Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 36

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 35





"یہ ہم کہاں آئے ہیں مزمل کس کا گھر ہے یہ"
تعبیر نے حیرت سے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھا وہ یہ گھر ہرگز نہیں تھا جہاں وہ مزمل کے ساتھ پہلی دفعہ آئی تھی یہ گھر اس کے گھر کی طرح بہت زیادہ عالیشان اور بڑا نہیں تھا مگر اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا پانچ کمروں پر مشتمل یہ گھر اسے پسند آیا

"آف کورس ہمارا گھر ہے یار آو تمہیں ہمارا بیڈ روم دکھاؤ"
ارتضیٰ نے اس کے چہرے پر حیرت کے اثرار دیکھ کر اس کا ہاتھ تھاما جبکہ ارتضیٰ کے دوسرے ہاتھ میں تعبیر کا بیگ تھا جس میں اس نے تعبیر سے تین سے چار جوڑے رکھنے کو کہا تھا کیوکہ اس نے فرنیچر سے لے کر گروسری تک ہر ضرورت کی اشیاء کا انتظام تعبیر کو لانے سے پہلے ہی گھر میں کر دیا تھا مگر وہ تعبیر کی شاپنگ فلحال نہیں کر سکا یہ پروگرام اس نے پھر کسی دن کے لیے تعبیر کے ساتھ بعد میں کرنے کا سوچا تھا

"کیسا لگ رہا ہے ہمارا بیڈ روم"
وہ تعبیر کا بیگ وارڈروب میں رکھ کر تعبیر کے پاس آیا اسے بانہوں میں لیتے ہوئے پوچھا

"مگر مزمل یہ تو وہ گھر نہیں ہے جہاں تم مجھے پہلے لے کر گئے تھے"
تعبیر نے آنکھوں میں حیرت سمائے ہوئے اس سے پوچھا

"تعبیر تمہارے ذہن میں ابھی بہت سے سوالات آرہے ہوں گے جن کا جواب میں تمہیں فوری طور پر نہیں دے سکتا مگر میں کوشش کروں گا بہت جلد تمھاری ساری کنفیوژن دور کر دو اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ یہ گھر تمہارے گھر جتنا بڑا نہیں،،، اس بیڈ روم کا بھی تمھارے بیڈ روم سے کوئی مقابلہ نہیں مگر حق حلال کی کمائی میں، میں اتنا ہی کر سکتا ہوں۔۔۔ بہت ساری آسائشات جن کی تم عادی ہوں شاید وہ تمہیں فراہم نہیں کر سکوں مگر یہ وعدہ ہے کہ میرا،،، میرے پیار میں کبھی کوئی کمی محسوس نہیں کروں گی تم"
ارتضیٰ سمجھ سکتا تھا کہ وہ ہائی سوسائٹی میں move کرنے والی لڑکی ہے اس کے لیے ہر چیز کا ایڈجسٹ کرنا تھوڑا مشکل ہوگا یہ نہیں تھا کہ اس کا گھر بالکل عام سا تھا اس نے اسے بہت اچھا سا رینویٹ کروایا تھا اور سارا فرنیچر نیا خریدا تھا مگر پھر بھی تابی کے شان و شایان نہیں تھا

"کیسی باتیں کر رہے ہو یہ بیڈروم تو بہت اچھا لگ رہا ہے بلکہ میں پورا گھر دیکھنا چاہوں گی" تعبیر نے خوش دلی سے کہا یہ نہیں تھا کہ اس نے ارتضیٰ کا دل رکھنے کے لیے ایسا بولا تھا بلکے اسے بیڈ روم کی تھم کے لحاظ سے وہ موجود فرنیچر بہت اچھا لگا تھا اس کے کہنے پر ارتضیٰ اسے دوسرے بیڈ روم میں لے کر آیا

"یہ کس کا بیڈ روم ہے" تعبیر نے تجسس سے پوچھا وہ بیڈروم ارتضیٰ اور اس کے بیڈ روم سے تھوڑا بڑا تھا مگر وہاں پر موجود فرنیچر اور سنگل بیڈ سے وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ یہاں کوئی ایک بندہ رہائش پذیر ہوگا

"یہ تمہاری ساس کا بیڈ روم ہے"
ارتضیٰ نے شوخی سے اسے دیکھ کر کہا

"یعنی تمہاری مما وہ خود کہاں پر ہیں"
تعبیر نے پھر سوال پوچھا جس کا جواب ارتضیٰ کو ٹالتے ہوئے دینا پڑا

"وہ بھی آجاۓ گیں یہاں آؤ"
وہ اسے ڈرائنگ روم اور لانچ دکھانے لگا

"اور یہ روم جس کا دروازہ بند ہے"
تعبیر نے خود ہی ایکسائٹڈ ہوکر دروازہ کھولا تو وہ روم بالکل خالی تھا۔۔۔ ارتضیٰ اس کے پیچھے چلتا ہوا آیا اس کی پشت پر کھڑا ہوکر تعبیر کے گرد اپنے ہاتھ حائل کیے

"یہ روم خالی کیوں ہے مزمل"
تعبیر کو ایک بار پھر تجسس ہوا تو وہ سے سوال کر بیٹھی

"اس لیے کہ اس روم میں شفٹ ہونے والا مہمان ابھی اس گھر میں نہیں آیا" ارتضیٰ نے ہونٹوں سے اسکے گال کو چھوتے ہوئے کہا

"او تو یہ گیسٹ روم ہے"
تابی نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا

"غلط یہ ہمارے بےبی کا روم ہوگا" بولنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تو تعبیر اس کی بات سمجھ کر پلکیں جھکا گئی

"سنو چاہے ہمارے ہاں بےبی گرل ہو یا بےبی بوائے وہ بالکل تمہاری طرح نہیں ہونا چاہیے"
ارتضیٰ کی بات پر ایک دم تعبیر نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا

"کیوں"
تعبیر کی حیرت پر ارتضیٰ نے مسکرا کر اس کا چہرہ تھاما

"اگر ہمارا بےبی تم پر جائے گا تو مجھے دن رات اس پر پیار آیا کرے گا پھر آگے چل کر تمہیں شکوہ ہونا ہے کہ اب تمہیں مجھ سے پہلے جیسا پیار نہیں رہا"
ارتضیٰ کے کہنے پر تعبیر کے چہرے پر خوبصورت مسکان آئی جسے تعبیر نے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ کر اس سے چھپالی ارتضیٰ نے اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے

"یہاں آؤ"
ارتضیٰ اس کا ہاتھ تھام کر اسے کچن میں لے آیا جو کہ بہت کشادہ اور جدید اسٹائل کا بنا ہوا تھا

"ایک منٹ مزمل یہاں پر تو ایک صحن ہونا چاہیے تھا اس میں تخت اور دو کرسیاں"
تعبیر کے بولنے پر ارتضیٰ چونکا کیوکہ یاور کے زمانے میں اس جگہ پر ایک بڑا سا صحن تھا جس میں ایک تخت اور دو بانس کی کرسیاں رکھی ہوئی تھی عائشہ اور مریم وہاں پر اکثر شام میں بیٹھا کرتی تعبیر وہی ننھے ننھے قدم اٹھا کر چلتی اور ارتضیٰ اپنی سائیکل چلاتا مگر یہ بات تعبیر کو کیسے یاد ہوگی اس وقت تو وہ ڈیڑھ سال کی تھی شاید دماغ میں کچھ چیزیں نقش رہ جاتی ہو ارتضیٰ نے سوچا۔۔۔ تعبیر کو کھویا ہوا دیکھ کر اسکے چہرے کے آگے چٹکی بجائی

"کہاں کھو گئی مزمل کی جان کہو تو دوبارہ گھر چھوڑ کر یہاں پر صحن بنوادو"
ارتضیٰ کی بات پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر نکلی اور اس کو گھور کر دیکھا

"اچھا اب میری بات غور سے سنو،، مجھے ابھی یہاں سے جانا ہوگا میں آج رات کو یا پھر کل صبح تک واپس آ جاؤں گا تمہارے پاس،،، چند گھنٹوں کے لئے تمہیں اپنے اس گھر میں اکیلے رہنا ہوگا۔۔۔ فریج میں کھانے پینے کا سارا سامان موجود ہے رات کا کھانا کھا لینا اور باہر نہیں نکلنا پلیز مانوں گی نہ میری بات"
ارتضیٰ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا

"مگر تم مجھے یہاں چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو مزمل اور اگر چھوڑ کر جانا ہی تھا تو مجھے یہاں کیوں لے کر آئے۔۔۔ بابا بھی پریشان ہوں گے ایسے تو"
تعبیر اس کی باتوں پر ایک دفعہ پھر الجھ گئی

"کہہ تو رہا ہوں آ جاؤں گا بلکہ جلد آنے کی کوشش کروں گا تمہیں اعتبار ہے نا اپنے مزمل پر"
ارتضیٰ نے اس کا چہرہ تھام کر اس سے پوچھا تو تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا

"اوکے کھانا کھا لینا اور اپنا خیال رکھنا"
ارتضیٰ اس کو سمجھا کر وہاں سے چلا گیا زیادہ دیر اسکا وہاں پر روکنا وہاج کو شک میں مبتلا کر سکتا تھا مگر وہ وہاں سے جاتے ہوئے وہ دروازہ لاک کرنا نہیں بھولا

****

اریش اور مشعل نے ہانی کا ایڈمیشن کروا دیا تھا اس کو دو ہفتے اسکول جاتے ہوئے ہوگئے تھے۔۔۔ اسکول میں وہ جلد ایڈجسٹ ہوگیا تھا اور مزے مزے کی اسکول کی باتیں وہ اریش اور مشعل کو بتاتا۔۔۔

مشعل کی اکا سے ویڈیو کال پر ڈیلی بات ہوجاتی اور وہ انہیں اپنے پاس آنے کو کہتی،،، مگر ابھی بھی اکا کا موڈ فرید کے پاس رکنے کا تھا 'مہینے بعد آؤں گی' اکا یہ کہہ کر ٹال دیتیں

صبح اریش آفس اور ہانی کے اسکول کے جانے کے بعد مشعل کا دن گھر میں گزرتا اس لئے نوکروں کی آئے دن شامت آئی رہتی،، وہ ایک ایک کونا خود کھڑے ہوکر وہ اپنے سامنے صاف کراتی اسی وجہ سے نوکر بھی ہر دوسرے دن اکا کو یاد کرتے

جب سے ہانی نے اسکول میں جانا شروع کیا تھا مشعل نے اس کا رات کو جلدی سونے کی روٹین بنا دیا تھا، ،، کل اسکول آف تھا اس وجہ سے آج اریش دو ہفتے کی ٹف روٹین کے باعث ہانی کو انجوائے کرانے ڈائینو ورلڈ لے آیا تھا جہاں پلے ایریا میں ہانی خوب انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ مشعل تھوڑی دور موجود کیفے ٹیریا میں بیٹھی میجک کارن کھانے میں مصروف تھی

"یار میں دو دن سے نوٹ کر رہا ہوں تم گھٹا اور مرچوں والی چیزیں بڑے شوق سے کھا رہی ہو"
اریش ابھی ہانی کے پاس سے آیا تھا مشعل کو میجک کارن سے انصاف کرتے دیکھ کر معنی خیزی سے بولا

"تو اب آپ ساس بن کر میرے کھانے پینے پر نظر رکھیں گے اریش"
مشعل نے بڑا سا نیوالا منہ میں بھر کر بولا

"یا اللہ میری بیوی کو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا حس مزاح بھی عطا کر دیتا"
اریش نے ہاتھ اوپر کرکے اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جس پر مشعل نے اریش کو گھور کر دیکھا

"اب آپ کی اس بات کو میں تعریف میں لو یا برائی میں"
مشعل نے دائیں ہاتھ کی کہنی ٹیبل پر ٹکا کر بند مٹھی گال پر رکھتے ہوئے بولی

"چندہ اس بات کو دل پر لینے کی بجائے میری پہلی بات پر غور کرو کہیں کھٹا کھانے کی وجہ یہ تو نہیں ہے کہ ہانی کی بہن آنے والی ہے"
اریش نے مشعل کے آگے سے میجک کارن اٹھا کر کھاتے ہوئے کہا

"اریش آپ دونوں باپ بیٹے بالکل ایک جیسے ہیں وہ بھی اسکول سے آکر آج پوچھ رہا تھا کے ہانی کے پاس بہن یا بھائی کیوں نہیں ہے"
مشعل اریش کی بات پر جھینپی پھر آج دوپہر والی ہانی کی بات یاد کرکے بتانے لگی

"تو پھر کیوں نہ سیریس ہو کر عمل کیا جائے اس بات پر،،، ویسے بھی چار دن ہوگئے ہیں تم نے مجھے بتانے کا موقع ہی نہیں دیا ہے کہ تم مجھے کتنی اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ ہانی کو جلدی سلانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا تم خود بھی جلدی سو جاتی ہو"
اریش اس سے جتنا سیریس ہو کر بول رہا تھا اس کی آنکھیں اتنی شرارت پر آمادہ تھی

"ویسے اریش آپ شادی سے پہلے مجھے ایک نہایت شریف انسان لگتے تھے"
مشعل نے اسکی بات پر مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا

"ڈیر وائف میں ابھی بھی ایک شریف انسان ہی ہو مگر تمہارے لئے بالکل نہیں،،، یہ میری شرافت ہی ہے کہ میں تمہیں نیند سے جگاتا نہیں مگر آج رات مجھ سے شرافت کی کوئی توقع مت رکھنا" اریش نے معنی خیزی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جس پر مشعل اچھی طرح بلش ہوگئی

"اف اریش یہاں تو ایسے نہیں دیکھے"  مشعل اس کے دیکھنے کے انداز پر ہی سٹپٹا گئی

"اوکے بیڈ روم میں تو اجازت ہے نا ہانی کے سونے کے بعد ایسے دیکھنے کی" اریش اسے مسلسل تنگ کرنے میں لگا ہوا تھا کیوکہ ایسی باتوں سے جو مشعل کے چہرے پر ایکسپریشن آرہے تھے وہ اریش کو بہت مزہ دے رہے تھے

"میں جا رہی ہوں ہانی کے پاس"
مشعل اس کو گھور کر اٹھنے لگی تو اریش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس بلا لیا

"اوکے یار ایسے ہی چھیڑ رہا تھا اب یہاں کسی اور کو تو چھیڑنے سے رہا۔۔۔ ہانی کو لے کر آتا ہو پھر ڈنر کرنے چلتے ہیں،،، اس کے بعد گھر"
اریش اس کو کہتا ہوں اٹھ کھڑا ہوا اور پلے ایریا کی طرف ہانی کو لینے چلا گیا۔۔۔ مشعل منرا بوتل اٹھا کر پانی پینے لگی

"مشعل"
اپنے نام کی پکار پر اس نے مڑ کر دیکھا اور اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے پتھر کی بن گئی پانی کا گھونٹ اس کے حلق میں اٹک گیا

یہ وہ چہرہ تھا جسے چار سال بعد وہ اپنے سامنے دیکھ رہی تھی مگر اب وہ اس چہرے کو کبھی بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی

"کیسی ہو"
اس کی آواز پر دوبارہ چونکی اور نفی میں سر ہلاتے ہوۓ وہاں سے بھاگتی ہوئی اریش کے پاس جانے لگی مسلسل آنکھوں میں آئے ہوئے آنسو صاف کر کے وہ اریش سے بری طرح ٹکرائی

"ارے آ تو رہا تھا ہانی کو لے کر"
اریش نے اس کو دیکھ کر کہا

"اریش چلیں یہاں سے پلیز جلدی چلیں"
مشعل نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی صاف کی

"کیا ہوا مشعل تم ٹھیک ہو،، کیا ہو گیا ہے"
اریش نے اس کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں دیکھ کر فکر سے پوچھا

"ہاں میں ٹھیک ہوں مگر آپ پلیز گھر چلیں"
مشعل کو دوبارہ رونا آنے لگا

"مما آپ کو کیا ہوگیا،،، ہانی اب دیر نہیں لگائے گا ہم گھر چل رہے ہیں نا"
ہانی بھی مشعل کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا

"مشعل کیا تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے مجھے چل کر بتاؤں"
اریش کی سمجھ میں یہی آیا شاید اسے اکیلا دیکھ کر کسی نے کچھ کہا ہو،،، ورنہ تھوڑی دیر پہلے تو وہ اس کو اچھا بھلا چھوڑ کر گیا تھا

"نہیں مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا میں آپ سے کہہ رہی ہوں نہ گھر جانا ہے مجھے" مشعل نے روتے ہوئے بے بسی سے کہا

"اوکے چلتے ہیں مگر تم پہلے چپ کرو ہانی پریشان ہو رہا ہے"
اریش نے ہانی کو گود میں لیتے ہوئے کہا اور مشعل کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا

"بیگ کہاں ہے تمہارا"
اریش نے گاڑی میں بیٹھ کر مشعل سے پوچھا

"شاید وہی رہ گیا" مشعل نے پریشان نظروں سے اریش کو دیکھ کر کہا

"کوئی بات نہیں میں لے کر آتا ہوں" اریش کار سے نکل کر دوبارہ کیفے ٹیریا کی طرف گیا بیگ ٹیبل پر ہی رکھا ہوا تھا اور مشعل کا موبائل بھی۔۔۔۔ اریش نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور سوچ میں پڑ گیا آخر ایسا کیا ہوا ہوگا جو مشعل اتنی حواس باختہ ہوکر اپنا بیگ اور موبائل چھوڑ گئی اور اسے گھر جانے کی جلدی ہوگئی۔۔۔ مشعل کا رویہ اریش کی سمجھ سے بالاتر تھا وہ بیگ اور موبائل لے کر واپس اپنی کار کی طرف آیا تو مشعل ہانی کو اپنے سینے سے لگائے خود کار کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی

"ڈنر کا کیا پروگرام ہے"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا

"میں تھک گئی ہوں گھر جا کر ریسٹ شریف کرنا چاہتی ہوں"
مشعل نے آنکھیں کھول کر اریش کو دیکھا تو اریش نے کار اسٹارٹ کردی

راستے میں ریسٹورنٹ سے کھانا پیک کرواکے وہ لوگ گھر آگئے مشعل بیڈ روم میں چلی آئی

"آو مشعل کھانا کھالو"
اریش نے اسے بلایا

"میرا دل نہیں چاہ رہا اریش اب دونوں کھالیں"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر کہا

"اوکے مگر تھوڑی دیر میرے اور ہانی کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ جاو"
اریش نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا تو مشعل کو اٹھنا پڑا وہ دونوں ڈائینگ ٹیبل پر آئے جہاں ہانی پہلے ہی بیٹھا تھا

"آج ڈیڈ کس کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلائے ہانی کو یا پھر ہانی کی مما کو"
اریش نے پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے پوچھا اور پلیٹ مشعل کے پاس رکھی

"ڈیڈ ہانی کے ہیں، ،، تو ہانی ڈیڈ کے ہاتھ سے کھانا کھائے گا"
ہانی جھٹ سے بولا

"آجاؤ پھر جلدی سے ڈیڈ کے پاس آٹھ کر۔۔۔ مشعل کھانا شروع کرو"
اب اریش ہانی کو اپنے پاس بٹھا کر اپنے اور ہانی کے لیے کھانا نکال رہا تھا

اریش کے کہنے پر مشعل نے دل مار کر تھوڑا سا کھانا کھایا اریش نے ہانی کو کھانا کھلایا اور خود بھی کھایا اس کے بعد سرونٹ سے کہہ کر برتن اٹھوائے۔۔۔

مشعل دوبارہ بیڈ روم میں جاچکی تھی جبکہ اس کا روٹین ایسا ہوگیا تھا کہ وہ رات کے کھانے کے برتن اپنے سامنے واش کروا کر گھر کے سارے دروازے چیک کرکے روم میں آتی

اریش سارے دروازے چیک کر کے روم میں آیا تو مشعل بیڈ پر لیٹی ہوئی جاگ رہی تھی اور اس کے برابر میں ہانی سو چکا تھا

سوتے ہوئے ہانی کو اریش نے اٹھا کر اس کے بیڈ پر لٹایا اور خود مشعل کے پاس آکر لیٹا تو مشعل نے اریش کے سینے پر سر رکھا

"اریش آپ بہت اچھے شوہر ہیں"
اریش کو مشعل کی آواز سنائی دی

"میں بہت اچھا دوست بھی ہو تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو جو بھی پرابلم ہے"
اریش نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا

"بس میں سونا چاہتی ہوں"
مشعل نے آنکھوں میں آئی نمی کو ایک بار پھر صاف کرتے ہوئے کہا

"تو پھر اپنے دماغ سے ساری سوچیں نکال دو اور سونے کی کوشش کرو"
اریش نے اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کہا اور لیپ کی مدھم روشنی بن کر کے وہ خود سونے کی کوشش کرنے لگا مگر مشعل اریش کے سینے پر سر رکھے ابھی بھی جاگ رہی تھی نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment