Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 28

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 28


"مجھے پورا یقین تھا میرے فون پر یاد دلانے پر بھی اپ نے میڈیسن نہیں لی ہوگی"
ارتضیٰ نے مریم کو ٹیبلٹ نکال کر دی اور پانی کا گلاس تھمایا

ان دنوں وہ مریم کے پاس چکر نہیں لگا پا رہا تھا،  بس فون پر خیریت معلوم کر لیتا کل رات مریم نے سرسری انداز میں فلو کا بتایا تو آج وہ مریم کے پاس آگیا۔۔۔ ویسے تو ارتضیٰ نے ایک میڈ کا انتیظام  کیا ہوا تھا جو 24 گھنٹے مریم کے ساتھ رہتی تھی مگر مریم کی طبعیت خرابی کا سن کر اسے فکر ہونے لگی 

"ذرا سا زکام ہے مجھے کوئی ایسی طبیعت خراب نہیں ہوئی تم تو بالکل ہی اماں ٹائپ کوئی چیز بن جاتے ہو"
مریم نے مسکراتے ہوئے میڈیسن کھائی تو ارتضیٰ اس کی بات پر ہنسا

"آماں اسلئے بننا پڑتا ہے کیونکہ آپ بیماری میں چھوٹے بچوں کی طرح ری ایکٹ کرتی ہیں" ارتضیٰ نے پانی کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا

"اچھا بتاؤ گھر میں فرنیچر وغیرہ سیٹ کروا دیا"
مریم نے ارتضیٰ سے پوچھا

دو دن پہلے ہی وہ ارتضیٰ کے ساتھ اپنے اور ارتضیٰ کے بیڈ روم کا فرنیچر اور ڈرائنگ روم کے صوفے پسند کرکے آئی تھی

"تین سے چار دن میں سارا فرنیچر سیٹ ہو جائے گا مگر ابھی ہماری شفٹنگ میں تھوڑا ٹائم لگے گا پہلے آپ کی بہو کو پٹا کر گھر لے آؤ اس کے بعد آپ کو لے کر آؤں گا"
ارتضیٰ نے مریم کی گود میں سر رکھتے ہوئے اپنا پلان بتایا

"یعنی ابھی وہ مکمل ذہنی طور پر تیار نہیں ہے" 
مریم نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پوچھا

"اس کے دل اور دماغ دونوں میں مزمل بستا ہے۔۔۔ ارتضیٰ تو دور دور تک کہیں بھی نہیں دوسرا اسکے پیپرز چل رہے ہیں ابھی،، اسکے بعد ہی اسے لے کر آو گا اور ذہنی طور پر تیار تو اسکے اچھے بھی ہوگیں" 
ارتضیٰ نے اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا جس پر مریم نے اس کے کندھے پر چپت رسید کی

"خبردار ارتضیٰ جو تم نے اگر اس پر غصہ کیا تو ورنہ میری تم سے لڑائی ہو جائے گی"
مریم کی بات پر ارتضیٰ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا

"آپ پہلی ساس ہے مما جو بہو کے پیچھے اپنے بیٹے سے لڑیں گیں"
ارتضیٰ کی بات پر وہ دونوں ہی مسکرائے

"بہو کہا ہے وہ میری بیٹی ہے،،، زیادہ عرصہ نہیں، مگر پالا تو میں نے ہی ہے نا اسے"
مریم نے مسکرا کر کہا

"ٹھیک ہے مگر آپ کی بہو کم بیٹی زیادہ پر،،، غصہ کرنا تو بنتا ہے نا، بہت خوار کرتی ہے کبھی کبھی اپکی بہو کم بیٹی زیادہ"
ارتضیٰ نے دوبارہ انکھیں بند کرتے ہوئے کہا،، اب وہ مریم کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ کل ہی اس کی بہو کی خواہش پر وہ اسے نقلی طلاق کا ڈراما کر کے آرہا ہے اور یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے ناراض تھا بات نہیں کررہا تھا مگر وہاں پروا کسے تھی وہ ارام سے اپنے پیپرز میں بزی تھی

"تھوڑا بہت خوار کرنا بھی تو بنتا ہے نا،،، آخر کو وہ ہے بھی تو اسنووائٹ"
مریم کی بات پر اس نے آنکھیں بند ہی رکھی مگر چہرے پر ہلکی سی مسکان آئی جیسے وہ فوراً چھپا گیا

****

وہاج کو دوائوں اور بیڈ ریسٹ بتا کر ڈاکٹر نے ہسپتال سے تین دن پہلے ہی چھٹی کر دی تھی ارتضیٰ سے ڈائیورس کے بعد اب وہاج کو تعبیر کی فکر ہو گئی تھی

وہ جلد از جلد تعبیر کے فرض سے سبکدوش چاہتا تھا۔۔۔ پڑھائی مکمل وہ بعد میں بھی کرتی رہے گی مگر وہاج کو اپنی زندگی  میں تعبیر کے لیے کوئی مضبوط سائبان کا انتظام کرنا تھا ہسپتال سے آنے کے بعد وہ تین دن سے اسی بارے میں سوچ رہا تھا

تھوڑی دیر پہلے ہی تعبیر پیپر دے کر آئی تھی ابھی وہاج کے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی تو وہاج نے اپنے قریبی دوست حیدر شاہ کے بیٹے نبیل سے تابی کی شادی کا ارادہ کرتے ہوئے تابی سے بات کرنے کا ارادہ کیا اور تابی یقیناً مان جاتی کیوکہ وہ تابی کا یونیورسٹی فیلو تھا اس نے ایک نظر تابی کو دیکھا جو کہ اس کے لئے سیب کاٹ رہی تھی

"بیٹا مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنا ہے"
وہاج نے تعبیر سے کہا

"جی بولیے بابا میں سن رہی ہو"
تابعیر سیب کی کاشے کاٹتے ہوئے مگن انداز میں بولی اچانک روم کا دروازہ ناک ہوا اور ارتضیٰ اندر آیا

"آپ بزی ہیں میں تھوڑی دیر بعد آتا ہوں اور ارتضیٰ نے روم میں داخل ہوکر تابی کو دیکھا تو وہاج سے بولا

"نہیں آجاؤ مزمل تم بھی بیٹھ جاؤ گھر کے فرد ہو تم بھی" وہاج نے ارتضیٰ کو جاتا دیکھ کر کہا

جہاں دو ماہ میں وہ وہاج کا اعتماد جیت چکا تھا وہی فضل کے غدار نکلنے پر اب بہت سے کام کی ذمہ داریاں بھی اسی پر آ گئی تھی گھر کے نوکروں پر بھی اس کا حکم چلتا اب اسکی حیثیت واقعی کے گھر کے مالک جیسی ہوگئی تھی۔۔۔ وہاج کے بولنے پر وہ صوفے پر آ کر بیٹھا اور سرسری سی نگاہ تعبیر پر ڈالی

"آپ کچھ کہہ رہے تھے بابا"
تابی نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے ارتضیٰ کو دیکھا اور دوبارہ سیب کاٹتی ہوئی وہاج سے پوچھنے لگی

جس دن سے وہ ڈائیورس لے کر آئی تھی اس دن سے مزمل سے اس کی بات نہیں ہوئی تھی وہ یونیورسٹی بھی شوکت کے ساتھ جاتی تھی۔۔۔ تعبیر کو فیل ہوا جیسے مزمل اس سے ناراض ہے مگر ناراضگی کی وجہ تعبیر کو سمجھ میں نہیں آئی دوسرا اس کے پیپر ہو رہے تھے تو وہ پڑھائی میں مگن ہوگئی

"ہاں میں یہ کہنا چاہ رہا تھا اب میری طبیعت پہلے جیسی نہیں رہی ہے اور میں چاہتا ہوں میری بیٹی جلد از جلد اپنے گھر کی ہو جائے اس لیے میں نے آپ کے لئے نبیل کا انتخاب کیا ہے یقینناً میری بیٹی میرے فیصلے کو اہمیت دی گی" 
وہاج کی بات پر کمرے میں دونوں نفوس کو سانپ سونگھ گیا

"تابی دھیان سے" اس سے پہلے کہ وہاج اٹھ کر تابی کے پاس آتا ارتضیٰ لمبے ڈگ بھرتا ہوا تعبیر کے پاس پہنچا

"یہ کیا کیا آپ نے"
ارتضیٰ نے اس کا خون سے رنگا ہوا ہاتھ تھام کر پوچھا،، وہاج کی بات سن کر وہ سیب کی جگہ اپنا ہاتھ کاٹ چکی تھی۔۔۔ ارتضیٰ نے جلدی سے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کے ہاتھ پر باندھا۔۔۔ اس سے ناراضگی اپنی جگہ مگر وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا،،، ارتضیٰ کو یہ بھی اندازہ تھا کہ یہ سب دیکھ کر وہاج کا ابھی کیا ری ایکشن ہوگا مگر اب اسے یہ بھی فکر نہیں تھی تعبیر کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے جو کہ شاید باہر نکلنے کے لیے بے قرار تھے اس کے لب ہلکے ہلکے لرز رہے تھے

"درد ہو رہا ہے"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر پوچھا

"نہیں بابا کی بات نے زیادہ تکلیف دی ہے"
تابی نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا پھر ایک نظر حیران پریشان وہاج پر ڈالی تو ارتضیٰ بھی وہاج کو دیکھنے لگا

"کب سے چل رہا ہے یہ سب کچھ"
وہاج سنجیدہ تعصورات لئے ان دونوں سے پوچھنے لگا

"بابا آئی ایم سوری مگر میں کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی"
تعبیر نے بے بسی سے وہاج کو دیکھ کر کہا اتنے سالوں بعد اسے اپنی بیٹی میں عائشہ کی جھلک نظر آئی اس کی آنکھوں میں بھی ایسی ہی بے بسی تھی جب وہ بھائی کے منع کرنے پر اسے شادی کے لیے منا رہی تھی اور وہاج کسی مغرور دیوتا کی طرح اس پر احسان کرنے والے انداز میں اس سے شادی کے لیے راضی ہوا تھا

"تعبیر اپنے روم میں جاؤ"
وہاج نے تعبیر کو دیکھ کر کہا

"بابا پلیز"
تعبیر نے کہنا چاہا

"سنا نہیں تم نے میں نے کیا بولا ہے روم میں جاو آپنے" وہاج نے نیچی آواز میں مگر سختی سے کہا
تعبیر ایک نظر ارتضیٰ کو دیکھا اور اپنے روم میں چلی گئی

"تمہیں میں نے اپنی بیٹی کی رکھوالی کے لیے رکھا تھا عشق ومعشوقی کرنے کے لیے نہیں تابی کے روم سے جاتے ہی وہاج نے ارتضیٰ کو کہا

"آپ اگر مجھے عمر بھر کے لیے اپنی بیٹی کا رکھوالا بنائیں گے تو یہ جاب میں خوش دلی سے ساری زندگی کرنے کے لیے تیار ہو اور اس میں آپ کہیں نہ کہیں آپکو بھی فائدہ ہو ہی جائے گا۔۔۔۔ ٹھنڈے دماغ سے میری بات پر غور کریے گا تعبیر کو آپ نے دیکھ لیا ہے وہ کہیں اور شادی نہیں کرے گی اور پیچھے ہٹنے والا میں بھی نہیں"
وہاج ارتضیٰ کی دلیری پر دنگ رہ گیا مگر یہ سچ بھی تھا وہ تعبیر کی شادی زور زبردستی سے کہیں اور نہیں کرانا چاہتا تھا اور فائدے والی بعد بھی ٹھیک تھی اس کا داماد اس کے اصل کاروبار سے واقف اسکی بیٹی کی پسند بھی وہاج عجیب کشمکش میں پڑ گیا

"مجھے سوچنے کے لیے ٹاِئم چاہیے ابھی تم جاسکتے ہو"
وہاج کے کہنے پر ارتضیٰ اس کے روم سے نکل گیا

****

تعبیر اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھی ہوئی مسلسل رو رہی تھی اسے بابا کی سوچ پر غصہ آ رہا تھا انہوں نے نبیل جیسے انسان کے لئے اس کا انتخاب کیا تھا غصہ تو مزمل پر بھی آ رہا تھا جو اتنے دنوں سے اسے ڈھنگ سے بات نہیں کر رہا تھا نہ ہی اس کے کسی میسج کا رپلائی کر رہا تھا ان سب باتوں کو وہ ایک طرف رکھ کر وہ اپنے آپ پر غصہ ہونے لگی کیوکہ اس کا دل اس شخص پر مائل ہوگیا جسے اس کی رتی برابر پروا نہیں تھی یہ سوچ آتے ہی اسے مزید رونا آیا وہ دونوں پاؤں صوفے پر رکھ کر اپنا سر گھٹنوں میں دیئے رونے لگی چند منٹ گزرنے کے بعد اس کے روم کا دروازہ کھلا تعبیر نے آنے والے شخص کو سر اٹھا کر دیکھا یہ وہی شخص تھا۔۔۔
جس سے پتہ نہیں کیو اس نے اتنی محبت کرلی تھی

توقع کے عین مطابق اس کی اسنووائٹ رونے میں مشغول تھی،،، ارتضیٰ تاسف سے سر ہلایا ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر اس کے پاس آیا اور صوفے پر اسکے برابا بیٹھ گیا ارتضیٰ اب اسی کو دیکھ رہا تھا اور تعبیر دوبارہ سر گھٹنوں میں رکھ کر رونے میں مشغول ہوچکی تھی

"تعبیر ہاتھ دکھائے اپنا"
ارتضیٰ نے اس کو دیکھ کر کہا

"ضرورت نہیں ہے اس کی، میں ٹھیک ہوں"
تعبیر نے سر اٹھایا مگر ارتضیٰ کو بغیر دیکھے بولا

"کیسے ضرورت نہیں ہے ہاتھ دکھائیں شاباش"
اب کے بولنے کے ساتھ ارتضیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کیا

"تم اس طرح زبردستی نہیں کر سکتے ہو میرے ساتھ کچھ نہیں ہوا ہے مجھے چھوڑو میرا ہاتھ"
تعبیر کو اس وقت غصہ آ رہا تھا اتنے دن کی بے رخی کا بدلہ آج اس نے لینا تھا تعبیر نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا

"آپ پیار سے نہیں مانے گی تو میں آپ کے ساتھ زبردستی ہی کروں گا اور ایسا کرنے سے آپ مجھے روک نہیں سکتی اور اب کی بار آپ نے ہاتھ چھڑایا تو پھر دیکھیے گا میں کے ساتھ پھر کیا کرتا ہوں"
ارتضیٰ نے دوبارہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اور اس کی دھمکی پر تعبیر چپ کر گئی ارتضیٰ نے رومال اتار کر اس کے زخم کو اسپرٹ سے صاف کیا۔ ۔۔۔۔جس پر جلن کے باعث تعبیر نے زور سے آنکھیں بند کرلی ارتضیٰ نے اس کو ایک نظر دیکھا

"ایسی بے وقوفی کرنی ہی نہیں چاہیے جو بعد میں تکلیف کا سبب بنے"
تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کونسی بیوقوفی کی بات کر رہا ہے وہ جو اس نے انجانے میں اپنا ہاتھ کاٹ کر کی تھی یا وہ بے وقوفی جو اس نے انجانے میں محبت کرکے کی تھی

"جو تکلیف دینے کا باعث بنے وہ زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگتے"
تعبیر نے تپ کر کہا تو ارتضیٰ اس کے ہاتھ کی پٹی باندھتا ہوا ہنسا

"اف اتنا غصہ مزمل پر،، مجھے تو لگ رہا تھا مزمل آپ کو بہت پسند ہے اور تکلیف کی باتیں رہنے دے میڈم آپ نے بھی اس دل کو کم زخم نہیں دیے"
وہ تعبیر کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر تعبیر نے حیرت سے اس کو دیکھا

"میں نے زخمی کیا ہے تمہارے دل کو،،،، جی نہیں تم میرا دل دکھانے کا سبب بنے ہو، نہ مجھے مل رہے ہو نہ بات کرتے ہو مسلسل مجھے اگنور کر رہے ہو تم" تعبیر نے روتے ہوئے شکوہ کیا تو ارتضیٰ کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا اس نے تعبیر کو خود سے قریب کرتے ہوئے اس کی کمر کے گرد ہاتھ حائل کیے

"اختیارات حاصل ہو کر بھی جب بندہ بے بس ہو تو پھر وہ اپنے محبوب کو ایسی ہی سزا دیتا ہے۔۔۔ جس دن آپ میری دسترس میں ہوگی نہ اس دن سزا کی نوعیت بالکل مختلف ہوگی"
ارتضیٰ اس کی گردن پر جھکتا ہوا بولا اس وقت وہ خود کو مزمل سمجھنے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا۔۔۔ اس لیے وہ تعبیر کے بھی احتجاج کو خاطر میں لائے بغیر اسکی گردن پر اپنے ہونٹوں سے محبت کی مہر لگاتا چلا گیا

"مزمل کیا کر رہے ہو چھوڑو پلیز"
تعبیر اس کے منہ زور جذبات پر ایک دم گھبرا گئی اور اس کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا

"کمال ہے تھوڑی دیر پہلے تو اپکو اگنور ہونے کا غم کھائے جا رہا تھا اور اب ذرا سی قربت بھی برداشت نہیں کر پا رہی"
ارتضیٰ نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا

"بابا نے میرے جانے کے بعد تم سے کیا بات کی"
تعبیر نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے نظریں ملائے بغیر فکرمندی سے پوچھا چند منٹ پہلے والی ارتضیٰ کی حرکت پر اس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھی

"آپ کے بابا جان نے سوچنے کا ٹائم لیا ہے اب ان کے دل کی تو اللہ جانتا ہے مگر میں اپنے دل کی بتاؤ تو یہ آپ اچھی طرح جان لیں آپ صرف میری ہے آپ خود بھی چاہیں تو نجات ہند کا کوئی راستہ نہیں"
ارتضیٰ تعبیر کے زخمی ہاتھ کو لبوں سے چھوتا ہوا اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا

"نجات کون چاہتا ہے"
تعبیر نے پٹی میں قید ہاتھ کو دل کے قریب رکھ کر خود سے سرگوشی کی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment