتے ہیں"
اس نے حور کی انگلی کو چومتے ہوئے پیچھے ہٹایا،، دوبارہ جھکا

"شاہ میں سوچ رہی تھی کیوں نہ ہم۔۔۔"

"شٹ اپ حور، اگر اب تم نے کچھ بھی بولا، تو پھر دیکھنا میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں"
زین نے حور کو گھورتے ہوئے وان کیا

اب حور نے اپنا منہ بلکل بند کرلیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی وہ صرف وارنگ نہیں دے رہا ہے۔۔۔۔ مشکل سے پانچ منٹ گزرے ہوگے کے زین کا موبائل بچ پڑا،، زین نے دوبارہ سر اٹھا کر حور کو گھورا

"اب میں نے کچھ نہیں بولا"
اس نے ہنسی دباتے ہوئے زین کے موبائل کی طرف اشارہ کیا

زین دوبارہ موبائل of کرنے لگا مگر نمبر دیکھ کر کال ریسیو کرلی

"ہیلو۔۔۔ جی بات کر رہا ہو۔ ۔۔ بولیے" زین اٹھ کر بیٹھا اور سنجیدگی سے بات سننے لگا

"اوکے میں دس منٹ میں پہنچتا ہوں"
کال ڈسکانٹ کر کے وہ اٹھا اور شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا

"کیا ہوا زین کس کا فون تھا"
حور نے بیڈ سے اٹھ کر زین کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"ہاں تم دروازہ اچھی طرح لاک کر لینا،،  میں بعد میں بات کرتا ہوں تم سے وہ کیز اور والٹ اٹھاتا ہوا سنجیدگی سے بولا

"سب ٹھیک ہے زین تم کب تک آؤ گے واپس"
حور نے اس کو جاتا ہوا دیکھ کر پوچھا"

"تھوڑی دیر لگ جائے شاید دروازہ لاک کرلو"
حور سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا

****


حور جوکہ کافی دیر سے یہ سوچ رہی تھی کہ زین کہا گیا ہے اس وقت وہ اتنا الجھا ہوا لگ رہا تھا کہ وہ پوچھ بھی نہیں سکی بعد میں کال کی تو وہ ریسیو نہیں کر رہا تھا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل پر کال آئی

"السلام علیکم ماما کیسی ہیں آپ" اسماء کی کال دیکھتے ہوئے حور کا زہن زین سے آسماء کی طرف گیا

"وعلیکم السلام ٹھیک ہو تم اور زین گھر پہنچ گئے تھے آسماء نے حور سے پوچھا

"جی گھر تو پہنچ گئے تھے مگر شاہ ابھی کسی کام سے نکلا ہے بس اسی کا انتظار کر رہی ہوں ماما آپ کہاں ہیں اس وقت"
حور کو ظفر مراد کی بات یاد آئی تو اس کو آسماء کی فکر ہوئی

"مجھے ارشد بھائی اپنے ساتھ گھر لے گئے تھے تم میری فکر نہ کرو میں بالکل ٹھیک ہوں" آسماء نے حور کو اطمینان دلایا

"ماما آج بہت برا ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا،، تایا ابو تو بہت ناراض ہیں ہم سے"
حور کو آج کے سارے قصے پر افسوس ہوا

"بیٹا کبھی کبھی بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے چھوٹی چھوٹی ناراضگی برداشت کرنی پڑتی ہیں" آسماء نے حور کو سمجھایا

"ٹھیک کہہ رہیں آپ۔۔ تایا ابو نے کتنی آسانی سے خلع کے پیپرز بنوالیے،  انہوں نے زرا بھی میرے بارے میں نہیں سوچا"
حور کو افسوس ہوا

"دیکھو حور میں تمہارا دل تمہارے تایا ابو یا ان کے گھر والوں سے برا نہیں کرنا چاہتی ہوں، مگر اب تم شادی شدہ ہو تمہیں  یہ حقیقت معلوم ہونی چاہیے تاکہ آگے زندگی میں تمہارے ساتھ خدا نا خاستہ کوئی مسئلہ نہ ہو،، پتہ نہیں یہ سب تمہیں زین نے بتایا ہے کہ نہیں۔۔"
پھر انہوں نے حور کو زین سے اپنے ہونے والی ساری باتوں کے ساتھ ساتھ ظفر مراد اور خضر کی ہونے والی بھی ساری باتیں بتائیں۔۔۔۔ حور کو ساری باتیں سن کر بہت زیادہ دکھ ہوا مگر جس بات پر اس کا دل برا ہوا وہ یہ کہ خضر نے زین کو میسج کر کے وہاں بلایا تھا

*****

"کیا ہوا ڈاکٹر اشفاق کیسی ہیں میری مدد"
زین نے اسپتال آتے ہی ڈاکٹر سے نادیہ بیگم کے بارے میں پوچھا

"آپ کو کافی دیر سے کال کر رہے تھے مگر کال ریسیو نہیں کی گئی۔۔۔ ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے ان کی حالت اچانک بگڑ گئی بیپی شوٹ کرنے کی وجہ سے وہ کومے میں چلے گئے ہیں۔۔۔ کنڈیشن ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں آیا آپ دعا کریں ان کے لئے"
ڈاکٹر اشفاق پروفیشنل انداز میں زین کو کہہ کر وہاں سے چلے گئے۔۔۔ زین وہی سن ہوکر کھڑا رہ گیا

دو گھنٹے بعد زین کو جو خبر دی گئی وہ اس کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھی اس کی اماں اس کی جنت اس کو چھوڑ کر دنیا سے جاچکی تھی۔۔۔ بلال اور اشعر بھی وہی اس کے پاس موجود تھے ساری فارمیلیٹیز ان دونوں نے یہ نبھائی،، زین کو اپنا بھی ہوش نہیں تھا کب ڈیڈ باڈی کو اسپتال سے گھر لایا گیا، کون کون اس سے ملا، کس کس نے دلاسہ دیا، کون کیا کہہ رہا تھا، وہ سب خالی خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا ہوش جب آیا جب بلال نے اس کو آخری بار چہرہ دیکھنے کے لیے کہا۔۔۔ تب وہ رویا بلال اور اشعر نہیں ہی اس کو سنمبھالا

دوسری طرف حور جو زین کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھی جس طرح بلال اور اشعر اس کو لے کر آئے اور جو خبر اشعر نے اس کو سنائی اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں ہوا نادیہ بیگم کا چہرہ بار بار حور کی آنکھوں کے سامنے آنے لگا ان کے جملے حور کے کانوں میں گونجنے لگے

"میں آج بہت خوش ہوں زین کا میرے سوا کوئی نہیں ہے دنیا میں لیکن اب تم آ گئی ہو۔۔۔ اس لئے میں مطمئن ہوں، اس کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑنا، حور وعدہ کرو مجھ سے"

حور کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے

"میں خود کیسے رہ سکتی ہوں آپ کے بیٹے کی بناء۔۔۔۔ میں کبھی بھی اس کو خود سے دور نہیں کروں گی"
 اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچا اور قدم دوسرے کمرے کی طرف بڑھائے جہاں زین موجود تھا۔۔۔ وہ اس کے پاس جانا چاہتی تھی، اس کا دکھ بانٹنا چاہتی تھی، اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی مگر کمرے میں موجود آفس ورکرز اور دوسرے مرد دیکھ کر واپس پلٹ آئی

****

سب لوگ تقریبا چلے گئے تھے گھر میں صرف بلال اور اشعر اپنی فیملیز کے ساتھ موجود تھے۔۔۔ شازیہ تانیہ اور فضا حور کے پاس روم میں ہی موجود تھی اس کی ماما اور ماموں تھوڑی دیر پہلے ہی گئی تھی جبکہ زین کے ساتھ بلال اور اشعر دوسرے کمرے میں موجود تھے

"اشعر تم انٹی کو گھر چھوڑنے جاؤ گے تو تانیہ اور فضا کو بھی ڈراپ کر دینا میں ابھی یہی ہو زین کے پاس"
بلال نے اشعر سے کہا

"ٹھیک ہے میں ممی تانیہ اور بھابھی کو ڈراپ کرکے آتا ہوں تھوڑی دیر میں" اشعر بولا

"تم دونوں کو بھی گھر جانا چاہیے آنٹی فضا اور تانیہ کیسے رہے گیں رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔۔ مجھے تو آپ رہنا ہے ہمیشہ اماں کے بغیر"
زین نے ان دونوں کی باتیں سن کر جواب دیا

"کیسی باتیں کر رہے ہو تم تمہیں لگتا ہے کہ ہم اس گھڑی میں تمہارا ساتھ چھوڑیں گے بلال نے زین کو دیکھتے ہوئے کہا

"مجھے پتا ہے تم لوگ زندگی میں کبھی بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑوں گے۔۔۔۔ حور ہے تو میرے پاس تم لوگ فکر نہیں کرو"
زین کے کہنے پر وہ دونوں زین سے مل کر چلے گئے


****


زین جب روم میں آیا تو حور بیڈ پر آنکھیں بند کی ہوئے لیٹی تھی سارا دن تھکن ہونے کے باعث اس کی آنکھ لگ گئی تھی اس لیے جاتے ہوئے شازیہ نے فضاء اور تانیہ کو بھی اس سے ملنے سے منع کر دیا تھا تاکہ اس کے آرام میں خلل نہ پڑے

کسی احساس کے تحت حور کی آنکھ کھولی تو سامنے زین بکھرا بکھرا سا کھڑا تھا۔۔۔ سارے دن کے بعد اتنے قریب سے حور اس کو اب دیکھ رہی تھی۔۔۔

"شاہ"
حور اٹھ کر بیٹھی اس سے پہلے وہ اٹھ کر اس کے پاس آتی زین نے آگے بڑھ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے حور کی گود میں اپنا سر رکھ دیا اس کا غم ایک بار پھر تازہ ہونے لگا

"حور اماں چلی گئیں مجھے چھوڑ کر"
جن آنسوؤں کو بلال اور اشعر کے سنبھلہ دینے پر اس نے روک لیا تھا اب وہ حور کی گود میں سر رکھ کر دوبارہ نکل آئے وہ بچوں کی طرح حور کی گود میں سر رکھ کر رو رہا اور حور کے آنسو زین کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے

"ایسے مت بولو شاہ میں ہونا تمہارے پاس اس طرح مت رو پلیز مجھے تکلیف ہورہی ہے اور اماں بھی تمہیں اسطرح دیکھ کر دکھی ہوگیںں"
حور نے زین کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا

کافی دیر تک وہ زین کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی،، زین شاید اس کی گود میں ہی سو چکا تھا۔۔۔۔ حور نے بھی بیڈ کے کراون سے سر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں

****

رات سے صبح ہو گئی خضر سوچوں کے بھنور میں ڈوبا ہوا تھا

"ہر بار زبردستی تم اس طرح حور کو نہیں لے کر جاسکتے زین۔۔۔۔ آج کے بعد تم کبھی بھی حور کو مجھ سے نہیں چھین سکو گے"

اس نے پسٹل دراز سے نکالی اور گھر سے باہر نکل گیا

****

صبح حور کی آنکھ کھلی تو زین کو بیڈ پر لیٹے ہوئے دیکھا وہ بھی جاگ رہا تھا

"کب اٹھے تم۔ ۔۔ مجھے کیوں نہیں اٹھایا"
حور نے اٹھتے ہوئے کہا

"ابھی آنکھ کھلی ہے تھوڑی دیر پہلے" زین نے حور کو دیکھتے ہوئے جواب دیا

"ٹھیک ہے پھر میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں"
حور نے بیڈ سے اترتے ہوئے کہا

"نہیں ناشتے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا بس ایک کپ اسٹرونگ سی چائے لونگا"
وہ بھی بیڈ سے اترتے ہوئے بولا

"شاہ میں ناشتہ بنانے جا رہی ہوں، مجھے اس وقت بہت زور کی بھوک لگی ہوئی ہے لیکن اگر تم نے کچھ نہیں کھایا تو میں بھی ناشتہ نہیں کروں گی"
حور نے سنجیدگی سے کہا اور بیڈ روم سے باہر چلی گئی
دوپہر میں قرآن خوانی تھی وہ چارہی تھی کہ زین کچھ کھالے پھر شام تک لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا۔۔۔۔ ناشتہ بنانے کے خیال سے وہ کچن میں گئی

دروازے پر بیل بجی تو زین دروازہ کھولنے کی نیت سے باہر گیا دروازہ کھولا تو سامنے خضر کو کھڑا پایا ابھی وہ خضر کو دیکھ کر اس کے آنے کی وجہ سمجھ بھی نہیں پایا تھا خضر اسے دھکا دے کر اندر آ گیا

"کون ہے شاہ"
 حور بھی کچن سے باہر نکل آئی اور سامنے خضر کو دیکھ کر ٹھٹک گئی

"تم ہر بار حور کو مجھ سے چھین کر نہیں لے جاسکتے زین، تمھارے پاس دو آپشن ہے اب بتاؤ اس کی زندگی سے جانا چاہتے ہو یا اس دنیا سے"
آخری بات کہتے ہوئے خضر نے پسٹل نکال کر زین کے سینے پر رکھی

"حور میری بیوی اور میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا تم دوسرا آپشن خوشی سے استعمال کرسکتے ہو"
 زین نے اس کے پسٹل کا رخ اپنے سر پر کیا

"یعنی تم اس دنیا سے جانا پسند کرو گے آگر تمہاری اسی میں خوشی ہے۔۔۔"
ابھی خضر بول ہی رہا تھا

"چٹاخ"
حور نے زور دار تھپڑ خضر کے منہ پر مارا

"ہمت کیسے ہوئی آپ کی میرے شوہر پر پسٹل تاننے کی کیا کرنے جارہے تھے آپ۔۔۔۔ اس کو ماریں گے آپ۔۔۔ بولیں؟ حور نے خضر کا گریبان پکڑ کر پوچھا اور خضر سکتے کے عالم میں کھڑا ہو کر حور کو دیکھ رہا تھا اسے یقین نہیں آیا کہ حور نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا ہے دوسری طرف زین کی بھی یہی حالت تھی

"شوہر ہے یہ میرا،، زندگی ہے میری،، مجھ سے میری زندگی چھیننا  چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔ کیوں؟؟ بولیے آج، کیوں چاہتے ہیں آپ ایسا"
حور شاید اپنے حواسوں میں نہیں تھی اس کا گریبان پکڑ کر چیخ کر بولی

"اس نے بھی تو تمہیں مجھ سے چھینا ہے حور"
خضر ٹرانس کی کیفیت میں بولا

"بھائی کا مطلب سمجھتے ہیں آپ؟؟ بولیے بھائی کہتی ہوں میں آپ کو۔۔۔ بلکہ کہتی ہی نہیں مانتی ہوں۔۔۔اس کو مارنا ہے نہ آپ نے مار دیجیے گا مگر اس سے پہلے مجھے مار دیجیے"
حور زین کے سامنےآئی خضر کا پسٹل والا ہاتھ تھام کر رخ اپنی طرف کیا"

"حور کیا کر رہی ہو ہٹو سامنے سے گولی چل جائے گی"
‏حور نے پسٹل کا رخ اپنی طرف کیا تو زین حور کو کندھے سے تھام کر بولا

"نہیں شاہ آج انہیں وہ کرنے دو جن سے ان کی زندگی میں سکون اجائے۔۔۔ مار ڈالیں آپ کے خضر بھائی میرے شوہر کو بھی مگر اس سے پہلے مجھے"
حور روتے ہوئے کہہ رہی تھی

خضر نے پسٹل والا ہاتھ حور کے ہاتھ سے چھڑا کر نیچے کیا،، اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا وہ حور کو دیکھ رہا تھا پھر وہ زیادہ دیر رکا نہیں وہاں سے چلا گیا 

"حور کیا کرنے والی تھی۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو" زین نے حور کو گلے لگاتے ہوئے کہا وہ اب بھی زین کے گلے لگ کر رو رہی تھی  زین نے حور کا چہرہ اوپر کر کے آنسو صاف کیے اور اسکے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے

"چلو اندر"
پیار کا رشتہ ان دونوں میں قائم تھا ہی اور اعتبار کا بھی قائم ہوچکا تھا

****

"خضر بیٹا یہاں اتنے اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہو" فاطمہ نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا

"خضر کیا ہوا تمہیں تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ"
فاطمہ نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے خضر کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا

"امی میں بہت برا ہونا، بہت برا ہوں میں۔۔۔۔ میں نے ہمیشہ خود کو حق پر سمجھا، آپ کی نافرمانی کی، ہمیشہ ضد لگائی۔۔۔۔ جو چیز میری تھی ہی نہیں اس کو پانے کے لئے صحیح غلط سب بھول گیا اور آج دیکھیں میری کیا حالت ہو گئی ہے"
وہ فاطمہ کے گلے لگ کر روتے ہوئے کہنے لگا

"نہیں میری جان تم میرے بہت پیارے بیٹے ہو،  سب سے اچھے بیٹے۔۔۔ ایسے دل چھوٹا نہیں کرو"
فاطمہ بھی اس کو ساتھ لگائے کوئی ہراساں ہوئی

ظفر مراد اندر کمرے میں آئے تو اندر کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئے

"کیا ہوا ہے آپ دونوں کو اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں"
انہوں نے دونوں کو دیکھ کر پوچھا

"آپ دیکھیں نہ اسے کیا ہو گیا ہے، کس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔۔۔ مجھے بھی پریشان کر رہا ہے"
فاطمہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے شوہر سے کہا

"خضر اگر میں چپ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے ہمت ہار دی ہے۔ ۔۔۔ حور اب زین سے خود طلاق بھی لے گی اور بہت جلد خود چل کر اس گھر میں خود آئے گی"
ظفر مراد نے خضر سے کہا

"ابو آپ ایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جس سے حور کو پریشانی ہو۔۔۔۔ وہ زین کے ساتھ خوش ہے اور میں اسے ہمیشہ خوش دیکھنا چاہتا ہوں
خضر چہرہ صاف کرتے ہوئے ظفر مراد سے بولا

"اور میں تمہیں بھی خوش دیکھنا چاہتی ہوں میری جان۔۔۔۔ خضر تمہیں اس طرح دیکھ کر میرا دل بہت دکھ رہا ہے"
فاطمہ ایک دفعہ پھر ہراساں ہوئی

"امی میں خوش ہوں بلکہ آپ کی مرضی اور خوشی میں ہی میری خوشی ہے۔۔۔ مگر مجھے تھوڑا وقت لگے گا پلیز"
خضر کہتا ہوا روم سے باہر چلا گیا

****


7 ماہ بعد


فضا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہو رہی تھی۔۔۔ بلال چلتا ہوا اس کے پاس آیا

"ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تمہاری تیاری۔۔۔۔ فضا ہمہیں وہاں پر مہمانوں سے پہلے پہنچنا ہے پلیز جلدی جلدی تیار ہو"
بلال نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا

"اگر میں لیٹ ہو رہی ہونا تو تمہاری وجہ سے لیٹ ہو رہی ہو۔۔۔ اس لئے زیادہ شور کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
فضا نے دوپٹہ اگے پھیلا کر اڑتے ہوئے
کہا

ان سات ماہ میں یہ تبدیلی آئی تھی کہ وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی اور وجہ یہ تھی چند مہینوں بعد وہ ماں کے مقام پر فائز ہونے والی تھی

"چلو جی تمہارے لیٹ ہونے میں بھی مجھ معصوم کا قصور ہے"
بلال نے افسوس کرتے ہوئے کہا

"تو تمہیں لگی ہوئی تھی کہ مہندی لگوا کر آو مہندی لگوا کر آو۔۔۔۔ پتہ بھی ہے نا شادی والے گھر میں کتنے کام ہوتے ہیں"
وہ سارا ملبہ بلال پر گراتے ہوئے بولی

"اچھا دکھاؤ تو مہندی کیسی لگی ہے"
‏وہ فضا کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا اور مہندی کے ڈیزائن کو غور سے دیکھتے ہوئے اس کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا

"بلال مہندی کی خوشبو بعد میں سونگ لینا ہم اب بھی لیٹ ہو رہے ہیں"
فضا نے مسکراتے ہوئے کہا اور بلال نے اس کو گھور کر دیکھا   

 *****       

 
"افوہو حور تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی۔۔۔ دو بار فون آ چکا ہے اشعر کا سب پہنچ گئے ہیں اور ہم ہی لیٹ ہیں" زین نے دوبارہ کمرے میں آکر حور کو بتایا مگر اس کی تیاری تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی

5منٹ ویٹ کرو شاہ بس تھوڑی سی تیاری رہتی ہے"
حور نے اپنے بال سیٹ کرتے ہوئے کہا

"سویٹ ہارٹ اگر پانچ منٹ کے بعد بھی تمہارے پانچ منٹ ختم نہیں ہوئے تو میں اشعر کو معذرت کا فون کرکے آج کا پروگرام کینسل کر دوں گا"
زین اس کو پیار سے وان کیا

"شاہ تمہیں پتہ ہے نا کتنی محنت کرنی پڑتی ہے تیار ہونے میں اور اب تم اوپر سے بار بار آکر مجھے ڈسٹرب کر رہے ہو اگر تم نے اشعر بھائی کو معذرت کا فون کیا نہ تو وہ اپنی شادی کا پروگرام کینسل کردیں گے۔۔۔  تمہارے بغیر تو وہ گھڑی بالکل نہیں چڑھنے والے"
حور نے زین کو تسلی سے جواب دیا اب تک اسے بلال اور اشعر کے ساتھ زین کی دوستی کا اندازہ ہو چکا تھا

"تو میری جان اپنے اشعر بھائی پر ترس کھاؤ اور جلدی جلدی تیار ہو"
زین اس پر محبت بھری نظر ڈال کر باہر نکل گیا حور بیٹھ کر آپنی سینڈل کے اسٹریپ بن کرنے لگی

*****

زین اور حور بینکوئٹ میں داخل ہوئے تو بلال اور فضا کو وہی اپنا منتظر پایا

"کافی جلدی نہیں  آگئے آپ لوگ آج بارات کے فنکشن میں"
فضا نے زین اور حور کو دیکھتے ہوئے کہا

"اگر میں حور کو پروگرام کینسل کرنے کی دھمکی نہیں دیتا تو اسے مزید میک اپ میں 2 گھنٹے لگانے سے۔۔۔۔مجھ شریف انسان کو تو پندرہ منٹ چاہیے تیار ہونے میں"

"کوئی بات نہیں دوست تمہارا غم اور میرا غم ملتا جلتا ہے یہاں پر بھی یہی حال ہے"
بلال نے اپنا رونا رویا

"بالکل دنیا میں دو ہی تو شریف انسان ہے آپ اور زین بھائی،، چلو حور تانیہ سے ملواتی ہوں"
فضا نے تب کر کہا حور ان کو وہاں سے لے کر چلی گی

"تم بھی چلو اشعر بار بار تمہارا پوچھ رہا تھا"
زین اور بلال بھی وہاں سے اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے

آج اشعر اور تانیہ کی شادی تھی تانیہ دلہن بن کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی نکاح کے بعد جب اسے لا کر اشعر کے پہلو میں بٹھایا گیا تو سب نے ان دونوں کی جوڑی کو سراہا۔۔۔۔۔۔۔ زین اور حور، فضا اور بلال جب اسٹیج پر تانیہ اور اشعر کو مبارکباد دینے پہنچے تو فوٹوگرافر نے ان تینوں جوڑی کو تصویر کی صورت اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا


ختم شد❤

Monday, December 10, 2018

episode 48 (second last)

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Second last epi 48


"بلال مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے" اشعر ابھی آفس نہیں پہنچا تھا زین نے موقع دے کر بلال سے کہا 

"پہلے یہ بتاؤ کہ بھابھی کی طبیعت کیسی اور کب واپس لے کر آرہے انھیں"
بلال نے زین سے حور کے بارے میں پوچھا 

"آج اس کی طبیعت درست کرنے ہی جا رہا ہوں"
 زین بڑبڑایا 

"کیا مطلب"
 بلال نے چونکتے ہوئے پوچھا 

"مطلب ٹھیک ہے طبیعت اب پہلے سے،، باقی کی گھر آکر ہو جائے گی، ،، آج شام میں جاؤں گا اس کو لینے کے لئے" زین نے بلال کی بات کا جواب دیا اسے حور کی رات والی بات کو سوچ کر ابھی تک غصہ آ رہا تھا 

"کیا ابھی تک ناراضگی ختم نہیں ہوئی حور بھابھی کی تم سے" 
بلال نے زین کو سوچوں میں گم دیکھ کر اس سے سوال کیا 

"کبھی کبھی ناراضگی دور کرنے کے لیے مقابل کا دماغ درست کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔۔۔۔ آج اس کا دماغ درست ہوجائے گا تو ناراضگی بھی خود بخود ختم ہو جائے گی"
زین نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا 

"زین پلیز اب کوئی غصے میں الٹی سیدھی حرکت کر کے مزید اپنے لئے پرابلمز نہ بڑھانا۔۔۔۔ اپنے غصے کو تھوڑا سا کنٹرول کرو،، یہ تم دونوں کے لئے اس رشتے کے لئے بہتر ہے" 
بلال نے زین کو اپنی طرف سے مخلصانہ مشورہ دیا 

"ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو تم"
زین نے سر جھٹک کر کہا اب اس سے کیا شیئر کرتا کہ اس کی بیوی کیا کیا سوچ کر بیٹھی ہوئی ہے 

"یار ویسے ایک بات تو ہے، ان بیویوں کے چکر بھی سمجھ میں نہیں آتے بندہ پاگل ہو جائے کہ ان کا منہ کس بات پر بنا ہوا ہے اور کب ٹھیک ہونا ہے کس طرح ٹھیک ہونا ہے" 
بلال نے فضا کو یاد کر کے اپنا دکھڑا رویا

"خیر میری اور تمہاری سچویشن تو بالکل ہی مختلف ہے مگر سیانے یہ بھی کہتے ہیں کہ گھی جب سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی چاہیے"
زین نے بلال کو مشورہ دیا

"تمہاری بات کا مطلب"
بلال نے ناسمجھی سے کہا

"مطلب یہ کہ تمہارا کچھ بھی نہیں ہوسکتا تم جیسا بےوقوف diserve کرتا ہے کہ اسے منہ نہ لگایا جائے"
زین نے الٹا بلال کی کلاس لی

"کیوں کیا بیوقوفی کی ہے میں نے ذرا آج تم مجھے بتاؤ" بلال نے زین سے پوچھا 

"دیکھو بلال جو گزر گیا ہے اس بات کو جانے دو مگر تم جو اب بےوقوفی کر رہے ہوں پلیز اس معاملے کو تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچو" زین اسے ٹریک پر لایا

"کس معاملے کی بات کر رہے ہو تم" 
بلال سمجھ تو گیا تھا مگر انجان بن کر پوچھنے لگا

"تم جانتے ہو میں کس معاملے میں بات کرو مگر پھر بھی بتا دیتا ہوں۔۔ اشعر اور تانیہ کے سلسلے میں بات کر رہا ہوں میں تم سے" زین نے بات کا آغاز کیا 

"اس ٹاپک میں ایسا کچھ خاص نہیں ہے جس پر بات کی جا سکے"
بلال نے زین کو جواب دیا 

"کیوں بلال! تمہیں اشعر پسند نہیں ہے تانیہ کے لحاظ سے؟ چلو مجھے بتاؤ اس میں برائی کیا ہے،، وہ تانیہ کو پسند کرتا ہے اس سے شادی کا خواہشمند ہے۔۔۔ دو سال سے اس کی اور ہماری دوستی ہے ہم دونوں ہی اس کی عادت اور نیچر سے اچھی طرح واقف ہیں،،، تم نے اس میں کون سی ایسی غیر اخلاقی حرکت دیکھی ہے جو وہ تمہیں تانیہ کے لحاظ سے ناپسند ہے۔۔۔۔ دیکھو بلال تم بھی جانتے ہو میں تانیہ کو اپنی بہن سمجھتا ہوں اور ایک بھائی ہونے کے ناطے مجھے تو تانیہ کے لحاظ سے اشعر میں کوئی برائی نظر نہیں آتی"
زین نے اپنی طرف سے بلال کو سمجھانے کی کوشش کی  

"تم نے ٹھیک کہا زین وہ بہت کم عرصے میں ہمارا بہت گہرا دوست بن گیا ہے اور مجھے وہ تمہاری ہی طرح عزیز ہے لیکن وہ اس طرح میری بہن کے ساتھ ڈیٹنگ کپل کی طرح  ریسٹورینٹ میں بیٹھا مسکرا کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔ شادی بہت مقدس بندھن ہے، ، اگر وہ تانیہ سے شادی کا خواہشمند تھا تو اسے چاہیے تھا شریفانہ طریقہ سے رشتہ بھیجتا۔۔۔۔ نہ کہ اس کو ریسٹورینٹ میں لے کر گھومتا 

"بلال اشعر تانیہ کو اس لئے وہاں لے کر گیا تھا تاکہ وہ رو برو اس کی مرضی جان سکے اور تانیہ کی رضامندی جان کر ہی وہ انٹی کو تم لوگوں کے گھر تانیہ کے رشتے کے لئے بھیجتا"
 زین نے بلال کو نرمی سے سمجھانا چاہا زین کی بات سے بلال کے تنے ہوۓ اعصاب تھوڑے ڈھیلے ہو ئے اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا  اشعر روم میں آیا

"السلام علیکم"
اس نے سب سے پہلے زین سے مصافحہ کیا اور پھر بلال کی طرف ہاتھ آگے بڑھایا بلال نے ایک نظر اس کو دیکھا اس کا ہاتھ دور جھٹکا 

"تانیہ میری بہن ہی نہیں میری بیٹی بھی ہے،، اگر شادی کے بعد اس کے ساتھ کوئی جھگڑا کیا یا اس کا دل دکھایا تو میں تمہارا گلا دبا دوں گا"
یہ بولتے ہیں بلال نے اشعر کو گلے لگا لیا۔۔ جس پر اشعر نے بے یقینی سے سامنے کھڑے مسکراتے ہوئے زین کو دیکھا۔۔۔ زین کے موبائل پر کال آرہی تھی زین موبائل پر نام دیکھا اور کال کنکٹ کر کے باہر نکل گیا       


**


تانیہ یہاں آو یہاں بیٹھو میرے پاس" افس سے گھر آنے کے بعد بلال نے تانیہ کو بلایا 

وہ فضا کے پاس سے اٹھ کر صوفے پر بلال کے پاس بیٹھ گئی 

"بھائی میں جانتی ہوں میری وجہ سے آپ بہت ہرٹ ہوئے ہیں لیکن میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا بالکل بھی نہیں تھا پلیز آپ مجھے معاف کردیں۔۔۔ اب دوبارہ کبھی غلطی نہیں ہو گئی آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی پلیز مجھ سے بات کرنا،  میری طرف دیکھنا مت چھوڑیں"
تانیہ نے روتے ہوئے بلال سے کہا بلال نے اس کو گلے لگایا 

"تانی میری گڑیا چپ ہو جاؤ نہیں ہوں میں تم سے ناراض ۔۔۔بس تھوڑا غصہ آیا تھا یہی سوچ کر کہ اس پوری دنیا میں تمہیں ایک وہی گھامڑ انسان ملا ہے،، مگر پھر یہ سوچ کے مطمئن ہو گیا وہ گھامڑ ضرور ہے مگر دل کا برا نہیں ہے میری گڑیا کو خوش رکھے گا" 
بلال کے بولنے پر تانیہ نے سر اٹھا کر بے یقینی سے بلال کو دیکھا بلال نے مسکراتے ہوئے تانیہ کے آنسو صاف کیے اور فضا ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔۔۔ بلال کی نظر فضا پر پڑی تو اس کی مسکراہٹ معدوم ہو گئی 

"میڈم اب آپ بھی راہ راست پر آجائے شرافت سے"
بلال نے فضا کو کہا تو فضا نے گھور کر بلال کو دیکھا

** 

شام میں زین ظفر مراد کے گھر حور کو لینے پہنچا اور عبداللہ (نوکر) سے  حور کو بلانے کے لئے کہا

"بڑے صاحب حور بی بی کے شوہر آئے ہیں وہ حور بی بی کو بلانے کا کہہ رہے تھے میں نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا"
خضر بھی وہی موجود تھا، ظفر مراد اور خضر نے چونک کر ایک دوسرے کو دیکھا

"ٹھیک ہے عبداللہ تم حور کو بھیجو اور خضر تم پیپرز لے کر ڈرائنگ روم میں آو" 
ظفر مراد نے کمرے سے نکلتے ہوئے جواب دیا      

***

"حور بی بی آپ کے شوہر آئے ہوئے ہیں بڑے صاحب نے آپ کو ڈرائنگ روم میں آنے کے لیے کہا ہے" عبداللہ نے حور کو ظفر مراد کا پیغام دیا

"تم جاو حور آرہی ہے"
اسماء نے عبداللہ کو جواب دیا اور حور کو چلنے کے لئے کہا خود بھی کھڑی ہو گئی

***


"تم سے بڑھ کر ڈھیٹ شخص میں نے آج تک دنیا کے تخت و تاج پر نہیں دیکھا۔۔۔۔نہیں جانا چاہتی ہے اب حور تمہارے ساتھ واپس، تو پھر کیوں بار بار یہاں پر آجاتے ہو"  ظفر مراد نے کمرے میں آتے ہوئے زین کو دیکھ کر ناگواری سے کہا 

"حیرت ہے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا آپ نے۔۔۔ ڈھیٹ پن کا اگر کوئی ایوارڈ دیا جائے تو آپ کا بیٹا اس کا مستحق ہوگا،، جب سے حور میری بیوی بنی ہے وہ تو کسی جونک کی طرح ہماری زندگی سے چپک گیا ہے"
زین نے ساری تمیز بلائے طاق رکھتے ہوئے ظفر مراد کو جواب دیا 

"حور تمہاری بیوی بعد میں بنی ہے پہلے وہ اس کی کزن تھی"
ظفر مراد جتاتے ہوئے بولے

"لیکن اب وہ میری بیوی پہلے ہے یہ آپ اپنے بیٹے کو اچھی طرح ذہن نشین کرا دئیے گا کیونکہ میرے سمجھانے کا اسٹائل شاید آپ کو پسند نہ آئے"
زین نے ابرو اچکا کر ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا

اتنے میں روم میں خضر اور اس کے پیچھے اسماء اور حور بھی داخل ہوئے

"حور ابھی کے ابھی میرے ساتھ گھر چلو"
زین نے کمرے میں آتی ہوئی حور کو دیکھ کر کہا اس کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی ساتھ ہی زین کا موبائل بجنے لگا جس پر اس نے توجہ نہیں دی

"حور اب کہیں بھی نہیں جائے گی حور بیٹا یہاں اور ان پیپرز پر سائن کرو اور اس کی خوشی فہمی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرو" 
ظفر مراد نے خضر کے ہاتھ سے پیپرز  لیتے ہوئے حور کو مخاطب کیا

"کیا ہے ان کے پیپرز  میں"
زین کا ماتھا ٹھنکا، حور سے پہلے زین نے ظفر مراد سے سوال کیا

"یہ خلع کے پیپرز ہیں اور وہ تمہارے ساتھ مزید کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتی ہے"
ظفر مراد نے زین کے ساتھ ساتھ حور کے اوپر بھی بم پھوڑا    

ظفر مراد کی بات سن کر جتنی بے یقینی سے زین حور کو دیکھ رہا تھا اتنی ہی بے یقینی سے حور ظفر مراد کو دیکھ رہی تھی مانا کہ وہ زین سے ناراض تھی مگر اس کو چھوڑنے کا تصور تو وہ خواب میں بھی نہیں کر سکتی تھی زین کے موبائل کی بیل نے کمرے کی خاموشی کو توڑا تو زین ہوش میں آیا 

زین پھرتی سے ظفر مراد کی طرف بڑھا ایک لمحہ لگائے بغیر اس نے پیپر ظفر مراد کے ہاتھ سے لے کر اس کے پرزے پرزے کر دیے یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ظفر مراد اور خضر دونوں ہی ہکا بکا رہ گئے 

"میں کوئی اب بارہ سال کا بچہ نہیں ہوں جس سے تم آسانی سے اس کا حق چھین سکو۔۔۔ اگر تم نے یا تمہاری اولاد نے کچھ بھی میرے یا حور کے ساتھ غلط کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا میں تمہاری اور تمہارے اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا،،، اسے خالی خولی دہمکی ہرگز نہیں سمجھنا"
ہاتھ میں پیپرز کے پرزے ظفر مراد کی طرف ہوا میں اچھالتا ہوا زین نے اپنا رخ حور کی طرف موڑا 

"چلو گھر حور"
زین نے تیز لہجے میں حور سے کہا

"حور تمہارے ساتھ نہیں جائے گی۔۔۔ حور میں نے تمہیں باپ کی طرح پالا ہے اب وقت آگیا ہے کہ تم اس کا صلہ دو،، اس شخص کے منہ پر کہوں کہ تمہیں اس کے ساتھ کہیں نہیں جانا اور اگر آج تم اس گھر سے اس شخض کے ساتھ گئی تو سمجھ لینا تمہارا تعلق ہمیشہ سے اس گھر سے ختم ہوجائے گا"
ظفر مراد نے حور کو عجیب کشمکش میں ڈال دیا

"یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں تایا ابو" 
حور نے بےبسی سے ظفر مراد کو دیکھ کر کہا

"اس کو ابھی کے ابھی یہاں سے رخصت کرو" 
ظفر مراد نے زین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حور سے کہا

"زین اکیلا نہیں جائے گا بھائی صاحب۔۔۔۔۔ حور تم ابھی کے ابھی زین کے ساتھ اپنے گھر پر جاؤ"
آسماء کی آواز پر سب نے مڑ کر آسماء کی طرف دیکھا

"یہ کیا بول رہی ہو اسماء ہوش میں تو ہو تم۔ ۔۔۔اس لٹیرے کے ساتھ اپنی بیٹی کو بھیج رہی ہوں کیسی ماں ہو تم" ظفر مراد کو آسماء کا بولنا اس وقت بری طرح کھلا

"بھائی صاحب اپنا حق وصول کرنے والا لٹیرا نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے حق چھیننے والے کو لٹیرا کہا جاتا ہے  اور زین حور کا شوہر ہے اور حور اس کے ساتھ ہی جائے گی"
اسماء نے بیٹی کی خاطر آج پہلی بار ظفر مراد کے آگے بولنے کی جرات کی

"چچی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں" 
خضر نے حیرانی سے اسماء کو دیکھتے ہوئے بولا

"خضر بیٹا آپ اس معاملے میں مت بولو میں بات کر رہی ہوں۔ ۔۔۔۔ حور زین کے ساتھ جاو" 
آسماء نے خضر کو جواب دیتے ہوئے حور کو دوبارہ جانے کے لئے کہا

"ٹھیک ہے پھر، اگر حور اس گھر سے جائے گی تو تم بھی نکلوں اس گھر سے تمہاری بھی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے"
مظفر مراد غصے میں چیخے

"چلیے آنٹی آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں"
بار بار کال آنے پر زین نے اپنا موبائل of کیا حور کا ہاتھ پکڑ کر آسماء سے بولا

"نہیں بیٹا تم حور کو لے کر نکلوں مجھے تھوڑی دیر میں ارشد بھائی لینے آ رہے ہیں"
اسماء نے زین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا

اس دنِ ظفر مراد اور خضر کی سب باتیں سن چکی تھی اور حور کی زندگی کو داؤ پہ لگا کر وہ ان کا پلان کامیاب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ اس لئے آج صبح ہی انہوں نے زین کو فون کر کے ظفر مراد اور خضر کے ارادے بتائے بغیر وہ قصہ جانا جو زین اور ظفر مراد سے دشمنی کا سبب تھا۔ ۔۔۔ زین نے شروع سے آخر تک آسماء کو سارا قصہ بتا دیا  ساتھ میں یہ بھی بتایا کہ کس طرح خضر نے ان نون نمبر سے اس کو میسج کر کے ریسٹورینٹ بلایا تاکہ حور اور اس کے درمیان نا اتفاقی پیدا ہو

باہر نکل کر زین حور کا ہاتھ پکڑے ابھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ پیچھے سے خضر کی آواز سنائی دی

"حور تم اس کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں، اس کی اصلیت جانتے ہوئے بھی تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا یہ کسی اور لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا۔۔۔"
خضر کے منہ پر پڑنے والے تھپڑ سے اسکی بات ادھوری رہ گئی پھر ایک نہیں ایک کے بعد لگاتار تین چار تھپڑوں اور مکوں نے خضر کو سمھلنے کا موقع نہیں دیا 

آسماء دور سے بھاگتی ہوئی آئی اور انہوں نے زین کا ہاتھ روکا 

"زین بیٹا پلیز چھوڑیں آپ اسکو خدا کا واسطہ ہے"
آسماء کے گھبرا کر بولنے پر اسکا ہاتھ روکا

"میں نے تمہیں بار بار وان کیا تھا کہ میرے اور حور کے بیچ میں مت آنا"
زین نے نیچے گرے ہوئے خضر کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔ واپس مڑا اور حور کے قریب آیا،، وہ اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھکر پوری آنکھیں پھیلائے ہوئے بے یقینی سے وہ منظر دیکھ رہی تھی۔ ۔ زین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔۔ وہ کن اکھیوں سے زین کو گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا دیکھ رہی تھی زین سنجیدگی سے کار ڈرائیو کر رہا تھا


**

episode 47

Itni mohbbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 47



"کہاں پر ہے سب لوگ"
بلال نے کچن میں آتے ہوئے فضا سے سوال کیا 

"ماموں جان بیڈ پر لیٹے ہوئے غالبا ٹی وی دیکھ رہے ہیں ثانیہ اپنے سسرال میں موجود ہے،،رانیہ آپی بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں مصروف ہیں،،، میں تمہارے سامنے کچن میں کھانا بنا رہی ہوں"
فضا نے مصروف انداز میں مگر تفصیل سے ایک ایک بندے کا بلال کو بتایا 

"تم کبھی بھی میری کسی بات کا سیدھے انداز میں جواب نہیں دینا"
بلال نے فضا کو گھورتے ہوئے کہا 

"تو تم بھی سیدھے انداز میں جس کا پوچھنا چاہ رہے ہو ڈائریکٹ اسی کو پوچھو۔۔۔۔ تم نے خود ہی تو کہا ہے کہ سب کہاں پر ہیں،، تو میں نے سب کا بتادیا"
فضا نے مسکراتے ہوئے بلال سے کہا مگر یہ مسکراہٹ دل جلانے والی مسکراہٹ سے کم نہیں تھی،، جسے دیکھ کر آیک پل بلال نے گھور کر فضا کو دیکھا مگر پھر اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آنے لگی جسے وہ چھپا گیا 

"پوری فلم ہو تم" بلال سیلڈ کی پلیٹ میں سے کھیرا اٹھا کر کھاتے ہوئے بولا

"بالکل وہ بھی تین گھنٹے کی ایکشن سے بھرپور"
فضا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا 

"اور اگر میرا رومنٹک فلم دیکھنے کا دل چاہے تو"
بلال میں بخور اس کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا 

"ہاہاہا رومانٹک فلم وہ بھی کچن میں" فضا نے ہنستے ہوئے کہا 

"بیڈروم کوئی ہمارا دوسرے ملک میں تھوڑی ہے جو جانے میں ٹائم لگے" 
بلال نے قریب آکر اس کا بازو کھینچتے ہوئے کہا 

"بلال ابھی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے کھانا بنانے دو، ماموں کے پاس بیٹھو وہ اکیلے ہیں" 
فضا نے اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا 

"اوکے ابھی فری نہیں ہوتا مگر رات کو تو فری ہونے کی اجازت ہے نا مجھے"
بلال نے لو دیتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ کر اس سے پوچھا

"بلال پلیز جاو کچن سے"
فضا نے دوبارہ کہا   

"تمہاری طرح تمہاری آنا بھی عزیز  ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار میں اس کا بھرم رکھو ویسے ہو تم بہت ظالم بیوی" 
بلال نے فضا کو دیکھتے ہوئے کہا اور ایک اور کھیرا اٹھا کر منہ میں ڈالا 

"شاید ظالم ہوں مگر تم سے کم اور اگر آب تم نے دوبارہ کھیرا اٹھایا تو میں تمہیں کچن سے دھکے دے کر نکال دوں گی سیٹنگ خراب نہیں کرو" 
فضا نے وان کرتے ہوئے بلال کو کہا 

"کیوں کیا کوئی مہمان آرہا ہے"
بلال نے پوچھا 

"ہاں زین بھائی آئے تھے شام میں وہی تانیہ کو لے کر باہر گئے ہیں،، کہہ رہے تھے ضروری بات کرنی ہے تو میں نے انہیں کہہ دیا کہ رات کا ڈنر ہمارے ساتھ ہی کریے گا" فضا بلال کو تفصیل سے بتانے لگی 

"ہہمم ٹھیک ہے میں ابو کے پاس جا کر بیٹھتا ہوں"
بلال کچن سے باہر نکل گیا    

**

خضر اور حور گھر پہنچے تو خلاف توقع فاطمہ اور اسماء ایک ساتھ بیٹھی ہوئی ان دونوں کا انتظار کر رہی تھی 

"کہاں سے آ رہی ہو حور اس وقت کوئی فکر کوئی احساس ہے تمہیں کتنی دیر ہو گئی ہے"
آسماء نے حور کو گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر سنانا شروع کردی 

"کیا ہوگی چچی حور میرے ساتھ گئی تھی بلکہ میں خود اس کو لے کر گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے" خضر جو کہ حور کے پیچھے ہی آرہا تھا آسماء کو دیکھ کر بولا 

"کون سے ایسے غم لگے ہوئے ہیں اسے جو گھر میں اس کی طبیعت بہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔۔۔۔ بی بی یہ گھر بسانے والی لڑکیوں کے طور طریقے  نہیں ہوتے ہیں کب تک تمہارا یہاں پڑے رہنے کا ارادہ ہے اور تم خضر میں نے پہلے بھی کہا تھا اپنی راہیں درست سمت پر کرلو تمہیں سمجھ میں نہیں آتی ماں کی بات" فاطمہ نے حور کو کھری کھری سنائیں اور ساتھ ہی بیٹے کو بھی جھاڑا 


"کیا شور مچا رکھا ہے آپ لوگوں نے اس گھر میں،، ایسا کیا ہوگیا جو اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے"
ظفر مراد اپنے بیڈروم سے آوازیں سن کر باہر آئے

"ابو میں حور کو تھوڑی دیر کے لیے باہر لے کر چلا گیا تھا تاکہ اس کی طبیعت بہل جائے شاید امی اور چاچی کو یہ بات ناگوار گزری ہے" ایک نظر اس نے حور کی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا

"اگر وہ حور کو باہر لے کر گیا تھا تو اس میں ایسی کون سی آفت ٹوٹ پڑی ہے جو آپ دونوں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے"
ظفر مراد خضر کو جاتا دیکھ کر فاطمہ آسماء کی طرف رخ موڑتے ہوئے بولے 

"کوئی اچھی لڑکیوں کے لچھن نہیں ہوتے شادی شدہ ہوکر بھی کزنز کے ساتھ اکیلے سیر سپاٹوں کے لئے نکل جائیں پیچھے کوئی فکر ہی نہ ہو" 
فاطمہ نے حور کو گھورتے ہوئے بولا

"حور اندر جو بیٹا آپ"
ظفر مراد نے حور کو دیکھ کر بولا وہ آنسو صاف کرتی ہوئی فورا اندر چلی گئی

"اور آپ دونوں یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں حور مجھ پر بھاری نہیں ہے اور اگر خضر اسے باہر لے کر جانا چاہے یا وہ خود خضر کے ساتھ جانا چاہے تو آپ دونوں میں سے کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ جو بھی کچھ ہو رہا ہے میری آنکھیں کھلی ہوئی ہے اور سارے فیصلوں کا حق بھی میں رکھتا ہوں لہذا آئندہ اس گھر میں اس طرح کے ڈراموں سے گریز کریے گا" 
ظفر مراد یہ کہ کر وہاں سے چلے گئے اور ان کے پیچھے فاطمہ بھی،، اسماء وہی صوفے پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگی 

**

"تانیہ اور شاہ۔۔۔۔۔ نہیں میں کیا سوچ رہی ہوں شاہ ایسا نہیں ہے مجھے بالکل ایسا نہیں سوچنا چاہیے اس کے بارے میں۔۔۔۔ مگر خضر بھائی تو کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بہت بار ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔۔۔۔ اس کے آگے سوچیں حور کا دل ڈوبونے کے لئے کافی تھی

"شاہ نے تو کہا تھا کہ مجھے لینے آئے گا پھر اب تو رات ہوگئی ہے آیا کیوں نہیں اب تک۔ ۔۔ کال کرکے پوچھتی ہوں" اس نے اسماء کا موبائل اٹھایا اور زین کے نمبر اس پر کال ملائی مگر بیل جاتی رہی وہ حور کی کال ریسیو نہیں کر رہا تھا حور کا دل اور بھی ڈوبنے لگا اتنے میں اسماء روم میں آئی 

"امی مجھے خضر بھائی لے کر گئے تھے میں نے انہیں منع بھی کیا تھا،، مگر وہ بہت اصرار کر رہے تھے تو میں انکار نہیں کر سکی"  حور نے آسماء کو بتانا چاہا

"رہنے دو،، جاو جاکر کھانا کھاؤ آرام کرنا ہے مجھے"
انہوں نے حور کو وضاحت دینے سے منع کیا اور وہاں سے جانے کے لئے کہا خود بیڈ پر لیٹ گئی 


**

زین تانیہ کو گھر چھوڑنے آیا تو فضا اور بلال نے اسے کھانے پر روک لیا۔۔۔ کھانے سے فارغ ہو کر مسعود انکل اور بلال کے ساتھ باتوں میں ٹائم اندازہ نہیں ہوا ہے وہاں سے اٹھا تو گھڑی 11 بجا رہی تھی۔۔۔ ٹائم دیکھ کر اس نے حور کو کل لانے کا سوچا کیونکہ سارا دن آفس میں بھی کافی ٹف گزرا تھا یہی سوچ کر وہ گاڑی گھر کی طرف لے گیا۔ گھر پہنچ کر چینج کیا اور بیڈ پر لیٹا تو موبائل پر نظر پڑی توcall missed شو ہو رہی تھی جسے دیکھ کر زین کے لبوں پر مسکراہٹ آئی اور وہ کال ملانے لگا 

***

اسماء کب کی سو چکی کی تھی،، پر نیند حور کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی یہ سوچ کر اس کا دل برا ہو رہا تھا کہ زین نے کہا تھا کہ وہ آج سے لینے آئے گا تو وہ کیوں نہیں آیا اور اس نے کال بھی ریسیو نہیں کی بھلا مجھ سے بڑھ کر بھی کوئی مصروفیت ہوسکتی ہے۔۔۔۔ حور کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر آگیا جب زین روتی ہوئی تانیہ کو ٹشو دینے لگا سوچوں کا ارتکاز موبائل کی بیل نے توڑا۔۔۔۔ اسماء کی نیند نہ خراب ہو حور میں پہلی بیل پر کال ریسیو کر لی 

"بڑی بےصبری سے انتظار کیا جا رہا تھا سویٹ ہارٹ" 
فورا کال ریسیو کرنے پر زین کی چہکتی ہوئی آواز حور کے کانوں سے ٹکرائی

"تو اب جاکر فرصت ملی ہے تمہیں کہ بیوی کو کال کر لو" حور نے اس کی بات کو اگنور کرکے طنز کیا 

"ہاہاہا نہ حال نہ خیریت فل بیویوں والا اسٹائل۔۔۔۔ ایسے ہی تھوڑی نہ پیار آتا ہے تم پر" 
زین کے لہجے میں شوخی کا عنصر نمایاں تھا 

"آئے کیوں نہیں آج تم لینے" 
حور نے دماغ میں اٹھتا ہوا سوال پوچھا

"انتظار کیا میرا"
زین نے الٹا اس سے سوال کیا 

"یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے"
حور نے جواب دیا 

یعنی انتظار کیا تھا مگر اقرار کبھی نہیں کرنا ہے"
زین نے مسکراتے ہوئے کہا،،، حور خاموش رہی  

"یار آج کا دن کافی ٹف گزرا پورا دن بزی رہا ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی گھر آیا ہوں"
زین اپنی رو میں بولتا چلا جا رہا تھا اور اسے خبر نہیں تھی کہ حور کے دل پر کیا گزر رہی ہے 

"کیا تم اب فری ہو کر گھر پر آئے ہو،،، یعنی اتنی دیر تک تم۔۔۔"
حور کے دل کو کچھ ہوا وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی 

"کل آؤنگا جان تمہارے پاس شام تک ریڈی رہنا میرا کونسا دل لگ رہا ہے تمہارے بغیر"
زین نے آنکھیں موندتے ہوئے حور سے کہا

"بھاڑ میں گئی جان۔۔۔۔ کل بھی آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جہاں آج سارا دن بزی رہے ہو کل بھی وہی چلے جانا میری بلا سے" حور نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے کہا 

"اف اتنا غصہ سویٹ ہارٹ ایک دم پھلجڑی لگ رہی ہو گی اس وقت۔۔۔ اوکے میں آ رہا ہوں لینے کے لئے مشکل سے ادھا گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں" 
زین اس کی بات پر آنکھیں کھولتے ہوئے کہا حور کا بگڑا ہوا موڈ دیکھ کر اسی وقت اسکو لے کر آنے کا ارادہ کیا 

"کہا نا اب مت آنا نہ ابھی، نہ کل اور نہ کبھی"
حور کو دوبارہ رونا آنے لگا 

"کیا ہو گیا ہے یار حور بزی تھا،، اس وجہ سے نہیں آسکا تھا۔۔۔۔ ابھی آ تو رہا ہوں نا لینے"
زین کو حیرت ہوئی حور کی آواز سے وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ رو رہی ہے 

"کہا بزی تھے تم اب تک،، اپنی اس حسین مصروفیات کے بارے میں بتاؤ مجھے۔۔۔ کیا کر رہے تھے اتنی دیر تک" 
اسماء کی سونے کی وجہ سے حور نے ہلکی آواز میں مگر غصے میں زین سے  پوچھا 

"حسین مصروفیت؟؟ کیا مطلب ہے تمہاری بات کا۔۔۔۔ واقعی میرے سر پر سے گزر رہی ہیں اس وقت تمہاری باتیں"
زین کو واقعی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے 

"ہاں تم اتنے ہی تو ناسمجھ ہو کہ تم کو میری باتیں ہی سمجھ میں نہیں آ رہی اور تمہارے سر پر سے گزر رہی ہیں"
حور نے سر جھٹکتے ہوئے کہا 

"حور تمہیں جو کہنا ہے وہ ڈایئریکٹ  کہو اس طرح پہیلیاں مت بجھاو۔۔۔۔ میں پہلے ہی بہت تھکا ہوا ہوں پلیز" 
زین نے چڑتے ہوئے کہا

"آج تانیہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے باہر تم"
حور نے ہلکی آواز میں لیکن غصے میں کہا 

"یہاں تانیہ کا کیا ذکر؟؟ ہاں لے کر گیا تھا اس کو باہر کچھ ضروری کام تھا۔۔۔ مگر تم اتنا ہائپر کس بات پر ہو رہی ہوں"
زین کو اب بھی حور کے غصے کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی

"واقعی۔۔۔ صرف آج سے ضروری کام تھا؟ ؟ جہاں تک مجھے علم ہے اس سے پہلے بھی تمہیں ضروری کام پڑتے رہے ہیں تانیہ سے۔۔۔۔ آج تو میں نے تمہیں دیکھا ہے تو اقرار کرنا پڑا تمہیں"
اب کے حور کی بات سن کر زین کا دماغ بھک سے اڑ گیا 

"کیا بات کر رہی ہو تم۔۔۔۔ کیا مطلب سمجھو میں تمہاری اس بکواس کا"
اب کے زین نے غصے میں کہا

"اب تو میری ساری باتیں بکواس ہی لگیں گی تمہیں" حور نے دوبارہ آنسو پونچھتے ہوئے کہا

"حور یہ بہت اچھا ہے تمہارے لئے کہ تم اس وقت میرے سامنے نہیں ہو۔۔۔۔۔ مگر میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ یہ فطور تمہارے دماغ میں خود آیا ہے یا کسی نے بھرا ہے۔۔۔۔ صرف اس بات کا جواب دو مجھے"
زین کو اب واقعی غصہ پر کنٹرول  نہیں ہورہا تھا 

"میں تمہارے آگے تمہاری کسی بھی بات کا جواب دہ نہیں ہوں"
حور کو بھی غصہ آنے لگا یعنی چوری اوپر سے سینہ زوری

"آ رہا ہوں میں کل تم اب جواب بھی دوں گی اور تمہاری اس قینچی جیسی زبان کا علاج بھی کرتا ہوں میں"
زین نے غرا کر کہا کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر اچھالا 


جاری ہے

episode 46

Itni mohbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 46


زین آفس پہنچا تو اشعر پہلے ہی موجود تھا کل کی بانسبت وہ کافی سیریس لگ رہا تھا 

"کیا ہو گیا ہے منہ کیوں لٹکا ہوا ہے تمہارا صبح صبح" زین نے اشعر کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر پوچھا 

"کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی"
اشعر نے زبردستی کا مسکرا کر جواب دیا 

"اشعر جب سے ہم تینوں میں دوستی ہوئی ہے وہ دوستی اتنی گہری ہے کہ ہم تینوں اپنی پرسنل پرابلمز بآسانی بغیر ہچکچائے ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے ہیں کیا مجھے دوبارہ اپنا سوال دہرانے کی ضرورت پڑے گی" 
زین نے دوبارہ اس سے سیریز ہونے کی وجہ دریافت کرنی چاہیے 

"کل تانیہ کا فون آیا تھا اس نے منع کردیا ہے کہ ممی کو اس کے گھر نہیں بھیجوں۔ ۔۔۔۔ اس کی آواز اور باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ کافی ڈسٹرب ہے،، ای تھنک بلال اس سے سخت خفا ہے وہ مزید سے خفا نہیں کر سکتی اس لیے سب کچھ ختم کرنے کا کہہ رہی ہے"
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا 

"بلال کا دماغ تو میں ٹھیک کردوں گا تم فی الحال ان دونوں بہن بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور تانیہ میڈم وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی ہیں کہ ان کے بھائی زندہ ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرے۔۔۔ ۔ اگر تم نے آنٹی سے بات کر لی ہے تو ایک دو دن کے لیے کوئی بہانہ بنا کے روک دو"
زین نے کچھ سوچتے ہوئے اشعر سے کہا   

تھوڑی دیر بعد بلال بھی افس آگیا سلام دعا کے بعد پھر ان تینوں کی کوئی خاص بات نہیں ہوئی 

**

"کیا میں اندر آ جاؤ حور"
خضر نے بیڈ روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لیتے ہوئے کہا 

"خضر بھائی آپ آئیے پلیز" 
وہ جو کہ اپنے کپڑے ورڈروب سے نکال رہی تھی جھجکتے ہوئے بولی اسے کل والا منظر بھلائے نہیں بھول رہا تھا اس لیے نظر مسلسل جھکی ہوئی تھی 

"کیسی طبیعت ہے تمہاری"
خضر جھکی نظروں کی وجہ تو جانتا تھا مگر کب تک اس سے بات نہیں کرتا اس لئے کچھ سوچ تو اس کے روم میں اس کے پاس آیا 

"جی اب کافی بہتر ہے پہلے سے"
وہ ایک ڈریس نکال کر آئرن اسٹینڈ کے پاس جاتے ہوئے کہنے لگی 

"مگر مجھے تو کوئی خاص طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی ہے۔۔۔۔ گھر میں بند رہو گی تو مزید طبیعت خراب ہو گی چلو کہی باہر چلتے ہیں تمہاری طبیعت تو اچھا اثر پڑے گا"
خضر نے اچانک باہر جانے کا پروگرام بنایا 

"باہر؟؟ نہیں باہر جانے کو تو بالکل بھی موڈ نہیں ہو رہا ہے میرا"
اس نے بےساختہ انکار کرتے ہوئے کہا وہ پہلے بھی کبھی اس کے ساتھ اکیلے اس طرح نہیں گئی تھی، اب تو شادی شدہ تھی تو کیسے جا سکتی تھی 

"کیوں کیا وجہ ہے جو تمہارا باہر جانے کا موڈ نہیں ہو رہا؟؟ میں تمہارے خیال سے آیا ہوں حور،، کہ تمہیں باہر لے کر جاؤں گا اور تمہاری طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا موڈ بھی فریش ہو جائے گا۔۔۔ مگر اب تم نے احساس کرنا ہی چھوڑ دیا ہے دوسروں کا ایک انسان کے پیچھے خوار ہوتے ہوئے" خضر نے برا مانتے ہوئے کہا 

"ایسی بات نہیں ہے خضر بھائی، احساس کی کیوں بات کر رہے ہیں سبھی لوگوں کا احساس ہے مجھے" 
حور کو سمجھ میں نہیں آیا انہیں کیسے منع کریں 

"اگر اتنا ہی احساس ہے تو دس منٹ میں گاڑی میں آو میں ویٹ کر رہا ہوں" خضر کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا اور وہ بے دلی سے کپڑے پریس کرنے لگی 

**

"ارے واہ بھئی آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں ہمارے گھر میں"
فضا نے باہر کا دروازہ کھولا تو سامنے زین کو کھڑے دیکھتے ہوئے خوش دلی سے کہا 

"اتنے بڑے لوگ بھی نہیں ہیں کہ بہنوں سے نہ ملنے آسکے،، کیا حال ہیں"
زین نے قدم بڑھاتے ہوئے فضا سے حال پوچھا 

"ایک دم فٹ آپ سنائے بیگم کیسی ہیں آپ کی"
فضا نے ڈرائنگ روم میں اندر آتے ہوئے زین سے پوچھا 

"وہ بھی ٹھیک ہے میکے میں ہے۔۔۔ آجکل میں آجائے گی"
زین نے صوفے پر بیٹھے ہوئے جواب دیا 

"میں اور تانیہ سوچ رہے تھے حور بھابھی سے ملنے کے لئے،، چلیں یہ بھی اچھا ہے اگر وہ گھر آ جائیں گی تو ہم دونوں وہی آکر مل لیں گے"
فضا نے اپنا پلان بتایا 

"کیوں نہیں بالکل ضرور آنا اور میاں جی کہاں ہیں تمہارے آفس سے تو نکل گئے تھے"
زین نے بلال کا پوچھا 

اوپر روم میں ہیں۔۔۔ میں بلا کر آتی ہوں" 
فضا اٹھنے لگی 

"نہیں رہنے دو اسے آج میں اس سے ملنے نہیں آیا تانیہ کہاں ہے"
زین نے فضا کو اٹھتے دیکھ کر تانیہ کا پوچھا 

"وہ اپنے نوٹس بنا رہی تھی چلیں میں اس کو بلاتی ہوں اور چائے لے کر آتی ہوں"
فضا دوبارہ اٹھنے لگیں 

"چائے رہنے دو فضا۔۔۔ تانیہ سے کہو مجھے اس سے بہت ضروری بات کرنی ہے مگر گھر پر نہیں، اس سے کہو میں ویٹ کر رہا ہوں اور بلال کو بھی بتا دینا کہ میں تانیہ کو لے کر باہر جا رہا ہوں"
زین نے فضا سے کہا 

"ٹھیک ہے میں تانیہ کو بولتی ہوں اور آج رات کا کھانا اپ یہی کھائیں گے،،، بھابھی کا بہانہ بنا کر انکار کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے"
فضا بولتے ہوئے روم سے نکل گئی 

***

"ردا بھی ہمارے ساتھ آ جاتی تو کتنا اچھا ہوتا"
حور کو یوں خضر کے ساتھ اکیلے جانا مناسب نہیں لگا اس  لیے بولی 

"میں نے اسے آفر کی تھی مگر وہ اسے فرینڈ کی طرف جانا تھا"
خضر نے گاڑی سگنل پر روکتے ہوئے کہا 

مگر حور جو کسی گاڑی کو دیکھ رہی تھی اس کے تعقب میں دیکھتے ہوئے خضر چونکا،،، وہ گاڑی زین کی تھی جس میں زین کے ساتھ وہی لڑکی تھی جو اس دن ہسپتال میں حور کے پاس بھی بیٹھی ہوئی تھی 

"کیا دیکھ رہی ہوں" خضر نے حور سے پوچھا 

"وہ تانیہ ہے شاید اسکارف میں شاہ کے ساتھ"
حور نے تانیہ کو پہچانتے ہوئے اپنی ہی خیال میں گم ہو کر کہا 

"نام تو مجھے نہیں معلوم ہے ہاں مگر میں نے اس لٹرکی کو اور زین کو ایک ساتھ کئی دفعہ دیکھا ہے۔۔۔۔ یہ وہی ہے جو دن اسپتال میں بھی وہاں موجود تھی" 
حور نے بے یقینی سے خضر کو دیکھا اور دیکھتی رہے گی 

"کئی دفعہ ایک ساتھ"
حور کا دماغ اس بات پر اٹک گیا

"کہاں کھو گئی ہو" خضر نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا 

"کہیں نہیں ہاں یہ وہی ہے اسپتال والی شاہ کے فرینڈ بلال بھائی کی بہن"
حور کی نظر زین کی گاڑی پر پڑی جو کہ اب مخالف سمت پر نکل گئی تھی 

**

"ہم لوگ یہاں کیوں آئے ہیں زین بھائی" 
تانیہ نے ہوٹل میں اندر آتے ہوئے پوچھا 

"کیوں میرے ساتھ آنے میں مسئلہ ہے تمہیں کوئی"
زین نے آبرو اچکا کر اس سے پوچھا 

"نہیں وہ بات نہیں ہے، میں اس لئے نہیں کہہ رہی،، آپ تو میرے لئے بالکل بلال بھائی جیسے ہیں"
تانیہ نے جلدی سے کہا کہیں زین کو برا نہ لگ جائے

"میں بلال کی جیسا نہیں بلال کی طرح ہوں تمہارا ثانیہ رانیہ آپی کا بھائی  چلو بیٹھو"
زین نے چیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا 

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد زین نے تانیہ سے پوچھا 

اشعر کو کیوں منع کیا تم نے فون کرکے"
زین کے پوچھنے پر تانیہ ایک دم گڑبڑا گئی اور نظریں جھکا گئی 

"میرا تمہیں یہاں لانے کا یہی مقصد تھا تاکہ ہم اس موضوع پر آسانی سے بات کرلیں۔۔۔۔ دیکھو تم میری چھوٹی بہن ہو، میں کبھی تمہارا برا نہیں چاہوں گا اور نہ تمہارے ساتھ برا ہونے دوں گا،، اشعر ہر لحاظ سے اچھا اور سلجھا ہوا لڑکا ہے، تم یہ بالکل بھی نہیں سمجھنا کہ میں اس کی دوستی ہی خاطر تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں تا کہ اس کی تعریفے کرکے اسکے  نمبر بڑھاو۔ ۔۔۔ بلال اور اشعر ان دونوں سے پہلے میرے لیے تم اہمیت رکھتی ہوں، اگر اشعر میں مجھے کوئی برائی نظر آتی تو میں اس کے قدم بہت پہلے ہی روک دیتا جب مجھے اندازہ ہوا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے ۔۔۔۔وہ ہر لحاظ سے تمہارے لئے پرفیکٹ ہے جو بے وقوفی تم نے فون پر منع کرکے کی ہے پلیز آگے سے میری ریکویسٹ ہے کہ تم کوئی بھی الٹا کام نہیں کروں گی، نہ انکار کروں گی"
زین نے تانیہ کو نرم لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا 

"آپ کو نہیں پتہ بلال بھائی مجھ سے بہت ناراض ہیں وہ میری شکل تک دیکھنا نہیں چاہتے ہیں،، میں اپنے ساتھ ان کا یہ رویہ برداشت نہیں کرسکتی تکلیف ہو رہی ہے مجھے"
تانیہ نے روتے ہوئے کہا 

"اس گدھے کو میں سمجھا لوں گا اسکی فکر تم نہیں کرو وہ خوشی خوشی مان جائے گا تم رونا بند کرو پلیز"
زین نے ٹشو تانیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس سے تھام کر وہ آنسو صاف کرنے لگی 

دور سے دو آنکھیں بے یقینی سے منظر دیکھ رہی تھی 

"ویسے تمہارا شاہ بھی بہت اچھا کھلاڑی ہے رولانے کے بعد انسو صاف کرنے کا فن اچھی طرح جانتا ہے"
خضر کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ حال کی دنیا میں واپس لوٹی 

"چلیں خضر بھائی گھر چلیں"
حور نے بے دلی سے خضر سے کہا۔۔۔ اس کے کہنے پر ہی خضر نے گاڑی زین کی گاڑی کی طرف موڑی تھی 

"ایسے نہیں ہم باہر پہلے ڈنر کریں گے تم اپنا موڈ ٹھیک کرلو اور چلو آؤ گاڑی میں آکے بیٹھو" 

"نہیں مجھے کوئی خاص بھوک نہیں لگ رہی اپ گھر چلیں"
حور کو وہاں مزید روکنے کا دل نہیں چاہا  

"گھر چلیں گے لیکن ڈنر کرنے کے بعد" خضر نے گاڑی سٹارٹ کردی

"کہہ تو رہی ہو نہیں کرنا مجھے ڈنر سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ہے آپ کو" حور کے لہجے میں بیزاری دیکھ کر اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑ لی

ویسے بھی آج اس نے ہاتھ میں آئے ہوئے موقعے کو گنوانے کی بجائے اس موقع کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا 


جاری ہے

episode 45

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 45



"ان پیپرز پر حور سے کیسے سائن کروانا ہے یہ تمہارا کام ہے جب وہ زین سےخلع لے گی،، اس کے بعد ہی ہم زین پر کیس کریں گے کہ زبردستی گن پوائنٹ پر نکاح کرنا گن پوائنٹ پر رقم چھیننا اور حور کی گواہی سے ہی ہم اپنی رقم نکلوا سکتے ہیں اس کو سلاخوں کے پیچھے کر سکتے ہیں"
ظفر مراد نے سوچا ہوا پلان خضر کو بتایا دروازے پر دستک کی آواز پر ان دونوں کی نظریں  اسماء پر پڑی جو ہاتھ میں چائے کے کپ لیے ہوئے اندر آ رہی تھی

"خضر بیٹا آپ کے پاس کوئی پین کلر ہے"
انہوں نے نرم لہجے میں چائے کے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خضر سے پوچھا 

"خیریت چچی کیا ہوا"
خضر نے آسماء سے پوچھا 

"میڈیسن باکس میں میرے پاس پین کلر موجود نہیں ہے شام سے ہی سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا اب کافی بڑھ گیا ہے"
انہوں نے چائے کے کپ دونوں کو تھاماتے ہوئے کہا

"آپ روم میں چلیے میں آپ کو دے دیتا ہوں"
خضر نے ان کو نارمل انداز سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں سنا خضر نے شکر ادا کیا 

**

اسماء کا موبائل جو کافی دیر سے حور کو نیند میں ڈسٹرب کر رہا تھا آخرکار بیزار آ کر بند آنکھوں سے ہی حور نے کال ریسیو کر لی اور بیزاری سے گویا ہوئی ہے 

"ہیلو کون بول رہا ہے"
نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں حور نے پوچھا 

"میں یہاں تمہاری یاد میں تارے گن رہا ہوں اور تم مزے سے نیندیں پوری کر رہی ہوں۔۔۔۔چلو ویسے یہ بھی اچھا ہے اپنی نیندیں میکے میں ہی پوری کر کے آنا میرے پاس"
زین کی آواز موبائل سے ابھری تو حور کی آنکھیں پوری کھل گئی 

"کس نے کہا تمہیں اس وقت تارے گننے کو ہمیشہ مجھے نیند میں ڈسٹرب کرنا بس"
حور نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا 

"یہ تو الزام ہے سویٹ ہارٹ صرف آج دوپہر اور ابھی نیند میں ڈسٹرب کیا اس سے پہلے تو ہمیشہ اپنے دل کو مار کر تمہاری نیند کا احترام کیا ہے"
زین کی بےتکی باتوں سے اس سے بالکل نیند نہیں آنی تھی

"تم نے فون کس لئے کیا ہے شاہ"
حور نے زین سے پوچھا

"تمہیں پتا ہے دو دن سے سعیدہ کام کرنے کے لئے نہیں آرہی، گھر کتنا گندا پڑا ہے"
زین نے حور کی معلومات میں اضافہ کیا

"او تو اب وجہ سمجھ آئی تم بار بار بھی کیوں چاہ رہے ہو میں گھر واپس آجاؤ۔۔۔ تمہیں گھر کی فکر ہے گھر کی صفائی کی۔۔۔۔ تم نے مجھے گھر کی چھپکلی سمجھ رکھا ہے"
حور نے تپتے ہوئے کہا

"سویٹ ہارٹ خود کو چھپکلی تو نا کہو۔۔۔۔ تم تو میرے گھر کی اور اس دل کی ملکہ ہوں،، صرف تمہاری حکمرانی ہے اس دل پر اور صرف مجھے گھر کی ہی نہیں اپنی بھی فکر ہے تمہیں پتہ ہے نا میرا گزارہ بہت مشکل ہے تمہارے بناء۔۔۔۔یو نو اکیلے اتنے بڑے بیڈ پر سونا کتنا برا لگ رہا ہے" 
زین نے ٹیرس کا دروازہ بند کرکے روم میں آتے ہوئے کہا 

"تم فضول حرکتوں کے ساتھ ساتھ فضول باتوں میں بھی ماسٹر ہو۔۔۔۔ اور یہ آج دوپہر میں تم نے خضر بھائی کے سامنے کیا بیہودہ حرکت کی تھی،،، تمہیں ذرا شرم نہیں آئی"
حور نے اس کو غلطی کا احساس دلانا چاہا 

"او کم ان یار تمہارے خضر بھائی کون سے دودھ پیتے بچے ہیں،،، اسے پتہ نہیں ہے کیا، میاں بیوی کا ریلیشن،، زیادہ نہیں سوچو تم بھی" 
زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا 

"بے شک وہ دودھ پیتے بچے نہیں ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر کسی کے سامنے شروع ہو جاؤ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہوگے وہ کتنا برا لگا ہوگا انھیں"
حور نے زین کو شرمندہ کرنا چاہا

"اکیلے میں تم نے کہاں موقع دیا کمرے سے باہر ہی نکل گئی اور کچھ برا نہیں لگا ہوگا اسے ورنہ وہ آنکھیں بند کرلیتا اپنی۔ ۔۔۔ ویسے تمہیں تو برا نہیں لگا نا"
زین اب شرارت سے حور سے پوچھ رہا تھا

"تم سدھرنے والی یا بات ماننے والی شے نہیں ہوں۔۔۔ کبھی تو سیریز لیا کرو مجھے"
حور نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"ایک تمہیں ہی تو سیریس لیا ہوا ہے سویٹ ہارٹ اب تم بھی میرے لئے بالکل سیریس ہوجاؤ اور بند کرو یہ خضر نامہ۔ ۔۔۔ پری سے کہو کہ وہ شاہ کے پاس آجائے اس کا شاہ اپنی پری کو بہت مس کر رہا ہے" 
زین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک جذب سے کہا جیسے وہ واقعی اس کو مس کر رہا ہو

"اور پھر شاہ نے اگر دوبارہ پری کو ڈرایا یا غصہ کیا تو"
حور نے زین سے کہا

"اب بالکل بھی غصہ نہیں ہوگا پرامس"
زین نے ہار مانتے ہوئے کہا

"اور جو شاہ کے غصے میں پری کا نقصان ہوا ہے اس کا کیا"
حور کو نئے سرے سے دکھ نے آگھیرا

"اس دن صرف تمہارا نقصان نہیں ہوا حور میں نے بھی اپنا بچہ کھویا تھا اس دن صرف تم نے تکلیف برداشت نہیں کی ہے میں بھی بہت تڑپا ہوں مگر پلیز حور یوں دور رہ کر سزا نہیں دو واپس گھر آجاؤ"
زین نے بیڈ سے اٹھ کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

"نہیں مجھے واپس فی الحال نہیں آنا تمہیں یاد ہے نا میں نے لاسٹ ٹائم تمہیں کہا تھا کہ آئندہ اگر تم نے غصہ کیا تو میں بہت برا ناراض ہو گئی تم سے، نہ صرف غصہ بلکہ تمہارے غصے کی وجہ سے ہم اپنے آنے والی خوشی سے بھی محروم ہو گئے۔۔۔۔ تمہاری طرح میرا بھی اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میں تمہیں فوری طور پر سب بھول سکو" 
حور اس کے ساتھ جانا تو چاہتی تھی لیکن اس کا احساس دلانا بھی ضروری تھا کہ اس کے غصے کی وجہ سے ان دونوں نے کیا کچھ کھویا ہے اس نے سوچا کہ وہ زین سے دور رہے گی تبھی زین کو اس کی غلطی کا احساس ہوگا اور اس کے غصے میں بھی کمی آئے گی یہی سوچتے ہوئے زین کو انکار کیا

"بس حور بہت ہوگیا ہے اب،، کہہ تو دیا ہے نا یار شرمندہ  ہوں۔۔۔۔ اب کیا چاہتی ہوں میں کل تمہیں لینے آ رہا ہوں"
زین نے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا

"میں تمھارے ساتھ نہیں جاو گی شاہ" 
حور بھی اپنی ضد پر اڑی رہی

"تمھاری نہ پہلے کبھی چلی ہے نہ اب چلے گی اور یہ تم خود بھی اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ کان کھول کر سن لو تم کل میرے ساتھ واپس آ رہی ہو جو بھی نخرے دکھانے ہیں یہاں آکر دکھاؤ تاکہ تمہارا اچھی طرح علاج کروں میں،، کل کوئی تماشا لگائے بغیر ریڈی رہنا" 
زین نے غصے میں کہتے ہوئے فون رکھا

"نہیں یہ میری سوچ ہے، یہ انسان نہیں سدھر سکتا۔۔۔۔ اب پتہ نہیں کل کتنا بڑا تماشہ ہوگا"
حور نے سوچتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کرلی

"زبردستی ہی صحیح،، گھر تو وہ اسے آج بھی لے کر آ سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ بےشک اس سے ناراض سہی زین کے زبردستی کرنے پر واپس آ بھی جانتی۔۔۔۔مگر زین چاہتا تھا وہ اپنی خوشی اور پوری دلی آمادگی کے ساتھ واپس آئے۔۔۔یہی سوچ کر وہ بیڈ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا   


***    


"کیا ہوا تم نے کھانا نہیں کھانا"
فضا کھانا رکھ کر جانے لگی تو بلال نے پوچھا 

"نہیں میں نے اور تانیہ نے کھانا کھا لیا ہے"
فضا بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی

"مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے بلال"
کھانے سے فارغ ہو کر بلال روم میں آیا تو فضا نے بلال سے کہا 

"زہے نصیب تو آپ کو خیال آہی گیا کہ شوہر کو بھی منہ لگا لیا جائے"
پورے دن کے بعد ابھی اس کا موڈ اچھا ہوا تھا اس لئے   بلال نے چہک کر کہا 

"پہلی بات تو یہ بلال کہ تم اپنے دماغ میں یہ بیٹھا لو کہ تم کوئی منہ لگانے والی چیز نہیں ہو اور دوسری بات یہ کہ مجھے تم سے ہمارے متعلق کوئی بات نہیں کرنی ہے بلکہ تانیہ اور اشعر بھائی کے متعلق بات کرنی ہے"
فضا نے بلال کو تپاتے ہوئے سیریس انداز میں بات کی

"منہ تم مجھے تین بار قبول کرکے ساری زندگی کے لئے لگا چکی ہوں پہلی بات تو یہ ہے اور رہی دوسری بات ،، تو میں تم سے یہ کسی دوسرے سے اس متعلق کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا نہیں سننا چاہتا ہوں"
تھوڑی دیر پہلے اچھا ہونے والا موڈ اب بلال کا خراب ہوچکا تھا

"کیوں؟؟؟  آخر کیوں نہیں بات کرنا چاہتے تم اس موضوع پر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ"
فضا نے اس کے خراب موڈ کی پروا کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی

"تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے فضا؟؟ تم دوسروں کے معاملوں میں الجھنے کی بجائے اپنے مسئلے حل کرو،، پھر بعد میں کسی اور کا مقدمہ لڑو"
بلال نے فضا کو جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر جواب دیا 

"پہلی بات تو یہ اپنے دماغ میں بٹھا لو بلال مسعود کہ مسئلہ کا شکار میں نہیں ہمیشہ سے تم رہے ہو دوسری بات یہ کہ تانیہ میرے لئے کوئی غیر نہیں ہے وہ میری نند بعد میں، میری بہن پہلے ہے اور میں اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دونگی سنا تم نے۔۔۔۔ تمہارے اندر خود فیلنگز نہیں ہیں احساس سے عاری انسان ہو تم تو دوسروں کو اپنی طرح سمجھنا چھوڑ دو"
فضا کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی لیکن وہ سانس لینے کے لئے رکی

"پہلی بات تو یہ مسزز بلال تانیہ میری بہن ہے اور مجھے بہت عزیز ہے اس کے لیے جو بھی میں سوچوں گا یا فیصلہ کروں گا وہ اس کے بھلے کے لئے ہی ہوگا،، تو تمہیں اپنی اس ننھی سی جان کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ بےشک میں ماضی میں مسلوں کا شکار رہا ہوں مگر ابھی اس وقت میرا سب سے بڑا مسئلہ تمہارا گریز ہے جو تم نے بلاوجہ میں برتا ہوا ہے"
بلال نے فضا کو باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا

"اور تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ میں احساسات سے عاری انسان بالکل نہیں ہوں مگر اپنی فیلنگز کو شادی سے پہلے شو کر کے محبت جھاڑنے کا فن مجھے نہیں آتا۔۔۔۔ میری نظر میں ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے جو کہ اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے"
وہ کہتے ہوئے فضا کی گردن کی طرف جھکا فضا کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی

"اب کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ"
بلال نے ناگواری سے پوچھا

"کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے قریب آنے کی یا مجھے چھونے کی۔۔۔ ابھی تم پر بہت حساب نکلتے ہیں"
فضا بلال سے بولتے ہوئے روم سے باہر چلی گئی

***

"اشعر اپنے روم میں بیٹھا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ بلال سے کیسے بات کی جائے، جو غلط فہمی اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے اسے کیسے دور کیا جائے،، وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی بیل بجی وہ چونکا کال تانیہ کے نمبر سے آ رہی تھی 

"ہیلو تانیہ کیسی ہیں آپ"
 اشعر کال ریسیو کرتے ہوئے بولا

"جو صورتحال کل سے چل رہی ہے تو کیسا ہونا چاہیے تھا مجھے"
تانیہ نے الٹا اس سے سوال کیا 

"میں سمجھ سکتا ہو تانیہ جو بھی ہوا ہوا غلط ہوا اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ کل بلال اس طرح دیکھ کر بدگمان ہو جائے گا میں کبھی بھی آپ کو وہاں لے کر نہیں جاتا۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو کال بھی اس وجہ سے نہیں کی کہ میرے کال کرنے سے آپ کو مزید کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔۔۔ لیکن آپ پلیز ٹینشن نہیں لیں سب ٹھیک ہو جائے گا،، میں بلال کو ہینڈل کر لوں گا اور منا لوں گا اسے،، مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا"
اشعر نے تانیہ کو حوصلہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ سب ٹھیک کر لے گا 

"بھائی نہیں مانیں گے اشعر میں جانتی ہوں وہ بہت ہرٹ ہوئے ہیں میری وجہ سے،،، میں انہیں مزید ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ پلیز میں نے کال اسی وجہ سے کی ہے اس قصے کو یہیں ختم سمجھے یہ رکویسٹ ہے میری،،،،، آپ پلیز بھائی سے کچھ نہیں کہے گے "
یہ کہہ کر تانیہ کال ڈسکانکٹ کر چکی تھی اور اشعر موبائل ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہ گیا 

جاری ہے

episode 44

Itni mohhbat karo na 
By zeenia sharjeel
Epi # 44


"یہ کس بے وقوف نے آئسکریم دی ہے کھانے کے لئے اور تم کھا بھی رہی ہو،، پتہ بھی ہے نہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے" 
زین انکھوں سے گلاسز اتار کر شرٹ میں اٹکاتا ہوا ان دونوں کے قریب آیا اور حور کے ہاتھ سے آئسکریم لے کر دور اچھالی

"یہ کیا بدتمیزی ہے شاہ"
حور نے زین کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا

"اسے بدتمیزی نہیں سویٹ ہارٹ کیئر کہتے ہیں،، تمہیں پتہ ہے نہ تمہاری طبیعت خراب ہوتی ہے تو میری جان پر بن آتی ہے۔۔۔۔۔اپنے شاہ پر رحم کرو اور اب جلدی جلدی سے اپنی طبیعت ٹھیک کرلو میں مزید تمہاری طبیعت خرابی بالکل افورڈ نہیں کرسکتا"
وہ حور کے چہرے پر آئی ہوئی لٹیں پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگا 

"ایک منٹ تم یہاں کیسے آئے؟؟ تمہیں اندر کس نے آنے دیا"
خضر زین کو اپنے گھر میں موجود دیکھ کر چونکا اور غصے سے کہنے لگا


"آخر تمہیں یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی خضر کہ جب میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں تم مجھے کسی دوسرے کا بیچ میں مداخلت کرنا سخت زہر لگتا ہے ،، اچھی عادت نہیں ہے یہ تمہاری، پلیز بدلو اس کو اور رہی بات میرے یہاں پر آنے کی تو جب تک میری بیوی اس گھر میں موجود ہے تو کسی کا باپ بھی مجھے یہاں آنے سے نہیں روک سکتا"
زین نے دوستانہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں خضر کو باور کرایا

"حور اب تمہارے ساتھ واپس نہیں جانے والی، یہ بات اس نے خود اپنے منہ سے اس دن کہی تھی شاید تم بھول رہے ہو"
خضر نے اس کو جتانے والے انداز میں تین دن پہلے کا واقعہ یاد دلایا   

"اس کا کہنا یا نہ کہنا میرے لیے معنی نہیں رکھتا۔۔۔ اگر میں چاہوں تو اس وقت بھی حور کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہوں کون روکے گا مجھے تم؟؟ اگر میں ابھی حور کو اپنے ساتھ واپس لے جاو تو وہ خود بھی مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی"
زین نے چیلنجنگ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا 

"شاہ تم" 
حور نے کچھ بولنا چاہا تو زین نے اپنی شہادت کی انگلی حور کے ہونٹوں پر رکھ کر اس کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا

"شش شاہ کی جان اب میری سنو۔۔۔۔ جلدی سے اپنی طبعیت ٹھیک کرو مزید تمہیں یہاں پر برداشت نہیں کرنے والا میں،،، ابھی تھوڑی دیر پہلے اندر بتایا تھا نہ تمہیں کہ کتنا مس کر رہا ہوں اندازہ نہیں ہوا تمہیں"
زین حور کے گالوں کو اپنی انگلیوں سے چھوتے ہوئے گردن تک لایا 

حور زین کی حرکت پر بدک کر پیچھے ہٹی اور گھور کر زین کو دیکھنے لگی جبکہ دوسری طرف خضر لب بیچ کر رہ گیا

"حور سے زیادہ پیار جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ جو اس دن تم نے ریسٹورنٹ میں اس کے ساتھ کیا تھا وہ تماشہ دنیا نے دیکھا تھا اور مجھے بھی ابھی تک یاد ہے"  


"کیا ہے نا خضر میں اپنی بیوی کے معاملے میں بہت زیادہ ٹچی ہو،،، اسے اگر ہوا بھی چھو کر گزر جائے نا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔اور تمہیں تو میں صرف اس لیے بخش دیتا ہوں کہ تم اس کے کزن ہو،، یقین جانو تم خوش قسمت ہو کہ اس دن ریسٹورنٹ سے اپنے پیروں پر چل کر گھر گئے اور یاد تو تم ابھی بھی بہت کچھ رکھنے والے ہو"
یہ کہتے ہوئے زین نے اچانک حور کو اپنی طرف کھینچا اور ایک سیکنڈ بھی لگائے بغیر وہ حور کے چودہ طباق روشن کر چکا تھا۔۔۔ حیرت اور بے یقینی سے حور کی آنکھیں پھٹی کی پٹھی رہ گئیں اور دوسری طرف 14 طباق تو خضر کے بھی روشن ہو چکے تھے مگر وہ صرف سرخ چہرے کے ساتھ مٹھیاں بیچ کر رہ گیا 

"آئسکریم کا ٹیسٹ بالکل اچھا نہیں تھا خیر رات میں کال کروں گا پک کر لینا"
آئس کریم کا ٹیسٹ اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ہوئے وہ حور کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے بولا

حور ابھی بھی آنکھیں پھاڑے ہوئے زین کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی زین نے اس کو دیکھ کر شرارت سے اپنی ایک آنکھ دبائی اور مسکرا دیا اور جانے سے پہلے سے خضر کی طرف مڑا

"جب تک یہ یہاں پر موجود ہے تو اپنی بہن کا خیال رکھنا"
وہ جاتے جاتے بھی خضر کو مزید سلگانہ نہیں بھولا 

زین کے جاتے ہی حور نے بھی خضر کو دیکھے بناء اندر کی طرف دوڑ لگادی اسے اب زین کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا

"اف میرے خدا یہ شخص تو میرے جانے کے بعد فل ٹائم بے ہودگی پر اتر آیا ہے،، توبہ ہے خضر بھائی کے سامنے ہی۔۔۔۔۔" آگے کا منظر سوچ کر حور کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوگیا 

"اف کیا سوچ رہے ہوں گے خضر بھائی بھی،، ان کے سامنے جاتے ہوئے کتنی شرم آئے گی۔۔۔۔۔ بلکہ سامنا ہی نہیں کروں گی اب میں ان کا"
اور شاید یہی اس کا شوہر بھی چاہتا تھا 


***

زین صبح آفس پہنچا تو ماحول میں عجیب سے تناؤ کا احساس ہوا۔ بلال اور اشعر دونوں ہی چپ تھے دونوں ہی اس کی بات کا جواب سرسری انداز میں دے رہے تھے اور ایک دوسرے کو بالکل بھی مخاطب نہیں کر رہے تھے 

"کیا پرابلم ہے تم دونوں کے ساتھ"
 کافی دیر دیکھنے کے بعد آخرکار زین نے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا 

"کوئی پرابلم نہیں ہے یہ فائل صدیقی صاحب کو دینے جا رہا ہوں تاکہ شام تک اس کی ڈیٹیلز مل جائیں"
فائل لے کر بلال روم سے باہر چلا گیا 

"کیا بات ہوئی ہے آشعر! تم دونوں کے درمیان"
زین نے اشعر سے پوچھا 

"بس یار جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا" 
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا

"یہ پہیلیاں کم بوجھاو اور کام کی بات پر آو فورا"
زین نے سگریٹ ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا 

"ہونا کیا تھا کل اس سالے کو پتہ چل گیا کہ میں اسے سالا بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ تب سے خونخوار نظروں سے مجھ معصوم کو گھورے جا رہا ہے"
اشعر کے لہجے سے ابھی بھی مایوسی کم نہیں ہوئی تھی

"اور تمہارے اس کارنامے کا اس کو معلوم کیسے ہوا"
زین نے لائٹر جلاتے ہوئے کہا 

"اپنی ہونے والی شریک حیات سے اس کی مرضی اور رائے جاننے کے لیے  اس کو ملنے گیا تھا پتہ نہیں یہ وہاں  کہاں سے ٹپک پڑا"
اشعر نے ٹھنڈی آہ بھری 

"ہاہاہا تو یہ بات ہے" 
زین نے ہنستے ہوئے کہا 

"تم ہنس رہے ہوں ظالم انسان یہاں میری بینڈ بجی ہوئی ہے"
اشعر نے تپتے ہوئے کہا

"شکر کرو بینڈ اس نے تمھاری بجائی نہیں صرف گھورنے پر ہی انحصار  کیا ہے بائی داوے آپ کی ہونے والی شریک حیات کا کیا خیال ہے آپ کے بارے میں"
زین نے مسکراتے ہوئے سگریٹ کا دھواں منہ سے چھوڑا

"شکر ہے یار اس کے خیالات میرے بارے میں نیک ہیں۔۔۔۔ اپنے کھڑوس بھائی کی طرح نہیں"
اشعر نے تانیہ کا چہرہ یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہا  

"ہہمم تو یہ معاملہ ہے سارا"
زین نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا

"ہاں یہ بات ہے ساری جبھی تو مجھ سے صحیح طرح اداس بھی نہیں ہوا جا رہا"
اشعر کے لہجے میں ایک امید تھی جیسے وہ بلال کو منا لے گا  
   

***

"بھائی پانی"
بلال کے آفس سے آتے ہی تانیہ ہمت کرکے پانی کا گلاس بلال کے سامنے لے کر آئی۔۔۔۔ کل جب بلال اس کو گھر لے کر آیا تھا تو وہ اس کے بعد سے کمرے سے نہیں نکلی تھی فضا کے پوچھنے پر بھی طبیعت خرابی کا بہانہ بنا دیا مگر اس طرح چپ رہنے کا مطلب اپنے آپ کو مجرم ثابت کرنا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے اس نے بلال سے بات کرنے کا سوچا 

"بھائی آپ پلیز میری بات سنیں"
بلال اٹھ کر جانے لگا تو ایک دم تانیہ سامنے آکر بولی

"کوشش کرو کہ اپنی شکل مجھے نہیں دکھاو"
بلال تانیہ کو بول کر ٹھہرا نہیں کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر سامنے کھڑی فضا کو دیکھ کر ایک لمحے ٹھٹکا پھر وہاں سے چلا گیا 

فضا نہ سمجھی سے بلال کو دیکھنے لگی کمرے میں آئی تو  تانیہ کو روتے ہوئے دیکھا

"تانی کیا ہوا ہے"
 فضا نے تانیہ کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا

"بھائی مجھ سے ناراض ہیں فضا وہ مجھ سے بات تو دور کی بات میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہ رہے ہیں،، جب کہ میری کوئی غلطی نہیں تھی"
فضا کے گلے لگتے ہی تانیہ نے رونے میں مزید شدت آگئی 

"بات کیا ہوئی ہے تم دونوں بہن بھائیوں کے درمیان مجھے کچھ بتاو تو سہی" 
فضا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تانیہ نے کل والا سارا واقعہ فضا کو سنایا 

"ہہمم تو یہ بات ہے" فضا نے سن کر کچھ سوچتے ہوئے کہا 

"میری بس یہ غلطی تھی فضا میں اس وقت اشعر کے کہنے پر ان کے ساتھ چلی گئی۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے یا اس وقت بھی میں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے بھائی کا سر جھکے"
تانیہ نے روتے ہوئے کہا

"افوہ یہ رونا بند کرو اپنا میں تمہیں جانتی نہیں کیا جو مجھے وضاحتیں دے رہی ہو اور اپنے اس سڑے ہوئے بھائی کے  رویہ کو سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کا بس چلے وہ تو ہواؤں کی بات تو کا بھی برا مان جائے تم اس سمت کیوں چل رہی ہو"
فضا نے بلال کی نکل اتارتے ہوئے کہا

"ویسے ایک بات ہے تانیہ اشعر بھائی ہے تو بڑے ڈیشنگ بہت زیادہ پیارے لگو گے تم دونوں ایک ساتھ"
فضا نے خوش ہوتے ہوئے تانیہ سے کہا 

"نہیں فضا ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا میں بھائی کو مزید ناراض نہیں کرسکتی اور اشعر کو خود ہی منع کر دوں گی کہ وہ اپنی مدر کو ہمارے گھر نہ بھیجیں"
تانیہ نے افسردگی سے کہا 

"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اگر کوئی بھی ایسی بیوقوفی کی نا تم نے تو سچ مچ پٹو گی میرے ہاتھوں سے اور تمہارے اس سڑے ہوئے بھائی کو آنے دو،، آج دو دو ہاتھ کرتی ہوں اس سے میں۔۔۔۔ سمجھتا کیا ہے وہ خود کو،، اپنی اسٹوری میں تو خود ولن بنا ہی اور اب بہن کی اسٹوری میں بھی وہی کردار ادا کر رہا ہے"
فضا نے غصہ میں بھناتے ہوئے کہا 

"نہیں فضا تم بھائی سے کچھ نہیں کہو گی اس معاملے میں۔۔۔۔ اس معاملے کو زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بات یہی ختم ہوجائے گی یہی بہتر ہے"
تانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا

"میری بات غور سے سنو تانیہ اگر تم نے اشعر بھائی کو فون کرکے کچھ بھی بولا تو تم اشعر بھائی کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ بھی زیادتی کروگی اور رہی بات تمہارے بھائی کی تو تم اس کی فکر نہیں کرو مجھ پر بھروسہ رکھو میں تمہارے ساتھ کبھی بھی زیادتی نہیں ہونے دوں گی"
فضا سنجیدہ لہجے میں اس کو یقین دلایا

"مگر فضا تم نہیں جانتی وہ بھائی"

"ارے چھوڑو اس وقت بھائی وہای کو،، بھوک لگ رہی ہے کھانا کھاؤ چلو میرے ساتھ۔۔۔ ماموں کو بھی دوا دینی ہے پھر"
 فضا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا              

 ***

"ابو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"
خضر نے اسٹیڈی میں آتے ہوئے ظفر مراد سے کہا 

"ہاں بولو میں سن رہا ہوں"
انھوں نے مصروف انداز میں جواب دیا

"آپ نے تو اسے بڑے دعوے سے کہا تھا کہ آپ زین سے سب کچھ واپس چھین لیں گے حور اور ساری رقم جو اس نے ہم سے چھینی ہے وہ سب واپس لے لیں گے"
خضر نے ظفر مراد کو یاد دلاتے ہوئے کہا 

"وہ سب مجھے یاد ہے آگے بولو"
ظفر مراد نے خضر سے بولا 

"تو پھر اس معاملے کو اتنا تول کیوں دے رہے ہیں،، جو بھی کچھ کرنا ہے کرکرا کے فارغ کریں وہ زین روز یہاں پر آجاتا ہے مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا"
خضر کو آج شام والا منظر یاد آیا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی  

"کوئی تول نہیں دیا میں نے اس معاملے کو بہت سمجھ داری سے قدم اٹھانا پڑتا ہے ایسے معاملوں میں جلد بازی میں صرف نقصان کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔ میں نے کہا تھا نہ حور اور پیسہ سب واپس اس گھر میں آئے گے حور آگئی ہے اور اب بس پیسہ واپس لانا ہے اپنا،،،،، اس پر حور کے سائن ہونے کے بعد ہی ہمہیں اگلا قدم اٹھانا ہے" ظفر مراد نے پیپر خضر کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا

"کیا ہے ان پیپرز میں"
خضر نے ظفر مراد سے پوچھا 

"یہ تم خود ہی دیکھ لو"
ظفر مراد نے پیپرز خضر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا خضر نے ایک نظر پیپرز کو دیکھا اور پھر ظفر مراد کو 

"کیا حور ان پیپرز پر سائن کرے گی" خضر نے ظفر مراد سے سوال کیا


جاری ہے