Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 29

🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 29


"تو بس مجھے ایک دفعہ بتا دے تجھے آنا ہے یا نہیں آنا"
ارتضیٰ نے کال ریسیو کی تو آریش کی آواز سنائی دی

"نکاح تیرا کل ہے اور تو مجھے آج بلانے کی بات کر رہا ہے وہ بھی دو گھنٹے پہلے"
ارتضیٰ نے اس کو گھرکا

"یار یہ ماہرہ کا کچھ سمجھ میں نہیں آتا پتہ نہیں کون سے ارمان نکالنے ہیں اسے اپنے اکلوتے بھائی کے۔۔۔ اپنی نند اور سہیلیوں کو لے کر آئی ہوئی ہے خوب ڈھول پیٹا جارہا ہے گانے گائے جارہے ہیں مہندیاں لگ رہی ہیں پتہ نہیں میرے گھر کو کیا چڑیا گھر بنایا ہوا ہے"
اریش کی نفاست پسند طبعیت پر یہ سب گراں گزر رہا تھا،، مگر وہ ماہرہ کی خوشی دیکھ کر چپ تھا

"سڑے ہوئے انسان یہی تو یادگار لمحات ہوتے ہیں جن کو ساری عمر سوچ کر بندہ خوش ہوتا ہے۔۔۔ اور بیٹا ڈھول کی تو، تو ٹینشن نہیں لے۔۔۔۔ وہ تو ہانی کی مما روز بچایا کرے گی اب دن رات تیرے سر پر"
ارتضیٰ نے ہنستے ہوئے اریش کو چھیڑا

"شرم کر وہ ہونے والی بھابھی ہے وہ تیری"
اریش کو خود بھی اس کی بات پر ہنسی آئی لیکن اسے شرم دلانا فرض سمجھا

"اوکے ہانی کے ابا تیرے کہنے پر میں تھوڑی سی شرم کر لیتا ہوں"
ارتضیٰ نے اس پر احسان کرنے والے انداز میں کہا

"تو یہ بتا آرہا ہے کہ نہیں"
اریش نے دوبارہ پوچھا جب کہ وہ جانتا تھا اس کے لیے اس وقت آنا تھوڑا مشکل ہوگا

"انتظار مت کرنا پکا نہیں ہے کوشش کرتا ہوں"
ارتضیٰ کی طرف سے جواب آیا

"کل میں تیرا انتظار کروں گا تجھے کوشش نہیں کرنی ہے پکا آنا ہے"
اریش سمجھ گیا اس کا آنا مشکل ہے اس لئے خدا حافظ کہہ کر فون بند کیا اور موبائل پاکٹ میں رکھا

"ڈیڈ یہ ہانی کے گھر میں کیا ہو رہا ہے،، سب آنٹیاں ڈرونی آواز میں زور سے رو رہی ہیں ہانی کو ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ ایک آنٹی بیٹھی ہوئی سب کے ہاتھ بھی گندے کر رہی ہیں اور ہانی کی مما کے ہاتھ بھی گندے کر دیے اب ہانی کیا کرے"
ہانی نے باہر کی پوری رپورٹ اریش کو دی

"میری جان آپ کچھ نہیں کریں بس اپنے ڈیڈ کے پاس بیٹھے رہے۔۔۔۔ وہ سب خوش ہو رہی ہیں رو نہیں رہیں بلکہ گانے گا رہی ہیں اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے،،، اور وہ آنٹی ہاتھ گندے نہیں کر رہی ہیں بلکہ مہندی لگا رہی ہیں مہندی بھی جبھی لگاتے ہیں جب کوئی بہت خوش ہوتا ہے"
اریش نے حیران پریشان ہانی کو اس کی سوچ کے مطابق سمجھانا چاہا

"تو ڈیڈ ہم دونوں بھی خوش ہیں چلیں ہم دونوں بھی گانے گاتے ہیں اور مہندی لگواتے ہیں"
ہانی کی بات پر اریش کو ہنسی آگئی

"نہیں چندا اس طرح صرف لڑکیاں خوش ہوتی ہیں ہم دونوں بوائز ہیں اور بوائز مہندی نہیں لگاتے"
اریش نے ہانی کو سمجھایا

"ڈیڈ ہانی اپکو ایک سیکرٹ بتائے"
ہانی نے راز دارانہ طریقے سے اریش کو کہا تو اریش نے اس کو گود میں اٹھایا

"جلدی سے بتاو"
ہانی سے بھی زیادہ رازدارانہ طریقے سے اریش نے اس سے کہا

"یہ مہندی کی اسمیل بہت بری ہوتی ہے جو کہ ہانی کی مما کے پاس سے آ رہی ہے اس لئے آج ہانی اپنی مما کے پاس نہیں سوئے گا بلکہ ہانی آپ کے پاس ہوئے گا"
ہانی نے اریش کے کان میں اپنا سیکرٹ بتایا

"اب ایک سکریٹ میں ہانی کو بتاؤ"
اریش نے اس کے گال چومتے ہوئے کہا جس پر ہانی نے آئی برو اچکا کر بڑے اسٹائل سے سوالیہ انداز میں اس سے پوچھا

"اب ہانی ڈیلی ڈیڈ کے پاس سویا کرے گا"
اریش نے ہانی کے کان میں بتایا

"پھر ہانی کی مما کا کیا ہوگا انہیں اکیلے ڈر لگے گا"
ہانی کو اب مشعل کی فکر ہونے لگی

"ہم دونوں ہانی کی مما کو بھی اسی بیڈ روم میں اپنے پاس سلا لیا کرے گے"
اریش کے مسئلہ حل کرنے پر ہانی خوش ہو گیا اور ایسے ہی باتیں کرتے کرتے سو گیا

اریش نے اس کو بیڈ پر لٹایا اب اس کا مشعل کو دیکھنے کا دل کرنے لگا مگر مسئلہ یہ تھا کہ ماہرہ نے بڑی اماں دادی بن کر ولن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے24 گھنٹے کے لئے مشعل کا اس سے پردہ کرا دیا تھا
اور اس ظلم پر اکا نے مائرہ کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔۔۔۔ اریش کو ایک ترکیب سوجھی اس نے سیل فون سے مشعل کا نمبر ملایا

****

مشعل جو کہ کافی دیر سے پیلے جوڑے میں ہاتھوں پر مہندی لگائے مایوں کی دلہن بنی بیٹھی تھی اس کے نہ نہ کرنے پر بھی ماہرہ نے اس کی ایک نہیں سنی تھی بلکہ اس کے لیے مایوں کا ڈریس بھی خود لے کر آئی تھی،،، اور مشعل کے منع کرنے کے باوجود اس کے دونوں ہاتھوں پر بھر بھر کر مہندی بھی لگوائی تھی ہال میں آٹھ 10 لڑکیاں موجود تھی جو کہ گانے گانوں میں اور مہندی لگوانے میں مصروف تھی سعیدہ (نوکرانی) کچن کا کام چھوڑ کر ان کی خوشیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے خود بھی مہندی لگوانے بیٹھ گئی تھی جس پر اکا اسے گھور کر رہ گئیں

مگر آج وہ بہت خوش تھیں اس لیے کسی نوکر کی شامت نہیں آرہی تھی ایک خوشی تو یہ تھی کہ ان کی بہن کی بیٹی جس کو انہوں نے ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا کل وہ اپنے گھر کی ہو جائے گی

اریش نے مشعل کا انتخاب کیا تھا۔۔۔ اور مشعل نے مشکل سے ہی سہی اریش کے حق میں رضا مندی دی وہ مشعل کے اس فیصلے سے خوش تھی اور دوسری خوشی اکا کو اس بات کی تھی آج تین سال بعد فرید (اکا کا بیٹا) دبئی سے پاکستان ان کے پاس آیا تھا فرید کو دیکھ کر مشعل بہت خوش ہوئی تھی۔۔۔ فرید نے بھی پرانے سارے گلے شکوے بھلا کر بڑے بھائیوں کی طرح مشعل کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں

مشعل لڑکیوں میں گھری ہوئی بیٹھی تھی اس کا موبائل بجنے لگا۔۔ ہاتھوں میں لگی ہوئی مہندی اب سوکھ چکی تھی اس لیے کال ریسیو کر کے وہ اٹھ کر گھر کے اس کونے میں چلی گئی جہاں گانے اور شور کی آواز نہیں آرہی تھی تاکہ وہ اریش کی بات سن سکے پتہ نہیں کیا مسلہ ہوگیا تھا جو وہ کال کر رہا تھا

"ہیلو اریش خیریت ہے"
کال ریسیو کرتے ہی مشعل نے پوچھا

"آپ کو کچھ یاد بھی ہے کہ آپ کا ایک عدد بیٹا بھی ہے۔۔۔ چلیں شوہر تو میں آپکا کل بنوں گا تو کل سے ہی آپ پر میری ڈیوٹی مسلط ہوگی مگر آپ کو ہانی کی فکر ہے کہ اس نے کھانا کھایا کہ نہیں کھایا بس آپ اپنے انجوائمنٹ میں لگی ہیں"
اریش اسے سخت لہجے میں سنا رہا تھا جس پر مشعل کا دل ڈوبے جا رہا تھا

"آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں اریش ماہرہ مجھے اٹھنے نہیں دے رہی تھی اور ہانی مجھے کافی دیر سے نظر نہیں آرہا میں اس کا سوچ رہی تھی کہ وہ کہاں گیا"
مشعل فوراً اپنی صفائی دیتی ہوئے اریش کو بتانے لگی

"آپ اسی وقت میرے بیڈروم میں آئے"
مشعل کو اریش کی غصے میں بھری آواز سنائی دی

"مگر اریش وہ اکا اور ماہرہ۔۔۔ "
اریش کا غصے بھرا لہجہ دیکھ کر وہ اپنا جملہ مکمل نہیں کر سکی

"ٹھیک ہے آپ وہی رکیں میں آتا ہوں آپ کے پاس"
اریش کی دھمکی سن کر وہ گھبرا گئی اس لئے فورا بول اٹھی

"نہیں پلیز میں آ رہی ہوں"
کال کاٹ کر وہ اریش کے کمرے میں جانے لگی

****

اریش نے مسکرا کر سیل فون ٹیبل پر رکھا اور اپنی ایکٹنگ پر خود کو داد دی۔۔۔۔ کمرے کا دروازہ ہلکے سے ناک ہوا تو اریش نے اپنے فیس ایکسپریشن سنجیدہ کرلیے اور روم کا دروازہ کھولا تو سامنے مشعل کو کھڑا پایا ایک لمحے کے لیے اریش مشعل کو دیکھ کر مہبوت سا ہو گیا پیلے رنگ کے جوڑے میک اپ سے عاری چہرہ،،، وہ ہمیشہ سادہ رہتی تھی مگر آج سادگی نے بھی اس کا حسن آریش کے دل پر قیامت ڈھا رہا تھا

"اتنی زور سے دروازہ ناک کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ اب کھڑی کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہیں اندر آئیں"
مشعل اریش کو حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ آج اسے ہوا کیا ہے اس نے تو دروازہ بہت ہلکے سے ناک کیا تھا۔۔۔ چپ کر کے چلتی ہوئی مشعل روم کے اندر آئی

"یہ دروازہ کون بند کرے گا کیا پوری دنیا کو تماشا دکھانا ہے آپ نے"
اریش کی بات پر دوبارہ مشعل نے اریش کو ایک نظر دیکھا اور مڑ کر دوبارہ گئی اور دروازہ بند کر کے اس کے پاس آئی

"آپ کو اتنا غصہ کیوں آرہا ہے اریش مجھ پر"
سوتے ہوۓ ہانی پر مشعل نے ایک نظر ڈال کر اریش سے پوچھا

"غصہ نہیں کرو تو کیا پیار کروں آپ سے۔۔۔۔ کوئی فکر ہے کوئی احساس ہے آپ کو۔۔۔ دوسروں کے آنے پر بالکل لاپروا بنی ہوئی ہیں آپ،،، میں یہاں پر اتنی دیر سے بھوکا بیٹھا ہوں ہانی مما کو یاد کر کے بھوکا سوگیا ہے مگر مما کو تو فرصت ہی نہیں ہے ڈھول تماشوں سے اور مہندی لگوانے سے"
اریش کے ڈانٹنے کی دیر تھی مشعل نے مہندی والے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر  پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا جس پر ایک لمحے کے لیے اریش بوکھلا گیا

"مشعل مشعل۔۔ آئی ایم سوری میں مذاق کر رہا تھا اس طرح سے مت روئے پلیز"
وہ اس کے دونوں ہاتھ چہرے پر سے ہٹاتے ہوئے کہنے لگا

"ماہرہ اور اکا بالکل بھی نہیں اٹھنے دے رہی تھی کہہ رہی تھی کہ مایوں کی دل دلہن ہو آج کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاؤ۔۔۔ میں سمجھی آپ نے اور ہانی نے کھانا کھا لیا ہوگا"
مشعل اب سسکتے ہوئے اپنی صفائیاں دے رہی تھی جس پر اریش کو اپنے اوپر ہی غصہ آنے لگا وہ سامنے رکھے ٹشو سے مشعل کا چہرہ صاف کرنے لگا

"کھانا میں اور ہانی دونوں کھا چکے ہیں آپ کا دل تو بالکل ننھی چڑیا جیسا ہے میں مذاق کر رہا تھا آپ سے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ میرے اس طرح کرنے پر رو جائے گی۔۔۔۔ بالکل گدھا ہوں میں جو اپنی اتنی پیاری سی مایوں کی دلہن کو رولا دیا آئی ایم سوری"
وہ مشعل کے دونوں کندھے تھامے نرمی سے بول رہا تھا

"آپ بار بار سوری نہیں بولیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا"
دوسری بار اریش کے سوری کہنے پر مشعل بول اٹھی

"اور آپ مجھے بہت اچھی لگ رہی ہیں"
اریش اس کا منفرد سا حسن اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے بے ساختہ بولا جس پر نظر اٹھا کر مشعل نے ایک دم اس کو دیکھا

"میرا مطلب ہے اچھی تو شروع دن سے ہی لگی تھی مگر آج اور زیادہ لگ رہی ہیں"
مشعل کے ایک دم دیکھنے پر وہ وضاحت دیتے ہوئے بولا۔۔۔ جس پر مشعل کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی اور اریش مسکرا دیا

"ابھی کوئی بھی آسکتا ہے اب مجھے جانا چاہیے"
مشعل کہتے ہوئے دروازے کی بجائے ہانی کی طرف بڑھی

"ہانی کو آج یہی سونے دیں میرے پاس"
مشعل کا ارادہ بھانپ کر اریش ایک دم بولا

"ہانی سوتے میں آپ کو پریشان کرے گا اور مجھے اس کے بناء نیند نہیں آئے گی"
دوسرا جملہ بول کر اس کا دل ڈرا کہیں اریش کو کچھ برا ہی نہ لگ جائے

"اوکے پھر آپ ہانی کو اپنے پاس سلا لیں تاکہ آج آپ کی نیند پوری ہو جائے"
اریش کو بولنے پر مشعل کا دل زور سے دھڑکا وہ ہانی کو گود میں اٹھا کر بناء کچھ کہے اریش کے روم سے چلی گئی

جاری ہے
مزمل اور تابی دونوں ہی ڈرائینگ روم میں موجود تھے دونوں کو ہی وہاج نے وہاں پر بلایا تھا تھوڑی دیر بعد وہاج بھی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا

"آپ نے بلایا سر"  ارتضیٰ نے وہاج کے آنے پر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا

"ہاں بیٹھو تم دونوں سے ضروری بات کرنی تھی
وہ اس نے صوفے پر براجمان ہوتے ہوئے کہا وہ دونوں وہاج کے بولنے کا انتظار کرنے لگے

"میں وہ انسان ہوں جو بہت سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کرے یا قدم اٹھائے مگر اس اسٹیج پر آکر میں اپنی بیٹی کی وجہ سے بے بس ہوگیا ہوں۔۔۔ مجھے تمھارے اسٹیٹس یا بیک گراؤنڈ سے کوئی سروکار نہیں،، تعبیر میری اکلوتی بیٹی ہے اور مجھے بہت عزیز ہے ایک باپ ہونے کے ناطے میں تم سے امید رکھوں گا تم تعبیر کو اپنے ساتھ آگے زندگی میں خوش رکھو گے" 
وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر اپنی بات مکمل کی وہ بیٹی کے آگے اتنا مجبور نہیں تھا کیونکہ اسی میں اس کا بھی فائدہ تھا،،، مزمل اب اس کا رائٹ ہینڈ بن چکا تھا اور کافی شاطر بھی تھا اس کے اصل کاروبار سے جانکاری رکھتا تھا اس لیے اس کو داماد بناتے ہوئے وہاج کو کوئی قباحت بھی محسوس نہیں ہوئی

"سر تعبیر کی اہمیت میری زندگی میں بہت معنی رکھتی ہے جیسے آپ کی بیٹی آپ کے لئے عزیز ہے ویسے ہی تعبیر مجھے بھی بہت عزیز ہے آپ اس بات کی طرف سے بے فکر ہو جائیں تعبیر کو میں بہت خوش رکھوں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے"
اس وقت ارتضیٰ جو بھی کچھ کہا تھا وہ مزمل نہیں بلکہ ارتضیٰ بن کر ہی کہا تھا اور سچے دل سے کہا تھا
تعبیر اٹھ کر وہاج صدیقی کے پاس آئی تو اس نے اپنی بیٹی کو گلے لگایا

"تھینکیو بابا"
تعبیر نے وہاج کے گلے لگ کر کہا

"خوش ہوں"
وہاج صدیقی نے اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھ کر پوچھا جس پر خوشی کے رنگ نمایاں تھے

"بہت زیادہ"
تعبیر کے جواب پر وہاج صدیقی کے دل میں بھی اطمینان ٹھہر گیا اس کی بیٹی بھی خوش تھی اور گھاٹے کا سودا اس نے بھی نہیں کیا تھا

"میرے خیال میں نیکسٹ ویکنٹ انگیجمنٹ کی تقریر رکھ لیتے ہیں اور وہاج صدیقی کی بیٹی کی منگنی تقریب ایسی ہوگی جو دنیا دیکھی ہے"
وہاج صدیقی کے لہجے میں تفکر چھلک رہا تھا اس نے تعبیر کی پیشانی چوم کر کہا۔۔۔ تعبیر نے مسکرا کر وہاج کے بعد مزمل کو دیکھا وہ بھی تعبیر کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا یقینا آج کے دن کا آغاز ان کے لیے اچھا تھا مگر کل رات کیا انجام ہونا ہے اس سے وہ تینوں بے خبر تھے

****

آج اریش اور مشعل کا نکاح تھا۔۔۔ نکاح کی تقریب گھر میں سادگی سے منعقد کی گئی تھی مگر سادگی کے باوجود اریش کی خواہش اور ماہرہ کی ضد پر مشعل لاکھ منع کرنے کے باوجود اسے پارلر تیار ہونے جانا پڑا جبکہ اریش اپنے اور ہانی کے لئے ایک جیسے ڈیزائن کے سیم کلر کے کرتے لایا تھا دونوں نے وہی زیب تن کیے ہوئے تھے اریش اس کرتے میں جتنا ہیںڈسم لگ رہا تھا ہانی اس کرتے میں اتنا ہی کیوٹ لگ رہا تھا 

اریش کی پسند کے ڈریس میں مہارت سے کیے گئے میک اپ نےمشعل کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی اریش کی نگاہیں بار بار بھٹک کر اس کے چہرے پر ٹھہر رہی تھی وہی ہانی کا یہ حال تھا کہ وہ مشعل کے پارلر سے آنے کے بعد ٹکٹکی باندھے مشعل کو ہی دیکھے جارہا تھا اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر گلاب کی پتیاں لاکر اس کے اوپر نچھاور کر رہا تھا وہ ماہرہ کے دونوں بیٹوں اور ہر آنے والے مہمان کو فخریہ بتا رہا تھا ہانی کی مما ایک فیری ہیں

"تم نے تو آج باپ بیٹے دونوں کو اپنا دیوانہ کیا ہوا ہے۔۔۔ ہانی کی تو خیر تم ماں ہو ذرا اریش کی حالت دیکھو یہ پانچواں چکر ہے اس کا اس کمرے میں"
ماہرہ نے مشعل کے کان میں سرگوشی کی تو مشعل کا سر اور بھی جھگ گیا

جینٹس ہال میں موجود تھے ان میں زیادہ تر اریش کی آفس کلیکز۔۔۔۔ شیراز (ماہرہ کا شوہر) فرید اور نکاح سے پانچ منٹ پہلے ارتضیٰ آیا تھا وہ زیادہ تر پارٹیز اور ایسے ایونٹ کو ایوائڈ کرتا تھا یہی وجہ تھی کہ ارتضیٰ تو ساہرہ اور ماہرہ کو جانتا تھا مگر وہ دونوں ارتضیٰ کو نہیں جانتی تھی 

اریش اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ارتضیٰ نے اس کو گلے لگا کر مبارکباد دی،، ارتضیٰ وہاج سے ضروری کام کا کہہ کر اریش کے پاس آیا تھا

"اب تم بھی اپنی والی کو حقیقت بتا کر میری طرح کارنامہ انجام دے دو"
اریش نے ارتضیٰ کو نیک صلح سے نوازا تو ارتضیٰ نے ایک آئی برو اچھکا کر اس کو دیکھا

"جو کارنامہ تو نے اٹھائیس سالہ بڈھے کھڑے ہو کر انجام دیا ہے وہ میں نو سال کی عمر میں انجام دے چکا ہوں۔۔۔ ویسے بیٹا کیوٹ ہے تیرا ماشاآللہ"
ارتضیٰ نے ماہرہ کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہانی کو دیکھ کر کہا جس پر اریش مسکرایا

"اور اس کی مما بھی بہت کیوٹ ہے آ ملواتا ہوں"
اریش نے اٹھتے ہوئے کہا

"یہ بول تیرا خود کا دل بے قرار ہو رہا ہے ہانی کی مما کو دیکھنے کے لیے"
ارتضیٰ نے اٹھتے ہوئے شرارت سے اریش کو دیکھ کر کہا جس پر اریش ہنسا

"چل اسی بہانے ہی سہی تو میرے کام تو آجا"
ان دونوں نے ڈرائنگ روم کی کی طرف قدم بڑھائے جہاں پر خواتین کے بیچ میں مشعل بیٹھی ہوئی بیٹھی تھی ٹی پنک کلر کے لہنگے میں وہ تھوڑی کنفیوز لگ رہی تھی اریش نے ماہرہ سے کہہ کر اسے اپنے پاس بلوایا

"ان سے ملیں مشعل یہ میرے فرینڈ ہے ارتضیٰ جس کا میں نے آپ سے ذکر کیا تھا اور ارتضیٰ یہ ہیں ہانی کی مما پلس آریش کی وائف"
اریش کے تعارف پر وہ تینوں مسکرا دیئے

"بہت خوشی ہوئی آپ سے مل کر چند دن پہلے ہی اریش نے آپ کا ذکر کیا تھا"
مشعل نے مسکرا کر کہا

"بہت شکریہ بھابھی آپ سے  بھی مل کر بہت اچھا لگا یہ تو جب جب کال کرتا تھا آپ ہی کا ذکر کرتا تھا آپ کے بارے میں جتنا سنا اس سے بڑھ کر آپ کو پایا"
ارتضیٰ کے بولنے پر جہاں اریش نے اس کو گھورا وہی مشعل جھینپ گئی
ارتضیٰ کی نگاہ اچانک سے سامنے آتی ہوئی لڑکی پر پڑی تو اس کی ہنسی وہی تھم گئی

"ایکسکیوز می ایک ارجنٹ کال کرنا ہے مجھے"
ارتضیٰ فوراً مڑا اور لمبے لمبے ڈگ بھر کر اریش کے گھر سے باہر نکل گیا

****

تعبیر آج بہت خوش تھی آج صبح ہی جو خبر اس کو وہاج کی طرف سے ملی تھی اس کو اپنے کانوں پر یقین نہیں ہو رہا تھا اس کو لگتا تھا کہ وہاج کو مزمل کے لئے منانا ایک بہت مشکل مرحلہ ہوگا مگر وہاج کا اتنی جلدی مان جانا یہ ایک بہت بڑا معرکہ تھا جو کہ وہ بغیر کسی مشکل کے انجام دے چکی تھی اس کی سوچوں کا محور اچانک موبائل کی بچنے والی بیل نے توڑا تعبیر نے مسکرا کر نشا کی کال ریسیو کی

"کیسی ہو"
تعبیر نے نشا سے پوچھا

"ارے واہ بھائی آج تو بڑی چہکتی ہوئی آواز میں پوچھا جا رہا ہے کیا کوئی خوشخبری ملی ہے آج"
نشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا

"خوشخبری نہیں بہت بڑی خوشخبری تم بوجھو"
تعبیر نے کھلے ہوئے بالوں کو شولڈر پر ایک طرف ڈالتے ہوئے کہا

"کیا تمہارے بابا مزمل کے لیے آیگری ہوگئے"
نشا نے مذاق میں کہا جس پر تعبیر خود بھی ہنس دی

"بالکل صحیح اندازہ لگایا تم نے"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے کہا نشا ہی یونیورسٹی کی اس کی ایک اکلوتی ایسی فرینڈ تھی جس سے اس نے مزمل کے بارے میں شیئر کیا تھا۔۔۔۔ نشا نے اس کو حقیقت کا علم دیا تھا کہ تمہارے بابا کبھی بھی اس رشتے کو ایکسپٹ نہیں کریں گے کیونکہ اسٹیٹس کا فرق بہت معنی رکھتا ہے جس فیملی سے وہ دونوں بیلونگ کرتی تھی۔۔۔ تعبیر کو یہ بات نشا کے سمجھانے سے پہلے بھی پتہ تھی مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی،،، اپنے دل کو نہیں سمجھا سکتی تھی

"واقعی زبردست یار یہ معجزہ ہوا کیسے آخر"
نشا نے چیخ کر کہا پھر اپنے آمنے سامنے دیکھ کر اپنی ایکسائٹمنٹ کم کردی

"پوری تفصیل بتاؤں گی مگر یونیورسٹی میں آکر یہ بتاؤ تم کہاں پر ہو اتنا شور کیوں ہو رہا ہے"
تابی نے بیک گراونڈ کی آوازوں سے اندازہ لگایا کہ وہ کسی پبلک پلیس میں یا باہر ہے

"ارے یار بتایا تو تھا کل سے شیراز بھائی کے گھر آئی ہوئی ہو کتابوں میں سر دیے ہوئے بے زار ہو رہی تھی تو ماہرہ بھابھی کے ساتھ یہاں آگئی تھی ان کے بھائی کے نکاح میں۔۔۔۔ تعبیر قسم سے یار کیا بتاؤں اتنی پیاری ہے مشعل بھابی لگتا ہی نہیں کہ وہ تین سالہ بچے کی ماں ہیں"
نشا نے ادھر ادھر دیکھ کر آہستہ آواز میں کہا۔۔۔ ویسے ہی تعبیر کے روم کا دروازہ کھلا اور ارتضیٰ تعبیر کے روم میں آیا

"اچھا تم پکس بھیجنا میں بھی دیکھتی ہو کیسی ہیں وہ"
تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر نشا سے کہا۔۔۔ ارتضیٰ چلتا ہوا تعبیر کے پاس آیا اور اس کا موبائل کان سے ہٹا کر اسکرین دیکھی کال کاٹ کر موبائل بیڈ پر پھینکا

"جب مزمل آپ کے پاس ہو تو آپ کا سارا دھیان صرف مزمل پر ہونا چاہیے"
تعبیر کے شولڈر پر بالوں کو اپنے ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوئے ارتضیٰ نے کہا

"میں بائے ہی کہنے لگی تھی اسے،،، ویسے تم کہاں غائب   تھے اتنی دیر سے تعبیر نہ گھور کر اس سے پوچھا

"آپ نے مس کیا مجھے"
ارتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا

"ظاہری بات ہے میں ہی مس کروں گی تم تو کرنے سے رہے" تعبیر اپنی رو میں بولے جا رہی تھی تب ارتضیٰ نے اچانک سے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تعبیر بدک کر پیچھے ہٹی

"مزمل"
تعبیر نے جھینپ کر کہا اور روم سے جانے لگی تب ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑا

"کیا ہوا ناراض ہوگئی،،، آپ کے مس کرنے پر میرا کس کرنا تو بنتا تھا نا"
تابی کی نگاہیں ابھی بھی جھکی ہوئی تھی وہ اس کے ہونٹوں کو دیکھ کر بولا ارتضیٰ کی بات پر دوبارہ تابی نے اس کو گھور کر دیکھا جس پر ارتضیٰ مسکرایا

"آپ پھر سے ناراض ہوگئی تو دوبارہ کس کر کے بنانا پڑے گا مجھے"
ارتضیٰ کے کہنے پر تابی نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر دھکا دیا

"تم دن بدن بہت پھیلتے جا رہے ہو" تعبیر روم سے جانے لگی

"اچھا بات تو سنیں کہا جا رہی ہیں"
تابی کو روم سے نکلتا دیکھ کر ارتضیٰ نے اس سے پوچھا

"ظاہری بعد ہے اتنا ٹائم ہوگیا ہے تم نے تو کھانا کھا لیا ہوگا پر مجھے بھوک لگ رہی ہے"
تابی نے اداس شکل بنا کر اسے دیکھ کر کہا

"آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا اپنے ساتھ میرا بھی کھانا یہی لے آئیں" ارتضیٰ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو تعبیر روم سے چلی گئی۔۔۔ ارتضیٰ نے فورا تعبیر کا موبائل ہاتھ میں لیا اور چیک کرنے لگا

اس وقت اریش اور مشعل سے بات کرتے ہوئے اس نے نشا کو دیکھ لیا تھا وہ تو شکر ہے نشا کی نظر اس پر نہیں پڑی اس لیے وہ آرش کو بغیر کچھ کہے واپس چلا آیا۔۔۔۔ ارتضیٰ کا موبائل بجنے لگا تو اس نے تعبیر کا موبائل واپس رکھ کر اریش کی کال ریسیو کی

"بہت ہی بے وفا بے مروت قسم کا انسان ہے تو، شرم نہیں آتی تجھے میں بیوی سے باتوں میں مگن کیا ہوا تو بتائے بغیر ہی نکل گیا"
کال ریسیو کرتے اریش کے شکوے شروع ہوگیے

"بیٹا اگر آج میں تیرے گھر سے نہیں نکلتا تو تیرے نکاح والے دن لازمی میرا نکاح ٹوٹ جاتا یہ بتا یہ نشا کون ہے اور وہاں کیا کر رہی  تھی"
ارتضیٰ نے بیڈ پر لیٹے ہوئے آریش سے پوچھا جب کہ اس کی نظر سامنے دروازے پر تھی جہاں سے تابی کو واپس آنا تھا

"نشا کو تو کیسے جانتا ہے وہ تو ماہرا کی نند ہے"
آریش نے چونکتے ہوئے پوچھا

"وہ میری والی کی فرینڈ ہے اس لیے میں وہاں سے واپس آ گیا"
ارتضیٰ نے وجہ بتائی

"ارے یار یہ تو پھر بڑی گڑبڑ ہو جاتی  تھی"
اریش نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے کہا

"گڑبڑ ابھی بھی ہوسکتی ہے اس لئے اب تجھے احتیاط سے کام لینا ہوگا اور اب فون رکھ ورنہ ہانی کی مما سمجھے گی تو اپنی گرل فرینڈ سے بات کر رہا ہے اتنی رات گئے"
ارتضیٰ نے سیریس انداز میں مزاق کیا جس پر اریش ہنس پڑا

"تو سدھرنے والی چیز نہیں"
اریش نے کہتے ہوئے کال کاٹی اور اپنے روم کی طرف جانے لگا

****

اریش اپنے بیڈ روم میں آیا تو مشعل نکاح والے ڈریس میں ہی سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی مسلسل انگلیوں چٹکھانے میں مصروف تھی۔۔۔ اریش کے بیڈروم میں آج مشعل کے ساتھ ساتھ ایک سنگل چھوٹے سے بیٹھ کا بھی اضافہ ہوا تھا یہ تبدیلی مشعل کی نگاہ سے چھٹی نہیں رہ سکی اریش چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور اس کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا جس سے تھام کر وہ کھڑی ہو گئی مشعل کے ہاتھ میں ہلکی سی کپکپاہٹ اریش بخوبی محسوس کر سکتا تھا

"ہانی بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا آج ہانی کی مما آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری لگ رہی ہیں" اریش نے مشعل کے سراپے کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا اب کے مشعل نظریں نیچے جھکا گئی

اج اریش فرسٹ ٹائم مشعل کو ہیوی میک اپ اور ہیوی کپڑوں میں دیکھ رہا تھا جب سے وہ اس کے گھر میں شفٹ ہوئی تھی وہ اریش کو ہمیشہ ہی سادہ دیکھی تھی۔ ۔۔ ویسے تو سادگی میں بھی اس کا حسن اریش کے دل پر غصب ہی ڈھاتا تھا مگر آج تو اریش بری طرح گھائل ہو چکا تھا

"پہلے تو یہ بتائیں جناب ہمارا شہزادہ کہاں ہے"
اریش نے روم میں نظر دوڑاتے ہوئے مشعل سے پوچھا

"وہ اکا اسے لے گئی تھیں"
مشعل نے نیچی نظریں جھکائے اریش کو جواب دیا

"مگر کیوں"
اریش کے پوچھنے پر مشعل نے نظریں اٹھا کر اریش کو دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا مشعل نے دوبارہ نظریں جھکالی اریش اس کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ تک  لایا

"آپ بیٹھے میں آتا ہوں"
اریش بولتا ہوا روم سے چلا گیا اس کے جانے کے بعد مشعل کی دھڑکنوں کی روانی میں کوئی کمی نہیں آئی کیونکہ اسے واپس آ جانا تھا جب وہ آیا تو ہانی اس کی گود میں اریش نے سوئے ہوئے ہانی کو سنگل بیڈ پر لٹایا۔۔۔ مشعل نے اریش کو دیکھا وہ منہ سے تو کچھ نہیں بولی مگر آنکھوں میں تشکر لیے انداز سے اسے دیکھا۔۔۔۔ اریش چلتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھا

"مشعل میں نے آپ کو اپنی زندگی میں ہانی کے ساتھ شامل کیا ہے میں ایسا نہیں چاہوں گا کہ آپ ہانی کو میری وجہ سے اگنور کر کے مجھ پر توجہ دیں مجھے آپ کا ہانی کا ساتھ مل گیا اب میرا فرض ہے کہ میں آپ دونوں کو پیار دوں آپ دونوں کا خیال رکھو"
اریش نے مشعل کا ہاتھ تھام کر کہا

"آج ہم اپنی زندگی کی نئی شروعات کرنے جا رہے ہیں آپ نے کیسے سوچا کہ یہ شروعات ہم ہانی کے بنا کریں یہ آپ کا اور میرا ہی نہیں ہانی کا بھی بیڈ روم ہے میں نے آپ سے رشتہ اس لیے نہیں جوڑا کے ہانی سے آپ دور ہو جائے"
مشعل آریش کو دیکھے گئی اور سوچ رہی تھی کیا قسمت اس پر اتنی بھی مہربان ہو سکتی ہے

"نروس"
اریش نے مشعل کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جس پر مشعل نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا مشعل نے سوچا تھا وہ اپنے اور آریش کے رشتے کے لئے اس سے کچھ ٹائم مانگے گی مگر اب اسے لگ رہا تھا کہ اریش اتنا اچھا ہے ٹائم مانگ کر اس کے ساتھ زیادتی نہیں کرنی چاہیے جب وہ اسکا اور ہانی کا اتنا خیال رکھتا ہے تو پھر مشعل کیو اس کے جائز حق سے اسے محروم کرے مشعل نے اپنا آپ اریش کو سونپنے کا فیصلہ کیا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment