Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel final episode

🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Last episode🌹



"ارے واہ یہ آپ اور مما ہیں ناں"
تعبیر نے البم میں تصویر دیکھتے ہوئےمریم سے کہا

"ہاں یہ جب کی تصویر ہے جب میرا اور عائشہ کا کالج میں ایڈمیشن ہوا تھا"
مریم نے مسکرا کر پچھلا وقت یاد کرتے ہوئے کہا

"یہ والی تصویر دیکھیں ایسا لگ رہا ہے جیسے کہ میری تصویر ہے یہ"
تعبیر عائشہ کی تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے حیران ہوکر بولی

"ہاں اس دور میں تو عائشہ بالکل تم سے ملتی تھی اس دن میری بات پکی ہوئی تھی تو میرے پاس آئی تھی"
مریم نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے روم میں آیا تو مریم سامنے ہی بیٹھی تھی اس لیے اس کی نظر ارتضیٰ پڑ گئی مگر تعبیر کی پشت ہونے کی وجہ سے وہ ارتضیٰ کو نہیں دیکھ پائی ارتضیٰ بھی چپ کرکے وہی کرسی پر بیٹھ گیا

"اور یہ گبلو سا بچہ کون ہے"
تعبیر نے آٹھ ماہ کے صحت مند بچے کی تصویر کو دیکھ کر پوچھا تو مریم دوبارہ مسکرا دی

"کیا تم نے واقعی نہیں پہچانا اس گبلو کو"
مریم نے جس انداز میں تعبیر کو دیکھ کر پوچھا وہ فوراً ہے پہچان گئی یہ کس کی تصویر ہے

"اوو تو یہ ارتضیٰ کی تصویر ہے میں سمجھی آپ کے کسی بھانجے بھتیجے کی تصویر ہوگی۔۔۔۔ ویسے بچپن میں کتنا کیوٹ تھا ارتضیٰ"
تعبیر کی بات پر مریم ہنسی وہی ارتضیٰ کو بھی اپنی اسنووائٹ کے خیالات جاننے کا موقع ملا

"کیوں تمہیں اب کیوٹ نہیں لگتا میرا بیٹا"
مریم نے شرارت سے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا

"اب کہاں کیوٹنس بچی ہے اس کے چہرے پر۔۔۔ اچھی خاصی کرختگی چھائی رہتی ہے ہر وقت"
اب بھلا وہ مریم کے سامنے اس کے بیٹے کی کیا تعریف کرتی اس لیے گھما کر جواب دیا مگر وہ بھول گئی کہ وہ ارتضیٰ کی ماں کے سامنے بیٹھی تھی

"کرختگی کہاں چھائی ہوتی ہے اتنے پیارے تو نقش ہیں میرے بیٹے کے"
مریم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور تاثرات بالکل سنجیدہ ہوئے

"ارے نہیں مما کیوٹ تو وہ اب بھی بہت ہے مگر کبھی کبھی سیریس ہو جائے تو ڈر لگتا ہے اس لیے میں نے کہا"
تعبیر ڈر گئی کہیں مریم کو برا ہی نہ لگ جائے اس لئے فوراً بات بنا کر بولی

"کیا تمہیں ارتضیٰ ڈراتا بھی ہے مجھے بتاؤ ذرا،،، ابھی اس کے کمرے میں جا کر اس کے کان کھینچتی ہوں"
مریم بولتے ہوئے اٹھنے لگی تو فوراً تعبیر نے اس کا ہاتھ پکڑا

"ارے نہیں مما اب تو بالکل بھی نہیں ڈراتا بس پہلے کبھی موقع دیکھ کر تھوڑا تھوڑا ڈراتا تھا"
بوکھلاہٹ میں تعبیر کے منہ سے کیا کیا نکل رہا تھا وہ خود بھی پچھتا رہی تھی دوسری طرف اس کی بات پر ارتضیٰ کا بھی دل چاہا وہ اپنا سر پیٹ لے ایک مریم ہی تھی جو ساری سیچویشن کو بہت انجوائے کر رہی تھی

"وہ ڈراتا نہیں ہوگا تم پر اپنا حق جتاتا ہوگا کیوکہ اسے بچپن سے یہی معلوم تھا کہ اسنوائٹ صرف اسی کی ہے۔۔۔ تمہیں معلوم ہے تعبیر،، جب عائشہ اور تم یہاں ہمارے پاس آئے تھے ارتضیٰ ہر وقت تمہیں گود میں اٹھائے پھرتا تھا اسکول سے آنے کے بعد بس اسے اپنی اسنووائٹ چاہیے ہوتی تھی اور تم بھی تو سب سے زیادہ اسی سے اٹیچ تھی تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا،، تم مجھ سے یا عائشہ سے کھانا کھانے میں اتنے نخرے کرتی تھی صرف ارتضیٰ ہی تھا جو تمہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا اور تم آرام سے اس سے کھا لیتی تھی"
مریم کی باتیں وہ دونوں بہت غور سے سن رہے تھے ارتضیٰ کو تو یہ ساری باتیں یاد تھی مگر تعبیر کو ان باتوں کو علم نہیں تھا یہ سب سننا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا

"رک کیوں گئیں مما اور بھی بتائے"
مریم جیسے ہی چپ ہوئی تعبیر فوراً بول اٹھی

"اور یہ کہ جس دن تمہاری تھوڑی پر چوٹ لگی تھی ارتضیٰ اس دن بہت رویا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ چوٹ تمہیں نہیں بلکہ اسے لگی ہوں"
مریم کی بات پر تعبیر کا ہاتھ بے اختیار اپنی تھوڑی کے خم پر گیا جہاں اکثر ارتضیٰ اپنے ہونٹ رکھتا تھا

"پھر"
تعبیر کسی ٹرانس کی کیفیت میں بولی

"پھر اسی رات وہاج بھائی تمہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ ۔۔۔ ارتضیٰ اس رات بہت رویا بہت چیخا چلایا اور کتنے دنوں تک اسے بخار رہا میں اور یاور تو بہت پریشان ہوگئے تھے"
مریم بتاتے بناتے خود بھی کہیں کھو گئی تھی

"پھر اس کے بعد کیا ہوا"
تعبیر نے کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا جس پر مریم چونکی

"اس کے بعد کی ساری بات اپنے شوہر سے پوچھو وہ تمہیں بتائے گا" مریم جب سے گھر آئے تھی تب سے تعبیر اس کے پاس سو رہی تھی۔۔۔ مریم نے تعبیر کو کچھ کہا نہیں کچھ پوچھا نہیں مگر اس بات کا اندازہ لگایا اس کے اور ارتضیٰ کے درمیان ناراضگی ہے

مریم بولتی ہوئی اٹھ کر بیڈ روم سے چلی گئی تعبیر نے مڑ کر مریم کو دیکھا تو اس کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے ہوئے ارتضیٰ پر پڑی وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی تو البم اس کی گود سے نیچے گر گیا۔۔۔ وہ اسی کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا کرسی سے اٹھ کر وہ اس کے پاس آیا

"جس دن نو سالہ ارتضیٰ کے پاس سے ایک انکل اسکی اسنووائٹ کو دور لے گئے اس دن ارتضیٰ اپنے اسنووائٹ کے دور جانے سے بہت رویا اتنا کہ اگلے دن اس کو بخار چڑھ گیا۔ ۔۔۔ بخار تو اس کا تھوڑے دنوں بعد اتر گیا مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ اپنی اسنووائٹ کو بہت یاد کرتا اور اکثر اسے رونا بھی آجاتا پھر اس نے خود اپنے آپ سے وعدہ کیا وہ کیسے بھی کہیں سے بھی اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈنے گا اور ان انکل سے،، جو اسکی اسنووائٹ کو اس سے چھین کر لے گئے ہیں۔۔۔ واپس ان سے چھین کر اپنے اس گھر میں لے آئے گا۔۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر بچپن کی یادیں دھوندلی ہوجاتی ہیں۔۔۔ مگر ارتضیٰ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا وقت گزرا،،، ارتضیٰ بڑا ہوا مگر اسے اپنی اسنووائٹ ابھی بھی یاد آتی لیکن اب وہ روتا نہیں تھا اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسے کہیں سے اپنی اسنووائٹ مل جائے۔۔۔ کبھی کبھی وہ تھک جاتا مگر مایوس نہیں ہوتا کیوکہ ارتضیٰ اور اسکی اسنووائٹ کے بیچ ایک مضبوط رشتہ قائم تھا اس لیے اسے یقین تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ اپنی اسنووائٹ کو پا لے گا اور پھر ایک دن اس نے اپنی اسنووائٹ کو ڈھونڈ لیا اسکی اسنووائٹ بھی اب بڑی ہوگئی تھی مگر وہ ارتضیٰ کو نہیں پہچانتی تھی بلکہ وہ ارتضیٰ کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے لگی پھر ارتضیٰ اپنا بھیس بدل کر آہستہ آہستہ اپنی اسنووائٹ کے قریب آیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کا دل اپنی اسنووائٹ کو دیکھ کر چاہتا وہ اب بھی اپنی اسنووائٹ کو پہلے کی طرح پیار کرے۔۔۔۔ اس کے بعد ارتضیٰ نے اپنی اسنووائٹ کو آہستہ آہستہ اپنا عادی بنایا تاکہ حقیقت معلوم ہونے پر اس کی اسنووائٹ ارتضیٰ کو چھوڑنے کا سوچے بھی نہیں پھر ارتضیٰ کو جو ٹھیک لگتا گیا وہ کرتا گیا۔۔۔ جانے انجانے میں اسکی اسنووائٹ کا دل بھی اس سے دکھا۔۔۔ مگر ارتضیٰ بھی کیا کرتا اسے تو بچپن سے یہی بتایا گیا تھا کہ اسنووائٹ اسی کی ہے۔۔۔ اس لئے تھوڑی سی اپنی من مانی کر کے بغیر اسنووائٹ کو اپنی سچائی بتائے اس نے اسنووائٹ پر اپنا حق جتاتے ہوئے کر اپنی شدتوں کو ظاہر کیا۔۔۔ شاید ارتضیٰ کو اندر سے یہ ڈر تھا کہ سچائی جانے کے بعد اس کی اسنووائٹ اس سے دور نہ چلی جائے۔ ۔۔ ارتضیٰ اپنی محبت کے لیے اپنی اسنووائٹ کے لئے بہت خودغرض ہے،، اسے ہمیشہ اپنے قریب اپنے پاس دیکھنا چاہتا ہے"
ارتضیٰ اس کے قریب آ کر اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ آہستہ اسے ساری باتیں بتائے جا رہا تھا اور تعبیر پلک جھپکائے بنا اسے دیکھ کر اس کی باتیں سن رہی تھی

ارتضیٰ اس سے محبت کرتا ہے اسے اس بات کا تو اندازہ تھا مگر بچپن سے اتنی شدت سے،،، یہ اندازہ اسے آج ہوا تھا شاید یہی وجہ دی کی ساری حقیقت کھلنے کے بعد اس کا دل تو دکھا مگر پھر بھی وہ اس سے بد دل نہیں ہوسکی اور وہ خود بھی اس سے بھلا کیسے دور جا سکتی تھی اس کے پاس ایک باپ کے رشتے کے علاوہ اور تھا ہی کیا۔۔۔۔ رشتوں کے معاملے میں تو وہ شروع سے ہی اپنے آپ کو کمتر سمجھتی تھی مگر آج ارتضیٰ کے منہ سے یہ ساری باتیں سننے کے بعد اسے اندازہ ہوا وہ رشتوں کے معاملے میں بھی خوش قسمت ہے شوہر بیوی کا کتنا قریبی رشتہ ہوتا ہے اور اس کا شوہر کتنی شدت سے اسے چاہتا ہے ابھی سے نہیں بچپن سے ارتضیٰ اب خاموش ہوچکا تھا اور تعبیر کا ہاتھ تھامے اسے دیکھ رہا تھا

"اتنی محبت کیسے کرلی تو میں اسنووائٹ سے"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ نے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کر کے اسے بانہوں میں لیا

"تمہیں معلوم ہے جب مجھے اسکول سے دیر ہو جاتی یا مجھے ہوم ورک کرنے میں ٹائم لگ جاتا جس کی وجہ سے میں تمہیں وقت نہیں دے پاتا تو تم میرے پاس نہیں آتی تھی یہ تمہاری مجھ سے ناراضگی کا اظہار ہوتا تھا"
ارتضیٰ اپنے اور اسکے بچپن کی بات یاد کرکے اسے بتانے لگا جس پر تعبیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ وہ ارتضیٰ کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تو وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا

"پھر تم مجھے منانے کے لیے کیا کرتے"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے ارتضیٰ سے پوچھا تو وہ خود بھی ہنسا

"جب تم چھوٹی سی تھی ایک چاکلیٹ اور ایک کس kissپر مان جاتی تھی"
وہ ابھی بھی اسے بانہوں میں لیے کھڑا تھا اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر اسے بتانے لگا

"پر اب مجھے چاکلیٹ خاص پسند نہیں"
تعبیر نے اترا کر کہا

"اب تم بڑی ہوگئی ہو چاکلیٹ تمہیں اب خاص پسند نہیں ناراض تم ابھی بھی مجھ سے ہو۔۔۔ اب تو منانے کے لیے صرف ایک کس سے بھی کام نہیں چل سکتا"
وہ اس کو بانہوں کے حصار میں لیے بیڈ پر گرا

"ارتضیٰ کیا بدتمیزی ہے مما آجائیگی"
اس کی حرکت پر تعبیر نے دروازے کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ آدھا کھلا ہوا تھا

"نہیں آئے گیں انہیں معلوم ہے ان کا بیٹا اپنی اسنووائٹ کو منا رہا ہے"
ارتضیٰ اس کی تھوڑی پر ہونٹ رکھتے ہوئے گردن پر جھکا

"دور ہٹو اس وقت بچپن میں تم معصوم بچے رہے ہوں گے مگر اب بالکل چھچھورے ہوچکے ہو"
تعبیر نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا

"معصوم تو میں بچپن میں بھی نہیں تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا میں یہی سوچتا تھا اب اسنووائٹ میرے پاس سویا کرے گی جیسے مما بابا کے پاس سوتی ہیں،،، مگر اس وقت میرے معصوم جذبات تھے جو لاعلم تھے محبت کے باقی تقاضوں سے مگر تمہاری جدائی سے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں شدت آ چکی ہے۔۔۔۔ تمہیں ہفتہ بھر ہوچکا ہے مما کے بیڈ روم میں ڈیرہ جمائے ہوئے آج رات شرافت سے اپنے بیڈ روم میں آجانا"
وہ اسے بہت سنجیدگی سے وارننگ دیتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا

"مجھے بہت اچھا لگتا ہے مما کے پاس سونا ممتا کا احساس کیا ہوتا ہے اسے میں اب باخبر ہوئی ہوں۔۔۔ اس لیے میرا ابھی مزید دو ہفتے تک ایسا کوئی ارادہ نہیں"
وہ بھی کھڑی ہوئی اپنا دوپٹہ ٹھیک کرکے چڑانے والے انداز میں بولی

"اگر اب تم نے دوریوں کے عذاب مجھ پر مسلط کیئے اور آج رات تم بیڈروم میں نہیں آئی تو پھر دیکھنا کتنا پچھتاؤ گی تم" وہ اسے دھمکاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

"یعنی اچھی زبردستی ہے یہ"
وہ بھی روم سے نکل کر کچن میں چلی گئی جہاں مریم کھانا بنا رہی تھی

****

"مما وہ میں سوچ رہی تھی آپ کو سونے میں پرابلم ہوتی ہوگی ہفتہ بھر سے آپ میری وجہ سے ڈسٹرب ہو رہی ہوگی سونے میں" تعبیر کو کوئی اور بہانہ نہیں سوجا تو اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا اب وہ بھلا خود سے کہہ دیتی وہ خود بھی ارتضیٰ کے پاس جانا چاہتی ہے

"تمہیں ایسا کیوں سوچتی ہوں مجھے تو کوئی پرابلم نہیں ہے تمہارے پاس سونے سے ہاں ارتضیٰ کو تھوڑی پرابلم ہو رہی ہوگی تو وہ الگ بات ہے" مریم نے ہنسی چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا

"ارے نہیں اسے کیا پرابلم ہورہی ہوگی میں تو ایسے ہی آپ کی آرام کے خیال سے بول رہی تھی"
مریم کی آخری بات پر تعبیر نے جھینپ کر کہا

"اگر اسے پرابلم نہیں ہورہی پھر تو یہ اور بھی غلط بات ہے ابھی جاکر اس کے کان کھینچتی ہو پہلے تو بڑا دماغ کھاتا رہتا تھا میری اسنووائٹ میری اسنووائٹ اور اب اپنی اسنووائٹ کو اماں کے بیڈروم میں چھوڑا ہوا ہے کوئی پروا ہی نہیں ہے اسنووائٹ کی"
مریم نے مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے کہا اور ارتضیٰ کے روم میں جانے کے لیے کھڑی ہوگئی

"نہیں مما رکیں پلیز آپ اسے کچھ مت کہیں ورنہ وہ الٹا مجھ پر غصہ کرے گا"
تعبیر نے گھبرا کر اٹھتے ہوئے مریم کو روکا

"غصہ کرے گا تم پر زرا کر کے تو دکھائے گھر سے باہر نکال دوں گی میں اسے۔۔۔ آج میں جاکر اس کی خبر لی ہی لیتی ہو"
مریم کے خطرناک ارادے دیکھ کر تعبیر اور زیادہ گھبرا گئی

"مما سنیں میرا وہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔۔۔ میرا مطلب ہے وہ کہہ رہا تھا اگر میں آج اپنے بیڈ روم میں نہیں آئی تو وہ اچھا خاصا ناراض ہوجائے گا"
تعبیر تو اچھا خاصہ پھنس گئی تھی ان دونوں ماں بیٹوں کے درمیان

"اووو تو یوں کہو کہ تمہیں اپنے بیڈ روم میں جا کر سونا ہے تاکہ ارتضیٰ ناراض نہ ہو"
مریم نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کے مسکرانے پر تعبیر اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی اور نظریں نیچے جھکا لی

"مجھے خوشی ہے کہ میری بیٹی ایک اچھی بیوی ہے جو اپنے شوہر کی ناراضگی کا احساس رکھتی ہے جاو شاباش اپنے بیڈ روم میں اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میری۔۔۔۔ میاں بیوی کا ایسا رشتہ ہوتا ہے جس میں چھوٹی موٹی ناراضگیاں چلتی رہتی ہیں مگر بڑی ناراضگیوں پر بھی اپنا بیڈروم الگ نہیں کرنا چاہیے"
مریم نے اس کو پیار سے سمجھایا تعبیر اثبات میں سر ہلا کر مریم کے بیڈ روم سے نکل گئی

****

تعبیر بیڈروم کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اتضیٰ بیڈ پر لیٹا ہوا فون پر بات کر رہا تھا

"چل رکھ اب میری والی آگئی"
موبائل سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ تعبیر کے پاس آیا

"مما سے کیا بہانہ بنا کر آئی ہوں"
وہ چہرے پر مسکراہٹ لائے تعبیر سے پوچھنے لگا

"یہی کہ آپ کے بیٹے کا دل اس کی اسنووائٹ کے بنا اکیلے بیڈروم میں نہیں لگ رہا"
تعبیر کے بتانے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا

"اور اسنووائٹ کا دل کافی لگ گیا تھا اپنے بوڈی کارڈ کے بنا"
ارتضیٰ اس کا ہاتھ کھینچ کر اپنی بانہوں میں لیتا ہوا بولا

"کیوں نہیں لگتا دل برابر والا بیڈ روم سمجھو میرا میکہ ہے اگر تم نے مجھ سے کوئی بھی بدتمیزی کی تو تمھاری شکایت اپنی مما سے کر دوں گی"
تعبیر نے اسے دھمکی دی

"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے یہ دھمکی مجھے اکسانے پر دی جا رہی ہے تاکہ میں کوئی بدتمیزی کر ہی دوں"
ارتضیٰ کہنے کے ساتھ ہی اسے بانہوں میں اٹھایا اور وارڈڈوب تک لایا

"ایسی کوئی بات نہیں ہے ارتضیٰ نیچے اتارو مجھے"
تعبیر نے اسے آنکھیں  دکھاتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے اسے وارڈروب کے پاس آکر نیچے اتارا 

"میں نے اس دن کہا تھا نہ کہ اس میں تمہارے لیے کچھ ہے"
وہ کہتے ہوئے وارڈروب کا دروازہ کھولنے لگا تعبیر نے دیکھا وارڈروب میں بہت سارے گفٹ پیک اور ٹوائیز موجود تھے۔۔۔ اس نے ناسمجھی سے ارتضیٰ کی طرف دیکھا

"میں ہر سال اسنووائٹ کی برتھ ڈے پر اس کے لئے گفٹ لیتا تھا اور اسے پیک کروا کر اپنے پاس رکھ لیتا تھا یہی سوچا تھا جب تم میرے پاس آؤ گی یہ سارے گفٹ تب تم کو دوگا"
ارتضیٰ مسکراتا ہوا اسے بتا رہا تھا تعبیر اس کو غور سے دیکھنے لگی

"تمہیں یقین تھا کہ میں تمہیں دوبارہ مل جاؤگی"
تعبیر نے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے سوال کیا

"مجھے یقین تھا کہ میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا"
ارتضیٰ کی آواز پر سر اٹھا کر تعبیر نے اسے دیکھا ارتضیٰ کی آنکھوں میں اسے اپنے لئے ڈھیر سارا پیار نظر آیا

"میں بابا سے ملنا چاہتی ہوں ارتضیٰ انہیں دیکھنا چاہتی ہوں"
تعبیر نے دوبارہ ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے فرمائش کی

"کل لے چلوں گا" ارتضیٰ نے کہنے کے ساتھ اپنے ہونٹ اس کے ماتھے پر رکھ دیئے

تعبیر نے اپنے سارے گفٹ کھولے جسے دیکھ کر اس کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھرنے لگی اس کے بعد ارتضیٰ نے اسے اپنے اور اسکی بچپن کی بہت سی باتیں اور قصّے شیئر کیے جو تعبیر بہت غور سے سن رہی تھی ایک خوبصورت مسکراہٹ مسلسل اس کے چہرے پر رقصاں تھی یوں ایک حسین رات کا اختتام ہوا

****

"بابا"
تعبیر کی آواز پر وہاج صدیقی بےقراری سے اٹھ کر اس کے پاس آیا

"تابی میری بچی" اپنے سامنے تعبیر کو صحیح سلامت دیکھ کر وہاج کو اطمینان ہوا

پندرہ دن سے وہ جیل میں تھا ان 15 دنوں میں اس نے صرف مزمل کو ہی سوچا۔۔۔۔ کیسے وہ اس کل کے لڑکے کے ہاتھوں بے وقوف بن گیا

جب وہاج اور باقی لوگ پکڑے گئے ان میں مزمل نہیں تھا اس کو تبھی شک ہوا یہ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہوگا جبھی وہ خود فرار ہوگیا اس نے کتنی آرام سے نہ صرف وہاج کا اعتماد جیتا بلکہ پولیس کو اطلاع دے کر اس کا اسلحہ پکڑوایا۔۔۔ فضل یقیناً حقیقت جان گیا تھا اس لیے مزمل نے اس کو مار دیا اور اس کی بیٹی سے بھی شادی کرلی ان پندرہ دنوں میں وہ ساری کڑیاں جوڑنے کے بعد اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا

"معلوم نہیں تابی کے ساتھ کتنا برا سلوک کیا ہوگا اس نے"
وہاج کو جب یہ خیال آتا تو تڑپ اٹھتا لیکن اس وقت تابی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کے دل کو اطمینان سا اتر گیا

"بابا آپ کیسے ہیں" چاہ کر بھی وہ اپنے آپ کو مضبوط نہیں رکھ سکی آنسوؤں کے درمیان وہاج سے پوچھنے لگی۔۔۔

"میں ٹھیک ہوں میری جان تم ٹھیک ہو مزمل نے تمہارے ساتھ کچھ برا تو نہیں کیا وہ کہاں پر ہے"
ایک کے بعد ایک سوال وہاج کے دماغ میں آنے لگا

"میں بھی یہی ہو سر"
ارتضیٰ کی آواز پر وہ اس نے تعبیر کے پیچھے ارتضیٰ کو آتے دیکھا اگر یہ سلاخیں درمیان میں نہیں ہوتی تو وہ لازمی اس کا گلا دبا دیتا

"دھوکے باز غدار یقیناً تم کوئی پولیس کے مخبر ہو۔۔۔ میں تمہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا ایک دفعہ یہاں سے باہر آجاؤ"
وہاج چاہ کر بھی اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکا

یعنی مزمل کوئی پیشہ ور مجرم نہیں تھا ورنہ وہ یوں حوالات میں اتی اسانی سے نہیں آتا بلکے اب تک کہیں رو پوش ہوچکا ہوتا۔ ۔۔ وہاج کو کسی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی پھر مزمل کا تعبیر کے ساتھ آنا وہ یقینا کوئی خاص پولیس کا بندہ ہوگا یا اس کی بیک پر کوئی بھاری سپورٹ ہوگی۔۔۔۔ وہاج نے اس کو دیکھ کر سوچا

"دھوکے باز، غدار، پولیس کا مخبر میں ان سب کے علاوہ آپ کا داماد بھی ہو سر"
ارتضیٰ نے وہاج کو اپنا اور اس کا رشتہ یاد دلایا

وہاج اس کی بات سن کر اپنے جبڑے بھینجتا رہ گیا کس طرح اس نے تابی سے زبردستی نکاح نامے پر بلیک میل کر کے سائن کروائے تھے

"اور آپ یہ خوش فہمی بھی دور کر لیں یہاں سے اب آپ کبھی بھی باہر نہیں نکل سکتے۔۔۔ جیل سے بھاگے ہوئے مجرموں پر تو اور بھی سخت نظر رکھی جاتی ہے۔۔۔ دوبارہ ایسی کوشش کریں گے تو ضروری نہیں قسمت ہر بار آپ کا ساتھ دے"
ارتضیٰ نے بہت مہذب انداز سے وہاج کو سمجھایا

"دعا مل لی تم اپنے بابا سے چلو اب گھر مما ویٹ کر رہی ہوگیں ہمارا"
ارتضیٰ نے جان بوجھ کر تعبیر کو  دعا کہہ کر مخاطب کیا

"دعا"
وہاج ایک دم چونکا

"اووو ہاں آپ کو تو بتانا ہی بھول گیا سر۔۔۔۔ آپ کا تو حق بنتا ہے میرا اصل نام جاننے کا۔۔۔ ارتضیٰ،، ارتضیٰ نام ہے میرا یاور حسین کا بیٹا دعا کا شوہر کچھ یاد آیا"
ارتضیٰ کے اپنی اصلی شناخت بتانے پر وہاج صدیقی کے چہرے پر زلزلوں کے آثار نمایاں تھے کتنا بڑا گیم کھیل گیا تھا یہ لڑکا اس کے ساتھ وہاج صدیقی اس کو دیکھ کر سوچنے لگا

"ایک دفعہ آپ نے مزمل سے کہا تھا کی تابی میں آپ کی جان بستی ہے تو میرا آپ سے یہ وعدہ ہے آپ کی جان کی حفاظت میں اپنی جان سے زیادہ کروں گا دعا کے لئے آپ بے فکر ہو جائیں اور شاید دوبارہ اتنی جلدی ملوانے نہ لاسکوو"
ارتضیٰ نے وہاج صدیقی کی بجائے ایک باپ وہ اس کی بیٹی کی طرف سے اطمینان دلایا

"باہر آجاؤ میں ویٹ کر رہا ہوں"
ارتضیٰ تعبیر کے آنسو پہنچتا ہوا اس سے مخاطب ہوا اور باہر چلا گیا

"اپنا بہت خیال رکھنا"
وہاج صدیقی نے اپنے دونوں ہاتھ سلاخوں سے باہر نکال کر تعبیر کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تعبیر افسردہ دل کے ساتھ وہاں سے باہر نکل گئی

****

"اب بس بھی کر دیں آپ دونوں جلدی آ جائے چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے" اریش اور ہانی کرکٹ کھیلنے میں مصروف تھے مشعل وہی چائے اور باقی لوازمات کے ساتھ لان میں آئی اور ان کو مخاطب کرکے کہنے لگی

"ڈیڈ ہانی کی مما ڈے بائے ڈے بہت بورنگ ہوتی جارہی ہیں خود بھی انجوائے نہیں کرتی ہمیں بھی نہیں کرنے دیتی"
ہانی منہ بناتا ہوا ٹیبل پر آیا

"میری جان میں تمہاری بات سے اس وقت اتفاق نہیں کر سکتا۔۔۔ بورنگ والی بات کا برا مان کر ہانی کی مما میری سیٹرڈے نائٹ بور نہ کردیں"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر معنیٰ خیزی سے کہا

"اریش کبھی تو سیریس ہو جایا کریں"
مشعل نے اسے گھورتے ہوئے کہا ہانی چیئر پر بیٹھا ہوا ڈونٹ سے انصاف کرنے لگا

"میں تو سیریس ہوں آج رات بس تم مجھے سیریس لینا پچھلی سیٹرڈے نائیٹ کی طرح بہانے مت بنانا"
مشعل جوکہ اریش کے لیے اسپیگیٹیز نکال رہی تھی اس کی بات سن کر ہاتھ میں پکڑا ہوا فورک اس کے ہاتھ پر چھبویا

"ہانی کی مما تو ڈے بائے ڈے کافی ڈینجر بھی ہوتی جارہی ہیں"
اریش نے مظلومیت سے کہا جس پر ہانی ہنسنے لگا

"اریش بی سیریز،، کل ارباز بھائی کی طرف چلتے ہیں ہانی آپ کے بنا روکے گا نہیں کم از کم میں تین چار گھنٹے تو اپنے بھائی کے پاس گزار لو"
مشعل ہانی کی وجہ سے صرف دو بار ارباز کے گھر گئی تھی اور دونوں دفعہ اسے تھوڑی دیر بعد ڈیڈ یاد آنے لگے

"یار اب کل کا پروگرام تو کینسل کر دو کل ارتضیٰ نے بلایا ہے اپنے گھر اور ہم دونوں کو ڈنر پر۔۔۔۔ میں اسے ڈن کر چکا ہوں ارباز کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ کا رکھ لو"
اریش نے التجائی انداز میں اسے دیکھ کر کہا

"آپ تو ایسے منتیں کر رہے ہیں جیسے میں آپ کی بات نہیں مانو گی ٹھیک ہے ارباز بھائی کی طرف نیکسٹ ویک اینڈ پر چلے جائے گیں"
مشعل نے مسکرا کر چائے پیتے ہوئے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیا

"اور آج سیٹرڈے نائٹ کا پروگرام ڈن ہے"
اریش نے پھر سے معنی خیزی سے بولتے ہوئے اسے چھیڑا

"سدھر جائیں اریش اس کے کان یہی لگے ہوں گے ہمیشہ آپکی ہی تو چلتی ہے بلاوجہ میں تنگ مت کریں"
مشعل نے انکھیں دکھاتے ہوئے اس سے کہا

"بات دراصل یہ ہے میں سوچ رہا ہوں اب ہانی کی بہن کو آجانا چاہیے اس لیے اس مسئلے پر سیریس ہوکر عمل کرنا چاہیے ہمیں"
اریش کی بات سن کر مشعل نے اپنا سر پکڑ لیا 

خوشگوار ماحول میں وہ تینوں چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے تبھی ولی گیٹ سے اندر آتا دکھائی دیا وہ انہی کی طرف آ رہا تھا

"مما ڈیڈ یہ وہی انکل ہیں اصلی نقلی کرنے والے"
ہانی نے ولی کو دیکھ کر انہیں یاد دلایا وہ دونوں اسی کو آتا دیکھ رہے تھے مشعل کے چہرے پر ایک دم سنجیدگی چھا گئی

"ہانی اندر چلو" مشعل ہانی کو مخاطب کر کے خود بھی کھڑی ہوگئی اور ہانی کو لے کر اندر چلی گئی جبکہ اریش نظروں میں اس کے آنے کا مقصد پوچھنے لگا

"میں یہاں کوئی رنگ میں بھنگ ڈالنے نہیں آیا ہوں کل میری فلائٹ ہے میں کینیڈا جا رہا ہوں آخری بار ہانی کو دیکھنا چاہتا ہوں اور مشعل سے معافی مانگنا چاہتا ہوں وہ بھی اگر تمہاری اجازت ہو تو"
ولی نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا

****

"معلوم نہیں آخر یہ شخص چاہتا کیا ہے پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتا میرا"
مشعل ہانی کے ساتھ صوفے پر بیٹھی تلخی سے سوچ رہی تھی جبھی اس کی نظر اریش پر پڑی مگر اس کے پیچھے ولی کو آتا دیکھ کر وہ حیرانی سے اریش کو دیکھنے لگی ولی چلتا ہوا ہانی کے پاس آیا

"کیسے ہو بیٹا"
ولی نیچے جھک کر ہانی سے پوچھنے لگا

"ہانی صرف ڈیڈ اور مما کا بیٹا ہے۔۔۔ اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا انکل"
ہانی ولی کو سمجھانے لگا

"ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔۔۔اصلی نقلی کچھ نہیں ہوتا یہ بات انکل کو بھی دو دن پہلے سمجھ میں آئی ہے۔۔۔ اس دن انکل تمہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے تمہیں ڈانٹا اس کے لیے سوری کہنے آیا ہوں اور اب انکل جا رہے ہیں ہمیشہ کے لئے۔۔۔ تم اپنے مما اور ڈیڈ کے ساتھ خوش رہنا"
ولی نے ہانی کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا کھڑا ہوکر مشعل کے پاس آیا

"میں نے تمہیں ہرٹ کیا اس کے لئے میں شرمندہ ہوں۔۔۔ تم نے اسے ٹھیک کہا میں نے تم سے رشتہ تو بنالیا مگر مجھے اس رشتے کو نبھانا نہیں آیا ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا"
ولی باہر جانے سے پہلے اریش کے پاس آیا

"مشعل نے بالکل ٹھیک کہا تم واقعی ایک اچھے انسان ہو بالکل پرفیکٹ۔۔۔ تم مشعل اور ہانی کو ڈیزرو کرتے ہو تم ہی ہانی کے فادر ہو۔ ۔۔ مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم ہانی کا خیال رکھنا مجھے یقین ہے کہ تم ہمیشہ اس کا خیال رکھو گے"
ولی اریش سے بولتا ہوا گھر سے نکل گیا

****

"کب تک اس طرح اداس رہو گی"
تعبیر جب سے وہاج صدیقی سے مل کر آئی تھی خاموش خاموش تھی مریم کافی دیر تک اسے اِدھر اُدھر کی باتیں کر کے اس کا دل بہلاتی رہی رات کا کھانا کھانے کے بعد مریم اپنے روم میں چلی گئی تاکہ عشاء کی نماز ادا کرسکے تو ارتضیٰ تعبیر کے پاس آ کر بولا

"ارتضیٰ تمہیں اندر سے گلٹ فیل نہیں ہوتا کہ ایک مجرم کی بیٹی تمہاری بیوی ہے"
تعبیر نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ کر اس سے کہا

"بس ہو گئی تم فضول قسم کے احساس کمتری میں مبتلا،، اب میری بات غور سے سنو تمہارا سیکنڈائیر اسٹارٹ ہو چکا ہے کل چل کر میرے ساتھ اپنے کورس کی بکسز لے کر آؤ اور یونیورسٹی جانا اسٹارٹ کرو"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اس کو مشورہ دیا وہ آنکھوں میں آنسو لیے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی تو ارتضیٰ نے اس کا چہرہ تھاما

"مجھے کسی بھی قسم کا گلٹ فیل نہیں ہوتا۔۔۔ تعبیر تم وہاج صدیقی کے ساتھ ساتھ عائشہ آنٹی کی بھی بیٹی ہو جس کو میں بچپن سے بہت پسند کرتا تھا جس دن ہمارا نکاح ہوا تھا انہوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں تمہارا ہمیشہ خیال رکھوں گا اور تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھوں گا مگر میں صرف اس وعدے کو نبھانے کے لیے تمہارا خیال نہیں رکھتا بلکہ تمہیں پا کر میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں مجھے بچپن سے ایک اسنووائٹ پسند تھی جو اب ہمیشہ کے لئے میری ہے"
اپنی باتوں سے ارتضیٰ اس کو کافی حد تک بہلانے میں کامیاب ہوگیا

"چلو چل کر بیڈ پر لیٹو کل ڈنر پر اریش اور مشعل بھابی کو انوائٹ کیا ہے تمہیں مشعل بھابی سے مل کر اچھا لگے گا"
ارتضیٰ صوفے سے اٹھتا ہوا بولا تو تعبیر بھی اٹھنے لگی مگر اچانک زور سے چکر آنے پر اس سے پہلے وہ گرتی ارتضیٰ نے اس کو تھام کر واپس صوفے پر لٹایا

"تعبیر کیا ہوا تمہیں"
ارتضیٰ نے پریشان ہو کر اس سے پوچھا مگر وہ آنکھیں بند کئے لیٹی رہی

"کیا ہوا ارتضیٰ" ارتضیٰ کے زور سے بولنے پر نماز پڑھتی ہوئی مریم اس کے روم میں آگئی

"شاید بی پی لو ہوگیا ہے اس کا"
وہ تعبیر کے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولنے لگا

"جاو پانی لے کرو میں دیکھتی ہوں مریم نے ارتضیٰ سے کہا اور تعبیر کا سر اپنی گود میں رکھ کر تعبیر کو آواز دینے لگی۔۔۔۔ مریم کی مدد سے ارتضیٰ نے اسے پانی پلایا تو تعبیر نے آنکھیں کھولی

"آج صبح بھی تو تمہیں چکر آ رہے تھے نہ تعبیر"
مریم نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر کو مخاطب کیا

"جی مما بس ویسے ہی ویک نیس فیل ہو رہی تھی"
تعبیر نے آہستہ آواز میں بولا وہ ان دونوں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی

"ویسے ہی کچھ نہیں ہوتا کھانا ڈھنگ سے کھایا کرو تم"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کہا

"اچھا پریشان نہیں ہوں ایک منٹ کے لئے روم سے باہر جاو تم"
مریم نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا مریم کی بات اسے سمجھ تو نہیں آئی مگر وہ روم سے باہر نکل گیا

"کل ہی یونیورسٹی کا چکر لگا کر معلوم کروں گا کہ کلاسز کب سے اسٹارٹ ہیں۔۔۔۔ ورنہ تو پتہ نہیں کیا کیا الٹی سیدھی باتیں سوچتی رہے گی"
ارتضیٰ لانچ میں ٹہلتا ہوا سوچ رہا تھا تو مریم مسکراتی ہوئی اس کے روم سے نکلی

"کیا ہوا"
اس کے مسکرانے پر ارتضیٰ نے سنجیدگی سے مریم کو دیکھ کر پوچھا تو مریم مسکراہٹ مزید گہری ہوئی

"کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے خیال رکھا کرو اپنی اسنووائٹ کا"
وہ ارتضیٰ کے پاس آکر اسے پیار کرتے ہوئے بولی اور اپنے روم میں چلی گئی

"تو اس میں اتنا خوش ہونے والی کونسی بات ہے آخر" وہ سوچتا ہوا اپنے روم میں آیا مگر روم میں آکر اس نے تعبیر کے چہرے پر بھی شرمیلی سی مسکان دیکھی وہ اب بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ایک خیال سا اس کے ذہن میں آیا ارتضیٰ نے بیڈروم کا دروازہ بند کیا اور چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا

"ہہہمم۔ ۔۔۔۔ تو کیا ہوا ہے تمہیں"
وہ اپنی مسکراہٹ چھپائے بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتا ہوا گہری نگاہوں سے اس دیکھ کر بولا

"ویسے تو بغیر بولے میری دل کی ہر بات جان لیتے ہو"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر کہا سارا دن کی چھائی ہوئی اداسی اب کہیں غائب ہوچکی تھی اب تعبیر کی چہرے پر ایک الگ ہی چمک تھی تعبیر کی بات پر وہ مسکرایا

"دیکھا تمہیں لگتا تھا صرف کس کرنے سے بےبی آجائے گا"
ارتضیٰ نے شرارتی انداز اپناتے ہوئے کہا جھک کر اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھے

"کل میں نے تمہیں ڈھیر سارے گفٹ دئیے جو میں نے بچپن سے تمہارے لیے اب تک لے کر رکھے تھے مگر تم نے مجھے ایک ہی گفٹ آج ایسا دیا ہے جو ان سب پر بھاری ہے"
ارتضیٰ کے کہنے پر تعبیر نے اس کو دیکھا

"تم خوش ہو"
خوشی ارتضیٰ کے چہرے سے چھلک رہی تھی پھر بھی تعبیر نے پوچھا

"بہت زیادہ"
ارتضٰی نے اس کو بانہوں میں لیتے ہوئے کہا

****

'اوہو اسنووائٹ تم بہت اچھی لگ رہی ہو آپ ہٹو آئینے کے سامنے سے اریش اپنی فیملی کے ساتھ آتا ہی ہوگا اور پہلے ہی بتا رہا ہوں اس نے جو کچھ کیا وہ میرے کہنے پر کیا۔۔۔ اس لیے نو بدتمیزی،، ایک ہی دوست ہے میرا وہ بھی بہت اچھا"
ارتضیٰ پیچھے سے آتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے کر کہا

"معلوم ہے مجھے ایک تم اچھے ہو اور ایک تمہارا دوست اور تم دونوں نے مل کر مجھے بیوقوف بنایا ہے"
تعبیر اس کی بات پر اسے کاٹ کھانے کو دوڑی

"افوہ غصہ نہیں میری جان،، بےبی کی صحت پر برا اثر پڑے گا اسے ہمہیں محبت بانٹنے والا بنانا ہے"
ارتضیٰ نے اس کو آئینے میں سے دیکھ کر مخاطب کیا

"یہ تمہاری اولاد ہے بے فکر رہو تم پر ہی جائے گی اور خوب محبت بانٹیں گی"
تعبیر نے اس کا ہاتھ اپنے پیٹ سے ہٹاتے ہوئے کہا اور اس کو گھورتی ہوئی روم سے نکل گئی۔۔۔ کچن میں جا کر سارے ارینجمنٹ دیکھنے لگی

****

"اور سنا کیسا ہے" اریش ارتضیٰ کے گلے لگ کر مخاطب ہوا اسکے بعد مریم سے ملنے لگا جبکہ ارتضیٰ مشعل سے سلام دعا کرنے لگا

"انٹی میں آپ سے ناراض ہوں آپ مجھے ارتضیٰ کی طرح اپنا بیٹا سمجھتی ہیں مگر بیٹے کی شادی میں نہیں آئی"
اریش نے صوفے پر بیٹھ کر مریم کو مخاطب کیا جبکہ مشعل جب مریم سے ملی تو مریم اس سے بہت اچھے طریقے سے ملی مشعل سوچ میں پڑھ گئی انہیں پہلے کہا دیکھا ہے وہ سوچتے ہوئے اریش کے برابر میں بیٹھی۔۔۔ ہانی ارتضیٰ کی گود میں بیٹھا ہوا اس کی باتوں کا جواب دے رہا تھا

"اس کے لئے تو مجھے واقعی افسوس ہے مگر میں نے تمہیں فون پر بتایا تھا اپنی طبیعت کا بی پی بہت ہائی تھا اس دن میرا اور دوسرا ارتضیٰ کا بھی تو تمہیں معلوم ہے وہ میرے پاس موجود نہیں تھا۔۔۔ مگر تم کیوں نہیں آئے بعد میں اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر میرے پاس"
مریم نے وجہ بتاتے ہوئے آخر میں اس کی خبر لی

"مما سہی سے کلاس لیں اس کی یہ ابھی بھی نخرے دکھا رہا تھا بہت مشکلوں سے یہاں آنے پر راضی ہوا ہے"
ارتضیٰ نے بیچ میں بولنا فرض سمجھا

"یہ تو ٹھیک کہا آپ نے مجھے آنا چاہیے تھا مگر کچھ افس کی مصروفیت ہی ایسی تھی کہ ٹائم نہیں نکال پایا"
اب اریش انکو کیا بتاتا اصل وجہ تعبیر ہے جس کا سامنا کرنے سے وہ کترا رہا تھا یہی جواز ارتضیٰ کے پوچھنے پر اسے بتایا تو اس نے سیدھی سیدھی دھمکی دی

"اگر تو نہ آیا تو میں اپنی والی کو تیری والی کے پاس بھیج دونگا پھر میری والی تیری والی ہو تیرے سارے کارنامے بتائے گی"

"یاد آگیا آنٹی آپ عائشہ پھپو کی دوست ہیں نا میں کب سے سوچ رہی ہوں میں نے آپ کو کہا دیکھا ہے اور یہ وہی گھر ہے جہاں میں اور ارباز بھائی امی ابو کے ساتھ عائشہ پھپھو کی ڈیتھ پر آئے تھے مشعل کے ایک دم بولنے پر ڈرائنگ روم میں سناٹا چھا گیا وہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی تعبیر بھی چونکی

"تم مشعل ہو انوار بھائی اور نزہت بھابی کی بیٹی اور عائشہ کی بھتیجی مریم کو5سالہ مشعل یاد آئی جب وہ عائشہ سے ملنے آتی تو اکثر وہ بچی سلام کرنے اس کے پاس آتی اور عائشہ کے انتقال پر بھی تو وہ انوار بھائی اور بھابھی کے ساتھ ہو یہاں آئی تھی

"آنٹی دعا کہاں ہے وہ تو آپ لوگوں کے پاس کی نا"
مشعل کو آپ اپنی چھوٹی سی ایک کزن یاد آئی تو مریم سے بے قراری سے پوچھا

ارتضیٰ کی نظر روم کے دروازے پر گھڑی تعبیر پر پڑی وہ اٹھ کر اس کے پاس آیا اور اسے لے کر مشعل کے پاس

"یہ ہے دعا آپ کی کزن اور میری بیوی"
ارتضیٰ کے بتانے پر مشعل اور تعبیر دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہی تھی مشعل نے مسکرا کر تعبیر کو گلے لگایا تو تعبیر کی آنکھوں میں پہلے بے یقینی اور اب انسو آگئے

نہیں تھا تو کوئی رشتہ نہیں تھا اب اچانک ایک ساتھ کتنے رشتے مل گئے اور دوسری طرف مشعل کو اپنی بچھڑی ہوئی کزن کی صورت میں بہن مل گئی ان دونوں کو گلے لگا دیکھ کر مریم ارتضیٰ اور اریش خوش ہوگئے


🌹🌹🌹

0 comments:

Post a Comment