Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 34

🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 34




دن کے 12 بج رہے تھے جب تعبیر کی آنکھ کھلی

"اتنی دیر کیسے سوگئی میں"
تعبیر نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے سوچا پھر اسے کل رات والا واقعہ یاد آیا اس نے اپنا سر جھٹکا۔۔۔ کل رات ڈرپ لگنے کی وجہ سے اس میں اتنی توانائی آئی تھی کہ اس نے اٹھ کر شاور لیا مگر دو دن میں ہی اس کے چہرے پر عجیب پس مردگی سی چھا گئی تھی۔۔۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر وہ بال برش کرنے لگی تبھی روم میں ارتضیٰ داخل ہوا تعبیر نے ایک سرسری نظر آئینے میں سے ہی اس پر ڈال کر اپنا کام جاری رکھا

"صبح سے یہ تیسرا چکر ہے میرا تمہارے پاس،، بھرپور نیند لے لی آج تم نے"
وہ اس کے قریب آکر اپنے دونوں ہاتھ تعبیر کے گرد حائل کرتا ہوا بولا

"مجھے میرا موبائل چاہیے"
تعبیر نے اس کی بات کو اگنور کر کے آئینے میں ہی اسے دیکھ کر کہا

"کس سے بات کرنی ہے بتاؤ میں کال ملا کر دیتا ہوں"
ارتضیٰ نے بھی اس کو آئینے میں ہی سے مخاطب کیا ارتضیٰ کی بات پر تعبیر کا ہاتھ تھم گیا ہیئر برش رکھ کر اس نے اپنے پیٹ سے ارتضیٰ کے ہاتھ ہٹائے اور جاکر ٹیرس میں کھڑی ہوگئی

اسے معلوم تھا اس کے کہیں آنے جانے پر، کسی سے ملنے پر،، یا کسی سے بات کرنے پر وہاج نے پابندی لگا دی ہے۔۔۔۔ ابھی صرف چار دن ہی گزرے تھے تو اس کے لیے کتنا مشکل ہوگیا تھا اس طرح قید میں رہنا،، باقی کی زندگی میں کیسے گزارے گی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اسے اپنے کندھوں پر ارتضیٰ کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا

"صرف چند دن صبر کر لو تعبیر، پھر تمہارا مزمل تمہیں یہاں سے لے جائے گا"
ارتضیٰ کو بھی شدت سے انتظار تھا کہ وہ جلد از جلد یہ معاملہ نبھٹائے اور اپنی اسنووائٹ کو لے کر اپنے گھر چلا جائے۔۔۔ ابھی تو ایک اور امتحان اس کی زندگی میں باقی تھا جب تعبیر کو یہ معلوم ہوگا کہ وہ مزمل نہیں ارتضیٰ ہے تب وہ کیا کرے گی اس کا ردعمل کیا ہوگا مگر فی الحال وہ ابھی اس بات کو نہیں سوچنا چاہتا تھا

"مجھے ابھی باہر جانا ہے مزمل،، میرا اس چار دیواری میں دم گھٹ رہا ہے۔۔۔ مجھ سے کھل کر سانس نہیں لیا جا رہا،، پلیز مزمل مجھے تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی باہر لے جاؤ،، یہاں سے دور"
تعبیر ارتضیٰ کے گلے لگ کر بولی تو ارتضیٰ نے اس کو بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے بالوں پر رکھے

"اوکے اچھا سا تیار ہو جاؤ پہلے میرے لیے، پھر چلتے ہیں"
ارتضیٰ اس کی کیفیت سمجھتا ہوا بولا

اسے معلوم تھا کہ وہاج اس کی اجازت نہیں دے گا وہ لازمی منع کرے گا مگر ان چار دنوں میں جیسے تعبیر کملا کر رہ گئی ہے اس کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے ارتضیٰ نے اس کو باہر لے جانے کا فیصلہ کیا

"بابا مان جائیں گے"  تعبیر نے سر اٹھا کر ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے اپنا خدشہ ظاہر کیا

"میں ان سے بات کرتا ہوں تم ریڈی ہو کر نیچے آؤ"
ارتضیٰ نے ہونٹوں سے اس کے گال کو چھوتے ہوئے کہا

شاید وہ اپنا نکاح ایکسپٹ کر چکی تھی،،، دل سے یا مجبوری میں اس کا ارتضیٰ کو علم نہیں تھا۔۔۔ ارتضیٰ وہاں سے وہاج کو بتانے کے غرض سے اس کے پاس گیا کہ وہ تعبیر کو اپنے ساتھ لے جا رہا ہے

***

"آو مزمل میں تمہیں ہی بلانے والا تھا ابھی مسٹر ایڈسن کی کال آئی تھی وہ اگلے ہفتے پاکستان آرہے ہیں ہمارے بہترین کلائینٹز میں سے ایک ہیں،،، اس لئے  نیکسٹ ویک اینڈ ہم اسلحے کی فروخت کے لیے اپنے دوسرے کلائنٹس کو بھی دعوت دے دیتے ہیں کیا خیال ہے"
وہاج صدیقی نے ارتضیٰ کو داماد کا پروٹوکول دیتے ہوئے اس کا مشورہ مانگا

"یہ تو اچھی نیوز ہے سر اور میری صلہ مانیں تو آپ اب کہ بار اپنے سارے کلائنٹس کو اپنے گھر دعوت دیں کیونکہ پچھلی دفعہ فارم ہاؤس کی وجہ سے پولیس ایکٹو ہوگی باہر بھی کہیں آپ سب کو بلائیں گے تو یہ بات خطرے سے خالی نہیں"
ارتضیٰ کا پلان تھا وہاج صدیقی کا گودام بھی ایکسپوز ہو جائے تاکہ اس کو جیل سے کسی صورت بچ کے نکلنے کا موقع نہ ملے اور یہ جبھی ممکن تھا جب دعوت گھر میں رکھی جائے

"بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے مگر میں نے ایسے کاموں کا اپنے گھر پر کبھی رسک نہیں لیا"
وہاج کشمکش میں پڑگیا

"اگر کہیں اور آپ کلائینٹس کو بلاتے ہیں تو پیچھے سے تعبیر کر کیا ہوگا،، اسے اب آپ نشا کے گھر بھی نہیں چھوڑ سکتے اور دوسری بات اتنے سارے ہتھیار کو کہیں اور شفٹ کرنا جبکہ پولیس کی جگہ جگہ چیکنگ آج کل زور وشور سے ہو رہی ہے۔۔۔ میرے خیال میں یہ خطرے سے خالی نہیں"
ارتضیٰ نے وہاج کو گو مگو کی کیفیت میں دیکھ کر مزید بولا

"کہہ تو تم یہ بھی ٹھیک رہے ہو،، پھر میں سب کلائنٹس کو اور اپنے خاص دوستوں کو اب کی بار گھر کا ہی انویٹیشن دوں گا"
وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا

"ایک اور بات کرنی تھی آپ سے میں تعبیر کو باہر لے کر جا رہا ہوں تھوڑی دیر کے لیے اس فکر نہیں کریے گا"
ارتضیٰ نے وہاج کو دیکھ کر کہا

"نہیں یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے ہمارے لئے،،، اس کا گھر میں رہنا ہی ٹھیک ہے"
وہاج تعبیر کی طرف سے کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا اس لیے بول اٹھا

"سر وہ جس ذہنی کیفیت سے گزر رہی ہے اس کے لئے تھوڑا چینج ضروری ہے ورنہ وہ مینٹلی آپ سیٹ ہوجائے گی اور فکر کی کیا بات ہے وہ میرے ساتھ ہے"
ارتضیٰ نے جواز پیش کیا

"چلو ٹھیک ہے اپنے بھروسے پر لے جاو مگر دھیان رکھنا"
وہاج کو خوشی بھی ہوئی اس کا داماد بیٹی کی فکر کرتا ہے اور اسکے کاروبار کو اچھے سے دیکھتا ہے۔۔۔۔ بےشک اس نے مزمل کو اپنا داماد بنا کر گھاٹے کا سودا نہیں کیا تھا اب وہ مطمئن ہوگیا

****

وہ اس وقت تعبیر کے ساتھ ساحل سمندر پر موجود تھا اور تعبیر آنکھیں بند کئے ہوئے کھڑی تھی،، پانی کی چھوٹی چھوٹی لہریں اس کے پاؤں کو چھو کر واپس جارہی تھی تعبیر اس طرح سکون محسوس کر رہی تھی وہ لوگ جس جگہ پر تھے وہاں زیادہ رش بھی نہیں تھا۔۔۔۔ ارتضیٰ بہت غور سے اپنی اسنووائٹ کو دیکھ رہا تھا کتنا ہی اچھا ہوتا کہ یہ سکون اور اطمینان وہ مزمل کی حقیقت جاننے کے بعد بھی محسوس کرے ارتضیٰ تعبیر کو دیکھ کر سوچنے لگا

"میڈم کیا یہی سونے کا ارادہ ہے ایک گھنٹہ ہو گیا ہے ہمہیں یہاں آئے ہوئے"
ارتضیٰ کی بات پر تعبیر نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا

"مگر میرا دل نہیں کر رہا واپس جانے کو"
اس طرح بولتی ہوئی وہ ارتضیٰ کوئی ننھی سی بچی لگی ارتضیٰ اس کو دیکھ کر مسکرا دیا

"چلو ٹھیک ہے میں تمہارے دل کی مان لیتا ہوں مگر اس کے بعد تمہیں میرے دل کی ماننی پڑے گی"
ارتضیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

"تو کیا اب ہم گھر واپس نہیں جا رہے" تعبیر نے حیرت سے پوچھا تو ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ تھاما

"نہیں آج ہم گھر نہیں جائیں گے مگر ابھی یہاں سے چلو بھوک لگ رہی ہے مجھے، لنچ بھی نہیں کیا تھا میں نے دوپہر کا"
ارتضیٰ اس کا ہاتھ تھامتا ہوا اسے وہاں سے قریب ریسٹورنٹ لے گیا جہاں پر ان دونوں نے ڈنر کیا

****

"آج ہم یہاں رکے گے"
تعبیر نہیں ہچکچاتے ہوئے ارتضیٰ کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔ یہ ایک لگژری ہوٹل کا خوبصورت سا روم تھا

"اب رات گھر پر نہیں گزارنی کہیں تو گزارنی تھی نا میڈم یا پھر تمہیں سڑکوں پر لے کر گھومتا رہتا ساری رات"
ارتضیٰ نے شوز اتارے ریلیکس انداز میں بیڈ پر لیٹتے ہوئے کہا تو تعبیر وہی صوفے پر برجمان ہوگئی

اسے یوں اپنا اور ارتضیٰ کا ہوٹل کے روم میں رکنا کچھ عجیب سا لگ رہا تھا ویسے تو وہ اس کے نکاح میں تھی اور مزمل چار دن سے اس کے بیڈ روم میں ہی اس کے بیڈ پر اس کے ساتھ سو رہا تھا مگر اس وقت نہ تو وہ اس کا بیڈ روم تھا نا وہ اس کا گھر تھا بلکہ ہوٹل کے روم میں وہ دونوں تنہا تھے یہ سوچ کر تعبیر تھوڑا نروس ہونے لگی

"تعبیر بیڈ پر آؤ" ارتضیٰ کی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے باہر نکلی وہ اسی کو دیکھ رہا تھا

"نہیں میں یہی ٹھیک ہو"
تعبیر نے گھبراتے ہوئے کہا

"کیا ساری رات صوفے پر بیٹھ کر گزارنی ہے بیڈ پر آکر لیٹو"
ارتضیٰ کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی

"کیا ہوا"
اس کے دیکھنے پر ارتضیٰ نے اس سے پوچھا وہ اس کی گھبراہٹ اور گریز کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا مگر فی الحال اس کا سمجھداری سے کام لینے کا ارادہ نہیں تھا یا پھر شاید اگے جاکر اسی میں سمجھداری تھی۔۔۔

اتنے میں وہاج صدیقی کی کال ارتضیٰ کے موبائل پر آئی ارتضیٰ بالکونی میں کال ریسیو کرنے گیا اور وہاج صدیقی کو اطمینان دلایا کہ تعبیر کی فکر نہ کریں اب تعبیر اس کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔موبائل لے کر جب وہ روم میں واپس آیا تو تعبیر ابھی بھی صوفے پر بیٹھی ہوئی دانتوں سے اپنے ہونٹ کاٹنے میں مصروف تھی۔۔۔  ارتضیٰ نے اس کے پاس آکر اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا

"کیا کر رہے ہو مزمل پلیز چھوڑو مجھے"
تعبیر نے ڈرتے ہوئے کہا یعنی اس کی چھٹی حس جو الارم دے رہی تھی وہ غلط نہیں تھا

"میں نے تمہارے دل کی مانی ہے اب جو میرا دل کہے گا میں صرف وہی کروں گا اور تمہیں میرے دل کی ماننی ہے"
ارتضیٰ نے اسے بیڈ پر لیٹا کر اس پر جھکتے ہوئے کہا

"مزمل پلیز ایسا نہیں کرو اس وقت"
تعبیر نے احتجاجاً کہا اس کی زندگی میں اچانک نیا موڑ آ گیا تھا جس کے لیے اسے کچھ وقت کی ضرورت تھی

"میرا دل ایسے کرنے پر مجبور ہے اور میں اپنے دل کی سننے پر مجبور ہو۔۔۔۔ تمہاری آج مزاحمت کام نہیں آنے والی بلکہ آج تمہیں میرے دل کی ماننی پڑے گی"
ارتضیٰ نے کہتے ہوئے تعبیر کے دل کے مقام پر اپنے ہونٹ رکھے،، جس پر تعبیر کو لگا اس کا دل سینے سے نکل کر باہر آجائے گا

"مزمل مجھے کچھ وقت دو"
تعبیر نے اس کی بے باکی پر لڑکھڑاتی آواز کے ساتھ کہا

"اس وقت تمہیں ہی تو وقت دے رہا ہوں میری جان"

ارتضیٰ نے اس کا دوپٹہ سائیڈ پر رکھتے ہوئے شولڈر سے اس کی شرٹ سرکا کر نیچے کی اور اپنے ہونٹوں سے اسکے شولڈر پر مہر ثبت کی۔۔۔۔ جب ارتضیٰ نے اپنی شرٹ اتاری تو تعبیر کو لگا آج نہ اس کا احتجاج کام آئے گا نہ منتیں۔۔۔۔۔ کیوکہ ایک کے بعد ایک ارتضیٰ کی بڑھتی ہوئی جسارتوں نے تعبیر کی زبان کو گنگ کردیا۔۔۔۔ ارتضیٰ اس کو اپنی بانہوں میں قید کیے دیوانہ وار اس کے جسم کی خوشبو اپنی سانسوں کے زریعے اپنے اندر اتار کر اپنی محبت کی چھاپ اس پر چھوڑے دے رہا تھا۔۔۔۔ اس کی بے باکیوں پر شرما کر تعبیر نے اپنی انکھیں بند کی ہوئی تھی مگر وہ اپنے اوپر اس کے ہونٹوں کے لمس سے اس کی شدتوں کا اندازہ خوب لگا سکتی تھی

ارتضیٰ اس وقت اپنے دماغ کے سارے پلانز، ،، تعبیر کا احتجاح سب کو ایک سائیڈ پر رکھتا ہوا صرف اپنے دل کی بات سن رہا تھا کیونکہ اس وقت اس کے دل کو اسنووائٹ کی طلب تھی اور یہ طلب بے معنی بھی نہیں تھی۔۔۔ وہ اس کی تھی، ،، اس کے نکاح میں،، حق رکھتا تھا وہ اپنی بیوی پر۔۔۔ پھر بھلا کیوں وہ اپنے آپ کو روکتا۔۔۔۔

آج دوپہر تعبیر کی کیفیت اور چار دن سے اس کی حالت کو دیکھ کر ارتضیٰ نے سوچ لیا تھا وہ اپنے اور تعبیر کے رشتے کو نام تو دے چگا ہے اب پہچان بھی دے گا

"آئی لو یو۔۔۔ میری محبت ہو تم،، میرے دل کی اولین خواہش،، میری ترجیحات میں سے ایک،، میری زندگی،،، مجھ سے یا میری محبت سے کبھی بھی بدگمان نہیں ہونا۔۔۔۔ میرا دل صرف تمہارے قرب کا طلبگار ہے۔،۔۔۔ طلب بھی ایسی جو پاس آ کر بھی کبھی ختم نہ ہو"

ارتضیٰ اپنی سلگتی ہوئی سانسوں کو تعبیر کی تیز ہوتی سانسوں میں منتقل کرنے کے بعد اب اپنی تمام شدتیں اس کے وجود میں منتقل کرتے ہوئے اس کے کان میں بول رہا تھا

****


تعبیر نے کروٹ لی تو ایک انوکھا سا درد اس کے پورے بدن میں سراہیت کر گیا جس سے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔ اپنے برابر میں دوسری سمت کروٹ لئے سوتے ہوئے ارتضیٰ پر اس کی نظر پڑی۔۔۔ اس نے خود پر گردن تک چادر اڑھتے ہوئے اپنے آپ کو چھپا لیا۔۔۔ پہلے جب جب ارتضیٰ اس کے قریب آتا تو تعبیر اس کی خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کرتی تھی۔ ۔۔۔ مگر آج وہی خوشبو اسے اپنے اندر سے آتی محسوس ہورہی تھی 

کل رات ارتضیٰ نے جس طرح بے باک انداز میں اپنی شدتوں کا اظہار کیا وہ ارتضیٰ سے تو کیا خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی،،، گردن موڑ کر اس نے پھر ایک بار ارتضیٰ کو دیکھا وہ ابھی بھی دوسری طرف منہ کئے سو رہا تھا۔۔۔۔ بیڈ کے سرہانے ارتضیٰ کی شرٹ کے ساتھ اس کا دوپٹہ رکھا ہوا تھا تعبیر نے اپنا دوپٹہ اٹھا کر اسے پھیلا کر اوڑھا اور بالوں کو پیچھے کر کے انہیں کیچر میں مقید کیا۔۔۔ بیڈ سے نیچے اتری تو اس کی نظر ارتضیٰ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھے والٹ کے پاس رکھے موبائل پر پڑی۔۔۔وہ ارتضیٰ کی سائڈ پر آئی اور موبائل اٹھایا

"تم سے ان لاک نہیں ہوگا اس میں پاسورڈ ہے"
ارتضیٰ کی آواز پر وہ سہم گئی۔۔۔

ارتضیٰ اٹھ کر بیٹھا اس کا موبائل والا ہاتھ پکڑا،،، اپنے دوسرے ہاتھ سے موبائل لے کر واپس رکھ کر تعبیر کو اپنے پاس بٹھایا

"وہ میں نشا سے بات کرنے کا سوچ رہی تھی"
تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے نروس کیوں ہو رہی ہے۔۔ نظر جھکاتے ہوئے بتانے لگی

"کونسی بریکنگ نیوز دینی تھی نشا کو"
ارتضیٰ نے گہری نظروں سے اس کو دیکھ کر سوال کیا اس کا نروس ہونا ارتضیٰ کی آنکھوں سے چھپا ہوا نہیں تھا،، ارتضیٰ کے سوال پر وہ خاموش رہی

"کل لے جاو گا تمہیں نشاء کے پاس۔۔۔ مگر جب تم میرے پاس ہو تو صرف میرے بارے میں سوچا کرو"
ارتضیٰ نے اس کو بانہوں میں بھر کر واپس بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہا

"مزمل کافی ٹائم ہوگیا ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہیے"
ارتضیٰ کو واپس کل رات والے روپ میں آتا دیکھ کر تعبیر نے کہا

"چلے جائے گے یار تھوڑی دیر میں۔۔۔ اس وقت مجھے اپنے آپ کو محسوس کرنے دو"
بولنے کے ساتھ ہی وہ تعبیر کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائے ہوئے اس کا چہرہ اونچا کر کے اس کی گردن پر جھک چکا تھا۔۔۔

"مزمل مجھے پیاس لگی ہے"
تعبیر کا حلق خشک ہونے لگا۔ ۔۔۔ وہ تو ابھی تک اس کی کل رات والی جسارتوں سے ہی نہیں سنمبھل پائی تھی۔۔۔۔ اور ارتضیٰ اس کے دوبارہ ہوش ٹھکانے لگانے کے موڈ میں تھا۔۔۔۔ تعبیر کی آواز پر ارتضیٰ نے اپنا سر اٹھا کر تعبیر کو دیکھا

"پیاس تو مجھے بھی بہت لگی ہے،،، کل رات سے تشنگی اب مزید بڑھ گئی ہے۔۔۔ طلب ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اب بچارا یہ باڈی گارڈ بھی کیا کرے"
ارتضیٰ نے مدہوشی میں کہتے ہوئے اس کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ ۔۔۔۔

ایک ہاتھ اسکی کمر کے نیچے رکھ کر،، دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسائے وہ دوبارہ اسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کر کے اپنی تشنگی بجھا رہا تھا۔ ۔۔۔ تعبیر ایک بار پھر اسکی بانہوں میں قید اپنی سانسوں کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پا رہی تھی کبھی ارتضیٰ کی بے باکیوں پر تعبیر کی سانس تھمنے لگتی۔۔۔ تو کبھی اس کی شدتوں میں اضافے کے باعث اس کی سانسوں کی رفتار میں بھی اضافہ ہونے لگتا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment