🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 38
"تم کب آئے گھر" ارتضیٰ نے تعبیر کو بیڈ پر لٹایا تو تعبیر نے اس سے پوچھا
"رات میں ہی آگیا تھا مگر تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا۔۔ ۔ یہ بتاؤ تمہیں نیند آ گئی تھی"
ارتضیٰ نے اس کے برابر میں لیٹتے ہوئے پوچھا
ہاں نیند تو اچھے سے آگئی تھی جبھی تو جلدی انکھ کھل گئی،،، بابا نے میرے بارے میں پوچھا"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھا
"ہاں پوچھا تھا میں نے انہیں بتادیا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر پر ہوں اور اب یہی رہوں گی"
ارتضیٰ اس کے گال پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگا وہ سوچ میں پڑگیا کہ تعبیر کو وہاج کے بارے میں ابھی بتائے یا نہیں
"بابا ناراض ہو رہے ہو گے مزمل مجھ سے،، میں مل کر بھی نہیں گئی ان سے۔۔ کیا ہم آج شام بابا سے ملنے چلیں"
تعبیر کو ایک دم وہاج کی فکر ہونے لگی
"آج نہیں مگر پھر کبھی لے جاؤں گا یہ بتاؤ کہ کچن میں کیا کر رہی تھی"
ارتضیٰ نے اس کو کسی دوسرے وقت بتانے کا سوچا مگر وہ زیادہ دن اس بات کو ٹال بھی نہیں سکتا تھا حقیقت تو ایک نہ ایک دن سامنے آنی تھی۔۔ وہاج کے بارے میں معلوم ہونے کا مطلب اس کو مزمل کی حقیقت کا بھی معلوم ہونا تھا ارتضیٰ صرف اس بات کو سوچ کر الجھن کا شکار ہو رہا تھا کہ تعبیر کو سب معلوم ہونے کے بعد اس کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے
"بہت زور کی بھوک لگ رہی تھی اس لیے ناشتہ کرنے جا رہی تھی"
تعبیر نے منہ بناتے ہوئے کہا
"رات کو کھانا کھایا تھا"
وہ اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے تعبیر کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کر پوچھ رہا تھا
"رات کو کچھ بنانے کا موڈ ہی نہیں ہوا اس لیئے فروٹ سے ہی کام چلا لیا"
اب وہ اپنے پھوہڑ پن کا اظہار کیسے کرتی اس لیے آہستہ سے بتانے لگی۔۔۔ تعبیر کی بات سن کر ارتضیٰ نے حیرت سے اس کو دیکھا اور اٹھ کر بیٹھا
"تم نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا کمال کرتی ہو تعبیر تم بھی"
ارتضیٰ کو افسوس ہوا اس کے بھوکے رہنے پر یقیناً اس نے کچن کا کوئی کام کبھی کیا ہی نہیں ہوگا۔۔ اس لئے وہ اٹھ کر کچن میں چلا آیا
"تم کیا کر رہے ہو مزمل"
تعبیر اس کے پیچھے آئی مگر اس کی آنکھیں نیچے فرش پر یہاں وہاں طواف کرتی یقیناً چوہے کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ ارتضیٰ نے فرائی پین میں تیل ڈال کر چولہے جلایا تعبیر کے پاس آکر اسے گود میں اٹھا کر کچن میں موجود کاؤنٹر کے اوپر بٹھایا
"ناشتہ بنا رہا ہوں میڈم،، آپ کی باڈی کی حفاظت آخر کو آپ کے باڈی گارڈ کی ہی ذمہ داری ہے"
ارتضیٰ نے کیٹل میں چائے کا پانی چڑاتے ہوئے کہا جس پر تعبیر جھینپ گئی
"بہت بد تمیز ہو تم" اس کی بات پر تعبیر نے گھور کر اسے کہا
"ایسا ویسا ابھی بد تمیزیاں دیکھی کہاں ہیں تم نے میری" ارتضیٰ نے انڈا ہلکے سے اس کے ماتھے پر مارا جس سے انڈا چٹخ گیا انڈے کو فرائی پین میں ڈالا
تعبیر اس کی بات پر اسے گھور کر رہ گئی ساری بدتمیزیاں تو وہ اسے دکھا چکا تھا اب بھلا اور کیا رہتا تھا تعبیر سوچتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جو بڑے مگر انداز میں انڈا تیار کرکے پلیٹ میں نکال رہا تھا اس کے بعد ٹوسٹر سے اس نے بریڈ کے پیس نکال کر پلیٹ میں رکھے۔۔۔ کیٹل میں موجود چائے کو دو کپز میں نکالنے لگا دس منٹ کے اندر ناشتہ تیار کرنے کے بعد وہ ٹرے میں ساری چیزیں ترتیب سے سیٹ کر چکا تھا
"مزمل ویسے تم کافی سگھڑ ہو"
تعبیر نے کائنٹر پر بیٹھے اس کو سراہتے ہوئے کہا کیوکہ ناشتہ بنانے کے دوران اس نے کچن ذرا بھی نہیں پھیلایا تھا انڈے کی چھلکے ڈسٹ بن کو پیارے ہوچکے تھے جبکہ ڈسٹر سے شیلف صاف کر کے ڈسٹر دوبارہ اپنے مقام پر پہنچ چکا تھا
"ہاں میری جان اکثر پھوہڑ لڑکیوں کو سگھڑ شوہر ہی ملتے ہیں"
ارتضیٰ سنجیدگی سے کہتا ہوا ٹرے ڈائینگ ٹیبل پر لے جا چکا تھا اور اپنے بارے میں تازہ ترین انکشاف سن کر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
"چلئے میڈم ناشتہ ریڈی ہے"
ارتضیٰ واپس کچن میں آیا اور تعبیر کو بھی کاونٹر سے اٹھانے لگا
"ابھی شاید تم نے مجھے پھوئڑ کہا میرے کانوں نے ایسا سنا"
تعبیر نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرتے ہوئے کہا
"تمہارے کانوں نے بالکل ٹھیک سنا میں نے شاید نہیں% 100 ایسا ہی کہا ہے"
وہ مسکراتی آنکھوں کے ساتھ تعبیر کو چھیڑ رہا تھا اس کے بعد اسے اپنے کندھے پر ڈال کر ڈائینگ ٹیبل لے آیا
"اور اب تمہیں لگ رہا ہے کہ یہ میں ناشتہ کروگی"
تعبیر نے اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
"آف کورس کرو گی میری جان، ورنہ ابھی جو تھوڑی دیر بعد میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس میں خالی پیٹ تمہارے ہی ہوش اڑ جانے ہیں"
ارتضیٰ نے بریڈ پر انڈا رکھ کر دوسرا بریڈ کا پیس انڈے پر رکھا اور تعبیر کے منہ کے قریب لے گیا
"تم مجھے ڈرا رہے ہو"
تعبیر نے ڈرتے ہوئے اس کی سیریس ایکسپریشن کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں میں تمہیں بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں"
تعبیر نے چھوٹے چھوٹے نیوالے ارتضیٰ کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اپنا ناشتہ مکمل کیا اس کے بعد ارتضیٰ نے ناشتہ کیا اور برتن واش کرکے بیڈ روم میں آیا تو تعبیر بیڈ پر بیٹھی ہوئی مسلسل اپنی انگلیاں چٹخانے میں مصروف تھی۔۔۔ ارتضیٰ بیڈروم کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے پاس آیا تعبیر اس کو دیکھ کر پھر نروس ہو رہی تھی
"نیند پوری ہوگئی نا تمہاری"
بالوں سے کلپ اتار کر وہ اسے بیڈ پر لٹاتا ہوا پوچھنے لگا
"ہاں مگر تمہیں سونا چاہیے تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی"
تعبیر اس کی لو دیتی ہوئی آنکھوں کی تپش محسوس کر کے لڑکھڑاتے ہوئے بولی
"نیند میری ایک بار اڑ جائے تو واپس اتنی جلدی نہیں آتی"
ارتضیٰ تعبیر پر جھگتے ہوئے بولا اور اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنسایا
"مزمل پورا دن نکل چکا ہے"
تعبیر کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو یوں ہی بول دیا
"تو کیا سورج ماما برا مانے گے میرے ایسا کرنے سے"
ارتضیٰ نے نرمی سے اس سے پوچھا اور تعبیر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے اپنے ہونٹ تابی کے ہونٹوں پر رکھ دئیے
"مزمل مجھے لگ رہا ہے باہر کا دروازہ بجا ہے"
جیسے ہی تعبیر کے ہونٹ آزاد ہوئے تعبیر نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا۔۔۔۔ اسے چند دن پہلے والی ہوٹل میں گزاری ہوئی وہ رات یاد آگئی
"جان تم کیوں نہیں چاہتی ہوں کہ ہمارا تیسرا بیڈروم بھی جلد سے جلد سیٹ ہو جائے"
اب کے ارتضیٰ کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اور ارتضیٰ بھی اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر اس کی گردن پر جھگ گیا تھا تعبیر نے اسی ہوٹل والی رات کی طرح دوبارہ اپنے آپ کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔ جس کا ارتضیٰ نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چلائی
****
مشعل کی آنکھ کھلی تو سامنے دیوار پر لگی ہوئی وال کلاک پر ٹائم دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھلی کی کھلی رہ گئی
"یا اللہ میں اتنی دیر کیسے سو گئی" مشعل نے ہانی کے بیڈ پر دیکھا تو وہاں بیڈ پر نہ ہانی موجود تھا نہ ہی برابر میں اریش جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر وہ ہال میں آئی تو دونوں باپ بیٹے سامنے ٹی وی پر میچ دیکھنے میں مصروف تھے
"واو ہانی کی مما جاگ گئی، مما آپ گندے بچوں کی طرح بہت دیر تک سوئی۔۔۔ ہانی اچھا بچہ ہے اپنے ٹائم پر اٹھ گیا"
ہانی مشعل کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا تو اس نے ہانی کو گود میں لیا اور اریش کے برابر میں بیٹھ گئی
"ہوگی نیند پوری" اریش نے ٹی وی کا والیوم سلو کرتے ہوئے پوچھا
"آپ نے اٹھایا کیوں نہیں مجھے"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر پوچھا ہانی اب مشعل کی گود سے اتر کر اریش کا موبائل ہاتھ میں لیے دوسرے صوفے پر بیٹھ چکا تھا
"کل رات تمہاری کروٹیں بدلنے سے مجھے لگ رہا تھا جیسے تم کافی دیر تک جاتی رہی ہو۔۔ اس لیے صبح نہیں اٹھایا اب کیسا فیل کررہی ہوں"
اریش کے لہجے میں اپنے لئے فکر دیکھ کر مشعل کو اپنی قسمت پر رشک آنے لگا یقیناً مشعل کے کروٹیں بدلنے کے باعث وہ خود بھی نہیں سو سکا ہوگا مگر اس کے آرام کی خاطر اریش نے صبح سے ہانی کو ٹائم دیا تاکہ ہانی مشعل کو ڈسٹرب نہ کرے
"جس کا آپ جیسا شوہر ہو وہ کیسا فیل کر سکتی ہے"
مشعل نے اریش کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا وہ کل رات سے بلا وجہ میں خود بھی پریشان ہو رہی تھی اور اپنی وجہ سے اپنے شوہر کو بھی پریشان کر رہی تھی اس لیے اپنا موڈ فریش کرتے ہوئے بولی
"ڈیڈ کے رائٹ ہینڈ والے شولڈر پر ہانی اپنا سر رکھتا ہے آپ اپنا سر لیفٹ شولڈر پر رکھیں"
ہانی موبائل میں مصروف ضرور تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ اپنی مما کی حرکت نوٹ نہیں کر سکا اس کی بات پر جہاں اریش ہنسا وہی مشعل نے ہانی کو گھور کر دیکھا اور اریش سے دور ہو کر بیٹھی
"ناشتہ کیا آپ دونوں باپ بیٹوں نے"
مشعل نے اس سے پوچھا مگر جواب ہانی کی طرف سے آیا
"آج کک انکل نے چھٹی کرلی تھی ڈیڈ نے ہانی کو بھی اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرایا اور خود بھی اپنے ہی ہاتھ سے ناشتہ کیا"
ہانی نے پوری رپورٹ مشعل کو دی
مشعل کو ایک بار پھر افسوس ہوا یقینا وہ دونوں باپ بیٹے کچھ لائٹ سا کھا پی کر بیٹھے ہوں گے اور اب تو دن کے 12 بج رہے ہیں
"مما ہانی کے لئے اور ہانی کے ڈیڈ کے لئے یمی سی اسپیگٹیز بنا کر لاتی ہیں تھوڑی دیر میں"
مشعل نے اٹھتے ہوئے کہا
"اور اسپیگٹیز کھا کر ہانی سوپر مین بن جائے گا"
ہانی بولنے کے ساتھ ہی پورے گھر میں سپر مین کی طرح دوڑتا ہوا چکر کھاٹنے لگا
مشعل کچن میں آئی تو اس کے پیچھے آریش بھی آگیا
"میری کچھ ہیلپ کی ضرورت ہے" مشعل کٹنگ بورڈ پر سبزیاں کاٹ رہی تھی تب اریش نے اس کے پشت پر کھڑے ہو کر اسکے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے پوچھا
"آپ بنا کچھ کہے ہی اتنا کر دیتے ہیں بھلا اور کیا ہیلپ مانگو آپ سے" مشعل نے مسکرا کر چہرے کا رخ اریش کی طرف کیا تو اریش نے اس کے گال کو ہونٹوں سے چھوا
"یار ایسا بھی کیا کر دیا میں نے ہر مرد ہی اپنے بیوی بچوں کی فکر کرتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے میں تو بس اچھا ہزبنڈ اور اچھا فادر بننے کی کوشش کرتا ہوں"
اریش کی بات پر مشعل نے مڑ کر اپنا رخ اریش کی طرف کیا
"اریش آپ اچھے ہسبنڈ اور اچھے فادر ہیں اور وہ اس لیے کیوکہ آپ ایک اچھے انسان ہیں"
مشعل کے اعتراف پر اریش نے اسے بانہوں میں لیا
"اور اس اچھے انسان کو ہانی کی مما بہت اچھی لگتی ہیں"
آپ کے اریش کے اعتراف پر مشعل مسکرا دی اور دوبارہ سبزیاں کٹنگ کرنے لگ گئی
****
"کیا ہوا آج کافی لیٹ سو کر اٹھے تم"
ولی ابھی فریش ہو کر اپنے روم سے نکل آتا تو شہناز نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر پوچھا
"جی آنکھ کافی لیٹ لگی تھی رات میں۔ ۔۔۔ اس لئے دیر تک سوتا رہا"
ولی نے صوفے پر ابراہیم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو کہ اخبار پڑھنے میں مصروف تھے
"ناشتے میں کیا لو گے" شہناز نے ولی سے پوچھا۔۔۔ اس کے سب بچوں میں وہ سب سے لاڈلا تھا جو چند سالوں پہلے بھٹک گیا تھا مگر اللہ کے کرم سے اب اسے اپنی غلطی پر پچھتاوا تھا اور وہ جلد اس کے پاس آ گیا تھا
"ناشتہ نہیں کرنا ماما،، مجھے بس ایک کپ اسٹرونگ سی چائے بھجوا دیں"
ولی کی آنکھوں سے سامنے کل رات والا منظر بار بار کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔۔۔ مشعل ہانی اور وہ اجنبی جس کی جگہ یقیناً ولی کو ہونا چاہیے تھا
"اور برخوردار سارے ڈاکومنٹس تیار کروا لیے کب تک کینیڈا جانے کا ارادہ ہے" ابراہیم نے اخبار طے کرتے ہوئے ولی کو مخاطب کیا تو اس نے چونک کر باپ کو دیکھا
"بابا فی الحال تھوڑے عرصے کے لیے پروگرام پوسبونڈ کیا ہے کینیڈا جانے کا،،، ایک بہت ضروری کام آگیا ہے اس کو نبھٹانے کے بعد سوچنا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے"
ولی ابراہیم صاحب کو بتا رہا تھا مگر اس کی نظر اپنے سیل فون کی اسکرین پر تھی جس میں مشعل کا نمبر سیو تھا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 38
"تم کب آئے گھر" ارتضیٰ نے تعبیر کو بیڈ پر لٹایا تو تعبیر نے اس سے پوچھا
"رات میں ہی آگیا تھا مگر تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا۔۔ ۔ یہ بتاؤ تمہیں نیند آ گئی تھی"
ارتضیٰ نے اس کے برابر میں لیٹتے ہوئے پوچھا
ہاں نیند تو اچھے سے آگئی تھی جبھی تو جلدی انکھ کھل گئی،،، بابا نے میرے بارے میں پوچھا"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھا
"ہاں پوچھا تھا میں نے انہیں بتادیا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر پر ہوں اور اب یہی رہوں گی"
ارتضیٰ اس کے گال پر اپنی انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگا وہ سوچ میں پڑگیا کہ تعبیر کو وہاج کے بارے میں ابھی بتائے یا نہیں
"بابا ناراض ہو رہے ہو گے مزمل مجھ سے،، میں مل کر بھی نہیں گئی ان سے۔۔ کیا ہم آج شام بابا سے ملنے چلیں"
تعبیر کو ایک دم وہاج کی فکر ہونے لگی
"آج نہیں مگر پھر کبھی لے جاؤں گا یہ بتاؤ کہ کچن میں کیا کر رہی تھی"
ارتضیٰ نے اس کو کسی دوسرے وقت بتانے کا سوچا مگر وہ زیادہ دن اس بات کو ٹال بھی نہیں سکتا تھا حقیقت تو ایک نہ ایک دن سامنے آنی تھی۔۔ وہاج کے بارے میں معلوم ہونے کا مطلب اس کو مزمل کی حقیقت کا بھی معلوم ہونا تھا ارتضیٰ صرف اس بات کو سوچ کر الجھن کا شکار ہو رہا تھا کہ تعبیر کو سب معلوم ہونے کے بعد اس کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے
"بہت زور کی بھوک لگ رہی تھی اس لیے ناشتہ کرنے جا رہی تھی"
تعبیر نے منہ بناتے ہوئے کہا
"رات کو کھانا کھایا تھا"
وہ اس کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے تعبیر کا ہاتھ اپنے ہونٹوں پر رکھ کر پوچھ رہا تھا
"رات کو کچھ بنانے کا موڈ ہی نہیں ہوا اس لیئے فروٹ سے ہی کام چلا لیا"
اب وہ اپنے پھوہڑ پن کا اظہار کیسے کرتی اس لیے آہستہ سے بتانے لگی۔۔۔ تعبیر کی بات سن کر ارتضیٰ نے حیرت سے اس کو دیکھا اور اٹھ کر بیٹھا
"تم نے کل رات سے کچھ نہیں کھایا کمال کرتی ہو تعبیر تم بھی"
ارتضیٰ کو افسوس ہوا اس کے بھوکے رہنے پر یقیناً اس نے کچن کا کوئی کام کبھی کیا ہی نہیں ہوگا۔۔ اس لئے وہ اٹھ کر کچن میں چلا آیا
"تم کیا کر رہے ہو مزمل"
تعبیر اس کے پیچھے آئی مگر اس کی آنکھیں نیچے فرش پر یہاں وہاں طواف کرتی یقیناً چوہے کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ ارتضیٰ نے فرائی پین میں تیل ڈال کر چولہے جلایا تعبیر کے پاس آکر اسے گود میں اٹھا کر کچن میں موجود کاؤنٹر کے اوپر بٹھایا
"ناشتہ بنا رہا ہوں میڈم،، آپ کی باڈی کی حفاظت آخر کو آپ کے باڈی گارڈ کی ہی ذمہ داری ہے"
ارتضیٰ نے کیٹل میں چائے کا پانی چڑاتے ہوئے کہا جس پر تعبیر جھینپ گئی
"بہت بد تمیز ہو تم" اس کی بات پر تعبیر نے گھور کر اسے کہا
"ایسا ویسا ابھی بد تمیزیاں دیکھی کہاں ہیں تم نے میری" ارتضیٰ نے انڈا ہلکے سے اس کے ماتھے پر مارا جس سے انڈا چٹخ گیا انڈے کو فرائی پین میں ڈالا
تعبیر اس کی بات پر اسے گھور کر رہ گئی ساری بدتمیزیاں تو وہ اسے دکھا چکا تھا اب بھلا اور کیا رہتا تھا تعبیر سوچتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جو بڑے مگر انداز میں انڈا تیار کرکے پلیٹ میں نکال رہا تھا اس کے بعد ٹوسٹر سے اس نے بریڈ کے پیس نکال کر پلیٹ میں رکھے۔۔۔ کیٹل میں موجود چائے کو دو کپز میں نکالنے لگا دس منٹ کے اندر ناشتہ تیار کرنے کے بعد وہ ٹرے میں ساری چیزیں ترتیب سے سیٹ کر چکا تھا
"مزمل ویسے تم کافی سگھڑ ہو"
تعبیر نے کائنٹر پر بیٹھے اس کو سراہتے ہوئے کہا کیوکہ ناشتہ بنانے کے دوران اس نے کچن ذرا بھی نہیں پھیلایا تھا انڈے کی چھلکے ڈسٹ بن کو پیارے ہوچکے تھے جبکہ ڈسٹر سے شیلف صاف کر کے ڈسٹر دوبارہ اپنے مقام پر پہنچ چکا تھا
"ہاں میری جان اکثر پھوہڑ لڑکیوں کو سگھڑ شوہر ہی ملتے ہیں"
ارتضیٰ سنجیدگی سے کہتا ہوا ٹرے ڈائینگ ٹیبل پر لے جا چکا تھا اور اپنے بارے میں تازہ ترین انکشاف سن کر تعبیر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
"چلئے میڈم ناشتہ ریڈی ہے"
ارتضیٰ واپس کچن میں آیا اور تعبیر کو بھی کاونٹر سے اٹھانے لگا
"ابھی شاید تم نے مجھے پھوئڑ کہا میرے کانوں نے ایسا سنا"
تعبیر نے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرتے ہوئے کہا
"تمہارے کانوں نے بالکل ٹھیک سنا میں نے شاید نہیں% 100 ایسا ہی کہا ہے"
وہ مسکراتی آنکھوں کے ساتھ تعبیر کو چھیڑ رہا تھا اس کے بعد اسے اپنے کندھے پر ڈال کر ڈائینگ ٹیبل لے آیا
"اور اب تمہیں لگ رہا ہے کہ یہ میں ناشتہ کروگی"
تعبیر نے اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا
"آف کورس کرو گی میری جان، ورنہ ابھی جو تھوڑی دیر بعد میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس میں خالی پیٹ تمہارے ہی ہوش اڑ جانے ہیں"
ارتضیٰ نے بریڈ پر انڈا رکھ کر دوسرا بریڈ کا پیس انڈے پر رکھا اور تعبیر کے منہ کے قریب لے گیا
"تم مجھے ڈرا رہے ہو"
تعبیر نے ڈرتے ہوئے اس کی سیریس ایکسپریشن کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں میں تمہیں بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں"
تعبیر نے چھوٹے چھوٹے نیوالے ارتضیٰ کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اپنا ناشتہ مکمل کیا اس کے بعد ارتضیٰ نے ناشتہ کیا اور برتن واش کرکے بیڈ روم میں آیا تو تعبیر بیڈ پر بیٹھی ہوئی مسلسل اپنی انگلیاں چٹخانے میں مصروف تھی۔۔۔ ارتضیٰ بیڈروم کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے پاس آیا تعبیر اس کو دیکھ کر پھر نروس ہو رہی تھی
"نیند پوری ہوگئی نا تمہاری"
بالوں سے کلپ اتار کر وہ اسے بیڈ پر لٹاتا ہوا پوچھنے لگا
"ہاں مگر تمہیں سونا چاہیے تمہاری نیند پوری نہیں ہوئی"
تعبیر اس کی لو دیتی ہوئی آنکھوں کی تپش محسوس کر کے لڑکھڑاتے ہوئے بولی
"نیند میری ایک بار اڑ جائے تو واپس اتنی جلدی نہیں آتی"
ارتضیٰ تعبیر پر جھگتے ہوئے بولا اور اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنسایا
"مزمل پورا دن نکل چکا ہے"
تعبیر کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو یوں ہی بول دیا
"تو کیا سورج ماما برا مانے گے میرے ایسا کرنے سے"
ارتضیٰ نے نرمی سے اس سے پوچھا اور تعبیر کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے اپنے ہونٹ تابی کے ہونٹوں پر رکھ دئیے
"مزمل مجھے لگ رہا ہے باہر کا دروازہ بجا ہے"
جیسے ہی تعبیر کے ہونٹ آزاد ہوئے تعبیر نے پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہا۔۔۔۔ اسے چند دن پہلے والی ہوٹل میں گزاری ہوئی وہ رات یاد آگئی
"جان تم کیوں نہیں چاہتی ہوں کہ ہمارا تیسرا بیڈروم بھی جلد سے جلد سیٹ ہو جائے"
اب کے ارتضیٰ کی بات پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اور ارتضیٰ بھی اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر اس کی گردن پر جھگ گیا تھا تعبیر نے اسی ہوٹل والی رات کی طرح دوبارہ اپنے آپ کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔ جس کا ارتضیٰ نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چلائی
****
مشعل کی آنکھ کھلی تو سامنے دیوار پر لگی ہوئی وال کلاک پر ٹائم دیکھ کر اس کی آنکھیں پوری کھلی کی کھلی رہ گئی
"یا اللہ میں اتنی دیر کیسے سو گئی" مشعل نے ہانی کے بیڈ پر دیکھا تو وہاں بیڈ پر نہ ہانی موجود تھا نہ ہی برابر میں اریش جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر وہ ہال میں آئی تو دونوں باپ بیٹے سامنے ٹی وی پر میچ دیکھنے میں مصروف تھے
"واو ہانی کی مما جاگ گئی، مما آپ گندے بچوں کی طرح بہت دیر تک سوئی۔۔۔ ہانی اچھا بچہ ہے اپنے ٹائم پر اٹھ گیا"
ہانی مشعل کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا تو اس نے ہانی کو گود میں لیا اور اریش کے برابر میں بیٹھ گئی
"ہوگی نیند پوری" اریش نے ٹی وی کا والیوم سلو کرتے ہوئے پوچھا
"آپ نے اٹھایا کیوں نہیں مجھے"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر پوچھا ہانی اب مشعل کی گود سے اتر کر اریش کا موبائل ہاتھ میں لیے دوسرے صوفے پر بیٹھ چکا تھا
"کل رات تمہاری کروٹیں بدلنے سے مجھے لگ رہا تھا جیسے تم کافی دیر تک جاتی رہی ہو۔۔ اس لیے صبح نہیں اٹھایا اب کیسا فیل کررہی ہوں"
اریش کے لہجے میں اپنے لئے فکر دیکھ کر مشعل کو اپنی قسمت پر رشک آنے لگا یقیناً مشعل کے کروٹیں بدلنے کے باعث وہ خود بھی نہیں سو سکا ہوگا مگر اس کے آرام کی خاطر اریش نے صبح سے ہانی کو ٹائم دیا تاکہ ہانی مشعل کو ڈسٹرب نہ کرے
"جس کا آپ جیسا شوہر ہو وہ کیسا فیل کر سکتی ہے"
مشعل نے اریش کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے کہا وہ کل رات سے بلا وجہ میں خود بھی پریشان ہو رہی تھی اور اپنی وجہ سے اپنے شوہر کو بھی پریشان کر رہی تھی اس لیے اپنا موڈ فریش کرتے ہوئے بولی
"ڈیڈ کے رائٹ ہینڈ والے شولڈر پر ہانی اپنا سر رکھتا ہے آپ اپنا سر لیفٹ شولڈر پر رکھیں"
ہانی موبائل میں مصروف ضرور تھا مگر اتنا بھی نہیں کہ وہ اپنی مما کی حرکت نوٹ نہیں کر سکا اس کی بات پر جہاں اریش ہنسا وہی مشعل نے ہانی کو گھور کر دیکھا اور اریش سے دور ہو کر بیٹھی
"ناشتہ کیا آپ دونوں باپ بیٹوں نے"
مشعل نے اس سے پوچھا مگر جواب ہانی کی طرف سے آیا
"آج کک انکل نے چھٹی کرلی تھی ڈیڈ نے ہانی کو بھی اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرایا اور خود بھی اپنے ہی ہاتھ سے ناشتہ کیا"
ہانی نے پوری رپورٹ مشعل کو دی
مشعل کو ایک بار پھر افسوس ہوا یقینا وہ دونوں باپ بیٹے کچھ لائٹ سا کھا پی کر بیٹھے ہوں گے اور اب تو دن کے 12 بج رہے ہیں
"مما ہانی کے لئے اور ہانی کے ڈیڈ کے لئے یمی سی اسپیگٹیز بنا کر لاتی ہیں تھوڑی دیر میں"
مشعل نے اٹھتے ہوئے کہا
"اور اسپیگٹیز کھا کر ہانی سوپر مین بن جائے گا"
ہانی بولنے کے ساتھ ہی پورے گھر میں سپر مین کی طرح دوڑتا ہوا چکر کھاٹنے لگا
مشعل کچن میں آئی تو اس کے پیچھے آریش بھی آگیا
"میری کچھ ہیلپ کی ضرورت ہے" مشعل کٹنگ بورڈ پر سبزیاں کاٹ رہی تھی تب اریش نے اس کے پشت پر کھڑے ہو کر اسکے گرد ہاتھ حائل کرتے ہوئے پوچھا
"آپ بنا کچھ کہے ہی اتنا کر دیتے ہیں بھلا اور کیا ہیلپ مانگو آپ سے" مشعل نے مسکرا کر چہرے کا رخ اریش کی طرف کیا تو اریش نے اس کے گال کو ہونٹوں سے چھوا
"یار ایسا بھی کیا کر دیا میں نے ہر مرد ہی اپنے بیوی بچوں کی فکر کرتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے میں تو بس اچھا ہزبنڈ اور اچھا فادر بننے کی کوشش کرتا ہوں"
اریش کی بات پر مشعل نے مڑ کر اپنا رخ اریش کی طرف کیا
"اریش آپ اچھے ہسبنڈ اور اچھے فادر ہیں اور وہ اس لیے کیوکہ آپ ایک اچھے انسان ہیں"
مشعل کے اعتراف پر اریش نے اسے بانہوں میں لیا
"اور اس اچھے انسان کو ہانی کی مما بہت اچھی لگتی ہیں"
آپ کے اریش کے اعتراف پر مشعل مسکرا دی اور دوبارہ سبزیاں کٹنگ کرنے لگ گئی
****
"کیا ہوا آج کافی لیٹ سو کر اٹھے تم"
ولی ابھی فریش ہو کر اپنے روم سے نکل آتا تو شہناز نے اپنے بیٹے کو دیکھ کر پوچھا
"جی آنکھ کافی لیٹ لگی تھی رات میں۔ ۔۔۔ اس لئے دیر تک سوتا رہا"
ولی نے صوفے پر ابراہیم کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو کہ اخبار پڑھنے میں مصروف تھے
"ناشتے میں کیا لو گے" شہناز نے ولی سے پوچھا۔۔۔ اس کے سب بچوں میں وہ سب سے لاڈلا تھا جو چند سالوں پہلے بھٹک گیا تھا مگر اللہ کے کرم سے اب اسے اپنی غلطی پر پچھتاوا تھا اور وہ جلد اس کے پاس آ گیا تھا
"ناشتہ نہیں کرنا ماما،، مجھے بس ایک کپ اسٹرونگ سی چائے بھجوا دیں"
ولی کی آنکھوں سے سامنے کل رات والا منظر بار بار کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔۔۔ مشعل ہانی اور وہ اجنبی جس کی جگہ یقیناً ولی کو ہونا چاہیے تھا
"اور برخوردار سارے ڈاکومنٹس تیار کروا لیے کب تک کینیڈا جانے کا ارادہ ہے" ابراہیم نے اخبار طے کرتے ہوئے ولی کو مخاطب کیا تو اس نے چونک کر باپ کو دیکھا
"بابا فی الحال تھوڑے عرصے کے لیے پروگرام پوسبونڈ کیا ہے کینیڈا جانے کا،،، ایک بہت ضروری کام آگیا ہے اس کو نبھٹانے کے بعد سوچنا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے"
ولی ابراہیم صاحب کو بتا رہا تھا مگر اس کی نظر اپنے سیل فون کی اسکرین پر تھی جس میں مشعل کا نمبر سیو تھا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment