Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 35

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 35


آج دوپہر آفس سے ہی مشعل کو فون کرکے اریش نے ماہرہ کی طرف کا پروگرام بتادیا تھا ماہرہ نے ان دونوں کو اپنے گھر پر انوائٹ کیا تھا ماہرہ اور مشعل باتوں میں مصروف تھی ہانی اور ماہرہ کے بچے ایک ساتھ کھیل رہے تھے شیراز مائرہ کا شوہر کسی کام سے اٹھ کر باہر گیا تو نشا اریش کے پاس آکر بیٹھی

"ویسے اریش بھائی مشعل بھابھی بہت پیاری سی ہیں"
نشا نے اریش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"میں آپ کی رائے سے پورا پورا اتفاق کرتا ہوں"
اریش کے کہنے پر نشا مسکرائی تو اریش خود بھی مسکرا دیا

"ارے بھائی آپ کسی ارتضیٰ کو جانتے ہیں"
نشا کو اچانک تعبیر کے اتنے وثوق سے اریش کو ارتضیٰ کا نا یاد آیا تو پوچھ بیٹھی

"نہیں تو کون ہے یہ"
اریش نے نارمل انداز میں نشا سے پوچھا

"نہیں میری فرینڈ تعبیر آپ کی تصویر کو دیکھ کر ارتضیٰ بول رہی تھی اس لیے میں نے پوچھا" نشا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا

"ہوسکتا ہے کوئی ارتضیٰ نامی شخص میری شکل کا ہو یا آپ کی فرینڈ کو غلط فہمی ہوئی ہو"
اریش نے نشا کو دیکھ کر کہا

"جی میں بھی اسے یہی کہہ رہی تھی" نشا نے مسکرا کر جواب دیا

باہر بچوں کی آواز آئی تو ڈرائنگ روم میں بیٹھے مشعل اور اریش چونکے

"میں دیکھتا ہوں
اریش کہتا ہوں اٹھا مائرہ بھی اس کے پیچھے آئی جبکہ نشا مشعل سے باتیں کرنے لگی

"یہ کیا حرکت ہے معیز،  شرم نہیں آئی آپ کو ہانی کو مارتے ہوئے کتنا چھوٹا ہے وہ آپ سے"
اریش نے معیز (ماہرہ کے بیٹے) کو دیکھ کر ڈپٹا اور روتے ہوئے ہانی کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا

"کیا ہوگیا اریش تم تو اتنی بری طریقے سے ڈانٹ رہے ہو میرے بیٹے کو، بھانجا ہے وہ تمہارا"
مائرہ کو شاید معیز پر ہانی کو فوقیت دینا پسند نہیں آیا اس لئے اریش سے بولی

"غلط بات پر ہی ڈانٹا ہے میں نے، تم نے دیکھا نہیں کتنی بری طرح سے مارا ہے اس نے ہانی کو" اریش نے ماہرہ کو دیکھ کر کہا

"اریش تم تو ایسے ری ایکٹ کر رہے ہو جیسے تمہارا سگا بیٹا ہے تمہارا"  ماہرہ کو اس طرح اپنے بھائی کا کسی دوسرے کی فیور میں بات کرنا برا لگا تو جتا دیا

"میرے نزدیک سگا اور سوتیلا کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ یہ میرا بیٹا ہے اور اس کے لیے کوئی برا سوچے گا یا برا کرے گا تو مجھے برا لگے گا مشعل میری بیوی ہے جتنی میرے لئے وہ ویلیو رکھتی ہے اتنا ویلیو یہ بھی رکھتا ہے۔۔۔ اور یہ بات اب میں بار بار تم کو یا کسی دوسرے کو نہیں بتاؤں گا اس لئے آئندہ خیال رکھنا"
اریش کہتا ہوا ہانی کو گود میں لے کر اندر جانے لگا تو وہاں مشعل کو دروازے پر کھڑا پایا اس کو ایک نظر دیکھ کر وہ اندر چلے گیا پھر جتنی دیر تک وہ لوگ وہاں پر موجود رہے  ہانی اریش کے پاس ہی بیٹھا رہا واپسی پر آتے ہوئے ہانی کار میں ہی سو گیا

گھر آنے کے بعد اریش نے ہانی کو بیڈ پر لٹایا تو مشعل اریش کو غور سے دیکھ رہی تھی

"کیا ہوا کچھ کہنا چاہتی ہوں"
مشعل کو اپنی طرف دیکھ کر اریش نے پوچھا

"آپ مجھے خود سے پیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں"
مشعل نے اریش کے گلے لگ کر کہا تو اریش مسکرا دیا

"تو روکا کس نے ہے کر لو پیار"
اریش نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے کہا

"کوئی اتنا اچھا کیسے ہو سکتا ہے اریش"
مشعل نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کرتے ہوئے سوال کیا

"اچھا میں نہیں اچھی تم ہو،، پیار کرنے کے چاہے جانے کے لائک"
اریش نے جھک کر  اس کے کان میں کہا

"سنو ہانی سو چکا ہے اور آج میرا موڈ ہو رہا ہے تمہیں بتانے کا کہ تم کتنی پیاری لگ رہی ہو"
اریش کے کہنے پر مشعل نے سر اٹھا کر گھور کر اریش کو دیکھا وہ معنی خیزی سے مسکراتا ہوا مشعل کو اپنی بانہوں میں اٹھائے بیڈ پر لے آیا

****

تعبیر باتھ لے کر نکلی تو اپنے بیڈ پر ارتضیٰ کو لیٹے پایا جس دن سے وہ دونوں ہوٹل سے واپس آئے تھے اس کے دس دن بعد آج وہ اسے اپنے سامنے دیکھ رہی تھی ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا مقصد اس کو اپنے پاس بلانا تھا

ہوٹل سے واپسی کے بعد وہ دس دنوں تک وہاج کے بکھیڑوں،، اور اپنے ذاتی کاموں میں الجھا رہا اس وجہ سے وہ اپنی اسنووائٹ کو اتنے دنوں بعد دیکھ رہا تھا

وہاج کے جو گیسٹ باہر ممالک سے آئے تھے ان کو ریسیو کرنا۔۔۔ گھر میں دی جانے والی دعوت کے ارینجمنٹ۔۔۔۔ دوسری طرف عماد کو گودام کا نقشہ سمجھا کر پلان تیار کرنا۔۔۔ اور پھر اپنے گھر میں گروسری ضرورت کی چند اشیاء ڈالوانا ،،، جہاں وہ تھوڑی دیر بعد تعبیر کو لے کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔

کیوکہ آج اس کے مشن کی آخری رات تھی آج رات اس کا مشن مکمل ہو جانا تھا آج رات وہاج صدیقی کے گھر اس کے سارے گیسٹ اور دوست احباب دعوت پر مدعو تھے۔۔۔۔ ساری ڈیٹیلز وہ کرنل سرفراز کو دے چکا تھا،،، عماد کے ساتھ مل کر اس نے اپنا پلان تیار کر لیا تھا مگر ان سب سے پہلے وہ تعبیر کو اس گھر سے نکال کر کسی محفوظ مقام پر پہنچانا چاہتا تھا اور وہ محفوظ مقام اس کا اپنے گھر کے علاوہ کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔ مریم کو اس نے ابھی تک گھر میں شفٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مریم اور تعبیر کا آمنا سامنا اس کی غیر موجودگی میں ہوں اور تعبیر کے سوالات اس کے لیے مسئلہ پیدا کریں

"اتنے دنوں سے کہاں تھے تم"
تعبیر نے اس کے قریب آ کر اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔ جواب دینے سے پہلے ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے اوپر گرا لیا

"یاد کیا مجھے اتنے دن"
ارتضیٰ کو اتنے دن بعد اپنے سامنے پا کر تعبیر کے چہرے پر رونق تو آئی تھی جس کو ارتضیٰ نے نوٹ بھی کیا تھا مگر پھر بھی تعبیر کو اپنی بانہوں میں لیے وہ اس سے پوچھ رہا تھا

"ان دس دنوں میں تمہارے علاوہ اور سوچا ہی کیا ہے،، اگر اس کو مس کرنا کہتے ہیں تو ہاں میں نے تمہیں بہت مس کیا"
تعبیر اس کی شرٹ پر اپنی انگلی سے لائنز بناتے ہوئے نظریں نیچے جھکائے اسے بتا رہی تھی۔۔۔۔ ارتضیٰ اس کی بات سن کر اندر تک سرشار ہوگیا تعبیر کا چہرہ اوپر کر کے اس کی تھوڑی پر اپنے لب رکھ دئے

"تمہارا خیال میرے دماغ سے اور تمہاری یاد تو میرے دل سے اس وقت بھی نہیں نکل سکی تھی جب تم میرے پاس نہیں تھی۔۔۔۔ اب کبھی بھی دور نہیں کر سکتا تمہیں اپنے آپ سے"
ارتضیٰ نے اس کو بیڈ پر لیٹا کر اس پر جھگتے ہوئے کہا

"مزمل میں سوچ رہی تھی کیا تمہیں مجھ سے اتنی محبت ہے کہ تم میری خاطر یہ سب کام چھوڑ دو"
تعبیر نے اس کی بات کو یکسر نظر انداز کے اپنے ہاتھ اسکے سینے پر رکھ کر ذرا سا فاصلہ قائم کرتے ہوئے

ارتضیٰ اب تعبیر کی زندگی میں شامل ہوگیا تھا اس کا شوہر تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی اس کا شوہر ایسے کام کرے اور وہ دونوں پوری زندگی بے سکونی میں گزارے اس لیے تعبیر نے سوچا وہ اپنے پیار سے مجبور کر کے اسے یہ کام چھوڑنے پر آمادہ کرے گی

"تمہارے لیے یہ دنیا بھی چھوڑ سکتا ہے مزمل یہ کام کیا چیز ہے"
ارتضیٰ کو اس کی معصومیت پر ٹوٹ کر پیار آیا، دل میں خوشی بھی محسوس ہوئی تعبیر کی رگوں میں جس باپ کا خون دوڑتا تھا وہ کم از کم  اس سے مختلف تھی

"یہی بات کل رات میں نے بابا سے بھی کہی تھی پتہ ہے انہوں نے کیا کیا"
تعبیر کے چہرے پر افسردگی چھا گئی اور آنکھوں میں ہلکی سی نمی آگئ

"انہوں نے مجھ پر دوبارہ ہاتھ اٹھایا مزمل بابا میرے لئے اپنے آپ کو نہیں بدل سکتے"
تابی نے افسردگی سے کہا وہاج کی حرکت پر ارتضیٰ کے ماتھے پر شکنیں ابھری

"وہ اب کبھی بھی نہیں بدلیں گے تعبیر اور یہ آنسو بہت قیمتی ہے بے ضمیر لوگوں پر ان کو ضائع مت کرو"
ارتضیٰ نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

"تم پرامس کرو یہ کام چھوڑ دو گے" تعبیر کے کہنے پر اس نے تعبیر کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما

"تمہارا مزمل ایسا ہے ہی نہیں جیسا تم سوچ رہی ہوں" ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کہا

"کیا مطلب"
تعبیر کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی تو پوچھ بیٹھی

"سب مطلب سمجھا دؤ گا مگر اس وقت نہیں،، اس وقت تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا میں تمہیں لینے آیا ہوں"
ارتضیٰ نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ وہاج تھوڑی دیر پہلے ہی کیسی ضروری کام سے گھر سے باہر نکلا تھا وہ اس کی غیر موجودگی میں تعبیر کو اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا

"مگر کہاں"
تعبیر نے یوں اچانک بننے والے پروگرام پر حیرت سے پوچھا

"میرے گھر"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا تو تعبیر کی آنکھوں میں وہی ایک کمرے کا چھوٹا سا مکان گھوم گیا جہاں وہ مزمل کے ساتھ پہلے بھی ایک بار جا چکی تھی

"کس سوچ میں پڑگئی میڈم، رہ لوگی میرے ساتھ میرے غریب خانے میں،،، کر سکوں گی ایک کمرے میں زندگی بسر"
ارتضیٰ نے اس کی سوچ کو پڑھتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔۔

بے شک اس کا گھر ایک کمرے کا نہیں تھا مگر جن آسائشات عیش و عشرت میں تعبیر پلی بڑھی تھی وہ ساری سہولیات ارتضیٰ اس کو فراہم نہیں کر سکتا تھا اور جس طرح کی ارتضیٰ کی جاب تھی تعبیر کے لیے ایڈجسٹ کرنا تھوڑا مشکل ہوتا مگر ارتضیٰ کو اندازہ تھا تعبیر اس سے اتنی محبت تو کرتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ ایڈجسٹ کرلے گی 

"تھوڑا مشکل ہوگا میرے لئے مگر تم یہ کام چھوڑ دو گے تو میں پوری کوشش کروں گی تمہارے لائف اسٹائل میں ایڈجسٹ کرنے کی۔۔ مگر بابا کو کیا کہو گے تم"
تعبیر نے پوری ایمانداری سے جواب دیا اور پھر اس کو وہاج کی فکر ہوئی

"سر کی فکر نہیں کرو میں انہیں ہینڈل کر لوگا تم ایسا کرو اپنے تین چار ڈریس اور چند ضروری چیزیں بیگ میں رکھ لو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں"
وہ اس کا ماتھا چومتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment