🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 23
"ہانی ڈیڈ کے بیڈروم میں کیسے آیا"
ہانی کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو اریش کی بیڈ روم میں پاکر ہانی نے حیرت سے سوال کیا ہانی کے سوال پر مشعل نے ایک نظر اریش کو دیکھا وہ آریش کے بیڈ پر ہانی کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی اریش آکر بیڈ کے دوسری سائیڈ پر بیٹھا
"پہلے یہ بتائیں کہ ہانی نے آج یہ حرکت کیا کی تھی۔۔۔ کیا ہانی کی اس ٹمی کے اندر موسکیٹو چلے گئے تو جو ہانی نے موسکیٹو ریفل پی لیا"
اریش ہانی کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا آریش کی بات پر ہانی ہنسا اور مشعل مسکرا دی
"ڈیڈ ہانی ٹیسٹ کر کے دیکھ رہا تھا اس کا فلیور کیسا ہے"
ہانی نے موسکیٹو ریفل پینے کی وجہ بتائی
"آپ کو معلوم ہے آج آپ کی وجہ سے ہانی کی مما اور ڈیڈ کتنا پریشان ہوئے"
اریش بہت سنجیدگی سے ہانی سے باتیں کر رہا تھا اس کے بات کرنے پر مشعل ایک نظر اریش کو دیکھا پھر اپنی نظروں کا زاویہ دوسری طرف کر لیا
"سوری ہانی کبھی بھی مما اور ڈیڈ کو پریشان نہیں کرے گا۔۔۔ کیوکہ ہانی ایک اچھا بچہ ہے"
ہانی کے بولنے پر بےساختہ آریش اور مشعل نے ایک ساتھ اس کے گال پر کس کرنا چاہا دونوں کے چہرے بےحد قریب ہوئے بیچ میں ہانی کا چہرہ تھا۔۔۔ اس حرکت پر دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی،،، مشعل نظریں جھکا کر پیچھے ہوئی اریش ہانی کے گال کو چومتا ہوا پیچھے ہوا
"اوکے پھر پرامس کرو کہ اب کبھی بھی کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کرو گے آپ"
اریش نے ہانی کے آگے ہاتھ بڑھا کر کہا
"پکا والا پرامس"
ہانی نے اریش کے ہاتھ پر اپنا ننھا ہاتھ رکھا جسے ایک بار پھر اریش نے چوم لیا
"اتنا پیار تو کبھی ولی نے بھی اپنی اولاد کو نہیں کیا تھا"
مشعل کے دماغ میں خیال آیا پھر اپنے خیال کو بری طرح جھٹک دیا
"مما آپ ہانی سے بات کیوں نہیں کر رہی کیا آپ اپنے ہانی سے ناراض ہیں"
ہانی نے مشعل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"مما اپنی جان سے کھبی بھی ناراض نہیں ہوسکتی"
مشعل نے ہانی کو گلے لگاتے ہوئے کہا
"اب آپ ایسے ہی ہانی کے ڈیڈ کو ہگ کر کے ان سے بھی دوستی کرلیں۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں ہانی سے بہت پیار کرتے ہیں"
ہانی کی بات پر جہاں اریش کے ہونٹوں پر ہنسی آئی وہی مشعل نے شرمندہ ہو کر گھڑی میں ٹائم دیکھنا شروع کر دیا
"ہانی کی مما ہانی کے ڈیڈ سے بالکل ناراض نہیں ہے"
اریش نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"واؤ پھر آج ہانی، مما اور ڈیڈ کے پاس سوئے گا یہاں بیچ میں"
جہازی سائز بیڈ پر اشارہ کرتے ہوئے ہانی نے خوشی کا اظہار کیا جس پر اریش اپنی ہنسی چھپا گیا وہی مشعل کھڑکی سے باہر دیکھ کر ایسے پوز کرنے لگے جیسے اس نے بات ہی نہ سنی ہو
"نہیں میری جان ابھی اتنی پکی والی دوستی بھی نہیں ہوئی"
ہانی سے بات کرتے ہوئے اریش نے ایک نظر مشعل کو دیکھا مشعل ابھی بھی کھڑکی سے باہر ہی دیکھ رہی تھی
"اکا کہاں رہ گئی مشعل"
آب کے اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"وہی دیکھ رہی ہوں کہہ رہی تھی تم چلو میں ابھی آتی ہوں"
مشعل نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔ ہانی کی باتوں کی وجہ سے وہ اریش سے نظریں ہی نہیں ملا پا رہی تھی
"اوکے میں دیکھ کر اتا ہوں آپ ہانی اور آکا یہاں ریلکس ہو کر سو جائیں۔ ۔۔ میں برابر والے بیڈ روم میں ہوں اگر کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے تو مجھے بتا دیجئے گا"
اریش کہتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تو مشعل کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی
****
بلیک جینز پر بلیک شرٹ چہرے کو ہڈ سے کور کیے ہوئے وہ واشروم میں داخل ہوا اور واشروم کا دروازہ بند کیا۔۔۔۔ تعبیر کی آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ گئی
آنے والے نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر واشروم کی لائٹ بند کری تو تابی جلدی سے ٹب سے باہر نکلی اور کانپتے ہاتھ کے ساتھ باتھ گاؤن پہنا تب تک ارتضیٰ اس کے قریب آچکا تھا۔۔۔
ارتضیٰ نے باتھ گاون کی بیلٹ کو کھینچ کر تابی کو خود سے قریب کیا جس پر تعبیر کی ہلکی سی چیخ نکلی اب وہ باقاعدہ کانپ رہی تھی
"اتنا ڈر کیوں رہی ہو اسنووائٹ، میرے پاس یہ سارے حقوق محفوظ ہیں ریلیکس۔۔۔۔ وقت پر ہی اپنا حق تم سے وصولوں گا پورے استحقاق کے ساتھ"
ارتضیٰ نے کانپتے ہوئے وجود کو اپنی بانہوں میں سماتے ہوئے خمار آلود آواز میں تابی کو مخاطب کر کے کہا
"پلیز اتنا مت گرو میری نظر میں۔۔۔ چھوڑ دو مجھے"
تعبیر کو اس کے بولے ہوئے الفاظ سمجھ میں نہیں آ رہے تھے اسے اس وقت اپنی پوزیشن اور ارتضیٰ کی قربت مزید خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ نے اسے خود سے الگ کر کے اس کا رخ دیوار کی طرف کیا اور اس کے قریب آیا اور اپنا ہڈ سر سے اتار کر اس کے دونوں ہاتھ تھامے اور دیوار پر رکھے
"نظروں میں گرنے والی حرکت تو تب ہوتی ہے جب تمہارے اور میرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہوتا،،، پورا اختیار حاصل ہے مجھے ابھی سے نہیں بچپن سے سنا تم نے اسنووائٹ۔۔۔ آج یہ بات جان لو میں حق رکھتا ہوں تم پر شرعی اور قانونی۔۔۔ غیر نہیں ہو تم میرے لیے محرم ہو میں تمہارا، سارے اختیارات حاصل ہیں مجھے ایسے ہی تھوڑی نہ کہتا ہوں یو آر مائین۔۔۔ تم ابھی سے نہیں بچپن سے میرے نکاح میں ہو"
ارتضیٰ کے ہونٹ بات کرتے ہوئے تعبیر کے کان کو چھو رہے تھے
مگر اس سے بھی زیادہ خوف اب تعبیر کو اس کی باتوں سے آ رہا تھا ارتضیٰ تعبیر کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ پھیرتا ہوا شولڈر تک لایا اور شولڈر سے کمر تک جیسے ہی اس نے باتھ گاون کی ڈوری کھولنے کی کوشش کی تعبیر نے باتھ شاور ہولڈر سے نکالا۔۔۔ مڑ کر اس پر وار کیا جو کہ اپنے بچاؤ کے باوجود ارتضیٰ کی کنپٹی پر لگا
تعبیر بھاگتی ہوئی واش روم کا دروازہ کھول کر روم میں آگئی روم میں بھی مکمل اندھیرا دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا اس سے پہلے وہ بیڈروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کا سوچتی۔۔۔۔۔ ارتضیٰ تب تک پہنچ کر اسے بازو سے گھسیٹ کر بیڈ پر گرا چکا تھا
"گڈ اچھی کوشش کی خود کے بچاؤ کی، مگر افسوس ناکام ہوگئی"
وہ اس پر جھکتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ چکا تھا اپنے ہونٹ اس کے گال پر مس کرتے۔ ۔۔ تعبیر کی گردن تک لے آیا تھا،،، گاون سے جھلکتے شولڈر کو جب اس نے ہونٹوں میں لے کر دبایا۔ ۔۔۔ تو تعبیر کی سانس رکنے لگی
"پلیز میرے ساتھ اس طرح نہیں کرو"
تابی نے بے بس ہو کر رونا شروع کر دیا
"تمہارے نام پر میرے نام کی چھاپ بہت پہلے لگ چکی ہے، اگر جسم پر بھی میری چھاپ لگ جائے تو اس میں مضاحکہ کیا ہے مگر تمھاری مرضی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ابھی کچھ نہیں کر رہا مگر اس کے بعد تمھاری مرضی ہرگز نہیں چلے گی ویسے بھی میں آج تمہیں اپنے اور تمہارے رشتے کی اصلیت بتانے آیا تھا اور یہ بھی کہ بہت جلد تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا،، اس گھر سے تم نے جو شاور سے مجھ پر وار کیا ہے یہ اس غلطی کی چھوٹی سی سزا ہے"
تعبیر کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ وہاں سے چلا گیا
تعبیر نے خوف کی وجہ سے بند آنکھیں کھولی تو روم میں ابھی بھی مکمل اندھیرا تھا مگر وہاں کوئی دوسرا موجود نہیں تھا
تعبیر کو آج اس حقیقت کا ادراک ہوا تھا جس کو جاننے کے بعد اس کی سانس رکنے لگی
"اتنی بڑی بات بابا نے مجھ سے چھپائی میں بچپن سے کسی کے نکاح میں ہوں"
ایک دم مزمل کا خیال آنے لگا تو وہ زور زور سے رونے لگی جیسے سب کچھ ختم ہوگیا
****
مزمل کافی دیر سے وہاج صدیقی کے مہمانوں میں گرا ہوا تھا اسلحہ سے متعلق بہت سی نئی معلومات اور باتوں کا ادراک بھی اسے ہوا تھا آج کا دن اس کے لیے کافی بزی گزرا۔۔۔ تعبیر کو یونیورسٹی سے لانے کے بعد وہ اس کو نہیں دکھی اس کی کال اور میسج بھی اس نے دیکھے مگر رپلائی نہیں کیا مگر اب رات کے نو بج رہے تھے
"میڈم نے کھانا کھایا"
مزمل نے کچن میں جاکر کک سے پوچھا
"دو بار تعبیر بی بی کے روم کا دروازہ ناک کا کیا ہے مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا"
کک نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے پندرہ سے بیس منٹ بعد کھانا ان کے روم میں لے کر آؤ"
مزمل کک سے کہتا ہوا کچن سے نکلا
وہاج صدیقی کو اپنے دوستوں سے باتوں میں مشغول دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تعبیر کے روم کے پاس پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔۔۔ دو سے تین بار دستک کے بعد جب دروازہ نہیں کھلا تو مزمل نے دروازے کا ہینڈل گھمایا دروازہ کھل گیا مگر روم میں مکمل اندھیرا تھا
"تعبیر"
مزمل نے تعبیر کو پکارا مگر پھر بھی تعبیر کی آواز نہیں آئی
مزمل نے روم کی لائٹ آن کی تعبیر کو بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھے دیکھا بیڈروم کا دروازہ بند کرتا ہوا وہ تعبیر کے پاس آیا نیوی بلو کلر کے ڈریس میں، کھلے بالوں کے ساتھ جو کہ ابھی ہلکے نم تھے مزمل کی آواز پر بھی اس نے سر نہیں اٹھایا
"کیا ہوا آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں"
مزمل اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا تو تابی نے سر اٹھا کر مزمل کو دیکھا
"کیوں روئی ہیں آپ"
مزمل نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا وہ ابھی بھی مزمل کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی
"ارتضیٰ کہہ رہا تھا کہ میں اس کے نکاح میں ہو"
تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا یہ بات اس نے مزمل کو بتائی ہے یا خود کو، مزمل نے غور سے اسے دیکھا
"وہ یہاں آیا تھا"
مزمل نے تعبیر سے پوچھا
"وہ کہہ رہا تھا وہ حق رکھتا ہے مجھ پر شرعی اور قانونی"
تعبیر مزمل کی بات سنے بغیر کھوئے کھوئے انداز میں بولی مزمل چپ کر کے اسے دیکھنے لگا
"تمہیں معلوم ہے مزمل، وہ مجھے بتا رہا تھا وہ میرا محرم ہے اس کا مجھ سے بچپن میں نکاح ہوا ہے۔۔ کوئی اتنی بڑی بات بھلا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے"
تعبیر بولتے بولتے خود ہی الجھ گئی
"اتنی بڑی بات کوئی جھوٹ میں یا مذاق میں نہیں بولتا وہ سچ کہہ رہا تھا اس کا آپ سے بچپن میں نکاح ہوا ہے" مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے بتایا تو اب کی بار تابی نے مزمل کو حیرت سے دیکھا
"تمہیں یہ بات معلوم تھی"
تعبیر نے مزمل سے پوچھا
"جی وہاج سر نے مجھے بتایا تھا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ بات آپ کو نہیں معلوم ہونی چاہیے" مزمل نے غور سے تعبیر کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھا جس پر کئی سوالات رقم تھے
"دراصل یہ نکاح آپ کی امی نے اپنی ڈیتھ سے پہلے اپنی دوست کے بیٹے سے کروایا تھا۔۔۔ اس میں شاید سر کی مرضی نہیں تھی وہ آپ کو لے کر ملک سے باہر چلے گئے اور آج 18 سال بعد ارتضیٰ اپنی والدہ کے ساتھ یہاں پر آپ کے لیے آیا تھا۔ ۔۔وہی جسے ہم دونوں نے دیکھا تھا"
مزمل نے وہاج کی بتائی ہوئی بات تعبیر کو بتائی
"وہ ارتضیٰ تھا"
آخری بات پر تعبیر نے چونک کر مزمل کو دیکھا
"آپ تو ایسے حیران ہو رہی ہیں جیسے آپ نے اسے پہلی بار دیکھا جبکہ وہ ابھی بھی آیا تھا آپ کے پاس"
مزمل نے اس کی حیرت پر سوال اٹھایا
"میں نے اس کا چہرہ کبھی بھی نہیں دیکھا مزمل، اس نے اپنا چہرہ کور کیا ہوتا ہے یہ تمہارے ماتھے پر کیا ہوا"
بات کرتے کرتے تعبیر کی نظر مزمل کے آئی برو کے اوپر سرخ نشان پر گئی
"یہ تو تھوڑی دیر پہلے پاوں سلپ ہونے کی وجہ سے چوٹ لگی تھی"
مزمل نے اپنی دو انگلیاں ماتھے کے سرخ حصے پر رکھ کر کہا۔۔۔۔ تو تعبیر کو تھوڑی دیر پہلے والا منظر آنکھوں میں گھوما جب اس نے ارتضیٰ کو باتھ شاور مارا تھا۔۔۔ تعبیر کو کھویا ہوا دیکھ کر مزمل نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
"کیا سوچ رہی ہیں آپ"
مزمل نے کھوجتی ہوئی نظروں سے تعبیر کو دیکھا جیسے اس کی سوچ پڑھنا چاہ رہا ہو۔۔۔۔ تعبیر نے نفی میں سر ہلایا پھر اپنے دماغ میں آئے ہوئے خیال کو اتفاق سمجھ کر سر جھٹکا
"کھانا کیوں نہیں کھایا آپ نے"
مزمل نے یونہی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اس سے پوچھا
"بھوک کا احساس نہیں ہو رہا"
تعبیر نے کہا تو مزمل چند لمحے اس کو یونہی دیکھتا رہا دروازہ ناک ہوا تو مزمل نے دروازہ کھولا سرونٹ کھانا لے کے روم میں آیا مزمل نے دوبارہ دروازہ بند کیا
تعبیر کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھا اس کے لیے پلیٹ میں بریانی نکالی۔۔۔۔ فورک یا اسپون کی بجائے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنایا اور تعبیر کے منہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تعبیر کی آنکھیں لبالب پانی سے بھرنے لگی۔۔۔ مزمل نے نوالا اس کے منہ میں ڈالا تو تعبیر نے مزمل کا ہاتھ تھام کر رونا شروع کردیا
"تعبیر میری بات سنیں پہلے کھانا کھائیں آپ۔۔۔ اس کے بعد ہم کوئی اور بات کریں گے"
مزمل نے دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اس نے مزید تین چار نوالے کھائے جو کہ مزمل نے زبردستی کھلائے
"مزمل میں اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پا رہی ہوں پلیز کچھ کرو"
تابی نے ایک دفعہ پھر رونا شروع کردیا،،، مزمل چپ کر کے اسے دیکھتا رہا
"اس وقت آپ کو سکون کی ضرورت ہے ابھی آپ لیٹے یہاں پر"
مزمل نے بولنے کے ساتھ ہی تعبیر کو کاندھوں سے تھام کر بیڈ پر لیٹایا تو مزمل کا موبائل بجا
"جی سر بولیے"
مزمل نے وہاج کی کال رسیو کرتے ہوئے کہا
"ایسا ہے مزمل گیسٹ سارے جا چکے ہیں۔۔۔ میں تھوڑی دیر کے لئے کام سے جارہا ہوں لیٹ ہو جاؤں گا تم گھر کا خیال رکھنا"
بزی انداز میں وہاج نے مزمل کو تلقین کی
"جی سر آپ بے فکر رہیے"
مزمل نے تابی کو دیکھتے ہوئے کہا جو اسی کو دیکھ رہی تھی موبائل واپس پاکٹ میں رکھ کر وہ تعبیر کو دیکھنے لگا
"اس طرح نیند نہیں آئے گی مائینڈ کو ریلیکس کریں اور آنکھیں بند کریں"
مزمل لائٹ بند کرنے کے لئے اٹھنے لگا
"لائٹ نہیں بند کرو پلیز"
تعبیر نے گھبرا کر کہا
"میں یہی ہوں تعبیر، آپ کے پاس"
مزمل لیمپ ان کر کے اس کے سرہانے بیٹھا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا
تھوڑی دیر میں تعبیر سو گئی اب اس کے چہرے پر خوف کے آثار کے بجائے سکون تھا شاید اسے نیند میں بھی یہ احساس تھا کہ مزمل اس کے پاس ہے مزمل اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا
"یہ تو عجیب سی بات ہے میڈم محرم سے خوف کھانا، نامحرم کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھنا"
مزمل نے استزائیہ ہنستے ہوئے سوچا اور اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 23
"ہانی ڈیڈ کے بیڈروم میں کیسے آیا"
ہانی کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو اریش کی بیڈ روم میں پاکر ہانی نے حیرت سے سوال کیا ہانی کے سوال پر مشعل نے ایک نظر اریش کو دیکھا وہ آریش کے بیڈ پر ہانی کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی اریش آکر بیڈ کے دوسری سائیڈ پر بیٹھا
"پہلے یہ بتائیں کہ ہانی نے آج یہ حرکت کیا کی تھی۔۔۔ کیا ہانی کی اس ٹمی کے اندر موسکیٹو چلے گئے تو جو ہانی نے موسکیٹو ریفل پی لیا"
اریش ہانی کے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا آریش کی بات پر ہانی ہنسا اور مشعل مسکرا دی
"ڈیڈ ہانی ٹیسٹ کر کے دیکھ رہا تھا اس کا فلیور کیسا ہے"
ہانی نے موسکیٹو ریفل پینے کی وجہ بتائی
"آپ کو معلوم ہے آج آپ کی وجہ سے ہانی کی مما اور ڈیڈ کتنا پریشان ہوئے"
اریش بہت سنجیدگی سے ہانی سے باتیں کر رہا تھا اس کے بات کرنے پر مشعل ایک نظر اریش کو دیکھا پھر اپنی نظروں کا زاویہ دوسری طرف کر لیا
"سوری ہانی کبھی بھی مما اور ڈیڈ کو پریشان نہیں کرے گا۔۔۔ کیوکہ ہانی ایک اچھا بچہ ہے"
ہانی کے بولنے پر بےساختہ آریش اور مشعل نے ایک ساتھ اس کے گال پر کس کرنا چاہا دونوں کے چہرے بےحد قریب ہوئے بیچ میں ہانی کا چہرہ تھا۔۔۔ اس حرکت پر دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی،،، مشعل نظریں جھکا کر پیچھے ہوئی اریش ہانی کے گال کو چومتا ہوا پیچھے ہوا
"اوکے پھر پرامس کرو کہ اب کبھی بھی کوئی الٹی سیدھی حرکت نہیں کرو گے آپ"
اریش نے ہانی کے آگے ہاتھ بڑھا کر کہا
"پکا والا پرامس"
ہانی نے اریش کے ہاتھ پر اپنا ننھا ہاتھ رکھا جسے ایک بار پھر اریش نے چوم لیا
"اتنا پیار تو کبھی ولی نے بھی اپنی اولاد کو نہیں کیا تھا"
مشعل کے دماغ میں خیال آیا پھر اپنے خیال کو بری طرح جھٹک دیا
"مما آپ ہانی سے بات کیوں نہیں کر رہی کیا آپ اپنے ہانی سے ناراض ہیں"
ہانی نے مشعل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"مما اپنی جان سے کھبی بھی ناراض نہیں ہوسکتی"
مشعل نے ہانی کو گلے لگاتے ہوئے کہا
"اب آپ ایسے ہی ہانی کے ڈیڈ کو ہگ کر کے ان سے بھی دوستی کرلیں۔۔۔ وہ بہت اچھے ہیں ہانی سے بہت پیار کرتے ہیں"
ہانی کی بات پر جہاں اریش کے ہونٹوں پر ہنسی آئی وہی مشعل نے شرمندہ ہو کر گھڑی میں ٹائم دیکھنا شروع کر دیا
"ہانی کی مما ہانی کے ڈیڈ سے بالکل ناراض نہیں ہے"
اریش نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"واؤ پھر آج ہانی، مما اور ڈیڈ کے پاس سوئے گا یہاں بیچ میں"
جہازی سائز بیڈ پر اشارہ کرتے ہوئے ہانی نے خوشی کا اظہار کیا جس پر اریش اپنی ہنسی چھپا گیا وہی مشعل کھڑکی سے باہر دیکھ کر ایسے پوز کرنے لگے جیسے اس نے بات ہی نہ سنی ہو
"نہیں میری جان ابھی اتنی پکی والی دوستی بھی نہیں ہوئی"
ہانی سے بات کرتے ہوئے اریش نے ایک نظر مشعل کو دیکھا مشعل ابھی بھی کھڑکی سے باہر ہی دیکھ رہی تھی
"اکا کہاں رہ گئی مشعل"
آب کے اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"وہی دیکھ رہی ہوں کہہ رہی تھی تم چلو میں ابھی آتی ہوں"
مشعل نے نظریں جھکا کر کہا۔۔۔ ہانی کی باتوں کی وجہ سے وہ اریش سے نظریں ہی نہیں ملا پا رہی تھی
"اوکے میں دیکھ کر اتا ہوں آپ ہانی اور آکا یہاں ریلکس ہو کر سو جائیں۔ ۔۔ میں برابر والے بیڈ روم میں ہوں اگر کسی بھی چیز کی ضرورت پڑے تو مجھے بتا دیجئے گا"
اریش کہتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تو مشعل کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی
****
بلیک جینز پر بلیک شرٹ چہرے کو ہڈ سے کور کیے ہوئے وہ واشروم میں داخل ہوا اور واشروم کا دروازہ بند کیا۔۔۔۔ تعبیر کی آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ گئی
آنے والے نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر واشروم کی لائٹ بند کری تو تابی جلدی سے ٹب سے باہر نکلی اور کانپتے ہاتھ کے ساتھ باتھ گاؤن پہنا تب تک ارتضیٰ اس کے قریب آچکا تھا۔۔۔
ارتضیٰ نے باتھ گاون کی بیلٹ کو کھینچ کر تابی کو خود سے قریب کیا جس پر تعبیر کی ہلکی سی چیخ نکلی اب وہ باقاعدہ کانپ رہی تھی
"اتنا ڈر کیوں رہی ہو اسنووائٹ، میرے پاس یہ سارے حقوق محفوظ ہیں ریلیکس۔۔۔۔ وقت پر ہی اپنا حق تم سے وصولوں گا پورے استحقاق کے ساتھ"
ارتضیٰ نے کانپتے ہوئے وجود کو اپنی بانہوں میں سماتے ہوئے خمار آلود آواز میں تابی کو مخاطب کر کے کہا
"پلیز اتنا مت گرو میری نظر میں۔۔۔ چھوڑ دو مجھے"
تعبیر کو اس کے بولے ہوئے الفاظ سمجھ میں نہیں آ رہے تھے اسے اس وقت اپنی پوزیشن اور ارتضیٰ کی قربت مزید خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ نے اسے خود سے الگ کر کے اس کا رخ دیوار کی طرف کیا اور اس کے قریب آیا اور اپنا ہڈ سر سے اتار کر اس کے دونوں ہاتھ تھامے اور دیوار پر رکھے
"نظروں میں گرنے والی حرکت تو تب ہوتی ہے جب تمہارے اور میرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہوتا،،، پورا اختیار حاصل ہے مجھے ابھی سے نہیں بچپن سے سنا تم نے اسنووائٹ۔۔۔ آج یہ بات جان لو میں حق رکھتا ہوں تم پر شرعی اور قانونی۔۔۔ غیر نہیں ہو تم میرے لیے محرم ہو میں تمہارا، سارے اختیارات حاصل ہیں مجھے ایسے ہی تھوڑی نہ کہتا ہوں یو آر مائین۔۔۔ تم ابھی سے نہیں بچپن سے میرے نکاح میں ہو"
ارتضیٰ کے ہونٹ بات کرتے ہوئے تعبیر کے کان کو چھو رہے تھے
مگر اس سے بھی زیادہ خوف اب تعبیر کو اس کی باتوں سے آ رہا تھا ارتضیٰ تعبیر کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ پھیرتا ہوا شولڈر تک لایا اور شولڈر سے کمر تک جیسے ہی اس نے باتھ گاون کی ڈوری کھولنے کی کوشش کی تعبیر نے باتھ شاور ہولڈر سے نکالا۔۔۔ مڑ کر اس پر وار کیا جو کہ اپنے بچاؤ کے باوجود ارتضیٰ کی کنپٹی پر لگا
تعبیر بھاگتی ہوئی واش روم کا دروازہ کھول کر روم میں آگئی روم میں بھی مکمل اندھیرا دیکھ کر اس نے رونا شروع کردیا اس سے پہلے وہ بیڈروم کا دروازہ کھول کر باہر نکلنے کا سوچتی۔۔۔۔۔ ارتضیٰ تب تک پہنچ کر اسے بازو سے گھسیٹ کر بیڈ پر گرا چکا تھا
"گڈ اچھی کوشش کی خود کے بچاؤ کی، مگر افسوس ناکام ہوگئی"
وہ اس پر جھکتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ چکا تھا اپنے ہونٹ اس کے گال پر مس کرتے۔ ۔۔ تعبیر کی گردن تک لے آیا تھا،،، گاون سے جھلکتے شولڈر کو جب اس نے ہونٹوں میں لے کر دبایا۔ ۔۔۔ تو تعبیر کی سانس رکنے لگی
"پلیز میرے ساتھ اس طرح نہیں کرو"
تابی نے بے بس ہو کر رونا شروع کر دیا
"تمہارے نام پر میرے نام کی چھاپ بہت پہلے لگ چکی ہے، اگر جسم پر بھی میری چھاپ لگ جائے تو اس میں مضاحکہ کیا ہے مگر تمھاری مرضی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ابھی کچھ نہیں کر رہا مگر اس کے بعد تمھاری مرضی ہرگز نہیں چلے گی ویسے بھی میں آج تمہیں اپنے اور تمہارے رشتے کی اصلیت بتانے آیا تھا اور یہ بھی کہ بہت جلد تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا،، اس گھر سے تم نے جو شاور سے مجھ پر وار کیا ہے یہ اس غلطی کی چھوٹی سی سزا ہے"
تعبیر کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوئے وہ وہاں سے چلا گیا
تعبیر نے خوف کی وجہ سے بند آنکھیں کھولی تو روم میں ابھی بھی مکمل اندھیرا تھا مگر وہاں کوئی دوسرا موجود نہیں تھا
تعبیر کو آج اس حقیقت کا ادراک ہوا تھا جس کو جاننے کے بعد اس کی سانس رکنے لگی
"اتنی بڑی بات بابا نے مجھ سے چھپائی میں بچپن سے کسی کے نکاح میں ہوں"
ایک دم مزمل کا خیال آنے لگا تو وہ زور زور سے رونے لگی جیسے سب کچھ ختم ہوگیا
****
مزمل کافی دیر سے وہاج صدیقی کے مہمانوں میں گرا ہوا تھا اسلحہ سے متعلق بہت سی نئی معلومات اور باتوں کا ادراک بھی اسے ہوا تھا آج کا دن اس کے لیے کافی بزی گزرا۔۔۔ تعبیر کو یونیورسٹی سے لانے کے بعد وہ اس کو نہیں دکھی اس کی کال اور میسج بھی اس نے دیکھے مگر رپلائی نہیں کیا مگر اب رات کے نو بج رہے تھے
"میڈم نے کھانا کھایا"
مزمل نے کچن میں جاکر کک سے پوچھا
"دو بار تعبیر بی بی کے روم کا دروازہ ناک کا کیا ہے مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا"
کک نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے پندرہ سے بیس منٹ بعد کھانا ان کے روم میں لے کر آؤ"
مزمل کک سے کہتا ہوا کچن سے نکلا
وہاج صدیقی کو اپنے دوستوں سے باتوں میں مشغول دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تعبیر کے روم کے پاس پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔۔۔ دو سے تین بار دستک کے بعد جب دروازہ نہیں کھلا تو مزمل نے دروازے کا ہینڈل گھمایا دروازہ کھل گیا مگر روم میں مکمل اندھیرا تھا
"تعبیر"
مزمل نے تعبیر کو پکارا مگر پھر بھی تعبیر کی آواز نہیں آئی
مزمل نے روم کی لائٹ آن کی تعبیر کو بیڈ پر گھٹنوں میں سر دیے بیٹھے دیکھا بیڈروم کا دروازہ بند کرتا ہوا وہ تعبیر کے پاس آیا نیوی بلو کلر کے ڈریس میں، کھلے بالوں کے ساتھ جو کہ ابھی ہلکے نم تھے مزمل کی آواز پر بھی اس نے سر نہیں اٹھایا
"کیا ہوا آپ ایسے کیوں بیٹھی ہیں"
مزمل اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا تو تابی نے سر اٹھا کر مزمل کو دیکھا
"کیوں روئی ہیں آپ"
مزمل نے اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا وہ ابھی بھی مزمل کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی
"ارتضیٰ کہہ رہا تھا کہ میں اس کے نکاح میں ہو"
تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا یہ بات اس نے مزمل کو بتائی ہے یا خود کو، مزمل نے غور سے اسے دیکھا
"وہ یہاں آیا تھا"
مزمل نے تعبیر سے پوچھا
"وہ کہہ رہا تھا وہ حق رکھتا ہے مجھ پر شرعی اور قانونی"
تعبیر مزمل کی بات سنے بغیر کھوئے کھوئے انداز میں بولی مزمل چپ کر کے اسے دیکھنے لگا
"تمہیں معلوم ہے مزمل، وہ مجھے بتا رہا تھا وہ میرا محرم ہے اس کا مجھ سے بچپن میں نکاح ہوا ہے۔۔ کوئی اتنی بڑی بات بھلا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے"
تعبیر بولتے بولتے خود ہی الجھ گئی
"اتنی بڑی بات کوئی جھوٹ میں یا مذاق میں نہیں بولتا وہ سچ کہہ رہا تھا اس کا آپ سے بچپن میں نکاح ہوا ہے" مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے بتایا تو اب کی بار تابی نے مزمل کو حیرت سے دیکھا
"تمہیں یہ بات معلوم تھی"
تعبیر نے مزمل سے پوچھا
"جی وہاج سر نے مجھے بتایا تھا اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ بات آپ کو نہیں معلوم ہونی چاہیے" مزمل نے غور سے تعبیر کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھا جس پر کئی سوالات رقم تھے
"دراصل یہ نکاح آپ کی امی نے اپنی ڈیتھ سے پہلے اپنی دوست کے بیٹے سے کروایا تھا۔۔۔ اس میں شاید سر کی مرضی نہیں تھی وہ آپ کو لے کر ملک سے باہر چلے گئے اور آج 18 سال بعد ارتضیٰ اپنی والدہ کے ساتھ یہاں پر آپ کے لیے آیا تھا۔ ۔۔وہی جسے ہم دونوں نے دیکھا تھا"
مزمل نے وہاج کی بتائی ہوئی بات تعبیر کو بتائی
"وہ ارتضیٰ تھا"
آخری بات پر تعبیر نے چونک کر مزمل کو دیکھا
"آپ تو ایسے حیران ہو رہی ہیں جیسے آپ نے اسے پہلی بار دیکھا جبکہ وہ ابھی بھی آیا تھا آپ کے پاس"
مزمل نے اس کی حیرت پر سوال اٹھایا
"میں نے اس کا چہرہ کبھی بھی نہیں دیکھا مزمل، اس نے اپنا چہرہ کور کیا ہوتا ہے یہ تمہارے ماتھے پر کیا ہوا"
بات کرتے کرتے تعبیر کی نظر مزمل کے آئی برو کے اوپر سرخ نشان پر گئی
"یہ تو تھوڑی دیر پہلے پاوں سلپ ہونے کی وجہ سے چوٹ لگی تھی"
مزمل نے اپنی دو انگلیاں ماتھے کے سرخ حصے پر رکھ کر کہا۔۔۔۔ تو تعبیر کو تھوڑی دیر پہلے والا منظر آنکھوں میں گھوما جب اس نے ارتضیٰ کو باتھ شاور مارا تھا۔۔۔ تعبیر کو کھویا ہوا دیکھ کر مزمل نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
"کیا سوچ رہی ہیں آپ"
مزمل نے کھوجتی ہوئی نظروں سے تعبیر کو دیکھا جیسے اس کی سوچ پڑھنا چاہ رہا ہو۔۔۔۔ تعبیر نے نفی میں سر ہلایا پھر اپنے دماغ میں آئے ہوئے خیال کو اتفاق سمجھ کر سر جھٹکا
"کھانا کیوں نہیں کھایا آپ نے"
مزمل نے یونہی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اس سے پوچھا
"بھوک کا احساس نہیں ہو رہا"
تعبیر نے کہا تو مزمل چند لمحے اس کو یونہی دیکھتا رہا دروازہ ناک ہوا تو مزمل نے دروازہ کھولا سرونٹ کھانا لے کے روم میں آیا مزمل نے دوبارہ دروازہ بند کیا
تعبیر کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھا اس کے لیے پلیٹ میں بریانی نکالی۔۔۔۔ فورک یا اسپون کی بجائے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنایا اور تعبیر کے منہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تعبیر کی آنکھیں لبالب پانی سے بھرنے لگی۔۔۔ مزمل نے نوالا اس کے منہ میں ڈالا تو تعبیر نے مزمل کا ہاتھ تھام کر رونا شروع کردیا
"تعبیر میری بات سنیں پہلے کھانا کھائیں آپ۔۔۔ اس کے بعد ہم کوئی اور بات کریں گے"
مزمل نے دوسرے ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اس نے مزید تین چار نوالے کھائے جو کہ مزمل نے زبردستی کھلائے
"مزمل میں اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر پا رہی ہوں پلیز کچھ کرو"
تابی نے ایک دفعہ پھر رونا شروع کردیا،،، مزمل چپ کر کے اسے دیکھتا رہا
"اس وقت آپ کو سکون کی ضرورت ہے ابھی آپ لیٹے یہاں پر"
مزمل نے بولنے کے ساتھ ہی تعبیر کو کاندھوں سے تھام کر بیڈ پر لیٹایا تو مزمل کا موبائل بجا
"جی سر بولیے"
مزمل نے وہاج کی کال رسیو کرتے ہوئے کہا
"ایسا ہے مزمل گیسٹ سارے جا چکے ہیں۔۔۔ میں تھوڑی دیر کے لئے کام سے جارہا ہوں لیٹ ہو جاؤں گا تم گھر کا خیال رکھنا"
بزی انداز میں وہاج نے مزمل کو تلقین کی
"جی سر آپ بے فکر رہیے"
مزمل نے تابی کو دیکھتے ہوئے کہا جو اسی کو دیکھ رہی تھی موبائل واپس پاکٹ میں رکھ کر وہ تعبیر کو دیکھنے لگا
"اس طرح نیند نہیں آئے گی مائینڈ کو ریلیکس کریں اور آنکھیں بند کریں"
مزمل لائٹ بند کرنے کے لئے اٹھنے لگا
"لائٹ نہیں بند کرو پلیز"
تعبیر نے گھبرا کر کہا
"میں یہی ہوں تعبیر، آپ کے پاس"
مزمل لیمپ ان کر کے اس کے سرہانے بیٹھا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا
تھوڑی دیر میں تعبیر سو گئی اب اس کے چہرے پر خوف کے آثار کے بجائے سکون تھا شاید اسے نیند میں بھی یہ احساس تھا کہ مزمل اس کے پاس ہے مزمل اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا
"یہ تو عجیب سی بات ہے میڈم محرم سے خوف کھانا، نامحرم کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھنا"
مزمل نے استزائیہ ہنستے ہوئے سوچا اور اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment