Monday, December 10, 2018

episode 45

Itni mohhbat karo na
By zeenia sharjeel
Epi # 45



"ان پیپرز پر حور سے کیسے سائن کروانا ہے یہ تمہارا کام ہے جب وہ زین سےخلع لے گی،، اس کے بعد ہی ہم زین پر کیس کریں گے کہ زبردستی گن پوائنٹ پر نکاح کرنا گن پوائنٹ پر رقم چھیننا اور حور کی گواہی سے ہی ہم اپنی رقم نکلوا سکتے ہیں اس کو سلاخوں کے پیچھے کر سکتے ہیں"
ظفر مراد نے سوچا ہوا پلان خضر کو بتایا دروازے پر دستک کی آواز پر ان دونوں کی نظریں  اسماء پر پڑی جو ہاتھ میں چائے کے کپ لیے ہوئے اندر آ رہی تھی

"خضر بیٹا آپ کے پاس کوئی پین کلر ہے"
انہوں نے نرم لہجے میں چائے کے کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خضر سے پوچھا 

"خیریت چچی کیا ہوا"
خضر نے آسماء سے پوچھا 

"میڈیسن باکس میں میرے پاس پین کلر موجود نہیں ہے شام سے ہی سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا اب کافی بڑھ گیا ہے"
انہوں نے چائے کے کپ دونوں کو تھاماتے ہوئے کہا

"آپ روم میں چلیے میں آپ کو دے دیتا ہوں"
خضر نے ان کو نارمل انداز سے بات کرتے ہوئے دیکھ کر یہ اندازہ لگایا کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں سنا خضر نے شکر ادا کیا 

**

اسماء کا موبائل جو کافی دیر سے حور کو نیند میں ڈسٹرب کر رہا تھا آخرکار بیزار آ کر بند آنکھوں سے ہی حور نے کال ریسیو کر لی اور بیزاری سے گویا ہوئی ہے 

"ہیلو کون بول رہا ہے"
نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں حور نے پوچھا 

"میں یہاں تمہاری یاد میں تارے گن رہا ہوں اور تم مزے سے نیندیں پوری کر رہی ہوں۔۔۔۔چلو ویسے یہ بھی اچھا ہے اپنی نیندیں میکے میں ہی پوری کر کے آنا میرے پاس"
زین کی آواز موبائل سے ابھری تو حور کی آنکھیں پوری کھل گئی 

"کس نے کہا تمہیں اس وقت تارے گننے کو ہمیشہ مجھے نیند میں ڈسٹرب کرنا بس"
حور نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا 

"یہ تو الزام ہے سویٹ ہارٹ صرف آج دوپہر اور ابھی نیند میں ڈسٹرب کیا اس سے پہلے تو ہمیشہ اپنے دل کو مار کر تمہاری نیند کا احترام کیا ہے"
زین کی بےتکی باتوں سے اس سے بالکل نیند نہیں آنی تھی

"تم نے فون کس لئے کیا ہے شاہ"
حور نے زین سے پوچھا

"تمہیں پتا ہے دو دن سے سعیدہ کام کرنے کے لئے نہیں آرہی، گھر کتنا گندا پڑا ہے"
زین نے حور کی معلومات میں اضافہ کیا

"او تو اب وجہ سمجھ آئی تم بار بار بھی کیوں چاہ رہے ہو میں گھر واپس آجاؤ۔۔۔ تمہیں گھر کی فکر ہے گھر کی صفائی کی۔۔۔۔ تم نے مجھے گھر کی چھپکلی سمجھ رکھا ہے"
حور نے تپتے ہوئے کہا

"سویٹ ہارٹ خود کو چھپکلی تو نا کہو۔۔۔۔ تم تو میرے گھر کی اور اس دل کی ملکہ ہوں،، صرف تمہاری حکمرانی ہے اس دل پر اور صرف مجھے گھر کی ہی نہیں اپنی بھی فکر ہے تمہیں پتہ ہے نا میرا گزارہ بہت مشکل ہے تمہارے بناء۔۔۔۔یو نو اکیلے اتنے بڑے بیڈ پر سونا کتنا برا لگ رہا ہے" 
زین نے ٹیرس کا دروازہ بند کرکے روم میں آتے ہوئے کہا 

"تم فضول حرکتوں کے ساتھ ساتھ فضول باتوں میں بھی ماسٹر ہو۔۔۔۔ اور یہ آج دوپہر میں تم نے خضر بھائی کے سامنے کیا بیہودہ حرکت کی تھی،،، تمہیں ذرا شرم نہیں آئی"
حور نے اس کو غلطی کا احساس دلانا چاہا 

"او کم ان یار تمہارے خضر بھائی کون سے دودھ پیتے بچے ہیں،،، اسے پتہ نہیں ہے کیا، میاں بیوی کا ریلیشن،، زیادہ نہیں سوچو تم بھی" 
زین نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا 

"بے شک وہ دودھ پیتے بچے نہیں ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر کسی کے سامنے شروع ہو جاؤ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہوگے وہ کتنا برا لگا ہوگا انھیں"
حور نے زین کو شرمندہ کرنا چاہا

"اکیلے میں تم نے کہاں موقع دیا کمرے سے باہر ہی نکل گئی اور کچھ برا نہیں لگا ہوگا اسے ورنہ وہ آنکھیں بند کرلیتا اپنی۔ ۔۔۔ ویسے تمہیں تو برا نہیں لگا نا"
زین اب شرارت سے حور سے پوچھ رہا تھا

"تم سدھرنے والی یا بات ماننے والی شے نہیں ہوں۔۔۔ کبھی تو سیریز لیا کرو مجھے"
حور نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

"ایک تمہیں ہی تو سیریس لیا ہوا ہے سویٹ ہارٹ اب تم بھی میرے لئے بالکل سیریس ہوجاؤ اور بند کرو یہ خضر نامہ۔ ۔۔۔ پری سے کہو کہ وہ شاہ کے پاس آجائے اس کا شاہ اپنی پری کو بہت مس کر رہا ہے" 
زین نے آنکھیں بند کرتے ہوئے ایک جذب سے کہا جیسے وہ واقعی اس کو مس کر رہا ہو

"اور پھر شاہ نے اگر دوبارہ پری کو ڈرایا یا غصہ کیا تو"
حور نے زین سے کہا

"اب بالکل بھی غصہ نہیں ہوگا پرامس"
زین نے ہار مانتے ہوئے کہا

"اور جو شاہ کے غصے میں پری کا نقصان ہوا ہے اس کا کیا"
حور کو نئے سرے سے دکھ نے آگھیرا

"اس دن صرف تمہارا نقصان نہیں ہوا حور میں نے بھی اپنا بچہ کھویا تھا اس دن صرف تم نے تکلیف برداشت نہیں کی ہے میں بھی بہت تڑپا ہوں مگر پلیز حور یوں دور رہ کر سزا نہیں دو واپس گھر آجاؤ"
زین نے بیڈ سے اٹھ کر بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا

"نہیں مجھے واپس فی الحال نہیں آنا تمہیں یاد ہے نا میں نے لاسٹ ٹائم تمہیں کہا تھا کہ آئندہ اگر تم نے غصہ کیا تو میں بہت برا ناراض ہو گئی تم سے، نہ صرف غصہ بلکہ تمہارے غصے کی وجہ سے ہم اپنے آنے والی خوشی سے بھی محروم ہو گئے۔۔۔۔ تمہاری طرح میرا بھی اتنا بڑا ظرف نہیں ہے میں تمہیں فوری طور پر سب بھول سکو" 
حور اس کے ساتھ جانا تو چاہتی تھی لیکن اس کا احساس دلانا بھی ضروری تھا کہ اس کے غصے کی وجہ سے ان دونوں نے کیا کچھ کھویا ہے اس نے سوچا کہ وہ زین سے دور رہے گی تبھی زین کو اس کی غلطی کا احساس ہوگا اور اس کے غصے میں بھی کمی آئے گی یہی سوچتے ہوئے زین کو انکار کیا

"بس حور بہت ہوگیا ہے اب،، کہہ تو دیا ہے نا یار شرمندہ  ہوں۔۔۔۔ اب کیا چاہتی ہوں میں کل تمہیں لینے آ رہا ہوں"
زین نے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے کہا

"میں تمھارے ساتھ نہیں جاو گی شاہ" 
حور بھی اپنی ضد پر اڑی رہی

"تمھاری نہ پہلے کبھی چلی ہے نہ اب چلے گی اور یہ تم خود بھی اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔ کان کھول کر سن لو تم کل میرے ساتھ واپس آ رہی ہو جو بھی نخرے دکھانے ہیں یہاں آکر دکھاؤ تاکہ تمہارا اچھی طرح علاج کروں میں،، کل کوئی تماشا لگائے بغیر ریڈی رہنا" 
زین نے غصے میں کہتے ہوئے فون رکھا

"نہیں یہ میری سوچ ہے، یہ انسان نہیں سدھر سکتا۔۔۔۔ اب پتہ نہیں کل کتنا بڑا تماشہ ہوگا"
حور نے سوچتے ہوئے دوبارہ آنکھیں بند کرلی

"زبردستی ہی صحیح،، گھر تو وہ اسے آج بھی لے کر آ سکتا تھا۔۔۔۔۔ وہ بےشک اس سے ناراض سہی زین کے زبردستی کرنے پر واپس آ بھی جانتی۔۔۔۔مگر زین چاہتا تھا وہ اپنی خوشی اور پوری دلی آمادگی کے ساتھ واپس آئے۔۔۔یہی سوچ کر وہ بیڈ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا   


***    


"کیا ہوا تم نے کھانا نہیں کھانا"
فضا کھانا رکھ کر جانے لگی تو بلال نے پوچھا 

"نہیں میں نے اور تانیہ نے کھانا کھا لیا ہے"
فضا بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی

"مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے بلال"
کھانے سے فارغ ہو کر بلال روم میں آیا تو فضا نے بلال سے کہا 

"زہے نصیب تو آپ کو خیال آہی گیا کہ شوہر کو بھی منہ لگا لیا جائے"
پورے دن کے بعد ابھی اس کا موڈ اچھا ہوا تھا اس لئے   بلال نے چہک کر کہا 

"پہلی بات تو یہ بلال کہ تم اپنے دماغ میں یہ بیٹھا لو کہ تم کوئی منہ لگانے والی چیز نہیں ہو اور دوسری بات یہ کہ مجھے تم سے ہمارے متعلق کوئی بات نہیں کرنی ہے بلکہ تانیہ اور اشعر بھائی کے متعلق بات کرنی ہے"
فضا نے بلال کو تپاتے ہوئے سیریس انداز میں بات کی

"منہ تم مجھے تین بار قبول کرکے ساری زندگی کے لئے لگا چکی ہوں پہلی بات تو یہ ہے اور رہی دوسری بات ،، تو میں تم سے یہ کسی دوسرے سے اس متعلق کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا نہیں سننا چاہتا ہوں"
تھوڑی دیر پہلے اچھا ہونے والا موڈ اب بلال کا خراب ہوچکا تھا

"کیوں؟؟؟  آخر کیوں نہیں بات کرنا چاہتے تم اس موضوع پر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ"
فضا نے اس کے خراب موڈ کی پروا کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی

"تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے فضا؟؟ تم دوسروں کے معاملوں میں الجھنے کی بجائے اپنے مسئلے حل کرو،، پھر بعد میں کسی اور کا مقدمہ لڑو"
بلال نے فضا کو جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر جواب دیا 

"پہلی بات تو یہ اپنے دماغ میں بٹھا لو بلال مسعود کہ مسئلہ کا شکار میں نہیں ہمیشہ سے تم رہے ہو دوسری بات یہ کہ تانیہ میرے لئے کوئی غیر نہیں ہے وہ میری نند بعد میں، میری بہن پہلے ہے اور میں اس کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دونگی سنا تم نے۔۔۔۔ تمہارے اندر خود فیلنگز نہیں ہیں احساس سے عاری انسان ہو تم تو دوسروں کو اپنی طرح سمجھنا چھوڑ دو"
فضا کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی لیکن وہ سانس لینے کے لئے رکی

"پہلی بات تو یہ مسزز بلال تانیہ میری بہن ہے اور مجھے بہت عزیز ہے اس کے لیے جو بھی میں سوچوں گا یا فیصلہ کروں گا وہ اس کے بھلے کے لئے ہی ہوگا،، تو تمہیں اپنی اس ننھی سی جان کو ہلکان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ بےشک میں ماضی میں مسلوں کا شکار رہا ہوں مگر ابھی اس وقت میرا سب سے بڑا مسئلہ تمہارا گریز ہے جو تم نے بلاوجہ میں برتا ہوا ہے"
بلال نے فضا کو باہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا

"اور تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ میں احساسات سے عاری انسان بالکل نہیں ہوں مگر اپنی فیلنگز کو شادی سے پہلے شو کر کے محبت جھاڑنے کا فن مجھے نہیں آتا۔۔۔۔ میری نظر میں ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے جو کہ اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے"
وہ کہتے ہوئے فضا کی گردن کی طرف جھکا فضا کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی

"اب کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ"
بلال نے ناگواری سے پوچھا

"کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں میرے قریب آنے کی یا مجھے چھونے کی۔۔۔ ابھی تم پر بہت حساب نکلتے ہیں"
فضا بلال سے بولتے ہوئے روم سے باہر چلی گئی

***

"اشعر اپنے روم میں بیٹھا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ بلال سے کیسے بات کی جائے، جو غلط فہمی اس کے دل میں پیدا ہو گئی ہے اسے کیسے دور کیا جائے،، وہ اپنی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی بیل بجی وہ چونکا کال تانیہ کے نمبر سے آ رہی تھی 

"ہیلو تانیہ کیسی ہیں آپ"
 اشعر کال ریسیو کرتے ہوئے بولا

"جو صورتحال کل سے چل رہی ہے تو کیسا ہونا چاہیے تھا مجھے"
تانیہ نے الٹا اس سے سوال کیا 

"میں سمجھ سکتا ہو تانیہ جو بھی ہوا ہوا غلط ہوا اس طرح نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ کل بلال اس طرح دیکھ کر بدگمان ہو جائے گا میں کبھی بھی آپ کو وہاں لے کر نہیں جاتا۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو کال بھی اس وجہ سے نہیں کی کہ میرے کال کرنے سے آپ کو مزید کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے ۔۔۔۔۔ لیکن آپ پلیز ٹینشن نہیں لیں سب ٹھیک ہو جائے گا،، میں بلال کو ہینڈل کر لوں گا اور منا لوں گا اسے،، مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا"
اشعر نے تانیہ کو حوصلہ دیتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ سب ٹھیک کر لے گا 

"بھائی نہیں مانیں گے اشعر میں جانتی ہوں وہ بہت ہرٹ ہوئے ہیں میری وجہ سے،،، میں انہیں مزید ہرٹ نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ پلیز میں نے کال اسی وجہ سے کی ہے اس قصے کو یہیں ختم سمجھے یہ رکویسٹ ہے میری،،،،، آپ پلیز بھائی سے کچھ نہیں کہے گے "
یہ کہہ کر تانیہ کال ڈسکانکٹ کر چکی تھی اور اشعر موبائل ہاتھ میں لے کر بیٹھا رہ گیا 

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment