Showing posts with label you are mine by zeenia sharjeel. Show all posts
Showing posts with label you are mine by zeenia sharjeel. Show all posts
Friday, May 31, 2019
Tuesday, May 28, 2019
you are mine novel by zeenia sharjeel final episode
🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Last episode🌹
"ارے واہ یہ آپ اور مما ہیں ناں"
تعبیر نے البم میں تصویر دیکھتے ہوئےمریم سے کہا
"ہاں یہ جب کی تصویر ہے جب میرا اور عائشہ کا کالج میں ایڈمیشن ہوا تھا"
مریم نے مسکرا کر پچھلا وقت یاد کرتے ہوئے کہا
"یہ والی تصویر دیکھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ میری تصویر ہے یہ"
تعبیر عائشہ کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے حیران ہوکر بولی
"ہاں اس دور میں تو عائشہ بالکل تم سے ملتی تھی اس دن میری بات پکی ہوئی تھی تو میرے پاس آئی تھی"
مریم نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے روم میں آیا تو مریم سامنے ہی بیٹھی تھی اس لیے اس کی نظر ارتضیٰ پڑ گئی مگر تعبیر کی پشت ہونے کی وجہ سے وہ ارتضیٰ کو نہیں دیکھ پائی ارتضیٰ بھی چپ کرکے وہی کرسی پر بیٹھ گیا
"اور یہ گبلو سا بچہ کون ہے"
تعبیر نے آٹھ ماہ کے صحت مند بچے کی تصویر کو دیکھ کر پوچھا تو مریم دوبارہ مسکرا دی
"کیا تم نے واقعی نہیں پہچانا اس گبلو کو"
مریم نے جس انداز میں تعبیر کو دیکھ کر پوچھا وہ فوراً ہے پہچان گئی یہ کس کی تصویر ہے
"اوو تو یہ ارتضیٰ کی تصویر ہے میں سمجھی آپ کے کسی بھانجے بھتیجے کی تصویر ہوگی۔۔۔۔ ویسے بچپن میں کتنا کیوٹ تھا ارتضیٰ"
تعبیر کی بات پر مریم ہنسی وہی ارتضیٰ کو بھی اپنی اسنووائٹ کے خیالات جاننے کا موقع ملا
"کیوں تمہیں اب کیوٹ نہیں لگتا میرا بیٹا"
مریم نے شرارت سے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا
"اب کہاں کیوٹنس بچی ہے اس کے چہرے پر۔۔۔ اچھی خاصی کرختگی چھائی رہتی ہے ہر وقت"
اب بھلا وہ مریم کے سامنے اس کے بیٹے کی کیا تعریف کرتی اس لیے گھما کر جواب دیا مگر وہ بھول گئی کہ وہ ارتضیٰ کی ماں کے سامنے بیٹھی تھی
"کرختگی کہاں چھائی ہوتی ہے اتنے پیارے تو نقش ہیں میرے بیٹے کے"
مریم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور تاثرات بالکل سنجیدہ ہوئے
"ارے نہیں مما کیوٹ تو وہ اب بھی بہت ہے مگر کبھی کبھی سیریس ہو جائے تو ڈر لگتا ہے اس لیے میں نے کہا"
تعبیر ڈر گئی کہیں مریم کو برا ہی نہ لگ جائے اس لئے فوراً بات بنا کر بولی
"کیا تمہیں ارتضیٰ ڈراتا بھی ہے مجھے بتاؤ ذرا،،، ابھی اس کے کمرے میں جا کر اس کے کان کھینچتی ہوں"
مریم بولتے ہوئے اٹھنے لگی تو فوراً تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑا
"ارے نہیں مما اب تو بالکل بھی نہیں ڈراتا بس پہلے کبھی موقع دیکھ کر تھوڑا تھوڑا ڈراتا تھا"
بوکھلاہٹ میں تعبیر کے منہ سے کیا کیا نکل رہا تھا وہ خود بھی پچھتا رہی تھی دوسری طرف اس کی بات پر ارتضیٰ کا بھی دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے ایک مریم ہی تھی جو ساری سیچویشن کو بہت انجوائے کر رہی تھی
"وہ ڈراتا نہیں ہوگا تم پر اپنا حق جتاتا ہوگا کیوکہ اسے بچپن سے یہی معلوم تھا کہ اسنوائٹ صرف اسی کی ہے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے تعبیر،، جب عائشہ اور تم یہاں ہمارے پاس آئے تھے ارتضیٰ ہر وقت تمہیں گود میں اٹھائے پھرتا تھا اسکول سے آنے کے بعد بس اسے اپنی اسنووائٹ چاہیے ہوتی تھی اور تم بھی تو سب سے زیادہ اسی سے اٹیچ تھی تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا،، تم مجھ سے یا عائشہ سے کھانا کھانے میں اتنے نخرے کرتی تھی صرف ارتضیٰ ہی تھا جو تمہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا اور تم آرام سے اس سے کھا لیتی تھی"
مریم کی باتیں وہ دونوں بہت غور سے سن رہے تھے ارتضیٰ کو تو یہ ساری باتیں یاد تھی مگر تعبیر کو ان باتوں کو علم نہیں تھا یہ سب سننا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا
"رک کیوں گئیں مما اور بھی بتائے"
مریم جیسے ہی چپ ہوئی تعبیر فوراً بول اٹھی
"اور یہ کہ جس دن تمہاری تھوڑی پر چوٹ لگی تھی ارتضیٰ اس دن بہت رویا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ چوٹ تمہیں نہیں بلکہ اسے لگی ہوں"
مریم کی بات پر تعبیر کا ہاتھ بے اختیار اپنی تھوڑی کے خم پر گیا جہاں اکثر ارتضیٰ اپنے ہونٹ رکھتا تھا
"پھر"
تعبیر کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی
"پھر اسی رات وہاج بھائی تمہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ۔۔۔ ارتضیٰ اس رات بہت رویا بہت چیخا چلایا اور کتنے دنوں تک اسے بخار رہا میں اور یاور تو بہت پریشان ہوگئے تھے"
مریم بتاتے بناتے خود بھی کہیں کھو گئی تھی
"پھر اس کے بعد کیا ہوا"
تعبیر نے کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا جس پر مریم چونکی
"اس کے بعد کی ساری بات اپنے شوہر سے پوچھو وہ تمہیں بتائے گا" مریم جب سے گھر آئے تھی تب سے تعبیر اس کے پاس سو رہی تھی۔۔۔ مریم نے تعبیر کو کچھ کہا نہیں کچھ پوچھا نہیں مگر اس بات کا اندازہ لگایا اس کے اور ارتضیٰ کے درمیان ناراضگی ہے
مریم بولتی ہوئی اٹھ کر بیڈ روم سے چلی گئی تعبیر نے مڑ کر مریم کو دیکھا تو اس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے ارتضیٰ پر پڑی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تو البم اس کی گود سے نیچے گر گیا۔۔۔ وہ اسی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا کرسی سے اٹھ کر وہ اس کے پاس آیا
"جس دن نو سالہ ارتضیٰ کے پاس سے ایک انکل اسکی اسنووائٹ کو دور لے گئے اس دن ارتضیٰ اپنے اسنووائٹ کے دور جانے سے بہت رویا اتنا کہ اگلے دن اس کو بخار چڑھ گیا۔ ۔۔۔ بخار تو اس کا تھوڑے دنوں بعد اتر گیا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی اسنووائٹ کو بہت یاد کرتا اور اکثر اسے رونا بھی آجاتا پھر اس نے خود اپنے آپ سے وعدہ کیا وہ کیسے بھی کہیں سے بھی اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈنے گا اور ان انکل سے،، جو اسکی اسنووائٹ کو اس سے چھین کر لے گئے ہیں۔۔۔ واپس ان سے چھین کر اپنے اس گھر میں لے آئے گا۔۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر بچپن کی یادیں دھوندلی ہوجاتی ہیں۔۔۔ مگر ارتضیٰ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا وقت گزرا،،، ارتضیٰ بڑا ہوا مگر اسے اپنی اسنووائٹ ابھی بھی یاد آتی لیکن اب وہ روتا نہیں تھا اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسے کہیں سے اپنی اسنووائٹ مل جائے۔۔۔ کبھی کبھی وہ تھک جاتا مگر مایوس نہیں ہوتا کیوکہ ارتضیٰ اور اسکی اسنووائٹ کے بیچ ایک مضبوط رشتہ قائم تھا اس لیے اسے یقین تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ اپنی اسنووائٹ کو پا لے گا اور پھر ایک دن اس نے اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈ لیا اسکی اسنووائٹ بھی اب بڑی ہوگئی تھی مگر وہ ارتضیٰ کو نہیں پہچانتی تھی بلکہ وہ ارتضیٰ کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے لگی پھر ارتضیٰ اپنا بھیس بدل کر آہستہ آہستہ اپنی اسنووائٹ کے قریب آیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کا دل اپنی اسنووائٹ کو دیکھ کر چاہتا وہ اب بھی اپنی اسنووائٹ کو پہلے کی طرح پیار کرے۔۔۔۔ اس کے بعد ارتضیٰ نے اپنی اسنووائٹ کو آہستہ آہستہ اپنا عادی بنایا تاکہ حقیقت معلوم ہونے پر اس کی اسنووائٹ ارتضیٰ کو چھوڑنے کا سوچے بھی نہیں پھر ارتضیٰ کو جو ٹھیک لگتا گیا وہ کرتا گیا۔۔۔ جانے انجانے میں اسکی اسنووائٹ کا دل بھی اس سے دکھا۔۔۔ مگر ارتضیٰ بھی کیا کرتا اسے تو بچپن سے یہی بتایا گیا تھا کہ اسنووائٹ اسی کی ہے۔۔۔ اس لئے تھوڑی سی اپنی من مانی کر کے بغیر اسنووائٹ کو اپنی سچائی بتائے اس نے اسنووائٹ پر اپنا حق جتاتے ہوئے کر اپنی شدتوں کو ظاہر کیا۔۔۔ شاید ارتضیٰ کو اندر سے یہ ڈر تھا کہ سچائی جانے کے بعد اس کی اسنووائٹ اس سے دور نہ چلی جائے۔ ۔۔ ارتضیٰ اپنی محبت کے لیے اپنی اسنووائٹ کے لئے بہت خودغرض ہے،، اسے ہمیشہ اپنے قریب اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہے"
ارتضیٰ اس کے قریب آ کر اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ اسے ساری باتیں بتائے جا رہا تھا اور تعبیر پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ کر اس کی باتیں سن رہی تھی
ارتضیٰ اس سے محبت کرتا ہے اسے اس بات کا تو اندازہ تھا مگر بچپن سے اتنی شدت سے،،، یہ اندازہ اسے آج ہوا تھا شاید یہی وجہ دی کی ساری حقیقت کھلنے کے بعد اس کا دل تو دکھا مگر پھر بھی وہ اس سے بد دل نہیں ہوسکی اور وہ خود بھی اس سے بھلا کیسے دور جا سکتی تھی اس کے پاس ایک باپ کے رشتے کے علاوہ اور تھا ہی کیا۔۔۔۔ رشتوں کے معاملے میں تو وہ شروع سے ہی اپنے آپ کو کمتر سمجھتی تھی مگر آج ارتضیٰ کے منہ سے یہ ساری باتیں سننے کے بعد اسے اندازہ ہوا وہ رشتوں کے معاملے میں بھی خوش قسمت ہے شوہر بیوی کا کتنا قریبی رشتہ ہوتا ہے اور اس کا شوہر کتنی شدت سے اسے چاہتا ہے ابھی سے نہیں بچپن سے ارتضیٰ اب خاموش ہوچکا تھا اور تعبیر کا ہاتھ تھامے اسے دیکھ رہا تھا
"اتنی محبت کیسے کرلی تو میں اسنووائٹ سے"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ نے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کر کے اسے بانہوں میں لیا
"تمہیں معلوم ہے جب مجھے اسکول سے دیر ہو جاتی یا مجھے ہوم ورک کرنے میں ٹائم لگ جاتا جس کی وجہ سے میں تمہیں وقت نہیں دے پاتا تو تم میرے پاس نہیں آتی تھی یہ تمہاری مجھ سے ناراضگی کا اظہار ہوتا تھا"
ارتضیٰ اپنے اور اسکے بچپن کی بات یاد کرکے اسے بتانے لگا جس پر تعبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ وہ ارتضیٰ کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تو وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
"پھر تم مجھے منانے کے لیے کیا کرتے"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے ارتضیٰ سے پوچھا تو وہ خود بھی ہنسا
"جب تم چھوٹی سی تھی ایک چاکلیٹ اور ایک کس kissپر مان جاتی تھی"
وہ ابھی بھی اسے بانہوں میں لیے کھڑا تھا اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے بتانے لگا
"پر اب مجھے چاکلیٹ خاص پسند نہیں"
تعبیر نے اترا کر کہا
"اب تم بڑی ہوگئی ہو چاکلیٹ تمہیں اب خاص پسند نہیں ناراض تم ابھی بھی مجھ سے ہو۔۔۔ اب تو منانے کے لیے صرف ایک کس سے بھی کام نہیں چل سکتا"
وہ اس کو بانہوں کے حصار میں لیے بیڈ پر گرا
"ارتضیٰ کیا بدتمیزی ہے مما آجائیگی"
اس کی حرکت پر تعبیر نے دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ آدھا کھلا ہوا تھا
"نہیں آئے گیں انہیں معلوم ہے ان کا بیٹا اپنی اسنووائٹ کو منا رہا ہے"
ارتضیٰ اس کی تھوڑی پر ہونٹ رکھتے ہوئے گردن پر جھکا
"دور ہٹو اس وقت بچپن میں تم معصوم بچے رہے ہوں گے مگر اب بالکل چھچھورے ہوچکے ہو"
تعبیر نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا
"معصوم تو میں بچپن میں بھی نہیں تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا میں یہی سوچتا تھا اب اسنووائٹ میرے پاس سویا کرے گی جیسے مما بابا کے پاس سوتی ہیں،،، مگر اس وقت میرے معصوم جذبات تھے جو لاعلم تھے محبت کے باقی تقاضوں سے مگر تمہاری جدائی سے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آ چکی ہے۔۔۔۔ تمہیں ہفتہ بھر ہوچکا ہے مما کے بیڈ روم میں ڈیرہ جمائے ہوئے آج رات شرافت سے اپنے بیڈ روم میں آجانا"
وہ اسے بہت سنجیدگی سے وارننگ دیتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا
"مجھے بہت اچھا لگتا ہے مما کے پاس سونا ممتا کا احساس کیا ہوتا ہے اسے میں اب باخبر ہوئی ہوں۔۔۔ اس لیے میرا ابھی مزید دو ہفتے تک ایسا کوئی ارادہ نہیں"
وہ بھی کھڑی ہوئی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرکے چڑانے والے انداز میں بولی
"اگر اب تم نے دوریوں کے عذاب مجھ پر مسلط کیئے اور آج رات تم بیڈروم میں نہیں آئی تو پھر دیکھنا کتنا پچھتاؤ گی تم" وہ اسے دھمکاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
"یعنی اچھی زبردستی ہے یہ"
وہ بھی روم سے نکل کر کچن میں چلی گئی جہاں مریم کھانا بنا رہی تھی
****
"مما وہ میں سوچ رہی تھی آپ کو سونے میں پرابلم ہوتی ہوگی ہفتہ بھر سے آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی ہوگی سونے میں" تعبیر کو کوئی اور بہانہ نہیں سوجا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا اب وہ بھلا خود سے کہہ دیتی وہ خود بھی ارتضیٰ کے پاس جانا چاہتی ہے
"تمہیں ایسا کیوں سوچتی ہوں مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے تمہارے پاس سونے سے ہاں ارتضیٰ کو تھوڑی پرابلم ہو رہی ہوگی تو وہ الگ بات ہے" مریم نے ہنسی چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا
"ارے نہیں اسے کیا پرابلم ہورہی ہوگی میں تو ایسے ہی آپ کی آرام کے خیال سے بول رہی تھی"
مریم کی آخری بات پر تعبیر نے جھینپ کر کہا
"اگر اسے پرابلم نہیں ہورہی پھر تو یہ اور بھی غلط بات ہے ابھی جاکر اس کے کان کھینچتی ہو پہلے تو بڑا دماغ کھاتا رہتا تھا میری اسنووائٹ میری اسنووائٹ اور اب اپنی اسنووائٹ کو اماں کے بیڈروم میں چھوڑا ہوا ہے کوئی پروا ہی نہیں ہے اسنووائٹ کی"
مریم نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا اور ارتضیٰ کے روم میں جانے کے لیے کھڑی ہوگئی
"نہیں مما رکیں پلیز آپ اسے کچھ مت کہیں ورنہ وہ الٹا مجھ پر غصہ کرے گا"
تعبیر نے گھبرا کر اٹھتے ہوئے مریم کو روکا
"غصہ کرے گا تم پر زرا کر کے تو دکھائے گھر سے باہر نکال دوں گی میں اسے۔۔۔ آج میں جاکر اس کی خبر لی ہی لیتی ہو"
مریم کے خطرناک ارادے دیکھ کر تعبیر اور زیادہ گھبرا گئی
"مما سنیں میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ کہہ رہا تھا اگر میں آج اپنے بیڈ روم میں نہیں آئی تو وہ اچھا خاصا ناراض ہوجائے گا"
تعبیر تو اچھا خاصہ پھنس گئی تھی ان دونوں ماں بیٹوں کے درمیان
"اووو تو یوں کہو کہ تمہیں اپنے بیڈ روم میں جا کر سونا ہے تاکہ ارتضیٰ ناراض نہ ہو"
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کے مسکرانے پر تعبیر اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی اور نظریں نیچے جھکا لی
"مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹی ایک اچھی بیوی ہے جو اپنے شوہر کی ناراضگی کا احساس رکھتی ہے جاو شاباش اپنے بیڈ روم میں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میری۔۔۔۔ میاں بیوی کا ایسا رشتہ ہوتا ہے جس میں چھوٹی موٹی ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں مگر بڑی ناراضگیوں پر بھی اپنا بیڈروم الگ نہیں کرنا چاہیے"
مریم نے اس کو پیار سے سمجھایا تعبیر اثبات میں سر ہلا کر مریم کے بیڈ روم سے نکل گئی
****
تعبیر بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اتضیٰ بیڈ پر لیٹا ہوا فون پر بات کر رہا تھا
"چل رکھ اب میری والی آگئی"
موبائل سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ تعبیر کے پاس آیا
"مما سے کیا بہانہ بنا کر آئی ہوں"
وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے تعبیر سے پوچھنے لگا
"یہی کہ آپ کے بیٹے کا دل اس کی اسنووائٹ کے بنا اکیلے بیڈروم میں نہیں لگ رہا"
تعبیر کے بتانے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
"اور اسنووائٹ کا دل کافی لگ گیا تھا اپنے بوڈی کارڈ کے بنا"
ارتضیٰ اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی بانہوں میں لیتا ہوا بولا
"کیوں نہیں لگتا دل برابر والا بیڈ روم سمجھو میرا میکہ ہے اگر تم نے مجھ سے کوئی بھی بدتمیزی کی تو تمھاری شکایت اپنی مما سے کر دوں گی"
تعبیر نے اسے دھمکی دی
"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ دھمکی مجھے اکسانے پر دی جا رہی ہے تاکہ میں کوئی بدتمیزی کر ہی دوں"
ارتضیٰ کہنے کے ساتھ ہی اسے بانہوں میں اٹھایا اور وارڈڈوب تک لایا
"ایسی کوئی بات نہیں ہے ارتضیٰ نیچے اتارو مجھے"
تعبیر نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے اسے وارڈروب کے پاس آکر نیچے اتارا
"میں نے اس دن کہا تھا نہ کہ اس میں تمہارے لیے کچھ ہے"
وہ کہتے ہوئے وارڈروب کا دروازہ کھولنے لگا تعبیر نے دیکھا وارڈروب میں بہت سارے گفٹ پیک اور ٹوائیز موجود تھے۔۔۔ اس نے ناسمجھی سے ارتضیٰ کی طرف دیکھا
"میں ہر سال اسنووائٹ کی برتھ ڈے پر اس کے لئے گفٹ لیتا تھا اور اسے پیک کروا کر اپنے پاس رکھ لیتا تھا یہی سوچا تھا جب تم میرے پاس آؤ گی یہ سارے گفٹ تب تم کو دوگا"
ارتضیٰ مسکراتا ہوا اسے بتا رہا تھا تعبیر اس کو غور سے دیکھنے لگی
"تمہیں یقین تھا کہ میں تمہیں دوبارہ مل جاؤگی"
تعبیر نے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے سوال کیا
"مجھے یقین تھا کہ میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا"
ارتضیٰ کی آواز پر سر اٹھا کر تعبیر نے اسے دیکھا ارتضیٰ کی آنکھوں میں اسے اپنے لئے ڈھیر سارا پیار نظر آیا
"میں بابا سے ملنا چاہتی ہوں ارتضیٰ انہیں دیکھنا چاہتی ہوں"
تعبیر نے دوبارہ ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے فرمائش کی
"کل لے چلوں گا" ارتضیٰ نے کہنے کے ساتھ اپنے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھ دیئے
تعبیر نے اپنے سارے گفٹ کھولے جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھرنے لگی اس کے بعد ارتضیٰ نے اسے اپنے اور اسکی بچپن کی بہت سی باتیں اور قصّے شیئر کیے جو تعبیر بہت غور سے سن رہی تھی ایک خوبصورت مسکراہٹ مسلسل اس کے چہرے پر رقصاں تھی یوں ایک حسین رات کا اختتام ہوا
****
"بابا"
تعبیر کی آواز پر وہاج صدیقی بےقراری سے اٹھ کر اس کے پاس آیا
"تابی میری بچی" اپنے سامنے تعبیر کو صحیح سلامت دیکھ کر وہاج کو اطمینان ہوا
پندرہ دن سے وہ جیل میں تھا ان 15 دنوں میں اس نے صرف مزمل کو ہی سوچا۔۔۔۔ کیسے وہ اس کل کے لڑکے کے ہاتھوں بے وقوف بن گیا
جب وہاج اور باقی لوگ پکڑے گئے ان میں مزمل نہیں تھا اس کو تبھی شک ہوا یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہوگا جبھی وہ خود فرار ہوگیا اس نے کتنی آرام سے نہ صرف وہاج کا اعتماد جیتا بلکہ پولیس کو اطلاع دے کر اس کا اسلحہ پکڑوایا۔۔۔ فضل یقیناً حقیقت جان گیا تھا اس لیے مزمل نے اس کو مار دیا اور اس کی بیٹی سے بھی شادی کرلی ان پندرہ دنوں میں وہ ساری کڑیاں جوڑنے کے بعد اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا
"معلوم نہیں تابی کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا ہوگا اس نے"
وہاج کو جب یہ خیال آتا تو تڑپ اٹھتا لیکن اس وقت تابی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کے دل کو اطمینان سا اتر گیا
"بابا آپ کیسے ہیں" چاہ کر بھی وہ اپنے آپ کو مضبوط نہیں رکھ سکی آنسوؤں کے درمیان وہاج سے پوچھنے لگی۔۔۔
"میں ٹھیک ہوں میری جان تم ٹھیک ہو مزمل نے تمہارے ساتھ کچھ برا تو نہیں کیا وہ کہاں پر ہے"
ایک کے بعد ایک سوال وہاج کے دماغ میں آنے لگا
"میں بھی یہی ہو سر"
ارتضیٰ کی آواز پر وہ اس نے تعبیر کے پیچھے ارتضیٰ کو آتے دیکھا اگر یہ سلاخیں درمیان میں نہیں ہوتی تو وہ لازمی اس کا گلا دبا دیتا
"دھوکے باز غدار یقیناً تم کوئی پولیس کے مخبر ہو۔۔۔ میں تمہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا ایک دفعہ یہاں سے باہر آجاؤ"
وہاج چاہ کر بھی اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا
یعنی مزمل کوئی پیشہ ور مجرم نہیں تھا ورنہ وہ یوں حوالات میں اتی اسانی سے نہیں آتا بلکے اب تک کہیں رو پوش ہوچکا ہوتا۔ ۔۔ وہاج کو کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی پھر مزمل کا تعبیر کے ساتھ آنا وہ یقینا کوئی خاص پولیس کا بندہ ہوگا یا اس کی بیک پر کوئی بھاری سپورٹ ہوگی۔۔۔۔ وہاج نے اس کو دیکھ کر سوچا
"دھوکے باز، غدار، پولیس کا مخبر میں ان سب کے علاوہ آپ کا داماد بھی ہو سر"
ارتضیٰ نے وہاج کو اپنا اور اس کا رشتہ یاد دلایا
وہاج اس کی بات سن کر اپنے جبڑے بھینجتا رہ گیا کس طرح اس نے تابی سے زبردستی نکاح نامے پر بلیک میل کر کے سائن کروائے تھے
"اور آپ یہ خوش فہمی بھی دور کر لیں یہاں سے اب آپ کبھی بھی باہر نہیں نکل سکتے۔۔۔ جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں پر تو اور بھی سخت نظر رکھی جاتی ہے۔۔۔ دوبارہ ایسی کوشش کریں گے تو ضروری نہیں قسمت ہر بار آپ کا ساتھ دے"
ارتضیٰ نے بہت مہذب انداز سے وہاج کو سمجھایا
"دعا مل لی تم اپنے بابا سے چلو اب گھر مما ویٹ کر رہی ہوگیں ہمارا"
ارتضیٰ نے جان بوجھ کر تعبیر کو دعا کہہ کر مخاطب کیا
"دعا"
وہاج ایک دم چونکا
"اووو ہاں آپ کو تو بتانا ہی بھول گیا سر۔۔۔۔ آپ کا تو حق بنتا ہے میرا اصل نام جاننے کا۔۔۔ ارتضیٰ،، ارتضیٰ نام ہے میرا یاور حسین کا بیٹا دعا کا شوہر کچھ یاد آیا"
ارتضیٰ کے اپنی اصلی شناخت بتانے پر وہاج صدیقی کے چہرے پر زلزلوں کے آثار نمایاں تھے کتنا بڑا گیم کھیل گیا تھا یہ لڑکا اس کے ساتھ وہاج صدیقی اس کو دیکھ کر سوچنے لگا
"ایک دفعہ آپ نے مزمل سے کہا تھا کی تابی میں آپ کی جان بستی ہے تو میرا آپ سے یہ وعدہ ہے آپ کی جان کی حفاظت میں اپنی جان سے زیادہ کروں گا دعا کے لئے آپ بے فکر ہو جائیں اور شاید دوبارہ اتنی جلدی ملوانے نہ لاسکوو"
ارتضیٰ نے وہاج صدیقی کی بجائے ایک باپ وہ اس کی بیٹی کی طرف سے اطمینان دلایا
"باہر آجاؤ میں ویٹ کر رہا ہوں"
ارتضیٰ تعبیر کے آنسو پہنچتا ہوا اس سے مخاطب ہوا اور باہر چلا گیا
"اپنا بہت خیال رکھنا"
وہاج صدیقی نے اپنے دونوں ہاتھ سلاخوں سے باہر نکال کر تعبیر کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تعبیر افسردہ دل کے ساتھ وہاں سے باہر نکل گئی
****
"اب بس بھی کر دیں آپ دونوں جلدی آ جائے چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے" اریش اور ہانی کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے مشعل وہی چائے اور باقی لوازمات کے ساتھ لان میں آئی اور ان کو مخاطب کرکے کہنے لگی
"ڈیڈ ہانی کی مما ڈے بائے ڈے بہت بورنگ ہوتی جارہی ہیں خود بھی انجوائے نہیں کرتی ہمیں بھی نہیں کرنے دیتی"
ہانی منہ بناتا ہوا ٹیبل پر آیا
"میری جان میں تمہاری بات سے اس وقت اتفاق نہیں کر سکتا۔۔۔ بورنگ والی بات کا برا مان کر ہانی کی مما میری سیٹرڈے نائٹ بور نہ کردیں"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر معنیٰ خیزی سے کہا
"اریش کبھی تو سیریس ہو جایا کریں"
مشعل نے اسے گھورتے ہوئے کہا ہانی چیئر پر بیٹھا ہوا ڈونٹ سے انصاف کرنے لگا
"میں تو سیریس ہوں آج رات بس تم مجھے سیریس لینا پچھلی سیٹرڈے نائیٹ کی طرح بہانے مت بنانا"
مشعل جوکہ اریش کے لیے اسپیگیٹیز نکال رہی تھی اس کی بات سن کر ہاتھ میں پکڑا ہوا فورک اس کے ہاتھ پر چھبویا
"ہانی کی مما تو ڈے بائے ڈے کافی ڈینجر بھی ہوتی جارہی ہیں"
اریش نے مظلومیت سے کہا جس پر ہانی ہنسنے لگا
"اریش بی سیریز،، کل ارباز بھائی کی طرف چلتے ہیں ہانی آپ کے بنا روکے گا نہیں کم از کم میں تین چار گھنٹے تو اپنے بھائی کے پاس گزار لو"
مشعل ہانی کی وجہ سے صرف دو بار ارباز کے گھر گئی تھی اور دونوں دفعہ اسے تھوڑی دیر بعد ڈیڈ یاد آنے لگے
"یار اب کل کا پروگرام تو کینسل کر دو کل ارتضیٰ نے بلایا ہے اپنے گھر اور ہم دونوں کو ڈنر پر۔۔۔۔ میں اسے ڈن کر چکا ہوں ارباز کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ کا رکھ لو"
اریش نے التجائی انداز میں اسے دیکھ کر کہا
"آپ تو ایسے منتیں کر رہے ہیں جیسے میں آپ کی بات نہیں مانو گی ٹھیک ہے ارباز بھائی کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ پر چلے جائے گیں"
مشعل نے مسکرا کر چائے پیتے ہوئے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیا
"اور آج سیٹرڈے نائٹ کا پروگرام ڈن ہے"
اریش نے پھر سے معنی خیزی سے بولتے ہوئے اسے چھیڑا
"سدھر جائیں اریش اس کے کان یہی لگے ہوں گے ہمیشہ آپکی ہی تو چلتی ہے بلاوجہ میں تنگ مت کریں"
مشعل نے انکھیں دکھاتے ہوئے اس سے کہا
"بات دراصل یہ ہے میں سوچ رہا ہوں اب ہانی کی بہن کو آجانا چاہیے اس لیے اس مسئلے پر سیریس ہوکر عمل کرنا چاہیے ہمیں"
اریش کی بات سن کر مشعل نے اپنا سر پکڑ لیا
خوشگوار ماحول میں وہ تینوں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے تبھی ولی گیٹ سے اندر آتا دکھائی دیا وہ انہی کی طرف آ رہا تھا
"مما ڈیڈ یہ وہی انکل ہیں اصلی نقلی کرنے والے"
ہانی نے ولی کو دیکھ کر انہیں یاد دلایا وہ دونوں اسی کو آتا دیکھ رہے تھے مشعل کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی چھا گئی
"ہانی اندر چلو" مشعل ہانی کو مخاطب کر کے خود بھی کھڑی ہوگئی اور ہانی کو لے کر اندر چلی گئی جبکہ اریش نظروں میں اس کے آنے کا مقصد پوچھنے لگا
"میں یہاں کوئی رنگ میں بھنگ ڈالنے نہیں آیا ہوں کل میری فلائٹ ہے میں کینیڈا جا رہا ہوں آخری بار ہانی کو دیکھنا چاہتا ہوں اور مشعل سے معافی مانگنا چاہتا ہوں وہ بھی اگر تمہاری اجازت ہو تو"
ولی نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا
****
"معلوم نہیں آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا میرا"
مشعل ہانی کے ساتھ صوفے پر بیٹھی تلخی سے سوچ رہی تھی جبھی اس کی نظر اریش پر پڑی مگر اس کے پیچھے ولی کو آتا دیکھ کر وہ حیرانی سے اریش کو دیکھنے لگی ولی چلتا ہوا ہانی کے پاس آیا
"کیسے ہو بیٹا"
ولی نیچے جھک کر ہانی سے پوچھنے لگا
"ہانی صرف ڈیڈ اور مما کا بیٹا ہے۔۔۔ اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا انکل"
ہانی ولی کو سمجھانے لگا
"ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔۔اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا یہ بات انکل کو بھی دو دن پہلے سمجھ میں آئی ہے۔۔۔ اس دن انکل تمہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے تمہیں ڈانٹا اس کے لیے سوری کہنے آیا ہوں اور اب انکل جا رہے ہیں ہمیشہ کے لئے۔۔۔ تم اپنے مما اور ڈیڈ کے ساتھ خوش رہنا"
ولی نے ہانی کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا کھڑا ہوکر مشعل کے پاس آیا
"میں نے تمہیں ہرٹ کیا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں۔۔۔ تم نے اسے ٹھیک کہا میں نے تم سے رشتہ تو بنالیا مگر مجھے اس رشتے کو نبھانا نہیں آیا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا"
ولی باہر جانے سے پہلے اریش کے پاس آیا
"مشعل نے بالکل ٹھیک کہا تم واقعی ایک اچھے انسان ہو بالکل پرفیکٹ۔۔۔ تم مشعل اور ہانی کو ڈیزرو کرتے ہو تم ہی ہانی کے فادر ہو۔ ۔۔ مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم ہانی کا خیال رکھنا مجھے یقین ہے کہ تم ہمیشہ اس کا خیال رکھو گے"
ولی اریش سے بولتا ہوا گھر سے نکل گیا
****
"کب تک اس طرح اداس رہو گی"
تعبیر جب سے وہاج صدیقی سے مل کر آئی تھی خاموش خاموش تھی مریم کافی دیر تک اسے اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اس کا دل بہلاتی رہی رات کا کھانا کھانے کے بعد مریم اپنے روم میں چلی گئی تاکہ عشاء کی نماز ادا کرسکے تو ارتضیٰ تعبیر کے پاس آ کر بولا
"ارتضیٰ تمہیں اندر سے گلٹ فیل نہیں ہوتا کہ ایک مجرم کی بیٹی تمہاری بیوی ہے"
تعبیر نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر اس سے کہا
"بس ہو گئی تم فضول قسم کے احساس کمتری میں مبتلا،، اب میری بات غور سے سنو تمہارا سیکنڈائیر اسٹارٹ ہو چکا ہے کل چل کر میرے ساتھ اپنے کورس کی بکسز لے کر آؤ اور یونیورسٹی جانا اسٹارٹ کرو"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اس کو مشورہ دیا وہ آنکھوں میں آنسو لیے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی تو ارتضیٰ نے اس کا چہرہ تھاما
"مجھے کسی بھی قسم کا گلٹ فیل نہیں ہوتا۔۔۔ تعبیر تم وہاج صدیقی کے ساتھ ساتھ عائشہ آنٹی کی بھی بیٹی ہو جس کو میں بچپن سے بہت پسند کرتا تھا جس دن ہمارا نکاح ہوا تھا انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تمہارا ہمیشہ خیال رکھوں گا اور تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں گا مگر میں صرف اس وعدے کو نبھانے کے لیے تمہارا خیال نہیں رکھتا بلکہ تمہیں پا کر میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں مجھے بچپن سے ایک اسنووائٹ پسند تھی جو اب ہمیشہ کے لئے میری ہے"
اپنی باتوں سے ارتضیٰ اس کو کافی حد تک بہلانے میں کامیاب ہوگیا
"چلو چل کر بیڈ پر لیٹو کل ڈنر پر اریش اور مشعل بھابی کو انوائٹ کیا ہے تمہیں مشعل بھابی سے مل کر اچھا لگے گا"
ارتضیٰ صوفے سے اٹھتا ہوا بولا تو تعبیر بھی اٹھنے لگی مگر اچانک زور سے چکر آنے پر اس سے پہلے وہ گرتی ارتضیٰ نے اس کو تھام کر واپس صوفے پر لٹایا
"تعبیر کیا ہوا تمہیں"
ارتضیٰ نے پریشان ہو کر اس سے پوچھا مگر وہ آنکھیں بند کئے لیٹی رہی
"کیا ہوا ارتضیٰ" ارتضیٰ کے زور سے بولنے پر نماز پڑھتی ہوئی مریم اس کے روم میں آگئی
"شاید بی پی لو ہوگیا ہے اس کا"
وہ تعبیر کے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولنے لگا
"جاو پانی لے کرو میں دیکھتی ہوں مریم نے ارتضیٰ سے کہا اور تعبیر کا سر اپنی گود میں رکھ کر تعبیر کو آواز دینے لگی۔۔۔۔ مریم کی مدد سے ارتضیٰ نے اسے پانی پلایا تو تعبیر نے آنکھیں کھولی
"آج صبح بھی تو تمہیں چکر آ رہے تھے نہ تعبیر"
مریم نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر کو مخاطب کیا
"جی مما بس ویسے ہی ویک نیس فیل ہو رہی تھی"
تعبیر نے آہستہ آواز میں بولا وہ ان دونوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
"ویسے ہی کچھ نہیں ہوتا کھانا ڈھنگ سے کھایا کرو تم"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کہا
"اچھا پریشان نہیں ہوں ایک منٹ کے لئے روم سے باہر جاو تم"
مریم نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا مریم کی بات اسے سمجھ تو نہیں آئی مگر وہ روم سے باہر نکل گیا
"کل ہی یونیورسٹی کا چکر لگا کر معلوم کروں گا کہ کلاسز کب سے اسٹارٹ ہیں۔۔۔۔ ورنہ تو پتہ نہیں کیا کیا الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہے گی"
ارتضیٰ لانچ میں ٹہلتا ہوا سوچ رہا تھا تو مریم مسکراتی ہوئی اس کے روم سے نکلی
"کیا ہوا"
اس کے مسکرانے پر ارتضیٰ نے سنجیدگی سے مریم کو دیکھ کر پوچھا تو مریم مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
"کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے خیال رکھا کرو اپنی اسنووائٹ کا"
وہ ارتضیٰ کے پاس آکر اسے پیار کرتے ہوئے بولی اور اپنے روم میں چلی گئی
"تو اس میں اتنا خوش ہونے والی کونسی بات ہے آخر" وہ سوچتا ہوا اپنے روم میں آیا مگر روم میں آکر اس نے تعبیر کے چہرے پر بھی شرمیلی سی مسکان دیکھی وہ اب بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ایک خیال سا اس کے ذہن میں آیا ارتضیٰ نے بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا
"ہہہمم۔ ۔۔۔۔ تو کیا ہوا ہے تمہیں"
وہ اپنی مسکراہٹ چھپائے بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتا ہوا گہری نگاہوں سے اس دیکھ کر بولا
"ویسے تو بغیر بولے میری دل کی ہر بات جان لیتے ہو"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر کہا سارا دن کی چھائی ہوئی اداسی اب کہیں غائب ہوچکی تھی اب تعبیر کی چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی تعبیر کی بات پر وہ مسکرایا
"دیکھا تمہیں لگتا تھا صرف کس کرنے سے بےبی آجائے گا"
ارتضیٰ نے شرارتی انداز اپناتے ہوئے کہا جھک کر اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے
"کل میں نے تمہیں ڈھیر سارے گفٹ دئیے جو میں نے بچپن سے تمہارے لیے اب تک لے کر رکھے تھے مگر تم نے مجھے ایک ہی گفٹ آج ایسا دیا ہے جو ان سب پر بھاری ہے"
ارتضیٰ کے کہنے پر تعبیر نے اس کو دیکھا
"تم خوش ہو"
خوشی ارتضیٰ کے چہرے سے چھلک رہی تھی پھر بھی تعبیر نے پوچھا
"بہت زیادہ"
ارتضٰی نے اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
****
'اوہو اسنووائٹ تم بہت اچھی لگ رہی ہو آپ ہٹو آئینے کے سامنے سے اریش اپنی فیملی کے ساتھ آتا ہی ہوگا اور پہلے ہی بتا رہا ہوں اس نے جو کچھ کیا وہ میرے کہنے پر کیا۔۔۔ اس لیے نو بدتمیزی،، ایک ہی دوست ہے میرا وہ بھی بہت اچھا"
ارتضیٰ پیچھے سے آتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے کر کہا
"معلوم ہے مجھے ایک تم اچھے ہو اور ایک تمہارا دوست اور تم دونوں نے مل کر مجھے بیوقوف بنایا ہے"
تعبیر اس کی بات پر اسے کاٹ کھانے کو دوڑی
"افوہ غصہ نہیں میری جان،، بےبی کی صحت پر برا اثر پڑے گا اسے ہمہیں محبت بانٹنے والا بنانا ہے"
ارتضیٰ نے اس کو آئینے میں سے دیکھ کر مخاطب کیا
"یہ تمہاری اولاد ہے بے فکر رہو تم پر ہی جائے گی اور خوب محبت بانٹیں گی"
تعبیر نے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹاتے ہوئے کہا اور اس کو گھورتی ہوئی روم سے نکل گئی۔۔۔ کچن میں جا کر سارے ارینجمنٹ دیکھنے لگی
****
"اور سنا کیسا ہے" اریش ارتضیٰ کے گلے لگ کر مخاطب ہوا اسکے بعد مریم سے ملنے لگا جبکہ ارتضیٰ مشعل سے سلام دعا کرنے لگا
"انٹی میں آپ سے ناراض ہوں آپ مجھے ارتضیٰ کی طرح اپنا بیٹا سمجھتی ہیں مگر بیٹے کی شادی میں نہیں آئی"
اریش نے صوفے پر بیٹھ کر مریم کو مخاطب کیا جبکہ مشعل جب مریم سے ملی تو مریم اس سے بہت اچھے طریقے سے ملی مشعل سوچ میں پڑھ گئی انہیں پہلے کہا دیکھا ہے وہ سوچتے ہوئے اریش کے برابر میں بیٹھی۔۔۔ ہانی ارتضیٰ کی گود میں بیٹھا ہوا اس کی باتوں کا جواب دے رہا تھا
"اس کے لئے تو مجھے واقعی افسوس ہے مگر میں نے تمہیں فون پر بتایا تھا اپنی طبیعت کا بی پی بہت ہائی تھا اس دن میرا اور دوسرا ارتضیٰ کا بھی تو تمہیں معلوم ہے وہ میرے پاس موجود نہیں تھا۔۔۔ مگر تم کیوں نہیں آئے بعد میں اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر میرے پاس"
مریم نے وجہ بتاتے ہوئے آخر میں اس کی خبر لی
"مما سہی سے کلاس لیں اس کی یہ ابھی بھی نخرے دکھا رہا تھا بہت مشکلوں سے یہاں آنے پر راضی ہوا ہے"
ارتضیٰ نے بیچ میں بولنا فرض سمجھا
"یہ تو ٹھیک کہا آپ نے مجھے آنا چاہیے تھا مگر کچھ افس کی مصروفیت ہی ایسی تھی کہ ٹائم نہیں نکال پایا"
اب اریش انکو کیا بتاتا اصل وجہ تعبیر ہے جس کا سامنا کرنے سے وہ کترا رہا تھا یہی جواز ارتضیٰ کے پوچھنے پر اسے بتایا تو اس نے سیدھی سیدھی دھمکی دی
"اگر تو نہ آیا تو میں اپنی والی کو تیری والی کے پاس بھیج دونگا پھر میری والی تیری والی ہو تیرے سارے کارنامے بتائے گی"
"یاد آگیا آنٹی آپ عائشہ پھپو کی دوست ہیں نا میں کب سے سوچ رہی ہوں میں نے آپ کو کہا دیکھا ہے اور یہ وہی گھر ہے جہاں میں اور ارباز بھائی امی ابو کے ساتھ عائشہ پھپھو کی ڈیتھ پر آئے تھے مشعل کے ایک دم بولنے پر ڈرائنگ روم میں سناٹا چھا گیا وہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی تعبیر بھی چونکی
"تم مشعل ہو انوار بھائی اور نزہت بھابی کی بیٹی اور عائشہ کی بھتیجی مریم کو5سالہ مشعل یاد آئی جب وہ عائشہ سے ملنے آتی تو اکثر وہ بچی سلام کرنے اس کے پاس آتی اور عائشہ کے انتقال پر بھی تو وہ انوار بھائی اور بھابھی کے ساتھ ہو یہاں آئی تھی
"آنٹی دعا کہاں ہے وہ تو آپ لوگوں کے پاس کی نا"
مشعل کو آپ اپنی چھوٹی سی ایک کزن یاد آئی تو مریم سے بے قراری سے پوچھا
ارتضیٰ کی نظر روم کے دروازے پر گھڑی تعبیر پر پڑی وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اسے لے کر مشعل کے پاس
"یہ ہے دعا آپ کی کزن اور میری بیوی"
ارتضیٰ کے بتانے پر مشعل اور تعبیر دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہی تھی مشعل نے مسکرا کر تعبیر کو گلے لگایا تو تعبیر کی آنکھوں میں پہلے بے یقینی اور اب انسو آگئے
نہیں تھا تو کوئی رشتہ نہیں تھا اب اچانک ایک ساتھ کتنے رشتے مل گئے اور دوسری طرف مشعل کو اپنی بچھڑی ہوئی کزن کی صورت میں بہن مل گئی ان دونوں کو گلے لگا دیکھ کر مریم ارتضیٰ اور اریش خوش ہوگئے
🌹🌹🌹
By zeenia sharjeel
Last episode🌹
"ارے واہ یہ آپ اور مما ہیں ناں"
تعبیر نے البم میں تصویر دیکھتے ہوئےمریم سے کہا
"ہاں یہ جب کی تصویر ہے جب میرا اور عائشہ کا کالج میں ایڈمیشن ہوا تھا"
مریم نے مسکرا کر پچھلا وقت یاد کرتے ہوئے کہا
"یہ والی تصویر دیکھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ میری تصویر ہے یہ"
تعبیر عائشہ کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے حیران ہوکر بولی
"ہاں اس دور میں تو عائشہ بالکل تم سے ملتی تھی اس دن میری بات پکی ہوئی تھی تو میرے پاس آئی تھی"
مریم نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے روم میں آیا تو مریم سامنے ہی بیٹھی تھی اس لیے اس کی نظر ارتضیٰ پڑ گئی مگر تعبیر کی پشت ہونے کی وجہ سے وہ ارتضیٰ کو نہیں دیکھ پائی ارتضیٰ بھی چپ کرکے وہی کرسی پر بیٹھ گیا
"اور یہ گبلو سا بچہ کون ہے"
تعبیر نے آٹھ ماہ کے صحت مند بچے کی تصویر کو دیکھ کر پوچھا تو مریم دوبارہ مسکرا دی
"کیا تم نے واقعی نہیں پہچانا اس گبلو کو"
مریم نے جس انداز میں تعبیر کو دیکھ کر پوچھا وہ فوراً ہے پہچان گئی یہ کس کی تصویر ہے
"اوو تو یہ ارتضیٰ کی تصویر ہے میں سمجھی آپ کے کسی بھانجے بھتیجے کی تصویر ہوگی۔۔۔۔ ویسے بچپن میں کتنا کیوٹ تھا ارتضیٰ"
تعبیر کی بات پر مریم ہنسی وہی ارتضیٰ کو بھی اپنی اسنووائٹ کے خیالات جاننے کا موقع ملا
"کیوں تمہیں اب کیوٹ نہیں لگتا میرا بیٹا"
مریم نے شرارت سے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا
"اب کہاں کیوٹنس بچی ہے اس کے چہرے پر۔۔۔ اچھی خاصی کرختگی چھائی رہتی ہے ہر وقت"
اب بھلا وہ مریم کے سامنے اس کے بیٹے کی کیا تعریف کرتی اس لیے گھما کر جواب دیا مگر وہ بھول گئی کہ وہ ارتضیٰ کی ماں کے سامنے بیٹھی تھی
"کرختگی کہاں چھائی ہوتی ہے اتنے پیارے تو نقش ہیں میرے بیٹے کے"
مریم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور تاثرات بالکل سنجیدہ ہوئے
"ارے نہیں مما کیوٹ تو وہ اب بھی بہت ہے مگر کبھی کبھی سیریس ہو جائے تو ڈر لگتا ہے اس لیے میں نے کہا"
تعبیر ڈر گئی کہیں مریم کو برا ہی نہ لگ جائے اس لئے فوراً بات بنا کر بولی
"کیا تمہیں ارتضیٰ ڈراتا بھی ہے مجھے بتاؤ ذرا،،، ابھی اس کے کمرے میں جا کر اس کے کان کھینچتی ہوں"
مریم بولتے ہوئے اٹھنے لگی تو فوراً تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑا
"ارے نہیں مما اب تو بالکل بھی نہیں ڈراتا بس پہلے کبھی موقع دیکھ کر تھوڑا تھوڑا ڈراتا تھا"
بوکھلاہٹ میں تعبیر کے منہ سے کیا کیا نکل رہا تھا وہ خود بھی پچھتا رہی تھی دوسری طرف اس کی بات پر ارتضیٰ کا بھی دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے ایک مریم ہی تھی جو ساری سیچویشن کو بہت انجوائے کر رہی تھی
"وہ ڈراتا نہیں ہوگا تم پر اپنا حق جتاتا ہوگا کیوکہ اسے بچپن سے یہی معلوم تھا کہ اسنوائٹ صرف اسی کی ہے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے تعبیر،، جب عائشہ اور تم یہاں ہمارے پاس آئے تھے ارتضیٰ ہر وقت تمہیں گود میں اٹھائے پھرتا تھا اسکول سے آنے کے بعد بس اسے اپنی اسنووائٹ چاہیے ہوتی تھی اور تم بھی تو سب سے زیادہ اسی سے اٹیچ تھی تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا،، تم مجھ سے یا عائشہ سے کھانا کھانے میں اتنے نخرے کرتی تھی صرف ارتضیٰ ہی تھا جو تمہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا اور تم آرام سے اس سے کھا لیتی تھی"
مریم کی باتیں وہ دونوں بہت غور سے سن رہے تھے ارتضیٰ کو تو یہ ساری باتیں یاد تھی مگر تعبیر کو ان باتوں کو علم نہیں تھا یہ سب سننا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا
"رک کیوں گئیں مما اور بھی بتائے"
مریم جیسے ہی چپ ہوئی تعبیر فوراً بول اٹھی
"اور یہ کہ جس دن تمہاری تھوڑی پر چوٹ لگی تھی ارتضیٰ اس دن بہت رویا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ چوٹ تمہیں نہیں بلکہ اسے لگی ہوں"
مریم کی بات پر تعبیر کا ہاتھ بے اختیار اپنی تھوڑی کے خم پر گیا جہاں اکثر ارتضیٰ اپنے ہونٹ رکھتا تھا
"پھر"
تعبیر کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی
"پھر اسی رات وہاج بھائی تمہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ۔۔۔ ارتضیٰ اس رات بہت رویا بہت چیخا چلایا اور کتنے دنوں تک اسے بخار رہا میں اور یاور تو بہت پریشان ہوگئے تھے"
مریم بتاتے بناتے خود بھی کہیں کھو گئی تھی
"پھر اس کے بعد کیا ہوا"
تعبیر نے کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا جس پر مریم چونکی
"اس کے بعد کی ساری بات اپنے شوہر سے پوچھو وہ تمہیں بتائے گا" مریم جب سے گھر آئے تھی تب سے تعبیر اس کے پاس سو رہی تھی۔۔۔ مریم نے تعبیر کو کچھ کہا نہیں کچھ پوچھا نہیں مگر اس بات کا اندازہ لگایا اس کے اور ارتضیٰ کے درمیان ناراضگی ہے
مریم بولتی ہوئی اٹھ کر بیڈ روم سے چلی گئی تعبیر نے مڑ کر مریم کو دیکھا تو اس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے ارتضیٰ پر پڑی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تو البم اس کی گود سے نیچے گر گیا۔۔۔ وہ اسی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا کرسی سے اٹھ کر وہ اس کے پاس آیا
"جس دن نو سالہ ارتضیٰ کے پاس سے ایک انکل اسکی اسنووائٹ کو دور لے گئے اس دن ارتضیٰ اپنے اسنووائٹ کے دور جانے سے بہت رویا اتنا کہ اگلے دن اس کو بخار چڑھ گیا۔ ۔۔۔ بخار تو اس کا تھوڑے دنوں بعد اتر گیا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی اسنووائٹ کو بہت یاد کرتا اور اکثر اسے رونا بھی آجاتا پھر اس نے خود اپنے آپ سے وعدہ کیا وہ کیسے بھی کہیں سے بھی اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈنے گا اور ان انکل سے،، جو اسکی اسنووائٹ کو اس سے چھین کر لے گئے ہیں۔۔۔ واپس ان سے چھین کر اپنے اس گھر میں لے آئے گا۔۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر بچپن کی یادیں دھوندلی ہوجاتی ہیں۔۔۔ مگر ارتضیٰ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا وقت گزرا،،، ارتضیٰ بڑا ہوا مگر اسے اپنی اسنووائٹ ابھی بھی یاد آتی لیکن اب وہ روتا نہیں تھا اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسے کہیں سے اپنی اسنووائٹ مل جائے۔۔۔ کبھی کبھی وہ تھک جاتا مگر مایوس نہیں ہوتا کیوکہ ارتضیٰ اور اسکی اسنووائٹ کے بیچ ایک مضبوط رشتہ قائم تھا اس لیے اسے یقین تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ اپنی اسنووائٹ کو پا لے گا اور پھر ایک دن اس نے اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈ لیا اسکی اسنووائٹ بھی اب بڑی ہوگئی تھی مگر وہ ارتضیٰ کو نہیں پہچانتی تھی بلکہ وہ ارتضیٰ کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے لگی پھر ارتضیٰ اپنا بھیس بدل کر آہستہ آہستہ اپنی اسنووائٹ کے قریب آیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کا دل اپنی اسنووائٹ کو دیکھ کر چاہتا وہ اب بھی اپنی اسنووائٹ کو پہلے کی طرح پیار کرے۔۔۔۔ اس کے بعد ارتضیٰ نے اپنی اسنووائٹ کو آہستہ آہستہ اپنا عادی بنایا تاکہ حقیقت معلوم ہونے پر اس کی اسنووائٹ ارتضیٰ کو چھوڑنے کا سوچے بھی نہیں پھر ارتضیٰ کو جو ٹھیک لگتا گیا وہ کرتا گیا۔۔۔ جانے انجانے میں اسکی اسنووائٹ کا دل بھی اس سے دکھا۔۔۔ مگر ارتضیٰ بھی کیا کرتا اسے تو بچپن سے یہی بتایا گیا تھا کہ اسنووائٹ اسی کی ہے۔۔۔ اس لئے تھوڑی سی اپنی من مانی کر کے بغیر اسنووائٹ کو اپنی سچائی بتائے اس نے اسنووائٹ پر اپنا حق جتاتے ہوئے کر اپنی شدتوں کو ظاہر کیا۔۔۔ شاید ارتضیٰ کو اندر سے یہ ڈر تھا کہ سچائی جانے کے بعد اس کی اسنووائٹ اس سے دور نہ چلی جائے۔ ۔۔ ارتضیٰ اپنی محبت کے لیے اپنی اسنووائٹ کے لئے بہت خودغرض ہے،، اسے ہمیشہ اپنے قریب اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہے"
ارتضیٰ اس کے قریب آ کر اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ اسے ساری باتیں بتائے جا رہا تھا اور تعبیر پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ کر اس کی باتیں سن رہی تھی
ارتضیٰ اس سے محبت کرتا ہے اسے اس بات کا تو اندازہ تھا مگر بچپن سے اتنی شدت سے،،، یہ اندازہ اسے آج ہوا تھا شاید یہی وجہ دی کی ساری حقیقت کھلنے کے بعد اس کا دل تو دکھا مگر پھر بھی وہ اس سے بد دل نہیں ہوسکی اور وہ خود بھی اس سے بھلا کیسے دور جا سکتی تھی اس کے پاس ایک باپ کے رشتے کے علاوہ اور تھا ہی کیا۔۔۔۔ رشتوں کے معاملے میں تو وہ شروع سے ہی اپنے آپ کو کمتر سمجھتی تھی مگر آج ارتضیٰ کے منہ سے یہ ساری باتیں سننے کے بعد اسے اندازہ ہوا وہ رشتوں کے معاملے میں بھی خوش قسمت ہے شوہر بیوی کا کتنا قریبی رشتہ ہوتا ہے اور اس کا شوہر کتنی شدت سے اسے چاہتا ہے ابھی سے نہیں بچپن سے ارتضیٰ اب خاموش ہوچکا تھا اور تعبیر کا ہاتھ تھامے اسے دیکھ رہا تھا
"اتنی محبت کیسے کرلی تو میں اسنووائٹ سے"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ نے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کر کے اسے بانہوں میں لیا
"تمہیں معلوم ہے جب مجھے اسکول سے دیر ہو جاتی یا مجھے ہوم ورک کرنے میں ٹائم لگ جاتا جس کی وجہ سے میں تمہیں وقت نہیں دے پاتا تو تم میرے پاس نہیں آتی تھی یہ تمہاری مجھ سے ناراضگی کا اظہار ہوتا تھا"
ارتضیٰ اپنے اور اسکے بچپن کی بات یاد کرکے اسے بتانے لگا جس پر تعبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ وہ ارتضیٰ کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تو وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
"پھر تم مجھے منانے کے لیے کیا کرتے"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے ارتضیٰ سے پوچھا تو وہ خود بھی ہنسا
"جب تم چھوٹی سی تھی ایک چاکلیٹ اور ایک کس kissپر مان جاتی تھی"
وہ ابھی بھی اسے بانہوں میں لیے کھڑا تھا اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے بتانے لگا
"پر اب مجھے چاکلیٹ خاص پسند نہیں"
تعبیر نے اترا کر کہا
"اب تم بڑی ہوگئی ہو چاکلیٹ تمہیں اب خاص پسند نہیں ناراض تم ابھی بھی مجھ سے ہو۔۔۔ اب تو منانے کے لیے صرف ایک کس سے بھی کام نہیں چل سکتا"
وہ اس کو بانہوں کے حصار میں لیے بیڈ پر گرا
"ارتضیٰ کیا بدتمیزی ہے مما آجائیگی"
اس کی حرکت پر تعبیر نے دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ آدھا کھلا ہوا تھا
"نہیں آئے گیں انہیں معلوم ہے ان کا بیٹا اپنی اسنووائٹ کو منا رہا ہے"
ارتضیٰ اس کی تھوڑی پر ہونٹ رکھتے ہوئے گردن پر جھکا
"دور ہٹو اس وقت بچپن میں تم معصوم بچے رہے ہوں گے مگر اب بالکل چھچھورے ہوچکے ہو"
تعبیر نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا
"معصوم تو میں بچپن میں بھی نہیں تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا میں یہی سوچتا تھا اب اسنووائٹ میرے پاس سویا کرے گی جیسے مما بابا کے پاس سوتی ہیں،،، مگر اس وقت میرے معصوم جذبات تھے جو لاعلم تھے محبت کے باقی تقاضوں سے مگر تمہاری جدائی سے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آ چکی ہے۔۔۔۔ تمہیں ہفتہ بھر ہوچکا ہے مما کے بیڈ روم میں ڈیرہ جمائے ہوئے آج رات شرافت سے اپنے بیڈ روم میں آجانا"
وہ اسے بہت سنجیدگی سے وارننگ دیتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا
"مجھے بہت اچھا لگتا ہے مما کے پاس سونا ممتا کا احساس کیا ہوتا ہے اسے میں اب باخبر ہوئی ہوں۔۔۔ اس لیے میرا ابھی مزید دو ہفتے تک ایسا کوئی ارادہ نہیں"
وہ بھی کھڑی ہوئی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرکے چڑانے والے انداز میں بولی
"اگر اب تم نے دوریوں کے عذاب مجھ پر مسلط کیئے اور آج رات تم بیڈروم میں نہیں آئی تو پھر دیکھنا کتنا پچھتاؤ گی تم" وہ اسے دھمکاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
"یعنی اچھی زبردستی ہے یہ"
وہ بھی روم سے نکل کر کچن میں چلی گئی جہاں مریم کھانا بنا رہی تھی
****
"مما وہ میں سوچ رہی تھی آپ کو سونے میں پرابلم ہوتی ہوگی ہفتہ بھر سے آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی ہوگی سونے میں" تعبیر کو کوئی اور بہانہ نہیں سوجا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا اب وہ بھلا خود سے کہہ دیتی وہ خود بھی ارتضیٰ کے پاس جانا چاہتی ہے
"تمہیں ایسا کیوں سوچتی ہوں مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے تمہارے پاس سونے سے ہاں ارتضیٰ کو تھوڑی پرابلم ہو رہی ہوگی تو وہ الگ بات ہے" مریم نے ہنسی چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا
"ارے نہیں اسے کیا پرابلم ہورہی ہوگی میں تو ایسے ہی آپ کی آرام کے خیال سے بول رہی تھی"
مریم کی آخری بات پر تعبیر نے جھینپ کر کہا
"اگر اسے پرابلم نہیں ہورہی پھر تو یہ اور بھی غلط بات ہے ابھی جاکر اس کے کان کھینچتی ہو پہلے تو بڑا دماغ کھاتا رہتا تھا میری اسنووائٹ میری اسنووائٹ اور اب اپنی اسنووائٹ کو اماں کے بیڈروم میں چھوڑا ہوا ہے کوئی پروا ہی نہیں ہے اسنووائٹ کی"
مریم نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا اور ارتضیٰ کے روم میں جانے کے لیے کھڑی ہوگئی
"نہیں مما رکیں پلیز آپ اسے کچھ مت کہیں ورنہ وہ الٹا مجھ پر غصہ کرے گا"
تعبیر نے گھبرا کر اٹھتے ہوئے مریم کو روکا
"غصہ کرے گا تم پر زرا کر کے تو دکھائے گھر سے باہر نکال دوں گی میں اسے۔۔۔ آج میں جاکر اس کی خبر لی ہی لیتی ہو"
مریم کے خطرناک ارادے دیکھ کر تعبیر اور زیادہ گھبرا گئی
"مما سنیں میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ کہہ رہا تھا اگر میں آج اپنے بیڈ روم میں نہیں آئی تو وہ اچھا خاصا ناراض ہوجائے گا"
تعبیر تو اچھا خاصہ پھنس گئی تھی ان دونوں ماں بیٹوں کے درمیان
"اووو تو یوں کہو کہ تمہیں اپنے بیڈ روم میں جا کر سونا ہے تاکہ ارتضیٰ ناراض نہ ہو"
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کے مسکرانے پر تعبیر اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی اور نظریں نیچے جھکا لی
"مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹی ایک اچھی بیوی ہے جو اپنے شوہر کی ناراضگی کا احساس رکھتی ہے جاو شاباش اپنے بیڈ روم میں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میری۔۔۔۔ میاں بیوی کا ایسا رشتہ ہوتا ہے جس میں چھوٹی موٹی ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں مگر بڑی ناراضگیوں پر بھی اپنا بیڈروم الگ نہیں کرنا چاہیے"
مریم نے اس کو پیار سے سمجھایا تعبیر اثبات میں سر ہلا کر مریم کے بیڈ روم سے نکل گئی
****
تعبیر بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اتضیٰ بیڈ پر لیٹا ہوا فون پر بات کر رہا تھا
"چل رکھ اب میری والی آگئی"
موبائل سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ تعبیر کے پاس آیا
"مما سے کیا بہانہ بنا کر آئی ہوں"
وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے تعبیر سے پوچھنے لگا
"یہی کہ آپ کے بیٹے کا دل اس کی اسنووائٹ کے بنا اکیلے بیڈروم میں نہیں لگ رہا"
تعبیر کے بتانے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
"اور اسنووائٹ کا دل کافی لگ گیا تھا اپنے بوڈی کارڈ کے بنا"
ارتضیٰ اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی بانہوں میں لیتا ہوا بولا
"کیوں نہیں لگتا دل برابر والا بیڈ روم سمجھو میرا میکہ ہے اگر تم نے مجھ سے کوئی بھی بدتمیزی کی تو تمھاری شکایت اپنی مما سے کر دوں گی"
تعبیر نے اسے دھمکی دی
"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ دھمکی مجھے اکسانے پر دی جا رہی ہے تاکہ میں کوئی بدتمیزی کر ہی دوں"
ارتضیٰ کہنے کے ساتھ ہی اسے بانہوں میں اٹھایا اور وارڈڈوب تک لایا
"ایسی کوئی بات نہیں ہے ارتضیٰ نیچے اتارو مجھے"
تعبیر نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے اسے وارڈروب کے پاس آکر نیچے اتارا
"میں نے اس دن کہا تھا نہ کہ اس میں تمہارے لیے کچھ ہے"
وہ کہتے ہوئے وارڈروب کا دروازہ کھولنے لگا تعبیر نے دیکھا وارڈروب میں بہت سارے گفٹ پیک اور ٹوائیز موجود تھے۔۔۔ اس نے ناسمجھی سے ارتضیٰ کی طرف دیکھا
"میں ہر سال اسنووائٹ کی برتھ ڈے پر اس کے لئے گفٹ لیتا تھا اور اسے پیک کروا کر اپنے پاس رکھ لیتا تھا یہی سوچا تھا جب تم میرے پاس آؤ گی یہ سارے گفٹ تب تم کو دوگا"
ارتضیٰ مسکراتا ہوا اسے بتا رہا تھا تعبیر اس کو غور سے دیکھنے لگی
"تمہیں یقین تھا کہ میں تمہیں دوبارہ مل جاؤگی"
تعبیر نے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے سوال کیا
"مجھے یقین تھا کہ میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا"
ارتضیٰ کی آواز پر سر اٹھا کر تعبیر نے اسے دیکھا ارتضیٰ کی آنکھوں میں اسے اپنے لئے ڈھیر سارا پیار نظر آیا
"میں بابا سے ملنا چاہتی ہوں ارتضیٰ انہیں دیکھنا چاہتی ہوں"
تعبیر نے دوبارہ ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے فرمائش کی
"کل لے چلوں گا" ارتضیٰ نے کہنے کے ساتھ اپنے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھ دیئے
تعبیر نے اپنے سارے گفٹ کھولے جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھرنے لگی اس کے بعد ارتضیٰ نے اسے اپنے اور اسکی بچپن کی بہت سی باتیں اور قصّے شیئر کیے جو تعبیر بہت غور سے سن رہی تھی ایک خوبصورت مسکراہٹ مسلسل اس کے چہرے پر رقصاں تھی یوں ایک حسین رات کا اختتام ہوا
****
"بابا"
تعبیر کی آواز پر وہاج صدیقی بےقراری سے اٹھ کر اس کے پاس آیا
"تابی میری بچی" اپنے سامنے تعبیر کو صحیح سلامت دیکھ کر وہاج کو اطمینان ہوا
پندرہ دن سے وہ جیل میں تھا ان 15 دنوں میں اس نے صرف مزمل کو ہی سوچا۔۔۔۔ کیسے وہ اس کل کے لڑکے کے ہاتھوں بے وقوف بن گیا
جب وہاج اور باقی لوگ پکڑے گئے ان میں مزمل نہیں تھا اس کو تبھی شک ہوا یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہوگا جبھی وہ خود فرار ہوگیا اس نے کتنی آرام سے نہ صرف وہاج کا اعتماد جیتا بلکہ پولیس کو اطلاع دے کر اس کا اسلحہ پکڑوایا۔۔۔ فضل یقیناً حقیقت جان گیا تھا اس لیے مزمل نے اس کو مار دیا اور اس کی بیٹی سے بھی شادی کرلی ان پندرہ دنوں میں وہ ساری کڑیاں جوڑنے کے بعد اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا
"معلوم نہیں تابی کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا ہوگا اس نے"
وہاج کو جب یہ خیال آتا تو تڑپ اٹھتا لیکن اس وقت تابی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کے دل کو اطمینان سا اتر گیا
"بابا آپ کیسے ہیں" چاہ کر بھی وہ اپنے آپ کو مضبوط نہیں رکھ سکی آنسوؤں کے درمیان وہاج سے پوچھنے لگی۔۔۔
"میں ٹھیک ہوں میری جان تم ٹھیک ہو مزمل نے تمہارے ساتھ کچھ برا تو نہیں کیا وہ کہاں پر ہے"
ایک کے بعد ایک سوال وہاج کے دماغ میں آنے لگا
"میں بھی یہی ہو سر"
ارتضیٰ کی آواز پر وہ اس نے تعبیر کے پیچھے ارتضیٰ کو آتے دیکھا اگر یہ سلاخیں درمیان میں نہیں ہوتی تو وہ لازمی اس کا گلا دبا دیتا
"دھوکے باز غدار یقیناً تم کوئی پولیس کے مخبر ہو۔۔۔ میں تمہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا ایک دفعہ یہاں سے باہر آجاؤ"
وہاج چاہ کر بھی اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا
یعنی مزمل کوئی پیشہ ور مجرم نہیں تھا ورنہ وہ یوں حوالات میں اتی اسانی سے نہیں آتا بلکے اب تک کہیں رو پوش ہوچکا ہوتا۔ ۔۔ وہاج کو کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی پھر مزمل کا تعبیر کے ساتھ آنا وہ یقینا کوئی خاص پولیس کا بندہ ہوگا یا اس کی بیک پر کوئی بھاری سپورٹ ہوگی۔۔۔۔ وہاج نے اس کو دیکھ کر سوچا
"دھوکے باز، غدار، پولیس کا مخبر میں ان سب کے علاوہ آپ کا داماد بھی ہو سر"
ارتضیٰ نے وہاج کو اپنا اور اس کا رشتہ یاد دلایا
وہاج اس کی بات سن کر اپنے جبڑے بھینجتا رہ گیا کس طرح اس نے تابی سے زبردستی نکاح نامے پر بلیک میل کر کے سائن کروائے تھے
"اور آپ یہ خوش فہمی بھی دور کر لیں یہاں سے اب آپ کبھی بھی باہر نہیں نکل سکتے۔۔۔ جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں پر تو اور بھی سخت نظر رکھی جاتی ہے۔۔۔ دوبارہ ایسی کوشش کریں گے تو ضروری نہیں قسمت ہر بار آپ کا ساتھ دے"
ارتضیٰ نے بہت مہذب انداز سے وہاج کو سمجھایا
"دعا مل لی تم اپنے بابا سے چلو اب گھر مما ویٹ کر رہی ہوگیں ہمارا"
ارتضیٰ نے جان بوجھ کر تعبیر کو دعا کہہ کر مخاطب کیا
"دعا"
وہاج ایک دم چونکا
"اووو ہاں آپ کو تو بتانا ہی بھول گیا سر۔۔۔۔ آپ کا تو حق بنتا ہے میرا اصل نام جاننے کا۔۔۔ ارتضیٰ،، ارتضیٰ نام ہے میرا یاور حسین کا بیٹا دعا کا شوہر کچھ یاد آیا"
ارتضیٰ کے اپنی اصلی شناخت بتانے پر وہاج صدیقی کے چہرے پر زلزلوں کے آثار نمایاں تھے کتنا بڑا گیم کھیل گیا تھا یہ لڑکا اس کے ساتھ وہاج صدیقی اس کو دیکھ کر سوچنے لگا
"ایک دفعہ آپ نے مزمل سے کہا تھا کی تابی میں آپ کی جان بستی ہے تو میرا آپ سے یہ وعدہ ہے آپ کی جان کی حفاظت میں اپنی جان سے زیادہ کروں گا دعا کے لئے آپ بے فکر ہو جائیں اور شاید دوبارہ اتنی جلدی ملوانے نہ لاسکوو"
ارتضیٰ نے وہاج صدیقی کی بجائے ایک باپ وہ اس کی بیٹی کی طرف سے اطمینان دلایا
"باہر آجاؤ میں ویٹ کر رہا ہوں"
ارتضیٰ تعبیر کے آنسو پہنچتا ہوا اس سے مخاطب ہوا اور باہر چلا گیا
"اپنا بہت خیال رکھنا"
وہاج صدیقی نے اپنے دونوں ہاتھ سلاخوں سے باہر نکال کر تعبیر کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تعبیر افسردہ دل کے ساتھ وہاں سے باہر نکل گئی
****
"اب بس بھی کر دیں آپ دونوں جلدی آ جائے چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے" اریش اور ہانی کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے مشعل وہی چائے اور باقی لوازمات کے ساتھ لان میں آئی اور ان کو مخاطب کرکے کہنے لگی
"ڈیڈ ہانی کی مما ڈے بائے ڈے بہت بورنگ ہوتی جارہی ہیں خود بھی انجوائے نہیں کرتی ہمیں بھی نہیں کرنے دیتی"
ہانی منہ بناتا ہوا ٹیبل پر آیا
"میری جان میں تمہاری بات سے اس وقت اتفاق نہیں کر سکتا۔۔۔ بورنگ والی بات کا برا مان کر ہانی کی مما میری سیٹرڈے نائٹ بور نہ کردیں"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر معنیٰ خیزی سے کہا
"اریش کبھی تو سیریس ہو جایا کریں"
مشعل نے اسے گھورتے ہوئے کہا ہانی چیئر پر بیٹھا ہوا ڈونٹ سے انصاف کرنے لگا
"میں تو سیریس ہوں آج رات بس تم مجھے سیریس لینا پچھلی سیٹرڈے نائیٹ کی طرح بہانے مت بنانا"
مشعل جوکہ اریش کے لیے اسپیگیٹیز نکال رہی تھی اس کی بات سن کر ہاتھ میں پکڑا ہوا فورک اس کے ہاتھ پر چھبویا
"ہانی کی مما تو ڈے بائے ڈے کافی ڈینجر بھی ہوتی جارہی ہیں"
اریش نے مظلومیت سے کہا جس پر ہانی ہنسنے لگا
"اریش بی سیریز،، کل ارباز بھائی کی طرف چلتے ہیں ہانی آپ کے بنا روکے گا نہیں کم از کم میں تین چار گھنٹے تو اپنے بھائی کے پاس گزار لو"
مشعل ہانی کی وجہ سے صرف دو بار ارباز کے گھر گئی تھی اور دونوں دفعہ اسے تھوڑی دیر بعد ڈیڈ یاد آنے لگے
"یار اب کل کا پروگرام تو کینسل کر دو کل ارتضیٰ نے بلایا ہے اپنے گھر اور ہم دونوں کو ڈنر پر۔۔۔۔ میں اسے ڈن کر چکا ہوں ارباز کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ کا رکھ لو"
اریش نے التجائی انداز میں اسے دیکھ کر کہا
"آپ تو ایسے منتیں کر رہے ہیں جیسے میں آپ کی بات نہیں مانو گی ٹھیک ہے ارباز بھائی کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ پر چلے جائے گیں"
مشعل نے مسکرا کر چائے پیتے ہوئے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیا
"اور آج سیٹرڈے نائٹ کا پروگرام ڈن ہے"
اریش نے پھر سے معنی خیزی سے بولتے ہوئے اسے چھیڑا
"سدھر جائیں اریش اس کے کان یہی لگے ہوں گے ہمیشہ آپکی ہی تو چلتی ہے بلاوجہ میں تنگ مت کریں"
مشعل نے انکھیں دکھاتے ہوئے اس سے کہا
"بات دراصل یہ ہے میں سوچ رہا ہوں اب ہانی کی بہن کو آجانا چاہیے اس لیے اس مسئلے پر سیریس ہوکر عمل کرنا چاہیے ہمیں"
اریش کی بات سن کر مشعل نے اپنا سر پکڑ لیا
خوشگوار ماحول میں وہ تینوں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے تبھی ولی گیٹ سے اندر آتا دکھائی دیا وہ انہی کی طرف آ رہا تھا
"مما ڈیڈ یہ وہی انکل ہیں اصلی نقلی کرنے والے"
ہانی نے ولی کو دیکھ کر انہیں یاد دلایا وہ دونوں اسی کو آتا دیکھ رہے تھے مشعل کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی چھا گئی
"ہانی اندر چلو" مشعل ہانی کو مخاطب کر کے خود بھی کھڑی ہوگئی اور ہانی کو لے کر اندر چلی گئی جبکہ اریش نظروں میں اس کے آنے کا مقصد پوچھنے لگا
"میں یہاں کوئی رنگ میں بھنگ ڈالنے نہیں آیا ہوں کل میری فلائٹ ہے میں کینیڈا جا رہا ہوں آخری بار ہانی کو دیکھنا چاہتا ہوں اور مشعل سے معافی مانگنا چاہتا ہوں وہ بھی اگر تمہاری اجازت ہو تو"
ولی نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا
****
"معلوم نہیں آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا میرا"
مشعل ہانی کے ساتھ صوفے پر بیٹھی تلخی سے سوچ رہی تھی جبھی اس کی نظر اریش پر پڑی مگر اس کے پیچھے ولی کو آتا دیکھ کر وہ حیرانی سے اریش کو دیکھنے لگی ولی چلتا ہوا ہانی کے پاس آیا
"کیسے ہو بیٹا"
ولی نیچے جھک کر ہانی سے پوچھنے لگا
"ہانی صرف ڈیڈ اور مما کا بیٹا ہے۔۔۔ اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا انکل"
ہانی ولی کو سمجھانے لگا
"ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔۔اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا یہ بات انکل کو بھی دو دن پہلے سمجھ میں آئی ہے۔۔۔ اس دن انکل تمہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے تمہیں ڈانٹا اس کے لیے سوری کہنے آیا ہوں اور اب انکل جا رہے ہیں ہمیشہ کے لئے۔۔۔ تم اپنے مما اور ڈیڈ کے ساتھ خوش رہنا"
ولی نے ہانی کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا کھڑا ہوکر مشعل کے پاس آیا
"میں نے تمہیں ہرٹ کیا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں۔۔۔ تم نے اسے ٹھیک کہا میں نے تم سے رشتہ تو بنالیا مگر مجھے اس رشتے کو نبھانا نہیں آیا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا"
ولی باہر جانے سے پہلے اریش کے پاس آیا
"مشعل نے بالکل ٹھیک کہا تم واقعی ایک اچھے انسان ہو بالکل پرفیکٹ۔۔۔ تم مشعل اور ہانی کو ڈیزرو کرتے ہو تم ہی ہانی کے فادر ہو۔ ۔۔ مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم ہانی کا خیال رکھنا مجھے یقین ہے کہ تم ہمیشہ اس کا خیال رکھو گے"
ولی اریش سے بولتا ہوا گھر سے نکل گیا
****
"کب تک اس طرح اداس رہو گی"
تعبیر جب سے وہاج صدیقی سے مل کر آئی تھی خاموش خاموش تھی مریم کافی دیر تک اسے اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اس کا دل بہلاتی رہی رات کا کھانا کھانے کے بعد مریم اپنے روم میں چلی گئی تاکہ عشاء کی نماز ادا کرسکے تو ارتضیٰ تعبیر کے پاس آ کر بولا
"ارتضیٰ تمہیں اندر سے گلٹ فیل نہیں ہوتا کہ ایک مجرم کی بیٹی تمہاری بیوی ہے"
تعبیر نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر اس سے کہا
"بس ہو گئی تم فضول قسم کے احساس کمتری میں مبتلا،، اب میری بات غور سے سنو تمہارا سیکنڈائیر اسٹارٹ ہو چکا ہے کل چل کر میرے ساتھ اپنے کورس کی بکسز لے کر آؤ اور یونیورسٹی جانا اسٹارٹ کرو"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اس کو مشورہ دیا وہ آنکھوں میں آنسو لیے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی تو ارتضیٰ نے اس کا چہرہ تھاما
"مجھے کسی بھی قسم کا گلٹ فیل نہیں ہوتا۔۔۔ تعبیر تم وہاج صدیقی کے ساتھ ساتھ عائشہ آنٹی کی بھی بیٹی ہو جس کو میں بچپن سے بہت پسند کرتا تھا جس دن ہمارا نکاح ہوا تھا انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تمہارا ہمیشہ خیال رکھوں گا اور تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں گا مگر میں صرف اس وعدے کو نبھانے کے لیے تمہارا خیال نہیں رکھتا بلکہ تمہیں پا کر میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں مجھے بچپن سے ایک اسنووائٹ پسند تھی جو اب ہمیشہ کے لئے میری ہے"
اپنی باتوں سے ارتضیٰ اس کو کافی حد تک بہلانے میں کامیاب ہوگیا
"چلو چل کر بیڈ پر لیٹو کل ڈنر پر اریش اور مشعل بھابی کو انوائٹ کیا ہے تمہیں مشعل بھابی سے مل کر اچھا لگے گا"
ارتضیٰ صوفے سے اٹھتا ہوا بولا تو تعبیر بھی اٹھنے لگی مگر اچانک زور سے چکر آنے پر اس سے پہلے وہ گرتی ارتضیٰ نے اس کو تھام کر واپس صوفے پر لٹایا
"تعبیر کیا ہوا تمہیں"
ارتضیٰ نے پریشان ہو کر اس سے پوچھا مگر وہ آنکھیں بند کئے لیٹی رہی
"کیا ہوا ارتضیٰ" ارتضیٰ کے زور سے بولنے پر نماز پڑھتی ہوئی مریم اس کے روم میں آگئی
"شاید بی پی لو ہوگیا ہے اس کا"
وہ تعبیر کے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولنے لگا
"جاو پانی لے کرو میں دیکھتی ہوں مریم نے ارتضیٰ سے کہا اور تعبیر کا سر اپنی گود میں رکھ کر تعبیر کو آواز دینے لگی۔۔۔۔ مریم کی مدد سے ارتضیٰ نے اسے پانی پلایا تو تعبیر نے آنکھیں کھولی
"آج صبح بھی تو تمہیں چکر آ رہے تھے نہ تعبیر"
مریم نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر کو مخاطب کیا
"جی مما بس ویسے ہی ویک نیس فیل ہو رہی تھی"
تعبیر نے آہستہ آواز میں بولا وہ ان دونوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
"ویسے ہی کچھ نہیں ہوتا کھانا ڈھنگ سے کھایا کرو تم"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کہا
"اچھا پریشان نہیں ہوں ایک منٹ کے لئے روم سے باہر جاو تم"
مریم نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا مریم کی بات اسے سمجھ تو نہیں آئی مگر وہ روم سے باہر نکل گیا
"کل ہی یونیورسٹی کا چکر لگا کر معلوم کروں گا کہ کلاسز کب سے اسٹارٹ ہیں۔۔۔۔ ورنہ تو پتہ نہیں کیا کیا الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہے گی"
ارتضیٰ لانچ میں ٹہلتا ہوا سوچ رہا تھا تو مریم مسکراتی ہوئی اس کے روم سے نکلی
"کیا ہوا"
اس کے مسکرانے پر ارتضیٰ نے سنجیدگی سے مریم کو دیکھ کر پوچھا تو مریم مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
"کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے خیال رکھا کرو اپنی اسنووائٹ کا"
وہ ارتضیٰ کے پاس آکر اسے پیار کرتے ہوئے بولی اور اپنے روم میں چلی گئی
"تو اس میں اتنا خوش ہونے والی کونسی بات ہے آخر" وہ سوچتا ہوا اپنے روم میں آیا مگر روم میں آکر اس نے تعبیر کے چہرے پر بھی شرمیلی سی مسکان دیکھی وہ اب بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ایک خیال سا اس کے ذہن میں آیا ارتضیٰ نے بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا
"ہہہمم۔ ۔۔۔۔ تو کیا ہوا ہے تمہیں"
وہ اپنی مسکراہٹ چھپائے بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتا ہوا گہری نگاہوں سے اس دیکھ کر بولا
"ویسے تو بغیر بولے میری دل کی ہر بات جان لیتے ہو"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر کہا سارا دن کی چھائی ہوئی اداسی اب کہیں غائب ہوچکی تھی اب تعبیر کی چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی تعبیر کی بات پر وہ مسکرایا
"دیکھا تمہیں لگتا تھا صرف کس کرنے سے بےبی آجائے گا"
ارتضیٰ نے شرارتی انداز اپناتے ہوئے کہا جھک کر اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے
"کل میں نے تمہیں ڈھیر سارے گفٹ دئیے جو میں نے بچپن سے تمہارے لیے اب تک لے کر رکھے تھے مگر تم نے مجھے ایک ہی گفٹ آج ایسا دیا ہے جو ان سب پر بھاری ہے"
ارتضیٰ کے کہنے پر تعبیر نے اس کو دیکھا
"تم خوش ہو"
خوشی ارتضیٰ کے چہرے سے چھلک رہی تھی پھر بھی تعبیر نے پوچھا
"بہت زیادہ"
ارتضٰی نے اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
****
'اوہو اسنووائٹ تم بہت اچھی لگ رہی ہو آپ ہٹو آئینے کے سامنے سے اریش اپنی فیملی کے ساتھ آتا ہی ہوگا اور پہلے ہی بتا رہا ہوں اس نے جو کچھ کیا وہ میرے کہنے پر کیا۔۔۔ اس لیے نو بدتمیزی،، ایک ہی دوست ہے میرا وہ بھی بہت اچھا"
ارتضیٰ پیچھے سے آتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے کر کہا
"معلوم ہے مجھے ایک تم اچھے ہو اور ایک تمہارا دوست اور تم دونوں نے مل کر مجھے بیوقوف بنایا ہے"
تعبیر اس کی بات پر اسے کاٹ کھانے کو دوڑی
"افوہ غصہ نہیں میری جان،، بےبی کی صحت پر برا اثر پڑے گا اسے ہمہیں محبت بانٹنے والا بنانا ہے"
ارتضیٰ نے اس کو آئینے میں سے دیکھ کر مخاطب کیا
"یہ تمہاری اولاد ہے بے فکر رہو تم پر ہی جائے گی اور خوب محبت بانٹیں گی"
تعبیر نے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹاتے ہوئے کہا اور اس کو گھورتی ہوئی روم سے نکل گئی۔۔۔ کچن میں جا کر سارے ارینجمنٹ دیکھنے لگی
****
"اور سنا کیسا ہے" اریش ارتضیٰ کے گلے لگ کر مخاطب ہوا اسکے بعد مریم سے ملنے لگا جبکہ ارتضیٰ مشعل سے سلام دعا کرنے لگا
"انٹی میں آپ سے ناراض ہوں آپ مجھے ارتضیٰ کی طرح اپنا بیٹا سمجھتی ہیں مگر بیٹے کی شادی میں نہیں آئی"
اریش نے صوفے پر بیٹھ کر مریم کو مخاطب کیا جبکہ مشعل جب مریم سے ملی تو مریم اس سے بہت اچھے طریقے سے ملی مشعل سوچ میں پڑھ گئی انہیں پہلے کہا دیکھا ہے وہ سوچتے ہوئے اریش کے برابر میں بیٹھی۔۔۔ ہانی ارتضیٰ کی گود میں بیٹھا ہوا اس کی باتوں کا جواب دے رہا تھا
"اس کے لئے تو مجھے واقعی افسوس ہے مگر میں نے تمہیں فون پر بتایا تھا اپنی طبیعت کا بی پی بہت ہائی تھا اس دن میرا اور دوسرا ارتضیٰ کا بھی تو تمہیں معلوم ہے وہ میرے پاس موجود نہیں تھا۔۔۔ مگر تم کیوں نہیں آئے بعد میں اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر میرے پاس"
مریم نے وجہ بتاتے ہوئے آخر میں اس کی خبر لی
"مما سہی سے کلاس لیں اس کی یہ ابھی بھی نخرے دکھا رہا تھا بہت مشکلوں سے یہاں آنے پر راضی ہوا ہے"
ارتضیٰ نے بیچ میں بولنا فرض سمجھا
"یہ تو ٹھیک کہا آپ نے مجھے آنا چاہیے تھا مگر کچھ افس کی مصروفیت ہی ایسی تھی کہ ٹائم نہیں نکال پایا"
اب اریش انکو کیا بتاتا اصل وجہ تعبیر ہے جس کا سامنا کرنے سے وہ کترا رہا تھا یہی جواز ارتضیٰ کے پوچھنے پر اسے بتایا تو اس نے سیدھی سیدھی دھمکی دی
"اگر تو نہ آیا تو میں اپنی والی کو تیری والی کے پاس بھیج دونگا پھر میری والی تیری والی ہو تیرے سارے کارنامے بتائے گی"
"یاد آگیا آنٹی آپ عائشہ پھپو کی دوست ہیں نا میں کب سے سوچ رہی ہوں میں نے آپ کو کہا دیکھا ہے اور یہ وہی گھر ہے جہاں میں اور ارباز بھائی امی ابو کے ساتھ عائشہ پھپھو کی ڈیتھ پر آئے تھے مشعل کے ایک دم بولنے پر ڈرائنگ روم میں سناٹا چھا گیا وہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی تعبیر بھی چونکی
"تم مشعل ہو انوار بھائی اور نزہت بھابی کی بیٹی اور عائشہ کی بھتیجی مریم کو5سالہ مشعل یاد آئی جب وہ عائشہ سے ملنے آتی تو اکثر وہ بچی سلام کرنے اس کے پاس آتی اور عائشہ کے انتقال پر بھی تو وہ انوار بھائی اور بھابھی کے ساتھ ہو یہاں آئی تھی
"آنٹی دعا کہاں ہے وہ تو آپ لوگوں کے پاس کی نا"
مشعل کو آپ اپنی چھوٹی سی ایک کزن یاد آئی تو مریم سے بے قراری سے پوچھا
ارتضیٰ کی نظر روم کے دروازے پر گھڑی تعبیر پر پڑی وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اسے لے کر مشعل کے پاس
"یہ ہے دعا آپ کی کزن اور میری بیوی"
ارتضیٰ کے بتانے پر مشعل اور تعبیر دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہی تھی مشعل نے مسکرا کر تعبیر کو گلے لگایا تو تعبیر کی آنکھوں میں پہلے بے یقینی اور اب انسو آگئے
نہیں تھا تو کوئی رشتہ نہیں تھا اب اچانک ایک ساتھ کتنے رشتے مل گئے اور دوسری طرف مشعل کو اپنی بچھڑی ہوئی کزن کی صورت میں بہن مل گئی ان دونوں کو گلے لگا دیکھ کر مریم ارتضیٰ اور اریش خوش ہوگئے
🌹🌹🌹
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 44
🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
second last epi 44
تعبیر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی تاکہ ارتضیٰ کے آنے سے پہلے شاور لے کر روم سے نکل جائے وہ ارتضیٰ کی موجودگی میں بیڈروم میں قدم نہیں رکھ رہی تھی بلکہ جب سے مریم آئی تھی وہ مریم کے بیڈروم میں اسکے ساتھ ہی سو رہی تھی۔۔۔۔
مریم کا سنگل بیڈ اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا کہ وہ دونوں آرام سے سو ناسکے اس نے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ کر رکھے اس کی نظر وارڈروٹ کے دوسرے پورشن پر پڑی غیر ارادی طور پر اس نے دروازہ کھولنا چاہا،،، ارتضیٰ نے اسے پہلے یہی بتایا تھا کہ اس پورشن میں اس کے لیے کچھ موجود ہے
پتہ نہیں یہ انسان اور کیا کیا بم پھوڑے گا یہ میرے سر پر
اُس پورشن کو لاکڈ دیکھ کر بے دلی سے سوچتی ہوئی وہ پلٹی تو اپنے قریب ارتضیٰ کو دیکھ کر ڈر گئی ارتضیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں موجود شاپرز وہی کھڑے بیڈ پر اچھالے
"زہے نصیب آج تین دن بعد اسنووائٹ نے اپنے بیڈ روم کو اپنا دیدار کرا ہی دیا"
وہ مزید قریب آ کر بولا تو تعبیر وارڈروب سے جا لگی اس نے دونوں ہاتھ وارڈروب پر رکھ کر اس کا راستہ بند کیا
"مجھے شاور لینے جانا ہے ارتضیٰ پیچھے ہٹو"
اسکی شوخ بھری نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولی
"ایک شرط پر تم شاور لے کر میرا لایا ہوا ڈریس پہنوگی" ارتضیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے اپنائیت سے کہا اور شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ یہ ڈھیر ساری شاپنگ اس کیلئے کر کے لایا تھا
"اور تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہوگئی کہ میں ایسا کروں گی"
تعبیر نے طنزیہ انداز میں اس سے پوچھا
"خوش فہمی نہیں مجھے پورا یقین ہے کہ تم ایسا کرو گی،، میری لائی ہوئی ایک ایک چیز آج استعمال میں لاو گی"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کانفیڈنس سے کہا
"میں تو ایسا خود سے کچھ بھی نہیں کرنے والی،، تم میں اگر ہمت ہے تو مجھ سے کروا کے دیکھ لو"
اس کا کانفیڈینس دیکھ کر تعبیر کو آگ ہی لگ گئی تھی اس لئے تپ کر بولی
"اوکے اگر میں نے ایسا تم سے کرا دیا تو آج ہم دونوں رومنٹک مووی دیکھیں گے"
ارتضیٰ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لا کر بولا تعبیر کے دوسری سائیڈ رخ کرنے پر ارتضیٰ کے ہونٹ اس کے گال پر ٹچ ہوئے وہ اس کو پیچھے دھکیلتی ہوئی اس کی ہوئی کمرے سے نکل گئی
***
"ابھی تک شاور نہیں لیا تم نے تم تو کہہ رہی تھی کہ دس منٹ میں آتی ہوں"
مریم نے تعبیر کو اسی حلیے میں دیکھ کر پوچھا
"بہت نخرے ہیں مما آپکی بیٹی کے،، میں اتنی محبت سے اس کے لئے شاپنگ کرکے لایا اور کہہ رہی ہے تمہارے لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنوں گی میں اس برانڈ کے کپڑے زیب تن نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا میرا ٹیسٹ ہے"
اچانک روم میں آکر ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ تعبیر کو ارتضیٰ سے اتنی بدتمیزی کی توقع ہرگز نہیں تھی کیسے منہ پھاڑ کر وہ مریم کے سامنے جھوٹ بول رہا تھا برانڈ کا تو اس نے ذکر ہی نہیں کیا تھا
"تعبیر ایسے نہیں کہتے بیٹا ارتضیٰ تمہارے لیے دل سے وہ کپڑے لے کر آیا ہے صرف تھوڑی دیر کے لئے اس کا دل رکھنے کے لیے پہن لو،، کل میں خود چل کر تمہیں تمہاری پسند کے کپٹرے دلا دو گی"
مریم کے اس طرح سمجھانے پر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہی ہوگئی
"اسے رہنے دے مما یہ دو ڈریس میں آپ کے لئے بھی لے کر آیا تھا اپنی پسند سے۔۔۔۔ آپ پہننے گیں تو میں خوش ہو جاؤں گا"
معصوم سی شکل بنا کر ارتضیٰ نے مریم سے کہا جس پر تعبیر کو شدید غصہ آیا
"میں بھی پہنوں گی اور تمہاری اسنووائٹ بھی پہنے گی۔۔۔۔ جاؤ بیٹا تعبیر"
مریم نے پیار سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی مما"
تعبیر نے مریم کو کہتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھا جو اسے آنکھ مار کر مسکرا رہا تھا
****
تعبیر روم میں ائی وارڈروب کھولا تو اس کے وہ سارے کپڑے غائب تھے جو وہ بیگ میں رکھ کر اپنے گھر سے لائی تھی۔۔۔۔ بلکہ سارے ارتضیٰ کے لائے ہوئے ڈریس ترتیب سے ہینگ ہوئے تھے کپڑوں کے علاوہ دوسری بہت ساری چیزوں سے وارڈروب بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ سارے ڈریس ہی پیارے تھے اس نے اپنے لئے ایک ڈریس منتخب کیا اور شاور لینے چلی گئی۔۔۔ ۔
شاور لے کر نکلی تو ارتضیٰ روم میں ہی موجود تھا
فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی وہ تعبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تعبیر اس کو اگنور کرتی ہوئی ہے دریسر کے سامنے کھڑے اپنے بال سلجھانے لگی
"اندر باہر سب سائز پرفیکٹ ہے نا"
اس کے پیچھے کھڑے ہوکر شیشے میں سے تعبیر کو دیکھتا ہوا انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی بہت ہی سیریس بات ہو تعبیر منہ سے کچھ نہیں بولی مگر دل میں سوچنے لگی
"اگر یہ شخص شوہر نہیں ہوتا تو میں اسے کمینہ ضرور کہتی"
"تمہارے فیس ایکسپریشن سے کچھ ایسا ساونڈ آرہا ہے جیسے تم مجھے کمینہ کہہ رہی ہو"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر نے پلٹ کر اپنے ہاتھوں سے اسے سینے اور کندھے پر مارنا شروع کر دیا
"یار کیا کر رہی ہو،، شوہر ہوں تمہارا" اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ارتضیٰ نے تعبیر کو کہا
"تعبیر"
مریم جو کے ارتضیٰ کی آواز سن کر،، ان کے بیڈروم کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر روم میں آئی اور اپنے لال کی پٹائی ہوتے دیکھی تو حیرت سے تعبیر کو پکارا
"مما یہ مجھے پتہ نہیں کب سے تنگ کر رہا ہے میں نے کوئی برانڈ ورانڈ کی بات نہیں کی تھی اس نے فضول میں آپ سے جھوٹ بولا۔۔۔ اگر میرا ٹیسٹ ایسا ہوتا تو میں اسے کبھی منہ نہ لگاتی۔۔۔ ابھی بھی چھچھورے سوالات پوچھ کر مجھے تنگ کر رہا ہے"
تعبیر مریم کے گلے لگ کر اپنی صفائی دیتے ہوئے رونے لگی۔۔۔ جبکہ اس کی آخری دو باتوں پر جہاں مریم سٹپٹائی وہی ارتضیٰ اچھا خاصہ شرمندہ ہوگیا اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ اس کی اسنووائٹ اتنی بے وقوف ہے وہ مریم کے سامنے منہ پھاڑ کر ایسے باتیں بتائے گی
"اف میری بچی رونے کی کیا بات ہے وہ تمہیں ایسے ہی تنگ کر رہا ہوگا۔۔۔۔ ارتضیٰ اب تم بری طرح پٹو گے میرے ہاتھوں سے اگر اب تم نے تعبیر کو تنگ کیا۔۔۔ چلو ہم اپنے روم میں چلتے ہیں"
مریم ارتضیٰ کو ڈانٹ کر تعبیر کو چپ کراتی ہوئی اپنے روم میں لے گئی
****
رات بارش کی وجہ سے ہلکی ہلکی خنکی ہوگئی تھی تعبیر اور مریم رات کا کھانے سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آ گئی مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ تعبیر برابر میں چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں داخل ہوا ایک نظر تعبیر پر ڈال کر چہرے سے ہنسی چھپاتا ہوا مریم سے مخاطب ہوا
"آئے مما مووی دیکھتے ہیں"
بولنے کے ساتھ ہی وہ ڈی وی ڈی میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کون سی مووی ہے"
مریم نے یونہی ارتضیٰ سے پوچھا
"فل ایکشن سے بھرپور ہے مما"
ایک نظر تعبیر کے چہرے پر ڈال کر اس نے مریم کو جواب دیا جس پر تعبیر تو تپ گئی جبکہ مریم ارتضیٰ کو آنکھیں دکھانے لگی مووی لگا کر ارتضیٰ بھی بیڈ پر آکر مریم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اس کے برابر میں لیٹتے ہی تعبیر اٹھ کر بیٹھ گئی
"لیٹ جاؤ تم بھی سردی لگ رہی ہے تمہیں"
تعبیر کو اٹھتا دے کر مریم اس سے مخاطب ہوئی تو اس نے نفی میں سر ہلایا
"نازک مزاج لوگوں کے کیا کہنے دوسروں کو مار کر ٹھنڈ نہیں پڑتی بلکے خود انہیں ٹھنڈ لگ جاتی ہے"
ارتضیٰ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے بولا
"ارتضیٰ منہ بند بالکل"
مریم کی تنبہبی پر وہ خاموش ہوگیا اور چادر کا سرہ کھینچ کر اپنے سینے پر بھی ڈال لیا
تھوڑی دیر بعد جب تعبیر مووی میں مشغول ہوگئی کافی دیر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے سے اس کی ٹانگیں شل ہوگئی۔۔۔ اس نے ٹانگیں پھیلائی،، تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اسے اپنی پنڈلیوں پر ارتضیٰ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا اس نے ارتضیٰ پر نظر ڈالی تو وہ بڑے انہماک سے اسکرین کی طرف نظریں جمائے مووی دیکھنے میں مشغول تھا اب تعبیر مریم کو اس کے معصوم بیٹے کے بارے میں کیا بتاتی کہ وہ چادر کی آڑ میں کیا چھچھور پن میں مشغول ہے تعبیر نے اپنے پاؤں سمیٹ کر اوپر کرنے چاہے تو ارتضیٰ نے اس کا پاؤں پکڑ کر کوشش ناکام کر دی
"مما ویسے میرے لائے ہوئے ڈریس میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں"
ارتضیٰ نے اسکرین پر نظریں جمائے مریم کو مخاطب کیا
"ماں کی آڑھ میں بیوی کی تعریف کر کے مجھے بیوقوف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صاف کہو اسنووائٹ اچھی لگ رہی ہے تمہیں"
مریم کی بات پر ارتضیٰ نے قہقہ مارا وہی تعبیر جھینپ گئی
"پر اس وقت مجھے آپکی ہاتھ کی کافی پینے کا موڈ ہو رہا ہے اس لیے آپ کی تعریف کی ہے"
ارتضیٰ نے شرارت سے ہنستے ہوئے مریم کو دیکھ کر کہا
"بدمعاش"
مریم اس کے کندھے پر چپت لگاتے ہوئے کافی بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی
"چھوڑو میرا پاؤں" مریم کے روم سے جانے کے بعد تعبیر نے غرا کر کہا ارتضیٰ نے اس کو دیکھا اور جھٹکے سے اس کا پاوں نیچے کھینچا تو وہ پھسلتی ہوئی ارتضیٰ کے برابر میں جالیٹی
"پیچھے ہٹو ورنہ ابھی مما کو بلا لوں گی"
تعبیر نے اسے اپنے اوپر جھگتا دیکھتے ہوئے دھمکی دی
"میری مما اتنی بیوقوف ہرگز نہیں ہے کہ تمہارے بلانے سے آجائے گیں کچھ سوچ کر ہی وہ میرے ایک دفعہ کہنے پر کافی بنانے چلی گئی یقین نہیں آتا تو آواز دے کر دیکھ لو"
ارتضیٰ نے اس کی تھوڑی کے خم پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا
"تم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے میرے ساتھ"
تعبیر نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"دوپہر میں تمہارے ایکشن آن تھے تو اب رات میں میرے ایکشن میں آنے کا موڈ ہے"
وہ اس کی گردن پر جھگتا ہوا بولا
"تم مجھے اس طرح بے بس نہیں کرسکتے"
تعبیر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"بس بھی کردو تعبیر اب"
ارتضیٰ نے اٹھ کر بیچارگی سے کہا وہ اسے پیار سے منانا چاہتا تھا زبردستی اس پر حق جتا کر نہیں
"پیار کیا ہے تو برداشت بھی کرو" تعبیر اسے بولتی ہوئی خود بھی کچن میں چلی آئی
****
مشعل تھوڑی دیر پہلے ہی پاسٹا بنا کر فارغ ہوئی تھی ہانی اسکول سے آنے کے بعد دو دن سے اسے کھانے میں بہت تنگ کر رہا تھا اس لئے آج اس نے اس کے من پسند پاستا بنایا اریش کو بھی اس کے ہاتھ کا پاستا بہت پسند تھا۔۔۔۔ ہانی اسکول سے آنے ہی والا تو اس سے پہلے وہ شاور لینا چاہتی تھی اتنے میں مشعل کے موبائل پر کال آئی
"ہیلو کون"
مشعل نے مگن انداز میں کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"تمہیں بتانے کے لیے کال کی ہے کہ ہانی کی اسکول سے چھٹی ہوتے ہی میں اسے اپنے ساتھ لے کر آ گیا ہو۔۔۔ تمہیں ہانی کے ساتھ رہنا ہے تو اب اس کے اصلی باپ کے ساتھ رہنا ہوگا میرے گھر کے اور دل کے دروازے کھلے ہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"
ولی اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹ چکا تھا مگر مشعل وہی صوفے پر بیٹھ گئی لیکن یہ وقت اس طرح بیٹھنے کا بھی نہیں تھا وہ فیصلہ کرتی ہوئی اٹھی
"سعیدہ ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے میں دس منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں"
مشعل سعیدہ سے بولتی ہوئی اپنی روم میں چلی گئی
****
"انکل ہانی کو مما اور ڈیڈ کے پاس جانا ہے"
ہانی کو وہ انکل اچھے لگے تھے اسے پیار کر رہے تھے ڈھیر سارے ٹوائز اور چاکلیٹز بھی اس کے لئے لائے تھے مگر اب اسے اپنے مما اور ڈیڈ یاد آنے لگے
"تمہاری مما ابھی آجائے گیں تھوڑی دیر میں، لیکن ڈیڈ تو تمہارا میں ہوں وہ ڈیڈ تھوڑی ہے بیٹا اب تم مجھے ڈیڈ بولا کرو"
ولی نے پیار سے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"نہیں ہانی کے ڈیڈ صرف ایک ہیں اس کے گھر پر۔۔۔ آپ اچھے ہو پر ڈیڈ نہیں ہو آپ ہانی کے۔ ۔۔ ہانی کو اپنے ڈیڈ چاہیے اپنی مما چاہیے ہانی کو اپنے گھر جانا ہے اب"
ہانی کو برا لگا انکل نے اسکے ڈیڈ کو اس طرح کہا
"میں نے کہا ہے نہ میں ہوں تمہارا ڈیڈ وہ نہیں ہے تمہارا ڈیڈ سمجھ میں نہیں آتی تمہیں۔۔۔ اب یہی تمہارا گھر ہے یہی رہوں گے تم بھی اور تمہاری مما بھی"
ولی کے سخت لہجے پر ہانی سہم گیا
"مما"
مشعل دروازہ کھول کر اس کے گھر کے اندر آئی تو ہانی بھاگتا ہوا اس سے لپٹ گیا ولی نے مڑ کر مشعل کو دیکھا اسٹائلش سے ڈریس میں ہلکے میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ ولی خیر مقدم والے انداز میں مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا
"مجھے پورا یقین تھا تم میرے پاس ضرور آوگی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،،، مشعل تم شاید یقین نہیں کرو میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں دیکھو ابھی تک اکیلا ہوں مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ تم نے مجھے سزا دی دوسری شادی کرلی میں نے بھی تو غصے میں بہت غلط کیا تھا تمہارے ساتھ مگر پلیز اب میری سزا ختم کر کے مجھے معاف کر دو میں تمہیں اور ہانی کو بہت خوش رکھوں گا میرا یقین کرو"
ولی نے اس کو یقین دلانے کے لیے آخر میں اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مشعل جو چپ کرکے اس کی ساری بات سن رہی تھی ولی کے ہاتھ تھامنے پر اس نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے ولی سکتے میں آگیا
"میں نے چند دن پہلے بھی تمہیں کہا تھا کہ تم اپنی حد میں رہو میں تمہاری بیوی نہیں ہو جو تم مجھے بار بار چھونے کی غلطی کرتے ہو اور کیا کہہ رہے تھے تم تمہیں یقین تھا کہ میں تمہارے پاس ضرور آو گی"
مشعل نے طنزیہ ہنستے ہوئے اسے دیکھا ولی اب بھی چپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا
"وقت گزرنے کے ساتھ تم کافی خوش فہم نہیں ہوگئے ولی۔۔۔ میں آج یہاں تمہاری خوش فہمی دور کرنے آئی ہو۔ ۔۔ تم مجھے یقین دلا رہے تھے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تم ایک خود غرض اور بے حس انسان ہو تم صرف اپنے آپ سے محبت کرتے ہو ولی۔۔۔۔ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوتی تو تم کبھی بھی میرا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاتے بے حس انسان ہو تم کیوکہ جس وقت تم نے مجھے طلاق دی تمہیں اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں آیا تمہیں یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ تمہارے جانے کے بعد ہم دونوں کا کیا ہوگا۔۔۔۔ میں اکیلی لڑکی جو کہ پہلے ہی اپنے بھائی کا گھر تمہارے بھروسے چھوڑ کر آئی تھی تم نے سوچا کہ تمہارے جانے کے بعد میں تمہاری اولاد کو لے کر کہاں جاؤں گی اور تم ہوتے کون ہو میری دوسری شادی پر مجھ سے شکوہ کرنے والے میں نے شادی کرکے تمہیں سزا نہیں دی تم جیسے کمزور مرد کو میں کیا سزا دوں گی کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تو تمہیں خود اپنی مردانگی کا پتہ چلے گا مرد ایسا نہیں ہوتا ولی جو پریشانیوں میں برے حالات میں اپنی بیوی اور بچے قطعی تعلق کر کے اسے بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ جائے کبھی تم نے سوچا تمہارے پیچھے میں تمہارے بچے کو کیسے پالوں گی آج تمہیں ہمہیں دیکھ کر ہماری محبت جاگ اٹھی ہے"
مشل سانس لینے کے لیے رکی مگر اس کی باتیں سن کر ولی کو اپنی سانس بند ہوتی لگی
"اگر میں تمہارا موازنہ اریش سے کرو نا ولی تو تم اس کے سامنے بہت چھوٹے لگو گے بلکہ تمہارا تو میرے شوہر کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تم نے حالات سے تنگ آکر مجھے اور اپنے بچے کو چھوڑا تھا اریش نے میرے ساتھ تمہاری اولاد کو بھی ایکسپٹ کیا ہمیں اپنے گھر میں ہی نہیں اپنے دل میں بھی جگہ دی پیار دیا عزت دی۔ ۔۔ میرے آنے سے پہلے جس لہجے میں تم ہانی سے بات کر رہے تھے نا میرے شوہر کو ذرا پسند نہیں ہے کہ کوئی اس لہجے میں اس کے بیٹے سے بات بھی کرے۔۔۔ یہ تمہارا خون ضرور ہے مگر تمہیں رشتے بنانا نہیں آتے نبھانا تو بہت دور کی بات جبکہ اریش ہو نہ صرف رشتے نبھانے آتے ہیں بلکہ دوسرے کے دل میں اپنی محبت کیسے پیدا کرنی ہے یہ فن بھی اسے آتا ہے اور تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم مجھ سے ہانی کو چھین کر مجھے مجبور کرو گے کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں تو یہ تمہاری بھول ہے تم بےشک ہانی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو مگر میں اریش کو تب بھی نہیں چھوڑوں گی"
مشعل بول کر رکی نہیں جانے لگی
"مما مما"
ہانی جو اتنی دیر سے سہما ہوا کھڑا تھا مشعل کے پیچھے بھاگا ولی وہی کھڑا ان دونوں کو جاتا دیکھتا رہا
مگر سامنے دروازے پر اریش کو کھڑا دیکھ کر مشعل کے قدم وہی تھم گئے
"ڈیڈ"
ہانی دوڑتا ہوا اریش طرف بھاگا اور اس سے لپٹ گیا اریش نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا مشعل یک ٹک اریش کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
"چلیں گھر"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر کہا اور جتاتی ہوئی نظر ولی پر ڈالی۔۔۔۔ ولی وہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا اریش کی آنکھوں میں ایسا کچھ کہ وہ آگے بڑھ کر ہانی کو اس سے نہیں لے سکا مشعل کو روکنا تو دور کی بات اریش مشعل کا ہاتھ تھامتا ہوا ہانی کو گود میں لیے وہاں سے نکل گیا
****
گھر آنے کے بعد اریش دوبارہ آفس نہیں گیا جس وقت مشعل سعیدہ سے ڈرائیور کو ریڈی ہونے کا کہہ کر چینج کرنے گئی لینڈ لائن پر اس وقت اریش کی مشعل سے بات کرنے کے لئے کال آئی کیونکہ اس کا موبائل بزی جا رہا تھا وہ کال سعیدہ نے اٹھائی اور اس نے اریش کو بتایا مشعل باجی کو کہیں جانا ہے ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔ اریش نے ڈرائیور سے کال کر کے پوچھا کہاں جانا ہے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ جب مشعل نے کار میں بیٹھ کر ولی کا ایڈریس ڈرائیور کو بتایا تو ڈرائیور نے میسج ارش کو سینڈ کر دیا
مشعل اسے بتائے بغیر کہیں جا رہی تھی جبکہ ہانی کے اسکول سے گھر آنے کا ٹائم تھا کچھ گڑبڑ دیکھ کر وہ بھی اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا راستے میں اسے اسکول میں فون کرکے معلوم ہوا ہانی اسکول سے کب کا نکل چکا ہے مگر وہ گھر نہیں پہنچا تھا اریش کو ہانی کی فکر ہوئی اس ایڈریس پر پہنچ کر اریش نے مشعل کی ساری باتیں سنی ساری باتیں سن کر اسے سچویشن کا اندازہ ہوگیا اور یہ بھی کہ اندر کون ہے
جب اس نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور مشعل کا ہاتھ تھاما تو ولی کو نظروں ہی میں یہ باور کرانا نہیں بھولا کہ وہ اتنی آسانی سے اس کی بیوی اور بیٹا اسے نہیں لے سکتا
****
"اریش آپ ناراض ہیں مجھ سے"
سارا دن وہ بیڈروم میں نہیں آیا تھوڑا بہت لیپ ٹاپ یوز کرکے ہانی کو لے کر باہر چلا گیا رات کا کھانا بھی خاموشی سے کھایا ہانی کی چھوٹی موٹی باتوں کا جواب دیتا رہا مشعل نے بات کرنی چاہی تو ہاں اور نہیں میں جواب دے کر چپ ہو گیا تھوڑی دیر پہلے ہی مشعل نے ہانی کو سلایا تھا سارے دروازے چیک کرکے وہ روم میں اریش کے پاس آئی جہاں پر وہ چیئر پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا مشعل کی بات سن کر اریش نے لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھا
"تم آج ہانی کے ساتھ کیا کرنے والی تھی"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کیا مشعل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور فرش پر اس کے قدموں میں بیٹھ گئی بیٹھ گئی
"تم نے آج مجھے یہ باور کرادیا کہ ہانی صرف تمہارا بیٹا ہے مجھ سے پوچھے بغیر تم اتنا بڑا قدم اٹھانے والی تھی ہانی کے لئے۔۔۔ اگر آج میں وہاں پر نہیں پہنچتا اور تم ہانی کو اس کے پاس چھوڑ کر آجاتی نہ تم میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کرتا مشعل"
اس سے پہلے آج تک اس نے اریش کا اتنا سخت لہجہ اپنے لیے نہیں دیکھا تھا مشعل اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر رونے لگی
"ہانی میں میری بھی جان بستی ہے اریش۔ ۔۔۔ میں نے اپنے کمزور دل کو بہت مشکل سے مضبوط کرکے ایسا کیا تھا۔۔۔ اریش کیوکہ میں آپ کو بھی نہیں چھوڑ سکتی"
مشعل رونے کے درمیان کہنے لگی۔۔۔ اریش سے مشعل کا رونا دیکھا نہیں گیا اس کا بازو تھام کر اسے اٹھایا اور آنسو صاف کیے
"یہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا مشعل" اب اریش کا لہجہ نرم تھا مگر وہ ابھی بھی اس سے شکوہ کر رہا تھا
"ڈر گئی تھی کہیں آپ مجھ سے بدگمان نا ہو جائے آپ کی ناراضگی سے خوف آتا ہے مجھے"
مشعل اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی
"بہت افسوس کی بات ہے یہ تو تم نے اتنا ہی سمجھا ہے مجھے میں کبھی بھی کسی بات کو لے کر تم سے یا ہانی سے ناراض نہیں ہو سکتا بدگمان ہونا تو بہت دور کی بات مگر تمہاری سوچ پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے اسے اپنے آپ سے الگ کرنا چاہا تو مشعل تیار نہیں ہوئی
"اب آپ اس طرح خود سے الگ کریں گے تو میں رو گی"
مشعل نے واقعی رونا شروع کردیا جس پر اریش نے اس کے گرد بازوں کا حصار باندھا
"خود سے الگ کر کے ہانی کے ڈیڈ کا بھی کہاں گزارا ہوگا چلو بیڈ روم میں چلیں ہانی نہ ڈر جائے"
اریش کے کہنے پر مشعل نے اریش کو دیکھا
"آگے زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی مجھ سے نہیں چھپانا"
اریش نے مشعل کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے کہا اور اس کو بیڈروم میں لے گیا
****
By zeenia sharjeel
second last epi 44
تعبیر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی تاکہ ارتضیٰ کے آنے سے پہلے شاور لے کر روم سے نکل جائے وہ ارتضیٰ کی موجودگی میں بیڈروم میں قدم نہیں رکھ رہی تھی بلکہ جب سے مریم آئی تھی وہ مریم کے بیڈروم میں اسکے ساتھ ہی سو رہی تھی۔۔۔۔
مریم کا سنگل بیڈ اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا کہ وہ دونوں آرام سے سو ناسکے اس نے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ کر رکھے اس کی نظر وارڈروٹ کے دوسرے پورشن پر پڑی غیر ارادی طور پر اس نے دروازہ کھولنا چاہا،،، ارتضیٰ نے اسے پہلے یہی بتایا تھا کہ اس پورشن میں اس کے لیے کچھ موجود ہے
پتہ نہیں یہ انسان اور کیا کیا بم پھوڑے گا یہ میرے سر پر
اُس پورشن کو لاکڈ دیکھ کر بے دلی سے سوچتی ہوئی وہ پلٹی تو اپنے قریب ارتضیٰ کو دیکھ کر ڈر گئی ارتضیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں موجود شاپرز وہی کھڑے بیڈ پر اچھالے
"زہے نصیب آج تین دن بعد اسنووائٹ نے اپنے بیڈ روم کو اپنا دیدار کرا ہی دیا"
وہ مزید قریب آ کر بولا تو تعبیر وارڈروب سے جا لگی اس نے دونوں ہاتھ وارڈروب پر رکھ کر اس کا راستہ بند کیا
"مجھے شاور لینے جانا ہے ارتضیٰ پیچھے ہٹو"
اسکی شوخ بھری نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولی
"ایک شرط پر تم شاور لے کر میرا لایا ہوا ڈریس پہنوگی" ارتضیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے اپنائیت سے کہا اور شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ یہ ڈھیر ساری شاپنگ اس کیلئے کر کے لایا تھا
"اور تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہوگئی کہ میں ایسا کروں گی"
تعبیر نے طنزیہ انداز میں اس سے پوچھا
"خوش فہمی نہیں مجھے پورا یقین ہے کہ تم ایسا کرو گی،، میری لائی ہوئی ایک ایک چیز آج استعمال میں لاو گی"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کانفیڈنس سے کہا
"میں تو ایسا خود سے کچھ بھی نہیں کرنے والی،، تم میں اگر ہمت ہے تو مجھ سے کروا کے دیکھ لو"
اس کا کانفیڈینس دیکھ کر تعبیر کو آگ ہی لگ گئی تھی اس لئے تپ کر بولی
"اوکے اگر میں نے ایسا تم سے کرا دیا تو آج ہم دونوں رومنٹک مووی دیکھیں گے"
ارتضیٰ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لا کر بولا تعبیر کے دوسری سائیڈ رخ کرنے پر ارتضیٰ کے ہونٹ اس کے گال پر ٹچ ہوئے وہ اس کو پیچھے دھکیلتی ہوئی اس کی ہوئی کمرے سے نکل گئی
***
"ابھی تک شاور نہیں لیا تم نے تم تو کہہ رہی تھی کہ دس منٹ میں آتی ہوں"
مریم نے تعبیر کو اسی حلیے میں دیکھ کر پوچھا
"بہت نخرے ہیں مما آپکی بیٹی کے،، میں اتنی محبت سے اس کے لئے شاپنگ کرکے لایا اور کہہ رہی ہے تمہارے لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنوں گی میں اس برانڈ کے کپڑے زیب تن نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا میرا ٹیسٹ ہے"
اچانک روم میں آکر ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ تعبیر کو ارتضیٰ سے اتنی بدتمیزی کی توقع ہرگز نہیں تھی کیسے منہ پھاڑ کر وہ مریم کے سامنے جھوٹ بول رہا تھا برانڈ کا تو اس نے ذکر ہی نہیں کیا تھا
"تعبیر ایسے نہیں کہتے بیٹا ارتضیٰ تمہارے لیے دل سے وہ کپڑے لے کر آیا ہے صرف تھوڑی دیر کے لئے اس کا دل رکھنے کے لیے پہن لو،، کل میں خود چل کر تمہیں تمہاری پسند کے کپٹرے دلا دو گی"
مریم کے اس طرح سمجھانے پر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہی ہوگئی
"اسے رہنے دے مما یہ دو ڈریس میں آپ کے لئے بھی لے کر آیا تھا اپنی پسند سے۔۔۔۔ آپ پہننے گیں تو میں خوش ہو جاؤں گا"
معصوم سی شکل بنا کر ارتضیٰ نے مریم سے کہا جس پر تعبیر کو شدید غصہ آیا
"میں بھی پہنوں گی اور تمہاری اسنووائٹ بھی پہنے گی۔۔۔۔ جاؤ بیٹا تعبیر"
مریم نے پیار سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی مما"
تعبیر نے مریم کو کہتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھا جو اسے آنکھ مار کر مسکرا رہا تھا
****
تعبیر روم میں ائی وارڈروب کھولا تو اس کے وہ سارے کپڑے غائب تھے جو وہ بیگ میں رکھ کر اپنے گھر سے لائی تھی۔۔۔۔ بلکہ سارے ارتضیٰ کے لائے ہوئے ڈریس ترتیب سے ہینگ ہوئے تھے کپڑوں کے علاوہ دوسری بہت ساری چیزوں سے وارڈروب بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ سارے ڈریس ہی پیارے تھے اس نے اپنے لئے ایک ڈریس منتخب کیا اور شاور لینے چلی گئی۔۔۔ ۔
شاور لے کر نکلی تو ارتضیٰ روم میں ہی موجود تھا
فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی وہ تعبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تعبیر اس کو اگنور کرتی ہوئی ہے دریسر کے سامنے کھڑے اپنے بال سلجھانے لگی
"اندر باہر سب سائز پرفیکٹ ہے نا"
اس کے پیچھے کھڑے ہوکر شیشے میں سے تعبیر کو دیکھتا ہوا انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی بہت ہی سیریس بات ہو تعبیر منہ سے کچھ نہیں بولی مگر دل میں سوچنے لگی
"اگر یہ شخص شوہر نہیں ہوتا تو میں اسے کمینہ ضرور کہتی"
"تمہارے فیس ایکسپریشن سے کچھ ایسا ساونڈ آرہا ہے جیسے تم مجھے کمینہ کہہ رہی ہو"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر نے پلٹ کر اپنے ہاتھوں سے اسے سینے اور کندھے پر مارنا شروع کر دیا
"یار کیا کر رہی ہو،، شوہر ہوں تمہارا" اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ارتضیٰ نے تعبیر کو کہا
"تعبیر"
مریم جو کے ارتضیٰ کی آواز سن کر،، ان کے بیڈروم کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر روم میں آئی اور اپنے لال کی پٹائی ہوتے دیکھی تو حیرت سے تعبیر کو پکارا
"مما یہ مجھے پتہ نہیں کب سے تنگ کر رہا ہے میں نے کوئی برانڈ ورانڈ کی بات نہیں کی تھی اس نے فضول میں آپ سے جھوٹ بولا۔۔۔ اگر میرا ٹیسٹ ایسا ہوتا تو میں اسے کبھی منہ نہ لگاتی۔۔۔ ابھی بھی چھچھورے سوالات پوچھ کر مجھے تنگ کر رہا ہے"
تعبیر مریم کے گلے لگ کر اپنی صفائی دیتے ہوئے رونے لگی۔۔۔ جبکہ اس کی آخری دو باتوں پر جہاں مریم سٹپٹائی وہی ارتضیٰ اچھا خاصہ شرمندہ ہوگیا اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ اس کی اسنووائٹ اتنی بے وقوف ہے وہ مریم کے سامنے منہ پھاڑ کر ایسے باتیں بتائے گی
"اف میری بچی رونے کی کیا بات ہے وہ تمہیں ایسے ہی تنگ کر رہا ہوگا۔۔۔۔ ارتضیٰ اب تم بری طرح پٹو گے میرے ہاتھوں سے اگر اب تم نے تعبیر کو تنگ کیا۔۔۔ چلو ہم اپنے روم میں چلتے ہیں"
مریم ارتضیٰ کو ڈانٹ کر تعبیر کو چپ کراتی ہوئی اپنے روم میں لے گئی
****
رات بارش کی وجہ سے ہلکی ہلکی خنکی ہوگئی تھی تعبیر اور مریم رات کا کھانے سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آ گئی مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ تعبیر برابر میں چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں داخل ہوا ایک نظر تعبیر پر ڈال کر چہرے سے ہنسی چھپاتا ہوا مریم سے مخاطب ہوا
"آئے مما مووی دیکھتے ہیں"
بولنے کے ساتھ ہی وہ ڈی وی ڈی میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کون سی مووی ہے"
مریم نے یونہی ارتضیٰ سے پوچھا
"فل ایکشن سے بھرپور ہے مما"
ایک نظر تعبیر کے چہرے پر ڈال کر اس نے مریم کو جواب دیا جس پر تعبیر تو تپ گئی جبکہ مریم ارتضیٰ کو آنکھیں دکھانے لگی مووی لگا کر ارتضیٰ بھی بیڈ پر آکر مریم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اس کے برابر میں لیٹتے ہی تعبیر اٹھ کر بیٹھ گئی
"لیٹ جاؤ تم بھی سردی لگ رہی ہے تمہیں"
تعبیر کو اٹھتا دے کر مریم اس سے مخاطب ہوئی تو اس نے نفی میں سر ہلایا
"نازک مزاج لوگوں کے کیا کہنے دوسروں کو مار کر ٹھنڈ نہیں پڑتی بلکے خود انہیں ٹھنڈ لگ جاتی ہے"
ارتضیٰ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے بولا
"ارتضیٰ منہ بند بالکل"
مریم کی تنبہبی پر وہ خاموش ہوگیا اور چادر کا سرہ کھینچ کر اپنے سینے پر بھی ڈال لیا
تھوڑی دیر بعد جب تعبیر مووی میں مشغول ہوگئی کافی دیر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے سے اس کی ٹانگیں شل ہوگئی۔۔۔ اس نے ٹانگیں پھیلائی،، تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اسے اپنی پنڈلیوں پر ارتضیٰ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا اس نے ارتضیٰ پر نظر ڈالی تو وہ بڑے انہماک سے اسکرین کی طرف نظریں جمائے مووی دیکھنے میں مشغول تھا اب تعبیر مریم کو اس کے معصوم بیٹے کے بارے میں کیا بتاتی کہ وہ چادر کی آڑ میں کیا چھچھور پن میں مشغول ہے تعبیر نے اپنے پاؤں سمیٹ کر اوپر کرنے چاہے تو ارتضیٰ نے اس کا پاؤں پکڑ کر کوشش ناکام کر دی
"مما ویسے میرے لائے ہوئے ڈریس میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں"
ارتضیٰ نے اسکرین پر نظریں جمائے مریم کو مخاطب کیا
"ماں کی آڑھ میں بیوی کی تعریف کر کے مجھے بیوقوف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صاف کہو اسنووائٹ اچھی لگ رہی ہے تمہیں"
مریم کی بات پر ارتضیٰ نے قہقہ مارا وہی تعبیر جھینپ گئی
"پر اس وقت مجھے آپکی ہاتھ کی کافی پینے کا موڈ ہو رہا ہے اس لیے آپ کی تعریف کی ہے"
ارتضیٰ نے شرارت سے ہنستے ہوئے مریم کو دیکھ کر کہا
"بدمعاش"
مریم اس کے کندھے پر چپت لگاتے ہوئے کافی بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی
"چھوڑو میرا پاؤں" مریم کے روم سے جانے کے بعد تعبیر نے غرا کر کہا ارتضیٰ نے اس کو دیکھا اور جھٹکے سے اس کا پاوں نیچے کھینچا تو وہ پھسلتی ہوئی ارتضیٰ کے برابر میں جالیٹی
"پیچھے ہٹو ورنہ ابھی مما کو بلا لوں گی"
تعبیر نے اسے اپنے اوپر جھگتا دیکھتے ہوئے دھمکی دی
"میری مما اتنی بیوقوف ہرگز نہیں ہے کہ تمہارے بلانے سے آجائے گیں کچھ سوچ کر ہی وہ میرے ایک دفعہ کہنے پر کافی بنانے چلی گئی یقین نہیں آتا تو آواز دے کر دیکھ لو"
ارتضیٰ نے اس کی تھوڑی کے خم پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا
"تم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے میرے ساتھ"
تعبیر نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"دوپہر میں تمہارے ایکشن آن تھے تو اب رات میں میرے ایکشن میں آنے کا موڈ ہے"
وہ اس کی گردن پر جھگتا ہوا بولا
"تم مجھے اس طرح بے بس نہیں کرسکتے"
تعبیر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"بس بھی کردو تعبیر اب"
ارتضیٰ نے اٹھ کر بیچارگی سے کہا وہ اسے پیار سے منانا چاہتا تھا زبردستی اس پر حق جتا کر نہیں
"پیار کیا ہے تو برداشت بھی کرو" تعبیر اسے بولتی ہوئی خود بھی کچن میں چلی آئی
****
مشعل تھوڑی دیر پہلے ہی پاسٹا بنا کر فارغ ہوئی تھی ہانی اسکول سے آنے کے بعد دو دن سے اسے کھانے میں بہت تنگ کر رہا تھا اس لئے آج اس نے اس کے من پسند پاستا بنایا اریش کو بھی اس کے ہاتھ کا پاستا بہت پسند تھا۔۔۔۔ ہانی اسکول سے آنے ہی والا تو اس سے پہلے وہ شاور لینا چاہتی تھی اتنے میں مشعل کے موبائل پر کال آئی
"ہیلو کون"
مشعل نے مگن انداز میں کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"تمہیں بتانے کے لیے کال کی ہے کہ ہانی کی اسکول سے چھٹی ہوتے ہی میں اسے اپنے ساتھ لے کر آ گیا ہو۔۔۔ تمہیں ہانی کے ساتھ رہنا ہے تو اب اس کے اصلی باپ کے ساتھ رہنا ہوگا میرے گھر کے اور دل کے دروازے کھلے ہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"
ولی اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹ چکا تھا مگر مشعل وہی صوفے پر بیٹھ گئی لیکن یہ وقت اس طرح بیٹھنے کا بھی نہیں تھا وہ فیصلہ کرتی ہوئی اٹھی
"سعیدہ ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے میں دس منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں"
مشعل سعیدہ سے بولتی ہوئی اپنی روم میں چلی گئی
****
"انکل ہانی کو مما اور ڈیڈ کے پاس جانا ہے"
ہانی کو وہ انکل اچھے لگے تھے اسے پیار کر رہے تھے ڈھیر سارے ٹوائز اور چاکلیٹز بھی اس کے لئے لائے تھے مگر اب اسے اپنے مما اور ڈیڈ یاد آنے لگے
"تمہاری مما ابھی آجائے گیں تھوڑی دیر میں، لیکن ڈیڈ تو تمہارا میں ہوں وہ ڈیڈ تھوڑی ہے بیٹا اب تم مجھے ڈیڈ بولا کرو"
ولی نے پیار سے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"نہیں ہانی کے ڈیڈ صرف ایک ہیں اس کے گھر پر۔۔۔ آپ اچھے ہو پر ڈیڈ نہیں ہو آپ ہانی کے۔ ۔۔ ہانی کو اپنے ڈیڈ چاہیے اپنی مما چاہیے ہانی کو اپنے گھر جانا ہے اب"
ہانی کو برا لگا انکل نے اسکے ڈیڈ کو اس طرح کہا
"میں نے کہا ہے نہ میں ہوں تمہارا ڈیڈ وہ نہیں ہے تمہارا ڈیڈ سمجھ میں نہیں آتی تمہیں۔۔۔ اب یہی تمہارا گھر ہے یہی رہوں گے تم بھی اور تمہاری مما بھی"
ولی کے سخت لہجے پر ہانی سہم گیا
"مما"
مشعل دروازہ کھول کر اس کے گھر کے اندر آئی تو ہانی بھاگتا ہوا اس سے لپٹ گیا ولی نے مڑ کر مشعل کو دیکھا اسٹائلش سے ڈریس میں ہلکے میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ ولی خیر مقدم والے انداز میں مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا
"مجھے پورا یقین تھا تم میرے پاس ضرور آوگی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،،، مشعل تم شاید یقین نہیں کرو میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں دیکھو ابھی تک اکیلا ہوں مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ تم نے مجھے سزا دی دوسری شادی کرلی میں نے بھی تو غصے میں بہت غلط کیا تھا تمہارے ساتھ مگر پلیز اب میری سزا ختم کر کے مجھے معاف کر دو میں تمہیں اور ہانی کو بہت خوش رکھوں گا میرا یقین کرو"
ولی نے اس کو یقین دلانے کے لیے آخر میں اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مشعل جو چپ کرکے اس کی ساری بات سن رہی تھی ولی کے ہاتھ تھامنے پر اس نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے ولی سکتے میں آگیا
"میں نے چند دن پہلے بھی تمہیں کہا تھا کہ تم اپنی حد میں رہو میں تمہاری بیوی نہیں ہو جو تم مجھے بار بار چھونے کی غلطی کرتے ہو اور کیا کہہ رہے تھے تم تمہیں یقین تھا کہ میں تمہارے پاس ضرور آو گی"
مشعل نے طنزیہ ہنستے ہوئے اسے دیکھا ولی اب بھی چپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا
"وقت گزرنے کے ساتھ تم کافی خوش فہم نہیں ہوگئے ولی۔۔۔ میں آج یہاں تمہاری خوش فہمی دور کرنے آئی ہو۔ ۔۔ تم مجھے یقین دلا رہے تھے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تم ایک خود غرض اور بے حس انسان ہو تم صرف اپنے آپ سے محبت کرتے ہو ولی۔۔۔۔ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوتی تو تم کبھی بھی میرا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاتے بے حس انسان ہو تم کیوکہ جس وقت تم نے مجھے طلاق دی تمہیں اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں آیا تمہیں یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ تمہارے جانے کے بعد ہم دونوں کا کیا ہوگا۔۔۔۔ میں اکیلی لڑکی جو کہ پہلے ہی اپنے بھائی کا گھر تمہارے بھروسے چھوڑ کر آئی تھی تم نے سوچا کہ تمہارے جانے کے بعد میں تمہاری اولاد کو لے کر کہاں جاؤں گی اور تم ہوتے کون ہو میری دوسری شادی پر مجھ سے شکوہ کرنے والے میں نے شادی کرکے تمہیں سزا نہیں دی تم جیسے کمزور مرد کو میں کیا سزا دوں گی کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تو تمہیں خود اپنی مردانگی کا پتہ چلے گا مرد ایسا نہیں ہوتا ولی جو پریشانیوں میں برے حالات میں اپنی بیوی اور بچے قطعی تعلق کر کے اسے بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ جائے کبھی تم نے سوچا تمہارے پیچھے میں تمہارے بچے کو کیسے پالوں گی آج تمہیں ہمہیں دیکھ کر ہماری محبت جاگ اٹھی ہے"
مشل سانس لینے کے لیے رکی مگر اس کی باتیں سن کر ولی کو اپنی سانس بند ہوتی لگی
"اگر میں تمہارا موازنہ اریش سے کرو نا ولی تو تم اس کے سامنے بہت چھوٹے لگو گے بلکہ تمہارا تو میرے شوہر کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تم نے حالات سے تنگ آکر مجھے اور اپنے بچے کو چھوڑا تھا اریش نے میرے ساتھ تمہاری اولاد کو بھی ایکسپٹ کیا ہمیں اپنے گھر میں ہی نہیں اپنے دل میں بھی جگہ دی پیار دیا عزت دی۔ ۔۔ میرے آنے سے پہلے جس لہجے میں تم ہانی سے بات کر رہے تھے نا میرے شوہر کو ذرا پسند نہیں ہے کہ کوئی اس لہجے میں اس کے بیٹے سے بات بھی کرے۔۔۔ یہ تمہارا خون ضرور ہے مگر تمہیں رشتے بنانا نہیں آتے نبھانا تو بہت دور کی بات جبکہ اریش ہو نہ صرف رشتے نبھانے آتے ہیں بلکہ دوسرے کے دل میں اپنی محبت کیسے پیدا کرنی ہے یہ فن بھی اسے آتا ہے اور تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم مجھ سے ہانی کو چھین کر مجھے مجبور کرو گے کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں تو یہ تمہاری بھول ہے تم بےشک ہانی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو مگر میں اریش کو تب بھی نہیں چھوڑوں گی"
مشعل بول کر رکی نہیں جانے لگی
"مما مما"
ہانی جو اتنی دیر سے سہما ہوا کھڑا تھا مشعل کے پیچھے بھاگا ولی وہی کھڑا ان دونوں کو جاتا دیکھتا رہا
مگر سامنے دروازے پر اریش کو کھڑا دیکھ کر مشعل کے قدم وہی تھم گئے
"ڈیڈ"
ہانی دوڑتا ہوا اریش طرف بھاگا اور اس سے لپٹ گیا اریش نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا مشعل یک ٹک اریش کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
"چلیں گھر"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر کہا اور جتاتی ہوئی نظر ولی پر ڈالی۔۔۔۔ ولی وہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا اریش کی آنکھوں میں ایسا کچھ کہ وہ آگے بڑھ کر ہانی کو اس سے نہیں لے سکا مشعل کو روکنا تو دور کی بات اریش مشعل کا ہاتھ تھامتا ہوا ہانی کو گود میں لیے وہاں سے نکل گیا
****
گھر آنے کے بعد اریش دوبارہ آفس نہیں گیا جس وقت مشعل سعیدہ سے ڈرائیور کو ریڈی ہونے کا کہہ کر چینج کرنے گئی لینڈ لائن پر اس وقت اریش کی مشعل سے بات کرنے کے لئے کال آئی کیونکہ اس کا موبائل بزی جا رہا تھا وہ کال سعیدہ نے اٹھائی اور اس نے اریش کو بتایا مشعل باجی کو کہیں جانا ہے ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔ اریش نے ڈرائیور سے کال کر کے پوچھا کہاں جانا ہے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ جب مشعل نے کار میں بیٹھ کر ولی کا ایڈریس ڈرائیور کو بتایا تو ڈرائیور نے میسج ارش کو سینڈ کر دیا
مشعل اسے بتائے بغیر کہیں جا رہی تھی جبکہ ہانی کے اسکول سے گھر آنے کا ٹائم تھا کچھ گڑبڑ دیکھ کر وہ بھی اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا راستے میں اسے اسکول میں فون کرکے معلوم ہوا ہانی اسکول سے کب کا نکل چکا ہے مگر وہ گھر نہیں پہنچا تھا اریش کو ہانی کی فکر ہوئی اس ایڈریس پر پہنچ کر اریش نے مشعل کی ساری باتیں سنی ساری باتیں سن کر اسے سچویشن کا اندازہ ہوگیا اور یہ بھی کہ اندر کون ہے
جب اس نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور مشعل کا ہاتھ تھاما تو ولی کو نظروں ہی میں یہ باور کرانا نہیں بھولا کہ وہ اتنی آسانی سے اس کی بیوی اور بیٹا اسے نہیں لے سکتا
****
"اریش آپ ناراض ہیں مجھ سے"
سارا دن وہ بیڈروم میں نہیں آیا تھوڑا بہت لیپ ٹاپ یوز کرکے ہانی کو لے کر باہر چلا گیا رات کا کھانا بھی خاموشی سے کھایا ہانی کی چھوٹی موٹی باتوں کا جواب دیتا رہا مشعل نے بات کرنی چاہی تو ہاں اور نہیں میں جواب دے کر چپ ہو گیا تھوڑی دیر پہلے ہی مشعل نے ہانی کو سلایا تھا سارے دروازے چیک کرکے وہ روم میں اریش کے پاس آئی جہاں پر وہ چیئر پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا مشعل کی بات سن کر اریش نے لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھا
"تم آج ہانی کے ساتھ کیا کرنے والی تھی"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کیا مشعل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور فرش پر اس کے قدموں میں بیٹھ گئی بیٹھ گئی
"تم نے آج مجھے یہ باور کرادیا کہ ہانی صرف تمہارا بیٹا ہے مجھ سے پوچھے بغیر تم اتنا بڑا قدم اٹھانے والی تھی ہانی کے لئے۔۔۔ اگر آج میں وہاں پر نہیں پہنچتا اور تم ہانی کو اس کے پاس چھوڑ کر آجاتی نہ تم میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کرتا مشعل"
اس سے پہلے آج تک اس نے اریش کا اتنا سخت لہجہ اپنے لیے نہیں دیکھا تھا مشعل اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر رونے لگی
"ہانی میں میری بھی جان بستی ہے اریش۔ ۔۔۔ میں نے اپنے کمزور دل کو بہت مشکل سے مضبوط کرکے ایسا کیا تھا۔۔۔ اریش کیوکہ میں آپ کو بھی نہیں چھوڑ سکتی"
مشعل رونے کے درمیان کہنے لگی۔۔۔ اریش سے مشعل کا رونا دیکھا نہیں گیا اس کا بازو تھام کر اسے اٹھایا اور آنسو صاف کیے
"یہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا مشعل" اب اریش کا لہجہ نرم تھا مگر وہ ابھی بھی اس سے شکوہ کر رہا تھا
"ڈر گئی تھی کہیں آپ مجھ سے بدگمان نا ہو جائے آپ کی ناراضگی سے خوف آتا ہے مجھے"
مشعل اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی
"بہت افسوس کی بات ہے یہ تو تم نے اتنا ہی سمجھا ہے مجھے میں کبھی بھی کسی بات کو لے کر تم سے یا ہانی سے ناراض نہیں ہو سکتا بدگمان ہونا تو بہت دور کی بات مگر تمہاری سوچ پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے اسے اپنے آپ سے الگ کرنا چاہا تو مشعل تیار نہیں ہوئی
"اب آپ اس طرح خود سے الگ کریں گے تو میں رو گی"
مشعل نے واقعی رونا شروع کردیا جس پر اریش نے اس کے گرد بازوں کا حصار باندھا
"خود سے الگ کر کے ہانی کے ڈیڈ کا بھی کہاں گزارا ہوگا چلو بیڈ روم میں چلیں ہانی نہ ڈر جائے"
اریش کے کہنے پر مشعل نے اریش کو دیکھا
"آگے زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی مجھ سے نہیں چھپانا"
اریش نے مشعل کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے کہا اور اس کو بیڈروم میں لے گیا
****
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 43
🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 43
رات کو مریم نے تعبیر کے لیے کھچڑی بنائی تو کھانے کی ٹیبل پر ارتضیٰ کے لائے ہوئے سینڈوچ رکھے تھے مگر تعبیر کو وہ کھچڑی بہت اچھی لگی اور اس نے سینڈوچ کو ہاتھ لگائے بغیر کھچڑی بہت رغبت سے کھائی ارتضیٰ کو یہ بھی اس کی ناراضگی کا اظہار لگا مگر اسے خوشی ہوئی کہ تعبیر نے مریم سے روڈ بی ہیو نہیں کیا جو کہ وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا اس بات سے اسے اندر سے تھوڑا اطمینان ہوا وہ اسے جلد منا لے گا مگر جب رات کو سونے کے لئے روم میں آیا تو تعبیر کو اپنے روم میں نہ پاکر مریم کے پاس پہنچا تعبیر وہی بیڈ پر مریم کے پاس برجمان تھی
"کیا ہوا سونے کا ارادہ نہیں ہے آپ دونوں کا"
تعبیر پر ایک نظر ڈال کر اس نے مریم کو مخاطب کیا
"نہیں ابھی ہمارا بہت ساری باتیں کرنے کا ارادہ ہے"
مریم نے ارتضیٰ کو جواب دیا
"کل کے لیے بھی کچھ باتیں بچا کر رکھ لیں۔۔۔ آپ زیادہ دیر تک جاگے گی تو آپ کا بلڈپریشر ہائی ہوگا"
ارتضیٰ نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر مجھے انیس سال بعد ملی ہے میرے پاس اتنی سالوں کی ڈھیر ساری باتیں جمع ہیں جو کل تک تو کیا اگلے چند دنوں تک ختم نہیں ہوگیں اور اب تم میری فکر نہیں کرو میرا بلڈ پریشر بھی نارمل رہے گا اور شوگر بھی کیونکہ میرے پاس میری بیٹی آگئی ہے"
مریم نے محبت سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تو تعبیر اس کو دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔ چند گھنٹوں میں ہی ان دونوں کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی اور اس دوستی میں سب سے بڑا ہاتھ مریم کا تھا۔۔۔۔ مریم اس سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ شروع سے ہی مریم کے پاس رہتی ہو
"یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ،، عورتوں کی باتیں بھلا کبھی ختم ہوئی ہیں مگر آپ کی بیٹی کی بھی تو طبیعت ٹھیک نہیں ہے"
مریم سے کہتا ہوا وہ تعبیر کو دیکھ رہا تھا تعبیر کو صاف اندازہ ہو رہا تھا وہ لفظوں میں نہیں کہہ پا رہا مگر نظروں سے اسے اپنے بیڈروم میں چلنے کے لئے کہہ رہا ہے تعبیر نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر نو لفٹ کا بورڈ اپنے منہ پر لگائے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کیا
"تو تمہارے کمرے میں جانے سے اس کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی یا تم اس کا علاج کرو گے"
مریم نے سیریس انداز اپناتے ہوئے ارتضیٰ سے کہا اس کی بات پر ارتضیٰ ایک دم سٹپٹا گیا
"ایسا کب کہہ دیا میں نے میں تو آپ دونوں کو سونے کے لئے کہہ رہا ہوں بس"
ارتضیٰ نے مریم کو وضاحت دیتے ہوئے خار بھاری نظر تعبیر پر ڈالی،،، تعبیر نے اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرکے بلا مقصد اپنے ہاتھ کے ناخنوں کو دیکھنے لگی
"تم اپنے روم میں جا کر ارام سے سو جاؤ جب تعبیر کو نیند آئے گی تو وہ میرے پاس سو جائے گی"
مریم نے ارتضیٰ کو پریشان دیکھ کر اس کو سلوشن بتایا
"یعنی اس بیڈ پر آپ دونوں آرام سے سو جائیں گے"
ارتضیٰ نے آخری بار کوشش کی
"یہ بیڈ اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے کہ ہم دونوں یہاں ایڈجسٹ نہ کر سکے کیوں تعبیر"
مریم نے اب کی بار تعبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں مجھے کوئی پرابلم نہیں میں تو یہاں آرام سے سو جاؤں گی"
تعبیر نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا اور ساتھ ہی بیڈ پر رکھی ہوئی چادر اوڑھ کر لیٹ گئی
"ٹھیک ہے جب آپ دونوں کو پرابلم نہیں تو پھر مجھے کیا پرابلم ہے"
ارتضیٰ مریم کو دیکھ کر مسکرا کر کہنے لگا اور نظروں ہی نظروں میں تعبیر کو وارن کرتا ہوا روم سے باہر نکل گیا
اسے اچھی طرح اندازہ تھا مریم تعبیر کے کہنے پر ہی ایسا بول رہی ہے اپنے بیڈ پر آکر لیٹا تو کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا کیونکہ پانچ دنوں سے تعبیر اس کے برابر میں سو رہی تھی اور ان پانچ دنوں میں ہی اسے اسنووائٹ کو اپنے قریب دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی۔۔۔۔ آنکھیں بند کر کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگا
****
ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں یاور مریم کی انلارج تصویر لگا رہا تھا۔۔۔ تعبیر مریم کے ساتھ کچن میں موجود تھی مریم کھانا بناتے ہوئے اسے اپنے اور عائشہ کے اسکول اور کالج کے قصے سنا رہی تھی جو تعبیر بہت غور اور دلچسپی سے سن رہی تھی کیوکہ اس میں اس کی ماں کا ذکر تھا تعبیر کسی کسی بات پر مسکرا کر اس سے چھوٹے موٹے سوال بھی پوچھ لیتی اجنبیت کی دیوار تو کل ہی گر گئی تھی اب اس کی اور مریم کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی
"ایسے کھڑے کھڑے تھک جاؤ گی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے تمہاری لیٹ جاؤ جاکے تھوڑی دیر"
مریم نے تعبیر کے خیال سے بولا
"نہیں میں بالکل نہیں تھکی کل سے تو اب کافی بہتر ہے طبیعت میری۔۔۔۔۔ آپکی اور ماما کی باتیں سن کر بہت اچھا لگ رہا ہے،،،، آپ بہت اچھی ہیں آنٹی"
تعبیر نے سچے دل سے مریم کی تعریف کی کل سے ہی وہ تعبیر کا اتنا خیال رکھ رہی تھی اس سے باتیں کر کے اس کا دل بہلا رہی تھی تعبیر کو مریم بہت اچھی لگی
"یہ آنٹی کون ہے خبردار جو مجھے انٹی کہا تو،، مما بولو ارتضیٰ کی طرح مجھے خوشی ہوگی"
مریم اس کے پاس آکر بولی تو وہ نظریں جھکا گئی
"کھانا چڑھا دیا ہے تھوڑی دیر بعد ریڈی ہو جائے گا چلو روم میں چلتے ہیں"
مریم کے ساتھ وہ بھی کچن سے باہر نکل گئی
"دیکھ لیں مما تصویر ٹھیک لگی ہے"
ارتضیٰ ہاتھ میں ہیمر پکڑے مریم کے بیڈ روم سے نکلا مریم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"ٹھیک ہی لگی ہوگی تم کوئی کام غلط نہیں کرتے"
مریم نے اس کو دیکھ کر مسکرا کر کہا اور اپنے بیڈروم میں چلی گئی تعبیر بھی مریم کی پیروی کرتے ہوئے بیڈروم میں اس کے پیچھے جانے لگی مگر اگلے ہی پل اس کا بازو ارتضیٰ کے ہاتھ میں تھا جسے تھام کر وہ اپنے بیڈ روم میں لے آیا
"چھوڑو مجھے یہ کیا بدتمیزی ہے" تعبیر نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے روم کا دروازہ بند کیا
"یہی تو میں پوچھنے والا ہوں کہ کیا بدتمیزی ہے"
قدم اٹھاتا ہوا وہ تعبیر کے پاس آیا اور سنجیدگی سے بولا
"کیا مطلب ہے تمہارا میں نے کیا بدتمیزی کی ہے"
تعبیر نے حیرت سے اس کو دیکھا تو ارتضیٰ نے اس کا بازو تھام کر اسے اپنے سے قریب کیا
"کل رات مما کے بیڈروم میں کیوں سوئی یہ تو سراسر بے ایمانی ہے نہ میرے ساتھ"
نرم لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے اس نے تعبیر کو اپنے حصار میں لیا
"اور تم مزمل بن کر جو میرے ساتھ کرتے رہے کیا وہ بے ایمانی نہیں تھی"
تعبیر ناراضگی برقرار رکھتے ہوئے اس سے گویا ہوئی
"کونسا تم ارتضیٰ کو اپنے پاس بھٹکنے دیتی تھی مجبوراً مزمل کو ہی چھوٹی موٹی گستاخیوں سے کام چلانا پڑتا تھا"
چہرے پر اس کے ابھی بھی سنجیدگی تھی مگر آنکھیں اس کے سنجیدہ ہونے کی صاف چغلی کھا رہی تھی
"چھوڑو مجھے مما ویٹ کررہی ہیں میرا"
تعبیر نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی
"اور جو مما کا بیٹا کل رات سے ویٹ کر رہا ہے اس کا کیا"
اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے وہ مزید اپنی گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا مگر تعبیر کا مریم کو مما کہنا اسے بہت اچھا لگا جس کا مطلب تھا اس کی ناراضگی صرف ارتضیٰ سے ہے مگر وہ یہ رشتہ قائم رکھنا چاہتی ہے
"تمہارے اوپر ابھی بہت سے حساب نکلتے ہیں جو اتنی آسانی سے تو ہر گز بے باک نہیں ہوگے" تعبیر نے اس کو ایک دفعہ پھر پیچھے ہٹانا چاہا
"آج رات میں سارے حساب کتاب بے باک کر دوں گا ایک موقع دے کر دیکھو"
وہ بولتا ہوا تعبیر کی گردن پر جھگنے لگا
"حساب بے باک کرنے ہے تو دور رہو مجھ سے"
تعبیر ارتضیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"اوکے جب تک تمہاری ناراضگی ختم نہیں ہوجاتی میں اپنے دل کو سمجھا لیتا ہوں مگر اپنے بیڈ روم میں تو واپس آجاؤ تھوڑا سا ترس کھاؤ یار اپنے باڈی گارڈ پر"
ارتضیٰ نے اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتے ہوئے معصوم سی شکل بنا کر کہا
"تم ترس کھانے والی شے ہو ہی نہیں اور یہ معصوم شکل بنا کر کسی اور کو دکھانا اچھا خاصا بیوقوف بنایا ہے تم نے مجھے میں اتنی جلدی تمہیں معاف کرنے والی ہدگز نہیں"
تعبیر اسے باتیں سنا کر کمرے سے باہر نکل گئی اور ارتضیٰ منہ لٹکا کر وہی بیٹھ گیا
****
آج مشعل کی برتھڈے تھی کل رات 12 بجے اریش نے اسے وش کیا۔۔۔ مشعل کو خبر نہیں ہوئی وہ کب کیک لے کر آیا۔۔۔۔ ہانی کو جگا کر ان تینوں نے مل کر برتھ ڈے سیلیبریٹ کی۔۔۔ بارہ بجے کے ٹائم ہی مشعل کے موبائل پر ولی کی کال آنے لگی تو اس نے موبائل سوئچ آف کر دیا۔۔۔ اس وقت اپنے بیٹے اور شوہر کے علاوہ کسی تیسرے کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی
شام میں آفس سے فون کر کے اریش نے مشعل اور ہانی کو تیار ہونے کا کہا مشعل نے پروگرام کا پوچھا تو اس نے سرپرائز کہہ کے ٹال دیا
اریش آفس سے ابھی تک نہیں آیا تھا مشعل ہانی کو تیار کرکے اور خود تیار ہو کر ہال میں بیٹھی ہوئی اریش کا انتظار کر رہی تھی گاڑی کے ہارن پر وہ دونوں الرٹ ہوگئے مگر گھر کے اندر داخل ہونے والے شخص کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے مشعل پتھر کی بن گئی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور گلے لگ کے رونے لگی
"ارے مشی میری جان کیا ہوگیا"
ارباز اس کو روتا ہوا دیکھ کر بولا
"بھائی مجھے یقین نہیں آرہا آپ میرے سامنے۔۔۔ بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں"
مشعل نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر ارباز کے آگے رونا شروع کردیا ارباز نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کے اسے دوبارہ گلے لگایا
"اچھا بس اب چپ ہوجاؤ بار بار معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں سب پرانی باتوں کو بھول کر یہاں آیا ہوں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اریش مجھے یہاں لایا ہے"
ارباز کے بتانے پر مشعل نے دروازے پر کھڑے اریش کو دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
اب مشعل فوزیہ کے گلے لگی ہوئی تھی مگر دیکھ اپنے سامنے کھڑے اریش کو رہی تھی بغیر آواز کے اریش کو دیکھتے ہوئے مشعل نے "آئی لو یو" کہا جس پر اریش نے آنکھیں بند کر کے ہلکا سا سر خم کیا
"آپ سے تو ہمیشہ زیادتی کرتی آئی ہوں کس کس بات کی معافی مانگو"
مشعل نے فوزیہ کو دیکھ کر کہاا
"کسی بھی بات کی کوئی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے اس عرصے میں میرا دل ہمیشہ تمہارے لئے پریشان رہا ہے۔۔۔ مگر آج تمہارا شوہر تمہارا گھر تمہارا بیٹا دیکھ کر دل کو اطمینان ہوگیا"
فوزیہ نے مسکراتے ہوئے مشعل سے کہا
"بھابھی یہ اعزاز ہے نا کتنا بڑا ہوگیا ماشاءاللہ"
مشعل اب اپنے بھتیجے کو پیار کرتی ہوئی بولی
ارباز اور فوزیہ اب ہانی کو پیار کر رہے تھے۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مائرہ بھی اپنے ہزبینڈ اور بچوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئی خوشگوار ماحول میں مشعل نے کیک کاٹا اریش نے پہلے ہی کھانا باہر سے آرڈر کر دیا تھا۔۔۔۔ اس سے زیادہ خوبصورت برتھڈے اور سرپرائز مشعل کے لیے کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا
آنکھوں میں تشکر کے جذبات لیے وہ ایک بار پھر اریش کو دیکھنے لگی جو ارباز اور شیراز کے ساتھ باتیں کر رہا تھا
****
سب کے جانے کے بعد گھر سمیٹ کر مشعل میں ہانی کو سلایا آج سارے کام شیڈیول سے ہٹ کر تھوڑا لیٹ ہوئے تھے۔۔۔۔ اریش دوسرے روم میں فائل میں سر دیے آفس کے کسی کام میں بزی تھا۔۔۔ ۔ مشعل اپنے کپڑے چینج کر کے روم میں موجود کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہوئی
آج وہ بہت خوش تھی اب اس کی زندگی کا کوئی خلاح نہیں تھا آج اس کے بھائی بھابھی نے اسے معاف کردیا تھا اور یہ سب ایک شخص کے باعث ہوا تھا
"کیسا لگا برتھ ڈے سرپرائز"
مشعل کو خبر ہی نہیں ہوئی وہ کب روم میں آیا مشعل نے مڑ کر دیکھا تو اریش اس کے بالکل نزدیک کھڑا مسکرا رہا تھا
"اس سے اچھا بھلا کوئی برتھ ڈے گفٹ ہوسکتا تھا میرے لیے"
مشعل نے اسے دیکھ کر کہا
"نہیں یہ سرپرائز تھا برتھڈے گفٹ تو یہ رہا"
اریش نے پاکٹ سے گولڈ کی چین نکالی اور مشعل کے گلے میں پہنانے لگا
"اب بتاؤ کیسا لگا یہ گفٹ"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا
"مجھے سب سے اچھا گفٹ اللہ پاک نے آپ کی صورت دیا ہے،، اس کا میں جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ مجھے آپ سے اتنی جلدی محبت ہو جائے گی آئی لو یو"
مشعل نے اریش کے گلے لگتے ہوئے کہا
"آئی لو یو ٹو ہانی کی مما"
اریش نے اس کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرتے ہوئے کہا
"میاں بیوی کے رشتے کو پیار تو مضبوط کرتا ہی ہے مشعل۔۔۔ مگر اعتبار بھی اس رشتے کو مضبوط بنانے کی اہم کڑی ہے اور میں چاہوں گا تم پیار کے ساتھ ساتھ مجھ پر اعتبار بھی کرو" اریش نے اس کا چہرہ تھام کر کہا اور انتظار کرنے لگا کہ وہ اسے کچھ بتائے گی
"آپ صحیح کہہ رہے ہیں اریش مجھے معلوم ہے آپ اتنے اچھے ہیں کہ مجھے سے پیار کے ساتھ ساتھ میرا اعتبار بھی کریں گے اور میں آپ کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی۔۔۔ اکا نے بالکل ٹھیک کہا تھا میں اچھی ماں تو ہوں ہی اب دیکھیے گا میں ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی"
اس کی بات کو مشعل نے کس معنوں میں لیا۔ ۔۔۔ یا وہ نہیں سمجھ پائی یا سمجھ کر بھی انجان بن گئی اریش اس کا اندازہ نہیں لگا سکا۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کوئی ایسی بات ہی نہ ہو وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہوں اپنے ذہن سے ساری سوچیں نکال کر اس نے سر جھٹکا۔۔۔
"تمہیں معلوم ہے آج تم کتنی پیاری لگ رہی ہو"
اریش اسے بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لایا جس پر مشعل مسکرائی
"مجھے یقین ہے اگر میں ماسی کے حلیہ میں بھی آپ کے سامنے آؤں گی تو آپ کو اچھی ہی لگو گی"
مشعل کے بولنے پر اریش مسکرایا اور اب وہ محبت بھرے انداز میں مشعل کو یقین دلارہا تھا کہ ہانی کی مما اسے کتنی اچھی لگتی ہے
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 43
رات کو مریم نے تعبیر کے لیے کھچڑی بنائی تو کھانے کی ٹیبل پر ارتضیٰ کے لائے ہوئے سینڈوچ رکھے تھے مگر تعبیر کو وہ کھچڑی بہت اچھی لگی اور اس نے سینڈوچ کو ہاتھ لگائے بغیر کھچڑی بہت رغبت سے کھائی ارتضیٰ کو یہ بھی اس کی ناراضگی کا اظہار لگا مگر اسے خوشی ہوئی کہ تعبیر نے مریم سے روڈ بی ہیو نہیں کیا جو کہ وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا اس بات سے اسے اندر سے تھوڑا اطمینان ہوا وہ اسے جلد منا لے گا مگر جب رات کو سونے کے لئے روم میں آیا تو تعبیر کو اپنے روم میں نہ پاکر مریم کے پاس پہنچا تعبیر وہی بیڈ پر مریم کے پاس برجمان تھی
"کیا ہوا سونے کا ارادہ نہیں ہے آپ دونوں کا"
تعبیر پر ایک نظر ڈال کر اس نے مریم کو مخاطب کیا
"نہیں ابھی ہمارا بہت ساری باتیں کرنے کا ارادہ ہے"
مریم نے ارتضیٰ کو جواب دیا
"کل کے لیے بھی کچھ باتیں بچا کر رکھ لیں۔۔۔ آپ زیادہ دیر تک جاگے گی تو آپ کا بلڈپریشر ہائی ہوگا"
ارتضیٰ نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر مجھے انیس سال بعد ملی ہے میرے پاس اتنی سالوں کی ڈھیر ساری باتیں جمع ہیں جو کل تک تو کیا اگلے چند دنوں تک ختم نہیں ہوگیں اور اب تم میری فکر نہیں کرو میرا بلڈ پریشر بھی نارمل رہے گا اور شوگر بھی کیونکہ میرے پاس میری بیٹی آگئی ہے"
مریم نے محبت سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تو تعبیر اس کو دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔ چند گھنٹوں میں ہی ان دونوں کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی اور اس دوستی میں سب سے بڑا ہاتھ مریم کا تھا۔۔۔۔ مریم اس سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ شروع سے ہی مریم کے پاس رہتی ہو
"یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ،، عورتوں کی باتیں بھلا کبھی ختم ہوئی ہیں مگر آپ کی بیٹی کی بھی تو طبیعت ٹھیک نہیں ہے"
مریم سے کہتا ہوا وہ تعبیر کو دیکھ رہا تھا تعبیر کو صاف اندازہ ہو رہا تھا وہ لفظوں میں نہیں کہہ پا رہا مگر نظروں سے اسے اپنے بیڈروم میں چلنے کے لئے کہہ رہا ہے تعبیر نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر نو لفٹ کا بورڈ اپنے منہ پر لگائے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کیا
"تو تمہارے کمرے میں جانے سے اس کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی یا تم اس کا علاج کرو گے"
مریم نے سیریس انداز اپناتے ہوئے ارتضیٰ سے کہا اس کی بات پر ارتضیٰ ایک دم سٹپٹا گیا
"ایسا کب کہہ دیا میں نے میں تو آپ دونوں کو سونے کے لئے کہہ رہا ہوں بس"
ارتضیٰ نے مریم کو وضاحت دیتے ہوئے خار بھاری نظر تعبیر پر ڈالی،،، تعبیر نے اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرکے بلا مقصد اپنے ہاتھ کے ناخنوں کو دیکھنے لگی
"تم اپنے روم میں جا کر ارام سے سو جاؤ جب تعبیر کو نیند آئے گی تو وہ میرے پاس سو جائے گی"
مریم نے ارتضیٰ کو پریشان دیکھ کر اس کو سلوشن بتایا
"یعنی اس بیڈ پر آپ دونوں آرام سے سو جائیں گے"
ارتضیٰ نے آخری بار کوشش کی
"یہ بیڈ اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے کہ ہم دونوں یہاں ایڈجسٹ نہ کر سکے کیوں تعبیر"
مریم نے اب کی بار تعبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں مجھے کوئی پرابلم نہیں میں تو یہاں آرام سے سو جاؤں گی"
تعبیر نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا اور ساتھ ہی بیڈ پر رکھی ہوئی چادر اوڑھ کر لیٹ گئی
"ٹھیک ہے جب آپ دونوں کو پرابلم نہیں تو پھر مجھے کیا پرابلم ہے"
ارتضیٰ مریم کو دیکھ کر مسکرا کر کہنے لگا اور نظروں ہی نظروں میں تعبیر کو وارن کرتا ہوا روم سے باہر نکل گیا
اسے اچھی طرح اندازہ تھا مریم تعبیر کے کہنے پر ہی ایسا بول رہی ہے اپنے بیڈ پر آکر لیٹا تو کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا کیونکہ پانچ دنوں سے تعبیر اس کے برابر میں سو رہی تھی اور ان پانچ دنوں میں ہی اسے اسنووائٹ کو اپنے قریب دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی۔۔۔۔ آنکھیں بند کر کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگا
****
ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں یاور مریم کی انلارج تصویر لگا رہا تھا۔۔۔ تعبیر مریم کے ساتھ کچن میں موجود تھی مریم کھانا بناتے ہوئے اسے اپنے اور عائشہ کے اسکول اور کالج کے قصے سنا رہی تھی جو تعبیر بہت غور اور دلچسپی سے سن رہی تھی کیوکہ اس میں اس کی ماں کا ذکر تھا تعبیر کسی کسی بات پر مسکرا کر اس سے چھوٹے موٹے سوال بھی پوچھ لیتی اجنبیت کی دیوار تو کل ہی گر گئی تھی اب اس کی اور مریم کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی
"ایسے کھڑے کھڑے تھک جاؤ گی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے تمہاری لیٹ جاؤ جاکے تھوڑی دیر"
مریم نے تعبیر کے خیال سے بولا
"نہیں میں بالکل نہیں تھکی کل سے تو اب کافی بہتر ہے طبیعت میری۔۔۔۔۔ آپکی اور ماما کی باتیں سن کر بہت اچھا لگ رہا ہے،،،، آپ بہت اچھی ہیں آنٹی"
تعبیر نے سچے دل سے مریم کی تعریف کی کل سے ہی وہ تعبیر کا اتنا خیال رکھ رہی تھی اس سے باتیں کر کے اس کا دل بہلا رہی تھی تعبیر کو مریم بہت اچھی لگی
"یہ آنٹی کون ہے خبردار جو مجھے انٹی کہا تو،، مما بولو ارتضیٰ کی طرح مجھے خوشی ہوگی"
مریم اس کے پاس آکر بولی تو وہ نظریں جھکا گئی
"کھانا چڑھا دیا ہے تھوڑی دیر بعد ریڈی ہو جائے گا چلو روم میں چلتے ہیں"
مریم کے ساتھ وہ بھی کچن سے باہر نکل گئی
"دیکھ لیں مما تصویر ٹھیک لگی ہے"
ارتضیٰ ہاتھ میں ہیمر پکڑے مریم کے بیڈ روم سے نکلا مریم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"ٹھیک ہی لگی ہوگی تم کوئی کام غلط نہیں کرتے"
مریم نے اس کو دیکھ کر مسکرا کر کہا اور اپنے بیڈروم میں چلی گئی تعبیر بھی مریم کی پیروی کرتے ہوئے بیڈروم میں اس کے پیچھے جانے لگی مگر اگلے ہی پل اس کا بازو ارتضیٰ کے ہاتھ میں تھا جسے تھام کر وہ اپنے بیڈ روم میں لے آیا
"چھوڑو مجھے یہ کیا بدتمیزی ہے" تعبیر نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے روم کا دروازہ بند کیا
"یہی تو میں پوچھنے والا ہوں کہ کیا بدتمیزی ہے"
قدم اٹھاتا ہوا وہ تعبیر کے پاس آیا اور سنجیدگی سے بولا
"کیا مطلب ہے تمہارا میں نے کیا بدتمیزی کی ہے"
تعبیر نے حیرت سے اس کو دیکھا تو ارتضیٰ نے اس کا بازو تھام کر اسے اپنے سے قریب کیا
"کل رات مما کے بیڈروم میں کیوں سوئی یہ تو سراسر بے ایمانی ہے نہ میرے ساتھ"
نرم لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے اس نے تعبیر کو اپنے حصار میں لیا
"اور تم مزمل بن کر جو میرے ساتھ کرتے رہے کیا وہ بے ایمانی نہیں تھی"
تعبیر ناراضگی برقرار رکھتے ہوئے اس سے گویا ہوئی
"کونسا تم ارتضیٰ کو اپنے پاس بھٹکنے دیتی تھی مجبوراً مزمل کو ہی چھوٹی موٹی گستاخیوں سے کام چلانا پڑتا تھا"
چہرے پر اس کے ابھی بھی سنجیدگی تھی مگر آنکھیں اس کے سنجیدہ ہونے کی صاف چغلی کھا رہی تھی
"چھوڑو مجھے مما ویٹ کررہی ہیں میرا"
تعبیر نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی
"اور جو مما کا بیٹا کل رات سے ویٹ کر رہا ہے اس کا کیا"
اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے وہ مزید اپنی گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا مگر تعبیر کا مریم کو مما کہنا اسے بہت اچھا لگا جس کا مطلب تھا اس کی ناراضگی صرف ارتضیٰ سے ہے مگر وہ یہ رشتہ قائم رکھنا چاہتی ہے
"تمہارے اوپر ابھی بہت سے حساب نکلتے ہیں جو اتنی آسانی سے تو ہر گز بے باک نہیں ہوگے" تعبیر نے اس کو ایک دفعہ پھر پیچھے ہٹانا چاہا
"آج رات میں سارے حساب کتاب بے باک کر دوں گا ایک موقع دے کر دیکھو"
وہ بولتا ہوا تعبیر کی گردن پر جھگنے لگا
"حساب بے باک کرنے ہے تو دور رہو مجھ سے"
تعبیر ارتضیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"اوکے جب تک تمہاری ناراضگی ختم نہیں ہوجاتی میں اپنے دل کو سمجھا لیتا ہوں مگر اپنے بیڈ روم میں تو واپس آجاؤ تھوڑا سا ترس کھاؤ یار اپنے باڈی گارڈ پر"
ارتضیٰ نے اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتے ہوئے معصوم سی شکل بنا کر کہا
"تم ترس کھانے والی شے ہو ہی نہیں اور یہ معصوم شکل بنا کر کسی اور کو دکھانا اچھا خاصا بیوقوف بنایا ہے تم نے مجھے میں اتنی جلدی تمہیں معاف کرنے والی ہدگز نہیں"
تعبیر اسے باتیں سنا کر کمرے سے باہر نکل گئی اور ارتضیٰ منہ لٹکا کر وہی بیٹھ گیا
****
آج مشعل کی برتھڈے تھی کل رات 12 بجے اریش نے اسے وش کیا۔۔۔ مشعل کو خبر نہیں ہوئی وہ کب کیک لے کر آیا۔۔۔۔ ہانی کو جگا کر ان تینوں نے مل کر برتھ ڈے سیلیبریٹ کی۔۔۔ بارہ بجے کے ٹائم ہی مشعل کے موبائل پر ولی کی کال آنے لگی تو اس نے موبائل سوئچ آف کر دیا۔۔۔ اس وقت اپنے بیٹے اور شوہر کے علاوہ کسی تیسرے کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی
شام میں آفس سے فون کر کے اریش نے مشعل اور ہانی کو تیار ہونے کا کہا مشعل نے پروگرام کا پوچھا تو اس نے سرپرائز کہہ کے ٹال دیا
اریش آفس سے ابھی تک نہیں آیا تھا مشعل ہانی کو تیار کرکے اور خود تیار ہو کر ہال میں بیٹھی ہوئی اریش کا انتظار کر رہی تھی گاڑی کے ہارن پر وہ دونوں الرٹ ہوگئے مگر گھر کے اندر داخل ہونے والے شخص کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے مشعل پتھر کی بن گئی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور گلے لگ کے رونے لگی
"ارے مشی میری جان کیا ہوگیا"
ارباز اس کو روتا ہوا دیکھ کر بولا
"بھائی مجھے یقین نہیں آرہا آپ میرے سامنے۔۔۔ بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں"
مشعل نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر ارباز کے آگے رونا شروع کردیا ارباز نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کے اسے دوبارہ گلے لگایا
"اچھا بس اب چپ ہوجاؤ بار بار معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں سب پرانی باتوں کو بھول کر یہاں آیا ہوں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اریش مجھے یہاں لایا ہے"
ارباز کے بتانے پر مشعل نے دروازے پر کھڑے اریش کو دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
اب مشعل فوزیہ کے گلے لگی ہوئی تھی مگر دیکھ اپنے سامنے کھڑے اریش کو رہی تھی بغیر آواز کے اریش کو دیکھتے ہوئے مشعل نے "آئی لو یو" کہا جس پر اریش نے آنکھیں بند کر کے ہلکا سا سر خم کیا
"آپ سے تو ہمیشہ زیادتی کرتی آئی ہوں کس کس بات کی معافی مانگو"
مشعل نے فوزیہ کو دیکھ کر کہاا
"کسی بھی بات کی کوئی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے اس عرصے میں میرا دل ہمیشہ تمہارے لئے پریشان رہا ہے۔۔۔ مگر آج تمہارا شوہر تمہارا گھر تمہارا بیٹا دیکھ کر دل کو اطمینان ہوگیا"
فوزیہ نے مسکراتے ہوئے مشعل سے کہا
"بھابھی یہ اعزاز ہے نا کتنا بڑا ہوگیا ماشاءاللہ"
مشعل اب اپنے بھتیجے کو پیار کرتی ہوئی بولی
ارباز اور فوزیہ اب ہانی کو پیار کر رہے تھے۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مائرہ بھی اپنے ہزبینڈ اور بچوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئی خوشگوار ماحول میں مشعل نے کیک کاٹا اریش نے پہلے ہی کھانا باہر سے آرڈر کر دیا تھا۔۔۔۔ اس سے زیادہ خوبصورت برتھڈے اور سرپرائز مشعل کے لیے کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا
آنکھوں میں تشکر کے جذبات لیے وہ ایک بار پھر اریش کو دیکھنے لگی جو ارباز اور شیراز کے ساتھ باتیں کر رہا تھا
****
سب کے جانے کے بعد گھر سمیٹ کر مشعل میں ہانی کو سلایا آج سارے کام شیڈیول سے ہٹ کر تھوڑا لیٹ ہوئے تھے۔۔۔۔ اریش دوسرے روم میں فائل میں سر دیے آفس کے کسی کام میں بزی تھا۔۔۔ ۔ مشعل اپنے کپڑے چینج کر کے روم میں موجود کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہوئی
آج وہ بہت خوش تھی اب اس کی زندگی کا کوئی خلاح نہیں تھا آج اس کے بھائی بھابھی نے اسے معاف کردیا تھا اور یہ سب ایک شخص کے باعث ہوا تھا
"کیسا لگا برتھ ڈے سرپرائز"
مشعل کو خبر ہی نہیں ہوئی وہ کب روم میں آیا مشعل نے مڑ کر دیکھا تو اریش اس کے بالکل نزدیک کھڑا مسکرا رہا تھا
"اس سے اچھا بھلا کوئی برتھ ڈے گفٹ ہوسکتا تھا میرے لیے"
مشعل نے اسے دیکھ کر کہا
"نہیں یہ سرپرائز تھا برتھڈے گفٹ تو یہ رہا"
اریش نے پاکٹ سے گولڈ کی چین نکالی اور مشعل کے گلے میں پہنانے لگا
"اب بتاؤ کیسا لگا یہ گفٹ"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا
"مجھے سب سے اچھا گفٹ اللہ پاک نے آپ کی صورت دیا ہے،، اس کا میں جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ مجھے آپ سے اتنی جلدی محبت ہو جائے گی آئی لو یو"
مشعل نے اریش کے گلے لگتے ہوئے کہا
"آئی لو یو ٹو ہانی کی مما"
اریش نے اس کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرتے ہوئے کہا
"میاں بیوی کے رشتے کو پیار تو مضبوط کرتا ہی ہے مشعل۔۔۔ مگر اعتبار بھی اس رشتے کو مضبوط بنانے کی اہم کڑی ہے اور میں چاہوں گا تم پیار کے ساتھ ساتھ مجھ پر اعتبار بھی کرو" اریش نے اس کا چہرہ تھام کر کہا اور انتظار کرنے لگا کہ وہ اسے کچھ بتائے گی
"آپ صحیح کہہ رہے ہیں اریش مجھے معلوم ہے آپ اتنے اچھے ہیں کہ مجھے سے پیار کے ساتھ ساتھ میرا اعتبار بھی کریں گے اور میں آپ کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی۔۔۔ اکا نے بالکل ٹھیک کہا تھا میں اچھی ماں تو ہوں ہی اب دیکھیے گا میں ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی"
اس کی بات کو مشعل نے کس معنوں میں لیا۔ ۔۔۔ یا وہ نہیں سمجھ پائی یا سمجھ کر بھی انجان بن گئی اریش اس کا اندازہ نہیں لگا سکا۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کوئی ایسی بات ہی نہ ہو وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہوں اپنے ذہن سے ساری سوچیں نکال کر اس نے سر جھٹکا۔۔۔
"تمہیں معلوم ہے آج تم کتنی پیاری لگ رہی ہو"
اریش اسے بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لایا جس پر مشعل مسکرائی
"مجھے یقین ہے اگر میں ماسی کے حلیہ میں بھی آپ کے سامنے آؤں گی تو آپ کو اچھی ہی لگو گی"
مشعل کے بولنے پر اریش مسکرایا اور اب وہ محبت بھرے انداز میں مشعل کو یقین دلارہا تھا کہ ہانی کی مما اسے کتنی اچھی لگتی ہے
جاری ہے
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 42
🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 42
"مما ہانی کو آپ نے کل مارننگ میں بھی اسکول نہیں بھیجا تھا اور ہانی آج مارننگ میں بھی اسکول نہیں گیا ہانی کے سارے فرینڈ ہانی کو مس کر رہے ہوگے کیوکہ ہانی بھی ان کو مس کر رہا ہے"
ہانی نے مشعل سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما کی جان آج ہانی اسکول کیسے جاتا آج صبح سے ہی بارش ہو رہی تھی۔۔۔ کل پکا آپ کو اسکول بھیجو گی"
آج صبح سے ہی تیز بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مشعل نے ہانی کو اسکول نہیں بھیجا کل وہ خود بھی ہانی کے ساتھ اسکول جانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اس کی پرنسپل سے ملکر انہیں سختی سے تاکید کرے کہ ہانی کو کسی غیر سے نہ ملنے دیا جائے
"اسکول تو ہانی کل جائے گا مگر ابھی تو ہانی بور ہو رہا ہے اس وقت ہانی کیا کرے"
ہانی نے اپنی بوریت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
دوپہر کا وقت تھا نوکر بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر کوارٹر میں چلے گئے تھے
"تو ابھی ہانی نے مما ہانی کی بوریت دور کر دیتی ہیں" مشعل نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر اپنی آنکھوں پر باندھا جس پر ہانی نے تالیاں بجائی
"ہانی بس یہی رہنا باہر نہیں جانا" مشعل کہتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی کو ڈھونڈنے لگی تھوڑی دیر اسے ہانی کی تالیاں بجانے کی آواز آئی مگر اسے پھر احساس ہوا جیسے ہانی دوسرے روم میں چلا گیا
"ہانی میں نے کہا تھا نا اسی روم میں رہنا"
مشعل آنکھوں سے دوپٹہ باندھے بول رہی تھی اسے محسوس ہوا جیسے اریش آگیا ہے اس نے اپنے سامنے کھڑے اریش کو شولڈر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹٹولا اور مسکرا کر آنکھوں سے دوپٹہ اتارنے لگی
"آج کیسے اتنی جلدی۔۔۔۔"
ادھا جملہ آنکھوں سے دوپٹہ اتارتے ہوئے منہ میں ہی رہ گیا اور ساتھ ہی مشعل کے ہونٹوں کی ہنسی بھی غائب ہوگئی
"شاید تم اپنے ہسبنڈ کو اکسپیکٹ کر رہی تھی، مگر کوئی بات نہیں میں بھی تمہارا ہسبنڈ ہی ہو"
ولی نے مسکراتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"اپنا جملہ درست کرو تم میرے ہسبنڈ ہو نہیں تھے"
مشعل نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اس کے جملے کی تصدیق کی
"پھر سے دوبارہ ہونے میں کتنا ٹائم لگتا ہے ویسے پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو تم"
ولی نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے ہاتھ بڑا کر اس کا گال چھونا چاہا تو مشعل کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی
"اپنی حد میں رہو ولی اور یاد رکھو میں تمہاری بیوی نہیں ہو اور اس خوش فہمی کو بھی دور کرلو ایسا کچھ دوبارہ کبھی ہو سکتا۔۔۔ کیوں آئے ہو تم یہاں پر"
مشعل نے لہجے میں سختی لائے اس سے پوچھا
"تمہاری ناراضگی برحق ہے میں بالکل بھی برا نہیں مانو گا،، بس ہانی کے ساتھ تمہیں بھی دیکھنے کا دل چاہا تو سوچا تمھارے گھر ہی آجاو۔۔ دو دن سے تم ہانی کو اسکول نہیں بھیج رہی ہوں نہ ہی میری کال ریسیو کر رہی ہو۔۔۔ کیا ہوا ڈر تو نہیں گئی مجھ سے،،، ویسے ہے کہاں پر میرا بیٹا"
ولی نے ڈھیٹ پن سے نظریں دوڑاتے ہوئے پورے ہال کا جائزہ لیا
"اپنی اس خوش فہمی کو دور کرلو کہ میں تم سے ڈر گئی ہو،، تمہارے منہ سے میرا بیٹا یہ لفظ بالکل سوٹ نہیں کرتا ولی۔۔۔ باپ ایسا نہیں ہوتا جو حالات کا رونا رو کر رشتہ ہی توڑ جائے اس لیے ہانی سے دور رہو اور اور میرے گھر دوبارہ آنے کی زحمت مت کرنا"
مشعل نے لہجے میں بغیر کسی نرمی یا لچک کے ولی کو مخاطب کیا
"مشعل مجھے اپنی غلطی کا اندازہ ہے پلیز مجھے میری غلطی سدھارنے کا ایک موقع چاہیے" ولی نے منت بھرے لہجے میں مشعل سے کہا اسے یقین تھا تھوڑا بہت ناراض ہونے کے بعد وہ وہ مان جائے گی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتی ہے
"کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ازالہ عمر بھر ممکن نہیں یہاں سے چلے جاؤ ولی"
اب کے مشعل نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور کروں گا فی الحال میں یہاں سے جا رہا ہوں اور اب میں نہیں تم آؤگی میرے پاس"
ولی نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس میں اس کا ایڈریس موجودہ مشعل نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھا اس سے لے کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینک دیا
"ایسا ممکن نہیں ہے تم جا سکتے ہو میرے گھر سے"
مشعل نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"چلو دیکھتے ہیں ایسا کب تک ممکن نہیں ہے"
ولی ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا
مشعل کو رہ رہ کر ولی کے اوپر غصہ آ رہا تھا شکر ہے گھر میں کوئی نوکر موجود نہیں تھا اور ہانی بھی دوسرے روم میں تھا مشعل نے واچ مین کو سختی سے تاکید کری کہ اب یہ صاحب دوبارہ اس کے گھر میں نہ آئے ابھی وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر صوفے پر بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ کریم (ڈرائیور) مشعل کے پاس آیا
بی بی جی مجھے چند دنوں کے لیے چھٹی چاہیئے گاؤں جانا ہے اپنے"
کریم نے افسردہ چہرہ لئے مشعل سے اجازت لی
"اوکے میں اریش سے بات کر لوں گی خیریت ہے ویسے" مشعل نے کریم کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر یوں ہی پوچھ لیا
"بس بی بی جی غریب انسان کی کیا خیر ہونی ہے۔۔۔ چند دن پہلے ہی بیٹی کی دوسری شادی کری تھی کہ اچھا ہے اپنے گھر کی ہوجائے گی مگر اس کے پہلے شوہر اور سسرال والوں نے اس کا قبر تک پیچھا نہ چھوڑنے کا سوچا ہے۔۔ ہر روز میری بیٹی کے سسرال پہنچ جاتے ہیں اسے پریشان کرنے۔۔ اب دوسرا شوہر بھی اس پر شک کرنے لگا ہے اور اسے مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اس لئے میری بیوی نے مجھے بلایا ہے"
کریم نے اپنی بیٹی کی داستان سنائی جو کہ مشعل اپنی کہانی جیسی لگی
"ٹھیک ہے آپ چلے جائیے میں اریش کو بتا دوں گی اور یہ رکھ لیں"
مشعل نے پاس رکھے اپنے کلچ سے کچھ پیسے دیے وہ شکریہ ادا کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
میڈیسن لینے کے بعد تعبیر تھوڑی دیر کے لئے سو چکی تھی تو ارتضیٰ مریم کو لینے چلا گیا وہ واپس آیا تو تعبیر کو جاگا ہوا پایا صبح کی بانسبت اس کی طبیعت اب کافی بہتر لگ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ مریم تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس آئی تعبیر پہلی نظر میں ہی اسے پہچان چکی تھی مریم نے تعبیر کے پاس آ کر اسے گلے لگا لیا
"میری دعا۔۔۔ بہت یاد کیا ہے میں نے تمہیں"
مریم اس کا چہرہ تھامے اسے پیار کرتے ہوئے بولی تعبیر چاہ کر بھی مریم کو ہٹا کر پیچھے نہیں کرسکی
جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے ماں کا لمس اس نے محسوس نہیں کیا تھا مریم نے گلے لگایا تو تعبیر کو عجیب سا سکون ملا اسے اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آئی
"بخار کیوں ہوگیا تمہیں۔۔۔ ارتضیٰ تم نے خیال نہیں رکھا میری بیٹی کا"
مریم نے اپنائے بھرے لہجے میں پہلے تعبیر سے پوچھا اور پھر مڑ کر ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی جو کہ دروازے کے پاس کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
"مما میں جب سے اسے یہاں لے کر آیا ہوں تب سے میں ہی اس کا خیال رکھ رہا ہو اور طبیعت خراب بھی اس نے خود اپنی الٹی حرکتوں کی وجہ سے کی ہے۔۔۔۔ پہلے سے ہی محترمہ کو بخار چڑھا ہوا تھا اوپر سے بارش میں انجوائے کرنے چلی گئی اب صبح سے مجھ سے خدمت لے رہی ہے"
ارتضیٰ نے شکایتی نظر تعبیر پر ڈال کر مریم کو اس کا کارنامہ بتایا
"اگر خدمت کر رہے ہو تو کونسا احسان کر رہے ہو اس کے اوپر بیوی ہے وہ تمہاری،، جس طرح بیوی کا فرض بنتا ہے کہ وہ شوہر کا خیال رکھے ویسے ہی شوہر کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کیئر کرے اور کونسا تم کوئی پہلی دفعہ اس کی کیئر کر رہے ہو بچپن میں اس کا خیال تم ہی رکھتے آرہے ہو مجھے یا عائشہ کو تو ہاتھ نہیں لگانے دے دیتے تھے"
مریم نے ارتضیٰ کی اچھی طرح خبر لی تعبیر خاموشی سے دونوں ماں بیٹے کی نوک جھوک دیکھ رہی تھی
"صحیح ہے بھئی لوگ تو بہو کے گھر آنے سے اپنی پارٹی بدل گئے"
ارتضیٰ نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوہے افسوس سے کہا
"میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا یہ بہو نہیں میری بیٹی ہے اور میرا ووٹ ہمیشہ میری بیٹی کی طرف رہے گا"
مریم نے مسکراتے ہوئے تعبیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تو ارتضیٰ بھی مسکرانے لگا
"تعبیر بھوک تو نہیں لگ رہی بیٹا"
مریم کو اس کی فکر ہوئی تو پوچھ بیٹھی
"جی تھوڑی تھوڑی" تعبیر نے جھجھکتے ہوئے سچ بولا وہ جب سے سو کر اٹھی تھی اسے بھوک ہی لگ رہی تھی
"اف اتنی دیر سے بتا کیوں نہیں رہی میں جلدی سے تمہارے لیے کھچڑی بنا دیتی ہوں ابھی لائٹ سی ڈائٹ لے لو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں"
مریم اٹھنے لگی
"آپ چھوڑیں آتے ہی گھر کے کاموں میں لگے گیں کیا۔۔۔ ویسے بھی ان محترمہ کو کھچری پسند نہیں آئے گی میں باہر سے کچھ لائٹ سے لے کر آ جاتا ہوں"
ارتضیٰ بھی اٹھ کھڑا ہوا
"میں کھچڑی بنانے لگی ہو وہ کھا لے گی،، تم بھی چپ کر کے بیٹھو کہی جانے کی ضرورت نہیں"
مریم بولتی ہوئی روم سے چلی گئی مریم کے جانے کے بعد ارتضیٰ تعبیر کے پاس آکر بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھا
"کیسی طبیعت ہے اب"
اس نے تعبیر کا ماتھا چھو کر دیکھا تعبیر کچھ بھی نہیں بولی بخار اسکا اتر چکا تھا ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
"پلیز میں ریسٹ چاہتی ہوں" تعبیر نے اسے بغیر دیکھے کہا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"اوکے اسنووائٹ پھر میں تنگ نہیں کروں گا جلدی جلدی سے طبیعت ٹھیک کرلو"
ارتضیٰ نے اس کو لٹاتے ہوئے کہا اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو تعبیر نے فوراً اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف کر لیا تھوڑی دیر وہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کے لئے سینڈوچ لینے باہر چلا گیا اسے اندازہ تھا وہ کھچڑی نہیں کھا پائے گی
****
"کیسا رہا آج کا دن" سب کاموں سے فارغ ہوکر مشعل بیڈ روم میں آئی سوتے ہوئے ہانی پر نظر ڈال کر اریش کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تو اریش نے اس سے پوچھا
"اچھا گزر گیا،، آپ بتائیں اتنا لیٹ کیوں آئے آج"
مشعل میں اریش سے پوچھا
"بس آج آفس کے کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ تھی اس لیے آتے آتے دیر ہوگئی تم بتاؤ گھر پر کوئی آیا تھا"
اریش نے اچانک مشعل سے پوچھا مشعل فوراً بولی
"نہیں تو ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں" مشعل نے اریش سے پوچھا اسے لگا جب ہانی نے ولی کو نہیں دیکھا اور واچ مین کو اس نے منع کردیا تو بلاوجہ میں ایسی بات بتانے کی کیا ضرورت جس سے اریش پریشان ہوں ویسے بھی وہ آج کافی لیٹ آفس سے آیا تھا
"ویسے ہی پوچھا تھا ہانی کی مما،، یہ بتاؤ اکا سے بات ہوئی کب تک آ رہی ہیں وہ"
اریش نے مسکرا کر کہا
"اکا سے آج سارا دن بات نہیں ہوسکی کال کروں گی۔۔۔ ارے ہاں کریم کچھ دنوں کے لیے چھٹی پر اپنے گاؤں گیا ہے" مشعل اریش کو بتانے لگی مگر جواب نہ پا کر سر اٹھا کر اریش کو دیکھا تو سو چکا تھا شاید زیادہ تھک گیا تھا،، مشعل نے اس کو دیکھ کر سوچا اور پھر تکیہ پر لیٹ کر کروٹ دوسری طرف لے کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی سوتے ہوئے اریش نے ایک نظر آنکھ کھول کر مشعل کو دیکھا
آج وہ آفس سے کافی لیٹ آیا تھا ڈنر کے بعد معمول کے مطابق ہانی کو تھوڑی دیر کے لئے باہر لے کر گیا ہانی روزمرہ کی طرح نان اسٹاپ اسے پورے دن کی روداد سنائے جا رہا تھا تب اس نے بتایا کہ ہانی کے گھر وہی انکل آئے تھے جو ہانی کو اسکول میں بھی ملنے آئے تھے تب اریش چونکا ایسا کون ہے جو ہانی کو اسکول ملنے آیا تھا اور یہ کب کی بات تھی اور آج کون اس کے گھر آیا تھا مشعل نے اس کو خود سے کیوں نہیں بتایا یہ سب سوال اس کے ذہن میں آئے
یہ نہیں تھا کہ وہ مشعل پر شک کر رہا تھا یا اس سے ناراض تھا۔۔۔ وہ ابھی بھی چاہتا تو مشعل سے پوچھ سکتا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ اگر کوئی بات ہے تو مشعل اس سے خود شیئر کرے۔۔۔ وہ واقعی آج بہت تھکا ہوا تھا اس لئے آنکھیں بند کر کے سو گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 42
"مما ہانی کو آپ نے کل مارننگ میں بھی اسکول نہیں بھیجا تھا اور ہانی آج مارننگ میں بھی اسکول نہیں گیا ہانی کے سارے فرینڈ ہانی کو مس کر رہے ہوگے کیوکہ ہانی بھی ان کو مس کر رہا ہے"
ہانی نے مشعل سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما کی جان آج ہانی اسکول کیسے جاتا آج صبح سے ہی بارش ہو رہی تھی۔۔۔ کل پکا آپ کو اسکول بھیجو گی"
آج صبح سے ہی تیز بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مشعل نے ہانی کو اسکول نہیں بھیجا کل وہ خود بھی ہانی کے ساتھ اسکول جانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اس کی پرنسپل سے ملکر انہیں سختی سے تاکید کرے کہ ہانی کو کسی غیر سے نہ ملنے دیا جائے
"اسکول تو ہانی کل جائے گا مگر ابھی تو ہانی بور ہو رہا ہے اس وقت ہانی کیا کرے"
ہانی نے اپنی بوریت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
دوپہر کا وقت تھا نوکر بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر کوارٹر میں چلے گئے تھے
"تو ابھی ہانی نے مما ہانی کی بوریت دور کر دیتی ہیں" مشعل نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر اپنی آنکھوں پر باندھا جس پر ہانی نے تالیاں بجائی
"ہانی بس یہی رہنا باہر نہیں جانا" مشعل کہتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی کو ڈھونڈنے لگی تھوڑی دیر اسے ہانی کی تالیاں بجانے کی آواز آئی مگر اسے پھر احساس ہوا جیسے ہانی دوسرے روم میں چلا گیا
"ہانی میں نے کہا تھا نا اسی روم میں رہنا"
مشعل آنکھوں سے دوپٹہ باندھے بول رہی تھی اسے محسوس ہوا جیسے اریش آگیا ہے اس نے اپنے سامنے کھڑے اریش کو شولڈر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹٹولا اور مسکرا کر آنکھوں سے دوپٹہ اتارنے لگی
"آج کیسے اتنی جلدی۔۔۔۔"
ادھا جملہ آنکھوں سے دوپٹہ اتارتے ہوئے منہ میں ہی رہ گیا اور ساتھ ہی مشعل کے ہونٹوں کی ہنسی بھی غائب ہوگئی
"شاید تم اپنے ہسبنڈ کو اکسپیکٹ کر رہی تھی، مگر کوئی بات نہیں میں بھی تمہارا ہسبنڈ ہی ہو"
ولی نے مسکراتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"اپنا جملہ درست کرو تم میرے ہسبنڈ ہو نہیں تھے"
مشعل نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اس کے جملے کی تصدیق کی
"پھر سے دوبارہ ہونے میں کتنا ٹائم لگتا ہے ویسے پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو تم"
ولی نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے ہاتھ بڑا کر اس کا گال چھونا چاہا تو مشعل کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی
"اپنی حد میں رہو ولی اور یاد رکھو میں تمہاری بیوی نہیں ہو اور اس خوش فہمی کو بھی دور کرلو ایسا کچھ دوبارہ کبھی ہو سکتا۔۔۔ کیوں آئے ہو تم یہاں پر"
مشعل نے لہجے میں سختی لائے اس سے پوچھا
"تمہاری ناراضگی برحق ہے میں بالکل بھی برا نہیں مانو گا،، بس ہانی کے ساتھ تمہیں بھی دیکھنے کا دل چاہا تو سوچا تمھارے گھر ہی آجاو۔۔ دو دن سے تم ہانی کو اسکول نہیں بھیج رہی ہوں نہ ہی میری کال ریسیو کر رہی ہو۔۔۔ کیا ہوا ڈر تو نہیں گئی مجھ سے،،، ویسے ہے کہاں پر میرا بیٹا"
ولی نے ڈھیٹ پن سے نظریں دوڑاتے ہوئے پورے ہال کا جائزہ لیا
"اپنی اس خوش فہمی کو دور کرلو کہ میں تم سے ڈر گئی ہو،، تمہارے منہ سے میرا بیٹا یہ لفظ بالکل سوٹ نہیں کرتا ولی۔۔۔ باپ ایسا نہیں ہوتا جو حالات کا رونا رو کر رشتہ ہی توڑ جائے اس لیے ہانی سے دور رہو اور اور میرے گھر دوبارہ آنے کی زحمت مت کرنا"
مشعل نے لہجے میں بغیر کسی نرمی یا لچک کے ولی کو مخاطب کیا
"مشعل مجھے اپنی غلطی کا اندازہ ہے پلیز مجھے میری غلطی سدھارنے کا ایک موقع چاہیے" ولی نے منت بھرے لہجے میں مشعل سے کہا اسے یقین تھا تھوڑا بہت ناراض ہونے کے بعد وہ وہ مان جائے گی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتی ہے
"کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ازالہ عمر بھر ممکن نہیں یہاں سے چلے جاؤ ولی"
اب کے مشعل نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور کروں گا فی الحال میں یہاں سے جا رہا ہوں اور اب میں نہیں تم آؤگی میرے پاس"
ولی نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس میں اس کا ایڈریس موجودہ مشعل نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھا اس سے لے کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینک دیا
"ایسا ممکن نہیں ہے تم جا سکتے ہو میرے گھر سے"
مشعل نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"چلو دیکھتے ہیں ایسا کب تک ممکن نہیں ہے"
ولی ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا
مشعل کو رہ رہ کر ولی کے اوپر غصہ آ رہا تھا شکر ہے گھر میں کوئی نوکر موجود نہیں تھا اور ہانی بھی دوسرے روم میں تھا مشعل نے واچ مین کو سختی سے تاکید کری کہ اب یہ صاحب دوبارہ اس کے گھر میں نہ آئے ابھی وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر صوفے پر بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ کریم (ڈرائیور) مشعل کے پاس آیا
بی بی جی مجھے چند دنوں کے لیے چھٹی چاہیئے گاؤں جانا ہے اپنے"
کریم نے افسردہ چہرہ لئے مشعل سے اجازت لی
"اوکے میں اریش سے بات کر لوں گی خیریت ہے ویسے" مشعل نے کریم کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر یوں ہی پوچھ لیا
"بس بی بی جی غریب انسان کی کیا خیر ہونی ہے۔۔۔ چند دن پہلے ہی بیٹی کی دوسری شادی کری تھی کہ اچھا ہے اپنے گھر کی ہوجائے گی مگر اس کے پہلے شوہر اور سسرال والوں نے اس کا قبر تک پیچھا نہ چھوڑنے کا سوچا ہے۔۔ ہر روز میری بیٹی کے سسرال پہنچ جاتے ہیں اسے پریشان کرنے۔۔ اب دوسرا شوہر بھی اس پر شک کرنے لگا ہے اور اسے مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اس لئے میری بیوی نے مجھے بلایا ہے"
کریم نے اپنی بیٹی کی داستان سنائی جو کہ مشعل اپنی کہانی جیسی لگی
"ٹھیک ہے آپ چلے جائیے میں اریش کو بتا دوں گی اور یہ رکھ لیں"
مشعل نے پاس رکھے اپنے کلچ سے کچھ پیسے دیے وہ شکریہ ادا کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
میڈیسن لینے کے بعد تعبیر تھوڑی دیر کے لئے سو چکی تھی تو ارتضیٰ مریم کو لینے چلا گیا وہ واپس آیا تو تعبیر کو جاگا ہوا پایا صبح کی بانسبت اس کی طبیعت اب کافی بہتر لگ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ مریم تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس آئی تعبیر پہلی نظر میں ہی اسے پہچان چکی تھی مریم نے تعبیر کے پاس آ کر اسے گلے لگا لیا
"میری دعا۔۔۔ بہت یاد کیا ہے میں نے تمہیں"
مریم اس کا چہرہ تھامے اسے پیار کرتے ہوئے بولی تعبیر چاہ کر بھی مریم کو ہٹا کر پیچھے نہیں کرسکی
جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے ماں کا لمس اس نے محسوس نہیں کیا تھا مریم نے گلے لگایا تو تعبیر کو عجیب سا سکون ملا اسے اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آئی
"بخار کیوں ہوگیا تمہیں۔۔۔ ارتضیٰ تم نے خیال نہیں رکھا میری بیٹی کا"
مریم نے اپنائے بھرے لہجے میں پہلے تعبیر سے پوچھا اور پھر مڑ کر ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی جو کہ دروازے کے پاس کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
"مما میں جب سے اسے یہاں لے کر آیا ہوں تب سے میں ہی اس کا خیال رکھ رہا ہو اور طبیعت خراب بھی اس نے خود اپنی الٹی حرکتوں کی وجہ سے کی ہے۔۔۔۔ پہلے سے ہی محترمہ کو بخار چڑھا ہوا تھا اوپر سے بارش میں انجوائے کرنے چلی گئی اب صبح سے مجھ سے خدمت لے رہی ہے"
ارتضیٰ نے شکایتی نظر تعبیر پر ڈال کر مریم کو اس کا کارنامہ بتایا
"اگر خدمت کر رہے ہو تو کونسا احسان کر رہے ہو اس کے اوپر بیوی ہے وہ تمہاری،، جس طرح بیوی کا فرض بنتا ہے کہ وہ شوہر کا خیال رکھے ویسے ہی شوہر کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کیئر کرے اور کونسا تم کوئی پہلی دفعہ اس کی کیئر کر رہے ہو بچپن میں اس کا خیال تم ہی رکھتے آرہے ہو مجھے یا عائشہ کو تو ہاتھ نہیں لگانے دے دیتے تھے"
مریم نے ارتضیٰ کی اچھی طرح خبر لی تعبیر خاموشی سے دونوں ماں بیٹے کی نوک جھوک دیکھ رہی تھی
"صحیح ہے بھئی لوگ تو بہو کے گھر آنے سے اپنی پارٹی بدل گئے"
ارتضیٰ نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوہے افسوس سے کہا
"میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا یہ بہو نہیں میری بیٹی ہے اور میرا ووٹ ہمیشہ میری بیٹی کی طرف رہے گا"
مریم نے مسکراتے ہوئے تعبیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تو ارتضیٰ بھی مسکرانے لگا
"تعبیر بھوک تو نہیں لگ رہی بیٹا"
مریم کو اس کی فکر ہوئی تو پوچھ بیٹھی
"جی تھوڑی تھوڑی" تعبیر نے جھجھکتے ہوئے سچ بولا وہ جب سے سو کر اٹھی تھی اسے بھوک ہی لگ رہی تھی
"اف اتنی دیر سے بتا کیوں نہیں رہی میں جلدی سے تمہارے لیے کھچڑی بنا دیتی ہوں ابھی لائٹ سی ڈائٹ لے لو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں"
مریم اٹھنے لگی
"آپ چھوڑیں آتے ہی گھر کے کاموں میں لگے گیں کیا۔۔۔ ویسے بھی ان محترمہ کو کھچری پسند نہیں آئے گی میں باہر سے کچھ لائٹ سے لے کر آ جاتا ہوں"
ارتضیٰ بھی اٹھ کھڑا ہوا
"میں کھچڑی بنانے لگی ہو وہ کھا لے گی،، تم بھی چپ کر کے بیٹھو کہی جانے کی ضرورت نہیں"
مریم بولتی ہوئی روم سے چلی گئی مریم کے جانے کے بعد ارتضیٰ تعبیر کے پاس آکر بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھا
"کیسی طبیعت ہے اب"
اس نے تعبیر کا ماتھا چھو کر دیکھا تعبیر کچھ بھی نہیں بولی بخار اسکا اتر چکا تھا ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
"پلیز میں ریسٹ چاہتی ہوں" تعبیر نے اسے بغیر دیکھے کہا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"اوکے اسنووائٹ پھر میں تنگ نہیں کروں گا جلدی جلدی سے طبیعت ٹھیک کرلو"
ارتضیٰ نے اس کو لٹاتے ہوئے کہا اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو تعبیر نے فوراً اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف کر لیا تھوڑی دیر وہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کے لئے سینڈوچ لینے باہر چلا گیا اسے اندازہ تھا وہ کھچڑی نہیں کھا پائے گی
****
"کیسا رہا آج کا دن" سب کاموں سے فارغ ہوکر مشعل بیڈ روم میں آئی سوتے ہوئے ہانی پر نظر ڈال کر اریش کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تو اریش نے اس سے پوچھا
"اچھا گزر گیا،، آپ بتائیں اتنا لیٹ کیوں آئے آج"
مشعل میں اریش سے پوچھا
"بس آج آفس کے کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ تھی اس لیے آتے آتے دیر ہوگئی تم بتاؤ گھر پر کوئی آیا تھا"
اریش نے اچانک مشعل سے پوچھا مشعل فوراً بولی
"نہیں تو ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں" مشعل نے اریش سے پوچھا اسے لگا جب ہانی نے ولی کو نہیں دیکھا اور واچ مین کو اس نے منع کردیا تو بلاوجہ میں ایسی بات بتانے کی کیا ضرورت جس سے اریش پریشان ہوں ویسے بھی وہ آج کافی لیٹ آفس سے آیا تھا
"ویسے ہی پوچھا تھا ہانی کی مما،، یہ بتاؤ اکا سے بات ہوئی کب تک آ رہی ہیں وہ"
اریش نے مسکرا کر کہا
"اکا سے آج سارا دن بات نہیں ہوسکی کال کروں گی۔۔۔ ارے ہاں کریم کچھ دنوں کے لیے چھٹی پر اپنے گاؤں گیا ہے" مشعل اریش کو بتانے لگی مگر جواب نہ پا کر سر اٹھا کر اریش کو دیکھا تو سو چکا تھا شاید زیادہ تھک گیا تھا،، مشعل نے اس کو دیکھ کر سوچا اور پھر تکیہ پر لیٹ کر کروٹ دوسری طرف لے کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی سوتے ہوئے اریش نے ایک نظر آنکھ کھول کر مشعل کو دیکھا
آج وہ آفس سے کافی لیٹ آیا تھا ڈنر کے بعد معمول کے مطابق ہانی کو تھوڑی دیر کے لئے باہر لے کر گیا ہانی روزمرہ کی طرح نان اسٹاپ اسے پورے دن کی روداد سنائے جا رہا تھا تب اس نے بتایا کہ ہانی کے گھر وہی انکل آئے تھے جو ہانی کو اسکول میں بھی ملنے آئے تھے تب اریش چونکا ایسا کون ہے جو ہانی کو اسکول ملنے آیا تھا اور یہ کب کی بات تھی اور آج کون اس کے گھر آیا تھا مشعل نے اس کو خود سے کیوں نہیں بتایا یہ سب سوال اس کے ذہن میں آئے
یہ نہیں تھا کہ وہ مشعل پر شک کر رہا تھا یا اس سے ناراض تھا۔۔۔ وہ ابھی بھی چاہتا تو مشعل سے پوچھ سکتا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ اگر کوئی بات ہے تو مشعل اس سے خود شیئر کرے۔۔۔ وہ واقعی آج بہت تھکا ہوا تھا اس لئے آنکھیں بند کر کے سو گیا
جاری ہے
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 41
🌹U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 41
"ہانی۔۔۔ روکو اسے وہ ہانی کو لے جائے گا پلیز اسے روکو" مشعل نیند میں مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی اچانک زور سے چیخنے پر برابر میں سوتے ہوئے اریش کی آنکھ کھلی
"مشعل کیا ہوا" اریش نے اٹھ کر اس کا کندھا ہلایا تو مشعل اٹھ کر بیٹھی اریش کو غور سے دیکھ کر بیڈ سے اترنے لگی
"کیا کر رہی ہو مشعل۔۔۔۔ وہ سو رہا ہے نیند خراب ہوگی اس کی"
اریش نے مشعل کا ارادہ بھانپا اس کا ہاتھ پکڑ کر ہانی کے پاس جانے سے روکا تو وہ بے بسی سے اریش کو دیکھنے لگی
"کیا ہوگیا کوئی برا خواب دیکھا ہے" اریش مشعل کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
"ہاں میں ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔۔ اگر ہانی ہم سے دور چلا گیا تو یہ کوئی اسے چھین کر لے گیا تو"
مشعل چاہ کر بھی اپنا خواب اریش سے شیئر نہیں کر پائی مگر اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولی
"اللہ نہ کرے ہانی کیوں ہم سے دور جانے لگا۔۔۔ کوئی ایسے ہی چھین کر لے جائے گا ہمارے بیٹے کو۔۔۔ پتہ نہیں کیا فضول میں بول رہی ہو چلوں تھوڑی دیر لیٹ جاؤ ابھی ٹائم ہے اٹھنے میں" اریش نے اسے لیٹانا چاہا
"نہیں ایک گھنٹے بعد تو اٹھنا ہے اب مجھے نیند نہیں آئے گی آپ سو جائیں پلیز"
مشعل نے اریش کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم میرے پاس ہوگی تو نیند آئے گی مجھے"
اریش کے کہنے پر مشعل اس کے برابر میں لیٹ گئی
"کیوں آگئے ہو تم ولی میری زندگی میں دوبارہ، کسی برے خواب کی طرح۔۔۔ میں اپنا ماضی بھول کر خوش رہنا چاہتی ہوں مگر تم۔۔۔۔ پتہ نہیں میری زندگی سے آزمائش ختم ہوگی بھی کہ نہیں" مشعل چھت کو گھور کر سوچنے لگی تھوڑی دیر بعد ایک نظر اریش کو دیکھا شاید اریش کی آنکھ دوبارہ لگ چکی تھی۔۔۔۔
اچانک مشعل کا موبائل بجنے لگا،، اریش کی نیند خراب نہ ہو اس نے جلدی سے کال کاٹی اور سیل فون لے کر روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ہال میں آکر وہ صوفے پر بیٹھی اور موبائل اپنے برابر میں رکھا۔۔۔ موبائل ایک دفعہ پھر بج اٹھا،، تو مشعل نے کال ریسیو کی
"ہیلو کون بول رہا ہے"
مشعل نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا کیونکہ یہ نمبر اس کے موبائل میں سیو نہیں تھا
"کافی کم عرصہ لگا تمہیں اپنے پہلی محبت اور پہلے شوہر کو بھولنے میں"
ولی کی آواز سن کر مشعل سن ہو کر رہ گئی اس کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ وہ ہانی کے اسکول میں پہنچ سکتا ہے تو اس کو کال کیوں نہیں کر سکتا اننون نمبر مشعل کو اٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا مشعل نے فوراً کال کاٹی۔۔۔ ایک دفعہ پھر موبائل بجنے لگا اس نے اپنا موبائل آف کر دیا
"اریش کو بتانا چاہیے مجھے شاید اس طرح تو میں پاگل ہوں جاو گی"
مشعل سوچنے لگی
"ہانی کی مما اٹھ کر یہاں آگئی" مشعل کو اپنے پیچھے سے اریش کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو اریش آفس کے لئے تیار ہو کر اس کے پاس آیا
"تیار بھی ہوگئے آپ"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"ہاں یار 20 منٹ کے لئے آنکھ لگی تھی دوبارہ کھل گئی تو سوچا ریڈی ہو جاؤ" اریش مشعل کو بتانے لگا
"میری وجہ سے نیند ڈسٹرب ہو گئی آپکی،، میں بہت پریشان کرتی ہوں ناں آپ کو"
مشعل کو افسوس ہونے لگا تو اریش نے مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لیا
"ایسا ویسا۔۔ ہانی کی مما تو جب کوارٹر میں شفٹ ہوئی تھی تبھی سے ڈسٹرب کرنے لگ گئی تھیں ہانی کے ڈیڈ کو"
اریش کے کہنے پر مشعل ہلکا سا مسکرائی اس وقت وہ اسے بالکل لوونگ ہزبینڈ لگا
"اریش مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے" مشعل نے ہمت باندھتے ہوئے اریش کو بتانے کا ارادہ کیا
"جو بھی کہنا ہے وہ میں بھوکے پیٹ بالکل نہیں سن سکتا جلدی سے ناشتہ ریڈی کرو ورنہ آفس کے لیے لیٹ ہو جاؤں گا اور ہانی کو بھی اسکول کے لئے ریڈی کرو"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔اب وہ لونگ ہسبینڈ سے ایک رسپانسبل بزنس مین بن گیا تھا
"آپ ٹیبل پر چلیں ناشتہ میں خود بناتی ہوں آپ کے لئے۔۔۔ ہانی کو آج اسکول نہیں بھیجوں گی،،، ایکٹیویٹیز چل رہی ہیں اس کی"
مشعل کچن میں جانے لگی
"ایکٹیویٹیز بھی تو بچوں کے لئے کرائی جاتی ہیں مشعل،، اس طرح چھٹی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے" اب وہ ایک ذمہ دار باپ کی طرح مشعل سے مخالف تھا
"اوکے ہانی کے ڈیڈ جیسے آپ کہہ رہے ہیں ویسے ہی کروں گی مگر پلیز آج اسے میرے پاس رہنے دیں۔۔۔ دل عجیب سا ہو رہا ہے"
کل شادی کے فنکشن میں تھوڑی دیر کے لئے اس کا دماغ ولی کی طرف سے ہٹ گیا تھا مگر ابھی خواب میں ولی کو دیکھ کر وہ دوبارہ ڈر گئی تھی
"اوکے صرف آج چھٹی کی اجازت ہیں مگر یہ روز روز نہیں چلے گا اور تمہارے اس دل کا بھی علاج میں آفس سے آنے کے بعد کرتا ہوں
اریش بولتا ہوا ڈائننگ ہال میں چلا گیا اور مشعل مسکرا کر کچن میں
****
تعبیر کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو، اپنے اور ارتضیٰ کے بیڈ روم میں لیٹا ہوا پایا وہ شاید مریم کے بیڈروم میں روتے روتے بےہوش ہوگئی تھی اس کے بعد اسے یاد نہیں وہ یہاں کیسے آئی۔۔۔ اپنے برابر میں سوتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی مگر اسے اپنا پورا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اس کی آنکھیں بھی جل رہی تھی تعبیر نے اندازہ لگایا شاید اسے بخار ہوگیا تھا
وہ بیڈ سے اتر کر بیڈ روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اس وقت ملگجا سا اندھیرا تھا صبح ہونے میں تھوڑا سا ٹائم باقی تھا۔۔۔ باہر پانی گرنے کی آواز سے اس نے اندازہ لگایا کہ بارش ہو رہی ہے لانچ کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔۔۔ مین گیٹ توقع کے مطابق لاگڈ تھا برابر میں موجود گرل کھول کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ چھت پر چلی گئی
مینہ اپنے عروج پر برس رہا تھا بادل زور و شور سے گرج برس کر نہ جانے کس بات کا سوگ منا رہے تھے۔۔۔ بارش ہمیشہ ایسے خوشی کا پتہ دیتی تھی مگر آج وہ اداس تھی،،، اس لئے یہ موسم اسے مزید اداس کرگیا چند منٹ میں ہی وہ پوری بھیگ چکی تھی اب بخار کے باعث اسے ٹھنڈ لگنے لگی اور آہستہ آہستہ جسم کانپنے لگا مگر تعبیر نیچے جانے کا ارادہ ترک کر کے وہی بیٹھ گئی۔۔۔ شاید اس طرح خود کو اذیت دینے کا اس نے نیا طریقہ ڈھونڈا تھا
****
ارتضیٰ نے سوتے ہوئے کروٹ لی، اپنا دایاں ہاتھ تعبیر کے اوپر رکھا تو اس کے دماغ میں تعبیر کی غیر موجودگی کا الارم دیا۔۔۔ ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا کل جب تعبیر نے مریم کے بیڈروم میں دروازہ بند کر لیا تھا تو کافی دیر تک ارتضیٰ اس کے رونے کی آواز دروازے کے دوسری طرف کھڑا سنتا رہا تعبیر کے آنسو اس کے دل کو تکلیف دے رہے تھے اس کے پاس روم کی چابی موجود تھی وہ چاہتا تو اسی وقت دروازہ کھول کر اندر جا سکتا تھا مگر ارتضیٰ نے ایسا نہیں کیا وہ چاہتا تھا تعبیر رو کر اپنے آنسو کے ذریعے اپنا غم، غصہ،غبار، خوف سب نکال دے
جب اس کی سسکیاں آنا بند ہو گئی اور کمرے میں سکوت چھایا تو ارتضیٰ نے آہستہ سے روم کا دروازہ کھولا تعبیر نیچے فرش پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی اندر سے پشیمان ہوتے ہوئے اس نے تعبیر کو اٹھایا اور اپنے بیڈروم میں لے آیا
اسے رات سے ہی ہلکی سی حرارت تھی ارتضیٰ اٹھ کر کچن میں گیا پھر مریم کے بیڈروم میں
"تعبیر"
ارتضیٰ نے پکارا مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھی۔۔۔ ارتضیٰ باہر کا دروازہ دیکھا تو وہ لاک تھا اس کی نظر گرل کی کنڈی پر گئی۔۔۔ وہ سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اوپر پہنچا۔۔۔ بارش برسنے کی وجہ سے چھت پر پانی جمع ہو چکا تھا اور تعبیر فرش پر نیچے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ارتضیٰ فورا اس کے پاس آیا
"تعبیر آنکھیں کھولو"
ارتضیٰ اس کا سر اٹھاتے ہوئے اس کے گال تھپتھپانے لگا اسے اٹھا کر نیچے لایا معلوم نہیں کب سے وہ بارش میں بھیگتی رہی ہوگی معمولی حرارت اب تیز بخار میں بدل گئی تھی ارتضیٰ نے اسے روم میں لاکر اس کے کپڑے چینج کیے جو بری طرح بھیگ چکے تھے کپڑے چینج کرنے کے دوران دو بار تعبیر نے آنکھیں کھولی مگر کمزوری اور نقاہت کے باعث دوبارہ بند کرلی ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے ارتضیٰ کو اب اس کے اوپر غصہ آنے لگا
"اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کر کے صحیح بدلہ لے رہی ہے یہ مجھ سے"
ارتضیٰ سوچتا ہوا اس کو کمفرٹر اڑھانے کے بعد کچن میں آیا اس کے لیے کارن فلیکس بنانے لگا کل رات بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا
"تعبیر اٹھو"
باول سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا اور تکیہ کے سہارے بٹھایا کارن فلیکس چمچا اس کے منہ میں ڈالنا چاہا
"جلدی کھاو اس کے بعد تمہیں میڈیسن دینی ہے"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اسکو دیکھ کر کہا مگر تعبیر اس کی بات پر عمل کیے بغیر آنکھوں میں ناراضگی لیے نیم وا آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی
"منہ کھولو فوراً" ارتضیٰ کے لہجے میں سختی،، آنکھوں میں غصہ تھا اور تعبیر میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اس کے غصے کا مقابلہ کرسکے اس لیے آہستہ سے منہ کھولا ارتضیٰ اسے غصے میں دیکھتے ہوئے کھلانے لگا اور وہ چپ کر کے کھانے لگی
"تمہیں اس طرح مجھے تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے"
اس کو کھلانے کے بعد وہ میڈیسن لے کر تعبیر کے پاس آیا پانی دیتے ہوئے اس سے کہنے لگا
"اور تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ تم میرے ساتھ اس طرح کرتے"
اب تعبیر میں بھی اتنی سکت آگئی کہ وہ اسے سنا سکے تبھی وہ بولی
ارتضیٰ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس سائڈ میں رکھا اس کے پاس بیٹھا
"تم ارتضیٰ سے خوف کھاتی تھی اس لیے مزمل تمہارے قریب آگیا۔۔ تعبیر مزمل ایک فرضی کردار سمجھ لو،، جو میری جاب کا ایک حصہ تھا۔۔۔ ارتضیٰ ایک حقیقی کردار ہے اور اس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارا شوہر ہے لیکن مزمل ہو یا ارتضیٰ ان دونوں نے ہی تعبیر کو چاہا ہے۔۔۔ میں مانتا ہوں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی شاک سے کم نہیں مگر میں یہ تو شکوہ نہیں کر رہا تم سے،،، ارتضیٰ اپنے رشتے کی حقیقت جاننے کے باوجود تمہیں ارتضیٰ سے ڈائیورس چاہیے تھی مزمل کے لیے۔۔۔۔۔ تعبیر ہم دونوں اپنی زندگی کا آغاز ان سب باتوں کو بھلا کر بھی کر سکتے ہیں" ارتضیٰ نے تعبیر کو رسانیت سے سمجھاتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے تعبیر نے بے دردی سے جھٹک دیا
"میں نے مزمل سے پیار کیا تھا مگر اس نے مجھے دھوکا دیا جبکہ ارتضیٰ کو تو میں سرے سے ہی پسند نہیں کرتی۔۔۔ اور تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی باتیں رہنے دو تم میری شوہر ہوں یہ سب سے بڑی حقیقت کے ساتھ ساتھ میرے لئے ایک تلخ حقیقت بھی ہے،، نہیں قائم رکھنا مجھے تم سے کوئی رشتہ"
تعبیر بولتے ہوئے اٹھنے لگی ارتضیٰ نے اس کا بازو پکڑ کر واپس بٹھا دیا
"حقیقت تلخ اور سچ کڑوا ہوتا ہے تم میرے نکاح میں ہو،، شوہر ہو میں تمہارا اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا نہ جھٹلایا جاسکتا ہے میں اس رشتے سے کبھی دستبرار نہیں ہوگا تعبیر یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بھٹالو تم مزمل کی محبت کے ساتھ ساتھ ارتضیٰ کی دیوانگی سے بھی واقف ہو"
ارتضیٰ نے اس کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا اور میڈیسن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ا
ارتضیٰ کی آنکھوں میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایسا کچھ تھا وہ گولی اپنے منہ سے نکال نہ سکی چپ کر کے پانی کے دو گھونٹ لے کر گولی اندر کو نگلی مگر وہ حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی بالکل اس کڑوے سچ کی طرح جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا
"گڈ اور ابھی جو تم نے آخری بات بولی ہے رشتہ قائم نہ رکھنے والی۔۔۔۔ میں امید کرتا ہوں دوبارہ تمہارے منہ سے ایسی بات نہ سنو ورنہ اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی" ارتضیٰ اسے وارن کرتا ہوا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر روم سے چلا گیا۔۔۔۔ تعبیر چپ کرکے واپس لیٹ گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 41
"ہانی۔۔۔ روکو اسے وہ ہانی کو لے جائے گا پلیز اسے روکو" مشعل نیند میں مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی اچانک زور سے چیخنے پر برابر میں سوتے ہوئے اریش کی آنکھ کھلی
"مشعل کیا ہوا" اریش نے اٹھ کر اس کا کندھا ہلایا تو مشعل اٹھ کر بیٹھی اریش کو غور سے دیکھ کر بیڈ سے اترنے لگی
"کیا کر رہی ہو مشعل۔۔۔۔ وہ سو رہا ہے نیند خراب ہوگی اس کی"
اریش نے مشعل کا ارادہ بھانپا اس کا ہاتھ پکڑ کر ہانی کے پاس جانے سے روکا تو وہ بے بسی سے اریش کو دیکھنے لگی
"کیا ہوگیا کوئی برا خواب دیکھا ہے" اریش مشعل کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
"ہاں میں ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔۔ اگر ہانی ہم سے دور چلا گیا تو یہ کوئی اسے چھین کر لے گیا تو"
مشعل چاہ کر بھی اپنا خواب اریش سے شیئر نہیں کر پائی مگر اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولی
"اللہ نہ کرے ہانی کیوں ہم سے دور جانے لگا۔۔۔ کوئی ایسے ہی چھین کر لے جائے گا ہمارے بیٹے کو۔۔۔ پتہ نہیں کیا فضول میں بول رہی ہو چلوں تھوڑی دیر لیٹ جاؤ ابھی ٹائم ہے اٹھنے میں" اریش نے اسے لیٹانا چاہا
"نہیں ایک گھنٹے بعد تو اٹھنا ہے اب مجھے نیند نہیں آئے گی آپ سو جائیں پلیز"
مشعل نے اریش کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم میرے پاس ہوگی تو نیند آئے گی مجھے"
اریش کے کہنے پر مشعل اس کے برابر میں لیٹ گئی
"کیوں آگئے ہو تم ولی میری زندگی میں دوبارہ، کسی برے خواب کی طرح۔۔۔ میں اپنا ماضی بھول کر خوش رہنا چاہتی ہوں مگر تم۔۔۔۔ پتہ نہیں میری زندگی سے آزمائش ختم ہوگی بھی کہ نہیں" مشعل چھت کو گھور کر سوچنے لگی تھوڑی دیر بعد ایک نظر اریش کو دیکھا شاید اریش کی آنکھ دوبارہ لگ چکی تھی۔۔۔۔
اچانک مشعل کا موبائل بجنے لگا،، اریش کی نیند خراب نہ ہو اس نے جلدی سے کال کاٹی اور سیل فون لے کر روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ہال میں آکر وہ صوفے پر بیٹھی اور موبائل اپنے برابر میں رکھا۔۔۔ موبائل ایک دفعہ پھر بج اٹھا،، تو مشعل نے کال ریسیو کی
"ہیلو کون بول رہا ہے"
مشعل نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا کیونکہ یہ نمبر اس کے موبائل میں سیو نہیں تھا
"کافی کم عرصہ لگا تمہیں اپنے پہلی محبت اور پہلے شوہر کو بھولنے میں"
ولی کی آواز سن کر مشعل سن ہو کر رہ گئی اس کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ وہ ہانی کے اسکول میں پہنچ سکتا ہے تو اس کو کال کیوں نہیں کر سکتا اننون نمبر مشعل کو اٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا مشعل نے فوراً کال کاٹی۔۔۔ ایک دفعہ پھر موبائل بجنے لگا اس نے اپنا موبائل آف کر دیا
"اریش کو بتانا چاہیے مجھے شاید اس طرح تو میں پاگل ہوں جاو گی"
مشعل سوچنے لگی
"ہانی کی مما اٹھ کر یہاں آگئی" مشعل کو اپنے پیچھے سے اریش کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو اریش آفس کے لئے تیار ہو کر اس کے پاس آیا
"تیار بھی ہوگئے آپ"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"ہاں یار 20 منٹ کے لئے آنکھ لگی تھی دوبارہ کھل گئی تو سوچا ریڈی ہو جاؤ" اریش مشعل کو بتانے لگا
"میری وجہ سے نیند ڈسٹرب ہو گئی آپکی،، میں بہت پریشان کرتی ہوں ناں آپ کو"
مشعل کو افسوس ہونے لگا تو اریش نے مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لیا
"ایسا ویسا۔۔ ہانی کی مما تو جب کوارٹر میں شفٹ ہوئی تھی تبھی سے ڈسٹرب کرنے لگ گئی تھیں ہانی کے ڈیڈ کو"
اریش کے کہنے پر مشعل ہلکا سا مسکرائی اس وقت وہ اسے بالکل لوونگ ہزبینڈ لگا
"اریش مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے" مشعل نے ہمت باندھتے ہوئے اریش کو بتانے کا ارادہ کیا
"جو بھی کہنا ہے وہ میں بھوکے پیٹ بالکل نہیں سن سکتا جلدی سے ناشتہ ریڈی کرو ورنہ آفس کے لیے لیٹ ہو جاؤں گا اور ہانی کو بھی اسکول کے لئے ریڈی کرو"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔اب وہ لونگ ہسبینڈ سے ایک رسپانسبل بزنس مین بن گیا تھا
"آپ ٹیبل پر چلیں ناشتہ میں خود بناتی ہوں آپ کے لئے۔۔۔ ہانی کو آج اسکول نہیں بھیجوں گی،،، ایکٹیویٹیز چل رہی ہیں اس کی"
مشعل کچن میں جانے لگی
"ایکٹیویٹیز بھی تو بچوں کے لئے کرائی جاتی ہیں مشعل،، اس طرح چھٹی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے" اب وہ ایک ذمہ دار باپ کی طرح مشعل سے مخالف تھا
"اوکے ہانی کے ڈیڈ جیسے آپ کہہ رہے ہیں ویسے ہی کروں گی مگر پلیز آج اسے میرے پاس رہنے دیں۔۔۔ دل عجیب سا ہو رہا ہے"
کل شادی کے فنکشن میں تھوڑی دیر کے لئے اس کا دماغ ولی کی طرف سے ہٹ گیا تھا مگر ابھی خواب میں ولی کو دیکھ کر وہ دوبارہ ڈر گئی تھی
"اوکے صرف آج چھٹی کی اجازت ہیں مگر یہ روز روز نہیں چلے گا اور تمہارے اس دل کا بھی علاج میں آفس سے آنے کے بعد کرتا ہوں
اریش بولتا ہوا ڈائننگ ہال میں چلا گیا اور مشعل مسکرا کر کچن میں
****
تعبیر کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو، اپنے اور ارتضیٰ کے بیڈ روم میں لیٹا ہوا پایا وہ شاید مریم کے بیڈروم میں روتے روتے بےہوش ہوگئی تھی اس کے بعد اسے یاد نہیں وہ یہاں کیسے آئی۔۔۔ اپنے برابر میں سوتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی مگر اسے اپنا پورا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اس کی آنکھیں بھی جل رہی تھی تعبیر نے اندازہ لگایا شاید اسے بخار ہوگیا تھا
وہ بیڈ سے اتر کر بیڈ روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اس وقت ملگجا سا اندھیرا تھا صبح ہونے میں تھوڑا سا ٹائم باقی تھا۔۔۔ باہر پانی گرنے کی آواز سے اس نے اندازہ لگایا کہ بارش ہو رہی ہے لانچ کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔۔۔ مین گیٹ توقع کے مطابق لاگڈ تھا برابر میں موجود گرل کھول کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ چھت پر چلی گئی
مینہ اپنے عروج پر برس رہا تھا بادل زور و شور سے گرج برس کر نہ جانے کس بات کا سوگ منا رہے تھے۔۔۔ بارش ہمیشہ ایسے خوشی کا پتہ دیتی تھی مگر آج وہ اداس تھی،،، اس لئے یہ موسم اسے مزید اداس کرگیا چند منٹ میں ہی وہ پوری بھیگ چکی تھی اب بخار کے باعث اسے ٹھنڈ لگنے لگی اور آہستہ آہستہ جسم کانپنے لگا مگر تعبیر نیچے جانے کا ارادہ ترک کر کے وہی بیٹھ گئی۔۔۔ شاید اس طرح خود کو اذیت دینے کا اس نے نیا طریقہ ڈھونڈا تھا
****
ارتضیٰ نے سوتے ہوئے کروٹ لی، اپنا دایاں ہاتھ تعبیر کے اوپر رکھا تو اس کے دماغ میں تعبیر کی غیر موجودگی کا الارم دیا۔۔۔ ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا کل جب تعبیر نے مریم کے بیڈروم میں دروازہ بند کر لیا تھا تو کافی دیر تک ارتضیٰ اس کے رونے کی آواز دروازے کے دوسری طرف کھڑا سنتا رہا تعبیر کے آنسو اس کے دل کو تکلیف دے رہے تھے اس کے پاس روم کی چابی موجود تھی وہ چاہتا تو اسی وقت دروازہ کھول کر اندر جا سکتا تھا مگر ارتضیٰ نے ایسا نہیں کیا وہ چاہتا تھا تعبیر رو کر اپنے آنسو کے ذریعے اپنا غم، غصہ،غبار، خوف سب نکال دے
جب اس کی سسکیاں آنا بند ہو گئی اور کمرے میں سکوت چھایا تو ارتضیٰ نے آہستہ سے روم کا دروازہ کھولا تعبیر نیچے فرش پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی اندر سے پشیمان ہوتے ہوئے اس نے تعبیر کو اٹھایا اور اپنے بیڈروم میں لے آیا
اسے رات سے ہی ہلکی سی حرارت تھی ارتضیٰ اٹھ کر کچن میں گیا پھر مریم کے بیڈروم میں
"تعبیر"
ارتضیٰ نے پکارا مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھی۔۔۔ ارتضیٰ باہر کا دروازہ دیکھا تو وہ لاک تھا اس کی نظر گرل کی کنڈی پر گئی۔۔۔ وہ سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اوپر پہنچا۔۔۔ بارش برسنے کی وجہ سے چھت پر پانی جمع ہو چکا تھا اور تعبیر فرش پر نیچے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ارتضیٰ فورا اس کے پاس آیا
"تعبیر آنکھیں کھولو"
ارتضیٰ اس کا سر اٹھاتے ہوئے اس کے گال تھپتھپانے لگا اسے اٹھا کر نیچے لایا معلوم نہیں کب سے وہ بارش میں بھیگتی رہی ہوگی معمولی حرارت اب تیز بخار میں بدل گئی تھی ارتضیٰ نے اسے روم میں لاکر اس کے کپڑے چینج کیے جو بری طرح بھیگ چکے تھے کپڑے چینج کرنے کے دوران دو بار تعبیر نے آنکھیں کھولی مگر کمزوری اور نقاہت کے باعث دوبارہ بند کرلی ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے ارتضیٰ کو اب اس کے اوپر غصہ آنے لگا
"اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کر کے صحیح بدلہ لے رہی ہے یہ مجھ سے"
ارتضیٰ سوچتا ہوا اس کو کمفرٹر اڑھانے کے بعد کچن میں آیا اس کے لیے کارن فلیکس بنانے لگا کل رات بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا
"تعبیر اٹھو"
باول سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا اور تکیہ کے سہارے بٹھایا کارن فلیکس چمچا اس کے منہ میں ڈالنا چاہا
"جلدی کھاو اس کے بعد تمہیں میڈیسن دینی ہے"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اسکو دیکھ کر کہا مگر تعبیر اس کی بات پر عمل کیے بغیر آنکھوں میں ناراضگی لیے نیم وا آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی
"منہ کھولو فوراً" ارتضیٰ کے لہجے میں سختی،، آنکھوں میں غصہ تھا اور تعبیر میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اس کے غصے کا مقابلہ کرسکے اس لیے آہستہ سے منہ کھولا ارتضیٰ اسے غصے میں دیکھتے ہوئے کھلانے لگا اور وہ چپ کر کے کھانے لگی
"تمہیں اس طرح مجھے تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے"
اس کو کھلانے کے بعد وہ میڈیسن لے کر تعبیر کے پاس آیا پانی دیتے ہوئے اس سے کہنے لگا
"اور تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ تم میرے ساتھ اس طرح کرتے"
اب تعبیر میں بھی اتنی سکت آگئی کہ وہ اسے سنا سکے تبھی وہ بولی
ارتضیٰ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس سائڈ میں رکھا اس کے پاس بیٹھا
"تم ارتضیٰ سے خوف کھاتی تھی اس لیے مزمل تمہارے قریب آگیا۔۔ تعبیر مزمل ایک فرضی کردار سمجھ لو،، جو میری جاب کا ایک حصہ تھا۔۔۔ ارتضیٰ ایک حقیقی کردار ہے اور اس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارا شوہر ہے لیکن مزمل ہو یا ارتضیٰ ان دونوں نے ہی تعبیر کو چاہا ہے۔۔۔ میں مانتا ہوں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی شاک سے کم نہیں مگر میں یہ تو شکوہ نہیں کر رہا تم سے،،، ارتضیٰ اپنے رشتے کی حقیقت جاننے کے باوجود تمہیں ارتضیٰ سے ڈائیورس چاہیے تھی مزمل کے لیے۔۔۔۔۔ تعبیر ہم دونوں اپنی زندگی کا آغاز ان سب باتوں کو بھلا کر بھی کر سکتے ہیں" ارتضیٰ نے تعبیر کو رسانیت سے سمجھاتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے تعبیر نے بے دردی سے جھٹک دیا
"میں نے مزمل سے پیار کیا تھا مگر اس نے مجھے دھوکا دیا جبکہ ارتضیٰ کو تو میں سرے سے ہی پسند نہیں کرتی۔۔۔ اور تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی باتیں رہنے دو تم میری شوہر ہوں یہ سب سے بڑی حقیقت کے ساتھ ساتھ میرے لئے ایک تلخ حقیقت بھی ہے،، نہیں قائم رکھنا مجھے تم سے کوئی رشتہ"
تعبیر بولتے ہوئے اٹھنے لگی ارتضیٰ نے اس کا بازو پکڑ کر واپس بٹھا دیا
"حقیقت تلخ اور سچ کڑوا ہوتا ہے تم میرے نکاح میں ہو،، شوہر ہو میں تمہارا اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا نہ جھٹلایا جاسکتا ہے میں اس رشتے سے کبھی دستبرار نہیں ہوگا تعبیر یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بھٹالو تم مزمل کی محبت کے ساتھ ساتھ ارتضیٰ کی دیوانگی سے بھی واقف ہو"
ارتضیٰ نے اس کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا اور میڈیسن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ا
ارتضیٰ کی آنکھوں میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایسا کچھ تھا وہ گولی اپنے منہ سے نکال نہ سکی چپ کر کے پانی کے دو گھونٹ لے کر گولی اندر کو نگلی مگر وہ حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی بالکل اس کڑوے سچ کی طرح جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا
"گڈ اور ابھی جو تم نے آخری بات بولی ہے رشتہ قائم نہ رکھنے والی۔۔۔۔ میں امید کرتا ہوں دوبارہ تمہارے منہ سے ایسی بات نہ سنو ورنہ اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی" ارتضیٰ اسے وارن کرتا ہوا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر روم سے چلا گیا۔۔۔۔ تعبیر چپ کرکے واپس لیٹ گئی
جاری ہے
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 40
🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 40
"تم پولیس کے کوئی انفارمر ہو یا پھر کوئی جاسوس"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی باتوں سے اپنا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا
یس ائی ایم اسپے
ارتضیٰ نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا تعبیر پلک جھپکائے بناء ارتضیٰ کو دیکھے گئی۔۔۔
اسے یہ مزمل نہیں لگا جسے وہ جانتی تھی تو کوئی اور ہی تھا
"اوو تو اس کا مطلب ہے تمہارا ہمارے گھر میں جاب کرنا بابا کے ساتھ ان کے کاروبار میں انوالو ہونا یہ سب سوچے سمجھے پلان کے مطابق تھا تاکہ تم انہیں اریسٹ کروا سکو"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر یہ سب میری جاب کا حصہ ہے میں اپنی جاب سے مخلص ہو۔۔۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے نہ وہاج صدیقی سے نہ ہی ستار میمن سے اور نہ ہی کسی اور سے۔۔۔۔ یہ ملک کے دشمن ہیں جو یوں ہی کھلے عام گھوم رہے ہیں میں نے اور میرے جیسے کئی دوسرے لوگوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے،، ان ملک کے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ آرام سے اس ملک میں رہ سکیں۔ ۔۔ اس وقت تمہارے بابا اریسٹ ہیں ان پر مقدمہ دائر ہو چکا ہے ناجائز اسلحہ کی خرید اور فروخت کا 98 % چانس یہی تمھارے بابا کو سزا ہو جائے۔۔۔ میں اس بات سے تمہیں زیادہ دیر تک بے خبر نہیں رکھ سکتا تھا"
ارتضیٰ بہت دھیمے لہجے میں تعبیر کو بتا رہا تھا اور تعبیر کی آنکھوں سے لڑی کی صورت آنسو گر رہے تھے یہ آنسو مزمل کے اسپے نکلنے کے ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ آنسو وہاج صدیقی کے لیے تھے۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کا باپ تھا تعبیر کو دکھ ہو رہا تھا مگر برے کام کا برا انجام ہوتا ہے ایک نا ایک دن ایسا ہونا تھا تعبیر روتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔۔
ارتضیٰ نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے اس کی انگلیوں پر لمس اپنے گالوں پر محسوس کر کے تعبیر سوچوں کے بھنور سے آزاد ہوئی
"یہ سب تمہیں آج نہیں تو کل پتہ چلنا تھا حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہیں تمہارے بابا کے بارے میں باخبر کر دوں"
اس کو روتا دیکھ کر ارتضیٰ کو دکھ ہو رہا تھا اسے معلوم تھا وہ وہاج صدیقی کے لئے رو رہی ہے
"بابا نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا یہ سب کرنے کے بعد،، اگر وہ پکڑے گئے تو میرا کیا ہوگا میرا کون ہے بھلا اس دنیا میں ان کے سوا"
وہاج کے انجام کے بعد اب اسے اپنے اوپر رونا آنے لگا اس بھری دنیا میں اپنا آپ اکیلا محسوس ہونے لگا
"ایسے کیوں کہہ رہی ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک"
ارتضیٰ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولنے لگا تو تعبیر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی
"تمہارا پلان کامیاب ہوگیا ناں،، تو اب یہ ڈراما بھی بند کرو۔۔۔ تم وہاج صدیقی کو ٹریپ کر کے پکڑوا چکے ہو،، تو اب اس کی بیٹی سے جھوٹی ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
تابی نے اپنے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا حقیقت جاننے کے بعد وہ ایک دم بدظن ہونے لگی۔۔۔۔ یقینا وہاج صدیقی کو پکڑنے کے لیے اس نے پلان بنایا تھا تو اس کی بیٹی بھی اس پلان کا حصہ تھی تاکہ وہ وہاج صدیقی کا اعتماد جیت سکے یہ سوچ آتے ہی تعبیر بیڈ سے اٹھ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈالنے لگی
"یہ کیا کر رہی ہو تم"
ارتضیٰ بیڈ سے اتر کر دونوں ہاتھ باندھ کر اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"جارہی ہوں واپس اپنے گھر"
تعبیر اسے بنا دیکھے بولی
"کون سا گھر۔۔۔ تمہارے بابا کا گھر اور پراپرٹی قانون نے ضبط کرلی ہے وہ سب کچھ بھی اللیگل تھا"
ارتضیٰ کے بتانے پر تعبیر کے بیگ میں کپڑے ڈالتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے تھمے مگر دوسرے ہی پل وہ ڈریسر سے اپنی دوسری چیزیں اٹھا کر بیگ میں ڈالنے لگی
"پراپرٹی ضبط ہوئی ہے ناں۔۔۔ دنیا میں سارے ہوسٹلز ختم نہیں ہوئے ہیں۔۔۔ دارالامان ایدھی سینٹر بہت سے آپشنز ہے میرے پاس "
تعبیر نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے بیگ سے دوبارہ کپڑے نکالے بیگ اچھال کر دور پھینکا اور اس کے دونوں بازو تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"ایک بات اپنے دماغ میں بٹھالو تعبیر۔۔۔ تمہارے بابا کے ساتھ مزمل کا ایکٹ وہ میرے پلان کا حصہ تھا مگر تم سے میری محبت سچی ہے کسی بھی سوچے سمجھے پلان کے بغیر،،، ہاں اس میں اوپر والے کا کیا پلان ہے جو میرے دل میں تمہارے لئے اتنی محبت ڈالی وہ میں نہیں جانتا۔۔۔ صرف میرا پلان اتنا تھا کہ تم کو اپنے گھر میں لانا ہے اور میری سچی محبت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ تم میری بیوی بن کر میرے گھر میں موجود ہو اس لیے اب تم یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا اور نہ ایسا ہونے دوں گا"
ارتضیٰ کی بات مکمل ہوئی تو تعبیر نے اس سے اپنے بازو چھڑائے
"کیا اور بھی کوئی ایسا سچ ہے جس سے میں بے خبر ہو افیسر یا جو میرے علم میں نہیں کیوکہ مزمل تو تمہارے خود کے تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہے جس سے تعبیر صدیقی کا نکاح ہوا۔۔۔۔ کیا میں اس شخص کا اصلی نام جان سکتی ہوں جس سے میرا نقلی نکاح ہوا"
تعبیر کا اب آہستہ آئستہ دماغ چلنے لگا وہ اپنے دونوں ہاتھ باندھنے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"میرا تم سے نقلی نکاح نہیں ہوا ہے اصلی ہوا ہے بیوی ہو تو میری"
ارتضیٰ اسی لمحے سے تو ڈرتا تھا مگر یہ سب بھی اسے فیس کرنا تھا تو آج ہی سہی۔۔۔ اس نے تعبیر کو بولنے کے ساتھ ہی خود سے قریب کیا تعبیر نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا تو اس نے گرفت اور مضبوط کی جھگ کر تعبیر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا وہ آواز بدل کر مخصوص لہجے میں بولا
"یو آر مائین"
بولتے ہوئے ارتضیٰ کے ہونٹ تعبیر کے کان کی لو کو چھو رہے تھے
تعبیر اس انداز کو،، اس آواز کو،، اس لہجے کو ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ اس کی سانس رکنے لگی اس نے ایک جھٹکے سے ارتضیٰ کو خود سے دور کیا اور خود الماری سے جا لگی وہ خوف کے مارے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھ رہی تھی یعنی اس کی زندگی کا بھیانک باب ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ پھر وہ سب کیا تھا
اسے اریش کا ملنا ڈائیورس دینا یاد آیا اسے اس وقت ارتضیٰ میں کچھ عجیب لگا تھا جب وہ اسے پیپرز دے رہا تھا مگر تعبیر کو تو ڈائیوارس سے مطلب تھا اور اب اسے سمجھ میں آیا یہ سب،،، اس کے سامنے کھڑے اس شخص کا ڈرامہ تھا
کتنا بڑا بہروپیا تھا یہ شخص،، جو اس وقت اس کے سامنے کھڑا تھا یہ اس کی محبت ہرگز نہیں تھا تعبیر اسے نہیں جانتی تھی یہ کوئی اور تھا بلکہ یہ تو وہی شخص تھا جس سے تعبیر خوف کھاتی تھی جس کی قربت سے اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی تعبیر قدم پیچھے کی طرف اٹھاتی آہستہ آہستہ اس سے مزید دور ہونے لگی اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ چکا تھا
ارتضیٰ نے جب مخصوص آواز اور لہجے میں اسے اپنی اصلی شناخت بتائی۔۔۔ تو سب سے پہلے تعبیر نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا یہ اسے معلوم تھا وہ ایسا ہی کرے گی۔۔۔ تعبیر کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کا تاثر ابھرا ارتضیٰ کو علم تھا ایسا ہی ہونا ہے۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر ارتضیٰ کا دل ایک لمحے کے لئے ٹوٹا مگر نہیں،،، اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا اپنی اسنووائٹ کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔ اب وہ تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے خوف دیکھ رہا تھا ارتضیٰ کے ایک قدم آگے بڑھانے سے وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کرکے سرک رہی تھی ارتضیٰ دیکھ سکتا تھا اس وقت وہ خوف سے پسینے میں نہا چکی ہے
"تعبیر میری بات سنو پلیز"
ارتضیٰ اس کی کیفیت سمجھتا ہوا اس کے پاس آیا
"نہیں پیچھے ہٹو دور رہو مجھ سے"
تعبیر اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ایک دم چیخی اور دیوار کے کونے سے لگ کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا جیسے ایسا کرنے سے ارتضیٰ اس کمرے غائب ہو جائے گا
"تعبیر پلیز اسطرح نہیں کرو میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے"
ارتضیٰ نے بولنے کے ساتھ ہی آگے بڑھ کر تعبیر کو اپنی بانہوں میں لینا چاہا تاکہ اس کے ڈر کی کیفیت کم ہوجائے مگر یہ اس کی بھول تھی
"چھوڑو مجھے ارتضیٰ،، پلیز مجھے چھوڑ دو"
تعبیر اس کی بانہوں میں مچلتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
"تعبیر میری بات سنو"
ارتضیٰ نے نرمی سے بولتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس وقت وہ کچھ نہیں سننا چاہتی تھی وہ ارتضیٰ سے اپنا آپ چھڑا کر روم سے باہر بھاگی۔۔۔۔ ارتضیٰ اپنا سر تھام کر رہ گیا
ارتضیٰ تعبیر کے پیچھے کچن میں گیا تو تعبیر کے ہاتھ میں سب سے بڑی نوک دار چھری دیکھ کر اس کا دماغ ایک لمحے کے لیے بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ حقیقت کا علم ہونے کے بعد تعبیر کا ری ایکشن مختلف نہیں ہوگا جیسے وہاج صدیقی کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد اس نے ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ مگر وہ یہ توقع بھی نہیں کر رہا تھا کہ وہ بے وقوفی کی انتہا کرتے ہوئے چھری ہی نکال لے گی
"اگر تم مزمل نہیں ارتضیٰ ہوئے تو میں خودکشی کرنا پسند کروں گی"
تعبیر کے جملے یاد کر کے ارتضیٰ کو غصہ آیا لب بینچ کر وہ تعبیر کے پاس پہنچا اور چھری جس سے وہ اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے والی تھی اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینکی۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تعبیر کی حرکت پر اس کا ہاتھ اٹھا
"کیا کرنے لگی تھی تم بولو۔۔۔۔ حرام موت مرنے کا دل چاہ رہا ہے تمہارا،،،، اگلی بار اگر ایسی حرکت کی نا۔۔۔ تو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے تمہاری مرنے کی خواہش پوری کر دوں گا"
ارتضیٰ کی تیز آواز کے آگے اس کے رونے کی آواز کم ہوگئی
"چلو بیڈ روم میں"
ارتضیٰ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا اور اسے بیڈ روم میں لے جانے لگا تعبیر کا رونا اب ختم ہوگیا تھا مگر سسکیوں لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
ارتضیٰ کے روم سے پہلے مریم کے بیڈروم تھا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا تعبیر اچانک اس سے ہاتھ چھڑا کر مریم کے بیڈروم میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا
"یہ کیا حرکت ہے تعبیر دروازہ کھولو"
ارتضیٰ نے دروازہ بجاتے ہوئے کہا دوسری طرف دروازے کے تعبیر دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی
کیا مذاق ہوا تھا اس کے ساتھ ایک طرف مزمل کا پیار بھرا انداز ہو دوسری طرف ارتضیٰ کا چہرہ چھپا کر اس کے قریب آنا اور اسے بتانا کہ وہ اس کی ہے۔۔۔
تعبیر مزمل اور ارتضیٰ دونوں کے لمحات یاد کر کے ایک بار پھر سیسکنے لگی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 40
"تم پولیس کے کوئی انفارمر ہو یا پھر کوئی جاسوس"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی باتوں سے اپنا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا
یس ائی ایم اسپے
ارتضیٰ نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا تعبیر پلک جھپکائے بناء ارتضیٰ کو دیکھے گئی۔۔۔
اسے یہ مزمل نہیں لگا جسے وہ جانتی تھی تو کوئی اور ہی تھا
"اوو تو اس کا مطلب ہے تمہارا ہمارے گھر میں جاب کرنا بابا کے ساتھ ان کے کاروبار میں انوالو ہونا یہ سب سوچے سمجھے پلان کے مطابق تھا تاکہ تم انہیں اریسٹ کروا سکو"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر یہ سب میری جاب کا حصہ ہے میں اپنی جاب سے مخلص ہو۔۔۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے نہ وہاج صدیقی سے نہ ہی ستار میمن سے اور نہ ہی کسی اور سے۔۔۔۔ یہ ملک کے دشمن ہیں جو یوں ہی کھلے عام گھوم رہے ہیں میں نے اور میرے جیسے کئی دوسرے لوگوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے،، ان ملک کے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ آرام سے اس ملک میں رہ سکیں۔ ۔۔ اس وقت تمہارے بابا اریسٹ ہیں ان پر مقدمہ دائر ہو چکا ہے ناجائز اسلحہ کی خرید اور فروخت کا 98 % چانس یہی تمھارے بابا کو سزا ہو جائے۔۔۔ میں اس بات سے تمہیں زیادہ دیر تک بے خبر نہیں رکھ سکتا تھا"
ارتضیٰ بہت دھیمے لہجے میں تعبیر کو بتا رہا تھا اور تعبیر کی آنکھوں سے لڑی کی صورت آنسو گر رہے تھے یہ آنسو مزمل کے اسپے نکلنے کے ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ آنسو وہاج صدیقی کے لیے تھے۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کا باپ تھا تعبیر کو دکھ ہو رہا تھا مگر برے کام کا برا انجام ہوتا ہے ایک نا ایک دن ایسا ہونا تھا تعبیر روتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔۔
ارتضیٰ نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے اس کی انگلیوں پر لمس اپنے گالوں پر محسوس کر کے تعبیر سوچوں کے بھنور سے آزاد ہوئی
"یہ سب تمہیں آج نہیں تو کل پتہ چلنا تھا حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہیں تمہارے بابا کے بارے میں باخبر کر دوں"
اس کو روتا دیکھ کر ارتضیٰ کو دکھ ہو رہا تھا اسے معلوم تھا وہ وہاج صدیقی کے لئے رو رہی ہے
"بابا نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا یہ سب کرنے کے بعد،، اگر وہ پکڑے گئے تو میرا کیا ہوگا میرا کون ہے بھلا اس دنیا میں ان کے سوا"
وہاج کے انجام کے بعد اب اسے اپنے اوپر رونا آنے لگا اس بھری دنیا میں اپنا آپ اکیلا محسوس ہونے لگا
"ایسے کیوں کہہ رہی ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک"
ارتضیٰ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولنے لگا تو تعبیر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی
"تمہارا پلان کامیاب ہوگیا ناں،، تو اب یہ ڈراما بھی بند کرو۔۔۔ تم وہاج صدیقی کو ٹریپ کر کے پکڑوا چکے ہو،، تو اب اس کی بیٹی سے جھوٹی ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
تابی نے اپنے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا حقیقت جاننے کے بعد وہ ایک دم بدظن ہونے لگی۔۔۔۔ یقینا وہاج صدیقی کو پکڑنے کے لیے اس نے پلان بنایا تھا تو اس کی بیٹی بھی اس پلان کا حصہ تھی تاکہ وہ وہاج صدیقی کا اعتماد جیت سکے یہ سوچ آتے ہی تعبیر بیڈ سے اٹھ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈالنے لگی
"یہ کیا کر رہی ہو تم"
ارتضیٰ بیڈ سے اتر کر دونوں ہاتھ باندھ کر اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"جارہی ہوں واپس اپنے گھر"
تعبیر اسے بنا دیکھے بولی
"کون سا گھر۔۔۔ تمہارے بابا کا گھر اور پراپرٹی قانون نے ضبط کرلی ہے وہ سب کچھ بھی اللیگل تھا"
ارتضیٰ کے بتانے پر تعبیر کے بیگ میں کپڑے ڈالتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے تھمے مگر دوسرے ہی پل وہ ڈریسر سے اپنی دوسری چیزیں اٹھا کر بیگ میں ڈالنے لگی
"پراپرٹی ضبط ہوئی ہے ناں۔۔۔ دنیا میں سارے ہوسٹلز ختم نہیں ہوئے ہیں۔۔۔ دارالامان ایدھی سینٹر بہت سے آپشنز ہے میرے پاس "
تعبیر نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے بیگ سے دوبارہ کپڑے نکالے بیگ اچھال کر دور پھینکا اور اس کے دونوں بازو تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"ایک بات اپنے دماغ میں بٹھالو تعبیر۔۔۔ تمہارے بابا کے ساتھ مزمل کا ایکٹ وہ میرے پلان کا حصہ تھا مگر تم سے میری محبت سچی ہے کسی بھی سوچے سمجھے پلان کے بغیر،،، ہاں اس میں اوپر والے کا کیا پلان ہے جو میرے دل میں تمہارے لئے اتنی محبت ڈالی وہ میں نہیں جانتا۔۔۔ صرف میرا پلان اتنا تھا کہ تم کو اپنے گھر میں لانا ہے اور میری سچی محبت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ تم میری بیوی بن کر میرے گھر میں موجود ہو اس لیے اب تم یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا اور نہ ایسا ہونے دوں گا"
ارتضیٰ کی بات مکمل ہوئی تو تعبیر نے اس سے اپنے بازو چھڑائے
"کیا اور بھی کوئی ایسا سچ ہے جس سے میں بے خبر ہو افیسر یا جو میرے علم میں نہیں کیوکہ مزمل تو تمہارے خود کے تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہے جس سے تعبیر صدیقی کا نکاح ہوا۔۔۔۔ کیا میں اس شخص کا اصلی نام جان سکتی ہوں جس سے میرا نقلی نکاح ہوا"
تعبیر کا اب آہستہ آئستہ دماغ چلنے لگا وہ اپنے دونوں ہاتھ باندھنے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"میرا تم سے نقلی نکاح نہیں ہوا ہے اصلی ہوا ہے بیوی ہو تو میری"
ارتضیٰ اسی لمحے سے تو ڈرتا تھا مگر یہ سب بھی اسے فیس کرنا تھا تو آج ہی سہی۔۔۔ اس نے تعبیر کو بولنے کے ساتھ ہی خود سے قریب کیا تعبیر نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا تو اس نے گرفت اور مضبوط کی جھگ کر تعبیر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا وہ آواز بدل کر مخصوص لہجے میں بولا
"یو آر مائین"
بولتے ہوئے ارتضیٰ کے ہونٹ تعبیر کے کان کی لو کو چھو رہے تھے
تعبیر اس انداز کو،، اس آواز کو،، اس لہجے کو ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ اس کی سانس رکنے لگی اس نے ایک جھٹکے سے ارتضیٰ کو خود سے دور کیا اور خود الماری سے جا لگی وہ خوف کے مارے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھ رہی تھی یعنی اس کی زندگی کا بھیانک باب ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ پھر وہ سب کیا تھا
اسے اریش کا ملنا ڈائیورس دینا یاد آیا اسے اس وقت ارتضیٰ میں کچھ عجیب لگا تھا جب وہ اسے پیپرز دے رہا تھا مگر تعبیر کو تو ڈائیوارس سے مطلب تھا اور اب اسے سمجھ میں آیا یہ سب،،، اس کے سامنے کھڑے اس شخص کا ڈرامہ تھا
کتنا بڑا بہروپیا تھا یہ شخص،، جو اس وقت اس کے سامنے کھڑا تھا یہ اس کی محبت ہرگز نہیں تھا تعبیر اسے نہیں جانتی تھی یہ کوئی اور تھا بلکہ یہ تو وہی شخص تھا جس سے تعبیر خوف کھاتی تھی جس کی قربت سے اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی تعبیر قدم پیچھے کی طرف اٹھاتی آہستہ آہستہ اس سے مزید دور ہونے لگی اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ چکا تھا
ارتضیٰ نے جب مخصوص آواز اور لہجے میں اسے اپنی اصلی شناخت بتائی۔۔۔ تو سب سے پہلے تعبیر نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا یہ اسے معلوم تھا وہ ایسا ہی کرے گی۔۔۔ تعبیر کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کا تاثر ابھرا ارتضیٰ کو علم تھا ایسا ہی ہونا ہے۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر ارتضیٰ کا دل ایک لمحے کے لئے ٹوٹا مگر نہیں،،، اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا اپنی اسنووائٹ کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔ اب وہ تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے خوف دیکھ رہا تھا ارتضیٰ کے ایک قدم آگے بڑھانے سے وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کرکے سرک رہی تھی ارتضیٰ دیکھ سکتا تھا اس وقت وہ خوف سے پسینے میں نہا چکی ہے
"تعبیر میری بات سنو پلیز"
ارتضیٰ اس کی کیفیت سمجھتا ہوا اس کے پاس آیا
"نہیں پیچھے ہٹو دور رہو مجھ سے"
تعبیر اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ایک دم چیخی اور دیوار کے کونے سے لگ کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا جیسے ایسا کرنے سے ارتضیٰ اس کمرے غائب ہو جائے گا
"تعبیر پلیز اسطرح نہیں کرو میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے"
ارتضیٰ نے بولنے کے ساتھ ہی آگے بڑھ کر تعبیر کو اپنی بانہوں میں لینا چاہا تاکہ اس کے ڈر کی کیفیت کم ہوجائے مگر یہ اس کی بھول تھی
"چھوڑو مجھے ارتضیٰ،، پلیز مجھے چھوڑ دو"
تعبیر اس کی بانہوں میں مچلتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
"تعبیر میری بات سنو"
ارتضیٰ نے نرمی سے بولتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس وقت وہ کچھ نہیں سننا چاہتی تھی وہ ارتضیٰ سے اپنا آپ چھڑا کر روم سے باہر بھاگی۔۔۔۔ ارتضیٰ اپنا سر تھام کر رہ گیا
ارتضیٰ تعبیر کے پیچھے کچن میں گیا تو تعبیر کے ہاتھ میں سب سے بڑی نوک دار چھری دیکھ کر اس کا دماغ ایک لمحے کے لیے بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ حقیقت کا علم ہونے کے بعد تعبیر کا ری ایکشن مختلف نہیں ہوگا جیسے وہاج صدیقی کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد اس نے ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ مگر وہ یہ توقع بھی نہیں کر رہا تھا کہ وہ بے وقوفی کی انتہا کرتے ہوئے چھری ہی نکال لے گی
"اگر تم مزمل نہیں ارتضیٰ ہوئے تو میں خودکشی کرنا پسند کروں گی"
تعبیر کے جملے یاد کر کے ارتضیٰ کو غصہ آیا لب بینچ کر وہ تعبیر کے پاس پہنچا اور چھری جس سے وہ اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے والی تھی اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینکی۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تعبیر کی حرکت پر اس کا ہاتھ اٹھا
"کیا کرنے لگی تھی تم بولو۔۔۔۔ حرام موت مرنے کا دل چاہ رہا ہے تمہارا،،،، اگلی بار اگر ایسی حرکت کی نا۔۔۔ تو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے تمہاری مرنے کی خواہش پوری کر دوں گا"
ارتضیٰ کی تیز آواز کے آگے اس کے رونے کی آواز کم ہوگئی
"چلو بیڈ روم میں"
ارتضیٰ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا اور اسے بیڈ روم میں لے جانے لگا تعبیر کا رونا اب ختم ہوگیا تھا مگر سسکیوں لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
ارتضیٰ کے روم سے پہلے مریم کے بیڈروم تھا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا تعبیر اچانک اس سے ہاتھ چھڑا کر مریم کے بیڈروم میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا
"یہ کیا حرکت ہے تعبیر دروازہ کھولو"
ارتضیٰ نے دروازہ بجاتے ہوئے کہا دوسری طرف دروازے کے تعبیر دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی
کیا مذاق ہوا تھا اس کے ساتھ ایک طرف مزمل کا پیار بھرا انداز ہو دوسری طرف ارتضیٰ کا چہرہ چھپا کر اس کے قریب آنا اور اسے بتانا کہ وہ اس کی ہے۔۔۔
تعبیر مزمل اور ارتضیٰ دونوں کے لمحات یاد کر کے ایک بار پھر سیسکنے لگی
جاری ہے
you are mine novel by zeenia sharjeel episode 39
U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 39
مشعل کا موبائل کب سے بج رہا تھا مگر اریش کے آفس اور ہانی کے اسکول کے جانے کے بعد یہ ٹائم اس کے نوکروں سے صفائی کروانے کا ہوتا تھا
"صوفے کے نیچے سے جھاڑو کا ہاتھ مارو،، ابھی آکر چیک کرو گی" سعیدہ سے کہتی ہوئی مشعل اپنے روم میں آئی تو موبائل پر لینڈ لائن نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"کہاں بزی تھی ہانی کی مما۔۔۔ کہیں ہانی کے ڈیڈ تو یاد نہیں آرہے تھے"
کال ریسیو کرتے ہی اریش کی شوخی بھری آواز مشعل کے کانوں سے ٹکرائی
"اریش آپ کو معلوم ہے نا یہ ٹائم میرا کتنا بزی ہوتا ہے۔۔۔ سعیدہ اسے صفائی کروا رہی تھی۔۔۔ ہانی بھی آتا ہی ہوگا اسکول سے اور اب بھی آج جلدی آجانا ماہرہ کا گھر آنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔ مجھے مینو بھی بتا دیے گا کیا بنواو رس ملائی تو تھوڑی دیر میں خود بنالو گی"
مشعل نے ایک کے بعد ایک باتیں جو جو اس کے ذہن میں چلتی رہی سب کی سب ایک سانس میں بول دیں
"ہانی کی مما تو بس نان اسٹاپ ہی شروع ہوجاتی ہیں فون پر۔۔۔۔ اب بریک لگاو اور میری بات غور سے سنو۔ ۔۔۔گھر تو میں جلدی آجاؤں گا مگر آج ماہرہ کے آنے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔۔۔ میرا فرینڈ ہے مصطفیٰ، اس کی بارات ہے آج، ہم وہاں انوائٹڈ ہیں"
ابھی اریش اس کو بتا ہی رہا تھا مشعل بول پڑی
"اریش میں کیا کروں گی وہاں جاکر،، بور ہوجاؤ گی۔۔۔ بس مائرہ کو آنے دیں،، آپ چلیں جائیں اپنے فرینڈ کی شادی میں"
مشعل نے منہ بناتے ہوئے کہا یقیناً وہاں اریش اپنے دوستوں میں مصروف ہوجاتا اور مشعل نے بور ہوجانا تھا
"کیوں ہوگی بور وہاں پر حیا بھابھی ہوگیں۔ ۔۔۔ جب معاویہ کے ساتھ ہمارے گھر پہ آئے تھی تب تو تم نے ان کی کمپنی کو بہت انجوائے کیا تھا"
اریش کی باتوں سے مشعل کو فیل ہوا اس کا آج فنکشن اٹینڈ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور حیا کا نام سن کر مشعل کی بھی بوریت دور ہوگئی
"اچھا تو آپ پوری بات بتائے نہ حیا ہوگی تو پھر ٹھیک ہے"
مشعل کا بھی حیا کا سن کر فوراً فنکشن میں جانے کا مائینڈ بن گیا
"ہانی کی مما آج میری پسند کا ڈریس پہن لیے گا ہمارے نکاح والا"
مشعل کے راضی ہو جانے کے بعد اریش نے نئی فرمائش کردی
"اوکے جناب اور کچھ حکم کریں" مشعل نے مسکرا کر اپنے نکاح والا ڈریس نکالا تاکہ ابھی سے پریس کرلے
"حکم تو آپ کیا کریں بیگم صاحبہ ہم تو غلام ہیں آپ کے۔۔۔ بس کبھی کبھی اپنی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کروا لیتے ہیں،، ورنہ مالکن تو آپ ہیں ہماری"
اریش کی بات پر مشعل زور سے ہنسی
"اریش ابھی اگر ماہرہ آپ کی باتیں سن لے ناں تو وہ آپ کو صحیح کا جورو کا غلام بولے گی"
مشعل کی بات پر اب کے اریش ہنسا
"نہیں وہ ایسا بالکل نہیں بولے گی کیوکہ شیراز خود اس کے تھلے لگا ہوا ہے۔۔۔ اچھا ہانی اسکول سے آئے تو اس کو کھانا کھلا کر دوپہر میں سلا دینا،،، تاکہ وہ رات میں ڈل فیل نہ کرے"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا اور خدا حافظ کہہ کر مشعل نے فون رکھ دیا۔۔۔ اپنا ڈریس ہینگر سمیت وہ ہال میں آگئی ہانی بیگ اٹھاتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا
"آگیا میرا بیٹا"
مشعل نے ہانی کا بیگ اتار کر رکھا اور اسے چینج کرانے لے گئی
"مما یہ اصلی اور نقلی کیا ہوتا ہے" مشعل ہانی کو کھانا کھلا رہی تھی تب ہانی نے مشعل سے پوچھا
"آپ نے کس سے سن لیا ہے اصلی اور نقلی مشعل نے نیوالا بنا کر اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
"آج اسکول میں ہانی سے ملنے اس کے اصلی ڈیڈ آئے تھے ناں"
ہانی کی بات سن کر مشعل جو دوسرا نیوالا بنا رہی وہ پلیٹ میں ہی گر گیا
"اصلی ڈیڈ"
مشعل نے زیر لب بڑبڑایا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ولی کا چہرہ لہرایا
"کون ملنے آیا تھا آپ سے اور کیا کررہا تھا وہ"
مشعل نے ہانی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر پوچھا
"اسکول سے چھٹی کے ٹائم ہانی سے انکل ملنے آئے تھے ہانی کو بہت پیار کیا،،، بولے میں تمہارا اصلی ڈیڈ ہو جو گھر میں ہوتے ہیں وہ نقلی ڈیڈ ہیں"
ہانی نے مشعل کو پوری بات بتائی تو وہ بے یقینی سے ہانی کو دیکھے گئی
"ہانی مما کی بات غور سے سنو اصلی نقلی کچھ بھی نہیں ہوتا میری جان۔۔۔ آپ کے صرف ایک ہی ڈیڈ ہیں جن کے ساتھ ہم رہتے ہیں وہی آپ کے ڈیڈ ہیں اور آپ آئندہ کسی کی بھی بات نہیں سنو گے بلکہ کسی سے بھی اس طرح نہیں ملو گے"
مشعل نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے گلے لگایا
اسے اسکول والوں پر بھی غصہ آیا اور وہ ارادہ رکھتی تھی ہانی کو سلانے کے بعد اس کی پرنسپل سے بات کرے کیسے کوئی اجنبی اگر ہانی سے مل سکتا ہے
اس طرح ولی کا اس کی اور ہانی کی زندگی میں واپس آنا ٹھیک نہیں تھا وہ اس بات کو لے کر کافی پریشان ہوگئی۔۔۔۔
****
"آؤ کوئی مووی دیکھتے ہیں"
ارتضیٰ نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
تعبیر تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر نکلی تھی اور اس سے پہلے میڈ پورے گھر کی صفائی کرکے جاچکی تھی
"اگر تمہارا کل رات کی طرح مووی دیکھنے کا ارادہ ہے تو مجھے اس ٹائم مووی بالکل بھی نہیں دیکھنی"
تعبیر کے گھور کر کہنے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
کل رات کو کھانا ارتضیٰ نے بنایا اور تعبیر کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا اس کے بعد اس نے ڈی وی ڈی پر کوئی انگلش مووی لگائی
مووی میں جب جب کوئی فضول سین آتا ارتضیٰ اس سے زیادہ فضول حرکتوں پر اتر آتا۔۔ تعبیر نے مووی تو کیا ہی دیکھی وہ بس ارتضیٰ کے رومانس پر ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور آخر کار جب مووی میں ہیرو صاحب اپنے آپے سے باہر آئے تو ارتضیٰ نے شرافت سے مووی بند کر دی۔۔۔ جس پر تعبیر نے سکون کا سانس لیا تھوڑی دیر ان دونوں نے اپنی چھت پر واک کی مگر جب سونے کا ٹائم آیا تو ارتضیٰ نے خود ہیرو والے کام شروع کر دیئے
"چلو ناں اب کی بار سیریس ہو کر دیکھیں گے"
ارتضیٰ نے تعبیر کو بہلاتے ہوئے کہا
"مجھے تم سے کسی قسم کی شرافت کی امید نہیں ہے اس لیے رات ہونے تک تم مجھ سے دور رہو"
تعبیر ہیئر برش سے اپنے بال سلجھاتے ہوئے بولی ارتضیٰ نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا
"صرف محبت کرنے کا حوصلہ ہے آپ میں میڈم مگر آپ کا باڈی گارڈ صرف محبت کرتا ہی نہیں محبت جتانے کے فن سے بھی واقف ہے"
ارتضیٰ اس کی گردن پر جھگتا ہوا اس کے باڈی اسپرے کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
"میں اپنے اس باڈی گارڈ کی تین دن سے ساری فنکاریاں دیکھ رہی ہو۔۔۔ تم محبت جتاتے ہوئے میری شامت لے آتے ہو دور ہٹو اور لگاو مووی"
تعبیر نے اسکو دور ہٹاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔ ۔۔ جس پر ارتضیٰ مسکرا کر ڈی وی ڈی پلئیر میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کل کوئی بہت ہی فضول قسم کا ہیرو تھا،،، خدارا کسی ڈھنگ کے انسان کی مووی لگانا"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھا۔۔۔ مووی ان کر کے ارتضیٰ اسکے پاس آیا
"تو تم مووی کے ہیرو کی بجائے اپنے ہیرو پر کونسنٹریٹ کیا کرو ناں میری جان"
ارتضیٰ نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ حائل کیے
"ایک منٹ یہ مووی میں اس شرط پر دیکھ رہی ہو تم مووی بیڈ پر بیٹھ کر دیکھو گے اور میں صوفے پر"
تعبیر اس کو فری ہوتا دیکھ کر صوفے پر بیٹھ کر کہنے لگی ارتضیٰ اس کو گھورتا ہوا روم کی لائٹ بند کرکے بیڈ پر بیٹھ گیا
"یہ لائٹ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے اب"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"کیوکہ ہارر موویز میں اندھیرے میں دیکھنا پسند کرتا ہوں اور اب چپ کرکے مووی دیکھو مووی کے درمیان مجھے باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ اسے گھور کر رہ گئی
"مووی کے درمیان باتیں کرنا پسند نہیں ہے مگر رومینس کرنا پسند ہے"
تعبیر نے دل میں سوچا
"وہ الگ بات ہے بیوی پاس ہو تو بندہ رومنٹک ہو ہی جاتا ہے مووی کے درمیان"
ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اسے حیرت سے دیکھا یہ تو اس نے دل میں سوچا وہ بھلا کیسے جان گیا اس کے دل کی بات
"کیا ہوا بیوی ہو تم میری تمہارے دل کی بات نہیں جانوں گا کہ کیا سوچ رہی ہو تم اس وقت میرے بارے میں"
ارتضیٰ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا جو حیرت سے منہ کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی
"اف کتنا خطرناک انسان ہے یہ اندر سے"
تعبیر نے اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے سوچا
"یہ بھی ٹھیک ہے میں واقعی بہت خطرناک ہو تم بچ کے رہا کرو مجھ سے"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر اٹھ کر آئی اور بیڈ پر رکھا تکیہ اٹھا کر اسے مارنے لگی جسے ارتضیٰ نے پکڑ کر دوسری طرف پھینکا اور تعبیر کو کھینچ کر بیڈ پر گرا لیا
"کل رومنٹک مووی دیکھ کر میں نے رومینس کیا تھا آج ومپائر والی مووی ہے اب ذرا بچ کر دکھاؤ مجھ سے"
وہ اسکی شہ رگ پر جھکتا ہوا کہنے لگا تعبیر کو لگا جیسے اس کے ویمپائر کی طرح دو لمبے دانت نکل آئے گے جو وہ اس کی گردن میں گرھادے گا
"مزمل مجھے اس وقت واقعی تم سے خوف آ رہا ہے"
تعبیر کے ڈرنے پر ارتضیٰ ہنسا اور شرافت سے اس کے ساتھ مووی دیکھنے لگا مگر جب جب ہارر سین آتا ارتضیٰ کی جگہ وہ ہی اس سے چپک کر رہ جاتی
"بند کرو یہ واہیات فلم مجھے نہیں دیکھنی، تھک چکی ہو میں ڈر ڈر کے"
تعبیر نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے ٹی وی سوئچ آف کیا
"میرا بھی یہی خیال ہے فلم چھوڑو ہم اپنی فلم میں انجوائے کرلیتے ہیں"
ارتضیٰ نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"اپنا اتنا عادی بنا رہے ہو مجھے،، اگر تمھارا مجھ سے دل بھر گیا تو"
ارتضیٰ کی شدتیں دیکھ کر تعبیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
"کچھ عادتیں وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہو جاتی ہیں اور پختہ عادتوں سے انسان پیچھا نہیں چھڑا سکتا تمہارے ساتھ بھی میرا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے بے فکر رہو میرا دل تم سے کبھی بھی نہیں بھرنے والا"
ارتضیٰ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے یقین دلایا ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ کے موبائل پر کال آنے لگی
ارتضیٰ نے موبائل پر کرنل سرفراز کا نمبر دیکھا تعبیر پیچھے ہو کر بیٹھی
"السلام علیکم سر" ارتضیٰ نے کال ریسیو کر کے کہا۔۔۔ تعبیر اٹھ کر روم سے جانے لگی مگر ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بیٹھا دیا
"الحمداللہ سر آپ سنائے۔ ۔۔۔جی میں نے نیوز میں دیکھا تھا اور انسپکٹر عماد سے بھی معلوم ہوا تھا وہاج صدیقی کا کیس عدالت میں جا چکا ہے اور پہلی پیشی اگلے ہفتے کو ممکن ہے"
ارتضیٰ موبائل پر ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو جبکہ تعبیر آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی سمائے اس کے ایک ایک لفظ پر غور کر رہی تھی
"سر یہ تو میری جاب تھی اور میرا فرض تھا اس کو لے کر آپ فکر نہیں کریں۔۔۔ وہاج صدیقی اور ستار میمن کے خلاف ثبوت اتنے پکے ہیں وہ کتنا بھی مہنگا وکیل کرلیں ان کے لیے اب جیل سے باہر آنا ممکن نہیں"
تعبیر کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ مزمل کے منہ سے یہ سب سن رہی ہے اس کا ہاتھ اب بھی مزمل کے ہاتھ میں تھا
"بابا جیل میں ہیں" یہ سوچ آتے ہی تعبیر کا دماغ سن ہونے لگا
ارتضیٰ کال بند کر چکا تھا اس نے تعبیر کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔ تعبیر نے اس کے چہرے پر کوئی مذاق کی رمگ ڈھونڈنی چاہی کہ شاید وہ ابھی زور سے ہنس دے گا اور کہے گا میں تو مذاق کر رہا تھا تم کتنی بے وقوف ہوں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اب بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
"کون ہو تم"
تعبیر نے بولنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا
"ابھی بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ کون ہو میں"
ارتضیٰ نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کی طرف دیکھا ابھی تو تعبیر کو بہت کچھ بتانا تھا اور تعبیر نے ابھی سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا
مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ سب بتا نا ہی تھا آخر وہ کب تک اس سے چھپا کے رکھتا اس لیے ارتضیٰ نے جان بوجھ کر کرنل سرفراز کی کال تعبیر کے سامنے ریسیو کر کے بات کری
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 39
مشعل کا موبائل کب سے بج رہا تھا مگر اریش کے آفس اور ہانی کے اسکول کے جانے کے بعد یہ ٹائم اس کے نوکروں سے صفائی کروانے کا ہوتا تھا
"صوفے کے نیچے سے جھاڑو کا ہاتھ مارو،، ابھی آکر چیک کرو گی" سعیدہ سے کہتی ہوئی مشعل اپنے روم میں آئی تو موبائل پر لینڈ لائن نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"کہاں بزی تھی ہانی کی مما۔۔۔ کہیں ہانی کے ڈیڈ تو یاد نہیں آرہے تھے"
کال ریسیو کرتے ہی اریش کی شوخی بھری آواز مشعل کے کانوں سے ٹکرائی
"اریش آپ کو معلوم ہے نا یہ ٹائم میرا کتنا بزی ہوتا ہے۔۔۔ سعیدہ اسے صفائی کروا رہی تھی۔۔۔ ہانی بھی آتا ہی ہوگا اسکول سے اور اب بھی آج جلدی آجانا ماہرہ کا گھر آنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔ مجھے مینو بھی بتا دیے گا کیا بنواو رس ملائی تو تھوڑی دیر میں خود بنالو گی"
مشعل نے ایک کے بعد ایک باتیں جو جو اس کے ذہن میں چلتی رہی سب کی سب ایک سانس میں بول دیں
"ہانی کی مما تو بس نان اسٹاپ ہی شروع ہوجاتی ہیں فون پر۔۔۔۔ اب بریک لگاو اور میری بات غور سے سنو۔ ۔۔۔گھر تو میں جلدی آجاؤں گا مگر آج ماہرہ کے آنے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔۔۔ میرا فرینڈ ہے مصطفیٰ، اس کی بارات ہے آج، ہم وہاں انوائٹڈ ہیں"
ابھی اریش اس کو بتا ہی رہا تھا مشعل بول پڑی
"اریش میں کیا کروں گی وہاں جاکر،، بور ہوجاؤ گی۔۔۔ بس مائرہ کو آنے دیں،، آپ چلیں جائیں اپنے فرینڈ کی شادی میں"
مشعل نے منہ بناتے ہوئے کہا یقیناً وہاں اریش اپنے دوستوں میں مصروف ہوجاتا اور مشعل نے بور ہوجانا تھا
"کیوں ہوگی بور وہاں پر حیا بھابھی ہوگیں۔ ۔۔۔ جب معاویہ کے ساتھ ہمارے گھر پہ آئے تھی تب تو تم نے ان کی کمپنی کو بہت انجوائے کیا تھا"
اریش کی باتوں سے مشعل کو فیل ہوا اس کا آج فنکشن اٹینڈ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور حیا کا نام سن کر مشعل کی بھی بوریت دور ہوگئی
"اچھا تو آپ پوری بات بتائے نہ حیا ہوگی تو پھر ٹھیک ہے"
مشعل کا بھی حیا کا سن کر فوراً فنکشن میں جانے کا مائینڈ بن گیا
"ہانی کی مما آج میری پسند کا ڈریس پہن لیے گا ہمارے نکاح والا"
مشعل کے راضی ہو جانے کے بعد اریش نے نئی فرمائش کردی
"اوکے جناب اور کچھ حکم کریں" مشعل نے مسکرا کر اپنے نکاح والا ڈریس نکالا تاکہ ابھی سے پریس کرلے
"حکم تو آپ کیا کریں بیگم صاحبہ ہم تو غلام ہیں آپ کے۔۔۔ بس کبھی کبھی اپنی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کروا لیتے ہیں،، ورنہ مالکن تو آپ ہیں ہماری"
اریش کی بات پر مشعل زور سے ہنسی
"اریش ابھی اگر ماہرہ آپ کی باتیں سن لے ناں تو وہ آپ کو صحیح کا جورو کا غلام بولے گی"
مشعل کی بات پر اب کے اریش ہنسا
"نہیں وہ ایسا بالکل نہیں بولے گی کیوکہ شیراز خود اس کے تھلے لگا ہوا ہے۔۔۔ اچھا ہانی اسکول سے آئے تو اس کو کھانا کھلا کر دوپہر میں سلا دینا،،، تاکہ وہ رات میں ڈل فیل نہ کرے"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا اور خدا حافظ کہہ کر مشعل نے فون رکھ دیا۔۔۔ اپنا ڈریس ہینگر سمیت وہ ہال میں آگئی ہانی بیگ اٹھاتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا
"آگیا میرا بیٹا"
مشعل نے ہانی کا بیگ اتار کر رکھا اور اسے چینج کرانے لے گئی
"مما یہ اصلی اور نقلی کیا ہوتا ہے" مشعل ہانی کو کھانا کھلا رہی تھی تب ہانی نے مشعل سے پوچھا
"آپ نے کس سے سن لیا ہے اصلی اور نقلی مشعل نے نیوالا بنا کر اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
"آج اسکول میں ہانی سے ملنے اس کے اصلی ڈیڈ آئے تھے ناں"
ہانی کی بات سن کر مشعل جو دوسرا نیوالا بنا رہی وہ پلیٹ میں ہی گر گیا
"اصلی ڈیڈ"
مشعل نے زیر لب بڑبڑایا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ولی کا چہرہ لہرایا
"کون ملنے آیا تھا آپ سے اور کیا کررہا تھا وہ"
مشعل نے ہانی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر پوچھا
"اسکول سے چھٹی کے ٹائم ہانی سے انکل ملنے آئے تھے ہانی کو بہت پیار کیا،،، بولے میں تمہارا اصلی ڈیڈ ہو جو گھر میں ہوتے ہیں وہ نقلی ڈیڈ ہیں"
ہانی نے مشعل کو پوری بات بتائی تو وہ بے یقینی سے ہانی کو دیکھے گئی
"ہانی مما کی بات غور سے سنو اصلی نقلی کچھ بھی نہیں ہوتا میری جان۔۔۔ آپ کے صرف ایک ہی ڈیڈ ہیں جن کے ساتھ ہم رہتے ہیں وہی آپ کے ڈیڈ ہیں اور آپ آئندہ کسی کی بھی بات نہیں سنو گے بلکہ کسی سے بھی اس طرح نہیں ملو گے"
مشعل نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے گلے لگایا
اسے اسکول والوں پر بھی غصہ آیا اور وہ ارادہ رکھتی تھی ہانی کو سلانے کے بعد اس کی پرنسپل سے بات کرے کیسے کوئی اجنبی اگر ہانی سے مل سکتا ہے
اس طرح ولی کا اس کی اور ہانی کی زندگی میں واپس آنا ٹھیک نہیں تھا وہ اس بات کو لے کر کافی پریشان ہوگئی۔۔۔۔
****
"آؤ کوئی مووی دیکھتے ہیں"
ارتضیٰ نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
تعبیر تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر نکلی تھی اور اس سے پہلے میڈ پورے گھر کی صفائی کرکے جاچکی تھی
"اگر تمہارا کل رات کی طرح مووی دیکھنے کا ارادہ ہے تو مجھے اس ٹائم مووی بالکل بھی نہیں دیکھنی"
تعبیر کے گھور کر کہنے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
کل رات کو کھانا ارتضیٰ نے بنایا اور تعبیر کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا اس کے بعد اس نے ڈی وی ڈی پر کوئی انگلش مووی لگائی
مووی میں جب جب کوئی فضول سین آتا ارتضیٰ اس سے زیادہ فضول حرکتوں پر اتر آتا۔۔ تعبیر نے مووی تو کیا ہی دیکھی وہ بس ارتضیٰ کے رومانس پر ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور آخر کار جب مووی میں ہیرو صاحب اپنے آپے سے باہر آئے تو ارتضیٰ نے شرافت سے مووی بند کر دی۔۔۔ جس پر تعبیر نے سکون کا سانس لیا تھوڑی دیر ان دونوں نے اپنی چھت پر واک کی مگر جب سونے کا ٹائم آیا تو ارتضیٰ نے خود ہیرو والے کام شروع کر دیئے
"چلو ناں اب کی بار سیریس ہو کر دیکھیں گے"
ارتضیٰ نے تعبیر کو بہلاتے ہوئے کہا
"مجھے تم سے کسی قسم کی شرافت کی امید نہیں ہے اس لیے رات ہونے تک تم مجھ سے دور رہو"
تعبیر ہیئر برش سے اپنے بال سلجھاتے ہوئے بولی ارتضیٰ نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا
"صرف محبت کرنے کا حوصلہ ہے آپ میں میڈم مگر آپ کا باڈی گارڈ صرف محبت کرتا ہی نہیں محبت جتانے کے فن سے بھی واقف ہے"
ارتضیٰ اس کی گردن پر جھگتا ہوا اس کے باڈی اسپرے کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
"میں اپنے اس باڈی گارڈ کی تین دن سے ساری فنکاریاں دیکھ رہی ہو۔۔۔ تم محبت جتاتے ہوئے میری شامت لے آتے ہو دور ہٹو اور لگاو مووی"
تعبیر نے اسکو دور ہٹاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔ ۔۔ جس پر ارتضیٰ مسکرا کر ڈی وی ڈی پلئیر میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کل کوئی بہت ہی فضول قسم کا ہیرو تھا،،، خدارا کسی ڈھنگ کے انسان کی مووی لگانا"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھا۔۔۔ مووی ان کر کے ارتضیٰ اسکے پاس آیا
"تو تم مووی کے ہیرو کی بجائے اپنے ہیرو پر کونسنٹریٹ کیا کرو ناں میری جان"
ارتضیٰ نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ حائل کیے
"ایک منٹ یہ مووی میں اس شرط پر دیکھ رہی ہو تم مووی بیڈ پر بیٹھ کر دیکھو گے اور میں صوفے پر"
تعبیر اس کو فری ہوتا دیکھ کر صوفے پر بیٹھ کر کہنے لگی ارتضیٰ اس کو گھورتا ہوا روم کی لائٹ بند کرکے بیڈ پر بیٹھ گیا
"یہ لائٹ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے اب"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"کیوکہ ہارر موویز میں اندھیرے میں دیکھنا پسند کرتا ہوں اور اب چپ کرکے مووی دیکھو مووی کے درمیان مجھے باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ اسے گھور کر رہ گئی
"مووی کے درمیان باتیں کرنا پسند نہیں ہے مگر رومینس کرنا پسند ہے"
تعبیر نے دل میں سوچا
"وہ الگ بات ہے بیوی پاس ہو تو بندہ رومنٹک ہو ہی جاتا ہے مووی کے درمیان"
ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اسے حیرت سے دیکھا یہ تو اس نے دل میں سوچا وہ بھلا کیسے جان گیا اس کے دل کی بات
"کیا ہوا بیوی ہو تم میری تمہارے دل کی بات نہیں جانوں گا کہ کیا سوچ رہی ہو تم اس وقت میرے بارے میں"
ارتضیٰ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا جو حیرت سے منہ کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی
"اف کتنا خطرناک انسان ہے یہ اندر سے"
تعبیر نے اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے سوچا
"یہ بھی ٹھیک ہے میں واقعی بہت خطرناک ہو تم بچ کے رہا کرو مجھ سے"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر اٹھ کر آئی اور بیڈ پر رکھا تکیہ اٹھا کر اسے مارنے لگی جسے ارتضیٰ نے پکڑ کر دوسری طرف پھینکا اور تعبیر کو کھینچ کر بیڈ پر گرا لیا
"کل رومنٹک مووی دیکھ کر میں نے رومینس کیا تھا آج ومپائر والی مووی ہے اب ذرا بچ کر دکھاؤ مجھ سے"
وہ اسکی شہ رگ پر جھکتا ہوا کہنے لگا تعبیر کو لگا جیسے اس کے ویمپائر کی طرح دو لمبے دانت نکل آئے گے جو وہ اس کی گردن میں گرھادے گا
"مزمل مجھے اس وقت واقعی تم سے خوف آ رہا ہے"
تعبیر کے ڈرنے پر ارتضیٰ ہنسا اور شرافت سے اس کے ساتھ مووی دیکھنے لگا مگر جب جب ہارر سین آتا ارتضیٰ کی جگہ وہ ہی اس سے چپک کر رہ جاتی
"بند کرو یہ واہیات فلم مجھے نہیں دیکھنی، تھک چکی ہو میں ڈر ڈر کے"
تعبیر نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے ٹی وی سوئچ آف کیا
"میرا بھی یہی خیال ہے فلم چھوڑو ہم اپنی فلم میں انجوائے کرلیتے ہیں"
ارتضیٰ نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"اپنا اتنا عادی بنا رہے ہو مجھے،، اگر تمھارا مجھ سے دل بھر گیا تو"
ارتضیٰ کی شدتیں دیکھ کر تعبیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
"کچھ عادتیں وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہو جاتی ہیں اور پختہ عادتوں سے انسان پیچھا نہیں چھڑا سکتا تمہارے ساتھ بھی میرا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے بے فکر رہو میرا دل تم سے کبھی بھی نہیں بھرنے والا"
ارتضیٰ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے یقین دلایا ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ کے موبائل پر کال آنے لگی
ارتضیٰ نے موبائل پر کرنل سرفراز کا نمبر دیکھا تعبیر پیچھے ہو کر بیٹھی
"السلام علیکم سر" ارتضیٰ نے کال ریسیو کر کے کہا۔۔۔ تعبیر اٹھ کر روم سے جانے لگی مگر ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بیٹھا دیا
"الحمداللہ سر آپ سنائے۔ ۔۔۔جی میں نے نیوز میں دیکھا تھا اور انسپکٹر عماد سے بھی معلوم ہوا تھا وہاج صدیقی کا کیس عدالت میں جا چکا ہے اور پہلی پیشی اگلے ہفتے کو ممکن ہے"
ارتضیٰ موبائل پر ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو جبکہ تعبیر آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی سمائے اس کے ایک ایک لفظ پر غور کر رہی تھی
"سر یہ تو میری جاب تھی اور میرا فرض تھا اس کو لے کر آپ فکر نہیں کریں۔۔۔ وہاج صدیقی اور ستار میمن کے خلاف ثبوت اتنے پکے ہیں وہ کتنا بھی مہنگا وکیل کرلیں ان کے لیے اب جیل سے باہر آنا ممکن نہیں"
تعبیر کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ مزمل کے منہ سے یہ سب سن رہی ہے اس کا ہاتھ اب بھی مزمل کے ہاتھ میں تھا
"بابا جیل میں ہیں" یہ سوچ آتے ہی تعبیر کا دماغ سن ہونے لگا
ارتضیٰ کال بند کر چکا تھا اس نے تعبیر کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔ تعبیر نے اس کے چہرے پر کوئی مذاق کی رمگ ڈھونڈنی چاہی کہ شاید وہ ابھی زور سے ہنس دے گا اور کہے گا میں تو مذاق کر رہا تھا تم کتنی بے وقوف ہوں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اب بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
"کون ہو تم"
تعبیر نے بولنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا
"ابھی بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ کون ہو میں"
ارتضیٰ نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کی طرف دیکھا ابھی تو تعبیر کو بہت کچھ بتانا تھا اور تعبیر نے ابھی سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا
مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ سب بتا نا ہی تھا آخر وہ کب تک اس سے چھپا کے رکھتا اس لیے ارتضیٰ نے جان بوجھ کر کرنل سرفراز کی کال تعبیر کے سامنے ریسیو کر کے بات کری
جاری ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)

