Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 33

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 33



صبح ہی اریش اور مشعل اکا اور فرید کو ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے گئے تھے۔۔۔ واپسی پر مشعل کافی بجھی بجھی لگ رہی تھی ہانی بھی اکا کے جانے سے اداس تھا مگر اریش نے اسے باتوں میں لگا کر پھر بہلا لیا مگر ہانی کی مما تھوڑا مشکل ٹاسک تھی۔۔۔
تین دن سے وہ افس بھی نہیں جا رہا تھا لہٰذا مشعل اور ہانی کو گھر ڈراپ کر کے
وہ آفس نکل گیا۔۔۔

اور جب وہ آفس سے واپس آیا تو جلدی تیار ہونے کا شور مچا دیا

"ڈیڈ ہانی اور مما کو کہاں لے کر جا رہے ہیں"
ڈرائیونگ کرتے ہوئے اریش سے ہانی نے سوال کیا

"پہلے شاپنگ کریں گے اس کے بعد ڈیڈ
ہانی اور مما باہر ڈنر کریں گے پھر لونگ ڈرائیو پر خوب گھومیں گے"
اریش کے پروگرام پر جہاں ہانی نے خوش ہو کر یاہو کا نعرہ لگایا وہی مشعل اریش کو دیکھنے لگی

"کیا ہوا پروگرام پسند نہیں آیا"
اس نے مشعل کے دیکھنے پر اس سے پوچھا

"آپ آفس سے تھکے ہوئے آئے تھے آپ کو ریسٹ کرنا چاہیے یہ پروگرام ویک اینڈ پر رکھ لیتے"
مشعل نے اریش کا خیال کرتے ہوئے کہا

"ہانی کے ڈیڈ تو سپر مین ہیں وہ کبھی نہیں تھکتے" ہانی نے مشعل کو بتایا جس پر اریش مسکرایا

"تم دونوں کو صبح اداس گھر چھوڑ کر گیا تھا گھر آکر بھی اگر ادا دیکھتا تو تھکن مزید بڑھ جاتی اور ابھی میں کہاں سے تھکا ہوا لگ رہا ہوں"
مشعل نے اریش کے چہرے کو دیکھا واقعی اس پر تھکن کے آثار کہیں نہیں تھے تھوڑی دیر میں ان کی گاڑی شاپنگ مال کے پاس رکی

جہاں سے ہانی کے ڈھیر سارے کپڑے اور ٹوائیز لیے۔۔۔ اس کے بعد لیڈیز بوتیک سے مشعل کو اپنے لیے کپڑوں کے سلکشن میں مسئلہ ہو رہا تھا سارے ڈریس ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے وہ سوچ میں پڑ گئی کیا لے اپنے لیے مگر یہ مسئلہ بھی ہانی اور اس کے ڈیڈ نے حل کر دیا

"مشعل یہ والا ڈریس دیکھو تم پر بہت سوٹ کرے گا" آریش ریٹ اور بلیک کمبینیشن کا ڈریس مشعل کو دکھاتے ہوئے بولا تو مشعل نے اس کو گھور کر دیکھا

"اب تک 7 سے 8 ڈریس ہانی ڈن کر چکا ہے آپ یہ چھوتھا ڈریس لے کر آئے ہیں اب بس کریں،، میں ایک بندی اتنے سارے کپڑوں کا کیا کروں گی کب پہنوں گی" مشعل نے اریش کو حیرت سے دیکھ کر پوچھا

"اس میں اتنی ٹینشن کی کیا بات ہے دن میں تم ہانی کے سلیکٹ کیے ہوئے کپڑے پہنا کرنا اور رات میں ہانی کے سونے کے بعد میری پسند کے"
آنکھوں میں شرارت لئے اریش نے مشعل سے کہا تو اس نے اریش کو گھور کر دیکھا

"شرافت سے آپ دونوں باپ بیٹے یہاں سے نکلے اب،، بس بہت ہوگئی شاپنگ"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر کہا ہانی ٹرالی میں اپنے شاپنگ کئے ہوئے کپڑے اور ٹوائز رکھ کر ٹرالی دوڑانے میں مصروف تھا

"اوکے چلتے ہیں یار یہ والا ڈریس ٹرائے کر لو میری خاطر" اریش کے کہنے پر وہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی اس کے بعد میں مشعل نے اپنی پسند سے اریش کے لیے دو آفس کی شرٹ لیں پھر وہ لوگ فارغ ہوکر ریسٹورینٹ پہنچے

وہ تینوں ریسٹورینٹ میں بیٹھے ہوئے ڈنر کر رہے تھے تب اریش کی آفس ورکر ان کے پاس آئی

"السلام علیکم سر کیسے ہیں آپ"
سحر نے اریش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

"وعلیکم سلام مس سحر میں ٹھیک ہو، کیسی ہیں آپ" اریش نے سحر کو دیکھ کر پوچھا

"میں بھی ٹھیک ہوں غالبا یہ آپ کے مسسز اور بیٹا ہے" سحر نے مسکرا کر مشعل کو دیکھا تو مشعل بھی مسکرا دی وہ باتوں سے سمجھ گئی کہ اریش کے آفس کی ورکر ہے

"جی یہ میری مسسز اور بیٹا ہے،، مشعل یہ ہمارے آفس کی بہت رسپانسبل ورکر ہیں۔۔ سحر آپ بھی ہمہیں جوائن کریں" مشعل سے تعارف کرانے کے بعد اریش نے سحر کو مخاطب کیا

"ارے نہیں سر میں یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہوئی ہوں،، آپ لوگوں کو دیکھا تو سوچا مل لو،، چند دن پہلے بھی آپ بھابھی کے ساتھ دو دریا آئے تھے تب دور سے آپ دونوں کو دیکھا تھا مگر اپ جلدی چلے گئے تو اس لیے آپ لوگوں سے ملاقات نہیں ہو سکی۔۔۔۔ آپ لوگ میرے گھر پر آئے گیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی" سحر دعوت دیتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر وہاں سے چلی گئی

سحر کی باتوں پر مشعل کی نا صرف چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوئی بلکہ بھوک بھی اڑ گئی وہی اریش کو دو دریا پر تعبیر اور اپنی ملاقات یاد آئی اس کا دل چاہا وہ جاکر ارتضیٰ کا گلہ ہی دبادے۔ ۔۔ اریش مشعل کا رویہ نوٹ کر چکا تھا۔۔۔۔ ہانی کھانا کھانے میں مگن تھا وہ کبھی مشعل کی پلیٹ سے کھانا کھا رہا تھا تو کبھی اریش کی پلیٹ سے

"کب تک چلنا ہے گھر"
مشعل نے سنجیدگی سے اریش سے پوچھا

"پہلے کھانا تو کھالو اریش اس نے ایک پلیٹ کی طرف اشارہ کیا

"گنجائش نہیں ہے اب اور"
وہ ہانی کے ہاتھ ٹشو سے صاف کرتی ہوئی بولی

"ہانی ابھی آئسکریم بھی کھائے گا"
ہانی نے چلنے کا سن کر اپنا پروگرام بتایا

"ہانی آج اوور ایٹنگ ہوگئی ہے آئسکریم پھر کبھی، گھر چلنا ہے اب"
مشعل نے ہانی کو ٹوکتے ہوئے کہا جب کہ اریش چپ کر کے مشعل کو دیکھ رہا تھا

"مما ہانی کا دل چاہ رہا ہے"
ہانی نے منہ بنا کر کہا

"مشعل آپ جاکر کار میں بیٹھے میں اور ہانی آراہے ہیں"
اس سے پہلے مشعل۔ کچھ ہانی کو بولتی اریش بیچ میں بول اٹھا اور کار کی کیز مشعل کی طرف بڑھائی جسے مشعل تھام کر باہر نکل گئی

"یار یہ ہانی کی مما کو غصہ بہت جلدی آتا ہے"
اریش نے ہانی سے کہا اور اس کے لیے آئس کریم پیک کرانے لگا

"ڈیڈ،، ہانی کی مما بہت پیاری ہیں آپ انہیں پیار کریں گے وہ سب غصہ بھول جائے گیں"
معصوم ہانی نے اپنے تجربے کی بناء پر اریش کو مشکل کا حل بتایا تو اریش ہنسا

"چلو گھر جا کے ٹرائے کرو گا"
ایک ہاتھ میں آیسکریم پیگ لیے دوسرے ہاتھ میں ہانی کا ہاتھ تھامے وہ گاڑی کی طرف چل دیا

****

"کب تک منہ پھلائے رکھنے کا ارادہ ہے" تھوڑی دیر پہلے ہی اریش نے سوئے ہوئے ہانی کو اس کے بیڈ پر لٹایا تھا جو انہی کے روم میں موجود تھا مشعل کے برابر میں لیٹ کر اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا

"سو جائیں اریش آپ کو صبح آفس کے لئے دیر ہو جائے گی"
مشعل نے اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتے ہوئے کہا

"یعنی نہ ہی خود سوال کرنا ہے نہ ہی دوسرے کو وضاحت کا موقع دینا ہے،،، کہ بندہ اپنی صفائی میں کچھ بول لے"
اریش نے اس کے اوپر جھگتے ہوئے کہا

"انسان کو ایسے کام کرنے ہی نہیں چاہیے جن کی وجہ سے بعد میں اس کو وضاحت دینا پڑے"
مشعل کے سنجیدگی سے بولنے پر اریش مسکرایا

"مشعل میں ایک فیئر انسان ہو اور فیئر طریقے سے اپنی زندگی گزارنے کا عادی ہوں۔۔۔ میرے خیال میں ان دو مہینوں میں تمہیں میری عادتوں کا اور نیچر کا اندازہ ہوگیا ہوگا۔۔ بے شک ہم دونوں اس مقدس بندھن میں بندھے ہوئے زیادہ دن نہیں گزرے مگر کیا اس سے پہلے تم نے کسی لڑکی کو میرے گھر آتے دیکھا یا کوئی ایسی حرکت جس سے میری شخصیت کا منفی پہلو تمہارے سامنے آیا ہوں۔۔۔ وہ ارتضیٰ کی وائف تھی تعبیر،، جس کا ذکر سحر کر رہی تھی۔۔۔ ارتضیٰ کے کہنے پر ہی میں اس سے ملا تھا اور کیا وجہ تھی یہ میں تمہیں اس لیے نہیں بتاؤں گا کیوکہ اس معاملے سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔ یہ میں تمہیں وضاحت نہیں دے رہا صرف اس لئے بتا رہا ہوں کیوں کہ تم میری بیوی ہو اور تمہارے دل میں اپنی شوہر کو لے کر کوئی بد گمانی نہ آئے"
اریش کی بات پر مشعل نے اطمینان کا سانس لیا

"اریش میں کسی لڑکی کا سوچ کر آپ پر شک نہیں کر رہی ہو اتنی بے وقوف میں ہرگز نہیں ہوں کے اچھے برے کی پہچان نہ کر سکو۔۔ وقت نے یہ پہچان کرنا مجھے اچھے طریقے سے سکھا دی ہے مجھے بس اپنے علاوہ کسی اور لڑکی کو آپ کے ساتھ سوچ کر برا لگ رہا تھا ویسے بھی اپنے علاوہ کسی دوسری لڑکی کا ذکر سن کر کوئی بھی بیوی جیلس ہو سکتی ہے"
اب کے مشعل کے کہنے پر اریش مسکرایا اور اس کے دل میں بھی اطمینان اترا

"تمہیں معلوم ہے آج تم کتنی پیاری لگ رہی تھی"
اریش نے اس کی گردن پر جھکتے ہوئے کہا تو مشعل نے اسکو پیچھے ہٹایا

"مجھے معلوم ہے کہ میں آپ کو ہر روز پیاری لگتی ہو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے اور ابھی تو بالکل بھی نہیں،،، چپ کر کے سوجائیں ورنہ صبح آفس کے لیے لیٹ ہو جائیں گے"
مشعل کے کہنے پر اریش زور سے ہنسا

"اف اریش ہانی ابھی اٹھ جائے گا"
مشعل نے آنکھیں نکال کر اریش کو گھورا تو اریش مشعل کا سر اپنے سینے پر رکھ کر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرلی

****

"کیا ہوا یہ کھانا واپس کیوں لے کر جا رہے ہو"
ارتضیٰ تعبیر کے بیڈروم میں جا رہا تھا تو خانساماں کھانے کی ٹرے واپس لے کر جا رہا تھا ارتضیٰ نے اس سے پوچھا

"بی بی جی نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا ہے صاحب،، وہ کل رات سے بھوکی ہیں ابھی بھی کھانے سے انکار کردیا"

کل نکاح کے بعد سے وہ ابھی تک تابی سے نہیں ملا تھا
نکاح کے وقت تعبیر کی جو ذہنی کیفیت تھی اس کی پیشِ نظر ارتضیٰ کو اس کو چھیڑنا مناسب نہیں لگا اس لیے وہ رات میں بھی تعبیر کے پاس روم میں نہیں آیا

"ٹھیک ہے لاو یہ مجھے دو تم جاؤ"
ارتضیٰ اس کے ہاتھ سے کھانے کی ٹرے لے کر تعبیر کے بیڈروم میں آیا تو تعبیر بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی سامنے دیوار پر نسب ایل ای ڈی آن تھا مگر تعبیر کی نظریں اسکرین کی بجائے ٹیرس کے دروازے پر تھی

"کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہوں"
ارتضیٰ نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے تعبیر سے پوچھنا

"مجھے کچھ بھی نہیں کھانا ہے تم میرے روم سے چلے جاؤ"
تعبیر نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا تو ارتضیٰ نے بیڈ پر اس کے پاس بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر رخ اپنی طرف کیا

"مجھ سے اور اپنے بابا سے ناراضگی ہے نا کھانے کا کیا قصور ہے۔۔ شاباش اچھے بچوں کی طرح کھانا کھاؤ" ارتضیٰ نے نرمی سے کہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے نوالا بنا کر اس کی طرف بڑھایا تعبیر نے ایک نظر ارتضیٰ کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا اور کھانے کی ٹرے اٹھا کر پوری قوت سے دیوار پر ماری

"تعبیر یہ کیا حرکت ہے"
ارتضیٰ کو اس کے اتنے شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی تبھی وہ ناراص ہوتا ہوا بولا

"تمہارے بیچے گئے اسلحہ سے جو بے گناہ لوگ مرتے ہیں نا ان کے خون کی بدبو آرہی ہے مجھے اس کھانے سے۔۔۔ نکل جاؤ میرے روم سے"
تعبیر بیڈ سے اٹھ کر چیختی ہوئی ارتضیٰ کو دھکا دینے لگی۔۔۔۔

"تعبیر میری بات سنو پلیز"
ارتضیٰ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے بانہوں میں لیے سنبھالنے لگا کیوکہ ایک دفعہ پھر اس پر جنونی کیفیت طاری ہوچکی تھی جب اس کا ارتضیٰ پر زور نہیں چلا تو تعبیر نے اسی کی بانہوں میں بکھر کر زور زور سے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔ شاید یہ کل والا غبار تھا جو اس نے زبردستی نکاح نامے پر سائن کر کے اپنے اندر بھر لیا تھا۔۔۔۔

"تعبیر یہاں دیکھو میری طرف پلیز،،، کبھی کبھی جو ہمہیں دکھ رہا ہوتا ہے ویسا نہیں ہوتا۔۔۔ تمہارا مزمل غلط نہیں ہے یقین کرو میرا"
ارتضیٰ سے اس کی حالت دیکھی نہیں گئی اس لیے وہ بول  اٹھا مگر وہ پورا سچ اسے ابھی بھی نہیں بتا سکتا تھا کم ازکم تب تک نہیں جب تک اس کا مشن مکمل نہ ہوجائے

"یقین کرو تمہارا کیسے۔۔۔۔ کیسے یقین کروں۔۔۔۔ کیسے غلط نہیں ہو تم،،، میری آنکھوں نے جو دیکھا ہے تم اسے جھٹلا رہے ہو بولو"
تعبیر ارتضیٰ کا گریبان پکڑ کر دیوانہ وار چیختے ہوئے بولی

"کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹا ہوتا ہے مگر میں تمہیں اس وقت نہیں سمجھا سکتا پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کرو اس وقت میں اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کر رہا ہوں،،، تم پلیز خود کو اذیت دے کر مجھے تکلیف میں مبتلا مت کرو" ارتضیٰ تعبیر کو دوبارہ گلے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔

تعبیر کو اس کی باتیں تو سمجھ میں نہیں آئی مگر اسے پورا کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوا وہ ارتضیٰ کی بانہوں میں اپنے وجود کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے بے ہوش ہوگئی

"تعبیر۔۔۔ تعبیر"
ارتضیٰ نے اس کو بیڈ پر لٹایا اس کی نبض چیک کر کے ڈاکٹر کو کال کی


"مسلسل ذہنی ٹینشن، دباؤ اور کچھ نہ کھانے کی وجہ سے انہیں ویکنس ہوگئی ہے یہ دوائیائے لکھ کر دے رہا ہوں مگر ان سے زیادہ انہیں کیئر کی ضرورت ہے"
ڈاکٹر نے ارتضیٰ کو پرچہ پکڑاتے ہوئے کہا

تعبیر کے بے ہوش ہونے کے بعد ارتضیٰ نے فوراً ڈاکٹر کو بلا لیا تھا وہاج بھی اس وقت اسی کے روم میں موجود تھا

****

"میرے خیال میں تم تعبیر کو لے کر کچھ دنوں کے لیے کہیں گھومنے پھرنے چلے جاؤ،، اس طرح اس کے دماغ پر اور طبیعت پر اچھا اثر پڑے گا"
ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہاج نے تعبیر کی حالت کے پیش نظر ارتضیٰ کو مشورہ دیا

"میرا بھی یہی خیال ہے کچھ دنوں کے لیے تعبیر کو کہیں لے کر چلا جاؤ مگر پیچھے ہتھیاروں کی سپلائی آپ اکیلے کیسے سب کیسے ہینڈل کریں گے" تعبیر کو دیکھتے ہو یہ مشورہ اچھا تھا کیونکہ وہ یہاں رہتی اس کا دماغ انہی باتوں میں الجھا رہتا مگر ارتضیٰ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی ڈیلنگ وغیرہ ہو

"ٹھیک ہے پھر ہفتے دس دن کے اندر ہی میں اپنے سارے کلائنٹس کو بلاتا ہوں اس کے بعد تم تعبیر کو لے کر تھوڑے دنوں کے لیے باہر چلے جانا"
وہاج کہتا ہوں اپنے روم میں چلا گیا

ارتضیٰ بھی یہی چاہتا کہ جلد از جلد یہ ڈیلینگ کا مرحلہ آئے اور وہ ان لوگوں کو اور ان میں ملوث تمام لوگوں کو ایکسپوز کرے یہی اس کا مشن تھا جس کے مکمل ہونے پر وہ تعبیر کو لے کر یہاں سے چلا جاتا۔۔۔۔ بیڈ روم کی لائٹ بند کرتا ہوا وہ بھی بیڈ پر لیٹ گیا



جاری ہے

0 comments:

Post a Comment