Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 25

🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 25

"واو مما دیکھے ہانی کیسے کار چلا رہا ہے"
ہانی اریش کی گود میں بیٹھا ہوا کار کا اسٹرینگ تھام کر بولا تو مشعل مسکرا دی اریش بھی کار ڈرائیور کرتا ہوا ہانی کی ایکسائیٹمینٹ دیکھ کر مسکرایا

اریش کی ریکویسٹ کرنے اور ہانی کی ضد کرنے پر مشعل، ہانی اور آریش کے ساتھ۔۔۔ ہانی کی فرمائش پر ڈینسو پارک  اینیملز دیکھنے کے لیے جارہے تھے جب کہ آکا نے ساتھ چلنے سے طبیعت خرابی کا کہہ کر انکار کر دیا

اریش نے ہانی کی فرمائش پر اسے ڈینزو پارک میں اینیملز دکھائے خوب گھمایا پھرایا ڈھیر سارا انجوائے کیا۔۔۔

مشعل وہاں موجود پارک میں بینچ پر بیٹھ کر۔۔۔ اریش کو ہانی کے ساتھ  کو کھیلتا ہوا دیکھنے لگی

ہانی اور اریش وہاں موجود گھاس پر ریس لگا رہے تھے جس میں ہانی جیت رہا تھا،،، اریش یقیناً جان بوجھ کر ہار رہا تھا۔۔۔۔ مشعل مسکراتی ہوئی ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی

بھاگتا ہوا ہانی گرنے لگا اس سے پہلے مشعل اس کو پکڑنے کے لیے اٹھتی اریش نے جلد آگے بڑھ کر اس کو گرنے سے بچا لیا اور گود میں اٹھا کر ہوا میں اچھالنے لگا جسے دیکھ کر مشعل مسکرا دی

"میرے اور آکا کے علاوہ بھی کوئی تیسرا ہے جو ہانی کو گرنے سے بچا لے گا"
مشعل اریش کو دیکھ کر سوچنے لگی

"اچھا خاصا ڈیسنٹ بندہ ہے اتنی اچھی پرسنلیٹی کا مالک۔۔۔۔ اس کو تو کوئی بھی کنواری لڑکی آسانی سے مل سکتی ہے پھر یہ مجھے ہی کیوں فورس کررہا ہے شادی کے لئے ایک بچے کی ماں کو۔ ۔۔۔ مگر میں بھی تو خوبصورت ہوں۔۔۔۔ لیکن خوبصورت ہونے سے کیا ہوتا ہے طلاق کا بدنما داغ تو میرے اوپر لگ چکا ہے۔۔۔ شاید اللہ نے میرے گناہ معاف کردئیے ہو اور اس کے بدلے اسے میری زندگی میں بھیج دیا ہو۔۔۔۔ یہ میں کیا سوچنے لگی"
خود ہی اپنی سوچ پر نفی کردی اور دوبارہ ہانی کو دیکھ کر مسکرانے لگی 

تھوڑی دیر بعد اریش مشعل کے پاس آیا اس کے برابر میں بینچ پر بیٹھا۔۔۔ اب ہانی دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا

"اکیلے اکیلے بیٹھ کر کیوں مسکرایا جا رہا ہے"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر پوچھا

"ہانی کو دیکھ کر خوش ہو رہی تھی اور مسکرا میں آپ کو دیکھ کر رہی تھی۔۔۔۔ ہانی کے ساتھ بالکل بچے بن کر کھیل رہے تھے آپ"
مشعل نے دوبارہ مسکراتے ہوئے کہا

"اچھا لگتا ہے مجھے ہانی کے ساتھ وقت اسپینٹ کرنا۔۔۔۔ دراصل جب میں چھوٹا تھا تو بابا ہمیشہ اپنے بزنس کو لے کر بزی رہے مما اپنی سوشل لائف میں سائرہ اور ماہرہ مجھ سے بڑی تھی تو آپس میں ایک دوسرے سے ان کی اٹیچمنٹ زیادہ تھی۔۔۔۔ اس وجہ سے میرا بچپن بہت تنہا گزرا۔۔۔۔ فیملی ہوتے ہوئے بھی کبھی فیملی والی خوشیاں محسوس نہیں کی۔۔۔ جب دوستوں کے گھر پر ان کی اپنی فیملی کے ساتھ انکی اٹیچ منٹ دیکھتا تو دل کرتا مما بابا بھی میرے ساتھ ایسے ہی وقت گزاریں۔۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں ہانی کے ساتھ وقت گزار کر خوش ہوتا اور آج تم مجھے بالکل فیملی والی فیلنگ محسوس ہو رہی ہے"
مشعل اریش کی باتیں غور سے سن رہی تھی مگر آخری والی بات پر نظر پھیر گئی

"تو آپ کو شادی کر لینی چاہیے میرا مطلب ہے ہانی کی طرح آپ کا بھی بیٹا ہوگا آپ کی وائف ہوگی تو آپ کی فیملی مکمل ہوجائے گی" 
مشعل نے اریش کو مشورہ دیا جس پر اریش نے گہری نگاہوں سے مشعل کو دیکھا

"شادی کرنے کا ہی ارادہ رکھتا ہوں مگر لڑکی مان نہیں رہی،، کچھ آپ ہی مشورہ دیں کیسے مناوں اسے۔۔۔ اپس کی بات ہے اس لڑکی کی اسمائل بہت پیاری ہے دل چاہتا ہے بندہ اسی کو دیکھے جائے"
اریش نے غور سے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا

"آپ جیسے لڑکی کہہ رہے ہیں وہ لڑکی نہیں ہے پہلے سے اس کی شادی ہوئی وی تھی۔۔ اریش ہم دکان پر جاتے ہیں تو اپنے لئے ہمیشہ اچھی سی، کوئی نئی چیز پسند کرتے ہیں، اگر ہمارے پاس کوئی چوائس نہ ہو یا مجبوری ہو تو انسان سیکنڈ ہینڈ چیز لیتا ہے۔۔۔ آخر آپ کی ایسی کیا مجبوری ہے مجھے سمجھ میں نہیں آرہی"
مشعل نے اپنے دماغ میں آئے ہوئے سوال کا اریش سے جواب چاہا

"مشعل مجھے سمجھ میں نہیں آتا آخر اب اتنی خود ترسی کا شکار کیوں ہیں،، پلیز آپ اپنی سوچ بدلیں مجھے بھلا کیا ضرورت ہے یوز لیس چیز استعمال کرو میں اپنے لئے وہی چوز کروں گا جو میرے دل کو بھائے گا میرے لیے اہم ہوگا۔۔۔۔۔ آپ ایسا بھی تو سوچ سکتی ہیں آخر کوئی تو بات ہوگی آپ میں جو دوسری لڑکیوں کی بانسبت میں نے آپ کو ترجیح دی پلیز مشعل اپنا نظریہ بدلیں"
اریش اب سنجیدگی سے اسکو دیکھ کر کہہ رہا تھا

"ایک موتی اگر اپنی چمک کھو دے یا اسکی چمک ماند پڑ جائے تو اس کی ویلیو پہلے جیسی نہیں رہتی"
مشعل نے دوبارہ اریش کو سمجھانا چاہا

"آپ اگر خود کو میری نظروں سے دیکھیں گیں تو آپ کو اندازہ ہوگا مشعل کہ اس موتی کی اہمیت میری نظر میں کیا ہے۔۔۔۔ یہ موتی اپنی چمک کھونے کے بعد بھی میرے لئے بہت قیمتی اور انمول موتی کی مانند ہے"
اریش نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر اسے یقین دلانا چاہا مشعل کا دل چاہا کہ اس کی بات پر یقین کرلے مگر اپنے دل میں آئے ڈر کا کیا کرتی 

"دوبارہ پیار کرنا بہت مشکل ہوگا میرے لئے"
مشعل نے ہار مانتے ہوئے اپنی انکھیں بند کرلی

"پیار کرنے کو کون کہہ رہا ہے، آپ بس اعتبار کر کے دیکھیں پیار کرنا میرا کام ہے"
اریش نے  مشعل کا ہاتھ تھام کر کہا تو مشعل کا دل اتنے سالوں بعد دوبارہ بہت زور سے دھڑکا آنکھیں کھول کر اس نے اریش کو دیکھا

"ڈیڈ ماما ہانی آگیا آپ کے پاس"
مشعل اریش ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اچانک ہانی کی آواز پر دونوں چونکے

"اب کیا پروگرام ہے پارٹنر"
ہانی آکر اریش کے گلے لگا تو اریش نے اس کو پیار کر کے پوچھا

"اب ہم سی سائیڈ پر جائے گے اور خوب گھومیں گے"
ہانی کے پروگرام پر مشعل نے اسے گھور کر دیکھا

"ہانی اب سیدھی شرافت سے گھر چلو  اکا پریشان ہوگیں بہت گھوم لیا آج آپ نے"
مشعل نے ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا

"ایکسکیوزمی یہ بچہ آپ دونوں کا ہے"
ایک لڑکی اریش اور مشعل کے پاس آکر بولی تو مشعل اس کی بات سن کر خفت کا شکار ہوگئی جبکہ اریش نے اس کی بات کو بہت انجوائے کیا

"ہمارے پاس ہے تو ہمارا ہی بچہ ہوگا اب انجوائے کرنے کے لیے پڑوسیوں سے بچہ ادھار مانگ کر تو یہاں آنے سے رہے"
اریش نے اس لڑکی کو دیکھ کر جواب دیا جس پر وہ ہنسی

"نہیں میرا وہ مطلب نہیں ہے بہت کیوٹ ہے آپ دونوں کا بچہ"
لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا جس پر مشعل زبردستی مسکرا دی

"جی خوش قسمتی سے یہ پوری طرح اپنی مما پر چلا گیا جبھی اتنا کیوٹ ہے"
اریش نے ہانی کو گود میں اٹھایا مشعل نے گھور کر اریش کو دیکھا لڑکی ہستی ہوئی وہاں سے چلی گئی

آریش بھی مسکراتا ہوا ہانی کو لیے کار کی طرف بڑھ گیا اسے یقین تھا اب واپسی کا سفر حسین ہوگا

****

"آو سائیں آو فرصت مل گئی"
مزمل سنجیدہ تاثرات لیے میمن کے گھر پہنچا تو ستار میمن نے ہنستے ہوئے کہا

"اس طرح وہاج صدیقی کی بیٹی کے سامنے مجھے مخاطب کر کے آپ اسے کیا بتانا چاہ رہے تھے"
ستار میمن کے سامنے صوفے پر بیٹھ کر مزمل نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اس کے جوتوں کا رخ ستار میمن کے سامنے تھا،، منہ سے تو وہ کچھ نہیں بولا مگر انداز جتانے والا تھا کہ سامنے بیٹھا شخص اس کی جوتے کی نوک پر ہے

"سائیں تم وہاں اکیلے اکیلے مزے کر رہے تھے۔۔۔ جبکہ مل بانٹ کر جو مزہ"
ستار میمن کی بات مکمل ہونے سے پہلے مزمل اٹھ کھڑا ہوا

"بس۔۔۔ آگے ایک لفظ نہیں بولنا ورنہ میں سارا لحاظ بھول جاؤں گا"
مزمل غصے میں ستار میمن کو دیکھ کر چیخا

"سائیں برا لگ گیا بابا۔۔۔۔ ستار سمجھا تم دل لگی کر رہے تھے تھوڑا ہمہیں بھی فائدہ ہوجاتا یہ تو تمہارے دل کو لگ گئی بھئی"
ستار میمن ہنسا

"میری ایک بات یاد رکھنا وہاج صدیقی کا اسلحہ چاہیے وہ مل جائے گا مگر اس لڑکی کی طرف اگر کسی نے بھی بری آنکھ سے دیکھا بھی تو میں ہمیشہ کے لئے اس کی آنکھیں بند کردوں گا"
مزمل ستار میمن کو انگلی اٹھا کر وارننگ دیتا ہوا اس کے گھر سے نکل گیا

"بابا یہ تو ستار میمن کے گھر پر اسی کو منہ پر گندا کرگیا۔ ۔۔۔ سوچنا پڑے گا سائیں اب تو کچھ سوچنا پڑے گا"
ستار میمن نے مزمل کو جاتا دیکھ کر کہا
****

"مزمل بابا گھر کب آئے گے"
مزمل نے نشاء کے گھر سے تابی کو پک کیا ابھی وہ وہاج صدیقی سے ملوا کر اسے واپس گھر لے جا رہا تھا۔۔۔تعبیر نے نشاء کے گھر میں رکنے سے خود منع کردیا اور مزمل بھی ایسا ارادہ نہیں رکھتا تھا آج ستار میمن کی باتیں سن کر مزمل کا خون بری طرح کھول گیا تھا۔ ۔۔۔ اس کی بری نیّت کا اندازہ مزمل کو اچھی طرح سے تھا اس وجہ سے مزمل چاہتا تھا تعبیر اس کے ساتھ ہی رہے۔۔۔ اسے جلد سے جلد ستار میمن کا کوئی بندوبست کرنا تھا

"سر کی کل تک چھٹی ہو جائے گی"
ڈرائیونگ کرتے ہوئے مزمل نے جواب دیا۔۔۔ تعبیر کو وہ کل کی بانسبت آج کافی سنجیدہ لگ رہا تھا،،، تعبیر نے بھی پھر آگے سے کوئی بات نہیں کی

گھر کے پاس کار رکی تو دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے 

"مزمل مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے"
مزمل کو چپ کر کے اپنے کمرے میں جاتا دیکھ کر تعبیر نے خود ہی بات کا آغاز کیا

"بولیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ"
مزمل کے کمرے میں جاتے ہوئے قدم تھمے وہ مڑ کر اس کے پاس آیا اور سنجیدگی سے گویا ہوا

"مزمل آج دوپہر میں ارتضیٰ کی کال آئی تھی وہ مجھے ڈائیورس دینے کے لیے تیار ہے اس نے مجھے کل ملنے کے لیے بلایا ہے وہی وہ مجھے ڈائیورس دے گا"
تعبیر نے مزمل کو اپنی اور ارتضیٰ کی ہونے والی بات بتائی۔۔۔ اس کی بات سن کر مزمل میں تعبیر کا ہاتھ تھاما اور اپنی پہنائی ہوئی رینگ اتارنے لگا جس پر تعبیر میں بے ساختہ اپنا ہاتھ کھینچا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا

"شاید آپ کو ارتضیٰ کے پاس جانا چاہیے شوہر ہے وہ آپ کا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا وہ آپ کو"
مزمل نے اس کو دیکھ کر کہا تو تعبیر نے حیرت سے مزمل کو دیکھا

"یہ محبت ہے تمہاری مزمل، تم مجھے خود کسی کے پاس جانے کا مشورہ دے رہے ہو"
تعبیر کو مزمل کی بات سن کر غصہ آیا

"آپ سے محبت ہے جبھی آپ کو مشورہ دے رہا ہو،، وہ مشورہ جس میں آپ کی بہتری ہے اور وہ 'کسی' نہیں آپ کا شوہر ہے تعبیر، حق رکھتا ہے آپ پر"
مزمل نے تعبیر کو تحمل سے سمجھانا چاہا

"وہ میرا شوہر ہے تمہیں اچانک کیوں میرے شوہر سے ہمدردی ہوگئی مزمل،،، یا تمہارا دل بھر گیا ہے مجھ سے"
تعبیر نے مزمل کے سینے پر ہاتھ مار کر اسے دھکا دیا اور اپنے روم میں جانے لگی تو مزمل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تعبیر کا رخ اپنی سامنے کیا

"آپ کو ارتضیٰ سے کیوں ہمدردی نہیں محسوس ہوتی،،، وجہ میری ذات ہے ناں اگر کل کو آپ کو یہ پتہ چلے کہ میں غلط کاموں میں ملوث ہو تو کیا کریں گی آپ۔۔۔۔ آپ جانتی کیا ہیں میرے بارے میں کیسے آپ اتنا اعتبار کر سکتی ہیں مجھ پر تعبیر"
مزمل نے تعبیر کو دونوں بازو تھام کر اس سے پوچھا

"میں نے تم سے پیار یہ سوچ کر نہیں کیا مزمل کہ تمہارا ماضی کیا ہے یا تمہارا اسٹیٹس کیا ہے بلکہ میں نے تو پیار کیا ہی نہیں وہ خود ہو گیا۔۔۔ میرا دل مجبور ہے تم سے پیار کرنے کے لیے تمہیں چاہنے کے لئے اور جس کے پاس تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو نا اس کے پاس میں تب بھی نہیں جاؤں گی اگر تم مجھے اپنی زندگی سے نکال دو گے۔۔۔۔ اس کے لیے نہ میں بے بس ہو نہ تم مجھے بے بس کر سکتے ہو کیونکہ پیار نہیں کرتی میں اس سے خوف محسوس ہوتا ہے مجھے اس کی قربت سے"
اس کی بات پر مزمل کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہوگئی وہ غور سے تعبیر کو دیکھے گیا اس کی کمر پر اپنے بازو کا حصار باندھ کر اسے خود سے قریب کیا

"چلیں ایک پل کے لیے سوچ کر دیکھیں آپ کے سامنے مزمل نہیں ارتضیٰ کھڑا ہے کیا آپ کو خوف محسوس ہو رہا ہے یا پھر ڈائیورس لینا چاہتی ہیں آپ مجھ سے"
مزمل کی بات سن کر تعبیر نے غصے میں مزمل کو دیکھا

"یہ کس قسم کی فضول باتیں کر رہے ہو تم مزمل چھوڑو مجھے"
تعبیر کو آج مزمل کی باتیں سن کر غصہ آ رہا تھا وہ اپنی کمر سے اس کے ہاتھ ہٹانے لگی جس کے لیے شاید مزمل تیار نہیں تھا

"نہیں میری بات کا جواب دیں آپ،، فرض کریں میں ارتضیٰ ہوں تو کیا کریں گی آپ ڈائیورس چاہے گی مجھ سے یا خوف زدہ ہوگی میری قربت سے"
مزمل کے حصار میں مزید سختی محسوس کر کے وہ اپنا آپ دوبارہ چھڑانے لگی

"جب تم ارتضیٰ ہو ہی نہیں تو یہ فضول سوال کیوں مزمل پلیز چھوڑو مجھے"
تعبیر نے سخت لہجے میں کہا اور اس کے حصار سے نکلنے کی کوشش کی

"یہ میرے سوال کا جواب نہیں"
اس سے پہلے تعبیر نے مزمل کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا اس میں صاف ضد کا عنصر شامل تھا

"جواب چاہیے تمہیں تو سنو اگر تم ارتضیٰ ہوگے تو نہ میں تم سے ڈرو گی نہ ہی ڈائیورس لوں گی بلکہ میں سیدھا خود کشی کرنا پسند کروں گی"
تعبیر کے جواب پر مزمل کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی ہوئی پھر اس نے تعبیر کو چھوڑ کر بے یقینی سے دیکھا۔۔۔ اس وقت وہ مزمل کی آنکھوں میں غصہ صاف محسوس کر سکتی تھی،، وہ اس کو گھور کر دیکھتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا اور زور سے دروازہ بند کیا

مزمل کا اس طرح کا ری ایکشن تعبیر کی سمجھ سے باہر تھا وہ بھی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی

****

اگر اس وقت ارتضیٰ روم میں نہ آتا تو شاید تعبیر کی خودکشی کی خواہش کہ آج اپنے ہاتھوں سے ہی اس کا گلا دبا کر پوری کر دیتا اسے آج سے پہلے اپنے گٹ اپ سے نفرت نہیں ہوئی

جتنی مزمل بن کر ہوئی تھی کتنی عجیب بات تھی اس کا رقیب کوئی اور نہیں وہ خود اپنی ذات کو بنا بیٹھا تھا مسئلہ یہ تھا کہ وہ تعبیر کو چھوڑ نہیں سکتا تھا معلوم نہیں خود غرضی تھی یا محبت یا جو بھی تھا مگر وہ خود کو بے بس محسوس کرتا تھا

ارتضیٰ کبھی اتنا بے بس اور مجبور نہیں ہوا تھا جتنا بےبس اور مجبور وہ مزمل بن کر ہوا تھا اپنی سوچوں کو جھٹک کر موبائل پر آنے والی کال ریسیو کی

"ہاں عماد بولو"
ارتضیٰ نے کہا

"گڈ نیوز یہ ہے سر ستار میمن کے خلاف اریسٹ وارنٹ جاری کردئیے گئے ہیں آج رات اس کے گھر ریڈ کرنے کا ارادہ ہے"
عماد نے ارتضیٰ کو بتایا

"عماد پلان بی تیار رکھنا میں ستار میمن کو ساخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ پرسوں کافی تعداد میں وہاج صدیقی کا اسلحہ اس کے گھر کے تہہ خانے میں شفٹ ہوا ہے ثبوت پکے ہیں تم لوگوں کے پاس وہ بالکل نہیں بچ کر نکلنا چاہیے"
ارتضیٰ نے عماد کو ایک دفعہ پھر یاد دہانی کرائی

"سر آپ فکر نہیں کریں اس بار ستار میمن صاحب کا تو پکا بندوبست ہوگا آپ کل کے اخبار میں انشاءاللہ خوشخبری دیکھے گے" عماد نے اعتماد سے کہا

"انشاءاللہ"
ارتضیٰ نے کال کاٹ کر موبائل ٹیبل پر رکھا اور آنکھیں بند کر کے کرسی پر ریلیکس بیٹھ گیا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment