🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 24
"تعبیر کے بیڈ روم سے نکل کر مزمل نے ستار میمن کو کال کی
"سائیں تمہاری کی کال کا انتظار کر رہا تھا ستار میمن، کب بھیجو ٹرک"
ستار میمن نے مزمل کی کال دیکھ کر خوشی خوشی پوچھا۔۔۔ پچھلی بار دو ٹرک سے ہی ستار میمن کو کافی فائدہ ہوا تھا اس بار اس نے 8 ٹرکز کا انتظام کیا تھا
"ستار صاحب پندرہ منٹ میں ٹرکز کو اپنے پاس سے روانہ کریں ابھی موقع ہے"
مزمل نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا
"سائیں فکر نہیں کرو دس منٹ میں سارے ٹرکز حاضر ہوجائے گے۔ ۔۔۔ زیادہ سے زیادہ پیٹیا لوڈ کروا دینا بابا"
ستار نے للچائے ہوئے انداز میں بولا مزمل نے کال کاٹ کر لائبریری کا رخ کیا اور گودام کے اندر آیا۔۔۔۔ سارے ٹرکز 10 منٹ کے اندر وہاں پہنچ گئے تھے جس میں مزمل نے جلدی جلدی مال بھروانا شروع کیا جب ٹرکز وہاں سے روانہ ہوگئے تو مزمل گودام سے نکلنے لگا لائبریری میں اچانک فضل آگیا
"تو وہ تُو نمک حرام ہے، جو مال چوری کرواتا ہے،، شک تو مجھے پہلے دن سے ہی تجھ پر تھا مگر میں تجھے رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتا تھا آجائے آج وہاج صاحب ان کے سامنے تیرا پردہ فاش کروں گا"
فضل پسٹل لے کر مزمل کے قریب آتا جا رہا تھا اور اس سے مخاطب تھا وہ تھوڑا اور مزمل کے قریب آیا مزمل نے پھرتی سے اپنی لات، اس کے ہاتھ پر ماری پسٹل اس کے ہاتھ سے دور جاگری اس سے پہلے فضل وہ پسٹل اٹھاتا مزمل نے پسٹل اٹھا لی اور فضل پر فائر کیا گولی اس کے پیٹ میں لگی
"بیوقوف انسان ڈائیلاک مارنے میں ٹائم ضائع کرتے ہیں عقل مند اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہیں"
فضل کے تڑپتے ہوئے وجود کو دیکھ کر مزمل نے ہنستے ہوئے کہا
ویسے ہی لائبریری کا دروازہ کھلا اور وہاج اندر آیا یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا فضل زخمی زمین پر پڑا تڑپ رہا ہے اور مزمل نے پسٹل کا رخ اس کے اوپر تھا۔۔۔ مزمل نے وہاج کو دیکھا فضل ایک دم بولنے لگا
"وہاج صاحب آپ کا دش"
الفاظ مکمل ادا کرنے سے پہلے مزمل نے اس کے سینے پر فائر کیا
"یہ کیا کیا مزمل تم نے تمہارا دماغ خراب نہیں ہو گیا"
فضل کو تڑپتا ہوا دیکھ کر وہاج نے مزمل سے کہا
"آستین کا سانپ تھا یہ سر، گودام میں جا کر دیکھیں آپ کا آدھے سے زیادہ مال کیا غائب ہوچکا ہے"
مزمل نے فضل کے بے جان وجود پر پسٹل پھینکتے ہوئے کہا
"کیا۔۔۔۔ کہاں گیا مال" وہاج بھاگتا ہوا گودام میں گیا واقعی پیٹیوں کی تعداد آدھی تھی آدھی پیٹیاں غائب تھیں یہ دیکھ کر وہاج کو گہرا صدمہ پہنچا۔۔۔ اچانک اٹھنے والے درد پر اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور نیچے بیٹھتا چلا گیا
****
"تعبیر ریلیکس ہو جائیں وہاج سر کی اب طبیعت بہتر ہے"
کل رات وہاج کی اچانک طبیعت بگڑ گئی مزمل نے اسے اسپتال پہنچا دیا جہاں اس کا فوری ٹریٹمنٹ ہوا ڈاکٹر نے اسے انجائنا کا اٹیک بتایا۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسے سی۔سی۔یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کیا تھا
تعبیر کو صبح 6 بجے یہ خبر مزمل نے سنائی تھی، تعبیر کو اپنا دکھ بھول کر وہاج کی فکر نے آ گھیرا،،، مزمل اسے اسپتال لے آیا تھا مگر وہاج ابھی دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں تھا
اس وقت مزمل تعبیر کو اسپتال کی کینٹین میں لے آیا تھا۔۔۔۔کیوکہ کل رات کو بھی تعبیر نے کھانا ڈھنگ سے نہیں کھایا تھا
"پتہ نہیں مزمل یہ سب کیا ہو رہا ہے، بابا کل تو اچھے بھلے تھے اچانک بابا کی ایسی حالت اور فضل کی ڈیتھ۔۔۔۔ مجھے یہ سب سوچ کر بہت خوف آ رہا ہے"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"آپ کو کچھ نہیں ہوگا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے، آپ اس طرح پریشان نہیں ہوں اور ناشتہ کریں"
مزمل نے سینڈوچ اور کافی کا کپ تعبیر کی آگے رکھتے ہوئے کہا
"مجھے یقین ہے تم میرے ساتھ ہو تو سب ٹھیک کر دو گے، ہمیشہ میرے ساتھ رہو گے ناں"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا تو مزمل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھکر اسے یقین دلایا
"یہاں تو بڑے وعدے شادے ہو رہے ہیں بڑے ناشتے ہو رہے ہیں سائیں"
اچانک ستار میمن کی آمد مزمل کو بری طرح کھٹکی وہ تعبیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اٹھ کھڑا ہوا
"کہیں کیا کام ہے"
مزمل نے بہت مشکل سے اپنا لہجہ نرم رکھا
"کام تو ہے سائیں لیکن تم کافی مصروف ہو، ہمارے لیے بھی وقت نکالو۔۔ کبھی اپنی مصروفیت بھی ہمارے ساتھ بانٹو"
ستار میمن جس طرح تعبیر کو دیکھتے ہوئے مزمل سے بات کر رہا تھا مزمل کا دل چاہ رہا تھا اس کی دونوں آنکھیں نکال دے اب کہ وہ اپنا لہجہ چاہنے کے باوجود نرم نہیں رکھ سکا
"ستار صاحب فضول باتوں کی بجائے اگر آپ کام کی بات کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا خیر آپ سے بعد میں بات ہوگی تعبیر چلیں آپ یہاں سے"
مزمل کے بولنے کی دیر تھی تعبیر فوراً اٹھ کر باہر نکل گئی، اسے ان انکل کے عجیب طرح سے دیکھنے سے سخت الجھن ہو رہی تھی۔ ۔۔ مزمل ستار میمن کو آنکھوں میں ناگواری لیے دیکھ کر وہاں سے چلا گیا
****
"ہانی پلیز تنگ نہیں کرو مما کی جان جلدی سے یہ یخنی پی لو"
مشعل نے پیار سے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا
"مما ہانی کو یہ ہین والا لیکوٹ اچھا نہیں لگتا ہانی یہ نہیں پیئے گا"
ہانی نے چڑتے ہوئے کہا
کل رات سے مشعل اور اکا کوارٹر کی بجائے اریش کے گھر میں موجود تھیں اور آج صبح سے ہانی مشعل کو کافی تنگ کر رہا تھا اور چڑچڑا الگ ہو رہا تھا۔۔۔ اریش صبح ہی افس چلا گیا تھا مگر تین سے چار گھنٹے بعد،،، تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آیا تھا
"ارے واہ یخنی یہ تو مجھے بہت پسند ہے لائیے مشعل یہ باول مجھے دیجیے میں پیوگا"
اریش نے روم میں آتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"مگر یہ مما نے ہانی کے لیے بنائی ہے"
ہانی کو ایک دم یاد آیا
"مگر ہانی کو یہ پسند نہیں ہے"
اریش باول لے کر ہانی کے پاس آیا
"مگر ہانی کوشش کرے گا کہ یہ ڈیڈ کے ہاتھ سے پی لے کیو کہ ہانی ایک اچھا بچہ ہے"
ہانی نے اریش کو دیکھ کر کہا تو اریش اس کی بات پر مسکرایا اور مشعل اس کو پارٹی بدلتا دیکھ کر حیران رہ گئی
مشعل صبح سے ہانی کو سمجھا رہی تھی اریش ڈیڈ نہیں انکل ہیں کیوکہ وہ گھر میں نوکروں کے سامنے بھی اریش کو ڈیڈ بول کر اسکا ذکر کر رہا تھا جس سے مشعل کو عجیب شرمندگی ہورہی تھی مشعل نے جب ہانی کو ناراض ہونے کی دھمکی دی تو ہانی نے اس کو سمجایا
"سب بچوں کے پاس ان کے ڈیڈ ہوتے ہیں ہانی نے بھی اللہ سے اپنے لیے ڈیڈ کو مانگا تھا۔۔۔ تو اللہ پاک نے ہانی گفٹ دیا ہے اس لیے وہ انکل نہیں ہانی کے ڈیڈ ہیں۔۔۔ یہ بات ڈیڈ نے ہانی کو خود بتائی ہے کہ وہ اس کے ڈیڈ ہیں"
مشعل اس کی بات سن کر اپنا سر پکڑ کر رہ گئی
"آگر ہانی اپنے ڈیڈ سے یخنی پیئے گا تو ڈیڈ اسے خوب گھمائے گے پھرائے گے اس کے ساتھ کھیلیں گے اور ڈھیر سارے ٹوائز بھی دلائیں گے"
اریش نے اپنے ہاتھ سے یخنی پلانا شروع کی اور باتوں ہی باتوں میں آدھی سے زیادہ یخنی اسے پلادی۔۔۔ مشعل وہی کھڑی ہوئی ان دونوں کو باتوں میں مصروف دیکھ رہی تھی اریش مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
"یہ لیں کر دیا ناں پانچ منٹ کے اندر آپ کا کام آسان، آپ دو گھنٹے بھی لگا لیتی تو ہانی آپ سے یخنی پینے والا نہیں تھا"
اس نے مسکرا کر بآول مشعل کو تھماتے ہوئے کہا
"شکریہ"
مشعل نے اریش کی بات پر مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور روم سے چلے گئی
****
"مزمل کچھ خبر ہوئی اس نمک حرام کی مال کدھر چھپایا اس نے"
دوسرے دن وہاج کی تھوڑی طبیعت بحال ہوئی تو اس نے مزمل سے پوچھا
"سر اس کے بارے میں تو کچھ خاص خبر نہیں ہوئی مگر آپ فکر نہ کریں میں جلد از جلد معلوم کروا لونگا ڈاکٹر نے آپ کو اسٹریس لینے سے منع کیا ہے آپ زیادہ مت سوچیں"
مزمل نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا آج بھی وہ صبح سے ہی اسپتال میں خوار ہو رہا تھا
"تابی کہاں ہے اور ارتضیٰ کے بارے میں معلوم کیا تم نے"
وہاج کو اب اپنی بیٹی کا خیال آیا
"سر میڈم کو ابھی نشاء میڈم کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں ان حالات میں ان کا گھر رہنا خطرے سے خالی نہیں اور ارتضیٰ کے بارے میں معلومات کروا لی ہے میں نے۔۔۔ وہ چھ ماہ پہلے کراچی میں شفٹ ہوا ہے، اس کا اپنا بزنس ہے۔۔۔ ایک ماں ہے، باپ کا چار سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔۔۔ سر چھوٹا منہ اور بڑی بات کیا یہ مناسب نہیں تابی میڈم کو سیو کرنے کے لیے ان کی شادی کا سوچیں آپ"
مزمل نے اپنی طرف سے مخلصانہ مشورہ دیا یہ دیکھنے کے لئے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
"ہاں یہی ٹھیک ہے مگر پہلے اس نکاح والے باب کو ختم کرنے کے بعد ہی کوئی اگلا قدم اٹھا سکتے ہیں، اس سلسلے میں تم ایسا کرو ایک دفعہ ارتضیٰ سے بات کرو اگر وہ ڈائیورس کے لیے راضی ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ نہیں تو خلع کے پیپر تیار کروا لو اور پھر بھی نہ مانے تو تیسرا راستہ تمہیں معلوم ہی ہے"
بات مکمل ہونے کے بعد وہاج نے آنکھیں بند کرلی مطلب صاف تھا کہ وہ اب ریسٹ کرنا چاہتا ہے
"جیسا آپ کہیں سر"
مزمل نے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا اور کچھ سوچتے ہوئے روم سے اٹھ کر باہر نکل گیا
*****
تعبیر نشاء کے گھر پر اس کے بیڈ روم میں سو رہی تھی تین گھنٹے پہلے ہی مزمل اسے یہاں چھوڑ کر گیا تھا نشاء سے تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد نشاء نے اپنے روم کی لائٹ بند کردی تھی تاکہ وہ تھوڑی دیر کے لئے ریسٹ کرلے مگر موبائل کی بجنے والی رنگ ٹون اس کی نیند میں خلل ڈال رہی تھی بلآخر تعبیر کال ریسیو کی،۔۔ کیوکہ کال کرنے والا کافی ڈھیٹ واقع ہو رہا تھا
"کون"
تعبیر کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں صرف اتنا ہی کہہ سکی
"تمہارا مجازی خدا شوہر محرم اصل حقدار"
ارتضیٰ کی آواز کان میں پڑتے ہی تعبیر کا ذہن ایک دم بیدار ہوگیا اور آنکھیں کھل گئی
"کس لیے فون کیا ہے"
تعبیر نے بے دلی سے پوچھا
"اپنی بیوی کی خیریت پوچھنے کے لئے اسنووائٹ کیسی ہو"
چاہت سے چور لہجے میں ارتضیٰ کی آواز ابھری تو تعبیر کو گھبراہٹ ہونے لگی
"میں تمہاری بیوی نہیں منکوحہ ہو ہمارا صرف نکاح ہوا ہے شادی نہیں" تعبیر نے ارتضیٰ کو یاد دلانا فرض سمجھا تو ارتضیٰ زور سے ہنسا
"منکوحہ سے اپنی بیوی بنانا کون سا مشکل کام ہے صرف آدھا گھنٹہ لگے گا۔۔۔ ابھی تمہاری دوست کے گھر آکر میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ تو کون روک سکے گا مجھے،،، تم خود چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتی"
ارتضیٰ نے اس کو حقیقت سے آگاہ کیا جس پر تعبیر ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی
"دیکھو ارتضیٰ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو میری مدر نے جو بھی فیصلہ کیا میں اسے غلط نہیں کہوں گی، انہوں نے کچھ سوچ کر ہی ایسا کیا ہوگا مگر میاں بیوی کے رشتہ میں، میری نظر میں دل کی رضا ہونی چاہیے مگر اس رشتے میں میری مرضی شامل نہیں"
تعبیر اپنی بات بولنے کے بعد اس کے جواب کا انتظار کیا
"مگر میں تو دل سے راضی ہو اسنووائٹ۔۔۔۔ ارتضیٰ کی جان ہو تم میں تمہیں بہت چاہتا ہو ابھی سے نہیں بچپن سے"
ارتضیٰ نے اس کو اپنی چاہت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"مگر میں نہیں چاہتی تمہیں"
تعبیر نے فورا بولا
"چاہنے لگ جاؤ گی جب تم میرے پاس آؤں گی تو، اپنے پیار سے تمہارا دل اپنی طرف مائل کر دوں گا اور ویسے بھی تم نے مجھے دیکھا ہی کہاں ہے ہو سکتا ہے دیکھ کر ہی تمہیں مجھ سے پیار ہو جائے"
ارتضیٰ نے بڑے وثوق سے کہا
"نہیں مجھے تم سے کبھی بھی پیار نہیں ہو سکتا پلیز سمجھنے کی کوشش کرو یہ زبردستی کا سودا نہیں اور تمہیں دیکھنے کی مجھے کوئی خواہش بھی نہیں خوف محسوس کرتی ہوں میں تم سے"
تعبیر نے ڈرتے ہوئے کہا
"خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے میں دیکھنے میں اتنا ڈرائونا ہرگز نہیں اگر یقین نہیں آتا تو کہو تمہارے روبرو آ جاؤ ابھی"
ارتضیٰ نے پیار سے اس سے پوچھا جس پر وہ ڈر گئی
"نہیں پلیز میں نے کہا نہ مجھے کوئی خواہش نہیں تمہیں دیکھنے کی۔۔۔۔ ابھی تم نے کہا کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو،، کیا میں جو تم سے مانگو گی وہ تم مجھے دو گے"
تعبیر نے ڈر کو ایک طرف رکھتے ہوئے پینترا بدلنے کی کوشش کی
"کیوں نہیں اسنووائٹ کب تمہاری بات نہیں مانی ہے، تمہاری خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں نے اپنا حق نہیں وصولا۔ ۔۔ جب تم نے کہا کہ، مجھے چھوڑو دو۔۔۔ تمھاری خواہش کا احترام کیا، اب بولو کیا چاہتی ہو تم"
ارتضیٰ نے بہت پیار سے اس سے پوچھا
"خلع چاہتی ہوں میں تم سے"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا
"خلع کی کیا ضرورت ہے میں تمہیں خود ہی ڈائیورس کر دیتا ہوں کہاں عدالت کے چکر لگاؤ گی،،، خوار ہوگئی تم"
ارتضیٰ بالکل نارمل سا انداز اپناتے ہوئے بولا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہیں نہ ہو اسکے لیے
"تو تم مجھے ڈرائیور دینے کے لیے تیار ہوں"
تعبیر نے حیرت سے پوچھا کیونکہ اس کو یقین نہیں کہ ارتضیٰ اتنی آسانی سے مان جائے گا
"کیوں نہیں اسنووائٹ، تم مجھ سے ڈرتی ہوں میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور تم کوئی چیز مانگ رہی ہو مجھ سے کیسے انکار کرو مگر میری ایک شرط ہے"
ارتضیٰ کو جیسے کچھ یاد آیا
"کیسی شرط"
تابی نے کنفیوز ہوتے ہوئے پوچھا
"ڈرو نہیں اسنووائٹ شرط اتنی مشکل بھی نہیں۔۔۔ میری شرط یہ ہے کہ تم مجھے میری بتائی گئی جگہ پر ملنے آؤگی، میں تمہیں وہی ڈائیورس، پیپر کی صورت دو گا"
ارتضیٰ کی شرط پر تعبیر ڈر گی
"نہیں میں تم سے ملنے نہیں آ سکتی"
تعبیر نے صاف انکار کیا کیوکہ جب جب وہ سامنے آتا تعبیر کی حالت اچھی خاصی خراب ہو جاتی تھی
"ڈر کیوں رہی ہو اسنووائٹ اکیلے میں ملنے نہیں بلا رہا پبلک پلیس میں بلا رہا ہو دن کے اجالے میں۔۔۔ وہی تمہیں ڈائیورس پیپر دے دو گا بولو منظور ہے"
ارتضیٰ سمجھ گیا وہ اس سے ملنے کا سن کر ڈر رہی ہے اس لیے اس کو پوری بات ازبر کرائی
"منظور ہے"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا
"اوکے کل شام کو میری بتائی ہوئی جگہ پر آجانا ایڈرس میں میسج کر دوں گا"
کہنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ نے رابطہ منقطع کر دیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 24
"تعبیر کے بیڈ روم سے نکل کر مزمل نے ستار میمن کو کال کی
"سائیں تمہاری کی کال کا انتظار کر رہا تھا ستار میمن، کب بھیجو ٹرک"
ستار میمن نے مزمل کی کال دیکھ کر خوشی خوشی پوچھا۔۔۔ پچھلی بار دو ٹرک سے ہی ستار میمن کو کافی فائدہ ہوا تھا اس بار اس نے 8 ٹرکز کا انتظام کیا تھا
"ستار صاحب پندرہ منٹ میں ٹرکز کو اپنے پاس سے روانہ کریں ابھی موقع ہے"
مزمل نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا
"سائیں فکر نہیں کرو دس منٹ میں سارے ٹرکز حاضر ہوجائے گے۔ ۔۔۔ زیادہ سے زیادہ پیٹیا لوڈ کروا دینا بابا"
ستار نے للچائے ہوئے انداز میں بولا مزمل نے کال کاٹ کر لائبریری کا رخ کیا اور گودام کے اندر آیا۔۔۔۔ سارے ٹرکز 10 منٹ کے اندر وہاں پہنچ گئے تھے جس میں مزمل نے جلدی جلدی مال بھروانا شروع کیا جب ٹرکز وہاں سے روانہ ہوگئے تو مزمل گودام سے نکلنے لگا لائبریری میں اچانک فضل آگیا
"تو وہ تُو نمک حرام ہے، جو مال چوری کرواتا ہے،، شک تو مجھے پہلے دن سے ہی تجھ پر تھا مگر میں تجھے رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتا تھا آجائے آج وہاج صاحب ان کے سامنے تیرا پردہ فاش کروں گا"
فضل پسٹل لے کر مزمل کے قریب آتا جا رہا تھا اور اس سے مخاطب تھا وہ تھوڑا اور مزمل کے قریب آیا مزمل نے پھرتی سے اپنی لات، اس کے ہاتھ پر ماری پسٹل اس کے ہاتھ سے دور جاگری اس سے پہلے فضل وہ پسٹل اٹھاتا مزمل نے پسٹل اٹھا لی اور فضل پر فائر کیا گولی اس کے پیٹ میں لگی
"بیوقوف انسان ڈائیلاک مارنے میں ٹائم ضائع کرتے ہیں عقل مند اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہیں"
فضل کے تڑپتے ہوئے وجود کو دیکھ کر مزمل نے ہنستے ہوئے کہا
ویسے ہی لائبریری کا دروازہ کھلا اور وہاج اندر آیا یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا فضل زخمی زمین پر پڑا تڑپ رہا ہے اور مزمل نے پسٹل کا رخ اس کے اوپر تھا۔۔۔ مزمل نے وہاج کو دیکھا فضل ایک دم بولنے لگا
"وہاج صاحب آپ کا دش"
الفاظ مکمل ادا کرنے سے پہلے مزمل نے اس کے سینے پر فائر کیا
"یہ کیا کیا مزمل تم نے تمہارا دماغ خراب نہیں ہو گیا"
فضل کو تڑپتا ہوا دیکھ کر وہاج نے مزمل سے کہا
"آستین کا سانپ تھا یہ سر، گودام میں جا کر دیکھیں آپ کا آدھے سے زیادہ مال کیا غائب ہوچکا ہے"
مزمل نے فضل کے بے جان وجود پر پسٹل پھینکتے ہوئے کہا
"کیا۔۔۔۔ کہاں گیا مال" وہاج بھاگتا ہوا گودام میں گیا واقعی پیٹیوں کی تعداد آدھی تھی آدھی پیٹیاں غائب تھیں یہ دیکھ کر وہاج کو گہرا صدمہ پہنچا۔۔۔ اچانک اٹھنے والے درد پر اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور نیچے بیٹھتا چلا گیا
****
"تعبیر ریلیکس ہو جائیں وہاج سر کی اب طبیعت بہتر ہے"
کل رات وہاج کی اچانک طبیعت بگڑ گئی مزمل نے اسے اسپتال پہنچا دیا جہاں اس کا فوری ٹریٹمنٹ ہوا ڈاکٹر نے اسے انجائنا کا اٹیک بتایا۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسے سی۔سی۔یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کیا تھا
تعبیر کو صبح 6 بجے یہ خبر مزمل نے سنائی تھی، تعبیر کو اپنا دکھ بھول کر وہاج کی فکر نے آ گھیرا،،، مزمل اسے اسپتال لے آیا تھا مگر وہاج ابھی دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں تھا
اس وقت مزمل تعبیر کو اسپتال کی کینٹین میں لے آیا تھا۔۔۔۔کیوکہ کل رات کو بھی تعبیر نے کھانا ڈھنگ سے نہیں کھایا تھا
"پتہ نہیں مزمل یہ سب کیا ہو رہا ہے، بابا کل تو اچھے بھلے تھے اچانک بابا کی ایسی حالت اور فضل کی ڈیتھ۔۔۔۔ مجھے یہ سب سوچ کر بہت خوف آ رہا ہے"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"آپ کو کچھ نہیں ہوگا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے، آپ اس طرح پریشان نہیں ہوں اور ناشتہ کریں"
مزمل نے سینڈوچ اور کافی کا کپ تعبیر کی آگے رکھتے ہوئے کہا
"مجھے یقین ہے تم میرے ساتھ ہو تو سب ٹھیک کر دو گے، ہمیشہ میرے ساتھ رہو گے ناں"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا تو مزمل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھکر اسے یقین دلایا
"یہاں تو بڑے وعدے شادے ہو رہے ہیں بڑے ناشتے ہو رہے ہیں سائیں"
اچانک ستار میمن کی آمد مزمل کو بری طرح کھٹکی وہ تعبیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اٹھ کھڑا ہوا
"کہیں کیا کام ہے"
مزمل نے بہت مشکل سے اپنا لہجہ نرم رکھا
"کام تو ہے سائیں لیکن تم کافی مصروف ہو، ہمارے لیے بھی وقت نکالو۔۔ کبھی اپنی مصروفیت بھی ہمارے ساتھ بانٹو"
ستار میمن جس طرح تعبیر کو دیکھتے ہوئے مزمل سے بات کر رہا تھا مزمل کا دل چاہ رہا تھا اس کی دونوں آنکھیں نکال دے اب کہ وہ اپنا لہجہ چاہنے کے باوجود نرم نہیں رکھ سکا
"ستار صاحب فضول باتوں کی بجائے اگر آپ کام کی بات کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا خیر آپ سے بعد میں بات ہوگی تعبیر چلیں آپ یہاں سے"
مزمل کے بولنے کی دیر تھی تعبیر فوراً اٹھ کر باہر نکل گئی، اسے ان انکل کے عجیب طرح سے دیکھنے سے سخت الجھن ہو رہی تھی۔ ۔۔ مزمل ستار میمن کو آنکھوں میں ناگواری لیے دیکھ کر وہاں سے چلا گیا
****
"ہانی پلیز تنگ نہیں کرو مما کی جان جلدی سے یہ یخنی پی لو"
مشعل نے پیار سے ہانی کو بہلاتے ہوئے کہا
"مما ہانی کو یہ ہین والا لیکوٹ اچھا نہیں لگتا ہانی یہ نہیں پیئے گا"
ہانی نے چڑتے ہوئے کہا
کل رات سے مشعل اور اکا کوارٹر کی بجائے اریش کے گھر میں موجود تھیں اور آج صبح سے ہانی مشعل کو کافی تنگ کر رہا تھا اور چڑچڑا الگ ہو رہا تھا۔۔۔ اریش صبح ہی افس چلا گیا تھا مگر تین سے چار گھنٹے بعد،،، تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آیا تھا
"ارے واہ یخنی یہ تو مجھے بہت پسند ہے لائیے مشعل یہ باول مجھے دیجیے میں پیوگا"
اریش نے روم میں آتے ہوئے مشعل کو دیکھ کر کہا
"مگر یہ مما نے ہانی کے لیے بنائی ہے"
ہانی کو ایک دم یاد آیا
"مگر ہانی کو یہ پسند نہیں ہے"
اریش باول لے کر ہانی کے پاس آیا
"مگر ہانی کوشش کرے گا کہ یہ ڈیڈ کے ہاتھ سے پی لے کیو کہ ہانی ایک اچھا بچہ ہے"
ہانی نے اریش کو دیکھ کر کہا تو اریش اس کی بات پر مسکرایا اور مشعل اس کو پارٹی بدلتا دیکھ کر حیران رہ گئی
مشعل صبح سے ہانی کو سمجھا رہی تھی اریش ڈیڈ نہیں انکل ہیں کیوکہ وہ گھر میں نوکروں کے سامنے بھی اریش کو ڈیڈ بول کر اسکا ذکر کر رہا تھا جس سے مشعل کو عجیب شرمندگی ہورہی تھی مشعل نے جب ہانی کو ناراض ہونے کی دھمکی دی تو ہانی نے اس کو سمجایا
"سب بچوں کے پاس ان کے ڈیڈ ہوتے ہیں ہانی نے بھی اللہ سے اپنے لیے ڈیڈ کو مانگا تھا۔۔۔ تو اللہ پاک نے ہانی گفٹ دیا ہے اس لیے وہ انکل نہیں ہانی کے ڈیڈ ہیں۔۔۔ یہ بات ڈیڈ نے ہانی کو خود بتائی ہے کہ وہ اس کے ڈیڈ ہیں"
مشعل اس کی بات سن کر اپنا سر پکڑ کر رہ گئی
"آگر ہانی اپنے ڈیڈ سے یخنی پیئے گا تو ڈیڈ اسے خوب گھمائے گے پھرائے گے اس کے ساتھ کھیلیں گے اور ڈھیر سارے ٹوائز بھی دلائیں گے"
اریش نے اپنے ہاتھ سے یخنی پلانا شروع کی اور باتوں ہی باتوں میں آدھی سے زیادہ یخنی اسے پلادی۔۔۔ مشعل وہی کھڑی ہوئی ان دونوں کو باتوں میں مصروف دیکھ رہی تھی اریش مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
"یہ لیں کر دیا ناں پانچ منٹ کے اندر آپ کا کام آسان، آپ دو گھنٹے بھی لگا لیتی تو ہانی آپ سے یخنی پینے والا نہیں تھا"
اس نے مسکرا کر بآول مشعل کو تھماتے ہوئے کہا
"شکریہ"
مشعل نے اریش کی بات پر مسکرا کر شکریہ ادا کیا اور روم سے چلے گئی
****
"مزمل کچھ خبر ہوئی اس نمک حرام کی مال کدھر چھپایا اس نے"
دوسرے دن وہاج کی تھوڑی طبیعت بحال ہوئی تو اس نے مزمل سے پوچھا
"سر اس کے بارے میں تو کچھ خاص خبر نہیں ہوئی مگر آپ فکر نہ کریں میں جلد از جلد معلوم کروا لونگا ڈاکٹر نے آپ کو اسٹریس لینے سے منع کیا ہے آپ زیادہ مت سوچیں"
مزمل نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا آج بھی وہ صبح سے ہی اسپتال میں خوار ہو رہا تھا
"تابی کہاں ہے اور ارتضیٰ کے بارے میں معلوم کیا تم نے"
وہاج کو اب اپنی بیٹی کا خیال آیا
"سر میڈم کو ابھی نشاء میڈم کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں ان حالات میں ان کا گھر رہنا خطرے سے خالی نہیں اور ارتضیٰ کے بارے میں معلومات کروا لی ہے میں نے۔۔۔ وہ چھ ماہ پہلے کراچی میں شفٹ ہوا ہے، اس کا اپنا بزنس ہے۔۔۔ ایک ماں ہے، باپ کا چار سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔۔۔ سر چھوٹا منہ اور بڑی بات کیا یہ مناسب نہیں تابی میڈم کو سیو کرنے کے لیے ان کی شادی کا سوچیں آپ"
مزمل نے اپنی طرف سے مخلصانہ مشورہ دیا یہ دیکھنے کے لئے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
"ہاں یہی ٹھیک ہے مگر پہلے اس نکاح والے باب کو ختم کرنے کے بعد ہی کوئی اگلا قدم اٹھا سکتے ہیں، اس سلسلے میں تم ایسا کرو ایک دفعہ ارتضیٰ سے بات کرو اگر وہ ڈائیورس کے لیے راضی ہوجاتا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔ نہیں تو خلع کے پیپر تیار کروا لو اور پھر بھی نہ مانے تو تیسرا راستہ تمہیں معلوم ہی ہے"
بات مکمل ہونے کے بعد وہاج نے آنکھیں بند کرلی مطلب صاف تھا کہ وہ اب ریسٹ کرنا چاہتا ہے
"جیسا آپ کہیں سر"
مزمل نے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا اور کچھ سوچتے ہوئے روم سے اٹھ کر باہر نکل گیا
*****
تعبیر نشاء کے گھر پر اس کے بیڈ روم میں سو رہی تھی تین گھنٹے پہلے ہی مزمل اسے یہاں چھوڑ کر گیا تھا نشاء سے تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد نشاء نے اپنے روم کی لائٹ بند کردی تھی تاکہ وہ تھوڑی دیر کے لئے ریسٹ کرلے مگر موبائل کی بجنے والی رنگ ٹون اس کی نیند میں خلل ڈال رہی تھی بلآخر تعبیر کال ریسیو کی،۔۔ کیوکہ کال کرنے والا کافی ڈھیٹ واقع ہو رہا تھا
"کون"
تعبیر کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں صرف اتنا ہی کہہ سکی
"تمہارا مجازی خدا شوہر محرم اصل حقدار"
ارتضیٰ کی آواز کان میں پڑتے ہی تعبیر کا ذہن ایک دم بیدار ہوگیا اور آنکھیں کھل گئی
"کس لیے فون کیا ہے"
تعبیر نے بے دلی سے پوچھا
"اپنی بیوی کی خیریت پوچھنے کے لئے اسنووائٹ کیسی ہو"
چاہت سے چور لہجے میں ارتضیٰ کی آواز ابھری تو تعبیر کو گھبراہٹ ہونے لگی
"میں تمہاری بیوی نہیں منکوحہ ہو ہمارا صرف نکاح ہوا ہے شادی نہیں" تعبیر نے ارتضیٰ کو یاد دلانا فرض سمجھا تو ارتضیٰ زور سے ہنسا
"منکوحہ سے اپنی بیوی بنانا کون سا مشکل کام ہے صرف آدھا گھنٹہ لگے گا۔۔۔ ابھی تمہاری دوست کے گھر آکر میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤ تو کون روک سکے گا مجھے،،، تم خود چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتی"
ارتضیٰ نے اس کو حقیقت سے آگاہ کیا جس پر تعبیر ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی
"دیکھو ارتضیٰ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو میری مدر نے جو بھی فیصلہ کیا میں اسے غلط نہیں کہوں گی، انہوں نے کچھ سوچ کر ہی ایسا کیا ہوگا مگر میاں بیوی کے رشتہ میں، میری نظر میں دل کی رضا ہونی چاہیے مگر اس رشتے میں میری مرضی شامل نہیں"
تعبیر اپنی بات بولنے کے بعد اس کے جواب کا انتظار کیا
"مگر میں تو دل سے راضی ہو اسنووائٹ۔۔۔۔ ارتضیٰ کی جان ہو تم میں تمہیں بہت چاہتا ہو ابھی سے نہیں بچپن سے"
ارتضیٰ نے اس کو اپنی چاہت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"مگر میں نہیں چاہتی تمہیں"
تعبیر نے فورا بولا
"چاہنے لگ جاؤ گی جب تم میرے پاس آؤں گی تو، اپنے پیار سے تمہارا دل اپنی طرف مائل کر دوں گا اور ویسے بھی تم نے مجھے دیکھا ہی کہاں ہے ہو سکتا ہے دیکھ کر ہی تمہیں مجھ سے پیار ہو جائے"
ارتضیٰ نے بڑے وثوق سے کہا
"نہیں مجھے تم سے کبھی بھی پیار نہیں ہو سکتا پلیز سمجھنے کی کوشش کرو یہ زبردستی کا سودا نہیں اور تمہیں دیکھنے کی مجھے کوئی خواہش بھی نہیں خوف محسوس کرتی ہوں میں تم سے"
تعبیر نے ڈرتے ہوئے کہا
"خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے میں دیکھنے میں اتنا ڈرائونا ہرگز نہیں اگر یقین نہیں آتا تو کہو تمہارے روبرو آ جاؤ ابھی"
ارتضیٰ نے پیار سے اس سے پوچھا جس پر وہ ڈر گئی
"نہیں پلیز میں نے کہا نہ مجھے کوئی خواہش نہیں تمہیں دیکھنے کی۔۔۔۔ ابھی تم نے کہا کہ تم مجھ سے پیار کرتے ہو،، کیا میں جو تم سے مانگو گی وہ تم مجھے دو گے"
تعبیر نے ڈر کو ایک طرف رکھتے ہوئے پینترا بدلنے کی کوشش کی
"کیوں نہیں اسنووائٹ کب تمہاری بات نہیں مانی ہے، تمہاری خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں نے اپنا حق نہیں وصولا۔ ۔۔ جب تم نے کہا کہ، مجھے چھوڑو دو۔۔۔ تمھاری خواہش کا احترام کیا، اب بولو کیا چاہتی ہو تم"
ارتضیٰ نے بہت پیار سے اس سے پوچھا
"خلع چاہتی ہوں میں تم سے"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا
"خلع کی کیا ضرورت ہے میں تمہیں خود ہی ڈائیورس کر دیتا ہوں کہاں عدالت کے چکر لگاؤ گی،،، خوار ہوگئی تم"
ارتضیٰ بالکل نارمل سا انداز اپناتے ہوئے بولا جیسے یہ کوئی بڑی بات نہیں نہ ہو اسکے لیے
"تو تم مجھے ڈرائیور دینے کے لیے تیار ہوں"
تعبیر نے حیرت سے پوچھا کیونکہ اس کو یقین نہیں کہ ارتضیٰ اتنی آسانی سے مان جائے گا
"کیوں نہیں اسنووائٹ، تم مجھ سے ڈرتی ہوں میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور تم کوئی چیز مانگ رہی ہو مجھ سے کیسے انکار کرو مگر میری ایک شرط ہے"
ارتضیٰ کو جیسے کچھ یاد آیا
"کیسی شرط"
تابی نے کنفیوز ہوتے ہوئے پوچھا
"ڈرو نہیں اسنووائٹ شرط اتنی مشکل بھی نہیں۔۔۔ میری شرط یہ ہے کہ تم مجھے میری بتائی گئی جگہ پر ملنے آؤگی، میں تمہیں وہی ڈائیورس، پیپر کی صورت دو گا"
ارتضیٰ کی شرط پر تعبیر ڈر گی
"نہیں میں تم سے ملنے نہیں آ سکتی"
تعبیر نے صاف انکار کیا کیوکہ جب جب وہ سامنے آتا تعبیر کی حالت اچھی خاصی خراب ہو جاتی تھی
"ڈر کیوں رہی ہو اسنووائٹ اکیلے میں ملنے نہیں بلا رہا پبلک پلیس میں بلا رہا ہو دن کے اجالے میں۔۔۔ وہی تمہیں ڈائیورس پیپر دے دو گا بولو منظور ہے"
ارتضیٰ سمجھ گیا وہ اس سے ملنے کا سن کر ڈر رہی ہے اس لیے اس کو پوری بات ازبر کرائی
"منظور ہے"
تعبیر نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا
"اوکے کل شام کو میری بتائی ہوئی جگہ پر آجانا ایڈرس میں میسج کر دوں گا"
کہنے کے ساتھ ہی ارتضیٰ نے رابطہ منقطع کر دیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment