Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 32

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 32




"اچھا نہیں ہوا ہے یہ، جو بھی ہوا"
وہاج کے بولنے پر ارتضیٰ نے تاسف سے تابی کو دیکھا جو بیڈ پر آڑھی تھرچھی لیٹی ہوئی تھی۔۔۔  وہاج تابی کے بیڈ روم سے باہر نکلا ارتضیٰ بھی تعبیر کا موبائل اپنے ہاتھ میں لے کر وہاج کے پیچھے آیا اور بیڈروم کا دروازہ لاک کیا

"ابھی تعبیر شاک میں تھی جبھی اس کا یہ ری ایکشن تھا صبح تک نارمل ہو جائے گی"
ارتضیٰ نے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ سانپ میں اور بے ضمیر لوگوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا دونوں ہی اپنے اولاد کو نگل سکتے ہیں

"اس کا ٹھیک ہونا اور ہمارے قابو میں ہونا بہت ضروری ہے مزمل۔۔۔ میں اس کے اوپر زیادہ سختی نہیں برتنا چاہتا مگر میرے خلاف جا کر وہ پولیس کو یا کسی اور کو انفارم کریں میں یہ بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔ اولاد ہے وہ میری اس کی لگامیں نہ کھینچی تو کل کو میرے لئے مسئلہ ہو سکتا ہے اور ظاہری بات ہے میں اپنے لیے کوئی خطرہ بھی نہیں مل لینا چاہتا"
وہاج ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولا

"آپ تعبیر کی فکر نہیں کریں سر میں اسے سنبھلوں گا" ارتضیٰ کے کہنے پر وہاج نے غور سے اسے دیکھا۔۔۔ وہاج کو لگا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے یقیناً تابی اس کی بات سمجھے گی اور مانے گی بھی مزمل اسے آرام سے ہینڈل کر لے گا

"ٹھیک ہے پھر سیٹرڈے کی منگنی کا پروگرام کینسل،، کل دوپہر تک مولوی کا ارینج کرو کل تمہارا تعبیر سے نکاح ہے تاکہ میرے سر پر یہ اچانک آنے ٹینشن ختم ہو"
وہاج کہتا ہوا خود کو ریلیکس کر کے اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔ ارتضیٰ نے اس عظیم باپ کو حیرت سے دیکھا یعنی اپنی بیٹی کو ٹینشن سمجھ کر اس نے دوسرے کے سر پر مسلط کرنا ضروری سمجھا اور خود پر سکون ہوگیا،، ارتضیٰ کو وہاج کی سوچ پر افسوس ہوا

"ارتضیٰ دوبارہ تعبیر کے روم کا لاک کھول کر روم کے اندر آیا جہاں تعبیر بے ہوش پڑی تھی اسے تعبیر کو دیکھ کر اور بھی دکھ ہوا اس کے پاس ایک خونی رشتہ تھا مگر وہ بھی صرف نام کا

ارتضیٰ نے تعبیر کی ڈھلکی ہوئی گردن کو تکیہ پر رکھ کر اس کے چہرے اور گردن سے بال ہٹائے۔۔۔ تعبیر کے چہرے پر آنسوؤں کے نشان خشک ہوگئے تھے مگر وہاج کی انگلیوں کے نشان ابھی تازہ تھے ارتضیٰ نے اپنے ہونٹ تعبیر کے گال پر رکھے۔۔۔۔ اس کی نظر ہالف سلیو سے چھلکتے دودھیا بازو پر گی جہاں ابھی اس نے انجکشن لگایا تھا

"سوری"
زیر لب بول کر ارتضیٰ اس کا بازو کو نرمی سے سہلانے لگا اور اس کے چہرے کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر اس نے روم کی لائٹ بند کی اے۔سی کی کولنگ سے کمرہ ٹھنڈا ہوچکا تھا ریموٹ سے کولنگ کم کر کے وہ بیڈ پر تعبیر کے برابر میں لیٹ گیا

جب وہاج نے اپنی ٹینشن اتار اس کے اوپر پھینکی تھی تو پھر اسے کس بات کی ٹینشن تھی اسنووائٹ تو ویسے بھی اسی کی تھی۔۔۔ اس کی محرم،، آنکھیں بند کر کے وہ کل آنے والے دن کے لئے سوچنے لگا

کل نکاح خواں کا ارینج کرنا تھا کیا تعبیر اب مزمل سے نکاح کرنے پر راضی ہو جائے گی اس نے لیپ کی مدہم روشنی میں تعبیر کو دیکھتے ہوئے سوچا اور اگر وہ راضی نہیں ہوئی تو وہاج اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کرے گا یہ سوچ آتے ہی اس نے تعبیر کے سوئے ہوئے وجود کو اپنی طرف کھینچ کر اپنے حصار میں لیا اس کا سر اپنے سینے پر رکھ کر وہ کل کے دن کے لیے خود کو تیار کرنے لگا

****

تعبیر کی صبح آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ارتضیٰ کی بانہوں میں سوتے پایا اس کا سر ارتضیٰ کے سینے پر تھا اور ارتضیٰ کا ہاتھ اسکی کمر کے گرد۔۔۔۔ تعبیر کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ فوراً اٹھ بیٹھی اور بے یقینی سے ارتضیٰ کو دیکھنے لگی،،،

اس کے اٹھنے پر ارتضیٰ کی بھی آنکھ کھل گئی تعبیر کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر کے وہ خود بھی اٹھ کے بیٹھا

"کیسی ہو جانِ مزمل"
ارتضیٰ نے مسکرا کر اپنے ہاتھ سے اس کا گال چھونے کی کوشش کی جسے تابی نے اپنے ہاتھ سے جھٹک کر اس کا ہاتھ پیچھے کیا

"تم میرے بیڈروم میں میرے بیڈ پر کیا کر رہے ہو"
تابی نے ابھی بھی بے یقینی کی کیفیت میں اس کو دیکھ کر پوچھا

"میں تمھارے بیڈ روم میں تمہارے بیڈ پر تمہارے ساتھ سو رہا تھا"
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے نارمل سے انداز میں جواب دیا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہ ہو۔۔۔ آج اس نے اس کا بیڈ شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ سے تم پر آنے کی گستاخی بھی کی تھی

"کس حق سے" تعبیر نے غصے میں اس سے پوچھا اسے کم سے کم مزمل سے اتنی بے باکی کی امید ہرگز نہیں تھی مگر امید تو اسے اپنے باپ سے اور اپنی محبت سے بھی اس بات کی نہیں تھی جو کہ وہ کل رات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی

"حق کی بات مت کرو میری جان اس حق کے چکر میں مزمل تمہیں اب تک بہت رعایت دے چکا ہے"
ارتضیٰ ہنستا ہوا بیڈ سے اٹھ کر بولا

"تم میرے ساتھ سوئے تم نے میرے ساتھ کچھ الٹا سیدھا"
تعبیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا مگر آگے کیا پوچھتی چپ ہوگئی اس کی بات سن کا ارتضیٰ جو کہ بیڈ روم کے دروازے سے باہر جا رہا تھا پلٹ کر اس کو دیکھتا ہوا اس کے پاس آیا

"کل رات میں نے تمہارے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہیں کیا۔۔ اگر کچھ الٹا سیدھا کیا ہوتا تو جانِ مزمل تم میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہرگز بات نہیں کر رہی ہوتی۔۔۔۔ اپنے منہ زور جذبات کو تو میں کل رات کو قابو کر گیا کیوکہ تم ہوش میں نہیں تھی اور میں تمہارے ہوش،،، ہوش میں ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتا ہوں"
ارتضیٰ اسکے نزدیک آ کر اس پر جھکتا ہوا کہنے لگا

"میں تمہارے کرتوت بابا کو بھی بتا سکتی ہو مزمل،، تم سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تم"
تعبیر غصے میں بول رہی تھی کہ ارتضیٰ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی

"ششش آواز نہیں،،، نیچی آواز کر کے بات کرو۔۔۔ باڈی گارڈ نہیں ہوں اب میں تمہارا اور میرے کرتوت اپنے باپ کو بتانے سے پہلے یہ بات اچھی طرح جان لو کہ کل رات تمہارا باپ اپنی مصیبت میرے سر ڈال کر خود ریلیکس ہو چکا ہے نکاح ہے آج ہمارا تیار رہنا"
ارتضیٰ کمرے سے جانے لگا تعبیر بغیر ہل جول کے اسے جاتا دیکھنے لگی۔ ۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے ارتضیٰ نے مڑ کر اسے دیکھا اس کے پاس آیا

"ابھی ان کو سنبھال کر رکھو بہت ضرورت پڑنے والی ہے"
ارتضیٰ نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔تعبیر کے آنسو دیکھ کر وہ فی الحال وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا

"کیا۔۔۔۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہوں میڈم کل رات صرف تمہیں تمہارے باپ اور مزمل کی حقیقت پتہ چلی ہے۔۔۔ باقی کچھ بھی نہیں بدلا تم مصیبت صرف اپنے باپ کے لیے ہو مزمل کے دل میں تم آج بھی دھڑکن بن کر دھڑکتی ہو یقین نہیں آتا"
ارتضیٰ نے تعبیر کا ہاتھ تھام کر اپنے دل پر رکھا جو تابی نے آہستہ سے پیچھے کر لیا

"کل رات بہت کچھ بدل گیا ہے مزمل اب شاید تابی محبت کرنا ہی بھول جائے"
تعبیر کا دل ہی تو ٹوٹ گیا تھا اپنے باپ اور محبت کا یہ روپ دیکھ کر

"کچھ نہیں بدلا تم صرف نکاح کے لیے خود کو تیار کرو محبت تمہیں دوبارہ تمہارا مزمل کرنا سکھا دے گا" ارتضیٰ نے تعبیر کے گال تھپتھپا کر کہا

"اور اگر میں نکاح سے انکار کر دو تو" تعبیر نے مزمل کو دیکھ کر بیڈ سے کھڑے ہوتے ہوئے سوال کیا

"اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا،، نکاح صرف تمہاری سیٹیسفیکشن کے لیے ہو رہا ہے وہاج سر کو تو تم سے کوئی سروکار نہیں ہے انہوں نے تمہیں میرے حوالے کر دیا ہے میں جیسا برتاؤ کرو وہ کچھ نہیں بولیں گے مگر میں تو اپنی میڈم سے صرف پیار کرنا جانتا ہوں نکاح کی شرط لازمی نہیں میرے لیے نہ ہی کوئی پابندی"
ارتضیٰ نے کیا اسے خود سے قریب کیا اور اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھے تو تعبیر بری طرح اس کی بانہوں میں تڑپ اٹھی

"مزمل چھوڑو مجھے پلیز"
تعبیر رونے لگی

"تو میری جان نکاح نامے پر بغیر کسی ڈرامے کے سائن کر دینا کیونکہ آج رات میرا تمھارے بیڈ روم میں نہ خود سونے کا پروگرام ہے اور نہ میں تمہیں سونے دونگا۔۔ اب یہ چوائس تمہاری ہے جائز بندھن میں بند کر مجھے اپنے قریب آنے دینا ہے یا ویسے ہی"
تعبیر کو اپنے حصار میں لیے وہ اس کے کان کے قریب قطرہ قطرہ زہر لفظوں کے ذریعے اس کے اندر اتار رہا تھا اور پھر تعبیر کو روتا ہوا چھوڑ کر اس کے روم سے چلا گیا و

****

دوپہر 4 بجے کے وقت نکاح خواں ارتضیٰ ہی لے کر آیا وہاج کے علاوہ اس کے دو تین دوست اور گھر کے نوکروں کی موجودگی میں ارتضیٰ نے نکاح نامے پر سائن کیے جب تعبیر کے پاس نکاح خواہ لڑکی کی آمادگی کے لیے جانے لگا تو ارتضیٰ نے نکاح نامہ اس سے لے لیا

"میں سائن کروا لیتا ہو"
ارتضیٰ اٹھنے لگا

"تابی کی رضامندی بھی پوچھنی ہوگی وکیل کو ساتھ لے جاؤ"
وہاج نے ارتضیٰ کو جاتا ہوا دیکھ کر کہا

"وہ راضی ہے اس فارمیلیٹی کی ضرورت نہیں میں آتا ہوں سائن کروا کے"
ارتضیٰ وہاج کے پاس رک کر سنجیدگی سے کہتا ہوا دوبارہ چلا گیا اب کے وہاج کچھ نہیں بولا

"تعبیر سائن کرو اس پر جلدی سے" ارتضیٰ مصروف انداز میں کہتا ہوں اس کے پاس آیا تابی اپنے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی سرخ آنکھیں اس بات کی گواہ تھی کہ وہ تھوڑی دیر پہلے کافی رو چکی ہے

"میں نے اپنی شکل دیکھنے کو نہیں کہا ہے سائن کرنے کو کہا ہے شاباش جلدی سے سائن کرو"
آنکھوں میں ڈھیر سارے شکوے لیے وہ اسی کو دیکھ رہی تھی تب ارتضیٰ بولا اور ہاتھ میں  پین پکڑایا

"مجھے نکاح قبول نہیں ہے میں سائن نہیں کروں گی"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا

"تابی سائن کرو نکاح نامے پر فورا" وہاج صدیقی کی آواز پر ان دونوں نے اس کی طرف دیکھا

"میں سائن نہیں کرو گی بابا،،، آپ میرے ساتھ اس طرح کیسے کر سکتے ہیں"
تعبیر کو رونا آنے لگا

"مزمل تمہاری ہی پسند تھا،، تمہاری دلی خوشی کے لیے میں اس سے تمہارا نکاح کر رہا ہوں اب جب سب باہر بیٹھے ہیں تم میری عزت کا تماشا نہیں بنا سکتی سائن کرو" وہاج صدیقی نے تابی کو دیکھ کر کہا ارتضیٰ کافی انجوائے کر کے اپنے سسر کو دیکھ رہا تھا جو خود اپنی بیٹی کو اس کے سپرد کرنے کے لیے اصرار کر رہا تھا

"میں اسے اچھا انسان سمجھتی تھی آپ کی طرح، مگر آپ دونوں اس قابل نہیں ہے کہ آپ دونوں سے کوئی رشتہ قائم کیا جائے" تابی آنسو صاف کرتی ہوئی بولی تو وہاج نے منی سائز کا پسٹل اپنی پاکٹ سے نکال کر اپنی کنپٹی پر رکھا

"صحیح ہے جب تمہیں اپنے باپ سے رشتہ قائم نہیں رکھنا،، تو میرے مرنے کے وقت،، میں اجازت نہیں دیتا کہ تم میرا چہرہ دیکھو"
وہاج کے بولنے پر اور کنپٹی پر پستول رکھنے پر تابی سکتے میں آگئی وہی ارتضیٰ نے اپنے سسر کی ایکٹنگ کو سراہا

"تعبیر نے چپ کر کے نکاح نامے پر سائن کیے"
کچھ بھی تھا جیسا بھی تھا وہ تابی کا باپ تھا وہ اپنی وجہ سے اپنے باپ کو خود خوشی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی سائن کرنے کے بعد اس نے تھکے ہوئے انداز میں بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگایا۔ ۔۔ اس نے اس دن کے کتنے خواب دیکھے تھے اور جب یہ دن اس کی زندگی میں آیا تھا تو اندر سے اس کا دل بالکل خالی سا تھا

"تھینک یو بیٹا تم دیکھنا تمہارا یہ فیصلہ آگے زندگی میں تمہارے لیے کتنا اچھا ثابت ہوگا مجھے یقین ہے مزمل تمہیں بہت خوش رکھے گا" وہاج صدیقی نے تابی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تو تعبیر نے سر اٹھا کر ایک نظر آپنے باپ کو دیکھا اور اس کے برابر میں مزمل جو مسکراتی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا ایک نظر اس پر ڈالی

"آپ دونوں اسی وقت میرے کمرے سے چلے جائیں" تابی نے بناء تاثر وہاج صدیقی کو دیکھ کر کہا تو اس نے ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا اور باہر نکل گیا اس کے پیچھے ارتضیٰ بھی نکاح کے پیپر ہاتھ میں لیے باہر نکل گیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment