🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 26
ارتضیٰ کو اجمل (پان والے) سے معلوم ہوا کہ اس کی پان کی دکان کے پاس جو چائے کا ہوٹل ہے اس پر ستار میمن کے بندے اکثر آکر بیٹھتے ہیں آجمل (پان والا) جو کہ تھا تو پان والا مگر بہت سی کام کی خبروں اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھتا تھا
ارتضیٰ نے اپنے آپ کو مزمل کا روپ دے کر روز اجمل کے پاس جانا شروع کر دیا اس کا پلان تھا کہ وہ اپنے آپ کو بے روزگار شو کرے اور کسی طرح ستار میمن کے آدمیوں سے دوستی کرے ان کا اعتماد جیت کر ان کے گینگ میں شامل ہو جائے کیوکہ اس کی بانسبت وہاج صدیقی کافی چلاک آدمی تھا وہ ہر کسی کو ایسے ہی اپنے پاس نہیں رکھ لیتا تھا تو ارتضیٰ نے ستار میمن کی توسط سے وہاج صدیقی تک پہنچنے کا پلان بنایا۔۔۔۔ ویسے بھی وہاج صدیقی کے گھر جو رات کی ڈیوٹی دینے والا گارڈ موجود تھا وہ ان کا اپنا بندہ تھا اور وہ اتنی جلدی وہاج صدیقی اور تعبیر کے سامنے آنا بھی نہیں چاہتا تھا
مگر جب اس نے ستار میمن کے آدمیوں کو تعبیر کی گاڑی پر فائرنگ کرتے اور تعبیر کو لے جاتے دیکھا تو اسے مزمل کے گیٹ اپ میں تعبیر کے سامنے آنا پڑا اور تعبیر کو بچانے کے لیے اس نے خود پر گولی کھائی،، زخمی حالت میں جب ہو تعبیر کو روتا دیکھ رہا تھا تو وہ اسے دلاسہ نہیں دے سکا مگر اس وقت اس کے پاس ایک چاقو موجود تھا وہ انتظار کر رہا تھا ستار میمن کے آدمی اس گڑھے میں قریب آئے تو وہ تعبیر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا مگر تعبیر کو نہیں لے جانے دے گا مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہاج اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں پر پہنچ گیا۔۔۔ وہ وہاج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر تعبیر کے بتانے پر کہ اس نے تعبیر کی جان بچائی نہ صرف وہاج نے اس کا علاج کرایا بلکہ اس کو اپنے پاس جاب کے افر بھی کری جبکہ وہاج کے ملنے سے پہلے ستار میمن اس سے ملنے آچکا تھا بےشک مزمل کی وجہ سے اس کا پلان چوپٹ ہوگیا تھا مگر پھر بھی ستار میمن نے اس کی بہادری سے قائل ہو کر اسے اپنے پاس کام کی آفر کری
چوائس اس کے پاس تھی تو اس نن وہاج کے پاس کام کرنے کو ترجیح دی۔۔۔ وہاج کے پاس جاب کرنا ایک طرح سے اس کے لیے اچھا ثابت ہوا ایک تو وہ آسانی سے اس کے گھر میں رہ کر اس اسلحہ کا پتہ کر سکتا تھا جو وہ اس نے اپنے گھر میں ہی کسی خفیہ جگہ پر چھپایا ہوا تھا اور دوسرا وہ تعبیر کی حفاظت بھی ستار میں منصب بخوبی کر سکتا تھا مگر اسے ستار میمن کو پکڑوانے کے لیے اس سے بھی بنا کر رکھنی تھی اس لیے اس نے ستار میمن کا اعتبار جیتنے کے لیے اس کو یقین دلایا وہ جاب تو وہاج صدیقی کے پاس کرے گا مگر وفاداری وہ اس سے نبھائے گا
ہسپتال سے صحت یاب ہونے کے بعد جب وہ پہلی بار وہاج صدیقی کے گھر گیا اور تابی گولی کی آواز سن کر باہر آئی تب ارتضیٰ نے اس کی آنکھوں میں مزمل کے لیے خاص چمک دیکھی جو اسے عجیب لگی وہاج کے گھر سے باہر نکلنے کے بعد اس نے مزمل کے روپ میں ارتضیٰ بن کر تعبیر کو کال کی مگر تعبیر نے ارتضیٰ سے سیدھے منہ بات نہیں کری اگلے دن جب وہ تعبیر کے بلانے پر مزمل بن کر اس کو مال لے کر جانے لگا تب گاڑی میں تعبیر کا فرینک ہونا اسے حیران کر گیا وہ ایک باڈی گارڈ سے دوستانہ لہجے میں بات کر رہی تھی جبکہ ارتضیٰ کو اس کی یونیورسٹی کے سارے فرینڈز کا معلوم تھا وہ لڑکوں سے ایک لمٹ میں ہو کر ملتی تھی اور نہ ہی اس نے ارتضیٰ کو کوئی لفٹ کرائی مگر اپنے باڈی گارڈ سے فری ہونا اسے سمجھ میں نہیں آیا
جب اس نے مزمل کو سلون لے جاکر اس کا حلیہ بالکل بدل دیا تب وہ بے بس ہوا مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ وہ جتنا اپنا آپ ان دونوں باپ بیٹی سے چھپانا چاہ رہا تھا مگر اس کی میڈم نے اپنے باڈی گارڈ کو انسان بنانے کی ٹھان رکھی تھی
اس کے بعد مزمل تعبیر کی،، اس کا گھر دیکھنے کی فرمائش پر اچھا خاصا بوکھلا گیا مگر یہ اتفاق ہی تھا کہ آجمل پان والا اپنی فیملی کے ساتھ کہیں گیا ہوا تھا اور اس کے گھر کی ڈوبلیکیٹ چابی ارتضیٰ کے پاس تھی بالکل ویسے ہی جیسے وہاج کی، تعبیر کی اور ستار میمن کے بیڈ روم کی چابیاں وہ اپنے پاس رکھتا تھا اس طرح سے مزمل نے اپنا گھر دیکھا کر اپنی میڈم کی یہ خواہش پوری کردی تعبیر کے کہنے پر ارتضیٰ کا اس کے کوارٹر میں رکنا ارتضیٰ کے فائدے میں گیا اب وہ آسانی سے رات کے پہر اپنا کام انجام دے سکتا تھا
وہاج صدیقی اس پر بھروسہ کرتا تھا کیوکہ اس نے تعبیر کی جان بچائی تھی مگر وہ جس کی نظروں میں کھٹکتا تھا وہ فضل تھا اور اس بات کا اندازہ ارتضیٰ کو اچھی طرح ہو گیا تھا
اپنی جاب کے دوسرے دن جب مزمل تعبیر کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تو تعبیر کی آنکھوں میں مزمل کے لیے ستائش دیکھ کر ارتضیٰ کو اچھا نہیں لگا اس وجہ سے مزمل نے اس کے اور اپنے درمیان اسٹیٹس کا فرق بتایا جس پر تعبیر نے مزمل سے محبت کا اظہار کیا تب اسے تعبیر پر سخت غصہ آیا
جب ارتضیٰ اس کو اتنا چاہتا تھا اور اسے فون پر اچھی طرح یہ بات باور کرائی تھی کہ وہ اس کی ہے تو تعبیر مزمل سے کیسے محبت کر سکتی تھی شاید مزمل کا سمجھانا اسے سمجھ میں نہیں آیا اس لئے ایک دفعہ ارتضیٰ کو اس کے بیڈ روم میں آکر اسے سمجھانا پڑا کہ وہ مزمل سے دور رہے
جس انداز میں ارتضیٰ نے اس کو سمجھایا اس دن تعبیر ارتضیٰ سے بری طرح ڈر گئی تھی ارتضیٰ کو لگا وہ اچھی طرح سمجھ گئی ہوگی۔۔۔ مگر ارتضیٰ کے جانے کے بعد اس نے مزمل کے گلے لگ کر رونا شروع کر دیا یعنی اس کی اسنووائٹ کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا اسی رات اس نے پوشیدہ گودام میں چھپے ہوئے اسلحے کا پتہ لگایا اور ستار میمن کا اعتماد جیتنے کے لیے اس کے آدمیوں کو ٹرک لے کر بلایا تاکہ وہ وہاج کا تھوڑا بہت اسلحہ ستار میمن کو دے سکے
اس دن وہاج صدیقی گھر پر موجود نہیں تھا تو یہ کام وہ آسانی سے کر سکتا تھا مگر اس سے پہلے اس نے اپنی میڈم کو سکون کی نیند دلانا ضروری سمجھا اور سلیپنگ پلز تعبیر کو دے دی صبح مال غائب ہونے پر وہاج کا شک مزمل پر گیا مگر تعبیر کے روم سے مزمل کو نکلتے دیکھ کر وہ یہ بات بھول گیا،، مزمل اور تعبیر پر غصہ کرنے لگا۔۔۔ مگر مزمل کے بتانے پر کے کل رات کو کوئی تعبیر کے بیڈروم میں آیا تھا وہاج صدیقی کا شک اس آدمی پر چلا گیا۔۔۔ مزمل نے اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جاب چھوڑنے کا ڈرامہ کیا تو وہاج نے اس کو روک لیا یعنی وہ دوبارہ وہاج کا اعتماد جیت چکا تھا دوسری طرف ستار میمن کو اسلحہ دے کر وہ اس کے بھی وفاداروں کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا
جیسا جیسا وہ چاہ رہا تھا سب ویسے ہی ہو رہا تھا مگر جو غلط ہو رہا تھا وہ چاہ کر بھی صحیح نہیں کر سکتا تھا اور وہ تھا تعبیر کا مزمل کی طرف جھکاو۔۔۔۔ مگر مزمل بھی کیا کرتا وہ اپنی میڈم کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ کر بے بس ہو جاتا چاہنے کے باوجود اس سے بے رخی نہیں برت سکتا تھا
جن لمحات میں وہ مزمل بن کر تابی کے پاس آتا تو مزمل کا دل بھی اپنی میڈم کے لئے مچل جاتا کیوکہ مزمل ہو یا ارتضیٰ دل تو اس کا ایک ہی تھا جو کہ صرف اپنی اسنووائٹ یا اپنی میڈم کے لیے دھڑکتا تھا
نشے کی حالت میں جب تابی نے مزمل سے اوٹ پٹانگ باتیں کی تو دوسرے دن ہی مزمل نے ہوش میں اس کے قریب آکر وہ جسارت کی، وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تعبیر مزمل اور اپنے درمیان کس حد تک فاصلہ رکھتی ہے مگر تعبیر کا گریز کرنا اسے اندر سے اطمینان دے گیا
عماد کو انفارم کر کے اس نے وہاج صدیقی کے فارم ہاؤس پر ریڈ ڈلوائی۔۔۔ اسے اندازہ تھا کہ وہاج صدیقی کی گرفتاری اتنی آسانی سے ممکن نہیں مگر اس ریڈ سے یہ فائدہ ہوا کہ ڈی۔ایس۔پی وقار کا اصلی چہرہ سامنے آگیا جوکہ وہاج صدیقی سے ملا ہوا تھا۔۔۔
جب وہاج صدیقی ڈی ایس پی وقار سے باتیں کر رہا تھا تب ارتضیٰ نے جان بوجھ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ وہاج صدیقی کی ساری باتیں سن چکا ہے۔۔۔ مقصد صاف تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ اس کام میں شامل کرلے اور وہاج صدیقی نے ایسا کیا بھی۔۔۔۔
ویسے تو ارتضیٰ کو وہاج صدیقی کی سوچ کا اچھی طرح اندازہ تھا وہ کبھی بھی ارتضیٰ کو اس کی دعا نہیں دے گا مگر پھر بھی اس نے وہاج صدیقی کو آزمانے کے لیے مریم کے ساتھ اریش کو ارتضیٰ بنا کر وہاج صدیقی کے گھر بھیجا
وہ اپنے آفیشیلی کام، اس طرح کسی سے بھی نہیں کراتا تھا مگر یہ اس کا پرسنل کام تھا جس کے لیے اس نے اریش کی مدد لی اور اریش کو سب سمجھا بھی دیا کہ اسے کیا بولنا ہے،،، ویسے بھی ارتضیٰ کو اریش کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا،،، شوق سے فلمیں دیکھنے کے باعث وہ ارتضیٰ کی اچھی ایکٹنگ کر لے گا نتیجہ وہی نکلا جو اس نے سوچا تھا وہاج صدیقی نے صاف انکار کردیا
ارتضیٰ نے جب اپنے اور تعبیر کے رشتے کی حقیقت تعبیر کو بتائی تو اس کا خوف شاک میں تبدیل ہوگیا۔۔۔ وہ مزمل کے سر پر چوٹ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے چونکی مگر پھر اس کو سنجیدہ نہ لیا شاید وہ مزمل پر بہت اعتبار کرتی تھی۔۔۔ اپنے نکاح کی حقیقت کا انکشاف ہونے پر جس طرح وہ مزمل کے سامنے مزمل کو کھونے کے ڈر سے روئی۔۔۔
ارتضیٰ کا دل چاہا وہ اسی وقت اسے ساری حقیقت بتادے مگر وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا کیوکہ اس سے اس کے پلان پر اثر پڑ سکتا تھا اور ابھی وہ بہت صدیقی کے سامنے کوئی دوسرا ایشو کریٹ کرنا نہیں چاہتا تھا
وہاج صدیقی کی دی گئی پارٹی اس کے لیے اہمیت رکھتی تھی بہت سے دوسرے چہرے جن سے وہ روشناس ہوا بلکہ باتوں باتوں میں بہت سی معلومات کا بھی اسے ادراک ہوا۔۔۔ اب سے ایسی ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا کہ جب وہ وہاج صدیقی وہ رنگے ہاتھوں پکڑوا دے ساتھ ہی اس کے گھر میں موجود خفیہ گودام بھی منظر عام پر آجائے تاکہ اس کے بچ کے باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ موجود نہ ہو
دوسری طرف اس نے ستار میمن کو بھی اپنے شکنجے میں پھسا لیا تھا۔۔۔ اس کی بری نیّت اور تابی پر بری نظر پر ارتضیٰ کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی گردن مروڑ دے مگر جذباتیت سے کام لینا اس کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوگا یہی سوچ کرو صبر کے گھونٹ پی جاتا۔۔۔ ستار میمن ویسے بھی ایک لالچی انسان تھا مزید اسلحہ کی ہوس نے ارتضیٰ کا کام اور بھی آسان کردیا اس نے وہاج صدیقی کا آدھا مال ستار میمن کے گھر میں منتقل کر آیا اور عماد کو ساری معلومات سے باخبر کیا
فضل کو مارنا اس لئے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ وہ حقیقت وہاج صدیقی کو بتا دیتا تو اس کا پلان فیل ہو جاتا۔۔۔ اسلحہ غائب ہونے کی وجہ سے وہاج صدیقی کی طبیعت بگڑ گئی اس طرح اس کا پلان مزید ڈیلے ہوگیا۔۔۔۔ طبیعت خراب ہونے کے باعث وہاج صدیقی کو تعبیر کی فکر ہوئی مگر مزمل کو غصہ جب آیا جب وہاج صدیقی نے اسے ارتضیٰ کے ساتھ رخصت کرنے کی بجائے طلاق دلوانے کی بات کی
اور جب یہی بات آج نشاء کے گھر پر تعبیر نے ارتضیٰ سے کی تو اس نے سوچ لیا کہ وہ کل تعبیر کے سامنے آ کر اپنا آپ ظاہر کر دے گا اور پھر اس کی رائے جانے گا۔۔۔ وہ ویلولہ مچائے گی یہ اسے اندازہ تھا مگر اب وہاج صدیقی کی طبیعت خرابی کی وجہ سے تعبیر کا ری ایکشن اس تک نہیں پہنچے گا یا تعبیر خود بھی ایسا نہیں چاہے گی کہ اس کی وجہ سے اس کے باپ کی طبیعت مزید بگڑے یعنی اگر تعبیر کو مزمل اور ارتضیٰ کی حقیقت پتہ چلتی بھی ہے تو اس سے ارتضیٰ کے پلان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔ اسے اندازہ تھا مزمل سے وہ اتنی محبت تو کرتی ہے کہ وہ مزمل کی صورت ارتضیٰ کو بھی قبول کرلے گی مگر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والی بحث میں تعبیر کے جملے پر اسے دکھ ہوا اور اسے تعبیر پر کافی غصہ بھی آیا
"یعنی اگر مزمل ارتضیٰ ہوا تو وہ خود کشی کرنا پسند کرے گی" ارتضیٰ اس کو اس حد تک ناپسند تھا اس کو یہ اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اسے تعبیر پر جتنا بھی غصہ ہو مگر اندر سے یہ ڈر بھی تھا اس حقیقت کو جاننے کے بعد اس کا ری ایکشن کیا ہوگا جبکہ دوسری طرف ابھی وہاج کا
بھی اسپتال میں تھا اور دونوں باپ بیٹی ہی ارتضیٰ سے چھٹکارا چاہتے تھے یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اریش کی مدد لینے کے لیے اس کو کال ملائی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 26
ارتضیٰ کو اجمل (پان والے) سے معلوم ہوا کہ اس کی پان کی دکان کے پاس جو چائے کا ہوٹل ہے اس پر ستار میمن کے بندے اکثر آکر بیٹھتے ہیں آجمل (پان والا) جو کہ تھا تو پان والا مگر بہت سی کام کی خبروں اور مشکوک لوگوں پر نظر رکھتا تھا
ارتضیٰ نے اپنے آپ کو مزمل کا روپ دے کر روز اجمل کے پاس جانا شروع کر دیا اس کا پلان تھا کہ وہ اپنے آپ کو بے روزگار شو کرے اور کسی طرح ستار میمن کے آدمیوں سے دوستی کرے ان کا اعتماد جیت کر ان کے گینگ میں شامل ہو جائے کیوکہ اس کی بانسبت وہاج صدیقی کافی چلاک آدمی تھا وہ ہر کسی کو ایسے ہی اپنے پاس نہیں رکھ لیتا تھا تو ارتضیٰ نے ستار میمن کی توسط سے وہاج صدیقی تک پہنچنے کا پلان بنایا۔۔۔۔ ویسے بھی وہاج صدیقی کے گھر جو رات کی ڈیوٹی دینے والا گارڈ موجود تھا وہ ان کا اپنا بندہ تھا اور وہ اتنی جلدی وہاج صدیقی اور تعبیر کے سامنے آنا بھی نہیں چاہتا تھا
مگر جب اس نے ستار میمن کے آدمیوں کو تعبیر کی گاڑی پر فائرنگ کرتے اور تعبیر کو لے جاتے دیکھا تو اسے مزمل کے گیٹ اپ میں تعبیر کے سامنے آنا پڑا اور تعبیر کو بچانے کے لیے اس نے خود پر گولی کھائی،، زخمی حالت میں جب ہو تعبیر کو روتا دیکھ رہا تھا تو وہ اسے دلاسہ نہیں دے سکا مگر اس وقت اس کے پاس ایک چاقو موجود تھا وہ انتظار کر رہا تھا ستار میمن کے آدمی اس گڑھے میں قریب آئے تو وہ تعبیر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا مگر تعبیر کو نہیں لے جانے دے گا مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہاج اپنے آدمیوں کے ساتھ وہاں پر پہنچ گیا۔۔۔ وہ وہاج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا مگر تعبیر کے بتانے پر کہ اس نے تعبیر کی جان بچائی نہ صرف وہاج نے اس کا علاج کرایا بلکہ اس کو اپنے پاس جاب کے افر بھی کری جبکہ وہاج کے ملنے سے پہلے ستار میمن اس سے ملنے آچکا تھا بےشک مزمل کی وجہ سے اس کا پلان چوپٹ ہوگیا تھا مگر پھر بھی ستار میمن نے اس کی بہادری سے قائل ہو کر اسے اپنے پاس کام کی آفر کری
چوائس اس کے پاس تھی تو اس نن وہاج کے پاس کام کرنے کو ترجیح دی۔۔۔ وہاج کے پاس جاب کرنا ایک طرح سے اس کے لیے اچھا ثابت ہوا ایک تو وہ آسانی سے اس کے گھر میں رہ کر اس اسلحہ کا پتہ کر سکتا تھا جو وہ اس نے اپنے گھر میں ہی کسی خفیہ جگہ پر چھپایا ہوا تھا اور دوسرا وہ تعبیر کی حفاظت بھی ستار میں منصب بخوبی کر سکتا تھا مگر اسے ستار میمن کو پکڑوانے کے لیے اس سے بھی بنا کر رکھنی تھی اس لیے اس نے ستار میمن کا اعتبار جیتنے کے لیے اس کو یقین دلایا وہ جاب تو وہاج صدیقی کے پاس کرے گا مگر وفاداری وہ اس سے نبھائے گا
ہسپتال سے صحت یاب ہونے کے بعد جب وہ پہلی بار وہاج صدیقی کے گھر گیا اور تابی گولی کی آواز سن کر باہر آئی تب ارتضیٰ نے اس کی آنکھوں میں مزمل کے لیے خاص چمک دیکھی جو اسے عجیب لگی وہاج کے گھر سے باہر نکلنے کے بعد اس نے مزمل کے روپ میں ارتضیٰ بن کر تعبیر کو کال کی مگر تعبیر نے ارتضیٰ سے سیدھے منہ بات نہیں کری اگلے دن جب وہ تعبیر کے بلانے پر مزمل بن کر اس کو مال لے کر جانے لگا تب گاڑی میں تعبیر کا فرینک ہونا اسے حیران کر گیا وہ ایک باڈی گارڈ سے دوستانہ لہجے میں بات کر رہی تھی جبکہ ارتضیٰ کو اس کی یونیورسٹی کے سارے فرینڈز کا معلوم تھا وہ لڑکوں سے ایک لمٹ میں ہو کر ملتی تھی اور نہ ہی اس نے ارتضیٰ کو کوئی لفٹ کرائی مگر اپنے باڈی گارڈ سے فری ہونا اسے سمجھ میں نہیں آیا
جب اس نے مزمل کو سلون لے جاکر اس کا حلیہ بالکل بدل دیا تب وہ بے بس ہوا مگر کچھ کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ وہ جتنا اپنا آپ ان دونوں باپ بیٹی سے چھپانا چاہ رہا تھا مگر اس کی میڈم نے اپنے باڈی گارڈ کو انسان بنانے کی ٹھان رکھی تھی
اس کے بعد مزمل تعبیر کی،، اس کا گھر دیکھنے کی فرمائش پر اچھا خاصا بوکھلا گیا مگر یہ اتفاق ہی تھا کہ آجمل پان والا اپنی فیملی کے ساتھ کہیں گیا ہوا تھا اور اس کے گھر کی ڈوبلیکیٹ چابی ارتضیٰ کے پاس تھی بالکل ویسے ہی جیسے وہاج کی، تعبیر کی اور ستار میمن کے بیڈ روم کی چابیاں وہ اپنے پاس رکھتا تھا اس طرح سے مزمل نے اپنا گھر دیکھا کر اپنی میڈم کی یہ خواہش پوری کردی تعبیر کے کہنے پر ارتضیٰ کا اس کے کوارٹر میں رکنا ارتضیٰ کے فائدے میں گیا اب وہ آسانی سے رات کے پہر اپنا کام انجام دے سکتا تھا
وہاج صدیقی اس پر بھروسہ کرتا تھا کیوکہ اس نے تعبیر کی جان بچائی تھی مگر وہ جس کی نظروں میں کھٹکتا تھا وہ فضل تھا اور اس بات کا اندازہ ارتضیٰ کو اچھی طرح ہو گیا تھا
اپنی جاب کے دوسرے دن جب مزمل تعبیر کو یونیورسٹی چھوڑنے گیا تو تعبیر کی آنکھوں میں مزمل کے لیے ستائش دیکھ کر ارتضیٰ کو اچھا نہیں لگا اس وجہ سے مزمل نے اس کے اور اپنے درمیان اسٹیٹس کا فرق بتایا جس پر تعبیر نے مزمل سے محبت کا اظہار کیا تب اسے تعبیر پر سخت غصہ آیا
جب ارتضیٰ اس کو اتنا چاہتا تھا اور اسے فون پر اچھی طرح یہ بات باور کرائی تھی کہ وہ اس کی ہے تو تعبیر مزمل سے کیسے محبت کر سکتی تھی شاید مزمل کا سمجھانا اسے سمجھ میں نہیں آیا اس لئے ایک دفعہ ارتضیٰ کو اس کے بیڈ روم میں آکر اسے سمجھانا پڑا کہ وہ مزمل سے دور رہے
جس انداز میں ارتضیٰ نے اس کو سمجھایا اس دن تعبیر ارتضیٰ سے بری طرح ڈر گئی تھی ارتضیٰ کو لگا وہ اچھی طرح سمجھ گئی ہوگی۔۔۔ مگر ارتضیٰ کے جانے کے بعد اس نے مزمل کے گلے لگ کر رونا شروع کر دیا یعنی اس کی اسنووائٹ کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا اسی رات اس نے پوشیدہ گودام میں چھپے ہوئے اسلحے کا پتہ لگایا اور ستار میمن کا اعتماد جیتنے کے لیے اس کے آدمیوں کو ٹرک لے کر بلایا تاکہ وہ وہاج کا تھوڑا بہت اسلحہ ستار میمن کو دے سکے
اس دن وہاج صدیقی گھر پر موجود نہیں تھا تو یہ کام وہ آسانی سے کر سکتا تھا مگر اس سے پہلے اس نے اپنی میڈم کو سکون کی نیند دلانا ضروری سمجھا اور سلیپنگ پلز تعبیر کو دے دی صبح مال غائب ہونے پر وہاج کا شک مزمل پر گیا مگر تعبیر کے روم سے مزمل کو نکلتے دیکھ کر وہ یہ بات بھول گیا،، مزمل اور تعبیر پر غصہ کرنے لگا۔۔۔ مگر مزمل کے بتانے پر کے کل رات کو کوئی تعبیر کے بیڈروم میں آیا تھا وہاج صدیقی کا شک اس آدمی پر چلا گیا۔۔۔ مزمل نے اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جاب چھوڑنے کا ڈرامہ کیا تو وہاج نے اس کو روک لیا یعنی وہ دوبارہ وہاج کا اعتماد جیت چکا تھا دوسری طرف ستار میمن کو اسلحہ دے کر وہ اس کے بھی وفاداروں کی فہرست میں شامل ہوگیا تھا
جیسا جیسا وہ چاہ رہا تھا سب ویسے ہی ہو رہا تھا مگر جو غلط ہو رہا تھا وہ چاہ کر بھی صحیح نہیں کر سکتا تھا اور وہ تھا تعبیر کا مزمل کی طرف جھکاو۔۔۔۔ مگر مزمل بھی کیا کرتا وہ اپنی میڈم کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھ کر بے بس ہو جاتا چاہنے کے باوجود اس سے بے رخی نہیں برت سکتا تھا
جن لمحات میں وہ مزمل بن کر تابی کے پاس آتا تو مزمل کا دل بھی اپنی میڈم کے لئے مچل جاتا کیوکہ مزمل ہو یا ارتضیٰ دل تو اس کا ایک ہی تھا جو کہ صرف اپنی اسنووائٹ یا اپنی میڈم کے لیے دھڑکتا تھا
نشے کی حالت میں جب تابی نے مزمل سے اوٹ پٹانگ باتیں کی تو دوسرے دن ہی مزمل نے ہوش میں اس کے قریب آکر وہ جسارت کی، وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تعبیر مزمل اور اپنے درمیان کس حد تک فاصلہ رکھتی ہے مگر تعبیر کا گریز کرنا اسے اندر سے اطمینان دے گیا
عماد کو انفارم کر کے اس نے وہاج صدیقی کے فارم ہاؤس پر ریڈ ڈلوائی۔۔۔ اسے اندازہ تھا کہ وہاج صدیقی کی گرفتاری اتنی آسانی سے ممکن نہیں مگر اس ریڈ سے یہ فائدہ ہوا کہ ڈی۔ایس۔پی وقار کا اصلی چہرہ سامنے آگیا جوکہ وہاج صدیقی سے ملا ہوا تھا۔۔۔
جب وہاج صدیقی ڈی ایس پی وقار سے باتیں کر رہا تھا تب ارتضیٰ نے جان بوجھ کر یہ ظاہر کیا کہ وہ وہاج صدیقی کی ساری باتیں سن چکا ہے۔۔۔ مقصد صاف تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ اس کام میں شامل کرلے اور وہاج صدیقی نے ایسا کیا بھی۔۔۔۔
ویسے تو ارتضیٰ کو وہاج صدیقی کی سوچ کا اچھی طرح اندازہ تھا وہ کبھی بھی ارتضیٰ کو اس کی دعا نہیں دے گا مگر پھر بھی اس نے وہاج صدیقی کو آزمانے کے لیے مریم کے ساتھ اریش کو ارتضیٰ بنا کر وہاج صدیقی کے گھر بھیجا
وہ اپنے آفیشیلی کام، اس طرح کسی سے بھی نہیں کراتا تھا مگر یہ اس کا پرسنل کام تھا جس کے لیے اس نے اریش کی مدد لی اور اریش کو سب سمجھا بھی دیا کہ اسے کیا بولنا ہے،،، ویسے بھی ارتضیٰ کو اریش کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ تھا،،، شوق سے فلمیں دیکھنے کے باعث وہ ارتضیٰ کی اچھی ایکٹنگ کر لے گا نتیجہ وہی نکلا جو اس نے سوچا تھا وہاج صدیقی نے صاف انکار کردیا
ارتضیٰ نے جب اپنے اور تعبیر کے رشتے کی حقیقت تعبیر کو بتائی تو اس کا خوف شاک میں تبدیل ہوگیا۔۔۔ وہ مزمل کے سر پر چوٹ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے چونکی مگر پھر اس کو سنجیدہ نہ لیا شاید وہ مزمل پر بہت اعتبار کرتی تھی۔۔۔ اپنے نکاح کی حقیقت کا انکشاف ہونے پر جس طرح وہ مزمل کے سامنے مزمل کو کھونے کے ڈر سے روئی۔۔۔
ارتضیٰ کا دل چاہا وہ اسی وقت اسے ساری حقیقت بتادے مگر وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا کیوکہ اس سے اس کے پلان پر اثر پڑ سکتا تھا اور ابھی وہ بہت صدیقی کے سامنے کوئی دوسرا ایشو کریٹ کرنا نہیں چاہتا تھا
وہاج صدیقی کی دی گئی پارٹی اس کے لیے اہمیت رکھتی تھی بہت سے دوسرے چہرے جن سے وہ روشناس ہوا بلکہ باتوں باتوں میں بہت سی معلومات کا بھی اسے ادراک ہوا۔۔۔ اب سے ایسی ہی کسی موقع کے انتظار میں تھا کہ جب وہ وہاج صدیقی وہ رنگے ہاتھوں پکڑوا دے ساتھ ہی اس کے گھر میں موجود خفیہ گودام بھی منظر عام پر آجائے تاکہ اس کے بچ کے باہر نکلنے کا کوئی بھی راستہ موجود نہ ہو
دوسری طرف اس نے ستار میمن کو بھی اپنے شکنجے میں پھسا لیا تھا۔۔۔ اس کی بری نیّت اور تابی پر بری نظر پر ارتضیٰ کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی گردن مروڑ دے مگر جذباتیت سے کام لینا اس کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوگا یہی سوچ کرو صبر کے گھونٹ پی جاتا۔۔۔ ستار میمن ویسے بھی ایک لالچی انسان تھا مزید اسلحہ کی ہوس نے ارتضیٰ کا کام اور بھی آسان کردیا اس نے وہاج صدیقی کا آدھا مال ستار میمن کے گھر میں منتقل کر آیا اور عماد کو ساری معلومات سے باخبر کیا
فضل کو مارنا اس لئے ضروری ہوگیا تھا کیونکہ وہ حقیقت وہاج صدیقی کو بتا دیتا تو اس کا پلان فیل ہو جاتا۔۔۔ اسلحہ غائب ہونے کی وجہ سے وہاج صدیقی کی طبیعت بگڑ گئی اس طرح اس کا پلان مزید ڈیلے ہوگیا۔۔۔۔ طبیعت خراب ہونے کے باعث وہاج صدیقی کو تعبیر کی فکر ہوئی مگر مزمل کو غصہ جب آیا جب وہاج صدیقی نے اسے ارتضیٰ کے ساتھ رخصت کرنے کی بجائے طلاق دلوانے کی بات کی
اور جب یہی بات آج نشاء کے گھر پر تعبیر نے ارتضیٰ سے کی تو اس نے سوچ لیا کہ وہ کل تعبیر کے سامنے آ کر اپنا آپ ظاہر کر دے گا اور پھر اس کی رائے جانے گا۔۔۔ وہ ویلولہ مچائے گی یہ اسے اندازہ تھا مگر اب وہاج صدیقی کی طبیعت خرابی کی وجہ سے تعبیر کا ری ایکشن اس تک نہیں پہنچے گا یا تعبیر خود بھی ایسا نہیں چاہے گی کہ اس کی وجہ سے اس کے باپ کی طبیعت مزید بگڑے یعنی اگر تعبیر کو مزمل اور ارتضیٰ کی حقیقت پتہ چلتی بھی ہے تو اس سے ارتضیٰ کے پلان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔ اسے اندازہ تھا مزمل سے وہ اتنی محبت تو کرتی ہے کہ وہ مزمل کی صورت ارتضیٰ کو بھی قبول کرلے گی مگر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والی بحث میں تعبیر کے جملے پر اسے دکھ ہوا اور اسے تعبیر پر کافی غصہ بھی آیا
"یعنی اگر مزمل ارتضیٰ ہوا تو وہ خود کشی کرنا پسند کرے گی" ارتضیٰ اس کو اس حد تک ناپسند تھا اس کو یہ اندازہ نہیں تھا۔۔۔ اسے تعبیر پر جتنا بھی غصہ ہو مگر اندر سے یہ ڈر بھی تھا اس حقیقت کو جاننے کے بعد اس کا ری ایکشن کیا ہوگا جبکہ دوسری طرف ابھی وہاج کا
بھی اسپتال میں تھا اور دونوں باپ بیٹی ہی ارتضیٰ سے چھٹکارا چاہتے تھے یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اریش کی مدد لینے کے لیے اس کو کال ملائی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment