🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 27
"شوکت گاڑی کیوں نہیں نکالی ابھی تک"
تعبیر نے سن گلاسز آنکھوں سے اتارتے ہوئے ڈرائیور پوچھا تعبیر کو ارتضیٰ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر ارتضیٰ سے ملنے جانا تھا جہاں اس کو ناپسندیدہ رشتے سے نجات مل جانی تھی اور واپسی پر وہاج کے پاس ہسپتال جانا تھا مگر کل رات ہونے والی تلخی کی وجہ سے تعبیر نے مزمل کی بجائے ڈرائیور کے ساتھ دونوں جگہ جانے کا پروگرام بنایا
"بی بی جی مزمل بھائی نے منع کیا ہے"
ڈرائیور نے سر جھکا کر تابی کو بتایا
"تمہارے مزمل بھائی کون ہوتے ہیں آرڈر دینے والے، گاڑی نکالو فوراً"
تعبیر کو کل رات والا غصہ مزمل پر ابھی تک چڑھا ہوا تھا اس لیے وہ شوکت پر بھی غصہ کرتے ہوئے بولی
"شوکت اندر جاو" تابی کو مزمل کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی تعبیر نے مڑ کر دیکھا وہ شوکت سے مخاطب تھا۔۔۔ شوکت معذرت خواہ نظروں سے تعبیر کو دیکھ کر اندر چلا گیا جس پر تعبیر منہ کھولے رہ گئی
"میں آپ کا باڈی گارڈ ہوں آپ کی حفاظت کی ذمہ داری میری ہے آپ کو جہاں بھی جانا ہے میرے ساتھ جائے، میں لے چلتا ہوں آپ کو ویسے کہاں جارہی ہیں آپ اتنا سج سنور کے"
ارتضیٰ نے تعبیر کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا اتفاق سے تابی نے ریڈ ٹراؤزر اور ریڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی ریڈ لپ اسٹک لگا کر اگے سے آدھے بالوں کو کیچڑ میں قید کر کے پیچھے سے کھلا چھوڑ دیا تھا،،، تابی پر غصہ ہونے کے باوجود ہمیشہ کی طرح وہ اس سے بے رخی نہیں برت سکا
"بتایا تو تھا کل تمہیں اپنا پروگرام" تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا مگر آنکھوں میں ناراضگی برقرار تھی روٹھی روٹھی سی اپنی اسنووائٹ پر ارتضیٰ کو پیار آگیا
"ریڈ کلر کے کپڑے پہن کر طلاق لینے جا رہی ہیں آپ،،، لگتا ہے بہت خوشی آج آپ کو۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ کی اتنی تیاری دیکھ کر آپ کے شوہر کا ارادہ بدل جائے"
ارتضیٰ اس کے پاس آکر بولا اور اپنا انگوٹھا تابی کے ہونٹوں پر رگڑ کے اس کی لپ اسٹک چھوٹانے لگا
"یہ کیا حرکت ہے مزمل، کیا کر رہے ہو"
تعبیر کو اس کی حرکت سمجھ میں نہیں آئی تو وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹی
"کون سا اپنے ہونٹوں سے چھٹائی ہے جو یوں برا مان رہی ہیں، میں نے دیکھ لیا آپ کا سجا سنورا روپ کافی ہے، چلیں بیٹھے کار میں"
ارتضی نے کار کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا
"میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ گی"
تعبیر کا منہ ابھی بھی پھولا ہوا تھا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"کیا چاہ رہی ہیں آپ، یہاں باہر کھڑے کھڑے آپ کی ناراضگی دور کرو"
ارتضیٰ نے بازو پکڑ کر اسے خود سے قریب کرنا چاہا تو وہ مزید دور ہٹی اور چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی تو ارتضیٰ نے بھی اپنی سیٹ سنبھال کر کار اسٹارٹ کردی
****
اوپن ایریا ریسٹورنٹ کے قریب ارتضیٰ نے کار روکی، وہ دونوں کار سے نیچے اترے تو تعبیر کو گھبراہٹ شروع ہوگئی اس نے ارتضیٰ کی آسیتن تھامی جس پر ارتضیٰ نے اس کا چہرہ دیکھا
"کیا ہوا اب، تھوڑی دیر پہلے تو بڑی جلدی تھی یہاں آنے کی اب کیوں آپ کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ڈر کیو رہی ہیں آپ اتنا"
ارتضیٰ نے اس کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر کہا
"ڈر کون رہا ہے اور میں کیوں ڈرو گی اس سے،،، بس ویسے ہی تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے"
تعبیر اپنے فیس ایکسپریشن نارمل کرتے ہوئے بولی
"اچھا جب کہ آپکی شکل دیکھ کر تو لگ رہا ہے کافی روعب میں رکھا ہوا ہے آپ کے شوہر نے آپ کو"
ارتضیٰ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے تعبیر کو کہا
"مزمل اسے بار بار میرا شوہر کہنا بند کرو ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی"
تابی کے کہنے پر ارتضیٰ نے ایک شکایتی نظر تعبیر پر ڈالی اور ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہو گیا
"تم یہی میرے پاس ہونا"
تعبیر کو ایک چئیر پر بٹھا کر ارتضیٰ جانے لگا تو تعبیر جھٹ سے بولی
"آپ کا بھی جواب نہیں میڈم خود اپنے سے دور کر کے پوچھ رہی ہیں میرے ساتھ ہو"
ارتضیٰ نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا
"کیا مطلب میں سمجھی نہیں"
تعبیر کو واقعی ارتضیٰ کی بات سمجھ میں نہیں آئی
"اس وقت جو آپ کی حالت ہو رہی ہے اس میں آپ کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا یہی بیٹھی رہیں میں وہاں کونے والی ٹیبل پر بیٹھا ہو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں"
وہ اسے تسلی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور خود کونے والی ٹیبل منتخب کرکے وہاں پر بیٹھ گیا۔۔۔ تعبیر کی نظریں بار بار ارتضیٰ کی طرف اٹھ رہی تھی جیسے وہ کہیں اسے چھوڑ کر نہ چلا جائے گا ارتضیٰ اسی کو دیکھ رہا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دے رہا تھا تعبیر مسلسل اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا کر زخمی کر چکی تھی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا اور تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس والی چیئر کر بیٹھا اس کو دیکھ کر تعبیر کا دل زور سے دھڑکا تعبیر اسے پہچان گئی تھی یہ وہی تھا ارتضیٰ جو اس کے گھر میں آیا تھا تعبیر آج اس کو روبرو دیکھ رہی تھی اس کے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگی
"تعارف کی ضرورت نہیں، پہچان تو گئی ہوگی تم ارتضیٰ حسین"
اریش نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تعبیر نے کچھ الجھ کر اریش کی طرف دیکھا
"شکل تو وہی ہے مگر اسکی آواز"
تعبیر اس کو دیکھ کر سوچنے لگی
"کیا ہوا"
تعبیر کا کنفیوز چہرہ اریش کی نظروں سے چھپ نہیں سکا اس لیے وہ پوچھ بیٹھا
"تمہاری آواز"
تعبیر نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا اس کی بات سن کے اریش بھی گڑبڑا گیا مگر اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا
"تم سے آج ملنے کی خوشی میں اور ہمیشہ کے لئے تعلق ختم کرنے کے دکھ میں، کل رات میں سو نہیں سکا تو طبیعت خراب ہوگئی گلا بھی بیٹھ گیا"
اریش نے گلہ کھنکھارتے ہوئے کہا اور دل ہی دل میں ارتضیٰ کو خوب لعنتیوں سے نوازا۔۔۔ مگر یہ وضاحت شاید تعبیر کو مطمئن نہیں کر پائی
"تعبیر اگر تم ابھی بھی چاہو تو ہم دونوں ایک ساتھ باقی کی زندگی گزار سکتے ہیں"
اریش کے بولنے کی دیر تھی، کان میں موجود بلوٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے اس کے کان میں ارتضیٰ کی آواز ابھری
"الٹی سیدھی بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو میں نے سمجھایا ہے صرف وہی بولو"
ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ یہ بات صرف اریش نے تابی کا مائنڈ ڈائیورڈ کرنے کے لیے کی ہے مگر ایک تو وہ تابی کے معاملے میں حساس طبعیت کا تھا اور دوسرا وہ چاہتا تھا کہ اریش جلد از جلد وہاں سے چلا جائے تاکہ کسی دوسری بات کو لے کر تعبیر پھر نہ الجھ جائے
"دیکھو ارتضیٰ میں فون پر بتا چکی ہو کہ میں یہ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تو پھر اس بات کا مطلب"
تعبیر نے اریش کی بات کا جواب دیا اور ایک نظر مزمل کو دیکھا جو کافی کا کپ ہونٹوں سے لگائے ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا
"کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھ سے ڈائیورس کیوں چاہتی ہوں"
اریش کے سوال پر تعبیر نے اس کو دیکھا
"نہیں تم نہیں پوچھ سکتے۔۔۔ تم نے مجھے صرف یہاں بلانے کی شرط رکھی تھی اب اپنی زبان سے مت پھرو مجھے جلدی جانا ہے"
تعبیر نے اپنے ڈر کو دباتے ہوئے کہا ویسے بھی مزمل وہی تھا اسے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی
"جیسے تمہاری مرضی اس میں سائن کر دیے ہیں میں نے"
اریش نے اپنی جیکٹ کے اندر سے خاکی لفافہ نکال کر تعبیر کی طرف بڑھایا جسے تعبیر نے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا اور کھول کر دیکھا وہ سائن شدہ ڈائیورس پیپر تھے
تعبیر اینولپ بیگ میں رکھے بغیر کھڑی ہوئی اس کو دیکھ کر اریش بھی کھڑا ہوا اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا تعبیر اس کو جاتا ہوا دیکھنے لگی
"پڑگئی ٹھنڈک، میرا مطلب ہے مل گئی ڈائیورس"
ارتضیٰ نے اس کے پاس آکر اس کے ہاتھ سے اینولپ لیتے ہوئے کہا پیپر پر سرسری سی نگاہ ڈال کر اسے اپنی پاکٹ میں رکھ لیا
"کیا ہوا واپس چلنے کا ارادہ نہیں ہے"
ارتضیٰ اس کو گم سم دیکھ کر بولا
"کچھ عجیب سا لگ رہا ہے مجھے اس کا انداز آواز"
تعبیر نے دور جاتے اریش کو دیکھ کر کہا
"رکیں میں اس کو بلا کر پوچھ لیتا ہوں"
ارتضیٰ اریش کے پاس جانے لگا
"رہنے دو مزمل جو چاہیے تھا وہ مل گیا اسے جانے دو"
تعبیر کہتی ہوئی ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی اور اس کے پیچھے ارتضیٰ بھی
****
وہ دونوں وہاج صدیقی کے پاس اسپتال پہنچے تھوڑی دیر بعد ارتضیٰ کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہاج صدیقی تعبیر سے گویا ہوا
"تابی بیٹا تھوڑی دیر پہلے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے میرے رپورٹس کب تک مل جائے گی ڈاکٹر سے ٹائم پوچھ کر آو ذرا"
وہاج کے کہنے پر تابی سر ہلا کر اٹھ گئی اور روم سے باہر نکل گئی
"ہاں مزمل بولو تم کچھ کہنا چاہ رہے تھے"
تابی کے جانے کے بعد وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا
"سر یہ میڈم کے ڈائیورس پیپر ہیں جن پر ارتضیٰ کے سائن ہیں"
اس نے اینولپ وہاج صدیقی کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
"گڈ یہ تو بہت اچھا ہوگیا"
وہاج صدیقی نے پیپرز دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے اپنی زندگی میں پہلا باپ دیکھا تھا جو اپنی بیٹی کی ڈائیورس پر خوش ہو رہا تھا
"اور سر دوسری اہم خبر یہ ہے کہ کل رات پولیس نے ستار میمن کو گرفتار کر لیا ہے اس کے پاس سے جو بھی اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ سب وہی تھا جو آپ کے گودام سے غائب ہوا"
ارتضیٰ نے وہاج صدیقی کو دیکھتے ہوئے بتایا
"ہاں دیکھا تھا میں نے نیوز چینل پر،، وہ فضل حرام خور جسے میں نے اپنا وفادار سمجھا وہی دغا دے گیا مجھے،، ستار سے ملا ہوا تھا وہ۔۔۔ اچھا کیا تم نے جو نمک حرام کو مار دیا"
وہاج کو فضل کا سوچ کر غصہ آنے لگا ابھی وہ کچھ بولتا کہ تعبیر واپس آگئی اسے دیکھ کر وہ دونوں ہی چپ ہو گئے
"آپ لوگ بیٹھے میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں"
ارتضیٰ اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا
****
"اب بکواس کرو ذرا کیا بول رہے تھے تم تعبیر سے"
اریش نے کال ریسیو کی تو موبائل سے ارتضیٰ کی آواز ابھری
"او ہیرو کیا بول دیا ایسا تیری والی سے"
اریش نے اسی کے اسٹائل میں پوچھا جس میں ارتضیٰ اس سے اکثر بات کرتا تھا
"یہ میری والی سے زندگی ساتھ گزارنے کی باتیں کون کر رہا تھا۔۔۔ ابھی بتاؤ تیری والی کو"
ارتضیٰ نے اریش کو ریسٹورنٹ والی بات یاد دلائی اور ساتھ میں دھمکی بھی دی جس پر اریش ہنسا
"وہ تو میں ایسے ہی چیک کر رہا تھا،، کیا پتہ مجھ جیسے ہینڈسم شوہر کو دیکھ کر مسز تعبیر کا طلاق کا ارادہ بدل جائے"
اریش نے ارتضیٰ کو تپاتے ہوئے کہا
"مگر افسوس تیرے ہنڈسم ہونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا،،، لگتا ہے ہانی کی مما کو بھی تیری حرکتوں سے آگاہ کرنا پڑے گا"
ارتضیٰ نے اس کی بات پر محظوظ ہوتے ہوئے اسے دھمکی دے کر ڈرایا
"یہ ڈرانے والے حربے اپنی والی پر استعمال کر بیچاری مجھے ارتضیٰ سمجھ کر کیسے خوف سے دیکھ رہی تھی خود اپنا آپ مجھے جلاد فیل ہو رہا تھا"
اریش کے شرمندہ کرنے پر وہ ڈھیٹ بن کر مسکرایا
"بس ایک تیرے علاوہ سب ہی میرے روعب میں آتے ہیں۔۔۔۔ اپنا بتا ہانی کی مما کی طرف سے گرین سگنل ملا کے نہیں"
ارتضیٰ کی بات پر اریش ہنسا
"گرین سگنل مل گیا ہے جبھی کل ریڈ برائیڈل ڈریس خریدنے کا پروگرام بنایا ہے۔۔۔۔ ایک ہفتہ بعد نکاح کی تقریب ہوگی اور میں تیری طرف سے کوئی بہانہ نہیں سنوں گا اس لئے تجھے پہلے ہی بتا رہا ہوں"
اریش نے اپنا پروگرام بتایا ایک دو باتیں کر کے کال کاٹی
****
"اریش آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں اس طرح بالکل اچھا نہیں لگ رہا مجھے" اریش آج آفس سے جلدی آگیا تھا آتے ہی اس نے مشعل اور ہانی کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام بنایا ہے جس پر مشعل بالکل راضی نہیں ہو رہی تھی مگر اریش کے ساتھ ساتھ اکا اور ہانی بھی اصرار کرنے لگے تو مجبورا اسے آنا پڑا
"یار مشعل آپ شروع سے ہی اتنی بور ہیں یا یہ خاص میرے لیے ایسا ری ایکٹ کرتی ہیں پلیز اب ہانی کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی اپنی عادت بدل لیں آپ
اریش نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے مشعل سے کہا ہانی پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا
"ڈیڈ ہانی کی مما روز کپڑے بدل سکتی ہیں عادت نہیں بدل سکتی" ہانی کے بولنے پر جہاں اریش ہنسا وہی مشعل نے پیچھے مڑ کر اس کو گھورا
"ہانی بڑوں کے بیچ میں نہیں بولتے کتنی بار سمجھایا ہے مما نے آپ کو"
مشعل نے ہانی کو ٹوکا جس پر اس نے فوراً اپنے دونوں کان پکڑ لیے مشعل نے ایک نظر ڈرائیو کرتے ہوئے اریش پر ڈالی
"میں بالکل بورنگ پرسن نہیں ہوں مگر ہمارے درمیان کوئی ایسا تعلق قائم نہیں ہوا ہے اس لئے ساتھ گھومنا پھرنا عجیب لگتا ہے"
مشعل ہانی کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے آہستہ سے بولی
"رشتہ اور تعلق انشاءاللہ ہفتے بعد قائم ہو جائے گا اور میں آپ کو اس تعلق کو یادگار بنانے کے لیے لے کر جا رہا ہوں،، مطلب کچھ شاپنگ کرنی آپ کے لیے"
ہفتے بعد مشعل اور اریش کا نکاح تھا جو کہ مشعل کی خواہش کے مطابق سادگی سے گھر میں طے پایا گیا تھا اریش کی دونوں بہنیں اپنے بھائی کی خوشی دیکھ کر خود بھی خوشی خوشی راضی ہوگئی۔۔۔ مائرہ کل ہی مشعل سے مل کر گئی تھی اور اسے اریش کی چوائس پسند آئی تھی اس کے دونوں بیٹوں سے کی ہانی سے دوستی ہوگئی تھی
"اریش میری خواہش تھی سادگی سے تقریب انجام دی جائے"
مشعل نے اریش کو یاد دلایا
"میں نے آپکی خواہش کو پورا احترام کیا ہے مشعل، تقریب گھر کے خاص خاص لوگوں کے سامنے نہایت سادگی سے ہو رہی ہے، بس نکاح کے لیے ڈریس آپ میری پسند کا لے گیں۔ ۔۔۔ اب آپکی باری ہے کہ آپ میری خواہش کا احترام کریں"
اریش نے مسکرا کر مشعل کو دیکھا تو مشعل نے ہار مانتے والے انداز میں سر ہلایا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ اریش اور ہانی اب اپنی باتوں میں مصروف ہوچکے تھے
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 27
"شوکت گاڑی کیوں نہیں نکالی ابھی تک"
تعبیر نے سن گلاسز آنکھوں سے اتارتے ہوئے ڈرائیور پوچھا تعبیر کو ارتضیٰ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر ارتضیٰ سے ملنے جانا تھا جہاں اس کو ناپسندیدہ رشتے سے نجات مل جانی تھی اور واپسی پر وہاج کے پاس ہسپتال جانا تھا مگر کل رات ہونے والی تلخی کی وجہ سے تعبیر نے مزمل کی بجائے ڈرائیور کے ساتھ دونوں جگہ جانے کا پروگرام بنایا
"بی بی جی مزمل بھائی نے منع کیا ہے"
ڈرائیور نے سر جھکا کر تابی کو بتایا
"تمہارے مزمل بھائی کون ہوتے ہیں آرڈر دینے والے، گاڑی نکالو فوراً"
تعبیر کو کل رات والا غصہ مزمل پر ابھی تک چڑھا ہوا تھا اس لیے وہ شوکت پر بھی غصہ کرتے ہوئے بولی
"شوکت اندر جاو" تابی کو مزمل کی آواز اپنے پیچھے سے سنائی دی تعبیر نے مڑ کر دیکھا وہ شوکت سے مخاطب تھا۔۔۔ شوکت معذرت خواہ نظروں سے تعبیر کو دیکھ کر اندر چلا گیا جس پر تعبیر منہ کھولے رہ گئی
"میں آپ کا باڈی گارڈ ہوں آپ کی حفاظت کی ذمہ داری میری ہے آپ کو جہاں بھی جانا ہے میرے ساتھ جائے، میں لے چلتا ہوں آپ کو ویسے کہاں جارہی ہیں آپ اتنا سج سنور کے"
ارتضیٰ نے تعبیر کا بھرپور جائزہ لیتے ہوئے کہا اتفاق سے تابی نے ریڈ ٹراؤزر اور ریڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی ریڈ لپ اسٹک لگا کر اگے سے آدھے بالوں کو کیچڑ میں قید کر کے پیچھے سے کھلا چھوڑ دیا تھا،،، تابی پر غصہ ہونے کے باوجود ہمیشہ کی طرح وہ اس سے بے رخی نہیں برت سکا
"بتایا تو تھا کل تمہیں اپنا پروگرام" تعبیر نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا مگر آنکھوں میں ناراضگی برقرار تھی روٹھی روٹھی سی اپنی اسنووائٹ پر ارتضیٰ کو پیار آگیا
"ریڈ کلر کے کپڑے پہن کر طلاق لینے جا رہی ہیں آپ،،، لگتا ہے بہت خوشی آج آپ کو۔۔۔ ہو سکتا ہے آپ کی اتنی تیاری دیکھ کر آپ کے شوہر کا ارادہ بدل جائے"
ارتضیٰ اس کے پاس آکر بولا اور اپنا انگوٹھا تابی کے ہونٹوں پر رگڑ کے اس کی لپ اسٹک چھوٹانے لگا
"یہ کیا حرکت ہے مزمل، کیا کر رہے ہو"
تعبیر کو اس کی حرکت سمجھ میں نہیں آئی تو وہ بوکھلا کر پیچھے ہٹی
"کون سا اپنے ہونٹوں سے چھٹائی ہے جو یوں برا مان رہی ہیں، میں نے دیکھ لیا آپ کا سجا سنورا روپ کافی ہے، چلیں بیٹھے کار میں"
ارتضی نے کار کا فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے کہا
"میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ گی"
تعبیر کا منہ ابھی بھی پھولا ہوا تھا یہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
"کیا چاہ رہی ہیں آپ، یہاں باہر کھڑے کھڑے آپ کی ناراضگی دور کرو"
ارتضیٰ نے بازو پکڑ کر اسے خود سے قریب کرنا چاہا تو وہ مزید دور ہٹی اور چپ کر کے گاڑی میں بیٹھ گئی تو ارتضیٰ نے بھی اپنی سیٹ سنبھال کر کار اسٹارٹ کردی
****
اوپن ایریا ریسٹورنٹ کے قریب ارتضیٰ نے کار روکی، وہ دونوں کار سے نیچے اترے تو تعبیر کو گھبراہٹ شروع ہوگئی اس نے ارتضیٰ کی آسیتن تھامی جس پر ارتضیٰ نے اس کا چہرہ دیکھا
"کیا ہوا اب، تھوڑی دیر پہلے تو بڑی جلدی تھی یہاں آنے کی اب کیوں آپ کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ڈر کیو رہی ہیں آپ اتنا"
ارتضیٰ نے اس کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر کہا
"ڈر کون رہا ہے اور میں کیوں ڈرو گی اس سے،،، بس ویسے ہی تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی ہے"
تعبیر اپنے فیس ایکسپریشن نارمل کرتے ہوئے بولی
"اچھا جب کہ آپکی شکل دیکھ کر تو لگ رہا ہے کافی روعب میں رکھا ہوا ہے آپ کے شوہر نے آپ کو"
ارتضیٰ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے تعبیر کو کہا
"مزمل اسے بار بار میرا شوہر کہنا بند کرو ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی"
تابی کے کہنے پر ارتضیٰ نے ایک شکایتی نظر تعبیر پر ڈالی اور ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہو گیا
"تم یہی میرے پاس ہونا"
تعبیر کو ایک چئیر پر بٹھا کر ارتضیٰ جانے لگا تو تعبیر جھٹ سے بولی
"آپ کا بھی جواب نہیں میڈم خود اپنے سے دور کر کے پوچھ رہی ہیں میرے ساتھ ہو"
ارتضیٰ نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا
"کیا مطلب میں سمجھی نہیں"
تعبیر کو واقعی ارتضیٰ کی بات سمجھ میں نہیں آئی
"اس وقت جو آپ کی حالت ہو رہی ہے اس میں آپ کو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا یہی بیٹھی رہیں میں وہاں کونے والی ٹیبل پر بیٹھا ہو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں"
وہ اسے تسلی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور خود کونے والی ٹیبل منتخب کرکے وہاں پر بیٹھ گیا۔۔۔ تعبیر کی نظریں بار بار ارتضیٰ کی طرف اٹھ رہی تھی جیسے وہ کہیں اسے چھوڑ کر نہ چلا جائے گا ارتضیٰ اسی کو دیکھ رہا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دے رہا تھا تعبیر مسلسل اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا کر زخمی کر چکی تھی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد سامنے سے ایک شخص آتا دکھائی دیا اور تعبیر کو دیکھ کر اس کے پاس والی چیئر کر بیٹھا اس کو دیکھ کر تعبیر کا دل زور سے دھڑکا تعبیر اسے پہچان گئی تھی یہ وہی تھا ارتضیٰ جو اس کے گھر میں آیا تھا تعبیر آج اس کو روبرو دیکھ رہی تھی اس کے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کی بوندیں نمایاں ہونے لگی
"تعارف کی ضرورت نہیں، پہچان تو گئی ہوگی تم ارتضیٰ حسین"
اریش نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تعبیر نے کچھ الجھ کر اریش کی طرف دیکھا
"شکل تو وہی ہے مگر اسکی آواز"
تعبیر اس کو دیکھ کر سوچنے لگی
"کیا ہوا"
تعبیر کا کنفیوز چہرہ اریش کی نظروں سے چھپ نہیں سکا اس لیے وہ پوچھ بیٹھا
"تمہاری آواز"
تعبیر نے کنفیوز ہوتے ہوئے کہا اس کی بات سن کے اریش بھی گڑبڑا گیا مگر اپنے چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا
"تم سے آج ملنے کی خوشی میں اور ہمیشہ کے لئے تعلق ختم کرنے کے دکھ میں، کل رات میں سو نہیں سکا تو طبیعت خراب ہوگئی گلا بھی بیٹھ گیا"
اریش نے گلہ کھنکھارتے ہوئے کہا اور دل ہی دل میں ارتضیٰ کو خوب لعنتیوں سے نوازا۔۔۔ مگر یہ وضاحت شاید تعبیر کو مطمئن نہیں کر پائی
"تعبیر اگر تم ابھی بھی چاہو تو ہم دونوں ایک ساتھ باقی کی زندگی گزار سکتے ہیں"
اریش کے بولنے کی دیر تھی، کان میں موجود بلوٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے اس کے کان میں ارتضیٰ کی آواز ابھری
"الٹی سیدھی بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو میں نے سمجھایا ہے صرف وہی بولو"
ارتضیٰ کو اندازہ تھا کہ یہ بات صرف اریش نے تابی کا مائنڈ ڈائیورڈ کرنے کے لیے کی ہے مگر ایک تو وہ تابی کے معاملے میں حساس طبعیت کا تھا اور دوسرا وہ چاہتا تھا کہ اریش جلد از جلد وہاں سے چلا جائے تاکہ کسی دوسری بات کو لے کر تعبیر پھر نہ الجھ جائے
"دیکھو ارتضیٰ میں فون پر بتا چکی ہو کہ میں یہ رشتہ نہیں رکھنا چاہتی تو پھر اس بات کا مطلب"
تعبیر نے اریش کی بات کا جواب دیا اور ایک نظر مزمل کو دیکھا جو کافی کا کپ ہونٹوں سے لگائے ان دونوں کی طرف ہی دیکھ رہا تھا
"کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھ سے ڈائیورس کیوں چاہتی ہوں"
اریش کے سوال پر تعبیر نے اس کو دیکھا
"نہیں تم نہیں پوچھ سکتے۔۔۔ تم نے مجھے صرف یہاں بلانے کی شرط رکھی تھی اب اپنی زبان سے مت پھرو مجھے جلدی جانا ہے"
تعبیر نے اپنے ڈر کو دباتے ہوئے کہا ویسے بھی مزمل وہی تھا اسے ڈرنے کی کیا ضرورت تھی
"جیسے تمہاری مرضی اس میں سائن کر دیے ہیں میں نے"
اریش نے اپنی جیکٹ کے اندر سے خاکی لفافہ نکال کر تعبیر کی طرف بڑھایا جسے تعبیر نے کانپتے ہاتھوں سے تھام لیا اور کھول کر دیکھا وہ سائن شدہ ڈائیورس پیپر تھے
تعبیر اینولپ بیگ میں رکھے بغیر کھڑی ہوئی اس کو دیکھ کر اریش بھی کھڑا ہوا اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گیا تعبیر اس کو جاتا ہوا دیکھنے لگی
"پڑگئی ٹھنڈک، میرا مطلب ہے مل گئی ڈائیورس"
ارتضیٰ نے اس کے پاس آکر اس کے ہاتھ سے اینولپ لیتے ہوئے کہا پیپر پر سرسری سی نگاہ ڈال کر اسے اپنی پاکٹ میں رکھ لیا
"کیا ہوا واپس چلنے کا ارادہ نہیں ہے"
ارتضیٰ اس کو گم سم دیکھ کر بولا
"کچھ عجیب سا لگ رہا ہے مجھے اس کا انداز آواز"
تعبیر نے دور جاتے اریش کو دیکھ کر کہا
"رکیں میں اس کو بلا کر پوچھ لیتا ہوں"
ارتضیٰ اریش کے پاس جانے لگا
"رہنے دو مزمل جو چاہیے تھا وہ مل گیا اسے جانے دو"
تعبیر کہتی ہوئی ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی اور اس کے پیچھے ارتضیٰ بھی
****
وہ دونوں وہاج صدیقی کے پاس اسپتال پہنچے تھوڑی دیر بعد ارتضیٰ کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہاج صدیقی تعبیر سے گویا ہوا
"تابی بیٹا تھوڑی دیر پہلے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے میرے رپورٹس کب تک مل جائے گی ڈاکٹر سے ٹائم پوچھ کر آو ذرا"
وہاج کے کہنے پر تابی سر ہلا کر اٹھ گئی اور روم سے باہر نکل گئی
"ہاں مزمل بولو تم کچھ کہنا چاہ رہے تھے"
تابی کے جانے کے بعد وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر کہا
"سر یہ میڈم کے ڈائیورس پیپر ہیں جن پر ارتضیٰ کے سائن ہیں"
اس نے اینولپ وہاج صدیقی کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
"گڈ یہ تو بہت اچھا ہوگیا"
وہاج صدیقی نے پیپرز دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے کہا ارتضیٰ نے اپنی زندگی میں پہلا باپ دیکھا تھا جو اپنی بیٹی کی ڈائیورس پر خوش ہو رہا تھا
"اور سر دوسری اہم خبر یہ ہے کہ کل رات پولیس نے ستار میمن کو گرفتار کر لیا ہے اس کے پاس سے جو بھی اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ سب وہی تھا جو آپ کے گودام سے غائب ہوا"
ارتضیٰ نے وہاج صدیقی کو دیکھتے ہوئے بتایا
"ہاں دیکھا تھا میں نے نیوز چینل پر،، وہ فضل حرام خور جسے میں نے اپنا وفادار سمجھا وہی دغا دے گیا مجھے،، ستار سے ملا ہوا تھا وہ۔۔۔ اچھا کیا تم نے جو نمک حرام کو مار دیا"
وہاج کو فضل کا سوچ کر غصہ آنے لگا ابھی وہ کچھ بولتا کہ تعبیر واپس آگئی اسے دیکھ کر وہ دونوں ہی چپ ہو گئے
"آپ لوگ بیٹھے میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں"
ارتضیٰ اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا
****
"اب بکواس کرو ذرا کیا بول رہے تھے تم تعبیر سے"
اریش نے کال ریسیو کی تو موبائل سے ارتضیٰ کی آواز ابھری
"او ہیرو کیا بول دیا ایسا تیری والی سے"
اریش نے اسی کے اسٹائل میں پوچھا جس میں ارتضیٰ اس سے اکثر بات کرتا تھا
"یہ میری والی سے زندگی ساتھ گزارنے کی باتیں کون کر رہا تھا۔۔۔ ابھی بتاؤ تیری والی کو"
ارتضیٰ نے اریش کو ریسٹورنٹ والی بات یاد دلائی اور ساتھ میں دھمکی بھی دی جس پر اریش ہنسا
"وہ تو میں ایسے ہی چیک کر رہا تھا،، کیا پتہ مجھ جیسے ہینڈسم شوہر کو دیکھ کر مسز تعبیر کا طلاق کا ارادہ بدل جائے"
اریش نے ارتضیٰ کو تپاتے ہوئے کہا
"مگر افسوس تیرے ہنڈسم ہونے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا،،، لگتا ہے ہانی کی مما کو بھی تیری حرکتوں سے آگاہ کرنا پڑے گا"
ارتضیٰ نے اس کی بات پر محظوظ ہوتے ہوئے اسے دھمکی دے کر ڈرایا
"یہ ڈرانے والے حربے اپنی والی پر استعمال کر بیچاری مجھے ارتضیٰ سمجھ کر کیسے خوف سے دیکھ رہی تھی خود اپنا آپ مجھے جلاد فیل ہو رہا تھا"
اریش کے شرمندہ کرنے پر وہ ڈھیٹ بن کر مسکرایا
"بس ایک تیرے علاوہ سب ہی میرے روعب میں آتے ہیں۔۔۔۔ اپنا بتا ہانی کی مما کی طرف سے گرین سگنل ملا کے نہیں"
ارتضیٰ کی بات پر اریش ہنسا
"گرین سگنل مل گیا ہے جبھی کل ریڈ برائیڈل ڈریس خریدنے کا پروگرام بنایا ہے۔۔۔۔ ایک ہفتہ بعد نکاح کی تقریب ہوگی اور میں تیری طرف سے کوئی بہانہ نہیں سنوں گا اس لئے تجھے پہلے ہی بتا رہا ہوں"
اریش نے اپنا پروگرام بتایا ایک دو باتیں کر کے کال کاٹی
****
"اریش آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں اس طرح بالکل اچھا نہیں لگ رہا مجھے" اریش آج آفس سے جلدی آگیا تھا آتے ہی اس نے مشعل اور ہانی کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام بنایا ہے جس پر مشعل بالکل راضی نہیں ہو رہی تھی مگر اریش کے ساتھ ساتھ اکا اور ہانی بھی اصرار کرنے لگے تو مجبورا اسے آنا پڑا
"یار مشعل آپ شروع سے ہی اتنی بور ہیں یا یہ خاص میرے لیے ایسا ری ایکٹ کرتی ہیں پلیز اب ہانی کے ساتھ ساتھ میرے لیے بھی اپنی عادت بدل لیں آپ
اریش نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے مشعل سے کہا ہانی پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا
"ڈیڈ ہانی کی مما روز کپڑے بدل سکتی ہیں عادت نہیں بدل سکتی" ہانی کے بولنے پر جہاں اریش ہنسا وہی مشعل نے پیچھے مڑ کر اس کو گھورا
"ہانی بڑوں کے بیچ میں نہیں بولتے کتنی بار سمجھایا ہے مما نے آپ کو"
مشعل نے ہانی کو ٹوکا جس پر اس نے فوراً اپنے دونوں کان پکڑ لیے مشعل نے ایک نظر ڈرائیو کرتے ہوئے اریش پر ڈالی
"میں بالکل بورنگ پرسن نہیں ہوں مگر ہمارے درمیان کوئی ایسا تعلق قائم نہیں ہوا ہے اس لئے ساتھ گھومنا پھرنا عجیب لگتا ہے"
مشعل ہانی کی موجودگی کا احساس کرتے ہوئے آہستہ سے بولی
"رشتہ اور تعلق انشاءاللہ ہفتے بعد قائم ہو جائے گا اور میں آپ کو اس تعلق کو یادگار بنانے کے لیے لے کر جا رہا ہوں،، مطلب کچھ شاپنگ کرنی آپ کے لیے"
ہفتے بعد مشعل اور اریش کا نکاح تھا جو کہ مشعل کی خواہش کے مطابق سادگی سے گھر میں طے پایا گیا تھا اریش کی دونوں بہنیں اپنے بھائی کی خوشی دیکھ کر خود بھی خوشی خوشی راضی ہوگئی۔۔۔ مائرہ کل ہی مشعل سے مل کر گئی تھی اور اسے اریش کی چوائس پسند آئی تھی اس کے دونوں بیٹوں سے کی ہانی سے دوستی ہوگئی تھی
"اریش میری خواہش تھی سادگی سے تقریب انجام دی جائے"
مشعل نے اریش کو یاد دلایا
"میں نے آپکی خواہش کو پورا احترام کیا ہے مشعل، تقریب گھر کے خاص خاص لوگوں کے سامنے نہایت سادگی سے ہو رہی ہے، بس نکاح کے لیے ڈریس آپ میری پسند کا لے گیں۔ ۔۔۔ اب آپکی باری ہے کہ آپ میری خواہش کا احترام کریں"
اریش نے مسکرا کر مشعل کو دیکھا تو مشعل نے ہار مانتے والے انداز میں سر ہلایا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جبکہ اریش اور ہانی اب اپنی باتوں میں مصروف ہوچکے تھے
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment