🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 40
"تم پولیس کے کوئی انفارمر ہو یا پھر کوئی جاسوس"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی باتوں سے اپنا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا
یس ائی ایم اسپے
ارتضیٰ نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا تعبیر پلک جھپکائے بناء ارتضیٰ کو دیکھے گئی۔۔۔
اسے یہ مزمل نہیں لگا جسے وہ جانتی تھی تو کوئی اور ہی تھا
"اوو تو اس کا مطلب ہے تمہارا ہمارے گھر میں جاب کرنا بابا کے ساتھ ان کے کاروبار میں انوالو ہونا یہ سب سوچے سمجھے پلان کے مطابق تھا تاکہ تم انہیں اریسٹ کروا سکو"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر یہ سب میری جاب کا حصہ ہے میں اپنی جاب سے مخلص ہو۔۔۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے نہ وہاج صدیقی سے نہ ہی ستار میمن سے اور نہ ہی کسی اور سے۔۔۔۔ یہ ملک کے دشمن ہیں جو یوں ہی کھلے عام گھوم رہے ہیں میں نے اور میرے جیسے کئی دوسرے لوگوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے،، ان ملک کے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ آرام سے اس ملک میں رہ سکیں۔ ۔۔ اس وقت تمہارے بابا اریسٹ ہیں ان پر مقدمہ دائر ہو چکا ہے ناجائز اسلحہ کی خرید اور فروخت کا 98 % چانس یہی تمھارے بابا کو سزا ہو جائے۔۔۔ میں اس بات سے تمہیں زیادہ دیر تک بے خبر نہیں رکھ سکتا تھا"
ارتضیٰ بہت دھیمے لہجے میں تعبیر کو بتا رہا تھا اور تعبیر کی آنکھوں سے لڑی کی صورت آنسو گر رہے تھے یہ آنسو مزمل کے اسپے نکلنے کے ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ آنسو وہاج صدیقی کے لیے تھے۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کا باپ تھا تعبیر کو دکھ ہو رہا تھا مگر برے کام کا برا انجام ہوتا ہے ایک نا ایک دن ایسا ہونا تھا تعبیر روتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔۔
ارتضیٰ نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے اس کی انگلیوں پر لمس اپنے گالوں پر محسوس کر کے تعبیر سوچوں کے بھنور سے آزاد ہوئی
"یہ سب تمہیں آج نہیں تو کل پتہ چلنا تھا حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہیں تمہارے بابا کے بارے میں باخبر کر دوں"
اس کو روتا دیکھ کر ارتضیٰ کو دکھ ہو رہا تھا اسے معلوم تھا وہ وہاج صدیقی کے لئے رو رہی ہے
"بابا نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا یہ سب کرنے کے بعد،، اگر وہ پکڑے گئے تو میرا کیا ہوگا میرا کون ہے بھلا اس دنیا میں ان کے سوا"
وہاج کے انجام کے بعد اب اسے اپنے اوپر رونا آنے لگا اس بھری دنیا میں اپنا آپ اکیلا محسوس ہونے لگا
"ایسے کیوں کہہ رہی ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک"
ارتضیٰ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولنے لگا تو تعبیر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی
"تمہارا پلان کامیاب ہوگیا ناں،، تو اب یہ ڈراما بھی بند کرو۔۔۔ تم وہاج صدیقی کو ٹریپ کر کے پکڑوا چکے ہو،، تو اب اس کی بیٹی سے جھوٹی ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
تابی نے اپنے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا حقیقت جاننے کے بعد وہ ایک دم بدظن ہونے لگی۔۔۔۔ یقینا وہاج صدیقی کو پکڑنے کے لیے اس نے پلان بنایا تھا تو اس کی بیٹی بھی اس پلان کا حصہ تھی تاکہ وہ وہاج صدیقی کا اعتماد جیت سکے یہ سوچ آتے ہی تعبیر بیڈ سے اٹھ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈالنے لگی
"یہ کیا کر رہی ہو تم"
ارتضیٰ بیڈ سے اتر کر دونوں ہاتھ باندھ کر اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"جارہی ہوں واپس اپنے گھر"
تعبیر اسے بنا دیکھے بولی
"کون سا گھر۔۔۔ تمہارے بابا کا گھر اور پراپرٹی قانون نے ضبط کرلی ہے وہ سب کچھ بھی اللیگل تھا"
ارتضیٰ کے بتانے پر تعبیر کے بیگ میں کپڑے ڈالتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے تھمے مگر دوسرے ہی پل وہ ڈریسر سے اپنی دوسری چیزیں اٹھا کر بیگ میں ڈالنے لگی
"پراپرٹی ضبط ہوئی ہے ناں۔۔۔ دنیا میں سارے ہوسٹلز ختم نہیں ہوئے ہیں۔۔۔ دارالامان ایدھی سینٹر بہت سے آپشنز ہے میرے پاس "
تعبیر نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے بیگ سے دوبارہ کپڑے نکالے بیگ اچھال کر دور پھینکا اور اس کے دونوں بازو تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"ایک بات اپنے دماغ میں بٹھالو تعبیر۔۔۔ تمہارے بابا کے ساتھ مزمل کا ایکٹ وہ میرے پلان کا حصہ تھا مگر تم سے میری محبت سچی ہے کسی بھی سوچے سمجھے پلان کے بغیر،،، ہاں اس میں اوپر والے کا کیا پلان ہے جو میرے دل میں تمہارے لئے اتنی محبت ڈالی وہ میں نہیں جانتا۔۔۔ صرف میرا پلان اتنا تھا کہ تم کو اپنے گھر میں لانا ہے اور میری سچی محبت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ تم میری بیوی بن کر میرے گھر میں موجود ہو اس لیے اب تم یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا اور نہ ایسا ہونے دوں گا"
ارتضیٰ کی بات مکمل ہوئی تو تعبیر نے اس سے اپنے بازو چھڑائے
"کیا اور بھی کوئی ایسا سچ ہے جس سے میں بے خبر ہو افیسر یا جو میرے علم میں نہیں کیوکہ مزمل تو تمہارے خود کے تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہے جس سے تعبیر صدیقی کا نکاح ہوا۔۔۔۔ کیا میں اس شخص کا اصلی نام جان سکتی ہوں جس سے میرا نقلی نکاح ہوا"
تعبیر کا اب آہستہ آئستہ دماغ چلنے لگا وہ اپنے دونوں ہاتھ باندھنے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"میرا تم سے نقلی نکاح نہیں ہوا ہے اصلی ہوا ہے بیوی ہو تو میری"
ارتضیٰ اسی لمحے سے تو ڈرتا تھا مگر یہ سب بھی اسے فیس کرنا تھا تو آج ہی سہی۔۔۔ اس نے تعبیر کو بولنے کے ساتھ ہی خود سے قریب کیا تعبیر نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا تو اس نے گرفت اور مضبوط کی جھگ کر تعبیر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا وہ آواز بدل کر مخصوص لہجے میں بولا
"یو آر مائین"
بولتے ہوئے ارتضیٰ کے ہونٹ تعبیر کے کان کی لو کو چھو رہے تھے
تعبیر اس انداز کو،، اس آواز کو،، اس لہجے کو ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ اس کی سانس رکنے لگی اس نے ایک جھٹکے سے ارتضیٰ کو خود سے دور کیا اور خود الماری سے جا لگی وہ خوف کے مارے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھ رہی تھی یعنی اس کی زندگی کا بھیانک باب ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ پھر وہ سب کیا تھا
اسے اریش کا ملنا ڈائیورس دینا یاد آیا اسے اس وقت ارتضیٰ میں کچھ عجیب لگا تھا جب وہ اسے پیپرز دے رہا تھا مگر تعبیر کو تو ڈائیوارس سے مطلب تھا اور اب اسے سمجھ میں آیا یہ سب،،، اس کے سامنے کھڑے اس شخص کا ڈرامہ تھا
کتنا بڑا بہروپیا تھا یہ شخص،، جو اس وقت اس کے سامنے کھڑا تھا یہ اس کی محبت ہرگز نہیں تھا تعبیر اسے نہیں جانتی تھی یہ کوئی اور تھا بلکہ یہ تو وہی شخص تھا جس سے تعبیر خوف کھاتی تھی جس کی قربت سے اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی تعبیر قدم پیچھے کی طرف اٹھاتی آہستہ آہستہ اس سے مزید دور ہونے لگی اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ چکا تھا
ارتضیٰ نے جب مخصوص آواز اور لہجے میں اسے اپنی اصلی شناخت بتائی۔۔۔ تو سب سے پہلے تعبیر نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا یہ اسے معلوم تھا وہ ایسا ہی کرے گی۔۔۔ تعبیر کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کا تاثر ابھرا ارتضیٰ کو علم تھا ایسا ہی ہونا ہے۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر ارتضیٰ کا دل ایک لمحے کے لئے ٹوٹا مگر نہیں،،، اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا اپنی اسنووائٹ کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔ اب وہ تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے خوف دیکھ رہا تھا ارتضیٰ کے ایک قدم آگے بڑھانے سے وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کرکے سرک رہی تھی ارتضیٰ دیکھ سکتا تھا اس وقت وہ خوف سے پسینے میں نہا چکی ہے
"تعبیر میری بات سنو پلیز"
ارتضیٰ اس کی کیفیت سمجھتا ہوا اس کے پاس آیا
"نہیں پیچھے ہٹو دور رہو مجھ سے"
تعبیر اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ایک دم چیخی اور دیوار کے کونے سے لگ کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا جیسے ایسا کرنے سے ارتضیٰ اس کمرے غائب ہو جائے گا
"تعبیر پلیز اسطرح نہیں کرو میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے"
ارتضیٰ نے بولنے کے ساتھ ہی آگے بڑھ کر تعبیر کو اپنی بانہوں میں لینا چاہا تاکہ اس کے ڈر کی کیفیت کم ہوجائے مگر یہ اس کی بھول تھی
"چھوڑو مجھے ارتضیٰ،، پلیز مجھے چھوڑ دو"
تعبیر اس کی بانہوں میں مچلتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
"تعبیر میری بات سنو"
ارتضیٰ نے نرمی سے بولتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس وقت وہ کچھ نہیں سننا چاہتی تھی وہ ارتضیٰ سے اپنا آپ چھڑا کر روم سے باہر بھاگی۔۔۔۔ ارتضیٰ اپنا سر تھام کر رہ گیا
ارتضیٰ تعبیر کے پیچھے کچن میں گیا تو تعبیر کے ہاتھ میں سب سے بڑی نوک دار چھری دیکھ کر اس کا دماغ ایک لمحے کے لیے بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ حقیقت کا علم ہونے کے بعد تعبیر کا ری ایکشن مختلف نہیں ہوگا جیسے وہاج صدیقی کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد اس نے ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ مگر وہ یہ توقع بھی نہیں کر رہا تھا کہ وہ بے وقوفی کی انتہا کرتے ہوئے چھری ہی نکال لے گی
"اگر تم مزمل نہیں ارتضیٰ ہوئے تو میں خودکشی کرنا پسند کروں گی"
تعبیر کے جملے یاد کر کے ارتضیٰ کو غصہ آیا لب بینچ کر وہ تعبیر کے پاس پہنچا اور چھری جس سے وہ اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے والی تھی اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینکی۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تعبیر کی حرکت پر اس کا ہاتھ اٹھا
"کیا کرنے لگی تھی تم بولو۔۔۔۔ حرام موت مرنے کا دل چاہ رہا ہے تمہارا،،،، اگلی بار اگر ایسی حرکت کی نا۔۔۔ تو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے تمہاری مرنے کی خواہش پوری کر دوں گا"
ارتضیٰ کی تیز آواز کے آگے اس کے رونے کی آواز کم ہوگئی
"چلو بیڈ روم میں"
ارتضیٰ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا اور اسے بیڈ روم میں لے جانے لگا تعبیر کا رونا اب ختم ہوگیا تھا مگر سسکیوں لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
ارتضیٰ کے روم سے پہلے مریم کے بیڈروم تھا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا تعبیر اچانک اس سے ہاتھ چھڑا کر مریم کے بیڈروم میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا
"یہ کیا حرکت ہے تعبیر دروازہ کھولو"
ارتضیٰ نے دروازہ بجاتے ہوئے کہا دوسری طرف دروازے کے تعبیر دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی
کیا مذاق ہوا تھا اس کے ساتھ ایک طرف مزمل کا پیار بھرا انداز ہو دوسری طرف ارتضیٰ کا چہرہ چھپا کر اس کے قریب آنا اور اسے بتانا کہ وہ اس کی ہے۔۔۔
تعبیر مزمل اور ارتضیٰ دونوں کے لمحات یاد کر کے ایک بار پھر سیسکنے لگی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 40
"تم پولیس کے کوئی انفارمر ہو یا پھر کوئی جاسوس"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی باتوں سے اپنا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا
یس ائی ایم اسپے
ارتضیٰ نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا تعبیر پلک جھپکائے بناء ارتضیٰ کو دیکھے گئی۔۔۔
اسے یہ مزمل نہیں لگا جسے وہ جانتی تھی تو کوئی اور ہی تھا
"اوو تو اس کا مطلب ہے تمہارا ہمارے گھر میں جاب کرنا بابا کے ساتھ ان کے کاروبار میں انوالو ہونا یہ سب سوچے سمجھے پلان کے مطابق تھا تاکہ تم انہیں اریسٹ کروا سکو"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"تعبیر یہ سب میری جاب کا حصہ ہے میں اپنی جاب سے مخلص ہو۔۔۔ میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے نہ وہاج صدیقی سے نہ ہی ستار میمن سے اور نہ ہی کسی اور سے۔۔۔۔ یہ ملک کے دشمن ہیں جو یوں ہی کھلے عام گھوم رہے ہیں میں نے اور میرے جیسے کئی دوسرے لوگوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے،، ان ملک کے غداروں کو ان کے انجام تک پہنچائے تاکہ دوسرے لوگ آرام سے اس ملک میں رہ سکیں۔ ۔۔ اس وقت تمہارے بابا اریسٹ ہیں ان پر مقدمہ دائر ہو چکا ہے ناجائز اسلحہ کی خرید اور فروخت کا 98 % چانس یہی تمھارے بابا کو سزا ہو جائے۔۔۔ میں اس بات سے تمہیں زیادہ دیر تک بے خبر نہیں رکھ سکتا تھا"
ارتضیٰ بہت دھیمے لہجے میں تعبیر کو بتا رہا تھا اور تعبیر کی آنکھوں سے لڑی کی صورت آنسو گر رہے تھے یہ آنسو مزمل کے اسپے نکلنے کے ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ آنسو وہاج صدیقی کے لیے تھے۔۔۔ جو بھی تھا وہ اس کا باپ تھا تعبیر کو دکھ ہو رہا تھا مگر برے کام کا برا انجام ہوتا ہے ایک نا ایک دن ایسا ہونا تھا تعبیر روتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔۔
ارتضیٰ نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے اس کی انگلیوں پر لمس اپنے گالوں پر محسوس کر کے تعبیر سوچوں کے بھنور سے آزاد ہوئی
"یہ سب تمہیں آج نہیں تو کل پتہ چلنا تھا حقیقت کو زیادہ دیر تک نہیں چھپایا جا سکتا اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہیں تمہارے بابا کے بارے میں باخبر کر دوں"
اس کو روتا دیکھ کر ارتضیٰ کو دکھ ہو رہا تھا اسے معلوم تھا وہ وہاج صدیقی کے لئے رو رہی ہے
"بابا نے ایک دفعہ بھی نہیں سوچا یہ سب کرنے کے بعد،، اگر وہ پکڑے گئے تو میرا کیا ہوگا میرا کون ہے بھلا اس دنیا میں ان کے سوا"
وہاج کے انجام کے بعد اب اسے اپنے اوپر رونا آنے لگا اس بھری دنیا میں اپنا آپ اکیلا محسوس ہونے لگا
"ایسے کیوں کہہ رہی ہو میں ہوں نا تمہارے ساتھ اپنی آخری سانس تک"
ارتضیٰ اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولنے لگا تو تعبیر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگی
"تمہارا پلان کامیاب ہوگیا ناں،، تو اب یہ ڈراما بھی بند کرو۔۔۔ تم وہاج صدیقی کو ٹریپ کر کے پکڑوا چکے ہو،، تو اب اس کی بیٹی سے جھوٹی ہمدردی کرنے کی ضرورت نہیں ہے"
تابی نے اپنے چہرے سے اس کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا حقیقت جاننے کے بعد وہ ایک دم بدظن ہونے لگی۔۔۔۔ یقینا وہاج صدیقی کو پکڑنے کے لیے اس نے پلان بنایا تھا تو اس کی بیٹی بھی اس پلان کا حصہ تھی تاکہ وہ وہاج صدیقی کا اعتماد جیت سکے یہ سوچ آتے ہی تعبیر بیڈ سے اٹھ کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیگ میں ڈالنے لگی
"یہ کیا کر رہی ہو تم"
ارتضیٰ بیڈ سے اتر کر دونوں ہاتھ باندھ کر اس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
"جارہی ہوں واپس اپنے گھر"
تعبیر اسے بنا دیکھے بولی
"کون سا گھر۔۔۔ تمہارے بابا کا گھر اور پراپرٹی قانون نے ضبط کرلی ہے وہ سب کچھ بھی اللیگل تھا"
ارتضیٰ کے بتانے پر تعبیر کے بیگ میں کپڑے ڈالتے ہاتھ ایک لمحے کے لئے تھمے مگر دوسرے ہی پل وہ ڈریسر سے اپنی دوسری چیزیں اٹھا کر بیگ میں ڈالنے لگی
"پراپرٹی ضبط ہوئی ہے ناں۔۔۔ دنیا میں سارے ہوسٹلز ختم نہیں ہوئے ہیں۔۔۔ دارالامان ایدھی سینٹر بہت سے آپشنز ہے میرے پاس "
تعبیر نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے بیگ سے دوبارہ کپڑے نکالے بیگ اچھال کر دور پھینکا اور اس کے دونوں بازو تھام کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
"ایک بات اپنے دماغ میں بٹھالو تعبیر۔۔۔ تمہارے بابا کے ساتھ مزمل کا ایکٹ وہ میرے پلان کا حصہ تھا مگر تم سے میری محبت سچی ہے کسی بھی سوچے سمجھے پلان کے بغیر،،، ہاں اس میں اوپر والے کا کیا پلان ہے جو میرے دل میں تمہارے لئے اتنی محبت ڈالی وہ میں نہیں جانتا۔۔۔ صرف میرا پلان اتنا تھا کہ تم کو اپنے گھر میں لانا ہے اور میری سچی محبت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ تم میری بیوی بن کر میرے گھر میں موجود ہو اس لیے اب تم یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی میں ایسا ہرگز نہیں چاہوں گا اور نہ ایسا ہونے دوں گا"
ارتضیٰ کی بات مکمل ہوئی تو تعبیر نے اس سے اپنے بازو چھڑائے
"کیا اور بھی کوئی ایسا سچ ہے جس سے میں بے خبر ہو افیسر یا جو میرے علم میں نہیں کیوکہ مزمل تو تمہارے خود کے تخلیق کردہ ایک فرضی کردار ہے جس سے تعبیر صدیقی کا نکاح ہوا۔۔۔۔ کیا میں اس شخص کا اصلی نام جان سکتی ہوں جس سے میرا نقلی نکاح ہوا"
تعبیر کا اب آہستہ آئستہ دماغ چلنے لگا وہ اپنے دونوں ہاتھ باندھنے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"میرا تم سے نقلی نکاح نہیں ہوا ہے اصلی ہوا ہے بیوی ہو تو میری"
ارتضیٰ اسی لمحے سے تو ڈرتا تھا مگر یہ سب بھی اسے فیس کرنا تھا تو آج ہی سہی۔۔۔ اس نے تعبیر کو بولنے کے ساتھ ہی خود سے قریب کیا تعبیر نے اسے پیچھے ہٹانا چاہا تو اس نے گرفت اور مضبوط کی جھگ کر تعبیر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا وہ آواز بدل کر مخصوص لہجے میں بولا
"یو آر مائین"
بولتے ہوئے ارتضیٰ کے ہونٹ تعبیر کے کان کی لو کو چھو رہے تھے
تعبیر اس انداز کو،، اس آواز کو،، اس لہجے کو ہزاروں میں بھی پہچان سکتی تھی۔۔۔ اس کی سانس رکنے لگی اس نے ایک جھٹکے سے ارتضیٰ کو خود سے دور کیا اور خود الماری سے جا لگی وہ خوف کے مارے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ارتضیٰ کو دیکھ رہی تھی یعنی اس کی زندگی کا بھیانک باب ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔ پھر وہ سب کیا تھا
اسے اریش کا ملنا ڈائیورس دینا یاد آیا اسے اس وقت ارتضیٰ میں کچھ عجیب لگا تھا جب وہ اسے پیپرز دے رہا تھا مگر تعبیر کو تو ڈائیوارس سے مطلب تھا اور اب اسے سمجھ میں آیا یہ سب،،، اس کے سامنے کھڑے اس شخص کا ڈرامہ تھا
کتنا بڑا بہروپیا تھا یہ شخص،، جو اس وقت اس کے سامنے کھڑا تھا یہ اس کی محبت ہرگز نہیں تھا تعبیر اسے نہیں جانتی تھی یہ کوئی اور تھا بلکہ یہ تو وہی شخص تھا جس سے تعبیر خوف کھاتی تھی جس کی قربت سے اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی تعبیر قدم پیچھے کی طرف اٹھاتی آہستہ آہستہ اس سے مزید دور ہونے لگی اس کا پورا وجود پسینے میں بھیگ چکا تھا
ارتضیٰ نے جب مخصوص آواز اور لہجے میں اسے اپنی اصلی شناخت بتائی۔۔۔ تو سب سے پہلے تعبیر نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا یہ اسے معلوم تھا وہ ایسا ہی کرے گی۔۔۔ تعبیر کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کا تاثر ابھرا ارتضیٰ کو علم تھا ایسا ہی ہونا ہے۔ ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھ کر ارتضیٰ کا دل ایک لمحے کے لئے ٹوٹا مگر نہیں،،، اسے خود کو مضبوط رکھنا تھا اپنی اسنووائٹ کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔ اب وہ تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے خوف دیکھ رہا تھا ارتضیٰ کے ایک قدم آگے بڑھانے سے وہ آہستہ آہستہ قدم پیچھے کرکے سرک رہی تھی ارتضیٰ دیکھ سکتا تھا اس وقت وہ خوف سے پسینے میں نہا چکی ہے
"تعبیر میری بات سنو پلیز"
ارتضیٰ اس کی کیفیت سمجھتا ہوا اس کے پاس آیا
"نہیں پیچھے ہٹو دور رہو مجھ سے"
تعبیر اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر ایک دم چیخی اور دیوار کے کونے سے لگ کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپالیا جیسے ایسا کرنے سے ارتضیٰ اس کمرے غائب ہو جائے گا
"تعبیر پلیز اسطرح نہیں کرو میں بہت پیار کرتا ہوں تم سے"
ارتضیٰ نے بولنے کے ساتھ ہی آگے بڑھ کر تعبیر کو اپنی بانہوں میں لینا چاہا تاکہ اس کے ڈر کی کیفیت کم ہوجائے مگر یہ اس کی بھول تھی
"چھوڑو مجھے ارتضیٰ،، پلیز مجھے چھوڑ دو"
تعبیر اس کی بانہوں میں مچلتی ہوئی زور زور سے چیخنے لگی
"تعبیر میری بات سنو"
ارتضیٰ نے نرمی سے بولتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر اس وقت وہ کچھ نہیں سننا چاہتی تھی وہ ارتضیٰ سے اپنا آپ چھڑا کر روم سے باہر بھاگی۔۔۔۔ ارتضیٰ اپنا سر تھام کر رہ گیا
ارتضیٰ تعبیر کے پیچھے کچن میں گیا تو تعبیر کے ہاتھ میں سب سے بڑی نوک دار چھری دیکھ کر اس کا دماغ ایک لمحے کے لیے بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ حقیقت کا علم ہونے کے بعد تعبیر کا ری ایکشن مختلف نہیں ہوگا جیسے وہاج صدیقی کی حقیقت کا علم ہونے کے بعد اس نے ری ایکٹ کیا تھا۔۔۔ مگر وہ یہ توقع بھی نہیں کر رہا تھا کہ وہ بے وقوفی کی انتہا کرتے ہوئے چھری ہی نکال لے گی
"اگر تم مزمل نہیں ارتضیٰ ہوئے تو میں خودکشی کرنا پسند کروں گی"
تعبیر کے جملے یاد کر کے ارتضیٰ کو غصہ آیا لب بینچ کر وہ تعبیر کے پاس پہنچا اور چھری جس سے وہ اپنے ہاتھ کی نس کاٹنے والی تھی اس کے ہاتھ سے چھین کر دور پھینکی۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی تعبیر کی حرکت پر اس کا ہاتھ اٹھا
"کیا کرنے لگی تھی تم بولو۔۔۔۔ حرام موت مرنے کا دل چاہ رہا ہے تمہارا،،،، اگلی بار اگر ایسی حرکت کی نا۔۔۔ تو اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے تمہاری مرنے کی خواہش پوری کر دوں گا"
ارتضیٰ کی تیز آواز کے آگے اس کے رونے کی آواز کم ہوگئی
"چلو بیڈ روم میں"
ارتضیٰ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے اس کا بازو پکڑا اور اسے بیڈ روم میں لے جانے لگا تعبیر کا رونا اب ختم ہوگیا تھا مگر سسکیوں لیتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
ارتضیٰ کے روم سے پہلے مریم کے بیڈروم تھا جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا تعبیر اچانک اس سے ہاتھ چھڑا کر مریم کے بیڈروم میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا
"یہ کیا حرکت ہے تعبیر دروازہ کھولو"
ارتضیٰ نے دروازہ بجاتے ہوئے کہا دوسری طرف دروازے کے تعبیر دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی
کیا مذاق ہوا تھا اس کے ساتھ ایک طرف مزمل کا پیار بھرا انداز ہو دوسری طرف ارتضیٰ کا چہرہ چھپا کر اس کے قریب آنا اور اسے بتانا کہ وہ اس کی ہے۔۔۔
تعبیر مزمل اور ارتضیٰ دونوں کے لمحات یاد کر کے ایک بار پھر سیسکنے لگی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment