🌹U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 41
"ہانی۔۔۔ روکو اسے وہ ہانی کو لے جائے گا پلیز اسے روکو" مشعل نیند میں مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی اچانک زور سے چیخنے پر برابر میں سوتے ہوئے اریش کی آنکھ کھلی
"مشعل کیا ہوا" اریش نے اٹھ کر اس کا کندھا ہلایا تو مشعل اٹھ کر بیٹھی اریش کو غور سے دیکھ کر بیڈ سے اترنے لگی
"کیا کر رہی ہو مشعل۔۔۔۔ وہ سو رہا ہے نیند خراب ہوگی اس کی"
اریش نے مشعل کا ارادہ بھانپا اس کا ہاتھ پکڑ کر ہانی کے پاس جانے سے روکا تو وہ بے بسی سے اریش کو دیکھنے لگی
"کیا ہوگیا کوئی برا خواب دیکھا ہے" اریش مشعل کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
"ہاں میں ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔۔ اگر ہانی ہم سے دور چلا گیا تو یہ کوئی اسے چھین کر لے گیا تو"
مشعل چاہ کر بھی اپنا خواب اریش سے شیئر نہیں کر پائی مگر اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولی
"اللہ نہ کرے ہانی کیوں ہم سے دور جانے لگا۔۔۔ کوئی ایسے ہی چھین کر لے جائے گا ہمارے بیٹے کو۔۔۔ پتہ نہیں کیا فضول میں بول رہی ہو چلوں تھوڑی دیر لیٹ جاؤ ابھی ٹائم ہے اٹھنے میں" اریش نے اسے لیٹانا چاہا
"نہیں ایک گھنٹے بعد تو اٹھنا ہے اب مجھے نیند نہیں آئے گی آپ سو جائیں پلیز"
مشعل نے اریش کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم میرے پاس ہوگی تو نیند آئے گی مجھے"
اریش کے کہنے پر مشعل اس کے برابر میں لیٹ گئی
"کیوں آگئے ہو تم ولی میری زندگی میں دوبارہ، کسی برے خواب کی طرح۔۔۔ میں اپنا ماضی بھول کر خوش رہنا چاہتی ہوں مگر تم۔۔۔۔ پتہ نہیں میری زندگی سے آزمائش ختم ہوگی بھی کہ نہیں" مشعل چھت کو گھور کر سوچنے لگی تھوڑی دیر بعد ایک نظر اریش کو دیکھا شاید اریش کی آنکھ دوبارہ لگ چکی تھی۔۔۔۔
اچانک مشعل کا موبائل بجنے لگا،، اریش کی نیند خراب نہ ہو اس نے جلدی سے کال کاٹی اور سیل فون لے کر روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ہال میں آکر وہ صوفے پر بیٹھی اور موبائل اپنے برابر میں رکھا۔۔۔ موبائل ایک دفعہ پھر بج اٹھا،، تو مشعل نے کال ریسیو کی
"ہیلو کون بول رہا ہے"
مشعل نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا کیونکہ یہ نمبر اس کے موبائل میں سیو نہیں تھا
"کافی کم عرصہ لگا تمہیں اپنے پہلی محبت اور پہلے شوہر کو بھولنے میں"
ولی کی آواز سن کر مشعل سن ہو کر رہ گئی اس کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ وہ ہانی کے اسکول میں پہنچ سکتا ہے تو اس کو کال کیوں نہیں کر سکتا اننون نمبر مشعل کو اٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا مشعل نے فوراً کال کاٹی۔۔۔ ایک دفعہ پھر موبائل بجنے لگا اس نے اپنا موبائل آف کر دیا
"اریش کو بتانا چاہیے مجھے شاید اس طرح تو میں پاگل ہوں جاو گی"
مشعل سوچنے لگی
"ہانی کی مما اٹھ کر یہاں آگئی" مشعل کو اپنے پیچھے سے اریش کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو اریش آفس کے لئے تیار ہو کر اس کے پاس آیا
"تیار بھی ہوگئے آپ"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"ہاں یار 20 منٹ کے لئے آنکھ لگی تھی دوبارہ کھل گئی تو سوچا ریڈی ہو جاؤ" اریش مشعل کو بتانے لگا
"میری وجہ سے نیند ڈسٹرب ہو گئی آپکی،، میں بہت پریشان کرتی ہوں ناں آپ کو"
مشعل کو افسوس ہونے لگا تو اریش نے مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لیا
"ایسا ویسا۔۔ ہانی کی مما تو جب کوارٹر میں شفٹ ہوئی تھی تبھی سے ڈسٹرب کرنے لگ گئی تھیں ہانی کے ڈیڈ کو"
اریش کے کہنے پر مشعل ہلکا سا مسکرائی اس وقت وہ اسے بالکل لوونگ ہزبینڈ لگا
"اریش مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے" مشعل نے ہمت باندھتے ہوئے اریش کو بتانے کا ارادہ کیا
"جو بھی کہنا ہے وہ میں بھوکے پیٹ بالکل نہیں سن سکتا جلدی سے ناشتہ ریڈی کرو ورنہ آفس کے لیے لیٹ ہو جاؤں گا اور ہانی کو بھی اسکول کے لئے ریڈی کرو"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔اب وہ لونگ ہسبینڈ سے ایک رسپانسبل بزنس مین بن گیا تھا
"آپ ٹیبل پر چلیں ناشتہ میں خود بناتی ہوں آپ کے لئے۔۔۔ ہانی کو آج اسکول نہیں بھیجوں گی،،، ایکٹیویٹیز چل رہی ہیں اس کی"
مشعل کچن میں جانے لگی
"ایکٹیویٹیز بھی تو بچوں کے لئے کرائی جاتی ہیں مشعل،، اس طرح چھٹی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے" اب وہ ایک ذمہ دار باپ کی طرح مشعل سے مخالف تھا
"اوکے ہانی کے ڈیڈ جیسے آپ کہہ رہے ہیں ویسے ہی کروں گی مگر پلیز آج اسے میرے پاس رہنے دیں۔۔۔ دل عجیب سا ہو رہا ہے"
کل شادی کے فنکشن میں تھوڑی دیر کے لئے اس کا دماغ ولی کی طرف سے ہٹ گیا تھا مگر ابھی خواب میں ولی کو دیکھ کر وہ دوبارہ ڈر گئی تھی
"اوکے صرف آج چھٹی کی اجازت ہیں مگر یہ روز روز نہیں چلے گا اور تمہارے اس دل کا بھی علاج میں آفس سے آنے کے بعد کرتا ہوں
اریش بولتا ہوا ڈائننگ ہال میں چلا گیا اور مشعل مسکرا کر کچن میں
****
تعبیر کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو، اپنے اور ارتضیٰ کے بیڈ روم میں لیٹا ہوا پایا وہ شاید مریم کے بیڈروم میں روتے روتے بےہوش ہوگئی تھی اس کے بعد اسے یاد نہیں وہ یہاں کیسے آئی۔۔۔ اپنے برابر میں سوتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی مگر اسے اپنا پورا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اس کی آنکھیں بھی جل رہی تھی تعبیر نے اندازہ لگایا شاید اسے بخار ہوگیا تھا
وہ بیڈ سے اتر کر بیڈ روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اس وقت ملگجا سا اندھیرا تھا صبح ہونے میں تھوڑا سا ٹائم باقی تھا۔۔۔ باہر پانی گرنے کی آواز سے اس نے اندازہ لگایا کہ بارش ہو رہی ہے لانچ کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔۔۔ مین گیٹ توقع کے مطابق لاگڈ تھا برابر میں موجود گرل کھول کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ چھت پر چلی گئی
مینہ اپنے عروج پر برس رہا تھا بادل زور و شور سے گرج برس کر نہ جانے کس بات کا سوگ منا رہے تھے۔۔۔ بارش ہمیشہ ایسے خوشی کا پتہ دیتی تھی مگر آج وہ اداس تھی،،، اس لئے یہ موسم اسے مزید اداس کرگیا چند منٹ میں ہی وہ پوری بھیگ چکی تھی اب بخار کے باعث اسے ٹھنڈ لگنے لگی اور آہستہ آہستہ جسم کانپنے لگا مگر تعبیر نیچے جانے کا ارادہ ترک کر کے وہی بیٹھ گئی۔۔۔ شاید اس طرح خود کو اذیت دینے کا اس نے نیا طریقہ ڈھونڈا تھا
****
ارتضیٰ نے سوتے ہوئے کروٹ لی، اپنا دایاں ہاتھ تعبیر کے اوپر رکھا تو اس کے دماغ میں تعبیر کی غیر موجودگی کا الارم دیا۔۔۔ ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا کل جب تعبیر نے مریم کے بیڈروم میں دروازہ بند کر لیا تھا تو کافی دیر تک ارتضیٰ اس کے رونے کی آواز دروازے کے دوسری طرف کھڑا سنتا رہا تعبیر کے آنسو اس کے دل کو تکلیف دے رہے تھے اس کے پاس روم کی چابی موجود تھی وہ چاہتا تو اسی وقت دروازہ کھول کر اندر جا سکتا تھا مگر ارتضیٰ نے ایسا نہیں کیا وہ چاہتا تھا تعبیر رو کر اپنے آنسو کے ذریعے اپنا غم، غصہ،غبار، خوف سب نکال دے
جب اس کی سسکیاں آنا بند ہو گئی اور کمرے میں سکوت چھایا تو ارتضیٰ نے آہستہ سے روم کا دروازہ کھولا تعبیر نیچے فرش پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی اندر سے پشیمان ہوتے ہوئے اس نے تعبیر کو اٹھایا اور اپنے بیڈروم میں لے آیا
اسے رات سے ہی ہلکی سی حرارت تھی ارتضیٰ اٹھ کر کچن میں گیا پھر مریم کے بیڈروم میں
"تعبیر"
ارتضیٰ نے پکارا مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھی۔۔۔ ارتضیٰ باہر کا دروازہ دیکھا تو وہ لاک تھا اس کی نظر گرل کی کنڈی پر گئی۔۔۔ وہ سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اوپر پہنچا۔۔۔ بارش برسنے کی وجہ سے چھت پر پانی جمع ہو چکا تھا اور تعبیر فرش پر نیچے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ارتضیٰ فورا اس کے پاس آیا
"تعبیر آنکھیں کھولو"
ارتضیٰ اس کا سر اٹھاتے ہوئے اس کے گال تھپتھپانے لگا اسے اٹھا کر نیچے لایا معلوم نہیں کب سے وہ بارش میں بھیگتی رہی ہوگی معمولی حرارت اب تیز بخار میں بدل گئی تھی ارتضیٰ نے اسے روم میں لاکر اس کے کپڑے چینج کیے جو بری طرح بھیگ چکے تھے کپڑے چینج کرنے کے دوران دو بار تعبیر نے آنکھیں کھولی مگر کمزوری اور نقاہت کے باعث دوبارہ بند کرلی ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے ارتضیٰ کو اب اس کے اوپر غصہ آنے لگا
"اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کر کے صحیح بدلہ لے رہی ہے یہ مجھ سے"
ارتضیٰ سوچتا ہوا اس کو کمفرٹر اڑھانے کے بعد کچن میں آیا اس کے لیے کارن فلیکس بنانے لگا کل رات بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا
"تعبیر اٹھو"
باول سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا اور تکیہ کے سہارے بٹھایا کارن فلیکس چمچا اس کے منہ میں ڈالنا چاہا
"جلدی کھاو اس کے بعد تمہیں میڈیسن دینی ہے"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اسکو دیکھ کر کہا مگر تعبیر اس کی بات پر عمل کیے بغیر آنکھوں میں ناراضگی لیے نیم وا آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی
"منہ کھولو فوراً" ارتضیٰ کے لہجے میں سختی،، آنکھوں میں غصہ تھا اور تعبیر میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اس کے غصے کا مقابلہ کرسکے اس لیے آہستہ سے منہ کھولا ارتضیٰ اسے غصے میں دیکھتے ہوئے کھلانے لگا اور وہ چپ کر کے کھانے لگی
"تمہیں اس طرح مجھے تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے"
اس کو کھلانے کے بعد وہ میڈیسن لے کر تعبیر کے پاس آیا پانی دیتے ہوئے اس سے کہنے لگا
"اور تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ تم میرے ساتھ اس طرح کرتے"
اب تعبیر میں بھی اتنی سکت آگئی کہ وہ اسے سنا سکے تبھی وہ بولی
ارتضیٰ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس سائڈ میں رکھا اس کے پاس بیٹھا
"تم ارتضیٰ سے خوف کھاتی تھی اس لیے مزمل تمہارے قریب آگیا۔۔ تعبیر مزمل ایک فرضی کردار سمجھ لو،، جو میری جاب کا ایک حصہ تھا۔۔۔ ارتضیٰ ایک حقیقی کردار ہے اور اس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارا شوہر ہے لیکن مزمل ہو یا ارتضیٰ ان دونوں نے ہی تعبیر کو چاہا ہے۔۔۔ میں مانتا ہوں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی شاک سے کم نہیں مگر میں یہ تو شکوہ نہیں کر رہا تم سے،،، ارتضیٰ اپنے رشتے کی حقیقت جاننے کے باوجود تمہیں ارتضیٰ سے ڈائیورس چاہیے تھی مزمل کے لیے۔۔۔۔۔ تعبیر ہم دونوں اپنی زندگی کا آغاز ان سب باتوں کو بھلا کر بھی کر سکتے ہیں" ارتضیٰ نے تعبیر کو رسانیت سے سمجھاتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے تعبیر نے بے دردی سے جھٹک دیا
"میں نے مزمل سے پیار کیا تھا مگر اس نے مجھے دھوکا دیا جبکہ ارتضیٰ کو تو میں سرے سے ہی پسند نہیں کرتی۔۔۔ اور تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی باتیں رہنے دو تم میری شوہر ہوں یہ سب سے بڑی حقیقت کے ساتھ ساتھ میرے لئے ایک تلخ حقیقت بھی ہے،، نہیں قائم رکھنا مجھے تم سے کوئی رشتہ"
تعبیر بولتے ہوئے اٹھنے لگی ارتضیٰ نے اس کا بازو پکڑ کر واپس بٹھا دیا
"حقیقت تلخ اور سچ کڑوا ہوتا ہے تم میرے نکاح میں ہو،، شوہر ہو میں تمہارا اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا نہ جھٹلایا جاسکتا ہے میں اس رشتے سے کبھی دستبرار نہیں ہوگا تعبیر یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بھٹالو تم مزمل کی محبت کے ساتھ ساتھ ارتضیٰ کی دیوانگی سے بھی واقف ہو"
ارتضیٰ نے اس کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا اور میڈیسن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ا
ارتضیٰ کی آنکھوں میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایسا کچھ تھا وہ گولی اپنے منہ سے نکال نہ سکی چپ کر کے پانی کے دو گھونٹ لے کر گولی اندر کو نگلی مگر وہ حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی بالکل اس کڑوے سچ کی طرح جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا
"گڈ اور ابھی جو تم نے آخری بات بولی ہے رشتہ قائم نہ رکھنے والی۔۔۔۔ میں امید کرتا ہوں دوبارہ تمہارے منہ سے ایسی بات نہ سنو ورنہ اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی" ارتضیٰ اسے وارن کرتا ہوا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر روم سے چلا گیا۔۔۔۔ تعبیر چپ کرکے واپس لیٹ گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 41
"ہانی۔۔۔ روکو اسے وہ ہانی کو لے جائے گا پلیز اسے روکو" مشعل نیند میں مسلسل بڑبڑائے جا رہی تھی اچانک زور سے چیخنے پر برابر میں سوتے ہوئے اریش کی آنکھ کھلی
"مشعل کیا ہوا" اریش نے اٹھ کر اس کا کندھا ہلایا تو مشعل اٹھ کر بیٹھی اریش کو غور سے دیکھ کر بیڈ سے اترنے لگی
"کیا کر رہی ہو مشعل۔۔۔۔ وہ سو رہا ہے نیند خراب ہوگی اس کی"
اریش نے مشعل کا ارادہ بھانپا اس کا ہاتھ پکڑ کر ہانی کے پاس جانے سے روکا تو وہ بے بسی سے اریش کو دیکھنے لگی
"کیا ہوگیا کوئی برا خواب دیکھا ہے" اریش مشعل کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگا
"ہاں میں ڈر گئی تھی بہت زیادہ۔۔۔ اگر ہانی ہم سے دور چلا گیا تو یہ کوئی اسے چھین کر لے گیا تو"
مشعل چاہ کر بھی اپنا خواب اریش سے شیئر نہیں کر پائی مگر اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولی
"اللہ نہ کرے ہانی کیوں ہم سے دور جانے لگا۔۔۔ کوئی ایسے ہی چھین کر لے جائے گا ہمارے بیٹے کو۔۔۔ پتہ نہیں کیا فضول میں بول رہی ہو چلوں تھوڑی دیر لیٹ جاؤ ابھی ٹائم ہے اٹھنے میں" اریش نے اسے لیٹانا چاہا
"نہیں ایک گھنٹے بعد تو اٹھنا ہے اب مجھے نیند نہیں آئے گی آپ سو جائیں پلیز"
مشعل نے اریش کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم میرے پاس ہوگی تو نیند آئے گی مجھے"
اریش کے کہنے پر مشعل اس کے برابر میں لیٹ گئی
"کیوں آگئے ہو تم ولی میری زندگی میں دوبارہ، کسی برے خواب کی طرح۔۔۔ میں اپنا ماضی بھول کر خوش رہنا چاہتی ہوں مگر تم۔۔۔۔ پتہ نہیں میری زندگی سے آزمائش ختم ہوگی بھی کہ نہیں" مشعل چھت کو گھور کر سوچنے لگی تھوڑی دیر بعد ایک نظر اریش کو دیکھا شاید اریش کی آنکھ دوبارہ لگ چکی تھی۔۔۔۔
اچانک مشعل کا موبائل بجنے لگا،، اریش کی نیند خراب نہ ہو اس نے جلدی سے کال کاٹی اور سیل فون لے کر روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ ہال میں آکر وہ صوفے پر بیٹھی اور موبائل اپنے برابر میں رکھا۔۔۔ موبائل ایک دفعہ پھر بج اٹھا،، تو مشعل نے کال ریسیو کی
"ہیلو کون بول رہا ہے"
مشعل نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا کیونکہ یہ نمبر اس کے موبائل میں سیو نہیں تھا
"کافی کم عرصہ لگا تمہیں اپنے پہلی محبت اور پہلے شوہر کو بھولنے میں"
ولی کی آواز سن کر مشعل سن ہو کر رہ گئی اس کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ وہ ہانی کے اسکول میں پہنچ سکتا ہے تو اس کو کال کیوں نہیں کر سکتا اننون نمبر مشعل کو اٹھانا ہی نہیں چاہیے تھا مشعل نے فوراً کال کاٹی۔۔۔ ایک دفعہ پھر موبائل بجنے لگا اس نے اپنا موبائل آف کر دیا
"اریش کو بتانا چاہیے مجھے شاید اس طرح تو میں پاگل ہوں جاو گی"
مشعل سوچنے لگی
"ہانی کی مما اٹھ کر یہاں آگئی" مشعل کو اپنے پیچھے سے اریش کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو اریش آفس کے لئے تیار ہو کر اس کے پاس آیا
"تیار بھی ہوگئے آپ"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر صوفے سے اٹھتے ہوئے پوچھا
"ہاں یار 20 منٹ کے لئے آنکھ لگی تھی دوبارہ کھل گئی تو سوچا ریڈی ہو جاؤ" اریش مشعل کو بتانے لگا
"میری وجہ سے نیند ڈسٹرب ہو گئی آپکی،، میں بہت پریشان کرتی ہوں ناں آپ کو"
مشعل کو افسوس ہونے لگا تو اریش نے مسکرا کر اسے اپنے حصار میں لیا
"ایسا ویسا۔۔ ہانی کی مما تو جب کوارٹر میں شفٹ ہوئی تھی تبھی سے ڈسٹرب کرنے لگ گئی تھیں ہانی کے ڈیڈ کو"
اریش کے کہنے پر مشعل ہلکا سا مسکرائی اس وقت وہ اسے بالکل لوونگ ہزبینڈ لگا
"اریش مجھے کچھ کہنا ہے آپ سے" مشعل نے ہمت باندھتے ہوئے اریش کو بتانے کا ارادہ کیا
"جو بھی کہنا ہے وہ میں بھوکے پیٹ بالکل نہیں سن سکتا جلدی سے ناشتہ ریڈی کرو ورنہ آفس کے لیے لیٹ ہو جاؤں گا اور ہانی کو بھی اسکول کے لئے ریڈی کرو"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔اب وہ لونگ ہسبینڈ سے ایک رسپانسبل بزنس مین بن گیا تھا
"آپ ٹیبل پر چلیں ناشتہ میں خود بناتی ہوں آپ کے لئے۔۔۔ ہانی کو آج اسکول نہیں بھیجوں گی،،، ایکٹیویٹیز چل رہی ہیں اس کی"
مشعل کچن میں جانے لگی
"ایکٹیویٹیز بھی تو بچوں کے لئے کرائی جاتی ہیں مشعل،، اس طرح چھٹی کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے" اب وہ ایک ذمہ دار باپ کی طرح مشعل سے مخالف تھا
"اوکے ہانی کے ڈیڈ جیسے آپ کہہ رہے ہیں ویسے ہی کروں گی مگر پلیز آج اسے میرے پاس رہنے دیں۔۔۔ دل عجیب سا ہو رہا ہے"
کل شادی کے فنکشن میں تھوڑی دیر کے لئے اس کا دماغ ولی کی طرف سے ہٹ گیا تھا مگر ابھی خواب میں ولی کو دیکھ کر وہ دوبارہ ڈر گئی تھی
"اوکے صرف آج چھٹی کی اجازت ہیں مگر یہ روز روز نہیں چلے گا اور تمہارے اس دل کا بھی علاج میں آفس سے آنے کے بعد کرتا ہوں
اریش بولتا ہوا ڈائننگ ہال میں چلا گیا اور مشعل مسکرا کر کچن میں
****
تعبیر کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو، اپنے اور ارتضیٰ کے بیڈ روم میں لیٹا ہوا پایا وہ شاید مریم کے بیڈروم میں روتے روتے بےہوش ہوگئی تھی اس کے بعد اسے یاد نہیں وہ یہاں کیسے آئی۔۔۔ اپنے برابر میں سوتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھ کر وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی مگر اسے اپنا پورا بدن ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا اس کی آنکھیں بھی جل رہی تھی تعبیر نے اندازہ لگایا شاید اسے بخار ہوگیا تھا
وہ بیڈ سے اتر کر بیڈ روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔ اس وقت ملگجا سا اندھیرا تھا صبح ہونے میں تھوڑا سا ٹائم باقی تھا۔۔۔ باہر پانی گرنے کی آواز سے اس نے اندازہ لگایا کہ بارش ہو رہی ہے لانچ کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔۔۔ مین گیٹ توقع کے مطابق لاگڈ تھا برابر میں موجود گرل کھول کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی وہ چھت پر چلی گئی
مینہ اپنے عروج پر برس رہا تھا بادل زور و شور سے گرج برس کر نہ جانے کس بات کا سوگ منا رہے تھے۔۔۔ بارش ہمیشہ ایسے خوشی کا پتہ دیتی تھی مگر آج وہ اداس تھی،،، اس لئے یہ موسم اسے مزید اداس کرگیا چند منٹ میں ہی وہ پوری بھیگ چکی تھی اب بخار کے باعث اسے ٹھنڈ لگنے لگی اور آہستہ آہستہ جسم کانپنے لگا مگر تعبیر نیچے جانے کا ارادہ ترک کر کے وہی بیٹھ گئی۔۔۔ شاید اس طرح خود کو اذیت دینے کا اس نے نیا طریقہ ڈھونڈا تھا
****
ارتضیٰ نے سوتے ہوئے کروٹ لی، اپنا دایاں ہاتھ تعبیر کے اوپر رکھا تو اس کے دماغ میں تعبیر کی غیر موجودگی کا الارم دیا۔۔۔ ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا کل جب تعبیر نے مریم کے بیڈروم میں دروازہ بند کر لیا تھا تو کافی دیر تک ارتضیٰ اس کے رونے کی آواز دروازے کے دوسری طرف کھڑا سنتا رہا تعبیر کے آنسو اس کے دل کو تکلیف دے رہے تھے اس کے پاس روم کی چابی موجود تھی وہ چاہتا تو اسی وقت دروازہ کھول کر اندر جا سکتا تھا مگر ارتضیٰ نے ایسا نہیں کیا وہ چاہتا تھا تعبیر رو کر اپنے آنسو کے ذریعے اپنا غم، غصہ،غبار، خوف سب نکال دے
جب اس کی سسکیاں آنا بند ہو گئی اور کمرے میں سکوت چھایا تو ارتضیٰ نے آہستہ سے روم کا دروازہ کھولا تعبیر نیچے فرش پر آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹی تھی اندر سے پشیمان ہوتے ہوئے اس نے تعبیر کو اٹھایا اور اپنے بیڈروم میں لے آیا
اسے رات سے ہی ہلکی سی حرارت تھی ارتضیٰ اٹھ کر کچن میں گیا پھر مریم کے بیڈروم میں
"تعبیر"
ارتضیٰ نے پکارا مگر وہ گھر میں موجود نہیں تھی۔۔۔ ارتضیٰ باہر کا دروازہ دیکھا تو وہ لاک تھا اس کی نظر گرل کی کنڈی پر گئی۔۔۔ وہ سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اوپر پہنچا۔۔۔ بارش برسنے کی وجہ سے چھت پر پانی جمع ہو چکا تھا اور تعبیر فرش پر نیچے گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی ارتضیٰ فورا اس کے پاس آیا
"تعبیر آنکھیں کھولو"
ارتضیٰ اس کا سر اٹھاتے ہوئے اس کے گال تھپتھپانے لگا اسے اٹھا کر نیچے لایا معلوم نہیں کب سے وہ بارش میں بھیگتی رہی ہوگی معمولی حرارت اب تیز بخار میں بدل گئی تھی ارتضیٰ نے اسے روم میں لاکر اس کے کپڑے چینج کیے جو بری طرح بھیگ چکے تھے کپڑے چینج کرنے کے دوران دو بار تعبیر نے آنکھیں کھولی مگر کمزوری اور نقاہت کے باعث دوبارہ بند کرلی ٹاول سے بال خشک کرتے ہوئے ارتضیٰ کو اب اس کے اوپر غصہ آنے لگا
"اپنے آپ کو اذیت میں مبتلا کر کے صحیح بدلہ لے رہی ہے یہ مجھ سے"
ارتضیٰ سوچتا ہوا اس کو کمفرٹر اڑھانے کے بعد کچن میں آیا اس کے لیے کارن فلیکس بنانے لگا کل رات بھی اس نے کچھ نہیں کھایا تھا
"تعبیر اٹھو"
باول سائڈ پر رکھتے ہوئے وہ اسے اٹھنے میں مدد دینے لگا اور تکیہ کے سہارے بٹھایا کارن فلیکس چمچا اس کے منہ میں ڈالنا چاہا
"جلدی کھاو اس کے بعد تمہیں میڈیسن دینی ہے"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے اسکو دیکھ کر کہا مگر تعبیر اس کی بات پر عمل کیے بغیر آنکھوں میں ناراضگی لیے نیم وا آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی
"منہ کھولو فوراً" ارتضیٰ کے لہجے میں سختی،، آنکھوں میں غصہ تھا اور تعبیر میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اس کے غصے کا مقابلہ کرسکے اس لیے آہستہ سے منہ کھولا ارتضیٰ اسے غصے میں دیکھتے ہوئے کھلانے لگا اور وہ چپ کر کے کھانے لگی
"تمہیں اس طرح مجھے تکلیف دینے کا کوئی حق نہیں ہے"
اس کو کھلانے کے بعد وہ میڈیسن لے کر تعبیر کے پاس آیا پانی دیتے ہوئے اس سے کہنے لگا
"اور تمہیں کس نے حق دیا ہے کہ تم میرے ساتھ اس طرح کرتے"
اب تعبیر میں بھی اتنی سکت آگئی کہ وہ اسے سنا سکے تبھی وہ بولی
ارتضیٰ نے میڈیسن اور پانی کا گلاس سائڈ میں رکھا اس کے پاس بیٹھا
"تم ارتضیٰ سے خوف کھاتی تھی اس لیے مزمل تمہارے قریب آگیا۔۔ تعبیر مزمل ایک فرضی کردار سمجھ لو،، جو میری جاب کا ایک حصہ تھا۔۔۔ ارتضیٰ ایک حقیقی کردار ہے اور اس کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارا شوہر ہے لیکن مزمل ہو یا ارتضیٰ ان دونوں نے ہی تعبیر کو چاہا ہے۔۔۔ میں مانتا ہوں جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا وہ کسی شاک سے کم نہیں مگر میں یہ تو شکوہ نہیں کر رہا تم سے،،، ارتضیٰ اپنے رشتے کی حقیقت جاننے کے باوجود تمہیں ارتضیٰ سے ڈائیورس چاہیے تھی مزمل کے لیے۔۔۔۔۔ تعبیر ہم دونوں اپنی زندگی کا آغاز ان سب باتوں کو بھلا کر بھی کر سکتے ہیں" ارتضیٰ نے تعبیر کو رسانیت سے سمجھاتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھامنا چاہا جسے تعبیر نے بے دردی سے جھٹک دیا
"میں نے مزمل سے پیار کیا تھا مگر اس نے مجھے دھوکا دیا جبکہ ارتضیٰ کو تو میں سرے سے ہی پسند نہیں کرتی۔۔۔ اور تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کی باتیں رہنے دو تم میری شوہر ہوں یہ سب سے بڑی حقیقت کے ساتھ ساتھ میرے لئے ایک تلخ حقیقت بھی ہے،، نہیں قائم رکھنا مجھے تم سے کوئی رشتہ"
تعبیر بولتے ہوئے اٹھنے لگی ارتضیٰ نے اس کا بازو پکڑ کر واپس بٹھا دیا
"حقیقت تلخ اور سچ کڑوا ہوتا ہے تم میرے نکاح میں ہو،، شوہر ہو میں تمہارا اس حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا نہ جھٹلایا جاسکتا ہے میں اس رشتے سے کبھی دستبرار نہیں ہوگا تعبیر یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بھٹالو تم مزمل کی محبت کے ساتھ ساتھ ارتضیٰ کی دیوانگی سے بھی واقف ہو"
ارتضیٰ نے اس کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کہا اور میڈیسن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ا
ارتضیٰ کی آنکھوں میں سنجیدگی کے ساتھ ساتھ ایسا کچھ تھا وہ گولی اپنے منہ سے نکال نہ سکی چپ کر کے پانی کے دو گھونٹ لے کر گولی اندر کو نگلی مگر وہ حلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی بالکل اس کڑوے سچ کی طرح جو ابھی تھوڑی دیر پہلے اس شخص نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا
"گڈ اور ابھی جو تم نے آخری بات بولی ہے رشتہ قائم نہ رکھنے والی۔۔۔۔ میں امید کرتا ہوں دوبارہ تمہارے منہ سے ایسی بات نہ سنو ورنہ اس کی ذمہ دار تم خود ہوگی" ارتضیٰ اسے وارن کرتا ہوا پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر روم سے چلا گیا۔۔۔۔ تعبیر چپ کرکے واپس لیٹ گئی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment