🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 3o
"آج یونیورسٹی جانا ضروری ہے آپ کو" ارتضیٰ نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے دوسری بار اس سے پوچھا
"بتایا تو تھا، آج لاسٹ پیپر ہے میرا" ارتضیٰ کو اس کے یونیورسٹی جانے سے پرابلم ہرگز نہیں تھی مگر اس کا نشا سے ملنا مناسب نہیں تھا۔۔۔۔ کیوکہ کل رات جب وہ تعبیر کے روم میں آیا تھا تو وہ نشا سے پکس کا ذکر کر رہی تھی
"اچھا ایسا ہے کہ جب تک آپ پیپر دے دیں،، میں اپنے دوست کی طرف جا رہا ہوں،،، جیسے ہی پیپر ختم ہوجائے فورا کال کر دئیے گا مجھے"
ارتضیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر سے کہا
"خیریت تو ہے نہ" تعبیر نے ارتضیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کیو کہ اس نے مزمل کے منہ سے کبھی کسی دوست کا ذکر نہیں سنا تھا
"ہاں خریت ہے، اس کے ہاں ٹوئینز بیٹیاں ہوئی ہیں۔۔۔ تصویر بھیجی تھی سوچا دیکھ کر آجاؤں اتنی کیوٹ بچیاں ہیں،، دونوں بالکل ایک جیسی شکل کی"
ارتضیٰ نے ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کو بتایا تو وہ مسکرا دی
"ویسے بےبی گرل مجھے بھی بہت پسند ہے آپ پیپر کے بعد سیریس ہو کر سوچئے گا اس موضوع پر"
ارتضیٰ نے ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کا ہاتھ تھام کر کہا
"ہماری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے تم زیادہ فری نہیں ہونے لگ گئے ہو"
تعبیر اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی
"میں نے آپ سے سوچنے کا کہا ہے،،، ابھی کون سا مانگ رہا ہوں جو ایسے آنکھیں دکھا رہی ہیں آپ"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ ایک دم جھینپ گئی اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے کار یونیورسٹی کے باہر روکی
****
صبح مشعل کی آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں اریش کو سوتے پایا ان دونوں کے درمیان میں ہانی لیٹا ہوا تھا کل رات اریش نے مشعل سے ڈھیر ساری باتیں کی وعدے کیے جن پر مشعل کا اعتبار کرنے کا دل چاہا۔۔۔ مشکل کی اجازت پر اریش نے حق استعمال کیا سونے سے پہلے وہ سوتے ہوئے ہانی کو سنگل بیڈ پر اٹھا کر اپنے اور مشعل کے درمیان لے آیا اور لیٹا دیا
مشعل شاور لے کر نکلی تو اریش اور ہانی دونوں کو سوتے پایا ان دونوں کو دیکھ کر وہ مسکرا دی ہانی کو سوتا چھوڑ کر وہ اریش کے پاس اس کو اٹھانے کی نیت سے آئی
"اریش صبح ہوگئی ہے اٹھ جائیں میں بریک فاسٹ ریڈی کرواتی ہو"
بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوئے وہ اریش کے قریب آئی تو اس نے مشعل کا ہاتھ کھینچ کر خود کے اوپر گرا لیا جس پر مشعل کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیوکہ اریش نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا تھا
"ہانی کی مما آرام سے اگر تمہاری چیخ سن کر ہانی اٹھ گیا تو مجھے پھر رات کو ہانی کے سونے کے بعد موقع ملنا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے مشعل کے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ کر لیٹایا اور مشعل کے بال جو کہ اریش کے مشعل کو کھینچنے کے سبب کھل گئے تھے انہیں پیچھے کرتے ہوئے اس کی گردن پر جھکا
"اریش میں نے آپکو آفس جانے کے لیے اٹھایا ہے دیر ہو رہی ہے"
مشعل نے ایک دم سٹپٹا کر کہا
"ایک عدد خوبصورت بیوی اور کیوٹ سا بیٹا جو کہ کل رات مجھے ملے ہیں میں پاگل لگ رہا ہوں جو آج آفس جاؤ گا"
اریش نے اپنا چہرہ مشعل کے قریب کرکے بولا اور اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے مگر تھوڑی دیر گزری تو ہانی آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا تو اریش فوراً پیچھے ہٹا مشعل دوپٹہ سہی کر کے اٹھ کے بیٹھ گئی
"واو ہانی اور ہانی کی مما ڈیڈ کے روم میں کب آئے"
ہانی نے حیرت سے ان دونوں کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر پوچھا
"میرے شہزادے ہانی کے ڈیڈ اکیلے سوتے سوتے بور ہوگئے تھے اس لئے ہانی کو اور اس کی مما کو اپنے بیڈ روم میں لے آئے" اریش ہانی کو گود میں لے کر مشعل کو دیکھتا ہوا بولا جس پر مشعل شرما کے اٹھ کھڑی ہوئی
"چلیں ہانی جلدی سے ٹیتھ برش کریں اور منہ ہاتھ دھو کر آۓ"
مشعل نے ہانی کو اریش کی گود سے لیتے ہوئے کہا
"کل ہانی کی مما بہت پیاری لگ رہی تھی بالکل فیری کی طرح، ہانی اپنی مما سے بہت پیار کرتا ہے"
معصوم سے ہانی نے مشعل کے گال پر کس کر کے اپنی محبت کا یقین دلایا
"ہانی کی مما بھی بہت پیار کرتی ہیں اپنی جان سے"
مشعل نے ہانی کے دونوں گالوں پر کس کر کے اسے واش روم بھیجا۔۔۔ اریش مسکرا کر اٹھتا ہوا مشعل کے پاس آیا
"کل ہانی کی مما واقعی فیری لگ رہی تھی اور ہانی کے ڈیڈ بھی اس کی مما سے بہت پیار کرتے ہیں"
اریش ہانی کے اسٹائل میں بولا اور ویسے ہی کس کر کے اپنی بھی محبت کا یقین دلایا
***
تعبیر ابھی پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی تو مزمل کو کال کرنے کا سوچنے لگی۔۔۔۔ اچانک نشا تابی کو آواز دے کر کلاس روم سے اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی
"کہاں جا رہی ہو بد تمیز کل ادھوری بات بتا کر سسپنس پیدا کر دیا،،، جلدی بتاؤ تمہاری اور تمہارے باڈی گارڈ کی نیّا کیسے پار لگی"
نشا تابی کے قریب آکر ایک سانس میں بولی جس پر تعبیر نے اسے پوری تفصیل سنائی
"واؤ تو اس ہفتے تمہاری منگنی زبردست"
نشا نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
"ہاں ڈیسائڈ تو یہی ہوا ہے آج یا کل میں انگیجمینٹ کے لیے ڈریس لینے جاونگی"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے نشا کو اپنا پلان بتایا
"کل مشعل بھابھی نے بہت پیارا ڈریس پہنا ہوا تھا،،، کلر تھوڑا ڈیفرینٹ دیکھ کر وہ بھی ٹرائے کرنا"
نشا کے ہاتھ میں موبائل فون تھا نشا مشعل کے ڈریس کی تصویر تعبیر کو دکھانے لگی تصویر دیکھ کر تعبیر کے چہرے پر مسکراہٹ ایک دن غائب ہوگئی
"ارتضیٰ"
مشعل کے برابر میں بیٹھے مسکراتے ہوئے اریش کی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کو جھٹکا لگا
"کیا بولا۔۔۔۔ ارتضیٰ، ،، ارے نہیں ارتضیٰ ورتضیٰ نہیں یہ اریش بھائی ہیں ماہرہ بھابی کے بھائی"
نشا نے تعبیر کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے کہا
"اریش۔۔۔۔ نہیں نہیں میں یہ چہرہ کیسے بھول سکتی ہوں یہ ارتضیٰ ہے تعبیر نے حیرت سے کہا
"ارے بھائی یہ اریش بھائی ہیں خیر یہ بتاؤ یہ ارتضیٰ کون ہے"
نشاء نے تعبیر سے پوچھا
"ارتضیٰ۔۔۔۔ وہ میرا" تعبیر کے موبائل بیچنے پر ان دونوں کی بات ادھوری رہ گئی تعبیر نے کال ریسیو کی
"کیا ہوا تعبیر سب ٹھیک ہے"
نشا نے اس کو غائب دماغ دیکھ کر پوچھا
"ہاں مزمل آگیا ہے اب مجھے چلنا چاہیے"
تعبیر نے نشا سے کہا اور یونیورسٹی سے باہر چلی گئی
****
"کیا ہوا میڈم کہاں رہ گئی تھیں"
ارتضیٰ نے کار میں بیٹھتے ہوئے تابی سے پوچھا
"کہیں نہیں بس نشا سے بات کر رہی تھی"
تعبیر کی غائب دماغی وہ پہلے ہی نوٹ کر چکا تھا،،، نشا کے ذکر سے،،، مطلب اس کا پورا سمجھ میں آ گیا
"کیسا ہوا پیپر"
کار اسٹارٹ کرنے کے بعد اس نے تعبیر کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا
"ہاں پیپر تو اچھا ہوا"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا پھر کار سے باہر دیکھنے لگی
"یہ کہاں لے آئے" ارتضیٰ نے ریسٹورنٹ کے پاس کار روکی تو تابی نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"چلیں آئے لنچ کرتے ہیں"
ارتضیٰ کہتا ہوا کار سے اترا تو تعبیر بھی اتر گئی
"اب بتائیں کیا بات ہے"
آرڈر کرنے کے بعد ارتضیٰ نے جانچتی نظروں سے تعبیر کو دیکھا،، وہ سمجھ گیا تابی اس وقت پریشان ہے یقینا اس کو کچھ نہ کچھ علم ہوا ہوگا
"مزمل تمہیں پتہ ہے ارتضیٰ کا اصلی نام اریش ہے"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا یعنی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا
"یہ ارتضیٰ کا یہاں کیا ذکر اس کی کیسے یاد آگئی آپ کو"
ارتضیٰ نے ایسے ری ایکٹ کیا جیسے کوئی بہت معمولی بات ہو
"وہ نشا کی بھابھی کا بھائی ہے اور اس کا اصل نام اریش ہے وہ مجھ سے جھوٹ بول رہا تھا پتہ نہیں کیا چکر ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا"
تعبیر الجھتے ہوئے کہا
"اگر وہ نشا کی بھابھی کا بھائی ہے، اور اریش ہے یا پھر ارتضیٰ یا جو بھی کوئی۔۔۔۔ اب اس بات کا آپ سے کیا تعلق ہے تعبیر"
ارتضیٰ نے اس کو ریلیکس کرنے کے لیے کہا۔۔۔ اس وقت وہ کوئی بھی شوشہ افورڈ کرنے کے موڈ میں نہیں تھا،، ستار میمن کے بعد وہ ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا کہ وہاج صدیقی کو اسکے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑوا دے اور وہ دن دور بھی نہیں تھا جب اس کا یہ مشن مکمل ہوجاتا، ایسے میں تعبیر کو اریش کا پتہ چلنا۔۔۔۔۔ اس نے اکتا کر سوچا
"تعلق کیسے نہیں ہے مزمل، میں اس کے نکاح میں تھی اور نکاح والی بات جھوٹ نہیں۔۔۔ تم نے خود مجھ سے کہا تمہیں بابا نے بتایا اب اس شخص کا ایک الگ نام ایک الگ روپ سامنے آیا ہے تو میرا حیران ہونا پریشان ہونا بنتا ہے"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"نکاح میں تھی آپ، مگر اب نہیں ہیں، اس کے بعد اس نے آپ کو کانٹیک نہیں کیا تو یہ چیپٹر کلوز ہوگیا تعبیر" ارتضیٰ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی
"اور اگر اس نے مجھے ڈائیووس نہ کی ہو، تمہیں یاد ہے وہ کتنی بری طرح میرے پیچھے پڑا تھا مجھے خوف زدہ کررہا تھا پھر اچانک میرے کہنے پر اس نے اتنی آسانی سے مجھے ڈائیورس دی کہیں کچھ گڑ بڑ ہے مزمل"
تعبیر سوچتے ہوئے بول رہی تھی ارتضیٰ نے اس کو غور سے دیکھا
"تعبیر یہ بھی تو ہو سکتا ہے اریش اور ارتضیٰ دو مختلف انسان ہوں اور ان دونوں کی آپس میں شکلیں ملتی ہو" ارتضیٰ نے اس کا مائینڈ دوسری طرف ڈائیورٹ کرنے کی کوشش کی
"مطلب تمہارا ایک شکل کے دو آدمی ایسا فلموں میں ہوتا ہے مزمل"
تعبیر کا دل نہیں مانا
"ارے یار میں دیکھ کر تو آیا ہوں آج اپنی آنکھوں سے دو ٹوانسز بےبیز کو"
ارتضیٰ اس کو دیکھ کر بولا
"میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی، یہ بات میں خود معلوم کر لوں گی"
اس کی باتوں پر ارتضیٰ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
"اوکے میڈم ابھی آپ ارتضیٰ اور اریش کے چکر سے نکلیں اور اپنے مزمل کے بارے میں سوچیں۔۔۔ ارتضیٰ اور اریش کا کیا چکر ہے میں معلوم کر لونگا" ارتضیٰ نے تعبیر کو مطمئن کرنا چاہا تو وہ چپ کر کے مزمل کو دیکھنے لگی
"کیا ہوا اپنے مزمل پر اعتبار ہے نا"
مزمل نے اس کے دیکھنے پر سوال کیا تو تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ ویٹر کھانا لے کر آیا ارتضیٰ نے کھانے کے دوران اس کا دھیان دوسری باتوں میں لگا کر کافی حد تک ارتضیٰ اور آریش کی طرف سے ہٹا دیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 3o
"آج یونیورسٹی جانا ضروری ہے آپ کو" ارتضیٰ نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے دوسری بار اس سے پوچھا
"بتایا تو تھا، آج لاسٹ پیپر ہے میرا" ارتضیٰ کو اس کے یونیورسٹی جانے سے پرابلم ہرگز نہیں تھی مگر اس کا نشا سے ملنا مناسب نہیں تھا۔۔۔۔ کیوکہ کل رات جب وہ تعبیر کے روم میں آیا تھا تو وہ نشا سے پکس کا ذکر کر رہی تھی
"اچھا ایسا ہے کہ جب تک آپ پیپر دے دیں،، میں اپنے دوست کی طرف جا رہا ہوں،،، جیسے ہی پیپر ختم ہوجائے فورا کال کر دئیے گا مجھے"
ارتضیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے تعبیر سے کہا
"خیریت تو ہے نہ" تعبیر نے ارتضیٰ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کیو کہ اس نے مزمل کے منہ سے کبھی کسی دوست کا ذکر نہیں سنا تھا
"ہاں خریت ہے، اس کے ہاں ٹوئینز بیٹیاں ہوئی ہیں۔۔۔ تصویر بھیجی تھی سوچا دیکھ کر آجاؤں اتنی کیوٹ بچیاں ہیں،، دونوں بالکل ایک جیسی شکل کی"
ارتضیٰ نے ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کو بتایا تو وہ مسکرا دی
"ویسے بےبی گرل مجھے بھی بہت پسند ہے آپ پیپر کے بعد سیریس ہو کر سوچئے گا اس موضوع پر"
ارتضیٰ نے ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کا ہاتھ تھام کر کہا
"ہماری ابھی شادی نہیں ہوئی ہے تم زیادہ فری نہیں ہونے لگ گئے ہو"
تعبیر اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی
"میں نے آپ سے سوچنے کا کہا ہے،،، ابھی کون سا مانگ رہا ہوں جو ایسے آنکھیں دکھا رہی ہیں آپ"
ارتضیٰ کے کہنے پر وہ ایک دم جھینپ گئی اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے کار یونیورسٹی کے باہر روکی
****
صبح مشعل کی آنکھ کھلی تو اپنے برابر میں اریش کو سوتے پایا ان دونوں کے درمیان میں ہانی لیٹا ہوا تھا کل رات اریش نے مشعل سے ڈھیر ساری باتیں کی وعدے کیے جن پر مشعل کا اعتبار کرنے کا دل چاہا۔۔۔ مشکل کی اجازت پر اریش نے حق استعمال کیا سونے سے پہلے وہ سوتے ہوئے ہانی کو سنگل بیڈ پر اٹھا کر اپنے اور مشعل کے درمیان لے آیا اور لیٹا دیا
مشعل شاور لے کر نکلی تو اریش اور ہانی دونوں کو سوتے پایا ان دونوں کو دیکھ کر وہ مسکرا دی ہانی کو سوتا چھوڑ کر وہ اریش کے پاس اس کو اٹھانے کی نیت سے آئی
"اریش صبح ہوگئی ہے اٹھ جائیں میں بریک فاسٹ ریڈی کرواتی ہو"
بالوں کو جوڑے کی شکل دیتے ہوئے وہ اریش کے قریب آئی تو اس نے مشعل کا ہاتھ کھینچ کر خود کے اوپر گرا لیا جس پر مشعل کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیوکہ اریش نے اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا تھا
"ہانی کی مما آرام سے اگر تمہاری چیخ سن کر ہانی اٹھ گیا تو مجھے پھر رات کو ہانی کے سونے کے بعد موقع ملنا ہے"
اریش نے کہتے ہوئے مشعل کے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر کر بیڈ کر لیٹایا اور مشعل کے بال جو کہ اریش کے مشعل کو کھینچنے کے سبب کھل گئے تھے انہیں پیچھے کرتے ہوئے اس کی گردن پر جھکا
"اریش میں نے آپکو آفس جانے کے لیے اٹھایا ہے دیر ہو رہی ہے"
مشعل نے ایک دم سٹپٹا کر کہا
"ایک عدد خوبصورت بیوی اور کیوٹ سا بیٹا جو کہ کل رات مجھے ملے ہیں میں پاگل لگ رہا ہوں جو آج آفس جاؤ گا"
اریش نے اپنا چہرہ مشعل کے قریب کرکے بولا اور اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ دیئے مگر تھوڑی دیر گزری تو ہانی آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ بیٹھا تو اریش فوراً پیچھے ہٹا مشعل دوپٹہ سہی کر کے اٹھ کے بیٹھ گئی
"واو ہانی اور ہانی کی مما ڈیڈ کے روم میں کب آئے"
ہانی نے حیرت سے ان دونوں کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر پوچھا
"میرے شہزادے ہانی کے ڈیڈ اکیلے سوتے سوتے بور ہوگئے تھے اس لئے ہانی کو اور اس کی مما کو اپنے بیڈ روم میں لے آئے" اریش ہانی کو گود میں لے کر مشعل کو دیکھتا ہوا بولا جس پر مشعل شرما کے اٹھ کھڑی ہوئی
"چلیں ہانی جلدی سے ٹیتھ برش کریں اور منہ ہاتھ دھو کر آۓ"
مشعل نے ہانی کو اریش کی گود سے لیتے ہوئے کہا
"کل ہانی کی مما بہت پیاری لگ رہی تھی بالکل فیری کی طرح، ہانی اپنی مما سے بہت پیار کرتا ہے"
معصوم سے ہانی نے مشعل کے گال پر کس کر کے اپنی محبت کا یقین دلایا
"ہانی کی مما بھی بہت پیار کرتی ہیں اپنی جان سے"
مشعل نے ہانی کے دونوں گالوں پر کس کر کے اسے واش روم بھیجا۔۔۔ اریش مسکرا کر اٹھتا ہوا مشعل کے پاس آیا
"کل ہانی کی مما واقعی فیری لگ رہی تھی اور ہانی کے ڈیڈ بھی اس کی مما سے بہت پیار کرتے ہیں"
اریش ہانی کے اسٹائل میں بولا اور ویسے ہی کس کر کے اپنی بھی محبت کا یقین دلایا
***
تعبیر ابھی پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی تو مزمل کو کال کرنے کا سوچنے لگی۔۔۔۔ اچانک نشا تابی کو آواز دے کر کلاس روم سے اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی
"کہاں جا رہی ہو بد تمیز کل ادھوری بات بتا کر سسپنس پیدا کر دیا،،، جلدی بتاؤ تمہاری اور تمہارے باڈی گارڈ کی نیّا کیسے پار لگی"
نشا تابی کے قریب آکر ایک سانس میں بولی جس پر تعبیر نے اسے پوری تفصیل سنائی
"واؤ تو اس ہفتے تمہاری منگنی زبردست"
نشا نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا
"ہاں ڈیسائڈ تو یہی ہوا ہے آج یا کل میں انگیجمینٹ کے لیے ڈریس لینے جاونگی"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے نشا کو اپنا پلان بتایا
"کل مشعل بھابھی نے بہت پیارا ڈریس پہنا ہوا تھا،،، کلر تھوڑا ڈیفرینٹ دیکھ کر وہ بھی ٹرائے کرنا"
نشا کے ہاتھ میں موبائل فون تھا نشا مشعل کے ڈریس کی تصویر تعبیر کو دکھانے لگی تصویر دیکھ کر تعبیر کے چہرے پر مسکراہٹ ایک دن غائب ہوگئی
"ارتضیٰ"
مشعل کے برابر میں بیٹھے مسکراتے ہوئے اریش کی تصویر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کو جھٹکا لگا
"کیا بولا۔۔۔۔ ارتضیٰ، ،، ارے نہیں ارتضیٰ ورتضیٰ نہیں یہ اریش بھائی ہیں ماہرہ بھابی کے بھائی"
نشا نے تعبیر کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے کہا
"اریش۔۔۔۔ نہیں نہیں میں یہ چہرہ کیسے بھول سکتی ہوں یہ ارتضیٰ ہے تعبیر نے حیرت سے کہا
"ارے بھائی یہ اریش بھائی ہیں خیر یہ بتاؤ یہ ارتضیٰ کون ہے"
نشاء نے تعبیر سے پوچھا
"ارتضیٰ۔۔۔۔ وہ میرا" تعبیر کے موبائل بیچنے پر ان دونوں کی بات ادھوری رہ گئی تعبیر نے کال ریسیو کی
"کیا ہوا تعبیر سب ٹھیک ہے"
نشا نے اس کو غائب دماغ دیکھ کر پوچھا
"ہاں مزمل آگیا ہے اب مجھے چلنا چاہیے"
تعبیر نے نشا سے کہا اور یونیورسٹی سے باہر چلی گئی
****
"کیا ہوا میڈم کہاں رہ گئی تھیں"
ارتضیٰ نے کار میں بیٹھتے ہوئے تابی سے پوچھا
"کہیں نہیں بس نشا سے بات کر رہی تھی"
تعبیر کی غائب دماغی وہ پہلے ہی نوٹ کر چکا تھا،،، نشا کے ذکر سے،،، مطلب اس کا پورا سمجھ میں آ گیا
"کیسا ہوا پیپر"
کار اسٹارٹ کرنے کے بعد اس نے تعبیر کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا
"ہاں پیپر تو اچھا ہوا"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا پھر کار سے باہر دیکھنے لگی
"یہ کہاں لے آئے" ارتضیٰ نے ریسٹورنٹ کے پاس کار روکی تو تابی نے اس کو دیکھ کر پوچھا
"چلیں آئے لنچ کرتے ہیں"
ارتضیٰ کہتا ہوا کار سے اترا تو تعبیر بھی اتر گئی
"اب بتائیں کیا بات ہے"
آرڈر کرنے کے بعد ارتضیٰ نے جانچتی نظروں سے تعبیر کو دیکھا،، وہ سمجھ گیا تابی اس وقت پریشان ہے یقینا اس کو کچھ نہ کچھ علم ہوا ہوگا
"مزمل تمہیں پتہ ہے ارتضیٰ کا اصلی نام اریش ہے"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا یعنی جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا
"یہ ارتضیٰ کا یہاں کیا ذکر اس کی کیسے یاد آگئی آپ کو"
ارتضیٰ نے ایسے ری ایکٹ کیا جیسے کوئی بہت معمولی بات ہو
"وہ نشا کی بھابھی کا بھائی ہے اور اس کا اصل نام اریش ہے وہ مجھ سے جھوٹ بول رہا تھا پتہ نہیں کیا چکر ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا"
تعبیر الجھتے ہوئے کہا
"اگر وہ نشا کی بھابھی کا بھائی ہے، اور اریش ہے یا پھر ارتضیٰ یا جو بھی کوئی۔۔۔۔ اب اس بات کا آپ سے کیا تعلق ہے تعبیر"
ارتضیٰ نے اس کو ریلیکس کرنے کے لیے کہا۔۔۔ اس وقت وہ کوئی بھی شوشہ افورڈ کرنے کے موڈ میں نہیں تھا،، ستار میمن کے بعد وہ ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا کہ وہاج صدیقی کو اسکے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑوا دے اور وہ دن دور بھی نہیں تھا جب اس کا یہ مشن مکمل ہوجاتا، ایسے میں تعبیر کو اریش کا پتہ چلنا۔۔۔۔۔ اس نے اکتا کر سوچا
"تعلق کیسے نہیں ہے مزمل، میں اس کے نکاح میں تھی اور نکاح والی بات جھوٹ نہیں۔۔۔ تم نے خود مجھ سے کہا تمہیں بابا نے بتایا اب اس شخص کا ایک الگ نام ایک الگ روپ سامنے آیا ہے تو میرا حیران ہونا پریشان ہونا بنتا ہے"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"نکاح میں تھی آپ، مگر اب نہیں ہیں، اس کے بعد اس نے آپ کو کانٹیک نہیں کیا تو یہ چیپٹر کلوز ہوگیا تعبیر" ارتضیٰ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی
"اور اگر اس نے مجھے ڈائیووس نہ کی ہو، تمہیں یاد ہے وہ کتنی بری طرح میرے پیچھے پڑا تھا مجھے خوف زدہ کررہا تھا پھر اچانک میرے کہنے پر اس نے اتنی آسانی سے مجھے ڈائیورس دی کہیں کچھ گڑ بڑ ہے مزمل"
تعبیر سوچتے ہوئے بول رہی تھی ارتضیٰ نے اس کو غور سے دیکھا
"تعبیر یہ بھی تو ہو سکتا ہے اریش اور ارتضیٰ دو مختلف انسان ہوں اور ان دونوں کی آپس میں شکلیں ملتی ہو" ارتضیٰ نے اس کا مائینڈ دوسری طرف ڈائیورٹ کرنے کی کوشش کی
"مطلب تمہارا ایک شکل کے دو آدمی ایسا فلموں میں ہوتا ہے مزمل"
تعبیر کا دل نہیں مانا
"ارے یار میں دیکھ کر تو آیا ہوں آج اپنی آنکھوں سے دو ٹوانسز بےبیز کو"
ارتضیٰ اس کو دیکھ کر بولا
"میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا سکتی، یہ بات میں خود معلوم کر لوں گی"
اس کی باتوں پر ارتضیٰ کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے
"اوکے میڈم ابھی آپ ارتضیٰ اور اریش کے چکر سے نکلیں اور اپنے مزمل کے بارے میں سوچیں۔۔۔ ارتضیٰ اور اریش کا کیا چکر ہے میں معلوم کر لونگا" ارتضیٰ نے تعبیر کو مطمئن کرنا چاہا تو وہ چپ کر کے مزمل کو دیکھنے لگی
"کیا ہوا اپنے مزمل پر اعتبار ہے نا"
مزمل نے اس کے دیکھنے پر سوال کیا تو تعبیر نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ ویٹر کھانا لے کر آیا ارتضیٰ نے کھانے کے دوران اس کا دھیان دوسری باتوں میں لگا کر کافی حد تک ارتضیٰ اور آریش کی طرف سے ہٹا دیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment