🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
second last epi 44
تعبیر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی تاکہ ارتضیٰ کے آنے سے پہلے شاور لے کر روم سے نکل جائے وہ ارتضیٰ کی موجودگی میں بیڈروم میں قدم نہیں رکھ رہی تھی بلکہ جب سے مریم آئی تھی وہ مریم کے بیڈروم میں اسکے ساتھ ہی سو رہی تھی۔۔۔۔
مریم کا سنگل بیڈ اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا کہ وہ دونوں آرام سے سو ناسکے اس نے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ کر رکھے اس کی نظر وارڈروٹ کے دوسرے پورشن پر پڑی غیر ارادی طور پر اس نے دروازہ کھولنا چاہا،،، ارتضیٰ نے اسے پہلے یہی بتایا تھا کہ اس پورشن میں اس کے لیے کچھ موجود ہے
پتہ نہیں یہ انسان اور کیا کیا بم پھوڑے گا یہ میرے سر پر
اُس پورشن کو لاکڈ دیکھ کر بے دلی سے سوچتی ہوئی وہ پلٹی تو اپنے قریب ارتضیٰ کو دیکھ کر ڈر گئی ارتضیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں موجود شاپرز وہی کھڑے بیڈ پر اچھالے
"زہے نصیب آج تین دن بعد اسنووائٹ نے اپنے بیڈ روم کو اپنا دیدار کرا ہی دیا"
وہ مزید قریب آ کر بولا تو تعبیر وارڈروب سے جا لگی اس نے دونوں ہاتھ وارڈروب پر رکھ کر اس کا راستہ بند کیا
"مجھے شاور لینے جانا ہے ارتضیٰ پیچھے ہٹو"
اسکی شوخ بھری نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولی
"ایک شرط پر تم شاور لے کر میرا لایا ہوا ڈریس پہنوگی" ارتضیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے اپنائیت سے کہا اور شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ یہ ڈھیر ساری شاپنگ اس کیلئے کر کے لایا تھا
"اور تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہوگئی کہ میں ایسا کروں گی"
تعبیر نے طنزیہ انداز میں اس سے پوچھا
"خوش فہمی نہیں مجھے پورا یقین ہے کہ تم ایسا کرو گی،، میری لائی ہوئی ایک ایک چیز آج استعمال میں لاو گی"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کانفیڈنس سے کہا
"میں تو ایسا خود سے کچھ بھی نہیں کرنے والی،، تم میں اگر ہمت ہے تو مجھ سے کروا کے دیکھ لو"
اس کا کانفیڈینس دیکھ کر تعبیر کو آگ ہی لگ گئی تھی اس لئے تپ کر بولی
"اوکے اگر میں نے ایسا تم سے کرا دیا تو آج ہم دونوں رومنٹک مووی دیکھیں گے"
ارتضیٰ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لا کر بولا تعبیر کے دوسری سائیڈ رخ کرنے پر ارتضیٰ کے ہونٹ اس کے گال پر ٹچ ہوئے وہ اس کو پیچھے دھکیلتی ہوئی اس کی ہوئی کمرے سے نکل گئی
***
"ابھی تک شاور نہیں لیا تم نے تم تو کہہ رہی تھی کہ دس منٹ میں آتی ہوں"
مریم نے تعبیر کو اسی حلیے میں دیکھ کر پوچھا
"بہت نخرے ہیں مما آپکی بیٹی کے،، میں اتنی محبت سے اس کے لئے شاپنگ کرکے لایا اور کہہ رہی ہے تمہارے لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنوں گی میں اس برانڈ کے کپڑے زیب تن نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا میرا ٹیسٹ ہے"
اچانک روم میں آکر ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ تعبیر کو ارتضیٰ سے اتنی بدتمیزی کی توقع ہرگز نہیں تھی کیسے منہ پھاڑ کر وہ مریم کے سامنے جھوٹ بول رہا تھا برانڈ کا تو اس نے ذکر ہی نہیں کیا تھا
"تعبیر ایسے نہیں کہتے بیٹا ارتضیٰ تمہارے لیے دل سے وہ کپڑے لے کر آیا ہے صرف تھوڑی دیر کے لئے اس کا دل رکھنے کے لیے پہن لو،، کل میں خود چل کر تمہیں تمہاری پسند کے کپٹرے دلا دو گی"
مریم کے اس طرح سمجھانے پر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہی ہوگئی
"اسے رہنے دے مما یہ دو ڈریس میں آپ کے لئے بھی لے کر آیا تھا اپنی پسند سے۔۔۔۔ آپ پہننے گیں تو میں خوش ہو جاؤں گا"
معصوم سی شکل بنا کر ارتضیٰ نے مریم سے کہا جس پر تعبیر کو شدید غصہ آیا
"میں بھی پہنوں گی اور تمہاری اسنووائٹ بھی پہنے گی۔۔۔۔ جاؤ بیٹا تعبیر"
مریم نے پیار سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی مما"
تعبیر نے مریم کو کہتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھا جو اسے آنکھ مار کر مسکرا رہا تھا
****
تعبیر روم میں ائی وارڈروب کھولا تو اس کے وہ سارے کپڑے غائب تھے جو وہ بیگ میں رکھ کر اپنے گھر سے لائی تھی۔۔۔۔ بلکہ سارے ارتضیٰ کے لائے ہوئے ڈریس ترتیب سے ہینگ ہوئے تھے کپڑوں کے علاوہ دوسری بہت ساری چیزوں سے وارڈروب بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ سارے ڈریس ہی پیارے تھے اس نے اپنے لئے ایک ڈریس منتخب کیا اور شاور لینے چلی گئی۔۔۔ ۔
شاور لے کر نکلی تو ارتضیٰ روم میں ہی موجود تھا
فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی وہ تعبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تعبیر اس کو اگنور کرتی ہوئی ہے دریسر کے سامنے کھڑے اپنے بال سلجھانے لگی
"اندر باہر سب سائز پرفیکٹ ہے نا"
اس کے پیچھے کھڑے ہوکر شیشے میں سے تعبیر کو دیکھتا ہوا انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی بہت ہی سیریس بات ہو تعبیر منہ سے کچھ نہیں بولی مگر دل میں سوچنے لگی
"اگر یہ شخص شوہر نہیں ہوتا تو میں اسے کمینہ ضرور کہتی"
"تمہارے فیس ایکسپریشن سے کچھ ایسا ساونڈ آرہا ہے جیسے تم مجھے کمینہ کہہ رہی ہو"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر نے پلٹ کر اپنے ہاتھوں سے اسے سینے اور کندھے پر مارنا شروع کر دیا
"یار کیا کر رہی ہو،، شوہر ہوں تمہارا" اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ارتضیٰ نے تعبیر کو کہا
"تعبیر"
مریم جو کے ارتضیٰ کی آواز سن کر،، ان کے بیڈروم کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر روم میں آئی اور اپنے لال کی پٹائی ہوتے دیکھی تو حیرت سے تعبیر کو پکارا
"مما یہ مجھے پتہ نہیں کب سے تنگ کر رہا ہے میں نے کوئی برانڈ ورانڈ کی بات نہیں کی تھی اس نے فضول میں آپ سے جھوٹ بولا۔۔۔ اگر میرا ٹیسٹ ایسا ہوتا تو میں اسے کبھی منہ نہ لگاتی۔۔۔ ابھی بھی چھچھورے سوالات پوچھ کر مجھے تنگ کر رہا ہے"
تعبیر مریم کے گلے لگ کر اپنی صفائی دیتے ہوئے رونے لگی۔۔۔ جبکہ اس کی آخری دو باتوں پر جہاں مریم سٹپٹائی وہی ارتضیٰ اچھا خاصہ شرمندہ ہوگیا اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ اس کی اسنووائٹ اتنی بے وقوف ہے وہ مریم کے سامنے منہ پھاڑ کر ایسے باتیں بتائے گی
"اف میری بچی رونے کی کیا بات ہے وہ تمہیں ایسے ہی تنگ کر رہا ہوگا۔۔۔۔ ارتضیٰ اب تم بری طرح پٹو گے میرے ہاتھوں سے اگر اب تم نے تعبیر کو تنگ کیا۔۔۔ چلو ہم اپنے روم میں چلتے ہیں"
مریم ارتضیٰ کو ڈانٹ کر تعبیر کو چپ کراتی ہوئی اپنے روم میں لے گئی
****
رات بارش کی وجہ سے ہلکی ہلکی خنکی ہوگئی تھی تعبیر اور مریم رات کا کھانے سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آ گئی مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ تعبیر برابر میں چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں داخل ہوا ایک نظر تعبیر پر ڈال کر چہرے سے ہنسی چھپاتا ہوا مریم سے مخاطب ہوا
"آئے مما مووی دیکھتے ہیں"
بولنے کے ساتھ ہی وہ ڈی وی ڈی میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کون سی مووی ہے"
مریم نے یونہی ارتضیٰ سے پوچھا
"فل ایکشن سے بھرپور ہے مما"
ایک نظر تعبیر کے چہرے پر ڈال کر اس نے مریم کو جواب دیا جس پر تعبیر تو تپ گئی جبکہ مریم ارتضیٰ کو آنکھیں دکھانے لگی مووی لگا کر ارتضیٰ بھی بیڈ پر آکر مریم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اس کے برابر میں لیٹتے ہی تعبیر اٹھ کر بیٹھ گئی
"لیٹ جاؤ تم بھی سردی لگ رہی ہے تمہیں"
تعبیر کو اٹھتا دے کر مریم اس سے مخاطب ہوئی تو اس نے نفی میں سر ہلایا
"نازک مزاج لوگوں کے کیا کہنے دوسروں کو مار کر ٹھنڈ نہیں پڑتی بلکے خود انہیں ٹھنڈ لگ جاتی ہے"
ارتضیٰ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے بولا
"ارتضیٰ منہ بند بالکل"
مریم کی تنبہبی پر وہ خاموش ہوگیا اور چادر کا سرہ کھینچ کر اپنے سینے پر بھی ڈال لیا
تھوڑی دیر بعد جب تعبیر مووی میں مشغول ہوگئی کافی دیر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے سے اس کی ٹانگیں شل ہوگئی۔۔۔ اس نے ٹانگیں پھیلائی،، تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اسے اپنی پنڈلیوں پر ارتضیٰ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا اس نے ارتضیٰ پر نظر ڈالی تو وہ بڑے انہماک سے اسکرین کی طرف نظریں جمائے مووی دیکھنے میں مشغول تھا اب تعبیر مریم کو اس کے معصوم بیٹے کے بارے میں کیا بتاتی کہ وہ چادر کی آڑ میں کیا چھچھور پن میں مشغول ہے تعبیر نے اپنے پاؤں سمیٹ کر اوپر کرنے چاہے تو ارتضیٰ نے اس کا پاؤں پکڑ کر کوشش ناکام کر دی
"مما ویسے میرے لائے ہوئے ڈریس میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں"
ارتضیٰ نے اسکرین پر نظریں جمائے مریم کو مخاطب کیا
"ماں کی آڑھ میں بیوی کی تعریف کر کے مجھے بیوقوف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صاف کہو اسنووائٹ اچھی لگ رہی ہے تمہیں"
مریم کی بات پر ارتضیٰ نے قہقہ مارا وہی تعبیر جھینپ گئی
"پر اس وقت مجھے آپکی ہاتھ کی کافی پینے کا موڈ ہو رہا ہے اس لیے آپ کی تعریف کی ہے"
ارتضیٰ نے شرارت سے ہنستے ہوئے مریم کو دیکھ کر کہا
"بدمعاش"
مریم اس کے کندھے پر چپت لگاتے ہوئے کافی بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی
"چھوڑو میرا پاؤں" مریم کے روم سے جانے کے بعد تعبیر نے غرا کر کہا ارتضیٰ نے اس کو دیکھا اور جھٹکے سے اس کا پاوں نیچے کھینچا تو وہ پھسلتی ہوئی ارتضیٰ کے برابر میں جالیٹی
"پیچھے ہٹو ورنہ ابھی مما کو بلا لوں گی"
تعبیر نے اسے اپنے اوپر جھگتا دیکھتے ہوئے دھمکی دی
"میری مما اتنی بیوقوف ہرگز نہیں ہے کہ تمہارے بلانے سے آجائے گیں کچھ سوچ کر ہی وہ میرے ایک دفعہ کہنے پر کافی بنانے چلی گئی یقین نہیں آتا تو آواز دے کر دیکھ لو"
ارتضیٰ نے اس کی تھوڑی کے خم پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا
"تم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے میرے ساتھ"
تعبیر نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"دوپہر میں تمہارے ایکشن آن تھے تو اب رات میں میرے ایکشن میں آنے کا موڈ ہے"
وہ اس کی گردن پر جھگتا ہوا بولا
"تم مجھے اس طرح بے بس نہیں کرسکتے"
تعبیر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"بس بھی کردو تعبیر اب"
ارتضیٰ نے اٹھ کر بیچارگی سے کہا وہ اسے پیار سے منانا چاہتا تھا زبردستی اس پر حق جتا کر نہیں
"پیار کیا ہے تو برداشت بھی کرو" تعبیر اسے بولتی ہوئی خود بھی کچن میں چلی آئی
****
مشعل تھوڑی دیر پہلے ہی پاسٹا بنا کر فارغ ہوئی تھی ہانی اسکول سے آنے کے بعد دو دن سے اسے کھانے میں بہت تنگ کر رہا تھا اس لئے آج اس نے اس کے من پسند پاستا بنایا اریش کو بھی اس کے ہاتھ کا پاستا بہت پسند تھا۔۔۔۔ ہانی اسکول سے آنے ہی والا تو اس سے پہلے وہ شاور لینا چاہتی تھی اتنے میں مشعل کے موبائل پر کال آئی
"ہیلو کون"
مشعل نے مگن انداز میں کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"تمہیں بتانے کے لیے کال کی ہے کہ ہانی کی اسکول سے چھٹی ہوتے ہی میں اسے اپنے ساتھ لے کر آ گیا ہو۔۔۔ تمہیں ہانی کے ساتھ رہنا ہے تو اب اس کے اصلی باپ کے ساتھ رہنا ہوگا میرے گھر کے اور دل کے دروازے کھلے ہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"
ولی اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹ چکا تھا مگر مشعل وہی صوفے پر بیٹھ گئی لیکن یہ وقت اس طرح بیٹھنے کا بھی نہیں تھا وہ فیصلہ کرتی ہوئی اٹھی
"سعیدہ ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے میں دس منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں"
مشعل سعیدہ سے بولتی ہوئی اپنی روم میں چلی گئی
****
"انکل ہانی کو مما اور ڈیڈ کے پاس جانا ہے"
ہانی کو وہ انکل اچھے لگے تھے اسے پیار کر رہے تھے ڈھیر سارے ٹوائز اور چاکلیٹز بھی اس کے لئے لائے تھے مگر اب اسے اپنے مما اور ڈیڈ یاد آنے لگے
"تمہاری مما ابھی آجائے گیں تھوڑی دیر میں، لیکن ڈیڈ تو تمہارا میں ہوں وہ ڈیڈ تھوڑی ہے بیٹا اب تم مجھے ڈیڈ بولا کرو"
ولی نے پیار سے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"نہیں ہانی کے ڈیڈ صرف ایک ہیں اس کے گھر پر۔۔۔ آپ اچھے ہو پر ڈیڈ نہیں ہو آپ ہانی کے۔ ۔۔ ہانی کو اپنے ڈیڈ چاہیے اپنی مما چاہیے ہانی کو اپنے گھر جانا ہے اب"
ہانی کو برا لگا انکل نے اسکے ڈیڈ کو اس طرح کہا
"میں نے کہا ہے نہ میں ہوں تمہارا ڈیڈ وہ نہیں ہے تمہارا ڈیڈ سمجھ میں نہیں آتی تمہیں۔۔۔ اب یہی تمہارا گھر ہے یہی رہوں گے تم بھی اور تمہاری مما بھی"
ولی کے سخت لہجے پر ہانی سہم گیا
"مما"
مشعل دروازہ کھول کر اس کے گھر کے اندر آئی تو ہانی بھاگتا ہوا اس سے لپٹ گیا ولی نے مڑ کر مشعل کو دیکھا اسٹائلش سے ڈریس میں ہلکے میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ ولی خیر مقدم والے انداز میں مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا
"مجھے پورا یقین تھا تم میرے پاس ضرور آوگی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،،، مشعل تم شاید یقین نہیں کرو میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں دیکھو ابھی تک اکیلا ہوں مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ تم نے مجھے سزا دی دوسری شادی کرلی میں نے بھی تو غصے میں بہت غلط کیا تھا تمہارے ساتھ مگر پلیز اب میری سزا ختم کر کے مجھے معاف کر دو میں تمہیں اور ہانی کو بہت خوش رکھوں گا میرا یقین کرو"
ولی نے اس کو یقین دلانے کے لیے آخر میں اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مشعل جو چپ کرکے اس کی ساری بات سن رہی تھی ولی کے ہاتھ تھامنے پر اس نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے ولی سکتے میں آگیا
"میں نے چند دن پہلے بھی تمہیں کہا تھا کہ تم اپنی حد میں رہو میں تمہاری بیوی نہیں ہو جو تم مجھے بار بار چھونے کی غلطی کرتے ہو اور کیا کہہ رہے تھے تم تمہیں یقین تھا کہ میں تمہارے پاس ضرور آو گی"
مشعل نے طنزیہ ہنستے ہوئے اسے دیکھا ولی اب بھی چپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا
"وقت گزرنے کے ساتھ تم کافی خوش فہم نہیں ہوگئے ولی۔۔۔ میں آج یہاں تمہاری خوش فہمی دور کرنے آئی ہو۔ ۔۔ تم مجھے یقین دلا رہے تھے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تم ایک خود غرض اور بے حس انسان ہو تم صرف اپنے آپ سے محبت کرتے ہو ولی۔۔۔۔ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوتی تو تم کبھی بھی میرا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاتے بے حس انسان ہو تم کیوکہ جس وقت تم نے مجھے طلاق دی تمہیں اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں آیا تمہیں یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ تمہارے جانے کے بعد ہم دونوں کا کیا ہوگا۔۔۔۔ میں اکیلی لڑکی جو کہ پہلے ہی اپنے بھائی کا گھر تمہارے بھروسے چھوڑ کر آئی تھی تم نے سوچا کہ تمہارے جانے کے بعد میں تمہاری اولاد کو لے کر کہاں جاؤں گی اور تم ہوتے کون ہو میری دوسری شادی پر مجھ سے شکوہ کرنے والے میں نے شادی کرکے تمہیں سزا نہیں دی تم جیسے کمزور مرد کو میں کیا سزا دوں گی کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تو تمہیں خود اپنی مردانگی کا پتہ چلے گا مرد ایسا نہیں ہوتا ولی جو پریشانیوں میں برے حالات میں اپنی بیوی اور بچے قطعی تعلق کر کے اسے بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ جائے کبھی تم نے سوچا تمہارے پیچھے میں تمہارے بچے کو کیسے پالوں گی آج تمہیں ہمہیں دیکھ کر ہماری محبت جاگ اٹھی ہے"
مشل سانس لینے کے لیے رکی مگر اس کی باتیں سن کر ولی کو اپنی سانس بند ہوتی لگی
"اگر میں تمہارا موازنہ اریش سے کرو نا ولی تو تم اس کے سامنے بہت چھوٹے لگو گے بلکہ تمہارا تو میرے شوہر کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تم نے حالات سے تنگ آکر مجھے اور اپنے بچے کو چھوڑا تھا اریش نے میرے ساتھ تمہاری اولاد کو بھی ایکسپٹ کیا ہمیں اپنے گھر میں ہی نہیں اپنے دل میں بھی جگہ دی پیار دیا عزت دی۔ ۔۔ میرے آنے سے پہلے جس لہجے میں تم ہانی سے بات کر رہے تھے نا میرے شوہر کو ذرا پسند نہیں ہے کہ کوئی اس لہجے میں اس کے بیٹے سے بات بھی کرے۔۔۔ یہ تمہارا خون ضرور ہے مگر تمہیں رشتے بنانا نہیں آتے نبھانا تو بہت دور کی بات جبکہ اریش ہو نہ صرف رشتے نبھانے آتے ہیں بلکہ دوسرے کے دل میں اپنی محبت کیسے پیدا کرنی ہے یہ فن بھی اسے آتا ہے اور تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم مجھ سے ہانی کو چھین کر مجھے مجبور کرو گے کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں تو یہ تمہاری بھول ہے تم بےشک ہانی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو مگر میں اریش کو تب بھی نہیں چھوڑوں گی"
مشعل بول کر رکی نہیں جانے لگی
"مما مما"
ہانی جو اتنی دیر سے سہما ہوا کھڑا تھا مشعل کے پیچھے بھاگا ولی وہی کھڑا ان دونوں کو جاتا دیکھتا رہا
مگر سامنے دروازے پر اریش کو کھڑا دیکھ کر مشعل کے قدم وہی تھم گئے
"ڈیڈ"
ہانی دوڑتا ہوا اریش طرف بھاگا اور اس سے لپٹ گیا اریش نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا مشعل یک ٹک اریش کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
"چلیں گھر"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر کہا اور جتاتی ہوئی نظر ولی پر ڈالی۔۔۔۔ ولی وہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا اریش کی آنکھوں میں ایسا کچھ کہ وہ آگے بڑھ کر ہانی کو اس سے نہیں لے سکا مشعل کو روکنا تو دور کی بات اریش مشعل کا ہاتھ تھامتا ہوا ہانی کو گود میں لیے وہاں سے نکل گیا
****
گھر آنے کے بعد اریش دوبارہ آفس نہیں گیا جس وقت مشعل سعیدہ سے ڈرائیور کو ریڈی ہونے کا کہہ کر چینج کرنے گئی لینڈ لائن پر اس وقت اریش کی مشعل سے بات کرنے کے لئے کال آئی کیونکہ اس کا موبائل بزی جا رہا تھا وہ کال سعیدہ نے اٹھائی اور اس نے اریش کو بتایا مشعل باجی کو کہیں جانا ہے ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔ اریش نے ڈرائیور سے کال کر کے پوچھا کہاں جانا ہے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ جب مشعل نے کار میں بیٹھ کر ولی کا ایڈریس ڈرائیور کو بتایا تو ڈرائیور نے میسج ارش کو سینڈ کر دیا
مشعل اسے بتائے بغیر کہیں جا رہی تھی جبکہ ہانی کے اسکول سے گھر آنے کا ٹائم تھا کچھ گڑبڑ دیکھ کر وہ بھی اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا راستے میں اسے اسکول میں فون کرکے معلوم ہوا ہانی اسکول سے کب کا نکل چکا ہے مگر وہ گھر نہیں پہنچا تھا اریش کو ہانی کی فکر ہوئی اس ایڈریس پر پہنچ کر اریش نے مشعل کی ساری باتیں سنی ساری باتیں سن کر اسے سچویشن کا اندازہ ہوگیا اور یہ بھی کہ اندر کون ہے
جب اس نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور مشعل کا ہاتھ تھاما تو ولی کو نظروں ہی میں یہ باور کرانا نہیں بھولا کہ وہ اتنی آسانی سے اس کی بیوی اور بیٹا اسے نہیں لے سکتا
****
"اریش آپ ناراض ہیں مجھ سے"
سارا دن وہ بیڈروم میں نہیں آیا تھوڑا بہت لیپ ٹاپ یوز کرکے ہانی کو لے کر باہر چلا گیا رات کا کھانا بھی خاموشی سے کھایا ہانی کی چھوٹی موٹی باتوں کا جواب دیتا رہا مشعل نے بات کرنی چاہی تو ہاں اور نہیں میں جواب دے کر چپ ہو گیا تھوڑی دیر پہلے ہی مشعل نے ہانی کو سلایا تھا سارے دروازے چیک کرکے وہ روم میں اریش کے پاس آئی جہاں پر وہ چیئر پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا مشعل کی بات سن کر اریش نے لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھا
"تم آج ہانی کے ساتھ کیا کرنے والی تھی"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کیا مشعل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور فرش پر اس کے قدموں میں بیٹھ گئی بیٹھ گئی
"تم نے آج مجھے یہ باور کرادیا کہ ہانی صرف تمہارا بیٹا ہے مجھ سے پوچھے بغیر تم اتنا بڑا قدم اٹھانے والی تھی ہانی کے لئے۔۔۔ اگر آج میں وہاں پر نہیں پہنچتا اور تم ہانی کو اس کے پاس چھوڑ کر آجاتی نہ تم میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کرتا مشعل"
اس سے پہلے آج تک اس نے اریش کا اتنا سخت لہجہ اپنے لیے نہیں دیکھا تھا مشعل اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر رونے لگی
"ہانی میں میری بھی جان بستی ہے اریش۔ ۔۔۔ میں نے اپنے کمزور دل کو بہت مشکل سے مضبوط کرکے ایسا کیا تھا۔۔۔ اریش کیوکہ میں آپ کو بھی نہیں چھوڑ سکتی"
مشعل رونے کے درمیان کہنے لگی۔۔۔ اریش سے مشعل کا رونا دیکھا نہیں گیا اس کا بازو تھام کر اسے اٹھایا اور آنسو صاف کیے
"یہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا مشعل" اب اریش کا لہجہ نرم تھا مگر وہ ابھی بھی اس سے شکوہ کر رہا تھا
"ڈر گئی تھی کہیں آپ مجھ سے بدگمان نا ہو جائے آپ کی ناراضگی سے خوف آتا ہے مجھے"
مشعل اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی
"بہت افسوس کی بات ہے یہ تو تم نے اتنا ہی سمجھا ہے مجھے میں کبھی بھی کسی بات کو لے کر تم سے یا ہانی سے ناراض نہیں ہو سکتا بدگمان ہونا تو بہت دور کی بات مگر تمہاری سوچ پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے اسے اپنے آپ سے الگ کرنا چاہا تو مشعل تیار نہیں ہوئی
"اب آپ اس طرح خود سے الگ کریں گے تو میں رو گی"
مشعل نے واقعی رونا شروع کردیا جس پر اریش نے اس کے گرد بازوں کا حصار باندھا
"خود سے الگ کر کے ہانی کے ڈیڈ کا بھی کہاں گزارا ہوگا چلو بیڈ روم میں چلیں ہانی نہ ڈر جائے"
اریش کے کہنے پر مشعل نے اریش کو دیکھا
"آگے زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی مجھ سے نہیں چھپانا"
اریش نے مشعل کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے کہا اور اس کو بیڈروم میں لے گیا
****
By zeenia sharjeel
second last epi 44
تعبیر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی تاکہ ارتضیٰ کے آنے سے پہلے شاور لے کر روم سے نکل جائے وہ ارتضیٰ کی موجودگی میں بیڈروم میں قدم نہیں رکھ رہی تھی بلکہ جب سے مریم آئی تھی وہ مریم کے بیڈروم میں اسکے ساتھ ہی سو رہی تھی۔۔۔۔
مریم کا سنگل بیڈ اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا کہ وہ دونوں آرام سے سو ناسکے اس نے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ کر رکھے اس کی نظر وارڈروٹ کے دوسرے پورشن پر پڑی غیر ارادی طور پر اس نے دروازہ کھولنا چاہا،،، ارتضیٰ نے اسے پہلے یہی بتایا تھا کہ اس پورشن میں اس کے لیے کچھ موجود ہے
پتہ نہیں یہ انسان اور کیا کیا بم پھوڑے گا یہ میرے سر پر
اُس پورشن کو لاکڈ دیکھ کر بے دلی سے سوچتی ہوئی وہ پلٹی تو اپنے قریب ارتضیٰ کو دیکھ کر ڈر گئی ارتضیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں موجود شاپرز وہی کھڑے بیڈ پر اچھالے
"زہے نصیب آج تین دن بعد اسنووائٹ نے اپنے بیڈ روم کو اپنا دیدار کرا ہی دیا"
وہ مزید قریب آ کر بولا تو تعبیر وارڈروب سے جا لگی اس نے دونوں ہاتھ وارڈروب پر رکھ کر اس کا راستہ بند کیا
"مجھے شاور لینے جانا ہے ارتضیٰ پیچھے ہٹو"
اسکی شوخ بھری نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولی
"ایک شرط پر تم شاور لے کر میرا لایا ہوا ڈریس پہنوگی" ارتضیٰ نے اسے دیکھتے ہوئے اپنائیت سے کہا اور شاپنگ بیگز کی طرف اشارہ کیا یعنی وہ یہ ڈھیر ساری شاپنگ اس کیلئے کر کے لایا تھا
"اور تمہیں یہ خوش فہمی کیوں ہوگئی کہ میں ایسا کروں گی"
تعبیر نے طنزیہ انداز میں اس سے پوچھا
"خوش فہمی نہیں مجھے پورا یقین ہے کہ تم ایسا کرو گی،، میری لائی ہوئی ایک ایک چیز آج استعمال میں لاو گی"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کانفیڈنس سے کہا
"میں تو ایسا خود سے کچھ بھی نہیں کرنے والی،، تم میں اگر ہمت ہے تو مجھ سے کروا کے دیکھ لو"
اس کا کانفیڈینس دیکھ کر تعبیر کو آگ ہی لگ گئی تھی اس لئے تپ کر بولی
"اوکے اگر میں نے ایسا تم سے کرا دیا تو آج ہم دونوں رومنٹک مووی دیکھیں گے"
ارتضیٰ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ لا کر بولا تعبیر کے دوسری سائیڈ رخ کرنے پر ارتضیٰ کے ہونٹ اس کے گال پر ٹچ ہوئے وہ اس کو پیچھے دھکیلتی ہوئی اس کی ہوئی کمرے سے نکل گئی
***
"ابھی تک شاور نہیں لیا تم نے تم تو کہہ رہی تھی کہ دس منٹ میں آتی ہوں"
مریم نے تعبیر کو اسی حلیے میں دیکھ کر پوچھا
"بہت نخرے ہیں مما آپکی بیٹی کے،، میں اتنی محبت سے اس کے لئے شاپنگ کرکے لایا اور کہہ رہی ہے تمہارے لائے ہوئے کپڑے نہیں پہنوں گی میں اس برانڈ کے کپڑے زیب تن نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا میرا ٹیسٹ ہے"
اچانک روم میں آکر ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔ تعبیر کو ارتضیٰ سے اتنی بدتمیزی کی توقع ہرگز نہیں تھی کیسے منہ پھاڑ کر وہ مریم کے سامنے جھوٹ بول رہا تھا برانڈ کا تو اس نے ذکر ہی نہیں کیا تھا
"تعبیر ایسے نہیں کہتے بیٹا ارتضیٰ تمہارے لیے دل سے وہ کپڑے لے کر آیا ہے صرف تھوڑی دیر کے لئے اس کا دل رکھنے کے لیے پہن لو،، کل میں خود چل کر تمہیں تمہاری پسند کے کپٹرے دلا دو گی"
مریم کے اس طرح سمجھانے پر وہ اچھی خاصی شرمندہ ہی ہوگئی
"اسے رہنے دے مما یہ دو ڈریس میں آپ کے لئے بھی لے کر آیا تھا اپنی پسند سے۔۔۔۔ آپ پہننے گیں تو میں خوش ہو جاؤں گا"
معصوم سی شکل بنا کر ارتضیٰ نے مریم سے کہا جس پر تعبیر کو شدید غصہ آیا
"میں بھی پہنوں گی اور تمہاری اسنووائٹ بھی پہنے گی۔۔۔۔ جاؤ بیٹا تعبیر"
مریم نے پیار سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا
"جی مما"
تعبیر نے مریم کو کہتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھا جو اسے آنکھ مار کر مسکرا رہا تھا
****
تعبیر روم میں ائی وارڈروب کھولا تو اس کے وہ سارے کپڑے غائب تھے جو وہ بیگ میں رکھ کر اپنے گھر سے لائی تھی۔۔۔۔ بلکہ سارے ارتضیٰ کے لائے ہوئے ڈریس ترتیب سے ہینگ ہوئے تھے کپڑوں کے علاوہ دوسری بہت ساری چیزوں سے وارڈروب بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ سارے ڈریس ہی پیارے تھے اس نے اپنے لئے ایک ڈریس منتخب کیا اور شاور لینے چلی گئی۔۔۔ ۔
شاور لے کر نکلی تو ارتضیٰ روم میں ہی موجود تھا
فاتحانہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی وہ تعبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تعبیر اس کو اگنور کرتی ہوئی ہے دریسر کے سامنے کھڑے اپنے بال سلجھانے لگی
"اندر باہر سب سائز پرفیکٹ ہے نا"
اس کے پیچھے کھڑے ہوکر شیشے میں سے تعبیر کو دیکھتا ہوا انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا جیسے کوئی بہت ہی سیریس بات ہو تعبیر منہ سے کچھ نہیں بولی مگر دل میں سوچنے لگی
"اگر یہ شخص شوہر نہیں ہوتا تو میں اسے کمینہ ضرور کہتی"
"تمہارے فیس ایکسپریشن سے کچھ ایسا ساونڈ آرہا ہے جیسے تم مجھے کمینہ کہہ رہی ہو"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر نے پلٹ کر اپنے ہاتھوں سے اسے سینے اور کندھے پر مارنا شروع کر دیا
"یار کیا کر رہی ہو،، شوہر ہوں تمہارا" اپنا بچاؤ کرتے ہوئے ارتضیٰ نے تعبیر کو کہا
"تعبیر"
مریم جو کے ارتضیٰ کی آواز سن کر،، ان کے بیڈروم کا دروازہ کھلا دیکھ کر اندر روم میں آئی اور اپنے لال کی پٹائی ہوتے دیکھی تو حیرت سے تعبیر کو پکارا
"مما یہ مجھے پتہ نہیں کب سے تنگ کر رہا ہے میں نے کوئی برانڈ ورانڈ کی بات نہیں کی تھی اس نے فضول میں آپ سے جھوٹ بولا۔۔۔ اگر میرا ٹیسٹ ایسا ہوتا تو میں اسے کبھی منہ نہ لگاتی۔۔۔ ابھی بھی چھچھورے سوالات پوچھ کر مجھے تنگ کر رہا ہے"
تعبیر مریم کے گلے لگ کر اپنی صفائی دیتے ہوئے رونے لگی۔۔۔ جبکہ اس کی آخری دو باتوں پر جہاں مریم سٹپٹائی وہی ارتضیٰ اچھا خاصہ شرمندہ ہوگیا اسے بالکل توقع نہیں تھی کہ اس کی اسنووائٹ اتنی بے وقوف ہے وہ مریم کے سامنے منہ پھاڑ کر ایسے باتیں بتائے گی
"اف میری بچی رونے کی کیا بات ہے وہ تمہیں ایسے ہی تنگ کر رہا ہوگا۔۔۔۔ ارتضیٰ اب تم بری طرح پٹو گے میرے ہاتھوں سے اگر اب تم نے تعبیر کو تنگ کیا۔۔۔ چلو ہم اپنے روم میں چلتے ہیں"
مریم ارتضیٰ کو ڈانٹ کر تعبیر کو چپ کراتی ہوئی اپنے روم میں لے گئی
****
رات بارش کی وجہ سے ہلکی ہلکی خنکی ہوگئی تھی تعبیر اور مریم رات کا کھانے سے فارغ ہوکر اپنے روم میں آ گئی مریم بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ تعبیر برابر میں چادر اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں داخل ہوا ایک نظر تعبیر پر ڈال کر چہرے سے ہنسی چھپاتا ہوا مریم سے مخاطب ہوا
"آئے مما مووی دیکھتے ہیں"
بولنے کے ساتھ ہی وہ ڈی وی ڈی میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کون سی مووی ہے"
مریم نے یونہی ارتضیٰ سے پوچھا
"فل ایکشن سے بھرپور ہے مما"
ایک نظر تعبیر کے چہرے پر ڈال کر اس نے مریم کو جواب دیا جس پر تعبیر تو تپ گئی جبکہ مریم ارتضیٰ کو آنکھیں دکھانے لگی مووی لگا کر ارتضیٰ بھی بیڈ پر آکر مریم کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا اس کے برابر میں لیٹتے ہی تعبیر اٹھ کر بیٹھ گئی
"لیٹ جاؤ تم بھی سردی لگ رہی ہے تمہیں"
تعبیر کو اٹھتا دے کر مریم اس سے مخاطب ہوئی تو اس نے نفی میں سر ہلایا
"نازک مزاج لوگوں کے کیا کہنے دوسروں کو مار کر ٹھنڈ نہیں پڑتی بلکے خود انہیں ٹھنڈ لگ جاتی ہے"
ارتضیٰ اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے بولا
"ارتضیٰ منہ بند بالکل"
مریم کی تنبہبی پر وہ خاموش ہوگیا اور چادر کا سرہ کھینچ کر اپنے سینے پر بھی ڈال لیا
تھوڑی دیر بعد جب تعبیر مووی میں مشغول ہوگئی کافی دیر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھنے سے اس کی ٹانگیں شل ہوگئی۔۔۔ اس نے ٹانگیں پھیلائی،، تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اسے اپنی پنڈلیوں پر ارتضیٰ کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا اس نے ارتضیٰ پر نظر ڈالی تو وہ بڑے انہماک سے اسکرین کی طرف نظریں جمائے مووی دیکھنے میں مشغول تھا اب تعبیر مریم کو اس کے معصوم بیٹے کے بارے میں کیا بتاتی کہ وہ چادر کی آڑ میں کیا چھچھور پن میں مشغول ہے تعبیر نے اپنے پاؤں سمیٹ کر اوپر کرنے چاہے تو ارتضیٰ نے اس کا پاؤں پکڑ کر کوشش ناکام کر دی
"مما ویسے میرے لائے ہوئے ڈریس میں آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں"
ارتضیٰ نے اسکرین پر نظریں جمائے مریم کو مخاطب کیا
"ماں کی آڑھ میں بیوی کی تعریف کر کے مجھے بیوقوف بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صاف کہو اسنووائٹ اچھی لگ رہی ہے تمہیں"
مریم کی بات پر ارتضیٰ نے قہقہ مارا وہی تعبیر جھینپ گئی
"پر اس وقت مجھے آپکی ہاتھ کی کافی پینے کا موڈ ہو رہا ہے اس لیے آپ کی تعریف کی ہے"
ارتضیٰ نے شرارت سے ہنستے ہوئے مریم کو دیکھ کر کہا
"بدمعاش"
مریم اس کے کندھے پر چپت لگاتے ہوئے کافی بنانے کی غرض سے کچن میں چلی گئی
"چھوڑو میرا پاؤں" مریم کے روم سے جانے کے بعد تعبیر نے غرا کر کہا ارتضیٰ نے اس کو دیکھا اور جھٹکے سے اس کا پاوں نیچے کھینچا تو وہ پھسلتی ہوئی ارتضیٰ کے برابر میں جالیٹی
"پیچھے ہٹو ورنہ ابھی مما کو بلا لوں گی"
تعبیر نے اسے اپنے اوپر جھگتا دیکھتے ہوئے دھمکی دی
"میری مما اتنی بیوقوف ہرگز نہیں ہے کہ تمہارے بلانے سے آجائے گیں کچھ سوچ کر ہی وہ میرے ایک دفعہ کہنے پر کافی بنانے چلی گئی یقین نہیں آتا تو آواز دے کر دیکھ لو"
ارتضیٰ نے اس کی تھوڑی کے خم پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا
"تم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے میرے ساتھ"
تعبیر نے اس سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"دوپہر میں تمہارے ایکشن آن تھے تو اب رات میں میرے ایکشن میں آنے کا موڈ ہے"
وہ اس کی گردن پر جھگتا ہوا بولا
"تم مجھے اس طرح بے بس نہیں کرسکتے"
تعبیر اسے پیچھے ہٹانے لگی
"بس بھی کردو تعبیر اب"
ارتضیٰ نے اٹھ کر بیچارگی سے کہا وہ اسے پیار سے منانا چاہتا تھا زبردستی اس پر حق جتا کر نہیں
"پیار کیا ہے تو برداشت بھی کرو" تعبیر اسے بولتی ہوئی خود بھی کچن میں چلی آئی
****
مشعل تھوڑی دیر پہلے ہی پاسٹا بنا کر فارغ ہوئی تھی ہانی اسکول سے آنے کے بعد دو دن سے اسے کھانے میں بہت تنگ کر رہا تھا اس لئے آج اس نے اس کے من پسند پاستا بنایا اریش کو بھی اس کے ہاتھ کا پاستا بہت پسند تھا۔۔۔۔ ہانی اسکول سے آنے ہی والا تو اس سے پہلے وہ شاور لینا چاہتی تھی اتنے میں مشعل کے موبائل پر کال آئی
"ہیلو کون"
مشعل نے مگن انداز میں کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"تمہیں بتانے کے لیے کال کی ہے کہ ہانی کی اسکول سے چھٹی ہوتے ہی میں اسے اپنے ساتھ لے کر آ گیا ہو۔۔۔ تمہیں ہانی کے ساتھ رہنا ہے تو اب اس کے اصلی باپ کے ساتھ رہنا ہوگا میرے گھر کے اور دل کے دروازے کھلے ہیں میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں"
ولی اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹ چکا تھا مگر مشعل وہی صوفے پر بیٹھ گئی لیکن یہ وقت اس طرح بیٹھنے کا بھی نہیں تھا وہ فیصلہ کرتی ہوئی اٹھی
"سعیدہ ڈرائیور سے کہو گاڑی نکالے میں دس منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں"
مشعل سعیدہ سے بولتی ہوئی اپنی روم میں چلی گئی
****
"انکل ہانی کو مما اور ڈیڈ کے پاس جانا ہے"
ہانی کو وہ انکل اچھے لگے تھے اسے پیار کر رہے تھے ڈھیر سارے ٹوائز اور چاکلیٹز بھی اس کے لئے لائے تھے مگر اب اسے اپنے مما اور ڈیڈ یاد آنے لگے
"تمہاری مما ابھی آجائے گیں تھوڑی دیر میں، لیکن ڈیڈ تو تمہارا میں ہوں وہ ڈیڈ تھوڑی ہے بیٹا اب تم مجھے ڈیڈ بولا کرو"
ولی نے پیار سے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"نہیں ہانی کے ڈیڈ صرف ایک ہیں اس کے گھر پر۔۔۔ آپ اچھے ہو پر ڈیڈ نہیں ہو آپ ہانی کے۔ ۔۔ ہانی کو اپنے ڈیڈ چاہیے اپنی مما چاہیے ہانی کو اپنے گھر جانا ہے اب"
ہانی کو برا لگا انکل نے اسکے ڈیڈ کو اس طرح کہا
"میں نے کہا ہے نہ میں ہوں تمہارا ڈیڈ وہ نہیں ہے تمہارا ڈیڈ سمجھ میں نہیں آتی تمہیں۔۔۔ اب یہی تمہارا گھر ہے یہی رہوں گے تم بھی اور تمہاری مما بھی"
ولی کے سخت لہجے پر ہانی سہم گیا
"مما"
مشعل دروازہ کھول کر اس کے گھر کے اندر آئی تو ہانی بھاگتا ہوا اس سے لپٹ گیا ولی نے مڑ کر مشعل کو دیکھا اسٹائلش سے ڈریس میں ہلکے میک اپ کیے وہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔ ولی خیر مقدم والے انداز میں مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا
"مجھے پورا یقین تھا تم میرے پاس ضرور آوگی میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،،، مشعل تم شاید یقین نہیں کرو میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں دیکھو ابھی تک اکیلا ہوں مگر مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ تم نے مجھے سزا دی دوسری شادی کرلی میں نے بھی تو غصے میں بہت غلط کیا تھا تمہارے ساتھ مگر پلیز اب میری سزا ختم کر کے مجھے معاف کر دو میں تمہیں اور ہانی کو بہت خوش رکھوں گا میرا یقین کرو"
ولی نے اس کو یقین دلانے کے لیے آخر میں اس کا ہاتھ تھامنا چاہا مشعل جو چپ کرکے اس کی ساری بات سن رہی تھی ولی کے ہاتھ تھامنے پر اس نے زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے ولی سکتے میں آگیا
"میں نے چند دن پہلے بھی تمہیں کہا تھا کہ تم اپنی حد میں رہو میں تمہاری بیوی نہیں ہو جو تم مجھے بار بار چھونے کی غلطی کرتے ہو اور کیا کہہ رہے تھے تم تمہیں یقین تھا کہ میں تمہارے پاس ضرور آو گی"
مشعل نے طنزیہ ہنستے ہوئے اسے دیکھا ولی اب بھی چپ کر کے اسے دیکھ رہا تھا
"وقت گزرنے کے ساتھ تم کافی خوش فہم نہیں ہوگئے ولی۔۔۔ میں آج یہاں تمہاری خوش فہمی دور کرنے آئی ہو۔ ۔۔ تم مجھے یقین دلا رہے تھے کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو تم ایک خود غرض اور بے حس انسان ہو تم صرف اپنے آپ سے محبت کرتے ہو ولی۔۔۔۔ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوتی تو تم کبھی بھی میرا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاتے بے حس انسان ہو تم کیوکہ جس وقت تم نے مجھے طلاق دی تمہیں اپنی اولاد کا بھی خیال نہیں آیا تمہیں یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ تمہارے جانے کے بعد ہم دونوں کا کیا ہوگا۔۔۔۔ میں اکیلی لڑکی جو کہ پہلے ہی اپنے بھائی کا گھر تمہارے بھروسے چھوڑ کر آئی تھی تم نے سوچا کہ تمہارے جانے کے بعد میں تمہاری اولاد کو لے کر کہاں جاؤں گی اور تم ہوتے کون ہو میری دوسری شادی پر مجھ سے شکوہ کرنے والے میں نے شادی کرکے تمہیں سزا نہیں دی تم جیسے کمزور مرد کو میں کیا سزا دوں گی کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو تو تمہیں خود اپنی مردانگی کا پتہ چلے گا مرد ایسا نہیں ہوتا ولی جو پریشانیوں میں برے حالات میں اپنی بیوی اور بچے قطعی تعلق کر کے اسے بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ جائے کبھی تم نے سوچا تمہارے پیچھے میں تمہارے بچے کو کیسے پالوں گی آج تمہیں ہمہیں دیکھ کر ہماری محبت جاگ اٹھی ہے"
مشل سانس لینے کے لیے رکی مگر اس کی باتیں سن کر ولی کو اپنی سانس بند ہوتی لگی
"اگر میں تمہارا موازنہ اریش سے کرو نا ولی تو تم اس کے سامنے بہت چھوٹے لگو گے بلکہ تمہارا تو میرے شوہر کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے تم نے حالات سے تنگ آکر مجھے اور اپنے بچے کو چھوڑا تھا اریش نے میرے ساتھ تمہاری اولاد کو بھی ایکسپٹ کیا ہمیں اپنے گھر میں ہی نہیں اپنے دل میں بھی جگہ دی پیار دیا عزت دی۔ ۔۔ میرے آنے سے پہلے جس لہجے میں تم ہانی سے بات کر رہے تھے نا میرے شوہر کو ذرا پسند نہیں ہے کہ کوئی اس لہجے میں اس کے بیٹے سے بات بھی کرے۔۔۔ یہ تمہارا خون ضرور ہے مگر تمہیں رشتے بنانا نہیں آتے نبھانا تو بہت دور کی بات جبکہ اریش ہو نہ صرف رشتے نبھانے آتے ہیں بلکہ دوسرے کے دل میں اپنی محبت کیسے پیدا کرنی ہے یہ فن بھی اسے آتا ہے اور تمہیں کیا لگ رہا ہے اگر تم مجھ سے ہانی کو چھین کر مجھے مجبور کرو گے کہ میں تمہارے پاس آ جاؤں تو یہ تمہاری بھول ہے تم بےشک ہانی کو اپنے پاس رکھ سکتے ہو مگر میں اریش کو تب بھی نہیں چھوڑوں گی"
مشعل بول کر رکی نہیں جانے لگی
"مما مما"
ہانی جو اتنی دیر سے سہما ہوا کھڑا تھا مشعل کے پیچھے بھاگا ولی وہی کھڑا ان دونوں کو جاتا دیکھتا رہا
مگر سامنے دروازے پر اریش کو کھڑا دیکھ کر مشعل کے قدم وہی تھم گئے
"ڈیڈ"
ہانی دوڑتا ہوا اریش طرف بھاگا اور اس سے لپٹ گیا اریش نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا مشعل یک ٹک اریش کو دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
"چلیں گھر"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر کہا اور جتاتی ہوئی نظر ولی پر ڈالی۔۔۔۔ ولی وہ منظر خاموشی سے دیکھتا رہا اریش کی آنکھوں میں ایسا کچھ کہ وہ آگے بڑھ کر ہانی کو اس سے نہیں لے سکا مشعل کو روکنا تو دور کی بات اریش مشعل کا ہاتھ تھامتا ہوا ہانی کو گود میں لیے وہاں سے نکل گیا
****
گھر آنے کے بعد اریش دوبارہ آفس نہیں گیا جس وقت مشعل سعیدہ سے ڈرائیور کو ریڈی ہونے کا کہہ کر چینج کرنے گئی لینڈ لائن پر اس وقت اریش کی مشعل سے بات کرنے کے لئے کال آئی کیونکہ اس کا موبائل بزی جا رہا تھا وہ کال سعیدہ نے اٹھائی اور اس نے اریش کو بتایا مشعل باجی کو کہیں جانا ہے ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔۔ اریش نے ڈرائیور سے کال کر کے پوچھا کہاں جانا ہے تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔۔۔ جب مشعل نے کار میں بیٹھ کر ولی کا ایڈریس ڈرائیور کو بتایا تو ڈرائیور نے میسج ارش کو سینڈ کر دیا
مشعل اسے بتائے بغیر کہیں جا رہی تھی جبکہ ہانی کے اسکول سے گھر آنے کا ٹائم تھا کچھ گڑبڑ دیکھ کر وہ بھی اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر پہنچا راستے میں اسے اسکول میں فون کرکے معلوم ہوا ہانی اسکول سے کب کا نکل چکا ہے مگر وہ گھر نہیں پہنچا تھا اریش کو ہانی کی فکر ہوئی اس ایڈریس پر پہنچ کر اریش نے مشعل کی ساری باتیں سنی ساری باتیں سن کر اسے سچویشن کا اندازہ ہوگیا اور یہ بھی کہ اندر کون ہے
جب اس نے ہانی کو گود میں اٹھایا اور مشعل کا ہاتھ تھاما تو ولی کو نظروں ہی میں یہ باور کرانا نہیں بھولا کہ وہ اتنی آسانی سے اس کی بیوی اور بیٹا اسے نہیں لے سکتا
****
"اریش آپ ناراض ہیں مجھ سے"
سارا دن وہ بیڈروم میں نہیں آیا تھوڑا بہت لیپ ٹاپ یوز کرکے ہانی کو لے کر باہر چلا گیا رات کا کھانا بھی خاموشی سے کھایا ہانی کی چھوٹی موٹی باتوں کا جواب دیتا رہا مشعل نے بات کرنی چاہی تو ہاں اور نہیں میں جواب دے کر چپ ہو گیا تھوڑی دیر پہلے ہی مشعل نے ہانی کو سلایا تھا سارے دروازے چیک کرکے وہ روم میں اریش کے پاس آئی جہاں پر وہ چیئر پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا مشعل کی بات سن کر اریش نے لیپ ٹاپ سائیڈ میں رکھا
"تم آج ہانی کے ساتھ کیا کرنے والی تھی"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کیا مشعل چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور فرش پر اس کے قدموں میں بیٹھ گئی بیٹھ گئی
"تم نے آج مجھے یہ باور کرادیا کہ ہانی صرف تمہارا بیٹا ہے مجھ سے پوچھے بغیر تم اتنا بڑا قدم اٹھانے والی تھی ہانی کے لئے۔۔۔ اگر آج میں وہاں پر نہیں پہنچتا اور تم ہانی کو اس کے پاس چھوڑ کر آجاتی نہ تم میں تمہیں زندگی بھر معاف نہیں کرتا مشعل"
اس سے پہلے آج تک اس نے اریش کا اتنا سخت لہجہ اپنے لیے نہیں دیکھا تھا مشعل اس کے گھٹنے پر سر رکھ کر رونے لگی
"ہانی میں میری بھی جان بستی ہے اریش۔ ۔۔۔ میں نے اپنے کمزور دل کو بہت مشکل سے مضبوط کرکے ایسا کیا تھا۔۔۔ اریش کیوکہ میں آپ کو بھی نہیں چھوڑ سکتی"
مشعل رونے کے درمیان کہنے لگی۔۔۔ اریش سے مشعل کا رونا دیکھا نہیں گیا اس کا بازو تھام کر اسے اٹھایا اور آنسو صاف کیے
"یہ سب کچھ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا مشعل" اب اریش کا لہجہ نرم تھا مگر وہ ابھی بھی اس سے شکوہ کر رہا تھا
"ڈر گئی تھی کہیں آپ مجھ سے بدگمان نا ہو جائے آپ کی ناراضگی سے خوف آتا ہے مجھے"
مشعل اس کے سینے میں منہ چھپائے اپنا خدشہ ظاہر کرنے لگی
"بہت افسوس کی بات ہے یہ تو تم نے اتنا ہی سمجھا ہے مجھے میں کبھی بھی کسی بات کو لے کر تم سے یا ہانی سے ناراض نہیں ہو سکتا بدگمان ہونا تو بہت دور کی بات مگر تمہاری سوچ پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے اسے اپنے آپ سے الگ کرنا چاہا تو مشعل تیار نہیں ہوئی
"اب آپ اس طرح خود سے الگ کریں گے تو میں رو گی"
مشعل نے واقعی رونا شروع کردیا جس پر اریش نے اس کے گرد بازوں کا حصار باندھا
"خود سے الگ کر کے ہانی کے ڈیڈ کا بھی کہاں گزارا ہوگا چلو بیڈ روم میں چلیں ہانی نہ ڈر جائے"
اریش کے کہنے پر مشعل نے اریش کو دیکھا
"آگے زندگی میں کبھی بھی کچھ بھی مجھ سے نہیں چھپانا"
اریش نے مشعل کی پیشانی پر لب رکھتے ہوئے کہا اور اس کو بیڈروم میں لے گیا
****


0 comments:
Post a Comment