U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 39
مشعل کا موبائل کب سے بج رہا تھا مگر اریش کے آفس اور ہانی کے اسکول کے جانے کے بعد یہ ٹائم اس کے نوکروں سے صفائی کروانے کا ہوتا تھا
"صوفے کے نیچے سے جھاڑو کا ہاتھ مارو،، ابھی آکر چیک کرو گی" سعیدہ سے کہتی ہوئی مشعل اپنے روم میں آئی تو موبائل پر لینڈ لائن نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"کہاں بزی تھی ہانی کی مما۔۔۔ کہیں ہانی کے ڈیڈ تو یاد نہیں آرہے تھے"
کال ریسیو کرتے ہی اریش کی شوخی بھری آواز مشعل کے کانوں سے ٹکرائی
"اریش آپ کو معلوم ہے نا یہ ٹائم میرا کتنا بزی ہوتا ہے۔۔۔ سعیدہ اسے صفائی کروا رہی تھی۔۔۔ ہانی بھی آتا ہی ہوگا اسکول سے اور اب بھی آج جلدی آجانا ماہرہ کا گھر آنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔ مجھے مینو بھی بتا دیے گا کیا بنواو رس ملائی تو تھوڑی دیر میں خود بنالو گی"
مشعل نے ایک کے بعد ایک باتیں جو جو اس کے ذہن میں چلتی رہی سب کی سب ایک سانس میں بول دیں
"ہانی کی مما تو بس نان اسٹاپ ہی شروع ہوجاتی ہیں فون پر۔۔۔۔ اب بریک لگاو اور میری بات غور سے سنو۔ ۔۔۔گھر تو میں جلدی آجاؤں گا مگر آج ماہرہ کے آنے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔۔۔ میرا فرینڈ ہے مصطفیٰ، اس کی بارات ہے آج، ہم وہاں انوائٹڈ ہیں"
ابھی اریش اس کو بتا ہی رہا تھا مشعل بول پڑی
"اریش میں کیا کروں گی وہاں جاکر،، بور ہوجاؤ گی۔۔۔ بس مائرہ کو آنے دیں،، آپ چلیں جائیں اپنے فرینڈ کی شادی میں"
مشعل نے منہ بناتے ہوئے کہا یقیناً وہاں اریش اپنے دوستوں میں مصروف ہوجاتا اور مشعل نے بور ہوجانا تھا
"کیوں ہوگی بور وہاں پر حیا بھابھی ہوگیں۔ ۔۔۔ جب معاویہ کے ساتھ ہمارے گھر پہ آئے تھی تب تو تم نے ان کی کمپنی کو بہت انجوائے کیا تھا"
اریش کی باتوں سے مشعل کو فیل ہوا اس کا آج فنکشن اٹینڈ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور حیا کا نام سن کر مشعل کی بھی بوریت دور ہوگئی
"اچھا تو آپ پوری بات بتائے نہ حیا ہوگی تو پھر ٹھیک ہے"
مشعل کا بھی حیا کا سن کر فوراً فنکشن میں جانے کا مائینڈ بن گیا
"ہانی کی مما آج میری پسند کا ڈریس پہن لیے گا ہمارے نکاح والا"
مشعل کے راضی ہو جانے کے بعد اریش نے نئی فرمائش کردی
"اوکے جناب اور کچھ حکم کریں" مشعل نے مسکرا کر اپنے نکاح والا ڈریس نکالا تاکہ ابھی سے پریس کرلے
"حکم تو آپ کیا کریں بیگم صاحبہ ہم تو غلام ہیں آپ کے۔۔۔ بس کبھی کبھی اپنی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کروا لیتے ہیں،، ورنہ مالکن تو آپ ہیں ہماری"
اریش کی بات پر مشعل زور سے ہنسی
"اریش ابھی اگر ماہرہ آپ کی باتیں سن لے ناں تو وہ آپ کو صحیح کا جورو کا غلام بولے گی"
مشعل کی بات پر اب کے اریش ہنسا
"نہیں وہ ایسا بالکل نہیں بولے گی کیوکہ شیراز خود اس کے تھلے لگا ہوا ہے۔۔۔ اچھا ہانی اسکول سے آئے تو اس کو کھانا کھلا کر دوپہر میں سلا دینا،،، تاکہ وہ رات میں ڈل فیل نہ کرے"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا اور خدا حافظ کہہ کر مشعل نے فون رکھ دیا۔۔۔ اپنا ڈریس ہینگر سمیت وہ ہال میں آگئی ہانی بیگ اٹھاتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا
"آگیا میرا بیٹا"
مشعل نے ہانی کا بیگ اتار کر رکھا اور اسے چینج کرانے لے گئی
"مما یہ اصلی اور نقلی کیا ہوتا ہے" مشعل ہانی کو کھانا کھلا رہی تھی تب ہانی نے مشعل سے پوچھا
"آپ نے کس سے سن لیا ہے اصلی اور نقلی مشعل نے نیوالا بنا کر اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
"آج اسکول میں ہانی سے ملنے اس کے اصلی ڈیڈ آئے تھے ناں"
ہانی کی بات سن کر مشعل جو دوسرا نیوالا بنا رہی وہ پلیٹ میں ہی گر گیا
"اصلی ڈیڈ"
مشعل نے زیر لب بڑبڑایا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ولی کا چہرہ لہرایا
"کون ملنے آیا تھا آپ سے اور کیا کررہا تھا وہ"
مشعل نے ہانی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر پوچھا
"اسکول سے چھٹی کے ٹائم ہانی سے انکل ملنے آئے تھے ہانی کو بہت پیار کیا،،، بولے میں تمہارا اصلی ڈیڈ ہو جو گھر میں ہوتے ہیں وہ نقلی ڈیڈ ہیں"
ہانی نے مشعل کو پوری بات بتائی تو وہ بے یقینی سے ہانی کو دیکھے گئی
"ہانی مما کی بات غور سے سنو اصلی نقلی کچھ بھی نہیں ہوتا میری جان۔۔۔ آپ کے صرف ایک ہی ڈیڈ ہیں جن کے ساتھ ہم رہتے ہیں وہی آپ کے ڈیڈ ہیں اور آپ آئندہ کسی کی بھی بات نہیں سنو گے بلکہ کسی سے بھی اس طرح نہیں ملو گے"
مشعل نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے گلے لگایا
اسے اسکول والوں پر بھی غصہ آیا اور وہ ارادہ رکھتی تھی ہانی کو سلانے کے بعد اس کی پرنسپل سے بات کرے کیسے کوئی اجنبی اگر ہانی سے مل سکتا ہے
اس طرح ولی کا اس کی اور ہانی کی زندگی میں واپس آنا ٹھیک نہیں تھا وہ اس بات کو لے کر کافی پریشان ہوگئی۔۔۔۔
****
"آؤ کوئی مووی دیکھتے ہیں"
ارتضیٰ نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
تعبیر تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر نکلی تھی اور اس سے پہلے میڈ پورے گھر کی صفائی کرکے جاچکی تھی
"اگر تمہارا کل رات کی طرح مووی دیکھنے کا ارادہ ہے تو مجھے اس ٹائم مووی بالکل بھی نہیں دیکھنی"
تعبیر کے گھور کر کہنے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
کل رات کو کھانا ارتضیٰ نے بنایا اور تعبیر کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا اس کے بعد اس نے ڈی وی ڈی پر کوئی انگلش مووی لگائی
مووی میں جب جب کوئی فضول سین آتا ارتضیٰ اس سے زیادہ فضول حرکتوں پر اتر آتا۔۔ تعبیر نے مووی تو کیا ہی دیکھی وہ بس ارتضیٰ کے رومانس پر ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور آخر کار جب مووی میں ہیرو صاحب اپنے آپے سے باہر آئے تو ارتضیٰ نے شرافت سے مووی بند کر دی۔۔۔ جس پر تعبیر نے سکون کا سانس لیا تھوڑی دیر ان دونوں نے اپنی چھت پر واک کی مگر جب سونے کا ٹائم آیا تو ارتضیٰ نے خود ہیرو والے کام شروع کر دیئے
"چلو ناں اب کی بار سیریس ہو کر دیکھیں گے"
ارتضیٰ نے تعبیر کو بہلاتے ہوئے کہا
"مجھے تم سے کسی قسم کی شرافت کی امید نہیں ہے اس لیے رات ہونے تک تم مجھ سے دور رہو"
تعبیر ہیئر برش سے اپنے بال سلجھاتے ہوئے بولی ارتضیٰ نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا
"صرف محبت کرنے کا حوصلہ ہے آپ میں میڈم مگر آپ کا باڈی گارڈ صرف محبت کرتا ہی نہیں محبت جتانے کے فن سے بھی واقف ہے"
ارتضیٰ اس کی گردن پر جھگتا ہوا اس کے باڈی اسپرے کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
"میں اپنے اس باڈی گارڈ کی تین دن سے ساری فنکاریاں دیکھ رہی ہو۔۔۔ تم محبت جتاتے ہوئے میری شامت لے آتے ہو دور ہٹو اور لگاو مووی"
تعبیر نے اسکو دور ہٹاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔ ۔۔ جس پر ارتضیٰ مسکرا کر ڈی وی ڈی پلئیر میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کل کوئی بہت ہی فضول قسم کا ہیرو تھا،،، خدارا کسی ڈھنگ کے انسان کی مووی لگانا"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھا۔۔۔ مووی ان کر کے ارتضیٰ اسکے پاس آیا
"تو تم مووی کے ہیرو کی بجائے اپنے ہیرو پر کونسنٹریٹ کیا کرو ناں میری جان"
ارتضیٰ نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ حائل کیے
"ایک منٹ یہ مووی میں اس شرط پر دیکھ رہی ہو تم مووی بیڈ پر بیٹھ کر دیکھو گے اور میں صوفے پر"
تعبیر اس کو فری ہوتا دیکھ کر صوفے پر بیٹھ کر کہنے لگی ارتضیٰ اس کو گھورتا ہوا روم کی لائٹ بند کرکے بیڈ پر بیٹھ گیا
"یہ لائٹ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے اب"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"کیوکہ ہارر موویز میں اندھیرے میں دیکھنا پسند کرتا ہوں اور اب چپ کرکے مووی دیکھو مووی کے درمیان مجھے باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ اسے گھور کر رہ گئی
"مووی کے درمیان باتیں کرنا پسند نہیں ہے مگر رومینس کرنا پسند ہے"
تعبیر نے دل میں سوچا
"وہ الگ بات ہے بیوی پاس ہو تو بندہ رومنٹک ہو ہی جاتا ہے مووی کے درمیان"
ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اسے حیرت سے دیکھا یہ تو اس نے دل میں سوچا وہ بھلا کیسے جان گیا اس کے دل کی بات
"کیا ہوا بیوی ہو تم میری تمہارے دل کی بات نہیں جانوں گا کہ کیا سوچ رہی ہو تم اس وقت میرے بارے میں"
ارتضیٰ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا جو حیرت سے منہ کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی
"اف کتنا خطرناک انسان ہے یہ اندر سے"
تعبیر نے اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے سوچا
"یہ بھی ٹھیک ہے میں واقعی بہت خطرناک ہو تم بچ کے رہا کرو مجھ سے"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر اٹھ کر آئی اور بیڈ پر رکھا تکیہ اٹھا کر اسے مارنے لگی جسے ارتضیٰ نے پکڑ کر دوسری طرف پھینکا اور تعبیر کو کھینچ کر بیڈ پر گرا لیا
"کل رومنٹک مووی دیکھ کر میں نے رومینس کیا تھا آج ومپائر والی مووی ہے اب ذرا بچ کر دکھاؤ مجھ سے"
وہ اسکی شہ رگ پر جھکتا ہوا کہنے لگا تعبیر کو لگا جیسے اس کے ویمپائر کی طرح دو لمبے دانت نکل آئے گے جو وہ اس کی گردن میں گرھادے گا
"مزمل مجھے اس وقت واقعی تم سے خوف آ رہا ہے"
تعبیر کے ڈرنے پر ارتضیٰ ہنسا اور شرافت سے اس کے ساتھ مووی دیکھنے لگا مگر جب جب ہارر سین آتا ارتضیٰ کی جگہ وہ ہی اس سے چپک کر رہ جاتی
"بند کرو یہ واہیات فلم مجھے نہیں دیکھنی، تھک چکی ہو میں ڈر ڈر کے"
تعبیر نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے ٹی وی سوئچ آف کیا
"میرا بھی یہی خیال ہے فلم چھوڑو ہم اپنی فلم میں انجوائے کرلیتے ہیں"
ارتضیٰ نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"اپنا اتنا عادی بنا رہے ہو مجھے،، اگر تمھارا مجھ سے دل بھر گیا تو"
ارتضیٰ کی شدتیں دیکھ کر تعبیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
"کچھ عادتیں وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہو جاتی ہیں اور پختہ عادتوں سے انسان پیچھا نہیں چھڑا سکتا تمہارے ساتھ بھی میرا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے بے فکر رہو میرا دل تم سے کبھی بھی نہیں بھرنے والا"
ارتضیٰ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے یقین دلایا ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ کے موبائل پر کال آنے لگی
ارتضیٰ نے موبائل پر کرنل سرفراز کا نمبر دیکھا تعبیر پیچھے ہو کر بیٹھی
"السلام علیکم سر" ارتضیٰ نے کال ریسیو کر کے کہا۔۔۔ تعبیر اٹھ کر روم سے جانے لگی مگر ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بیٹھا دیا
"الحمداللہ سر آپ سنائے۔ ۔۔۔جی میں نے نیوز میں دیکھا تھا اور انسپکٹر عماد سے بھی معلوم ہوا تھا وہاج صدیقی کا کیس عدالت میں جا چکا ہے اور پہلی پیشی اگلے ہفتے کو ممکن ہے"
ارتضیٰ موبائل پر ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو جبکہ تعبیر آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی سمائے اس کے ایک ایک لفظ پر غور کر رہی تھی
"سر یہ تو میری جاب تھی اور میرا فرض تھا اس کو لے کر آپ فکر نہیں کریں۔۔۔ وہاج صدیقی اور ستار میمن کے خلاف ثبوت اتنے پکے ہیں وہ کتنا بھی مہنگا وکیل کرلیں ان کے لیے اب جیل سے باہر آنا ممکن نہیں"
تعبیر کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ مزمل کے منہ سے یہ سب سن رہی ہے اس کا ہاتھ اب بھی مزمل کے ہاتھ میں تھا
"بابا جیل میں ہیں" یہ سوچ آتے ہی تعبیر کا دماغ سن ہونے لگا
ارتضیٰ کال بند کر چکا تھا اس نے تعبیر کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔ تعبیر نے اس کے چہرے پر کوئی مذاق کی رمگ ڈھونڈنی چاہی کہ شاید وہ ابھی زور سے ہنس دے گا اور کہے گا میں تو مذاق کر رہا تھا تم کتنی بے وقوف ہوں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اب بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
"کون ہو تم"
تعبیر نے بولنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا
"ابھی بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ کون ہو میں"
ارتضیٰ نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کی طرف دیکھا ابھی تو تعبیر کو بہت کچھ بتانا تھا اور تعبیر نے ابھی سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا
مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ سب بتا نا ہی تھا آخر وہ کب تک اس سے چھپا کے رکھتا اس لیے ارتضیٰ نے جان بوجھ کر کرنل سرفراز کی کال تعبیر کے سامنے ریسیو کر کے بات کری
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 39
مشعل کا موبائل کب سے بج رہا تھا مگر اریش کے آفس اور ہانی کے اسکول کے جانے کے بعد یہ ٹائم اس کے نوکروں سے صفائی کروانے کا ہوتا تھا
"صوفے کے نیچے سے جھاڑو کا ہاتھ مارو،، ابھی آکر چیک کرو گی" سعیدہ سے کہتی ہوئی مشعل اپنے روم میں آئی تو موبائل پر لینڈ لائن نمبر دیکھ کر کال ریسیو کی
"کہاں بزی تھی ہانی کی مما۔۔۔ کہیں ہانی کے ڈیڈ تو یاد نہیں آرہے تھے"
کال ریسیو کرتے ہی اریش کی شوخی بھری آواز مشعل کے کانوں سے ٹکرائی
"اریش آپ کو معلوم ہے نا یہ ٹائم میرا کتنا بزی ہوتا ہے۔۔۔ سعیدہ اسے صفائی کروا رہی تھی۔۔۔ ہانی بھی آتا ہی ہوگا اسکول سے اور اب بھی آج جلدی آجانا ماہرہ کا گھر آنے کا پروگرام ہے۔۔۔۔ مجھے مینو بھی بتا دیے گا کیا بنواو رس ملائی تو تھوڑی دیر میں خود بنالو گی"
مشعل نے ایک کے بعد ایک باتیں جو جو اس کے ذہن میں چلتی رہی سب کی سب ایک سانس میں بول دیں
"ہانی کی مما تو بس نان اسٹاپ ہی شروع ہوجاتی ہیں فون پر۔۔۔۔ اب بریک لگاو اور میری بات غور سے سنو۔ ۔۔۔گھر تو میں جلدی آجاؤں گا مگر آج ماہرہ کے آنے کا پروگرام کینسل ہوگیا ہے۔۔۔ میرا فرینڈ ہے مصطفیٰ، اس کی بارات ہے آج، ہم وہاں انوائٹڈ ہیں"
ابھی اریش اس کو بتا ہی رہا تھا مشعل بول پڑی
"اریش میں کیا کروں گی وہاں جاکر،، بور ہوجاؤ گی۔۔۔ بس مائرہ کو آنے دیں،، آپ چلیں جائیں اپنے فرینڈ کی شادی میں"
مشعل نے منہ بناتے ہوئے کہا یقیناً وہاں اریش اپنے دوستوں میں مصروف ہوجاتا اور مشعل نے بور ہوجانا تھا
"کیوں ہوگی بور وہاں پر حیا بھابھی ہوگیں۔ ۔۔۔ جب معاویہ کے ساتھ ہمارے گھر پہ آئے تھی تب تو تم نے ان کی کمپنی کو بہت انجوائے کیا تھا"
اریش کی باتوں سے مشعل کو فیل ہوا اس کا آج فنکشن اٹینڈ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور حیا کا نام سن کر مشعل کی بھی بوریت دور ہوگئی
"اچھا تو آپ پوری بات بتائے نہ حیا ہوگی تو پھر ٹھیک ہے"
مشعل کا بھی حیا کا سن کر فوراً فنکشن میں جانے کا مائینڈ بن گیا
"ہانی کی مما آج میری پسند کا ڈریس پہن لیے گا ہمارے نکاح والا"
مشعل کے راضی ہو جانے کے بعد اریش نے نئی فرمائش کردی
"اوکے جناب اور کچھ حکم کریں" مشعل نے مسکرا کر اپنے نکاح والا ڈریس نکالا تاکہ ابھی سے پریس کرلے
"حکم تو آپ کیا کریں بیگم صاحبہ ہم تو غلام ہیں آپ کے۔۔۔ بس کبھی کبھی اپنی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کروا لیتے ہیں،، ورنہ مالکن تو آپ ہیں ہماری"
اریش کی بات پر مشعل زور سے ہنسی
"اریش ابھی اگر ماہرہ آپ کی باتیں سن لے ناں تو وہ آپ کو صحیح کا جورو کا غلام بولے گی"
مشعل کی بات پر اب کے اریش ہنسا
"نہیں وہ ایسا بالکل نہیں بولے گی کیوکہ شیراز خود اس کے تھلے لگا ہوا ہے۔۔۔ اچھا ہانی اسکول سے آئے تو اس کو کھانا کھلا کر دوپہر میں سلا دینا،،، تاکہ وہ رات میں ڈل فیل نہ کرے"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھ کر کہا اور خدا حافظ کہہ کر مشعل نے فون رکھ دیا۔۔۔ اپنا ڈریس ہینگر سمیت وہ ہال میں آگئی ہانی بیگ اٹھاتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا
"آگیا میرا بیٹا"
مشعل نے ہانی کا بیگ اتار کر رکھا اور اسے چینج کرانے لے گئی
"مما یہ اصلی اور نقلی کیا ہوتا ہے" مشعل ہانی کو کھانا کھلا رہی تھی تب ہانی نے مشعل سے پوچھا
"آپ نے کس سے سن لیا ہے اصلی اور نقلی مشعل نے نیوالا بنا کر اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے پوچھا
"آج اسکول میں ہانی سے ملنے اس کے اصلی ڈیڈ آئے تھے ناں"
ہانی کی بات سن کر مشعل جو دوسرا نیوالا بنا رہی وہ پلیٹ میں ہی گر گیا
"اصلی ڈیڈ"
مشعل نے زیر لب بڑبڑایا۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ولی کا چہرہ لہرایا
"کون ملنے آیا تھا آپ سے اور کیا کررہا تھا وہ"
مشعل نے ہانی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر پوچھا
"اسکول سے چھٹی کے ٹائم ہانی سے انکل ملنے آئے تھے ہانی کو بہت پیار کیا،،، بولے میں تمہارا اصلی ڈیڈ ہو جو گھر میں ہوتے ہیں وہ نقلی ڈیڈ ہیں"
ہانی نے مشعل کو پوری بات بتائی تو وہ بے یقینی سے ہانی کو دیکھے گئی
"ہانی مما کی بات غور سے سنو اصلی نقلی کچھ بھی نہیں ہوتا میری جان۔۔۔ آپ کے صرف ایک ہی ڈیڈ ہیں جن کے ساتھ ہم رہتے ہیں وہی آپ کے ڈیڈ ہیں اور آپ آئندہ کسی کی بھی بات نہیں سنو گے بلکہ کسی سے بھی اس طرح نہیں ملو گے"
مشعل نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے گلے لگایا
اسے اسکول والوں پر بھی غصہ آیا اور وہ ارادہ رکھتی تھی ہانی کو سلانے کے بعد اس کی پرنسپل سے بات کرے کیسے کوئی اجنبی اگر ہانی سے مل سکتا ہے
اس طرح ولی کا اس کی اور ہانی کی زندگی میں واپس آنا ٹھیک نہیں تھا وہ اس بات کو لے کر کافی پریشان ہوگئی۔۔۔۔
****
"آؤ کوئی مووی دیکھتے ہیں"
ارتضیٰ نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
تعبیر تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر نکلی تھی اور اس سے پہلے میڈ پورے گھر کی صفائی کرکے جاچکی تھی
"اگر تمہارا کل رات کی طرح مووی دیکھنے کا ارادہ ہے تو مجھے اس ٹائم مووی بالکل بھی نہیں دیکھنی"
تعبیر کے گھور کر کہنے پر ارتضیٰ زور سے ہنسا
کل رات کو کھانا ارتضیٰ نے بنایا اور تعبیر کو اپنے ہاتھوں سے کھلایا اس کے بعد اس نے ڈی وی ڈی پر کوئی انگلش مووی لگائی
مووی میں جب جب کوئی فضول سین آتا ارتضیٰ اس سے زیادہ فضول حرکتوں پر اتر آتا۔۔ تعبیر نے مووی تو کیا ہی دیکھی وہ بس ارتضیٰ کے رومانس پر ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور آخر کار جب مووی میں ہیرو صاحب اپنے آپے سے باہر آئے تو ارتضیٰ نے شرافت سے مووی بند کر دی۔۔۔ جس پر تعبیر نے سکون کا سانس لیا تھوڑی دیر ان دونوں نے اپنی چھت پر واک کی مگر جب سونے کا ٹائم آیا تو ارتضیٰ نے خود ہیرو والے کام شروع کر دیئے
"چلو ناں اب کی بار سیریس ہو کر دیکھیں گے"
ارتضیٰ نے تعبیر کو بہلاتے ہوئے کہا
"مجھے تم سے کسی قسم کی شرافت کی امید نہیں ہے اس لیے رات ہونے تک تم مجھ سے دور رہو"
تعبیر ہیئر برش سے اپنے بال سلجھاتے ہوئے بولی ارتضیٰ نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا
"صرف محبت کرنے کا حوصلہ ہے آپ میں میڈم مگر آپ کا باڈی گارڈ صرف محبت کرتا ہی نہیں محبت جتانے کے فن سے بھی واقف ہے"
ارتضیٰ اس کی گردن پر جھگتا ہوا اس کے باڈی اسپرے کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
"میں اپنے اس باڈی گارڈ کی تین دن سے ساری فنکاریاں دیکھ رہی ہو۔۔۔ تم محبت جتاتے ہوئے میری شامت لے آتے ہو دور ہٹو اور لگاو مووی"
تعبیر نے اسکو دور ہٹاتے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں کہا۔ ۔۔ جس پر ارتضیٰ مسکرا کر ڈی وی ڈی پلئیر میں سی ڈی ڈالنے لگا
"کل کوئی بہت ہی فضول قسم کا ہیرو تھا،،، خدارا کسی ڈھنگ کے انسان کی مووی لگانا"
تعبیر نے کہنے کے ساتھ ہی بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھا۔۔۔ مووی ان کر کے ارتضیٰ اسکے پاس آیا
"تو تم مووی کے ہیرو کی بجائے اپنے ہیرو پر کونسنٹریٹ کیا کرو ناں میری جان"
ارتضیٰ نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ حائل کیے
"ایک منٹ یہ مووی میں اس شرط پر دیکھ رہی ہو تم مووی بیڈ پر بیٹھ کر دیکھو گے اور میں صوفے پر"
تعبیر اس کو فری ہوتا دیکھ کر صوفے پر بیٹھ کر کہنے لگی ارتضیٰ اس کو گھورتا ہوا روم کی لائٹ بند کرکے بیڈ پر بیٹھ گیا
"یہ لائٹ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے اب"
تعبیر نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"کیوکہ ہارر موویز میں اندھیرے میں دیکھنا پسند کرتا ہوں اور اب چپ کرکے مووی دیکھو مووی کے درمیان مجھے باتیں کرنا اچھا نہیں لگتا"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ اسے گھور کر رہ گئی
"مووی کے درمیان باتیں کرنا پسند نہیں ہے مگر رومینس کرنا پسند ہے"
تعبیر نے دل میں سوچا
"وہ الگ بات ہے بیوی پاس ہو تو بندہ رومنٹک ہو ہی جاتا ہے مووی کے درمیان"
ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اسے حیرت سے دیکھا یہ تو اس نے دل میں سوچا وہ بھلا کیسے جان گیا اس کے دل کی بات
"کیا ہوا بیوی ہو تم میری تمہارے دل کی بات نہیں جانوں گا کہ کیا سوچ رہی ہو تم اس وقت میرے بارے میں"
ارتضیٰ نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے تعبیر کو دیکھ کر کہا جو حیرت سے منہ کھولے اسی کو دیکھ رہی تھی
"اف کتنا خطرناک انسان ہے یہ اندر سے"
تعبیر نے اسکرین پر نظریں جماتے ہوئے سوچا
"یہ بھی ٹھیک ہے میں واقعی بہت خطرناک ہو تم بچ کے رہا کرو مجھ سے"
ارتضیٰ کے بولنے کی دیر تھی تعبیر اٹھ کر آئی اور بیڈ پر رکھا تکیہ اٹھا کر اسے مارنے لگی جسے ارتضیٰ نے پکڑ کر دوسری طرف پھینکا اور تعبیر کو کھینچ کر بیڈ پر گرا لیا
"کل رومنٹک مووی دیکھ کر میں نے رومینس کیا تھا آج ومپائر والی مووی ہے اب ذرا بچ کر دکھاؤ مجھ سے"
وہ اسکی شہ رگ پر جھکتا ہوا کہنے لگا تعبیر کو لگا جیسے اس کے ویمپائر کی طرح دو لمبے دانت نکل آئے گے جو وہ اس کی گردن میں گرھادے گا
"مزمل مجھے اس وقت واقعی تم سے خوف آ رہا ہے"
تعبیر کے ڈرنے پر ارتضیٰ ہنسا اور شرافت سے اس کے ساتھ مووی دیکھنے لگا مگر جب جب ہارر سین آتا ارتضیٰ کی جگہ وہ ہی اس سے چپک کر رہ جاتی
"بند کرو یہ واہیات فلم مجھے نہیں دیکھنی، تھک چکی ہو میں ڈر ڈر کے"
تعبیر نے روم کی لائٹ کھولتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نے ٹی وی سوئچ آف کیا
"میرا بھی یہی خیال ہے فلم چھوڑو ہم اپنی فلم میں انجوائے کرلیتے ہیں"
ارتضیٰ نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا
"اپنا اتنا عادی بنا رہے ہو مجھے،، اگر تمھارا مجھ سے دل بھر گیا تو"
ارتضیٰ کی شدتیں دیکھ کر تعبیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
"کچھ عادتیں وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہو جاتی ہیں اور پختہ عادتوں سے انسان پیچھا نہیں چھڑا سکتا تمہارے ساتھ بھی میرا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے بے فکر رہو میرا دل تم سے کبھی بھی نہیں بھرنے والا"
ارتضیٰ نے دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھام کر اسے یقین دلایا ارتضیٰ کے بولنے پر تعبیر نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھا ارتضیٰ کے موبائل پر کال آنے لگی
ارتضیٰ نے موبائل پر کرنل سرفراز کا نمبر دیکھا تعبیر پیچھے ہو کر بیٹھی
"السلام علیکم سر" ارتضیٰ نے کال ریسیو کر کے کہا۔۔۔ تعبیر اٹھ کر روم سے جانے لگی مگر ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے واپس بیٹھا دیا
"الحمداللہ سر آپ سنائے۔ ۔۔۔جی میں نے نیوز میں دیکھا تھا اور انسپکٹر عماد سے بھی معلوم ہوا تھا وہاج صدیقی کا کیس عدالت میں جا چکا ہے اور پہلی پیشی اگلے ہفتے کو ممکن ہے"
ارتضیٰ موبائل پر ایسے بات کر رہا تھا جیسے اس وقت کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی موجود نہ ہو جبکہ تعبیر آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی سمائے اس کے ایک ایک لفظ پر غور کر رہی تھی
"سر یہ تو میری جاب تھی اور میرا فرض تھا اس کو لے کر آپ فکر نہیں کریں۔۔۔ وہاج صدیقی اور ستار میمن کے خلاف ثبوت اتنے پکے ہیں وہ کتنا بھی مہنگا وکیل کرلیں ان کے لیے اب جیل سے باہر آنا ممکن نہیں"
تعبیر کو اپنے کانوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا وہ مزمل کے منہ سے یہ سب سن رہی ہے اس کا ہاتھ اب بھی مزمل کے ہاتھ میں تھا
"بابا جیل میں ہیں" یہ سوچ آتے ہی تعبیر کا دماغ سن ہونے لگا
ارتضیٰ کال بند کر چکا تھا اس نے تعبیر کو سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔ تعبیر نے اس کے چہرے پر کوئی مذاق کی رمگ ڈھونڈنی چاہی کہ شاید وہ ابھی زور سے ہنس دے گا اور کہے گا میں تو مذاق کر رہا تھا تم کتنی بے وقوف ہوں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا وہ اب بھی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا
"کون ہو تم"
تعبیر نے بولنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا
"ابھی بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ کون ہو میں"
ارتضیٰ نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کی طرف دیکھا ابھی تو تعبیر کو بہت کچھ بتانا تھا اور تعبیر نے ابھی سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا
مگر ایک نا ایک دن تو اسے یہ سب بتا نا ہی تھا آخر وہ کب تک اس سے چھپا کے رکھتا اس لیے ارتضیٰ نے جان بوجھ کر کرنل سرفراز کی کال تعبیر کے سامنے ریسیو کر کے بات کری
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment