🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 42
"مما ہانی کو آپ نے کل مارننگ میں بھی اسکول نہیں بھیجا تھا اور ہانی آج مارننگ میں بھی اسکول نہیں گیا ہانی کے سارے فرینڈ ہانی کو مس کر رہے ہوگے کیوکہ ہانی بھی ان کو مس کر رہا ہے"
ہانی نے مشعل سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما کی جان آج ہانی اسکول کیسے جاتا آج صبح سے ہی بارش ہو رہی تھی۔۔۔ کل پکا آپ کو اسکول بھیجو گی"
آج صبح سے ہی تیز بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مشعل نے ہانی کو اسکول نہیں بھیجا کل وہ خود بھی ہانی کے ساتھ اسکول جانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اس کی پرنسپل سے ملکر انہیں سختی سے تاکید کرے کہ ہانی کو کسی غیر سے نہ ملنے دیا جائے
"اسکول تو ہانی کل جائے گا مگر ابھی تو ہانی بور ہو رہا ہے اس وقت ہانی کیا کرے"
ہانی نے اپنی بوریت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
دوپہر کا وقت تھا نوکر بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر کوارٹر میں چلے گئے تھے
"تو ابھی ہانی نے مما ہانی کی بوریت دور کر دیتی ہیں" مشعل نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر اپنی آنکھوں پر باندھا جس پر ہانی نے تالیاں بجائی
"ہانی بس یہی رہنا باہر نہیں جانا" مشعل کہتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی کو ڈھونڈنے لگی تھوڑی دیر اسے ہانی کی تالیاں بجانے کی آواز آئی مگر اسے پھر احساس ہوا جیسے ہانی دوسرے روم میں چلا گیا
"ہانی میں نے کہا تھا نا اسی روم میں رہنا"
مشعل آنکھوں سے دوپٹہ باندھے بول رہی تھی اسے محسوس ہوا جیسے اریش آگیا ہے اس نے اپنے سامنے کھڑے اریش کو شولڈر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹٹولا اور مسکرا کر آنکھوں سے دوپٹہ اتارنے لگی
"آج کیسے اتنی جلدی۔۔۔۔"
ادھا جملہ آنکھوں سے دوپٹہ اتارتے ہوئے منہ میں ہی رہ گیا اور ساتھ ہی مشعل کے ہونٹوں کی ہنسی بھی غائب ہوگئی
"شاید تم اپنے ہسبنڈ کو اکسپیکٹ کر رہی تھی، مگر کوئی بات نہیں میں بھی تمہارا ہسبنڈ ہی ہو"
ولی نے مسکراتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"اپنا جملہ درست کرو تم میرے ہسبنڈ ہو نہیں تھے"
مشعل نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اس کے جملے کی تصدیق کی
"پھر سے دوبارہ ہونے میں کتنا ٹائم لگتا ہے ویسے پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو تم"
ولی نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے ہاتھ بڑا کر اس کا گال چھونا چاہا تو مشعل کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی
"اپنی حد میں رہو ولی اور یاد رکھو میں تمہاری بیوی نہیں ہو اور اس خوش فہمی کو بھی دور کرلو ایسا کچھ دوبارہ کبھی ہو سکتا۔۔۔ کیوں آئے ہو تم یہاں پر"
مشعل نے لہجے میں سختی لائے اس سے پوچھا
"تمہاری ناراضگی برحق ہے میں بالکل بھی برا نہیں مانو گا،، بس ہانی کے ساتھ تمہیں بھی دیکھنے کا دل چاہا تو سوچا تمھارے گھر ہی آجاو۔۔ دو دن سے تم ہانی کو اسکول نہیں بھیج رہی ہوں نہ ہی میری کال ریسیو کر رہی ہو۔۔۔ کیا ہوا ڈر تو نہیں گئی مجھ سے،،، ویسے ہے کہاں پر میرا بیٹا"
ولی نے ڈھیٹ پن سے نظریں دوڑاتے ہوئے پورے ہال کا جائزہ لیا
"اپنی اس خوش فہمی کو دور کرلو کہ میں تم سے ڈر گئی ہو،، تمہارے منہ سے میرا بیٹا یہ لفظ بالکل سوٹ نہیں کرتا ولی۔۔۔ باپ ایسا نہیں ہوتا جو حالات کا رونا رو کر رشتہ ہی توڑ جائے اس لیے ہانی سے دور رہو اور اور میرے گھر دوبارہ آنے کی زحمت مت کرنا"
مشعل نے لہجے میں بغیر کسی نرمی یا لچک کے ولی کو مخاطب کیا
"مشعل مجھے اپنی غلطی کا اندازہ ہے پلیز مجھے میری غلطی سدھارنے کا ایک موقع چاہیے" ولی نے منت بھرے لہجے میں مشعل سے کہا اسے یقین تھا تھوڑا بہت ناراض ہونے کے بعد وہ وہ مان جائے گی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتی ہے
"کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ازالہ عمر بھر ممکن نہیں یہاں سے چلے جاؤ ولی"
اب کے مشعل نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور کروں گا فی الحال میں یہاں سے جا رہا ہوں اور اب میں نہیں تم آؤگی میرے پاس"
ولی نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس میں اس کا ایڈریس موجودہ مشعل نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھا اس سے لے کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینک دیا
"ایسا ممکن نہیں ہے تم جا سکتے ہو میرے گھر سے"
مشعل نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"چلو دیکھتے ہیں ایسا کب تک ممکن نہیں ہے"
ولی ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا
مشعل کو رہ رہ کر ولی کے اوپر غصہ آ رہا تھا شکر ہے گھر میں کوئی نوکر موجود نہیں تھا اور ہانی بھی دوسرے روم میں تھا مشعل نے واچ مین کو سختی سے تاکید کری کہ اب یہ صاحب دوبارہ اس کے گھر میں نہ آئے ابھی وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر صوفے پر بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ کریم (ڈرائیور) مشعل کے پاس آیا
بی بی جی مجھے چند دنوں کے لیے چھٹی چاہیئے گاؤں جانا ہے اپنے"
کریم نے افسردہ چہرہ لئے مشعل سے اجازت لی
"اوکے میں اریش سے بات کر لوں گی خیریت ہے ویسے" مشعل نے کریم کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر یوں ہی پوچھ لیا
"بس بی بی جی غریب انسان کی کیا خیر ہونی ہے۔۔۔ چند دن پہلے ہی بیٹی کی دوسری شادی کری تھی کہ اچھا ہے اپنے گھر کی ہوجائے گی مگر اس کے پہلے شوہر اور سسرال والوں نے اس کا قبر تک پیچھا نہ چھوڑنے کا سوچا ہے۔۔ ہر روز میری بیٹی کے سسرال پہنچ جاتے ہیں اسے پریشان کرنے۔۔ اب دوسرا شوہر بھی اس پر شک کرنے لگا ہے اور اسے مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اس لئے میری بیوی نے مجھے بلایا ہے"
کریم نے اپنی بیٹی کی داستان سنائی جو کہ مشعل اپنی کہانی جیسی لگی
"ٹھیک ہے آپ چلے جائیے میں اریش کو بتا دوں گی اور یہ رکھ لیں"
مشعل نے پاس رکھے اپنے کلچ سے کچھ پیسے دیے وہ شکریہ ادا کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
میڈیسن لینے کے بعد تعبیر تھوڑی دیر کے لئے سو چکی تھی تو ارتضیٰ مریم کو لینے چلا گیا وہ واپس آیا تو تعبیر کو جاگا ہوا پایا صبح کی بانسبت اس کی طبیعت اب کافی بہتر لگ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ مریم تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس آئی تعبیر پہلی نظر میں ہی اسے پہچان چکی تھی مریم نے تعبیر کے پاس آ کر اسے گلے لگا لیا
"میری دعا۔۔۔ بہت یاد کیا ہے میں نے تمہیں"
مریم اس کا چہرہ تھامے اسے پیار کرتے ہوئے بولی تعبیر چاہ کر بھی مریم کو ہٹا کر پیچھے نہیں کرسکی
جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے ماں کا لمس اس نے محسوس نہیں کیا تھا مریم نے گلے لگایا تو تعبیر کو عجیب سا سکون ملا اسے اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آئی
"بخار کیوں ہوگیا تمہیں۔۔۔ ارتضیٰ تم نے خیال نہیں رکھا میری بیٹی کا"
مریم نے اپنائے بھرے لہجے میں پہلے تعبیر سے پوچھا اور پھر مڑ کر ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی جو کہ دروازے کے پاس کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
"مما میں جب سے اسے یہاں لے کر آیا ہوں تب سے میں ہی اس کا خیال رکھ رہا ہو اور طبیعت خراب بھی اس نے خود اپنی الٹی حرکتوں کی وجہ سے کی ہے۔۔۔۔ پہلے سے ہی محترمہ کو بخار چڑھا ہوا تھا اوپر سے بارش میں انجوائے کرنے چلی گئی اب صبح سے مجھ سے خدمت لے رہی ہے"
ارتضیٰ نے شکایتی نظر تعبیر پر ڈال کر مریم کو اس کا کارنامہ بتایا
"اگر خدمت کر رہے ہو تو کونسا احسان کر رہے ہو اس کے اوپر بیوی ہے وہ تمہاری،، جس طرح بیوی کا فرض بنتا ہے کہ وہ شوہر کا خیال رکھے ویسے ہی شوہر کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کیئر کرے اور کونسا تم کوئی پہلی دفعہ اس کی کیئر کر رہے ہو بچپن میں اس کا خیال تم ہی رکھتے آرہے ہو مجھے یا عائشہ کو تو ہاتھ نہیں لگانے دے دیتے تھے"
مریم نے ارتضیٰ کی اچھی طرح خبر لی تعبیر خاموشی سے دونوں ماں بیٹے کی نوک جھوک دیکھ رہی تھی
"صحیح ہے بھئی لوگ تو بہو کے گھر آنے سے اپنی پارٹی بدل گئے"
ارتضیٰ نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوہے افسوس سے کہا
"میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا یہ بہو نہیں میری بیٹی ہے اور میرا ووٹ ہمیشہ میری بیٹی کی طرف رہے گا"
مریم نے مسکراتے ہوئے تعبیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تو ارتضیٰ بھی مسکرانے لگا
"تعبیر بھوک تو نہیں لگ رہی بیٹا"
مریم کو اس کی فکر ہوئی تو پوچھ بیٹھی
"جی تھوڑی تھوڑی" تعبیر نے جھجھکتے ہوئے سچ بولا وہ جب سے سو کر اٹھی تھی اسے بھوک ہی لگ رہی تھی
"اف اتنی دیر سے بتا کیوں نہیں رہی میں جلدی سے تمہارے لیے کھچڑی بنا دیتی ہوں ابھی لائٹ سی ڈائٹ لے لو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں"
مریم اٹھنے لگی
"آپ چھوڑیں آتے ہی گھر کے کاموں میں لگے گیں کیا۔۔۔ ویسے بھی ان محترمہ کو کھچری پسند نہیں آئے گی میں باہر سے کچھ لائٹ سے لے کر آ جاتا ہوں"
ارتضیٰ بھی اٹھ کھڑا ہوا
"میں کھچڑی بنانے لگی ہو وہ کھا لے گی،، تم بھی چپ کر کے بیٹھو کہی جانے کی ضرورت نہیں"
مریم بولتی ہوئی روم سے چلی گئی مریم کے جانے کے بعد ارتضیٰ تعبیر کے پاس آکر بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھا
"کیسی طبیعت ہے اب"
اس نے تعبیر کا ماتھا چھو کر دیکھا تعبیر کچھ بھی نہیں بولی بخار اسکا اتر چکا تھا ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
"پلیز میں ریسٹ چاہتی ہوں" تعبیر نے اسے بغیر دیکھے کہا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"اوکے اسنووائٹ پھر میں تنگ نہیں کروں گا جلدی جلدی سے طبیعت ٹھیک کرلو"
ارتضیٰ نے اس کو لٹاتے ہوئے کہا اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو تعبیر نے فوراً اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف کر لیا تھوڑی دیر وہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کے لئے سینڈوچ لینے باہر چلا گیا اسے اندازہ تھا وہ کھچڑی نہیں کھا پائے گی
****
"کیسا رہا آج کا دن" سب کاموں سے فارغ ہوکر مشعل بیڈ روم میں آئی سوتے ہوئے ہانی پر نظر ڈال کر اریش کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تو اریش نے اس سے پوچھا
"اچھا گزر گیا،، آپ بتائیں اتنا لیٹ کیوں آئے آج"
مشعل میں اریش سے پوچھا
"بس آج آفس کے کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ تھی اس لیے آتے آتے دیر ہوگئی تم بتاؤ گھر پر کوئی آیا تھا"
اریش نے اچانک مشعل سے پوچھا مشعل فوراً بولی
"نہیں تو ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں" مشعل نے اریش سے پوچھا اسے لگا جب ہانی نے ولی کو نہیں دیکھا اور واچ مین کو اس نے منع کردیا تو بلاوجہ میں ایسی بات بتانے کی کیا ضرورت جس سے اریش پریشان ہوں ویسے بھی وہ آج کافی لیٹ آفس سے آیا تھا
"ویسے ہی پوچھا تھا ہانی کی مما،، یہ بتاؤ اکا سے بات ہوئی کب تک آ رہی ہیں وہ"
اریش نے مسکرا کر کہا
"اکا سے آج سارا دن بات نہیں ہوسکی کال کروں گی۔۔۔ ارے ہاں کریم کچھ دنوں کے لیے چھٹی پر اپنے گاؤں گیا ہے" مشعل اریش کو بتانے لگی مگر جواب نہ پا کر سر اٹھا کر اریش کو دیکھا تو سو چکا تھا شاید زیادہ تھک گیا تھا،، مشعل نے اس کو دیکھ کر سوچا اور پھر تکیہ پر لیٹ کر کروٹ دوسری طرف لے کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی سوتے ہوئے اریش نے ایک نظر آنکھ کھول کر مشعل کو دیکھا
آج وہ آفس سے کافی لیٹ آیا تھا ڈنر کے بعد معمول کے مطابق ہانی کو تھوڑی دیر کے لئے باہر لے کر گیا ہانی روزمرہ کی طرح نان اسٹاپ اسے پورے دن کی روداد سنائے جا رہا تھا تب اس نے بتایا کہ ہانی کے گھر وہی انکل آئے تھے جو ہانی کو اسکول میں بھی ملنے آئے تھے تب اریش چونکا ایسا کون ہے جو ہانی کو اسکول ملنے آیا تھا اور یہ کب کی بات تھی اور آج کون اس کے گھر آیا تھا مشعل نے اس کو خود سے کیوں نہیں بتایا یہ سب سوال اس کے ذہن میں آئے
یہ نہیں تھا کہ وہ مشعل پر شک کر رہا تھا یا اس سے ناراض تھا۔۔۔ وہ ابھی بھی چاہتا تو مشعل سے پوچھ سکتا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ اگر کوئی بات ہے تو مشعل اس سے خود شیئر کرے۔۔۔ وہ واقعی آج بہت تھکا ہوا تھا اس لئے آنکھیں بند کر کے سو گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 42
"مما ہانی کو آپ نے کل مارننگ میں بھی اسکول نہیں بھیجا تھا اور ہانی آج مارننگ میں بھی اسکول نہیں گیا ہانی کے سارے فرینڈ ہانی کو مس کر رہے ہوگے کیوکہ ہانی بھی ان کو مس کر رہا ہے"
ہانی نے مشعل سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما کی جان آج ہانی اسکول کیسے جاتا آج صبح سے ہی بارش ہو رہی تھی۔۔۔ کل پکا آپ کو اسکول بھیجو گی"
آج صبح سے ہی تیز بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے مشعل نے ہانی کو اسکول نہیں بھیجا کل وہ خود بھی ہانی کے ساتھ اسکول جانے کا ارادہ رکھتی تھی تاکہ اس کی پرنسپل سے ملکر انہیں سختی سے تاکید کرے کہ ہانی کو کسی غیر سے نہ ملنے دیا جائے
"اسکول تو ہانی کل جائے گا مگر ابھی تو ہانی بور ہو رہا ہے اس وقت ہانی کیا کرے"
ہانی نے اپنی بوریت کا اظہار کرتے ہوئے کہا
دوپہر کا وقت تھا نوکر بھی اپنے کام سے فارغ ہو کر کوارٹر میں چلے گئے تھے
"تو ابھی ہانی نے مما ہانی کی بوریت دور کر دیتی ہیں" مشعل نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر اپنی آنکھوں پر باندھا جس پر ہانی نے تالیاں بجائی
"ہانی بس یہی رہنا باہر نہیں جانا" مشعل کہتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی کو ڈھونڈنے لگی تھوڑی دیر اسے ہانی کی تالیاں بجانے کی آواز آئی مگر اسے پھر احساس ہوا جیسے ہانی دوسرے روم میں چلا گیا
"ہانی میں نے کہا تھا نا اسی روم میں رہنا"
مشعل آنکھوں سے دوپٹہ باندھے بول رہی تھی اسے محسوس ہوا جیسے اریش آگیا ہے اس نے اپنے سامنے کھڑے اریش کو شولڈر اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹٹولا اور مسکرا کر آنکھوں سے دوپٹہ اتارنے لگی
"آج کیسے اتنی جلدی۔۔۔۔"
ادھا جملہ آنکھوں سے دوپٹہ اتارتے ہوئے منہ میں ہی رہ گیا اور ساتھ ہی مشعل کے ہونٹوں کی ہنسی بھی غائب ہوگئی
"شاید تم اپنے ہسبنڈ کو اکسپیکٹ کر رہی تھی، مگر کوئی بات نہیں میں بھی تمہارا ہسبنڈ ہی ہو"
ولی نے مسکراتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"اپنا جملہ درست کرو تم میرے ہسبنڈ ہو نہیں تھے"
مشعل نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اس کے جملے کی تصدیق کی
"پھر سے دوبارہ ہونے میں کتنا ٹائم لگتا ہے ویسے پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو تم"
ولی نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے ہاتھ بڑا کر اس کا گال چھونا چاہا تو مشعل کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی
"اپنی حد میں رہو ولی اور یاد رکھو میں تمہاری بیوی نہیں ہو اور اس خوش فہمی کو بھی دور کرلو ایسا کچھ دوبارہ کبھی ہو سکتا۔۔۔ کیوں آئے ہو تم یہاں پر"
مشعل نے لہجے میں سختی لائے اس سے پوچھا
"تمہاری ناراضگی برحق ہے میں بالکل بھی برا نہیں مانو گا،، بس ہانی کے ساتھ تمہیں بھی دیکھنے کا دل چاہا تو سوچا تمھارے گھر ہی آجاو۔۔ دو دن سے تم ہانی کو اسکول نہیں بھیج رہی ہوں نہ ہی میری کال ریسیو کر رہی ہو۔۔۔ کیا ہوا ڈر تو نہیں گئی مجھ سے،،، ویسے ہے کہاں پر میرا بیٹا"
ولی نے ڈھیٹ پن سے نظریں دوڑاتے ہوئے پورے ہال کا جائزہ لیا
"اپنی اس خوش فہمی کو دور کرلو کہ میں تم سے ڈر گئی ہو،، تمہارے منہ سے میرا بیٹا یہ لفظ بالکل سوٹ نہیں کرتا ولی۔۔۔ باپ ایسا نہیں ہوتا جو حالات کا رونا رو کر رشتہ ہی توڑ جائے اس لیے ہانی سے دور رہو اور اور میرے گھر دوبارہ آنے کی زحمت مت کرنا"
مشعل نے لہجے میں بغیر کسی نرمی یا لچک کے ولی کو مخاطب کیا
"مشعل مجھے اپنی غلطی کا اندازہ ہے پلیز مجھے میری غلطی سدھارنے کا ایک موقع چاہیے" ولی نے منت بھرے لہجے میں مشعل سے کہا اسے یقین تھا تھوڑا بہت ناراض ہونے کے بعد وہ وہ مان جائے گی کیونکہ وہ اس سے محبت کرتی ہے
"کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا ازالہ عمر بھر ممکن نہیں یہاں سے چلے جاؤ ولی"
اب کے مشعل نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"میں اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور کروں گا فی الحال میں یہاں سے جا رہا ہوں اور اب میں نہیں تم آؤگی میرے پاس"
ولی نے ایک کارڈ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جس میں اس کا ایڈریس موجودہ مشعل نے ایک نظر اس کے ہاتھ میں موجود کارڈ کو دیکھا اس سے لے کر سامنے ڈسٹ بن میں پھینک دیا
"ایسا ممکن نہیں ہے تم جا سکتے ہو میرے گھر سے"
مشعل نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"چلو دیکھتے ہیں ایسا کب تک ممکن نہیں ہے"
ولی ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا
مشعل کو رہ رہ کر ولی کے اوپر غصہ آ رہا تھا شکر ہے گھر میں کوئی نوکر موجود نہیں تھا اور ہانی بھی دوسرے روم میں تھا مشعل نے واچ مین کو سختی سے تاکید کری کہ اب یہ صاحب دوبارہ اس کے گھر میں نہ آئے ابھی وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر صوفے پر بیٹھی سوچ ہی رہی تھی کہ کریم (ڈرائیور) مشعل کے پاس آیا
بی بی جی مجھے چند دنوں کے لیے چھٹی چاہیئے گاؤں جانا ہے اپنے"
کریم نے افسردہ چہرہ لئے مشعل سے اجازت لی
"اوکے میں اریش سے بات کر لوں گی خیریت ہے ویسے" مشعل نے کریم کے افسردہ چہرے کو دیکھ کر یوں ہی پوچھ لیا
"بس بی بی جی غریب انسان کی کیا خیر ہونی ہے۔۔۔ چند دن پہلے ہی بیٹی کی دوسری شادی کری تھی کہ اچھا ہے اپنے گھر کی ہوجائے گی مگر اس کے پہلے شوہر اور سسرال والوں نے اس کا قبر تک پیچھا نہ چھوڑنے کا سوچا ہے۔۔ ہر روز میری بیٹی کے سسرال پہنچ جاتے ہیں اسے پریشان کرنے۔۔ اب دوسرا شوہر بھی اس پر شک کرنے لگا ہے اور اسے مارپیٹ کر گھر سے نکال دیا اس لئے میری بیوی نے مجھے بلایا ہے"
کریم نے اپنی بیٹی کی داستان سنائی جو کہ مشعل اپنی کہانی جیسی لگی
"ٹھیک ہے آپ چلے جائیے میں اریش کو بتا دوں گی اور یہ رکھ لیں"
مشعل نے پاس رکھے اپنے کلچ سے کچھ پیسے دیے وہ شکریہ ادا کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا
****
میڈیسن لینے کے بعد تعبیر تھوڑی دیر کے لئے سو چکی تھی تو ارتضیٰ مریم کو لینے چلا گیا وہ واپس آیا تو تعبیر کو جاگا ہوا پایا صبح کی بانسبت اس کی طبیعت اب کافی بہتر لگ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ مریم تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس آئی تعبیر پہلی نظر میں ہی اسے پہچان چکی تھی مریم نے تعبیر کے پاس آ کر اسے گلے لگا لیا
"میری دعا۔۔۔ بہت یاد کیا ہے میں نے تمہیں"
مریم اس کا چہرہ تھامے اسے پیار کرتے ہوئے بولی تعبیر چاہ کر بھی مریم کو ہٹا کر پیچھے نہیں کرسکی
جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے ماں کا لمس اس نے محسوس نہیں کیا تھا مریم نے گلے لگایا تو تعبیر کو عجیب سا سکون ملا اسے اپنی کیفیت سمجھ میں نہیں آئی
"بخار کیوں ہوگیا تمہیں۔۔۔ ارتضیٰ تم نے خیال نہیں رکھا میری بیٹی کا"
مریم نے اپنائے بھرے لہجے میں پہلے تعبیر سے پوچھا اور پھر مڑ کر ارتضیٰ سے شکوہ کرنے لگی جو کہ دروازے کے پاس کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا
"مما میں جب سے اسے یہاں لے کر آیا ہوں تب سے میں ہی اس کا خیال رکھ رہا ہو اور طبیعت خراب بھی اس نے خود اپنی الٹی حرکتوں کی وجہ سے کی ہے۔۔۔۔ پہلے سے ہی محترمہ کو بخار چڑھا ہوا تھا اوپر سے بارش میں انجوائے کرنے چلی گئی اب صبح سے مجھ سے خدمت لے رہی ہے"
ارتضیٰ نے شکایتی نظر تعبیر پر ڈال کر مریم کو اس کا کارنامہ بتایا
"اگر خدمت کر رہے ہو تو کونسا احسان کر رہے ہو اس کے اوپر بیوی ہے وہ تمہاری،، جس طرح بیوی کا فرض بنتا ہے کہ وہ شوہر کا خیال رکھے ویسے ہی شوہر کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کیئر کرے اور کونسا تم کوئی پہلی دفعہ اس کی کیئر کر رہے ہو بچپن میں اس کا خیال تم ہی رکھتے آرہے ہو مجھے یا عائشہ کو تو ہاتھ نہیں لگانے دے دیتے تھے"
مریم نے ارتضیٰ کی اچھی طرح خبر لی تعبیر خاموشی سے دونوں ماں بیٹے کی نوک جھوک دیکھ رہی تھی
"صحیح ہے بھئی لوگ تو بہو کے گھر آنے سے اپنی پارٹی بدل گئے"
ارتضیٰ نے سامنے صوفے پر بیٹھتے ہوہے افسوس سے کہا
"میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا یہ بہو نہیں میری بیٹی ہے اور میرا ووٹ ہمیشہ میری بیٹی کی طرف رہے گا"
مریم نے مسکراتے ہوئے تعبیر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تو ارتضیٰ بھی مسکرانے لگا
"تعبیر بھوک تو نہیں لگ رہی بیٹا"
مریم کو اس کی فکر ہوئی تو پوچھ بیٹھی
"جی تھوڑی تھوڑی" تعبیر نے جھجھکتے ہوئے سچ بولا وہ جب سے سو کر اٹھی تھی اسے بھوک ہی لگ رہی تھی
"اف اتنی دیر سے بتا کیوں نہیں رہی میں جلدی سے تمہارے لیے کھچڑی بنا دیتی ہوں ابھی لائٹ سی ڈائٹ لے لو تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں"
مریم اٹھنے لگی
"آپ چھوڑیں آتے ہی گھر کے کاموں میں لگے گیں کیا۔۔۔ ویسے بھی ان محترمہ کو کھچری پسند نہیں آئے گی میں باہر سے کچھ لائٹ سے لے کر آ جاتا ہوں"
ارتضیٰ بھی اٹھ کھڑا ہوا
"میں کھچڑی بنانے لگی ہو وہ کھا لے گی،، تم بھی چپ کر کے بیٹھو کہی جانے کی ضرورت نہیں"
مریم بولتی ہوئی روم سے چلی گئی مریم کے جانے کے بعد ارتضیٰ تعبیر کے پاس آکر بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھا
"کیسی طبیعت ہے اب"
اس نے تعبیر کا ماتھا چھو کر دیکھا تعبیر کچھ بھی نہیں بولی بخار اسکا اتر چکا تھا ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہونٹوں سے لگایا
"پلیز میں ریسٹ چاہتی ہوں" تعبیر نے اسے بغیر دیکھے کہا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"اوکے اسنووائٹ پھر میں تنگ نہیں کروں گا جلدی جلدی سے طبیعت ٹھیک کرلو"
ارتضیٰ نے اس کو لٹاتے ہوئے کہا اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تو تعبیر نے فوراً اپنے چہرے کا رخ دوسری طرف کر لیا تھوڑی دیر وہ اسے دیکھتا رہا پھر اس کے لئے سینڈوچ لینے باہر چلا گیا اسے اندازہ تھا وہ کھچڑی نہیں کھا پائے گی
****
"کیسا رہا آج کا دن" سب کاموں سے فارغ ہوکر مشعل بیڈ روم میں آئی سوتے ہوئے ہانی پر نظر ڈال کر اریش کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی تو اریش نے اس سے پوچھا
"اچھا گزر گیا،، آپ بتائیں اتنا لیٹ کیوں آئے آج"
مشعل میں اریش سے پوچھا
"بس آج آفس کے کلائنٹس کے ساتھ میٹنگ تھی اس لیے آتے آتے دیر ہوگئی تم بتاؤ گھر پر کوئی آیا تھا"
اریش نے اچانک مشعل سے پوچھا مشعل فوراً بولی
"نہیں تو ایسا کیوں پوچھ رہے ہیں" مشعل نے اریش سے پوچھا اسے لگا جب ہانی نے ولی کو نہیں دیکھا اور واچ مین کو اس نے منع کردیا تو بلاوجہ میں ایسی بات بتانے کی کیا ضرورت جس سے اریش پریشان ہوں ویسے بھی وہ آج کافی لیٹ آفس سے آیا تھا
"ویسے ہی پوچھا تھا ہانی کی مما،، یہ بتاؤ اکا سے بات ہوئی کب تک آ رہی ہیں وہ"
اریش نے مسکرا کر کہا
"اکا سے آج سارا دن بات نہیں ہوسکی کال کروں گی۔۔۔ ارے ہاں کریم کچھ دنوں کے لیے چھٹی پر اپنے گاؤں گیا ہے" مشعل اریش کو بتانے لگی مگر جواب نہ پا کر سر اٹھا کر اریش کو دیکھا تو سو چکا تھا شاید زیادہ تھک گیا تھا،، مشعل نے اس کو دیکھ کر سوچا اور پھر تکیہ پر لیٹ کر کروٹ دوسری طرف لے کر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگی سوتے ہوئے اریش نے ایک نظر آنکھ کھول کر مشعل کو دیکھا
آج وہ آفس سے کافی لیٹ آیا تھا ڈنر کے بعد معمول کے مطابق ہانی کو تھوڑی دیر کے لئے باہر لے کر گیا ہانی روزمرہ کی طرح نان اسٹاپ اسے پورے دن کی روداد سنائے جا رہا تھا تب اس نے بتایا کہ ہانی کے گھر وہی انکل آئے تھے جو ہانی کو اسکول میں بھی ملنے آئے تھے تب اریش چونکا ایسا کون ہے جو ہانی کو اسکول ملنے آیا تھا اور یہ کب کی بات تھی اور آج کون اس کے گھر آیا تھا مشعل نے اس کو خود سے کیوں نہیں بتایا یہ سب سوال اس کے ذہن میں آئے
یہ نہیں تھا کہ وہ مشعل پر شک کر رہا تھا یا اس سے ناراض تھا۔۔۔ وہ ابھی بھی چاہتا تو مشعل سے پوچھ سکتا تھا مگر وہ چاہتا تھا کہ اگر کوئی بات ہے تو مشعل اس سے خود شیئر کرے۔۔۔ وہ واقعی آج بہت تھکا ہوا تھا اس لئے آنکھیں بند کر کے سو گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment