Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 43

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 43


رات کو مریم نے تعبیر کے لیے کھچڑی بنائی تو کھانے کی ٹیبل پر ارتضیٰ کے لائے ہوئے سینڈوچ رکھے تھے مگر تعبیر کو وہ کھچڑی بہت اچھی لگی اور اس نے سینڈوچ کو ہاتھ لگائے بغیر کھچڑی بہت رغبت سے کھائی ارتضیٰ کو یہ بھی اس کی ناراضگی کا اظہار لگا مگر اسے خوشی ہوئی کہ تعبیر نے مریم سے روڈ بی ہیو نہیں کیا جو کہ وہ ایکسپیکٹ کر رہا تھا اس بات سے اسے اندر سے تھوڑا اطمینان ہوا وہ اسے جلد منا لے گا مگر جب رات کو سونے کے لئے روم میں آیا تو تعبیر کو اپنے روم میں نہ پاکر مریم کے پاس پہنچا تعبیر وہی بیڈ پر مریم کے پاس برجمان تھی

"کیا ہوا سونے کا ارادہ نہیں ہے آپ دونوں کا"
تعبیر پر ایک نظر ڈال کر اس نے مریم کو مخاطب کیا

"نہیں ابھی ہمارا بہت ساری باتیں کرنے کا ارادہ ہے"
مریم نے ارتضیٰ کو جواب دیا

"کل کے لیے بھی کچھ باتیں بچا کر رکھ لیں۔۔۔ آپ زیادہ دیر تک جاگے گی تو آپ کا بلڈپریشر ہائی ہوگا"
ارتضیٰ نے مریم کو دیکھتے ہوئے کہا

"تعبیر مجھے انیس سال بعد ملی ہے میرے پاس اتنی سالوں کی ڈھیر ساری باتیں جمع ہیں جو کل تک تو کیا اگلے چند دنوں تک ختم نہیں ہوگیں اور اب تم میری فکر نہیں کرو میرا بلڈ پریشر بھی نارمل رہے گا اور شوگر بھی کیونکہ میرے پاس میری بیٹی آگئی ہے"
مریم نے محبت سے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تو تعبیر اس کو دیکھ کر مسکرائی۔۔۔۔ چند گھنٹوں میں ہی ان دونوں کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی اور اس دوستی میں سب سے بڑا ہاتھ مریم کا تھا۔۔۔۔ مریم اس سے ایسے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ شروع سے ہی مریم کے پاس رہتی ہو

"یہ تو ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ،، عورتوں کی باتیں بھلا کبھی ختم ہوئی ہیں مگر آپ کی بیٹی کی بھی تو طبیعت ٹھیک نہیں ہے"
مریم سے کہتا ہوا وہ تعبیر کو دیکھ رہا تھا تعبیر کو صاف اندازہ ہو رہا تھا وہ لفظوں میں نہیں کہہ پا رہا مگر نظروں سے اسے اپنے بیڈروم میں چلنے کے لئے کہہ رہا ہے تعبیر نے اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ کر نو لفٹ کا بورڈ اپنے منہ پر لگائے اپنی نظروں کا زاویہ دوسری سمت کیا

"تو تمہارے کمرے میں جانے سے اس کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی یا تم اس کا علاج کرو گے"
مریم نے سیریس انداز اپناتے ہوئے ارتضیٰ سے کہا اس کی بات پر ارتضیٰ ایک دم سٹپٹا گیا

"ایسا کب کہہ دیا میں نے میں تو آپ دونوں کو سونے کے لئے کہہ رہا ہوں بس"
ارتضیٰ نے مریم کو وضاحت دیتے ہوئے خار بھاری نظر تعبیر پر ڈالی،،، تعبیر نے اس کی نظریں اپنے اوپر محسوس کرکے بلا مقصد اپنے ہاتھ کے ناخنوں کو دیکھنے لگی 

"تم اپنے روم میں جا کر ارام سے سو جاؤ جب تعبیر کو نیند آئے گی تو وہ میرے پاس سو جائے گی"
مریم نے ارتضیٰ کو پریشان دیکھ کر اس کو سلوشن بتایا

"یعنی اس بیڈ پر آپ دونوں آرام سے سو جائیں گے"
ارتضیٰ نے آخری بار کوشش کی

"یہ بیڈ اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے کہ ہم دونوں یہاں ایڈجسٹ نہ کر سکے کیوں تعبیر"
مریم نے اب کی بار تعبیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

"نہیں مجھے کوئی پرابلم نہیں میں تو یہاں آرام سے سو جاؤں گی"
تعبیر نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا اور ساتھ ہی بیڈ پر رکھی ہوئی چادر اوڑھ کر لیٹ گئی

"ٹھیک ہے جب آپ دونوں کو پرابلم نہیں تو پھر مجھے کیا پرابلم ہے"
ارتضیٰ مریم کو دیکھ کر مسکرا کر کہنے لگا اور نظروں ہی نظروں میں تعبیر کو وارن کرتا ہوا روم سے باہر نکل گیا

اسے اچھی طرح اندازہ تھا مریم تعبیر کے کہنے پر ہی ایسا بول رہی ہے اپنے بیڈ پر آکر لیٹا تو کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا کیونکہ پانچ دنوں سے تعبیر اس کے برابر میں سو رہی تھی اور ان پانچ دنوں میں ہی اسے اسنووائٹ کو اپنے قریب دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی۔۔۔۔ آنکھیں بند کر کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگا

****

ارتضیٰ مریم کے بیڈروم میں یاور مریم کی انلارج تصویر لگا رہا تھا۔۔۔ تعبیر مریم کے ساتھ کچن میں موجود تھی مریم کھانا بناتے ہوئے اسے اپنے اور عائشہ کے اسکول اور کالج کے قصے سنا رہی تھی جو تعبیر بہت غور اور دلچسپی سے سن رہی تھی کیوکہ اس میں اس کی ماں کا ذکر تھا تعبیر کسی کسی بات پر مسکرا کر اس سے چھوٹے موٹے سوال بھی پوچھ لیتی اجنبیت کی دیوار تو کل ہی گر گئی تھی اب اس کی اور مریم کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی

"ایسے کھڑے کھڑے تھک جاؤ گی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے تمہاری لیٹ جاؤ جاکے تھوڑی دیر"
مریم نے تعبیر کے خیال سے بولا

"نہیں میں بالکل نہیں تھکی کل سے تو اب کافی بہتر ہے طبیعت میری۔۔۔۔۔ آپکی اور ماما کی باتیں سن کر بہت اچھا لگ رہا ہے،،،، آپ بہت اچھی ہیں آنٹی"
تعبیر نے سچے دل سے مریم کی تعریف کی کل سے ہی وہ تعبیر کا اتنا خیال رکھ رہی تھی اس سے باتیں کر کے اس کا دل بہلا رہی تھی تعبیر کو مریم بہت اچھی لگی 

"یہ آنٹی کون ہے خبردار جو مجھے انٹی کہا تو،، مما بولو ارتضیٰ کی طرح مجھے خوشی ہوگی"
مریم اس کے پاس آکر بولی تو وہ نظریں جھکا گئی

"کھانا چڑھا دیا ہے تھوڑی دیر بعد ریڈی ہو جائے گا چلو روم میں چلتے ہیں"
مریم کے ساتھ وہ بھی کچن سے باہر نکل گئی

"دیکھ لیں مما تصویر ٹھیک لگی ہے"
ارتضیٰ ہاتھ میں ہیمر پکڑے مریم کے بیڈ روم سے نکلا مریم کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

"ٹھیک ہی لگی ہوگی تم کوئی کام غلط نہیں کرتے"
مریم نے اس کو دیکھ کر مسکرا کر کہا اور اپنے بیڈروم میں چلی گئی تعبیر بھی مریم کی پیروی کرتے ہوئے بیڈروم میں اس کے پیچھے جانے لگی مگر اگلے ہی پل اس کا بازو ارتضیٰ کے ہاتھ میں تھا جسے تھام کر وہ اپنے بیڈ روم میں لے آیا 

"چھوڑو مجھے یہ کیا بدتمیزی ہے" تعبیر نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے روم کا دروازہ بند کیا

"یہی تو میں پوچھنے والا ہوں کہ کیا بدتمیزی ہے"
قدم اٹھاتا ہوا وہ تعبیر کے پاس آیا اور سنجیدگی سے بولا

"کیا مطلب ہے تمہارا میں نے کیا بدتمیزی کی ہے"
تعبیر نے حیرت سے اس کو دیکھا تو ارتضیٰ نے اس کا بازو تھام کر اسے اپنے سے قریب کیا

"کل رات مما کے بیڈروم میں کیوں سوئی یہ تو سراسر بے ایمانی ہے نہ میرے ساتھ"
نرم لہجے میں شکوہ کرتے ہوئے اس نے تعبیر کو اپنے حصار میں لیا

"اور تم مزمل بن کر جو میرے ساتھ کرتے رہے کیا وہ بے ایمانی نہیں تھی"
تعبیر ناراضگی برقرار رکھتے ہوئے اس سے گویا ہوئی

"کونسا تم ارتضیٰ کو اپنے پاس بھٹکنے دیتی تھی مجبوراً مزمل کو ہی چھوٹی موٹی گستاخیوں سے کام چلانا پڑتا تھا"
چہرے پر اس کے ابھی بھی سنجیدگی تھی مگر آنکھیں اس کے سنجیدہ ہونے کی صاف چغلی کھا رہی تھی

"چھوڑو مجھے مما ویٹ کررہی ہیں میرا"
تعبیر نے اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی

"اور جو مما کا بیٹا کل رات سے ویٹ کر رہا ہے اس کا کیا"
اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے وہ مزید اپنی گرفت مضبوط کرتا ہوا بولا مگر تعبیر کا مریم کو مما کہنا اسے بہت اچھا لگا جس کا مطلب تھا اس کی ناراضگی صرف ارتضیٰ سے ہے مگر وہ یہ رشتہ قائم رکھنا چاہتی ہے

"تمہارے اوپر ابھی بہت سے حساب نکلتے ہیں جو اتنی آسانی سے تو ہر گز بے باک نہیں ہوگے" تعبیر نے اس کو ایک دفعہ پھر پیچھے ہٹانا چاہا

"آج رات میں سارے حساب کتاب بے باک کر دوں گا ایک موقع دے کر دیکھو"
وہ بولتا ہوا تعبیر کی گردن پر جھگنے لگا

"حساب بے باک کرنے ہے تو دور رہو مجھ سے"
تعبیر ارتضیٰ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانے لگی

"اوکے جب تک تمہاری ناراضگی ختم نہیں ہوجاتی میں اپنے دل کو سمجھا لیتا ہوں مگر اپنے بیڈ روم میں تو واپس آجاؤ تھوڑا سا ترس کھاؤ یار اپنے باڈی گارڈ پر"
ارتضیٰ نے اس کو اپنے حصار سے آزاد کرتے ہوئے معصوم سی شکل بنا کر کہا

"تم ترس کھانے والی شے ہو ہی نہیں اور یہ معصوم شکل بنا کر کسی اور کو دکھانا اچھا خاصا بیوقوف بنایا ہے تم نے مجھے میں اتنی جلدی تمہیں معاف کرنے والی ہدگز نہیں"
تعبیر اسے باتیں سنا کر کمرے سے باہر نکل گئی اور ارتضیٰ منہ لٹکا کر وہی بیٹھ گیا

****

آج مشعل کی برتھڈے تھی کل رات 12 بجے اریش نے اسے وش کیا۔۔۔ مشعل کو خبر نہیں ہوئی وہ کب کیک لے کر آیا۔۔۔۔ ہانی کو جگا کر ان تینوں نے مل کر برتھ ڈے سیلیبریٹ کی۔۔۔ بارہ بجے کے ٹائم ہی مشعل کے موبائل پر ولی کی کال آنے لگی تو اس نے موبائل سوئچ آف کر دیا۔۔۔ اس وقت اپنے بیٹے اور شوہر کے علاوہ کسی تیسرے کو سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی


شام میں آفس سے فون کر کے اریش نے مشعل اور ہانی کو تیار ہونے کا کہا مشعل نے پروگرام کا پوچھا تو اس نے سرپرائز کہہ کے ٹال دیا

اریش آفس سے ابھی تک نہیں آیا تھا مشعل ہانی کو تیار کرکے اور خود تیار ہو کر ہال میں بیٹھی ہوئی اریش کا انتظار کر رہی تھی گاڑی کے ہارن پر وہ دونوں الرٹ ہوگئے مگر گھر کے اندر داخل ہونے والے شخص کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے مشعل پتھر کی بن گئی اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور گلے لگ کے رونے لگی

"ارے مشی میری جان کیا ہوگیا"
ارباز اس کو روتا ہوا دیکھ کر بولا

"بھائی مجھے یقین نہیں آرہا آپ میرے سامنے۔۔۔ بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں"
مشعل نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر ارباز کے آگے رونا شروع کردیا ارباز نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کے اسے دوبارہ گلے لگایا

"اچھا بس اب چپ ہوجاؤ بار بار معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں سب پرانی باتوں کو بھول کر یہاں آیا ہوں بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اریش مجھے یہاں لایا ہے"
ارباز کے بتانے پر مشعل نے دروازے پر کھڑے اریش کو دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا

اب مشعل فوزیہ کے گلے لگی ہوئی تھی مگر دیکھ اپنے سامنے کھڑے اریش کو رہی تھی بغیر آواز کے اریش کو دیکھتے ہوئے مشعل نے "آئی لو یو" کہا جس پر اریش نے آنکھیں بند کر کے ہلکا سا سر خم کیا

"آپ سے تو ہمیشہ زیادتی کرتی آئی ہوں کس کس بات کی معافی مانگو"
مشعل نے فوزیہ کو دیکھ کر کہاا

"کسی بھی بات کی کوئی معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے اس عرصے میں میرا دل ہمیشہ تمہارے لئے پریشان رہا ہے۔۔۔ مگر آج تمہارا شوہر تمہارا گھر تمہارا بیٹا دیکھ کر دل کو اطمینان ہوگیا"
فوزیہ نے مسکراتے ہوئے مشعل سے کہا

"بھابھی یہ اعزاز ہے نا کتنا بڑا ہوگیا ماشاءاللہ"
مشعل اب اپنے بھتیجے کو پیار کرتی ہوئی بولی

ارباز اور فوزیہ اب ہانی کو پیار کر رہے تھے۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مائرہ بھی اپنے ہزبینڈ اور بچوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئی خوشگوار ماحول میں مشعل نے کیک کاٹا اریش نے پہلے ہی کھانا باہر سے آرڈر کر دیا تھا۔۔۔۔ اس سے زیادہ خوبصورت برتھڈے اور سرپرائز مشعل کے لیے کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا

آنکھوں میں تشکر کے جذبات لیے وہ ایک بار پھر اریش کو دیکھنے لگی جو ارباز اور شیراز کے ساتھ باتیں کر رہا تھا

****

سب کے جانے کے بعد گھر سمیٹ کر مشعل میں ہانی کو سلایا آج سارے کام شیڈیول سے ہٹ کر تھوڑا لیٹ ہوئے تھے۔۔۔۔ اریش دوسرے روم میں فائل میں سر دیے آفس کے کسی کام میں بزی تھا۔۔۔ ۔ مشعل اپنے کپڑے چینج کر کے روم میں موجود کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہوئی

آج وہ بہت خوش تھی اب اس کی زندگی کا کوئی خلاح نہیں تھا آج اس کے بھائی بھابھی نے اسے معاف کردیا تھا اور یہ سب ایک شخص کے باعث ہوا تھا

"کیسا لگا برتھ ڈے سرپرائز"
مشعل کو خبر ہی نہیں ہوئی وہ کب روم میں آیا مشعل نے مڑ کر دیکھا تو اریش اس کے بالکل نزدیک کھڑا مسکرا رہا تھا

"اس سے اچھا بھلا کوئی برتھ ڈے گفٹ ہوسکتا تھا میرے لیے"
مشعل نے اسے دیکھ کر کہا

"نہیں یہ سرپرائز تھا برتھڈے گفٹ تو یہ رہا"
اریش نے پاکٹ سے گولڈ کی چین نکالی اور مشعل کے گلے میں پہنانے لگا

"اب بتاؤ کیسا لگا یہ گفٹ"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا

"مجھے سب سے اچھا گفٹ اللہ پاک نے آپ کی صورت دیا ہے،، اس کا میں جتنا شکر ادا کروں وہ کم ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ مجھے آپ سے اتنی جلدی محبت ہو جائے گی آئی لو یو"
مشعل نے اریش کے گلے لگتے ہوئے کہا

"آئی لو یو ٹو ہانی کی مما"
اریش نے اس کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کرتے ہوئے کہا

"میاں بیوی کے رشتے کو پیار تو مضبوط کرتا ہی ہے مشعل۔۔۔ مگر اعتبار بھی اس رشتے کو مضبوط بنانے کی اہم کڑی ہے اور میں چاہوں گا تم پیار کے ساتھ ساتھ مجھ پر اعتبار بھی کرو" اریش نے اس کا چہرہ تھام کر کہا اور انتظار کرنے لگا کہ وہ اسے کچھ بتائے گی

"آپ صحیح کہہ رہے ہیں اریش مجھے معلوم ہے آپ اتنے اچھے ہیں کہ مجھے سے پیار کے ساتھ ساتھ میرا اعتبار بھی کریں گے اور میں آپ کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گی۔۔۔ اکا نے بالکل ٹھیک کہا تھا میں اچھی ماں تو ہوں ہی اب دیکھیے گا میں ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہوگی"
اس کی بات کو مشعل نے کس معنوں میں لیا۔ ۔۔۔ یا وہ نہیں سمجھ پائی یا سمجھ کر بھی انجان بن گئی اریش اس کا اندازہ نہیں لگا سکا۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کوئی ایسی بات ہی نہ ہو وہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہوں اپنے ذہن سے ساری سوچیں نکال کر اس نے سر جھٹکا۔۔۔

"تمہیں معلوم ہے آج تم کتنی پیاری لگ رہی ہو"
اریش اسے بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لایا جس پر مشعل مسکرائی

"مجھے یقین ہے اگر میں ماسی کے حلیہ میں بھی آپ کے سامنے آؤں گی تو آپ کو اچھی ہی لگو گی"
مشعل کے بولنے پر اریش مسکرایا اور اب وہ محبت بھرے انداز میں مشعل کو یقین دلارہا تھا کہ ہانی کی مما اسے کتنی اچھی لگتی ہے


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment