Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 44
"یہ کس بے وقوف نے آئسکریم دی ہے کھانے کے لئے اور تم کھا بھی رہی ہو،، پتہ بھی ہے نہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے"
زین انکھوں سے گلاسز اتار کر شرٹ میں اٹکاتا ہوا ان دونوں کے قریب آیا اور حور کے ہاتھ سے آئسکریم لے کر دور اچھالی
"یہ کیا بدتمیزی ہے شاہ"
حور نے زین کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے کہا
"اسے بدتمیزی نہیں سویٹ ہارٹ کیئر کہتے ہیں،، تمہیں پتہ ہے نہ تمہاری طبیعت خراب ہوتی ہے تو میری جان پر بن آتی ہے۔۔۔۔۔اپنے شاہ پر رحم کرو اور اب جلدی جلدی سے اپنی طبیعت ٹھیک کرلو میں مزید تمہاری طبیعت خرابی بالکل افورڈ نہیں کرسکتا"
وہ حور کے چہرے پر آئی ہوئی لٹیں پیچھے کرتے ہوئے کہنے لگا
"ایک منٹ تم یہاں کیسے آئے؟؟ تمہیں اندر کس نے آنے دیا"
خضر زین کو اپنے گھر میں موجود دیکھ کر چونکا اور غصے سے کہنے لگا
"آخر تمہیں یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی خضر کہ جب میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں تم مجھے کسی دوسرے کا بیچ میں مداخلت کرنا سخت زہر لگتا ہے ،، اچھی عادت نہیں ہے یہ تمہاری، پلیز بدلو اس کو اور رہی بات میرے یہاں پر آنے کی تو جب تک میری بیوی اس گھر میں موجود ہے تو کسی کا باپ بھی مجھے یہاں آنے سے نہیں روک سکتا"
زین نے دوستانہ انداز میں کہتے ہوئے آخر میں خضر کو باور کرایا
"حور اب تمہارے ساتھ واپس نہیں جانے والی، یہ بات اس نے خود اپنے منہ سے اس دن کہی تھی شاید تم بھول رہے ہو"
خضر نے اس کو جتانے والے انداز میں تین دن پہلے کا واقعہ یاد دلایا
"اس کا کہنا یا نہ کہنا میرے لیے معنی نہیں رکھتا۔۔۔ اگر میں چاہوں تو اس وقت بھی حور کو اپنے ساتھ لے جا سکتا ہوں کون روکے گا مجھے تم؟؟ اگر میں ابھی حور کو اپنے ساتھ واپس لے جاو تو وہ خود بھی مجھے ایسا کرنے سے نہیں روک سکتی"
زین نے چیلنجنگ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا
"شاہ تم"
حور نے کچھ بولنا چاہا تو زین نے اپنی شہادت کی انگلی حور کے ہونٹوں پر رکھ کر اس کو کچھ بھی بولنے سے باز رکھا
"شش شاہ کی جان اب میری سنو۔۔۔۔ جلدی سے اپنی طبعیت ٹھیک کرو مزید تمہیں یہاں پر برداشت نہیں کرنے والا میں،،، ابھی تھوڑی دیر پہلے اندر بتایا تھا نہ تمہیں کہ کتنا مس کر رہا ہوں اندازہ نہیں ہوا تمہیں"
زین حور کے گالوں کو اپنی انگلیوں سے چھوتے ہوئے گردن تک لایا
حور زین کی حرکت پر بدک کر پیچھے ہٹی اور گھور کر زین کو دیکھنے لگی جبکہ دوسری طرف خضر لب بیچ کر رہ گیا
"حور سے زیادہ پیار جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ جو اس دن تم نے ریسٹورنٹ میں اس کے ساتھ کیا تھا وہ تماشہ دنیا نے دیکھا تھا اور مجھے بھی ابھی تک یاد ہے"
"کیا ہے نا خضر میں اپنی بیوی کے معاملے میں بہت زیادہ ٹچی ہو،،، اسے اگر ہوا بھی چھو کر گزر جائے نا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔اور تمہیں تو میں صرف اس لیے بخش دیتا ہوں کہ تم اس کے کزن ہو،، یقین جانو تم خوش قسمت ہو کہ اس دن ریسٹورنٹ سے اپنے پیروں پر چل کر گھر گئے اور یاد تو تم ابھی بھی بہت کچھ رکھنے والے ہو"
یہ کہتے ہوئے زین نے اچانک حور کو اپنی طرف کھینچا اور ایک سیکنڈ بھی لگائے بغیر وہ حور کے چودہ طباق روشن کر چکا تھا۔۔۔ حیرت اور بے یقینی سے حور کی آنکھیں پھٹی کی پٹھی رہ گئیں اور دوسری طرف 14 طباق تو خضر کے بھی روشن ہو چکے تھے مگر وہ صرف سرخ چہرے کے ساتھ مٹھیاں بیچ کر رہ گیا
"آئسکریم کا ٹیسٹ بالکل اچھا نہیں تھا خیر رات میں کال کروں گا پک کر لینا"
آئس کریم کا ٹیسٹ اپنے ہونٹوں پر محسوس کرتے ہوئے وہ حور کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے بولا
حور ابھی بھی آنکھیں پھاڑے ہوئے زین کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی زین نے اس کو دیکھ کر شرارت سے اپنی ایک آنکھ دبائی اور مسکرا دیا اور جانے سے پہلے سے خضر کی طرف مڑا
"جب تک یہ یہاں پر موجود ہے تو اپنی بہن کا خیال رکھنا"
وہ جاتے جاتے بھی خضر کو مزید سلگانہ نہیں بھولا
زین کے جاتے ہی حور نے بھی خضر کو دیکھے بناء اندر کی طرف دوڑ لگادی اسے اب زین کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا
"اف میرے خدا یہ شخص تو میرے جانے کے بعد فل ٹائم بے ہودگی پر اتر آیا ہے،، توبہ ہے خضر بھائی کے سامنے ہی۔۔۔۔۔" آگے کا منظر سوچ کر حور کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوگیا
"اف کیا سوچ رہے ہوں گے خضر بھائی بھی،، ان کے سامنے جاتے ہوئے کتنی شرم آئے گی۔۔۔۔۔ بلکہ سامنا ہی نہیں کروں گی اب میں ان کا"
اور شاید یہی اس کا شوہر بھی چاہتا تھا
***
زین صبح آفس پہنچا تو ماحول میں عجیب سے تناؤ کا احساس ہوا۔ بلال اور اشعر دونوں ہی چپ تھے دونوں ہی اس کی بات کا جواب سرسری انداز میں دے رہے تھے اور ایک دوسرے کو بالکل بھی مخاطب نہیں کر رہے تھے
"کیا پرابلم ہے تم دونوں کے ساتھ"
کافی دیر دیکھنے کے بعد آخرکار زین نے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"کوئی پرابلم نہیں ہے یہ فائل صدیقی صاحب کو دینے جا رہا ہوں تاکہ شام تک اس کی ڈیٹیلز مل جائیں"
فائل لے کر بلال روم سے باہر چلا گیا
"کیا بات ہوئی ہے آشعر! تم دونوں کے درمیان"
زین نے اشعر سے پوچھا
"بس یار جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا"
اشعر نے مایوس لہجے میں کہا
"یہ پہیلیاں کم بوجھاو اور کام کی بات پر آو فورا"
زین نے سگریٹ ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا
"ہونا کیا تھا کل اس سالے کو پتہ چل گیا کہ میں اسے سالا بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ تب سے خونخوار نظروں سے مجھ معصوم کو گھورے جا رہا ہے"
اشعر کے لہجے سے ابھی بھی مایوسی کم نہیں ہوئی تھی
"اور تمہارے اس کارنامے کا اس کو معلوم کیسے ہوا"
زین نے لائٹر جلاتے ہوئے کہا
"اپنی ہونے والی شریک حیات سے اس کی مرضی اور رائے جاننے کے لیے اس کو ملنے گیا تھا پتہ نہیں یہ وہاں کہاں سے ٹپک پڑا"
اشعر نے ٹھنڈی آہ بھری
"ہاہاہا تو یہ بات ہے"
زین نے ہنستے ہوئے کہا
"تم ہنس رہے ہوں ظالم انسان یہاں میری بینڈ بجی ہوئی ہے"
اشعر نے تپتے ہوئے کہا
"شکر کرو بینڈ اس نے تمھاری بجائی نہیں صرف گھورنے پر ہی انحصار کیا ہے بائی داوے آپ کی ہونے والی شریک حیات کا کیا خیال ہے آپ کے بارے میں"
زین نے مسکراتے ہوئے سگریٹ کا دھواں منہ سے چھوڑا
"شکر ہے یار اس کے خیالات میرے بارے میں نیک ہیں۔۔۔۔ اپنے کھڑوس بھائی کی طرح نہیں"
اشعر نے تانیہ کا چہرہ یاد کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
"ہہمم تو یہ معاملہ ہے سارا"
زین نے اشعر کو دیکھتے ہوئے کہا
"ہاں یہ بات ہے ساری جبھی تو مجھ سے صحیح طرح اداس بھی نہیں ہوا جا رہا"
اشعر کے لہجے میں ایک امید تھی جیسے وہ بلال کو منا لے گا
***
"بھائی پانی"
بلال کے آفس سے آتے ہی تانیہ ہمت کرکے پانی کا گلاس بلال کے سامنے لے کر آئی۔۔۔۔ کل جب بلال اس کو گھر لے کر آیا تھا تو وہ اس کے بعد سے کمرے سے نہیں نکلی تھی فضا کے پوچھنے پر بھی طبیعت خرابی کا بہانہ بنا دیا مگر اس طرح چپ رہنے کا مطلب اپنے آپ کو مجرم ثابت کرنا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے اس نے بلال سے بات کرنے کا سوچا
"بھائی آپ پلیز میری بات سنیں"
بلال اٹھ کر جانے لگا تو ایک دم تانیہ سامنے آکر بولی
"کوشش کرو کہ اپنی شکل مجھے نہیں دکھاو"
بلال تانیہ کو بول کر ٹھہرا نہیں کمرے سے باہر نکلنے لگا مگر سامنے کھڑی فضا کو دیکھ کر ایک لمحے ٹھٹکا پھر وہاں سے چلا گیا
فضا نہ سمجھی سے بلال کو دیکھنے لگی کمرے میں آئی تو تانیہ کو روتے ہوئے دیکھا
"تانی کیا ہوا ہے"
فضا نے تانیہ کو گلے لگاتے ہوئے پوچھا
"بھائی مجھ سے ناراض ہیں فضا وہ مجھ سے بات تو دور کی بات میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہ رہے ہیں،، جب کہ میری کوئی غلطی نہیں تھی"
فضا کے گلے لگتے ہی تانیہ نے رونے میں مزید شدت آگئی
"بات کیا ہوئی ہے تم دونوں بہن بھائیوں کے درمیان مجھے کچھ بتاو تو سہی"
فضا کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تانیہ نے کل والا سارا واقعہ فضا کو سنایا
"ہہمم تو یہ بات ہے" فضا نے سن کر کچھ سوچتے ہوئے کہا
"میری بس یہ غلطی تھی فضا میں اس وقت اشعر کے کہنے پر ان کے ساتھ چلی گئی۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے یا اس وقت بھی میں نے کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے بھائی کا سر جھکے"
تانیہ نے روتے ہوئے کہا
"افوہ یہ رونا بند کرو اپنا میں تمہیں جانتی نہیں کیا جو مجھے وضاحتیں دے رہی ہو اور اپنے اس سڑے ہوئے بھائی کے رویہ کو سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کا بس چلے وہ تو ہواؤں کی بات تو کا بھی برا مان جائے تم اس سمت کیوں چل رہی ہو"
فضا نے بلال کی نکل اتارتے ہوئے کہا
"ویسے ایک بات ہے تانیہ اشعر بھائی ہے تو بڑے ڈیشنگ بہت زیادہ پیارے لگو گے تم دونوں ایک ساتھ"
فضا نے خوش ہوتے ہوئے تانیہ سے کہا
"نہیں فضا ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا میں بھائی کو مزید ناراض نہیں کرسکتی اور اشعر کو خود ہی منع کر دوں گی کہ وہ اپنی مدر کو ہمارے گھر نہ بھیجیں"
تانیہ نے افسردگی سے کہا
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا اگر کوئی بھی ایسی بیوقوفی کی نا تم نے تو سچ مچ پٹو گی میرے ہاتھوں سے اور تمہارے اس سڑے ہوئے بھائی کو آنے دو،، آج دو دو ہاتھ کرتی ہوں اس سے میں۔۔۔۔ سمجھتا کیا ہے وہ خود کو،، اپنی اسٹوری میں تو خود ولن بنا ہی اور اب بہن کی اسٹوری میں بھی وہی کردار ادا کر رہا ہے"
فضا نے غصہ میں بھناتے ہوئے کہا
"نہیں فضا تم بھائی سے کچھ نہیں کہو گی اس معاملے میں۔۔۔۔ اس معاملے کو زیادہ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، بات یہی ختم ہوجائے گی یہی بہتر ہے"
تانیہ نے اٹھتے ہوئے کہا
"میری بات غور سے سنو تانیہ اگر تم نے اشعر بھائی کو فون کرکے کچھ بھی بولا تو تم اشعر بھائی کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ بھی زیادتی کروگی اور رہی بات تمہارے بھائی کی تو تم اس کی فکر نہیں کرو مجھ پر بھروسہ رکھو میں تمہارے ساتھ کبھی بھی زیادتی نہیں ہونے دوں گی"
فضا سنجیدہ لہجے میں اس کو یقین دلایا
"مگر فضا تم نہیں جانتی وہ بھائی"
"ارے چھوڑو اس وقت بھائی وہای کو،، بھوک لگ رہی ہے کھانا کھاؤ چلو میرے ساتھ۔۔۔ ماموں کو بھی دوا دینی ہے پھر"
فضا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا
***
"ابو مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"
خضر نے اسٹیڈی میں آتے ہوئے ظفر مراد سے کہا
"ہاں بولو میں سن رہا ہوں"
انھوں نے مصروف انداز میں جواب دیا
"آپ نے تو اسے بڑے دعوے سے کہا تھا کہ آپ زین سے سب کچھ واپس چھین لیں گے حور اور ساری رقم جو اس نے ہم سے چھینی ہے وہ سب واپس لے لیں گے"
خضر نے ظفر مراد کو یاد دلاتے ہوئے کہا
"وہ سب مجھے یاد ہے آگے بولو"
ظفر مراد نے خضر سے بولا
"تو پھر اس معاملے کو اتنا تول کیوں دے رہے ہیں،، جو بھی کچھ کرنا ہے کرکرا کے فارغ کریں وہ زین روز یہاں پر آجاتا ہے مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا"
خضر کو آج شام والا منظر یاد آیا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی
"کوئی تول نہیں دیا میں نے اس معاملے کو بہت سمجھ داری سے قدم اٹھانا پڑتا ہے ایسے معاملوں میں جلد بازی میں صرف نقصان کے علاوہ کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا ہے۔ ۔ ۔ ۔۔ میں نے کہا تھا نہ حور اور پیسہ سب واپس اس گھر میں آئے گے حور آگئی ہے اور اب بس پیسہ واپس لانا ہے اپنا،،،،، اس پر حور کے سائن ہونے کے بعد ہی ہمہیں اگلا قدم اٹھانا ہے" ظفر مراد نے پیپر خضر کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
"کیا ہے ان پیپرز میں"
خضر نے ظفر مراد سے پوچھا
"یہ تم خود ہی دیکھ لو"
ظفر مراد نے پیپرز خضر کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا خضر نے ایک نظر پیپرز کو دیکھا اور پھر ظفر مراد کو
"کیا حور ان پیپرز پر سائن کرے گی" خضر نے ظفر مراد سے سوال کیا
جاری ہے

0 comments:
Post a Comment