🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 31
"اکا یہ فرید کیا کہہ رہا ہے آپ ایسے سوچ بھی کیسے سکتے ہیں"
مشعل نے اکا کے پاس آ کر بولا
"کیا سوچ لیا بھئی میں نے مجھے بھی تو کچھ خبر ہو"
اکا اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی مشعل کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"اب آپ ایسے انجان بننے کی ایکٹنگ نہیں کریں،، میں آپ کو بتا رہی ہوں آپ فرید کے ساتھ کہیں نہیں جا رہی" مشعل نے ناراض لہجے میں اکا سے کہا
"اوہو اس بات کو لے کر تم مجھ سے ناراض ہو رہی ہو،، ابھی فرید کو اور اس کی بیوی کو بھی میری ضرورت ہے بیٹا،، بینش کی طبیعت صحیح نہیں رہتی ہے۔۔۔ بچہ نہیں سنبھلتا اس سے اور میں کون سا ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں چکر لگاؤں گی نہ تمہارے پاس۔۔۔ ہانی کے لیے تو آنا پڑے گا اس کے بناء میرا کون سا دل لگے گا" آکا نے مشعل کو سمجھاتے ہوئے کہا
"مجھے بھی تو آپ کی ضرورت ہے میں کیسے رہوں گی بھلا"
مشعل اکا کے جانے کا سن کر اداس ہونے لگی
"ارے لڑکی عقل کے ناخن لو کچھ، شادی کے بعد اپنی ضرورتوں کا نہیں سوچتے،، اب تمہارا شوہر ہے بچہ ہے انہیں تمہاری زیادہ ضرورت ہے بس اب ان دونوں کی ضرورت کا خیال رکھنا ہے تمہیں اور ہانی کا خیال تو تم رکھو گی گی یہ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اب تمہیں اریش کا بھی خیال رکھنا ہے،، وہ بہت اچھا بچہ ہے میں ایسے ہی اسے پسند نہیں کرتی شروع سے ہی، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا کبھی شکایت کا موقع نہیں دینا ایک اچھی ماں تو تم ہو ہی، ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہونا سمجھ آرہی ہیں نہ میری بات"
اکا نے مشعل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا
"میں آپ کو بہت مس کروں گی" مشعل کا دل بھر آیا تو وہ اکا کے گلے لگ کر رونے لگی روم کا دروازہ کھلا تو فرید کے ساتھ اریش بھی روم میں آیا مشعل اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی پیچھے ہٹی
"بس اب تم رونا ڈال دینا آکا کے جانے کا،، یہ میری بھی اکا ہے کتنے سالوں سے تم ڈیرہ جما کر بیٹھی ہوں اور لاڈ اٹھوا رہی ہو اب میری باری ہے لاڈو اٹھوانے کی"
فرید نے آنسو صاف کرتی ہوئی مشعل کو دیکھ کر کہا جس پر اریش اور اکا مسکرا دیئے
"فرید اکا کو بس مہینے بھر کے لیے چھوڑ رہی ہو اس کے بعد تم انہیں واپس بھیجوا دو گے میں بتا رہی ہوں"
مشعل کو اکا کا اتنا اچانک جانا بالکل ہضم نہیں ہورہا تھا
"اچھا میری بہنا جیسے تمہاری مرضی"
فرید نے ہار مانتے ہوئے کہا
"کل کتنے بجے کی فلائیٹ ہے آپ لوگوں کی"
اریش نے فرید سے پوچھا
"صبح 9 بجے کی ہے اریش بھائی اب آپ آئیے گا مشعل اور ہانی کو لے کر ہمارے پاس، آپ کے پاس آکر تو مجھے بہت اچھا لگا"
فرید نے خلوص دل سے اریش کو دعوت دی
"کیوں نہیں،، ہم لوگ بھی ضرور آئیں گے۔۔۔ اب آپ لوگوں کو بھی ریسٹ کرنا چاہیے صبح جلدی اٹھنا ہوگا"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
مشعل اور اریش روم سے باہر نکل کر اپنے بیڈ روم میں جانے لگے اریش نے مشعل کا ہاتھ تھاما اور اس کا رخ اپنی طرف کیا
"کس بات پر رونا آ رہا ہے تمہیں"
اریش نے مشعل کا چہرہ تھامتے ہوئے پوچھا
"اکا چلی جائے گیں یہ سوچ کر میرا دل اداس ہو رہا ہے" مشعل نے رونے کی وجہ بتائی
"اور تمہیں اس طرح دیکھ کر میرا دل اداس ہو رہا ہے، پلیز اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہانی کے ڈیڈ پر بھی رحم کرو"
اریش نے اس کی آنکھیں چومتے ہوئے کہا تو مشعل مسکرا دی
"ڈیڈ کا بیٹا ہے کہاں پر"
مشعل نے اریش سے ہانی کا پوچھا
"بیڈ روم میں ہے ابھی ابھی کارٹون لگا کر دیا ہے تو صاحبزادے مجھ سے پوچھ رہے ہیں ہانی کو اس کی پرنسز کب ملے گی"
اریش کے بتانے پر مشعل کو ہنسی آئی
"پھر آپ نے کیا بولا اسے"
مشعل نے مسکرا کر پوچھا
"میں نے یہی کہا بیٹا تمھارے ڈیڈ کو تو کل ہی اس کی پرنسز ملی ہی پر تمہیں تمہارے ڈیڈ بیس سال کی عمر میں ہی پرنسز لا دیں گے"
اریش نے شرارت سے مشعل کو دیکھتے ہوئے جواب دیا وہ مسکرا کر کچن کی طرف جانے لگی
"اب کہاں جا رہی ہو"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑکر پوچھا
"ذرا کچن کا ڈور دیکھ لو اور سارے دروازے چیک کر لو پانچ منٹ نہ آتی ہوں واپس"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر کہا
"جلدی سے واپس آ جاؤ جب تک میں ہانی کو سلانے کی ٹرائے کرتا ہوں پھر اس کے بعد میں بتاؤں گا کہ ہانی کی مما کتنی پیاری لگ رہی تھی آج"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر ذومعنیٰ انداز میں کہا مشعل اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی
****
تعبیر کی اچانک پیاس سے آنکھ کھلی گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔۔۔ تعبیر نے آنکھیں مسلتے ہوئے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر پینے لگی گرم پانی سے اس کی تسکین نہیں ہوئی تو وہ کچن کی طرف آئی
اس وقت لائبریری کی لائٹ آن تھی
"کون ہو سکتا ہے بابا یا مزمل"
خود سے سوال کرتی ہوئی تجسس کے ہاتھوں لائبریری میں پہنچی یہ دیکھ کر حیرت سے اس کی خمار زدہ آنکھیں پوری کھل گئی وہاں ایک خفیہ راستہ تھا جو کہ پہلے کبھی اس کی نظر سے نہیں گزرا تھا اندر سے باتوں کی آواز
"یہ تو بابا اور مزمل کی آوازیں ہیں"
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اندر جانے کا سوچا
****
تعبیر کے دماغ سے وہ اریش اور ارتضیٰ کا خیال نکالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گیا تھا بس اس کا بھی ارادہ یہی تھا جیسے ہی وہاج ہتھیاروں کی فروخت کے لئے اپنے گاہکوں کو بلائے اسی دن وہ عماد سے ریڈ ڈالوانے کا کہے گا اور گھر میں موجود گودام کو بھی ایکسپوز کروائے گا اس نے کرنل سرفراز کو پہلے ہی اعتماد میں لیا ہوا تھا کیوکہ پچھلی دفعہ ڈی ایس پی وقار نے وہاج صدیقی کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے صاف منع کردیا تھا
آج رات بھی اس کے لیے اہمیت کی حامل تھی کیوں کہ آج رات کو وہاج نے مزید اسلحہ خریداری کر کے منگوایا تھا جو کہ تھوڑی دیر پہلے گودام میں رکھوایا گیا تھا۔۔۔۔ ارتضیٰ نے سوچا جب وہاج ایکسپوز ہو جائے گا اس کے بعد ہی وہ تعبیر کو بھی اپنی حقیقت بتا دے گا تعبیر کا ری ایکشن جو بھی ہو اپنا مشن مکمل ہونے کے بعد وہ اسے ہینڈل کر لے گا اس وقت رات کے دو بج رہے تھے وہاج اور ارتضیٰ دونوں ہی گودام میں موجود تھے تھوڑی دیر پہلے تین اسلحہ سے بھرے ٹرک پیٹیوں کی صورت، گودام میں رکھوائے گئے تھے
ارتضیٰ کو اپنی منزل صاف کریں دکھائی دے رہی تھی بس اب اس کی کوشش تھی کے جلد از جلد وہاج صدیقی اپنے گاہکوں کو دعوت دے اور وہ اسے دنیا کے سامنے اکسپوز کر دے
ِ"یہ دیکھو مزمل بالکل نیو ماڈل ہے آج کل مارکیٹ میں اس کی بہت ویلیو ہے
وہاج نے ایک چھوٹے سائز کا پسٹل ارتضیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے جسے تھاما
"بیوٹیفل"
ارتضیٰ نے ستائشی نظروں سے پسٹل کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا
"تمہیں پسند آئی ہے یہ اسے میری طرف سے تحفہ سمجھو آفٹر آل ہونے والے دماد ہوں تم میرے"
وہاج نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نےمسکرایا پسٹل کا رخ چلانے والے انداز میں گودام کے دروازے کی طرف کیا
اس کی مسکراہٹ جب تھمی جب وہاں گودام کے دروازے سے اسے تعبیر آتی دکھائی دی،، اس کی کیا وہاج صدیقی کی بھی مسکراہٹ اچانک غائب ہوکر شاک کی کیفیت میں بدل گئی کیونکہ گودام میں موجود ٹیبل پر آنے والا اسلحہ کھلا پڑا تھا ارتضیٰ نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کر کے پسٹل کو ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔
ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا جو ہوگیا تھا چاہتا تو وہاج بھی نہیں تھا کہ تابی کو ان سب چیزوں کا کبھی علم ہو دوسری جانب تعبیر اپنے سامنے موجود اسلحے اور اس کے پاس کھڑے ہوئے باپ اور مزمل کو دیکھ کر بے یقینی، حیرت اور خوف کی کیفیت میں گھری ہوئی تھی
"کیا ہے یہ سب"
اس نے لہجے میں حیرت اور خوف سمائے ہوئے باری باری ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا
"تعبیر آپ اپنے روم میں جائے میں بتاتا ہوں آپ کو سب" ارتضیٰ نے حتلامکان اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے تعبیر کی طرف قدم بڑھائےے
"وہی رک جاؤ مزمل"
تعبیر کی آواز پر اس کے قدم تھم گئے تعبیر نے وہاج صدیقی کی طرف دیکھا اور چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
"یہ سب کیا ہے بابا کیا آپ واقعی۔۔۔۔ میں نے اپنی یونیورسٹی میں ایک بار لڑکے سے سنا تھا کہ وہاج صدیقی اسمگلر ہے میرا دل چاہا میں اس کا منہ توڑ دوں میرے شریف باپ کے بارے میں اس کی ترقی سے جل کر لوگ اس طرح بول رہے ہیں مگر وہ سب سچ تھا۔۔۔ آپ یہ کام کرتے ہیں"
اس نے ٹیبل کی طرف رخ کیا تعبیر کی آنکھوں میں آنسو تھے
"تعبیر اپنے کمرے میں جاو ابھی اور اسی وقت"
وہاج نے چند لمحے پیشمانی کے بعد تعبیر کو سخت لہجے میں کہا
"یعنی آپ کو کوئی شرمندگی کوئی دکھ نہیں ہے"
تعبیر کو مزید دکھ ہوا
"تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے اپنے کمرے میں جاو"
اب کے وہاج صدیقی نے چیخ کر کہا اس کے چہرے پر غصے کے آثار صاف نمایاں تھے ارتضیٰ آگے بڑھ کر تعبیر کے پاس آیا
"تعبیر آپ روم میں جائے پلیز"
ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا جسے تعبیر نے زور سے جھٹکا
"ہاتھ مت لگاو تم مجھے،، تف ہے تمہارے اوپر شرم آ رہی ہے مجھے آج آپ دونوں کو اس روپ میں دیکھ کر" اب کی تعبیر میں چیختے ہوئے کہا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے
"روم میں تو میں نہیں جاؤں گی لیکن اب پولیس کے پاس ضرور جاؤں گی" تعبیر نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا جس پر وہاج اور ارتضیٰ دونوں کو حیرت کا جھٹکا لگا
"کیا بکواس کر رہی ہو تم، اپنے باپ کو پولیس کی دھمکی دے رہی ہو"
وہاج نے غصے میں تعبیر کا بازو پکڑ کر جھنجوڑا ارتضیٰ کو اس طرح تابی سے سخت لہجے میں وہاج کا بات کرنا اچھا نہیں لگا مگر وہ اپنے اوپر شک نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کیوکہ آج تابی نے جو کچھ دیکھا وہ خود بھی اس کے حق میں ابھی نہیں تھا،،، وہ نہیں چاہتا تھا تعبیر مزمل کو بھی غلط سمجھے اسے اس وقت تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے بد گمانی دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی
"ہاں میں آپ کے خلاف پولیس میں جا کر رپورٹ"
اس سے پہلے تعبیر کا جملہ مکمل ہوتا زور دار تھپڑ سے جہاں اس کی آواز بند ہوئی اور تعبیر لڑکھڑاتی ہوئی گرتی اس سے پہلے ارتضیٰ نے اسے تھام لیا
"سر پلیز"
وہاج کا غصے میں لال چہرہ دیکھ کر ارتضیٰ نے اپنا غصہ کنٹرول کیا جو اسے تعبیر کو مارنے پر، وہاج پر آیا تھا وہ اتنا ہی بول سکا
"لے جاؤ اسے یہاں سے اور کمرے میں لاک کر دو اب یہ نہ کہیں باہر جائے گی نہ ہی کوئی اس سے ملنے آئے گا۔۔۔ شکل کیا دیکھ رہے ہو میری لے جاو اسے میری نظروں سے دور"
وہاج ابھی بھی چیخ کر بول رہا تھا
"تعبیر آپ پلیز چلیں"
ارتضیٰ نے ضبط کرتے ہوئے کہا تعبیر کی ضد اس وقت مزید اس کا کام خراب کر سکتی تھی
"شٹ اپ تم دور رہو مجھ سے"
تعبیر نے روتے ہوئے ارتضیٰ کو دھکا دیا ارتضیٰ نے ایک نظر وہاج کو دیکھا جو غصے میں شاید تعبیر کی طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا تبھی ارتضیٰ نے مضبوطی سے تعبیر کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتا ہوا گودام سے باہر جانے لگا۔۔۔۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یقیناً وہاج تعبیر کو ایک اور تھپڑ مارتا اور پتہ نہیں اب کی بار ارتضیٰ وہ تھپڑ برداشت کرتا بھی کہ نہیں
"چھوڑو میرا ہاتھ مزمل، چھوڑو مجھے"
تعبیر مسلسل ہوتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی کیوکہ ارتضیٰ نے بہت زور سے اس کا بازو دبوچا ہوا تھا،، سیڑھیاں چڑھتا ہوا وہ اسے بیڈروم میں لایا اور بیڈ پر لاکر جھٹکے سے چھوڑا،، تعبیر بیڈ پر گرنے کے بعد فوراً اٹھی اور روتی ہوئی۔۔۔ اس سے پہلے وہ دروازے تک پہنچتی ارتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما
"پلیز تعبیر میری بات سنو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو"
ارتضیٰ نے اس کو سنبھالنا چاہا مگر اس وقت لگنے والے شاک کی وجہ سے شاید وہ اپنے آپے میں نہیں تھی روتی ہوئی، اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر روم کا دروازہ کھولنے لگی تبھی وہاج روم کے اندر آیا اور تعبیر کا بازو پکڑا
"انجیکٹ کرو اسے"
وہاج نے انجکشن ارتضیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"سر مگر"
ارتضیٰ نے وہاج کو دیکھا
"لگاؤں اسے"
وہاج کے چیخنے پر ارتضیٰ انجکشن لے کر تابی کی طرف بڑھا
"مزمل نہیں پلیز" تعبیر روتے ہوئے وہاج سے اپنا بازو چھڑا رہی تھی ارتضیٰ کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر ایک دم بولی
ارتضیٰ کو معلوم تھا کہ یہ نیند کا انجیکشن ہے اور وہ اس سے ریلیکس ہو جائے گی شاید اس وقت یہی بہتر تھا
"مزمل نہیں چھوڑو مجھے،،، بابا پلیز" ارتضیٰ نے اس کی چیخوں کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر انجکشن لگایا وہ وہاج کے بازوؤں میں مچلتی تھوڑی دیر بعد ہوش و خروش سے بیگانہ ہوگئی تو وہاج نے اسے بیڈ پر لٹایا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 31
"اکا یہ فرید کیا کہہ رہا ہے آپ ایسے سوچ بھی کیسے سکتے ہیں"
مشعل نے اکا کے پاس آ کر بولا
"کیا سوچ لیا بھئی میں نے مجھے بھی تو کچھ خبر ہو"
اکا اپنے کپڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی مشعل کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"اب آپ ایسے انجان بننے کی ایکٹنگ نہیں کریں،، میں آپ کو بتا رہی ہوں آپ فرید کے ساتھ کہیں نہیں جا رہی" مشعل نے ناراض لہجے میں اکا سے کہا
"اوہو اس بات کو لے کر تم مجھ سے ناراض ہو رہی ہو،، ابھی فرید کو اور اس کی بیوی کو بھی میری ضرورت ہے بیٹا،، بینش کی طبیعت صحیح نہیں رہتی ہے۔۔۔ بچہ نہیں سنبھلتا اس سے اور میں کون سا ہمیشہ کے لئے جا رہی ہوں چکر لگاؤں گی نہ تمہارے پاس۔۔۔ ہانی کے لیے تو آنا پڑے گا اس کے بناء میرا کون سا دل لگے گا" آکا نے مشعل کو سمجھاتے ہوئے کہا
"مجھے بھی تو آپ کی ضرورت ہے میں کیسے رہوں گی بھلا"
مشعل اکا کے جانے کا سن کر اداس ہونے لگی
"ارے لڑکی عقل کے ناخن لو کچھ، شادی کے بعد اپنی ضرورتوں کا نہیں سوچتے،، اب تمہارا شوہر ہے بچہ ہے انہیں تمہاری زیادہ ضرورت ہے بس اب ان دونوں کی ضرورت کا خیال رکھنا ہے تمہیں اور ہانی کا خیال تو تم رکھو گی گی یہ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اب تمہیں اریش کا بھی خیال رکھنا ہے،، وہ بہت اچھا بچہ ہے میں ایسے ہی اسے پسند نہیں کرتی شروع سے ہی، اس کی ضروریات کا خیال رکھنا کبھی شکایت کا موقع نہیں دینا ایک اچھی ماں تو تم ہو ہی، ایک اچھی بیوی بھی ثابت ہونا سمجھ آرہی ہیں نہ میری بات"
اکا نے مشعل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا
"میں آپ کو بہت مس کروں گی" مشعل کا دل بھر آیا تو وہ اکا کے گلے لگ کر رونے لگی روم کا دروازہ کھلا تو فرید کے ساتھ اریش بھی روم میں آیا مشعل اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی پیچھے ہٹی
"بس اب تم رونا ڈال دینا آکا کے جانے کا،، یہ میری بھی اکا ہے کتنے سالوں سے تم ڈیرہ جما کر بیٹھی ہوں اور لاڈ اٹھوا رہی ہو اب میری باری ہے لاڈو اٹھوانے کی"
فرید نے آنسو صاف کرتی ہوئی مشعل کو دیکھ کر کہا جس پر اریش اور اکا مسکرا دیئے
"فرید اکا کو بس مہینے بھر کے لیے چھوڑ رہی ہو اس کے بعد تم انہیں واپس بھیجوا دو گے میں بتا رہی ہوں"
مشعل کو اکا کا اتنا اچانک جانا بالکل ہضم نہیں ہورہا تھا
"اچھا میری بہنا جیسے تمہاری مرضی"
فرید نے ہار مانتے ہوئے کہا
"کل کتنے بجے کی فلائیٹ ہے آپ لوگوں کی"
اریش نے فرید سے پوچھا
"صبح 9 بجے کی ہے اریش بھائی اب آپ آئیے گا مشعل اور ہانی کو لے کر ہمارے پاس، آپ کے پاس آکر تو مجھے بہت اچھا لگا"
فرید نے خلوص دل سے اریش کو دعوت دی
"کیوں نہیں،، ہم لوگ بھی ضرور آئیں گے۔۔۔ اب آپ لوگوں کو بھی ریسٹ کرنا چاہیے صبح جلدی اٹھنا ہوگا"
اریش نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے کہا
مشعل اور اریش روم سے باہر نکل کر اپنے بیڈ روم میں جانے لگے اریش نے مشعل کا ہاتھ تھاما اور اس کا رخ اپنی طرف کیا
"کس بات پر رونا آ رہا ہے تمہیں"
اریش نے مشعل کا چہرہ تھامتے ہوئے پوچھا
"اکا چلی جائے گیں یہ سوچ کر میرا دل اداس ہو رہا ہے" مشعل نے رونے کی وجہ بتائی
"اور تمہیں اس طرح دیکھ کر میرا دل اداس ہو رہا ہے، پلیز اپنی آنکھوں کے ساتھ ساتھ ہانی کے ڈیڈ پر بھی رحم کرو"
اریش نے اس کی آنکھیں چومتے ہوئے کہا تو مشعل مسکرا دی
"ڈیڈ کا بیٹا ہے کہاں پر"
مشعل نے اریش سے ہانی کا پوچھا
"بیڈ روم میں ہے ابھی ابھی کارٹون لگا کر دیا ہے تو صاحبزادے مجھ سے پوچھ رہے ہیں ہانی کو اس کی پرنسز کب ملے گی"
اریش کے بتانے پر مشعل کو ہنسی آئی
"پھر آپ نے کیا بولا اسے"
مشعل نے مسکرا کر پوچھا
"میں نے یہی کہا بیٹا تمھارے ڈیڈ کو تو کل ہی اس کی پرنسز ملی ہی پر تمہیں تمہارے ڈیڈ بیس سال کی عمر میں ہی پرنسز لا دیں گے"
اریش نے شرارت سے مشعل کو دیکھتے ہوئے جواب دیا وہ مسکرا کر کچن کی طرف جانے لگی
"اب کہاں جا رہی ہو"
اریش نے مشعل کا ہاتھ پکڑکر پوچھا
"ذرا کچن کا ڈور دیکھ لو اور سارے دروازے چیک کر لو پانچ منٹ نہ آتی ہوں واپس"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر کہا
"جلدی سے واپس آ جاؤ جب تک میں ہانی کو سلانے کی ٹرائے کرتا ہوں پھر اس کے بعد میں بتاؤں گا کہ ہانی کی مما کتنی پیاری لگ رہی تھی آج"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر ذومعنیٰ انداز میں کہا مشعل اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی کچن کی طرف چلی گئی
****
تعبیر کی اچانک پیاس سے آنکھ کھلی گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔۔۔ تعبیر نے آنکھیں مسلتے ہوئے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر پینے لگی گرم پانی سے اس کی تسکین نہیں ہوئی تو وہ کچن کی طرف آئی
اس وقت لائبریری کی لائٹ آن تھی
"کون ہو سکتا ہے بابا یا مزمل"
خود سے سوال کرتی ہوئی تجسس کے ہاتھوں لائبریری میں پہنچی یہ دیکھ کر حیرت سے اس کی خمار زدہ آنکھیں پوری کھل گئی وہاں ایک خفیہ راستہ تھا جو کہ پہلے کبھی اس کی نظر سے نہیں گزرا تھا اندر سے باتوں کی آواز
"یہ تو بابا اور مزمل کی آوازیں ہیں"
دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے اندر جانے کا سوچا
****
تعبیر کے دماغ سے وہ اریش اور ارتضیٰ کا خیال نکالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گیا تھا بس اس کا بھی ارادہ یہی تھا جیسے ہی وہاج ہتھیاروں کی فروخت کے لئے اپنے گاہکوں کو بلائے اسی دن وہ عماد سے ریڈ ڈالوانے کا کہے گا اور گھر میں موجود گودام کو بھی ایکسپوز کروائے گا اس نے کرنل سرفراز کو پہلے ہی اعتماد میں لیا ہوا تھا کیوکہ پچھلی دفعہ ڈی ایس پی وقار نے وہاج صدیقی کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے سے صاف منع کردیا تھا
آج رات بھی اس کے لیے اہمیت کی حامل تھی کیوں کہ آج رات کو وہاج نے مزید اسلحہ خریداری کر کے منگوایا تھا جو کہ تھوڑی دیر پہلے گودام میں رکھوایا گیا تھا۔۔۔۔ ارتضیٰ نے سوچا جب وہاج ایکسپوز ہو جائے گا اس کے بعد ہی وہ تعبیر کو بھی اپنی حقیقت بتا دے گا تعبیر کا ری ایکشن جو بھی ہو اپنا مشن مکمل ہونے کے بعد وہ اسے ہینڈل کر لے گا اس وقت رات کے دو بج رہے تھے وہاج اور ارتضیٰ دونوں ہی گودام میں موجود تھے تھوڑی دیر پہلے تین اسلحہ سے بھرے ٹرک پیٹیوں کی صورت، گودام میں رکھوائے گئے تھے
ارتضیٰ کو اپنی منزل صاف کریں دکھائی دے رہی تھی بس اب اس کی کوشش تھی کے جلد از جلد وہاج صدیقی اپنے گاہکوں کو دعوت دے اور وہ اسے دنیا کے سامنے اکسپوز کر دے
ِ"یہ دیکھو مزمل بالکل نیو ماڈل ہے آج کل مارکیٹ میں اس کی بہت ویلیو ہے
وہاج نے ایک چھوٹے سائز کا پسٹل ارتضیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے جسے تھاما
"بیوٹیفل"
ارتضیٰ نے ستائشی نظروں سے پسٹل کو ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا
"تمہیں پسند آئی ہے یہ اسے میری طرف سے تحفہ سمجھو آفٹر آل ہونے والے دماد ہوں تم میرے"
وہاج نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو ارتضیٰ نےمسکرایا پسٹل کا رخ چلانے والے انداز میں گودام کے دروازے کی طرف کیا
اس کی مسکراہٹ جب تھمی جب وہاں گودام کے دروازے سے اسے تعبیر آتی دکھائی دی،، اس کی کیا وہاج صدیقی کی بھی مسکراہٹ اچانک غائب ہوکر شاک کی کیفیت میں بدل گئی کیونکہ گودام میں موجود ٹیبل پر آنے والا اسلحہ کھلا پڑا تھا ارتضیٰ نے پسٹل والا ہاتھ نیچے کر کے پسٹل کو ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔
ایسا وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا جو ہوگیا تھا چاہتا تو وہاج بھی نہیں تھا کہ تابی کو ان سب چیزوں کا کبھی علم ہو دوسری جانب تعبیر اپنے سامنے موجود اسلحے اور اس کے پاس کھڑے ہوئے باپ اور مزمل کو دیکھ کر بے یقینی، حیرت اور خوف کی کیفیت میں گھری ہوئی تھی
"کیا ہے یہ سب"
اس نے لہجے میں حیرت اور خوف سمائے ہوئے باری باری ان دونوں کو دیکھ کر پوچھا
"تعبیر آپ اپنے روم میں جائے میں بتاتا ہوں آپ کو سب" ارتضیٰ نے حتلامکان اپنا لہجہ نارمل رکھتے ہوئے تعبیر کی طرف قدم بڑھائےے
"وہی رک جاؤ مزمل"
تعبیر کی آواز پر اس کے قدم تھم گئے تعبیر نے وہاج صدیقی کی طرف دیکھا اور چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
"یہ سب کیا ہے بابا کیا آپ واقعی۔۔۔۔ میں نے اپنی یونیورسٹی میں ایک بار لڑکے سے سنا تھا کہ وہاج صدیقی اسمگلر ہے میرا دل چاہا میں اس کا منہ توڑ دوں میرے شریف باپ کے بارے میں اس کی ترقی سے جل کر لوگ اس طرح بول رہے ہیں مگر وہ سب سچ تھا۔۔۔ آپ یہ کام کرتے ہیں"
اس نے ٹیبل کی طرف رخ کیا تعبیر کی آنکھوں میں آنسو تھے
"تعبیر اپنے کمرے میں جاو ابھی اور اسی وقت"
وہاج نے چند لمحے پیشمانی کے بعد تعبیر کو سخت لہجے میں کہا
"یعنی آپ کو کوئی شرمندگی کوئی دکھ نہیں ہے"
تعبیر کو مزید دکھ ہوا
"تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے اپنے کمرے میں جاو"
اب کے وہاج صدیقی نے چیخ کر کہا اس کے چہرے پر غصے کے آثار صاف نمایاں تھے ارتضیٰ آگے بڑھ کر تعبیر کے پاس آیا
"تعبیر آپ روم میں جائے پلیز"
ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا جسے تعبیر نے زور سے جھٹکا
"ہاتھ مت لگاو تم مجھے،، تف ہے تمہارے اوپر شرم آ رہی ہے مجھے آج آپ دونوں کو اس روپ میں دیکھ کر" اب کی تعبیر میں چیختے ہوئے کہا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے
"روم میں تو میں نہیں جاؤں گی لیکن اب پولیس کے پاس ضرور جاؤں گی" تعبیر نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا جس پر وہاج اور ارتضیٰ دونوں کو حیرت کا جھٹکا لگا
"کیا بکواس کر رہی ہو تم، اپنے باپ کو پولیس کی دھمکی دے رہی ہو"
وہاج نے غصے میں تعبیر کا بازو پکڑ کر جھنجوڑا ارتضیٰ کو اس طرح تابی سے سخت لہجے میں وہاج کا بات کرنا اچھا نہیں لگا مگر وہ اپنے اوپر شک نہیں ہونے دینا چاہتا تھا کیوکہ آج تابی نے جو کچھ دیکھا وہ خود بھی اس کے حق میں ابھی نہیں تھا،،، وہ نہیں چاہتا تھا تعبیر مزمل کو بھی غلط سمجھے اسے اس وقت تعبیر کی آنکھوں میں اپنے لئے بد گمانی دیکھ کر تکلیف ہو رہی تھی
"ہاں میں آپ کے خلاف پولیس میں جا کر رپورٹ"
اس سے پہلے تعبیر کا جملہ مکمل ہوتا زور دار تھپڑ سے جہاں اس کی آواز بند ہوئی اور تعبیر لڑکھڑاتی ہوئی گرتی اس سے پہلے ارتضیٰ نے اسے تھام لیا
"سر پلیز"
وہاج کا غصے میں لال چہرہ دیکھ کر ارتضیٰ نے اپنا غصہ کنٹرول کیا جو اسے تعبیر کو مارنے پر، وہاج پر آیا تھا وہ اتنا ہی بول سکا
"لے جاؤ اسے یہاں سے اور کمرے میں لاک کر دو اب یہ نہ کہیں باہر جائے گی نہ ہی کوئی اس سے ملنے آئے گا۔۔۔ شکل کیا دیکھ رہے ہو میری لے جاو اسے میری نظروں سے دور"
وہاج ابھی بھی چیخ کر بول رہا تھا
"تعبیر آپ پلیز چلیں"
ارتضیٰ نے ضبط کرتے ہوئے کہا تعبیر کی ضد اس وقت مزید اس کا کام خراب کر سکتی تھی
"شٹ اپ تم دور رہو مجھ سے"
تعبیر نے روتے ہوئے ارتضیٰ کو دھکا دیا ارتضیٰ نے ایک نظر وہاج کو دیکھا جو غصے میں شاید تعبیر کی طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہا تھا تبھی ارتضیٰ نے مضبوطی سے تعبیر کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتا ہوا گودام سے باہر جانے لگا۔۔۔۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یقیناً وہاج تعبیر کو ایک اور تھپڑ مارتا اور پتہ نہیں اب کی بار ارتضیٰ وہ تھپڑ برداشت کرتا بھی کہ نہیں
"چھوڑو میرا ہاتھ مزمل، چھوڑو مجھے"
تعبیر مسلسل ہوتی ہوئی اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی کیوکہ ارتضیٰ نے بہت زور سے اس کا بازو دبوچا ہوا تھا،، سیڑھیاں چڑھتا ہوا وہ اسے بیڈروم میں لایا اور بیڈ پر لاکر جھٹکے سے چھوڑا،، تعبیر بیڈ پر گرنے کے بعد فوراً اٹھی اور روتی ہوئی۔۔۔ اس سے پہلے وہ دروازے تک پہنچتی ارتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما
"پلیز تعبیر میری بات سنو مجھے سمجھنے کی کوشش کرو"
ارتضیٰ نے اس کو سنبھالنا چاہا مگر اس وقت لگنے والے شاک کی وجہ سے شاید وہ اپنے آپے میں نہیں تھی روتی ہوئی، اس کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر روم کا دروازہ کھولنے لگی تبھی وہاج روم کے اندر آیا اور تعبیر کا بازو پکڑا
"انجیکٹ کرو اسے"
وہاج نے انجکشن ارتضیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"سر مگر"
ارتضیٰ نے وہاج کو دیکھا
"لگاؤں اسے"
وہاج کے چیخنے پر ارتضیٰ انجکشن لے کر تابی کی طرف بڑھا
"مزمل نہیں پلیز" تعبیر روتے ہوئے وہاج سے اپنا بازو چھڑا رہی تھی ارتضیٰ کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر ایک دم بولی
ارتضیٰ کو معلوم تھا کہ یہ نیند کا انجیکشن ہے اور وہ اس سے ریلیکس ہو جائے گی شاید اس وقت یہی بہتر تھا
"مزمل نہیں چھوڑو مجھے،،، بابا پلیز" ارتضیٰ نے اس کی چیخوں کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے اس کا بازو پکڑ کر انجکشن لگایا وہ وہاج کے بازوؤں میں مچلتی تھوڑی دیر بعد ہوش و خروش سے بیگانہ ہوگئی تو وہاج نے اسے بیڈ پر لٹایا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment