U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 37
گھڑی رات کے 3 بجا رہی تھی مگر ولی ابھی تک جاگ رہا تھا آج اس کو شاید نیند آنی بھی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ کمرے میں موجود ٹیرس میں جا کر کھڑا ہوگیا یوں ہی بے سبب باہر دیکھنے لگا
آج اس نے اسے دیکھا جس سے وہ کبھی بھولا ہی نہیں تھا۔۔۔ اپنی زندگی سے نکالنے کے بعد بھی وہ سے اپنے دل سے نہیں نکال سکا تھا،،، غصے اور جذبات میں اپنے کیے گئے فیصلے پر وہ جتنا پچھتاتا کم تھا حالات سے تنگ آ کر اس نے کیسے اپنی ہی زندگی کو اپنے آپ سے دور کر دیا تھا اور آج اسے کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھا دے کر ایک لمحے کے لیے وہ بالکل ساکت ہو گیا
وہ مشعل تھی اس کی مشعل۔۔۔۔ وہ خوش شکل نوجوان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور وہ دونوں مسکرا کر باتیں کر رہے تھے
اس نوجوان کی آنکھوں میں مشعل کے لیے چھلکتی محبت وہ صاف دیکھ سکتا تھا اور مشعل کا بار بار مصنوعی غصے میں ہنسی کو چھپاتے ہوئے اس نوجوان کو گھورنا ولی کو اندر تک خالی کر گیا تھا
پھر مشعل چئیر سے اٹھنے لگی تو اس شخص نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ بٹھا دیا اور خود اٹھ کر وہاں سے چلا گیا جب ولی نے مشعل کو پکارا ایک لمحے کو وہ ولی کو دیکھ کر بالکل ساکت ہوگئی جیسے تھوڑی دیر پہلے مشعل کو دیکھ کر وہ ساکت ہوا تھا وہ مشعل کی آنکھوں میں حیرانی صاف دیکھ سکتا تھا ولی نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جیسے وہ ہوش میں آئی اور وہاں سے بھاگ گئی ولی اس کو ایک بار پھر اپنے سے دور جاتا دیکھتا رہا
مگر وہ اپنا بیگ اور موبائل وہی چھوڑ گئی تھی یقینا بیگ اور موبائل لینے کے لیے کوئی تھوڑی دیر میں واپس آتا ولی نے جلدی سے مشعل کا موبائل اٹھایا اور اس کے موبائل سے اپنے موبائل پر بیل دی اور پھر مشعل کا موبائل دوبارہ ویسے ہی رکھ دیا
تھوڑی دیر بعد ولی نے مشعل کو اور اس شخص کو باہر جاتے دیکھا اس شخص کی گود میں بچہ تھا
"ہانی"
ولی کے منہ سے بے ساختہ نکلا ہاں وہ ہانی تھا اس کا بیٹا اس کا اپنا خون ہانی کو دیکھ کر ولی کا دل ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور ولی نے قدم بے ساختہ ان لوگوں کی طرف بڑھائے
اس کو اپنے اندر سے آواز آئی 'کس حق سے' ولی کے قدم وہی تھم گئے
پھر وہ شخص دوبارہ اس ٹیبل پر آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے مشعل اور وہ بیٹھے تھے وہاں پر موجود مشعل کا بیگ اور موبائل اٹھا کر وہ چاروں طرف نظر دوڑانے لگا پھر دوبارہ وہاں سے چلا گیا
ولی نے اپنی کار سے ان کی کار کا پیچھا کیا۔۔۔ کار ایک خوبصورت گھر کے اندر کار داخل ہوئی ولی نے گھر نوٹ کر کے اپنے گھر کا رخ کیا۔۔۔۔ کافی دیر یونہی بے سبب ٹیرس میں کھڑے رہنے کے بعد وہ واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا
****
تابی کو چھوڑ کر گئے ارتضیٰ کو ایک گھنٹہ گزر چکا تھا وہ پورے گھر کا دو بار جائزہ لے چکی تھی۔۔۔ اس کو خوشی کا احساس اور اطمینان اندر سے سرشار کر گیا تھا۔۔۔ یہ اس کا اپنا گھر تھا اور خالی روم کو دوبارہ دیکھ کر اس کے لبوں پر خوبصورت سی مسکان آٹھہری
کچھ کرنے کو نہیں تھا تو اس نے اپنے بیڈ روم میں آ کر وارڈروب کھول کر اپنا بیگ نکالا اور اپنے کپڑوں کو وارڈروب میں ہینگ کرنے لگی۔۔۔ اس کی نظر ایک بار پھر وارڈروب کے دوسرے حصے پر گئی جس کا دروازہ لاک تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے وہ ارتضیٰ سے اس میں لاک کی وجہ پوچھ رہی تھی جس پر ارتضیٰ نے اس کو بتایا تھا کہ اس میں سارا سامان اسی کا ہے جو وہ اسے بعد میں دکھائے گا۔ ۔۔
"پتہ نہیں آخر کیا ہے اس میں جو مزمل میرے لئے لے کر آیا ہے"
ایک بار دوبارہ سوچتے ہوئے تعبیر نے کپڑے وارڈروب میں رکھے اور وارڈروب کا دروازہ بند کیا
وارڈروب کا تیسرا ڈور کھولا تھا اس میں ترتیب سے ارتضیٰ کے کپڑے ہینگ ہوئے تھے ارتضیٰ نے فی الحال اپنے کپڑوں کے علاوہ بیڈ روم میں اپنی کوئی ایسی چیز یا ڈاکومنٹس نہیں رکھے تھی جو تعبیر کو شک میں مبتلا کرتی یہاں تک کہ مریم کے بیڈروم کے لیے بھی اس نے یاور اور مریم کی ایک خوبصورت تصویر کو انلارج کروایا تھا وہ بھی ابھی دیوار پر نہیں لگائی تھی
جب تک وہ تعبیر کے پاس نہیں آ جاتا وہ نہیں چاہتا تھا کہ تعبیر کسی قسم کا شک و شہبات میں پڑے۔ ۔۔۔ ارتضیٰ کی وارڈروب کا ڈور بند کر کے تعبیر نے روم میں موجود ایل ای ڈی آن کی مگر اسے یہ دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی کہ اس میں کوئی چئنل موجود نہیں ہے شاید نیو گھر لینے کی وجہ سے ابھی تک کیبل نہ لگایا ہو تعبیر سوچا اور ایل ای ڈی بن کیا
اس کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ آج رات کو نیوز چینل پر جو خبر نشر ہونی تھی اس کی وجہ سے ارتضیٰ نے باکس نکالا ہوا تھا۔۔۔۔ تعبیر کو بھوک کا احساس ہوا تو وہ کچن میں آگئی، فریج میں سارے فروزن اشیاء پیکٹ کی صورت رکھی ہوئی تھی چپاتی اور پراٹھوں کے پیکٹ بھی فرج میں موجود تھے۔۔۔ وہی سامنے رکھی فروٹ باسکٹ پر تعبیر کی نظر گئی جس میں سب فروٹ موجود تھے
"تو میرا باڈی گارڈ اپنی میڈم کے لئے سب انتظام کرکے گیا ہے"
تعبیر سوچ کر مسکرائی اور فروٹ باسکٹ میں سے سیب نکال کر کھانے لگی
****
ارتضیٰ جو کہ وہاج صدیقی کے دوستو میں گھرا ہوا تھا عماد کے میسج پر ایک دم الرٹ ہو گیا عماد اپنی پوری ٹیم کے ساتھ دس منٹ بعد وہاں پر پہنچنے والے تھا۔۔۔۔ گودام سے سارا اسلحہ جو کہ تھوڑی دیر پہلے ہال میں رکھا گیا تھا اور اب دوبارہ واپس گودام میں رکھوا دیا گیا تھا
گودام سے ہی ایک خفیہ راستہ گھر سے باہر کی طرف نکلتا تھا ممکن تھا پولیس کے آتے ہی ہلچل مچ جاتی اور سب لوگ اس راستے سے فرار ہو جاتے اس وجہ سے ارتضیٰ کے کہنے کے مطابق ادھی پولیس کی نفری اس راستے پر بھی تعینات کردی جاتی تاکہ کہیں سے کوئی بھی نکل نہ سکے
"مزمل تابی کہاں ہے"
ارتضیٰ جو کہ عماد کے میسج پر الرٹ ہوکر وہاں سے باہر نکلنے کا ارادہ رکھتا تھا اچانک وہاج کی آواز پر اسے رکنا پڑا
"اسے میں نشا کے گھر چھوڑ آیا ہوں" جس انداز میں وہاج نے اس سے تعبیر کا پوچھا تھا اس سے ارتضیٰ کو اندازہ ہو گیا کہ تعبیر اپنے بیڈ روم میں موجود نہیں ہے یہ بات وہاج کو معلوم ہو چکی ہے
"کس کی اجازت سے تم اسے نشا کے گھر لے گئے"
تھوڑی دیر پہلے اسے شوکت نے بتایا تھا کہ مزمل شام کو ہی تعبیر بی بی کو گھر سے باہر لے گئے ہیں اس بات پر وہاج کو بہت غصہ آیا کیونکہ اسے ابھی بھی خطرہ تھا کی تعبیر کسی کو کچھ نہ بول دے
"اس کو کہیں بھی لے جانے کے لیے مجھے کسی کی بھی اجازت درکار نہیں بیوی ہے وہ میری"
ارتضیٰ نے صاف جتانے آنے والے انداز میں وہاج کو دیکھ کر کہا
"پہلے بیٹی ہے وہ میری"
وہاج کو ارتضیٰ پر غصہ آیا
"سر نکاح ہونے کے بعد لڑکی کا حقدار بدل جاتا ہے اب آپ تعبیر کی فکر کرنا چھوڑ دیں اور اپنی فکر کریں"
ارتضیٰ نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے نکل کر باہر چلا گیا وہاج کو اس کے انداز و اطوار،، بات کرنے کا لہجہ عجیب لگا
"اپنی بیٹی کیا دے دی میں نے اسے،، یہ تو اوقات ہی بھول گیا ہے ابھی سب لوگ یہاں سے چلے جائیں اس کے بعد اسے اچھی طرح بتاتا ہوں"
وہاج نے پیشانی پر بل سجائے سوچا
مگر اس کو یہ خبر نہیں تھی اس وقت اسے واقعی اپنی فکر کرنی چاہیے تھی
تھوڑی دیر میں وہاں موجود سب لوگوں میں ہلچل مچ گئی پولیس نے اس کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے وہاج نے پریشان ہو کر ڈی ایس پی کو کال ملائی مگر اسے وہاں سے کوئی رسپونس نہیں ملا وہاں پر موجود لوگوں نے جب دوسرے راستے سے باہر نکلنا شروع کیا تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔۔۔۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا وہاج کو ابھی بھی اصل مخبر سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر کس نے یہ حرکت کی ہے
جو لوگ اب گھر میں بچے تھے پولیس نے گھر میں آکر وہاج سمیت انہیں بھی گرفتار کر لیا اب پولیس کی ٹیم کے ساتھ میڈیا کی ٹیم بھی گھر کے اندر داخل ہو چکی تھی اور گھر میں موجود خفیہ گودام سے برآمد ہونے والے اسلحے کی ویڈیو بنائی جا رہی تھی پولیس نے میڈیا والوں کو ہٹا کر اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا
ارتضیٰ وہاں سے نکل کر کرنل سرفراز کے پاس پہنچا انہوں نے خوش ہو کر اسے گلے لگایا اور اسکے مشن کی کامیابی کی مبارکباد دی۔۔۔ وہاں پر ارتضیٰ نے اپنے پرانی سم کارڈ کو ضائع کر کے نئے نمبر سے مریم کو فون کیا اپنی خیریت کی اطلاع اور تھوڑی سی ہدایت دے کر فون بند کر دیا۔۔۔ مریم سے بات کرنے کے بعد اسے تعبیر کی فکر ہونے لگی مگر حالات ابھی گرما گرمی میں تھے اس وقت وہ نہیں نکل سکتا تھا ہر نیوز چینل پر بریکنگ نیوز میں وہاج صدیقی کے متعلق خبریں نشر ہورہی تھی
****
تعبیر کو اپنا سر کسی سخت چیز پر رکھا ہوا محسوس ہوا نیند میں ہونے کی وجہ سے وہ صرف سوچ سکتی تھی کہ رات کو نرم اور گداس تکیے پر سوئی تھی پھر وہ اس وقت کہاں موجود تھی اسے سمجھ میں نہیں آیا نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھو کو کھول کر دیکھا
"مزمل"
زیر لب اس کے منہ سے نام نکلا ارتضیٰ کے سینے سے سر ہٹا کر اس نے واپس اپنے تکیے پر رکھا دیوار پر لگی وال کلاک میں ٹائم دیکھا تو صبح کے 8 بج رہے تھے اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ ارتضیٰ کب آیا تعبیر نے سوچتے ہوئے آنکھیں موند لیں مگر اب اس کو نیند نہیں آ رہی تھی کیونکہ رات کو بھی ہو جلدی سو گئی تھی آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی اپنے بیڈ روم سے باہر نکل کر اس نے کچن کا رخ کیا فریج میں سے دودھ نکال کر اس نے پورا گلاس دودھ سے بھرا
آآآآ
ارتضیٰ جو کہ 4 گھنٹے پہلے گھر آیا تھا اور بہت گہری نیند میں سو رہا تھا مگر چیخ کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی اپنے برابر میں تعبیر کو نہ پاکر وہ بیڈروم سے بھاگتا ہوا کچن میں پہنچا کیوکہ کچن کی لائٹ آن تھی
"اف تعبیر جان نکال دی تم نے میری،، یہ اوپر چڑھی ہوئی کیا کر رہی ہو تم"
تعبیر کی چیخ سن کر ارتضیٰ واقعی ڈر گیا تھا اور کچن میں آکر تعبیر کو شیلف پر چڑھے دیکھکر حیرت سے پوچھا
"مزمل و۔۔۔ وہ وہاں چو۔۔۔۔ چوہا تھا میں نے دیکھا ابھی"
تعبیر نے ڈر سے ہکلاتے ہوئے کہا جس پر ارتضیٰ ہنسا
"یار تم ایک چوہے سے ڈر کر اوپر چڑھ گئی اترو نیچے"
ارتضیٰ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا
"نہیں جب تک وہ چوہا کچن میں موجود ہے میں نیچے نہیں اترو گی"
تعبیر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
"تمہارے پاس جب یہ شیر موجود ہے تو پھر چوہے سے ڈرنے کی کیا ضرورت"
ارتضیٰ اس کو گود میں اٹھا کر بیڈروم میں لے آیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 37
گھڑی رات کے 3 بجا رہی تھی مگر ولی ابھی تک جاگ رہا تھا آج اس کو شاید نیند آنی بھی نہیں تھی۔۔۔۔ وہ کمرے میں موجود ٹیرس میں جا کر کھڑا ہوگیا یوں ہی بے سبب باہر دیکھنے لگا
آج اس نے اسے دیکھا جس سے وہ کبھی بھولا ہی نہیں تھا۔۔۔ اپنی زندگی سے نکالنے کے بعد بھی وہ سے اپنے دل سے نہیں نکال سکا تھا،،، غصے اور جذبات میں اپنے کیے گئے فیصلے پر وہ جتنا پچھتاتا کم تھا حالات سے تنگ آ کر اس نے کیسے اپنی ہی زندگی کو اپنے آپ سے دور کر دیا تھا اور آج اسے کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھا دے کر ایک لمحے کے لیے وہ بالکل ساکت ہو گیا
وہ مشعل تھی اس کی مشعل۔۔۔۔ وہ خوش شکل نوجوان کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور وہ دونوں مسکرا کر باتیں کر رہے تھے
اس نوجوان کی آنکھوں میں مشعل کے لیے چھلکتی محبت وہ صاف دیکھ سکتا تھا اور مشعل کا بار بار مصنوعی غصے میں ہنسی کو چھپاتے ہوئے اس نوجوان کو گھورنا ولی کو اندر تک خالی کر گیا تھا
پھر مشعل چئیر سے اٹھنے لگی تو اس شخص نے مشعل کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ بٹھا دیا اور خود اٹھ کر وہاں سے چلا گیا جب ولی نے مشعل کو پکارا ایک لمحے کو وہ ولی کو دیکھ کر بالکل ساکت ہوگئی جیسے تھوڑی دیر پہلے مشعل کو دیکھ کر وہ ساکت ہوا تھا وہ مشعل کی آنکھوں میں حیرانی صاف دیکھ سکتا تھا ولی نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جیسے وہ ہوش میں آئی اور وہاں سے بھاگ گئی ولی اس کو ایک بار پھر اپنے سے دور جاتا دیکھتا رہا
مگر وہ اپنا بیگ اور موبائل وہی چھوڑ گئی تھی یقینا بیگ اور موبائل لینے کے لیے کوئی تھوڑی دیر میں واپس آتا ولی نے جلدی سے مشعل کا موبائل اٹھایا اور اس کے موبائل سے اپنے موبائل پر بیل دی اور پھر مشعل کا موبائل دوبارہ ویسے ہی رکھ دیا
تھوڑی دیر بعد ولی نے مشعل کو اور اس شخص کو باہر جاتے دیکھا اس شخص کی گود میں بچہ تھا
"ہانی"
ولی کے منہ سے بے ساختہ نکلا ہاں وہ ہانی تھا اس کا بیٹا اس کا اپنا خون ہانی کو دیکھ کر ولی کا دل ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور ولی نے قدم بے ساختہ ان لوگوں کی طرف بڑھائے
اس کو اپنے اندر سے آواز آئی 'کس حق سے' ولی کے قدم وہی تھم گئے
پھر وہ شخص دوبارہ اس ٹیبل پر آیا جہاں تھوڑی دیر پہلے مشعل اور وہ بیٹھے تھے وہاں پر موجود مشعل کا بیگ اور موبائل اٹھا کر وہ چاروں طرف نظر دوڑانے لگا پھر دوبارہ وہاں سے چلا گیا
ولی نے اپنی کار سے ان کی کار کا پیچھا کیا۔۔۔ کار ایک خوبصورت گھر کے اندر کار داخل ہوئی ولی نے گھر نوٹ کر کے اپنے گھر کا رخ کیا۔۔۔۔ کافی دیر یونہی بے سبب ٹیرس میں کھڑے رہنے کے بعد وہ واپس آ کر بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا
****
تابی کو چھوڑ کر گئے ارتضیٰ کو ایک گھنٹہ گزر چکا تھا وہ پورے گھر کا دو بار جائزہ لے چکی تھی۔۔۔ اس کو خوشی کا احساس اور اطمینان اندر سے سرشار کر گیا تھا۔۔۔ یہ اس کا اپنا گھر تھا اور خالی روم کو دوبارہ دیکھ کر اس کے لبوں پر خوبصورت سی مسکان آٹھہری
کچھ کرنے کو نہیں تھا تو اس نے اپنے بیڈ روم میں آ کر وارڈروب کھول کر اپنا بیگ نکالا اور اپنے کپڑوں کو وارڈروب میں ہینگ کرنے لگی۔۔۔ اس کی نظر ایک بار پھر وارڈروب کے دوسرے حصے پر گئی جس کا دروازہ لاک تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے وہ ارتضیٰ سے اس میں لاک کی وجہ پوچھ رہی تھی جس پر ارتضیٰ نے اس کو بتایا تھا کہ اس میں سارا سامان اسی کا ہے جو وہ اسے بعد میں دکھائے گا۔ ۔۔
"پتہ نہیں آخر کیا ہے اس میں جو مزمل میرے لئے لے کر آیا ہے"
ایک بار دوبارہ سوچتے ہوئے تعبیر نے کپڑے وارڈروب میں رکھے اور وارڈروب کا دروازہ بند کیا
وارڈروب کا تیسرا ڈور کھولا تھا اس میں ترتیب سے ارتضیٰ کے کپڑے ہینگ ہوئے تھے ارتضیٰ نے فی الحال اپنے کپڑوں کے علاوہ بیڈ روم میں اپنی کوئی ایسی چیز یا ڈاکومنٹس نہیں رکھے تھی جو تعبیر کو شک میں مبتلا کرتی یہاں تک کہ مریم کے بیڈروم کے لیے بھی اس نے یاور اور مریم کی ایک خوبصورت تصویر کو انلارج کروایا تھا وہ بھی ابھی دیوار پر نہیں لگائی تھی
جب تک وہ تعبیر کے پاس نہیں آ جاتا وہ نہیں چاہتا تھا کہ تعبیر کسی قسم کا شک و شہبات میں پڑے۔ ۔۔۔ ارتضیٰ کی وارڈروب کا ڈور بند کر کے تعبیر نے روم میں موجود ایل ای ڈی آن کی مگر اسے یہ دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی کہ اس میں کوئی چئنل موجود نہیں ہے شاید نیو گھر لینے کی وجہ سے ابھی تک کیبل نہ لگایا ہو تعبیر سوچا اور ایل ای ڈی بن کیا
اس کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ آج رات کو نیوز چینل پر جو خبر نشر ہونی تھی اس کی وجہ سے ارتضیٰ نے باکس نکالا ہوا تھا۔۔۔۔ تعبیر کو بھوک کا احساس ہوا تو وہ کچن میں آگئی، فریج میں سارے فروزن اشیاء پیکٹ کی صورت رکھی ہوئی تھی چپاتی اور پراٹھوں کے پیکٹ بھی فرج میں موجود تھے۔۔۔ وہی سامنے رکھی فروٹ باسکٹ پر تعبیر کی نظر گئی جس میں سب فروٹ موجود تھے
"تو میرا باڈی گارڈ اپنی میڈم کے لئے سب انتظام کرکے گیا ہے"
تعبیر سوچ کر مسکرائی اور فروٹ باسکٹ میں سے سیب نکال کر کھانے لگی
****
ارتضیٰ جو کہ وہاج صدیقی کے دوستو میں گھرا ہوا تھا عماد کے میسج پر ایک دم الرٹ ہو گیا عماد اپنی پوری ٹیم کے ساتھ دس منٹ بعد وہاں پر پہنچنے والے تھا۔۔۔۔ گودام سے سارا اسلحہ جو کہ تھوڑی دیر پہلے ہال میں رکھا گیا تھا اور اب دوبارہ واپس گودام میں رکھوا دیا گیا تھا
گودام سے ہی ایک خفیہ راستہ گھر سے باہر کی طرف نکلتا تھا ممکن تھا پولیس کے آتے ہی ہلچل مچ جاتی اور سب لوگ اس راستے سے فرار ہو جاتے اس وجہ سے ارتضیٰ کے کہنے کے مطابق ادھی پولیس کی نفری اس راستے پر بھی تعینات کردی جاتی تاکہ کہیں سے کوئی بھی نکل نہ سکے
"مزمل تابی کہاں ہے"
ارتضیٰ جو کہ عماد کے میسج پر الرٹ ہوکر وہاں سے باہر نکلنے کا ارادہ رکھتا تھا اچانک وہاج کی آواز پر اسے رکنا پڑا
"اسے میں نشا کے گھر چھوڑ آیا ہوں" جس انداز میں وہاج نے اس سے تعبیر کا پوچھا تھا اس سے ارتضیٰ کو اندازہ ہو گیا کہ تعبیر اپنے بیڈ روم میں موجود نہیں ہے یہ بات وہاج کو معلوم ہو چکی ہے
"کس کی اجازت سے تم اسے نشا کے گھر لے گئے"
تھوڑی دیر پہلے اسے شوکت نے بتایا تھا کہ مزمل شام کو ہی تعبیر بی بی کو گھر سے باہر لے گئے ہیں اس بات پر وہاج کو بہت غصہ آیا کیونکہ اسے ابھی بھی خطرہ تھا کی تعبیر کسی کو کچھ نہ بول دے
"اس کو کہیں بھی لے جانے کے لیے مجھے کسی کی بھی اجازت درکار نہیں بیوی ہے وہ میری"
ارتضیٰ نے صاف جتانے آنے والے انداز میں وہاج کو دیکھ کر کہا
"پہلے بیٹی ہے وہ میری"
وہاج کو ارتضیٰ پر غصہ آیا
"سر نکاح ہونے کے بعد لڑکی کا حقدار بدل جاتا ہے اب آپ تعبیر کی فکر کرنا چھوڑ دیں اور اپنی فکر کریں"
ارتضیٰ نے ہنستے ہوئے کہا اور وہاں سے نکل کر باہر چلا گیا وہاج کو اس کے انداز و اطوار،، بات کرنے کا لہجہ عجیب لگا
"اپنی بیٹی کیا دے دی میں نے اسے،، یہ تو اوقات ہی بھول گیا ہے ابھی سب لوگ یہاں سے چلے جائیں اس کے بعد اسے اچھی طرح بتاتا ہوں"
وہاج نے پیشانی پر بل سجائے سوچا
مگر اس کو یہ خبر نہیں تھی اس وقت اسے واقعی اپنی فکر کرنی چاہیے تھی
تھوڑی دیر میں وہاں موجود سب لوگوں میں ہلچل مچ گئی پولیس نے اس کے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے وہاج نے پریشان ہو کر ڈی ایس پی کو کال ملائی مگر اسے وہاں سے کوئی رسپونس نہیں ملا وہاں پر موجود لوگوں نے جب دوسرے راستے سے باہر نکلنا شروع کیا تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔۔۔۔ ہر طرف افراتفری کا عالم تھا وہاج کو ابھی بھی اصل مخبر سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر کس نے یہ حرکت کی ہے
جو لوگ اب گھر میں بچے تھے پولیس نے گھر میں آکر وہاج سمیت انہیں بھی گرفتار کر لیا اب پولیس کی ٹیم کے ساتھ میڈیا کی ٹیم بھی گھر کے اندر داخل ہو چکی تھی اور گھر میں موجود خفیہ گودام سے برآمد ہونے والے اسلحے کی ویڈیو بنائی جا رہی تھی پولیس نے میڈیا والوں کو ہٹا کر اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا
ارتضیٰ وہاں سے نکل کر کرنل سرفراز کے پاس پہنچا انہوں نے خوش ہو کر اسے گلے لگایا اور اسکے مشن کی کامیابی کی مبارکباد دی۔۔۔ وہاں پر ارتضیٰ نے اپنے پرانی سم کارڈ کو ضائع کر کے نئے نمبر سے مریم کو فون کیا اپنی خیریت کی اطلاع اور تھوڑی سی ہدایت دے کر فون بند کر دیا۔۔۔ مریم سے بات کرنے کے بعد اسے تعبیر کی فکر ہونے لگی مگر حالات ابھی گرما گرمی میں تھے اس وقت وہ نہیں نکل سکتا تھا ہر نیوز چینل پر بریکنگ نیوز میں وہاج صدیقی کے متعلق خبریں نشر ہورہی تھی
****
تعبیر کو اپنا سر کسی سخت چیز پر رکھا ہوا محسوس ہوا نیند میں ہونے کی وجہ سے وہ صرف سوچ سکتی تھی کہ رات کو نرم اور گداس تکیے پر سوئی تھی پھر وہ اس وقت کہاں موجود تھی اسے سمجھ میں نہیں آیا نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھو کو کھول کر دیکھا
"مزمل"
زیر لب اس کے منہ سے نام نکلا ارتضیٰ کے سینے سے سر ہٹا کر اس نے واپس اپنے تکیے پر رکھا دیوار پر لگی وال کلاک میں ٹائم دیکھا تو صبح کے 8 بج رہے تھے اسے خبر ہی نہیں ہوئی کہ ارتضیٰ کب آیا تعبیر نے سوچتے ہوئے آنکھیں موند لیں مگر اب اس کو نیند نہیں آ رہی تھی کیونکہ رات کو بھی ہو جلدی سو گئی تھی آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی اپنے بیڈ روم سے باہر نکل کر اس نے کچن کا رخ کیا فریج میں سے دودھ نکال کر اس نے پورا گلاس دودھ سے بھرا
آآآآ
ارتضیٰ جو کہ 4 گھنٹے پہلے گھر آیا تھا اور بہت گہری نیند میں سو رہا تھا مگر چیخ کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی اپنے برابر میں تعبیر کو نہ پاکر وہ بیڈروم سے بھاگتا ہوا کچن میں پہنچا کیوکہ کچن کی لائٹ آن تھی
"اف تعبیر جان نکال دی تم نے میری،، یہ اوپر چڑھی ہوئی کیا کر رہی ہو تم"
تعبیر کی چیخ سن کر ارتضیٰ واقعی ڈر گیا تھا اور کچن میں آکر تعبیر کو شیلف پر چڑھے دیکھکر حیرت سے پوچھا
"مزمل و۔۔۔ وہ وہاں چو۔۔۔۔ چوہا تھا میں نے دیکھا ابھی"
تعبیر نے ڈر سے ہکلاتے ہوئے کہا جس پر ارتضیٰ ہنسا
"یار تم ایک چوہے سے ڈر کر اوپر چڑھ گئی اترو نیچے"
ارتضیٰ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا
"نہیں جب تک وہ چوہا کچن میں موجود ہے میں نیچے نہیں اترو گی"
تعبیر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا
"تمہارے پاس جب یہ شیر موجود ہے تو پھر چوہے سے ڈرنے کی کیا ضرورت"
ارتضیٰ اس کو گود میں اٹھا کر بیڈروم میں لے آیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment