Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 22

🌹: U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 22


"کیا بات ہے مما آپ اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہیں"
جب سے وہاج صدیقی کے گھر سے مریم اور ارتضیٰ واپس آئے تھے مریم تب سے چپ بیٹھی تھی ارتضیٰ نے اسے دیکھ کر سوال کیا

"تم نے دیکھا ارتضیٰ، اسرار بھائی بالکل بھی نہیں بدلے وہ پہلے جیسے ہی ہیں اور وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس نکاح کو نہیں مانتے، نکاح ہوا ہے تمہارا اور دعا کا کوئی مذاق تو ہوتا نکاح"
مریم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

"آپ اس بات کو لے کر پریشان بیٹھی ہیں مما، وہاج صدیقی کے ری ایکشن کا تو مجھے پہلے ہی علم تھا وہ کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا مگر ارتضیٰ کو ایک دفعہ شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نارمل انداز میں اسے اپنے اور دعا کے رشتے کے بارے میں یاد تو کرانا تھا لیکن اب جو ارتضیٰ کرے گا وہ وہاج صدیقی ساری عمر نہیں بھولے گا"
ارتضیٰ نے پراسرار ہنسی ہنستے ہوئے کہا

"کیا کرنے لگے ہو تم ارتضیٰ، یہاں دیکھو میری طرف میری کل کائنات ہو تم اور وہ بہت خطرناک انسان ہے۔۔۔ بے حس اور بے رحم تم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھاو گے جس سے بعد میں مجھے ہی پچھتانا پڑے تمہارے علاوہ اور ہے ہی کیا میرے پاس جہاں میں اپنی سہیلی رو بیٹھی ہوں وہی اب میں دعا کو بھی بھول جاؤں گی، اس پر بھی رو لوں گی"
مریم وہاج صدیقی کی دھمکی سے شاید ڈر گئی تھی اس لیے ایسا بولنے لگی

"مما آپ دعا کو بھول سکتی ہیں اس پر رو سکتی ہیں مگر میں نے پہلے ہی کہا تھا میں اپنے حق سے دستبردار کبھی نہیں ہو سکتا اور آپ نے اپنے بیٹے کو کیا سمجھا ہوا ہے میں وہاج صدیقی ڈر جاؤں گا اب پچھتانے کی باری وہاج صدیقی کی ہے کیوکہ جو میرا ہے وہ تو میں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی کسی دوسرے کو یہ تعلق ختم کرنے دوں گا چاہے وہ وہاج صدیقی ہو چاہے اس کی بیٹی"
ارتضیٰ نے سنجیدگی سے مریم کو دیکھا

"خوشی خوشی تو نہیں کہہ رہی ہیں آج اتنے سالوں بعد اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر کتنا دل چاہا میرا کہ میں آگے بڑھ کر اسے اپنے گلے سے لگا لو، کیا کیا خواب دیکھے تھے تمہیں اور دعا کو لےکر" مریم ایک بار پھر رنجیدہ ہونے لگی

"سارے خواب پورے ہوں گے دعا کو یہی آنا ہے ہم دونوں کے پاس، آپ پریشان مت ہوں"
مریم کی کیفیت سمجھتے ہوئے ارتضیٰ نے اس کے ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا اور چیئر پر بیٹھ کر اپنے اگلے قدم کے بارے میں سوچنے لگا

"باپ کو ایک بار آگاہ کردیا کیوں نہ بیٹی کو بھی ایک بار آگاہ کر دیا ذرا معلوم تو ہو اسکی نظر میں رشتے کی اہمیت ہے یا محبت کی"
ارتضیٰ دل ہی دل میں سوچنے لگا

****

"اریش۔ ۔۔۔ اریش وہ"
اریش افس سے گھر پہنچ کر ابھی گاڑی سے اترا ہی تھا مشعل روتی ہوئی بھاگ کر اس کے پاس آئی

"مشعل کیا ہوگیا آپ کو سب خیریت ہے" اریش مشعل کو روتا ہوا دیکھ کر پریشان ہو کر بولا

"اریش۔۔۔۔ میرا ہانی،
اس نے"
مشعل سے آگے نہیں بولا گیا اس کے ہونٹ بری طرح لرز رہے تھے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی اریش اس کی بات مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر کوارٹر کی طرف دوڑا جہاں ہانی اکا کی گود میں آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا اکا رو رہی تھی

"اریش ہانی نے یہ لیکوٹ (موسکیٹو کلر مچھروں کی دوا) پی لی ہے یہ بات نہیں کر رہا" اکا نے روتے ہوئے اریش سے کہا یہ بات سن کر اریش کے اوسان خطا ہو گئے اس نے ہانی کے گال زور زور سے تھپتھپائے

"ہانی ہانی"
اپنے حواس بحال کرکے وہ ہانی کو گود میں اٹھا کر بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف لے کر گیا مشعل جو روتی ہوئی کوارٹر کی طرف آرہی تھی ہانی کو گود میں اٹھائے اریش کو گاڑی کی طرف جاتا دیکھ کر وہ بھی گاڑی کی طرف بڑھ گئی اریش نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر ہانی کو بٹھانا چاہا، جلدی سے مشعل نے اریش کی گود سے ہانی کو لے کر کار میں بیٹھ گئی اریش نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور کار دوڑاتا ہوا اسپتال کی طرف رخ کیا مشعل ابھی بھی روئے جارہی تھی مگر اب اس کے رونے پر اریش کو غصہ آنے لگا

"کیا فائدہ ہے اب رونے کا، کیوں رو رہی ہیں آپ، ،، ایک بچہ نہیں سنبھال سکتی کیسی ماں ‏ہیں آپ۔۔۔ ذرا بھی احساس ہے آپ کی لاپروائی کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے مجھے اندازہ نہیں تھا آپ اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت بھی دے سکتی ہیں بچے والے گھر میں کوئی ایسی چیزیں یوں ہی رک چھوڑتا ہے"
ابھی آریش کچھ اور بولتا مگر مشعل کے رونے میں مزید شدت آگئی۔۔ ہانی کے منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوگئے جس سے دیکھ کر مشعل کے ساتھ ساتھ اریش بھی گھبرا گیا اسپتال پہنچ کر اس نے مشعل کی گود سے ہانی کو لیا اور مشعل کا انتظار کئے بناء ہانی کو لے کر اسپتال کے اندر داخل ہوا۔۔۔ ایمرجنسی روم میں ہانی کا ٹریٹمنٹ اسٹارٹ ہوا

اریش فارم فل کر کے کچھ ریکوائرمنٹس پوری کرتا مشعل کے پاس آیا تو وہ ایمرجنسی روم کے دروازے میں موجود شیشے سے روتے ہوئے ہانی کو دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھوں میں لرزش واضح تھی وہ ہلکے ہلکے خود بھی کانپ رہی تھی

اس وقت ایمرجنسی روم کے اندر ڈاکٹر نے ہانی کے منہ اور ناک میں نلکیاں ڈال گیا ڈال کر اس کا معدہ واش کر رہے تھے 

"مشعل آئے وہاں بیٹھیں چیئر پر" اریش نے اسے وہاں سے ہٹا نا چاہا مگر معشل نے اس کی بات نہیں سنی وہ ابھی بھی کانپتے وجود کے ساتھ کھڑی ہوئی روتے ہوئے مسلسل شیشے سے ہانی کو دیکھ رہی تھی

"مشعل پلیز اس طرح خود کو تکلیف دینا بند کریں چلے وہاں"
اریش اس کا ہاتھ تھام کر اسے وہاں سے لے آیا، ویٹنگ روم میں موجود کرسی پر اسکو بیٹھایا اور خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا

"بالکل ٹھیک کہا آپ نے میرے بارے میں میں ایک غیر ذمہ دار اور لاپرواہ ماں ہو میں ایک اچھی ماں نہیں ہوں اریش، بلکہ میں تو ایک اچھی لڑکی بھی نہیں ہے"
مشعل دور سے ایمرجنسی کے بند دروازے کو دیکھ کر اریش سے بول رہی تھی

"وہ سب میں نے غصے میں کہا تھا مشعل کیوکہ مجھے ہانی کی حالت دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا اور پتہ نہیں میں آپ سے غصے میں کیا کیا بول گیا، میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا ہرگز نہیں تھا ہانی کو اس حالت میں نہیں دیکھا گیا تو آپ پر غصہ کر بیٹھا۔۔۔ آپ میری وجہ سے ہرٹ ہوئی ہے تو اس کے لیے سوری مگر میں آپ کو بھی پریشان نہیں دیکھ سکتا آپ پلیزر ریلیکس ہو جائے ہانی انڈر ٹریٹمنٹ ہے وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ"
اریش کو تھوڑی دیر پہلے گاڑی میں کی جانے والی اپنی باتوں پر خود اپنے آپ پر ہی غصہ آنے لگا

"میرے پاس ہانی کے سوا اور ہے ہی کیا اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہوگیا تو۔۔"
مشعل بات کو ادھورا چھوڑ کر دوبارہ رونا شروع ہوگئی

"مشعل میں نے ابھی آپ سے کہا ہے ناں ہانی انڈر ٹریٹمنٹ ہے پھر آپ کیوں اسطرح کی باتیں کر کے خود کو ہلکان کر رہی ہیں، آپ کے یہ آنسو تکلیف دے رہے ہیں مجھے پلیز انیہں اپنی آنکھوں سے صاف کریں"
اریش نے ٹشو پیپر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

"آکا نے میرے ماضی کے بارے میں بتایا ہے نہ آپ کو، آپ پھر بھی میرے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں، ایک ایسی لڑکی کے لئے جو اپنے بھائی کی عزت کی پروا کیے بغیر اپنی خواہش پوری کرنے کی خاطر رات کے اندھیرے میں گھر سے بھاگ گئی تھی"
مشعل کو ابھی بھی آریش کی نظروں میں اپنے لئے نرم تاثر دیکھ کر حیرت ہوئی۔۔۔ اسی نے اکا سے کہا تھا کہ وہ اریش کو سب کچھ سچ بتا دیں اسے پورا یقین تھا یہ سب سننے کے بعد آریش خود پیچھے ہٹ جائے گا

"آپ نے جو بھی کچھ کیا مشعل، وہ آپ کی چھوٹی عمر کی بڑی نادانی تھی مگر اس غلطی کی سزا بھی پالی آپ نے تو پھر آپ کیوں چاہتی ہیں کہ میرے دل میں آپ کے لیے نرم گوشہ موجود نہ ہو اور جو بھی کچھ آپ نے کیا یا آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا آپ اس کی سزا ہانی کو کیوں دینا چاہتے ہیں، اسے کیا آپ ساری عمر باپ کے رشتے سے محروم رکھے گیں۔۔۔ مشعل آپ کے بارے میں سب کچھ جاننے کے باوجود میرا دل ابھی بھی آپ کا طلبگار ہے میں چاہ کر بھی آپ کو یا ہانی کو نظر انداز نہیں کرسکتا پلیز مشعل میں یہ نہیں کہوں گا کہہ ہانی کو یا آپ کو میری ضرورت ہے بلکہ مجھے آپ کی اور ہانی کی ضرورت ہے پلیز اس طرح سنگدلی کا مظاہرہ نہیں کریں"
اریش نے باتوں کے درمیان پتہ نہیں کب اپنا ہاتھ مشعل کے ہاتھ پر رکھا مشعل کو معلوم ہی نہیں ہوا وہ دونوں ہی ڈاکٹر کی آواز پر چونکے تو اریش اپنا ہاتھ مشعل کے ہاتھ سے ہٹاتا کر اٹھ کھڑا ہوا

"ایکسکیوز می آپ کے پیشنٹ کا ٹریٹمینٹ مکمل ہوگیا ہے وہ اب خطرے سے باہر ہے تھوڑی دیر میں بچے کو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا" ڈاکٹر نے آکر اریش کو خوشخبری سنائی تو مشعل کی جان میں جان آئی وہی اریش نے بھی خدا کا شکر ادا کیا

****

ہسپتال سے واپسی پر ہانی کو لاتے ہوئے رات ہوگئی وہ ابھی بھی دوائیوں کے زیر اثر غنودگی میں تھا اسے مشعل نے اپنی گود میں لیا ہوا تھا اریش نے گاڑی گھر کے پاس روکی اور مشعل کا دروازہ کھول کر ہانی کو اپنی گود میں اٹھایا اور اپنے گھر کی طرف جانے لگا

"اریش ہانی کو مجھے دے دیجئے اسے لٹا دوں گی تو وہ سو جائے گا" مشعل نے اریش کو اپنے گھر کی طرف جاتے دیکھ کر کہا

"میں بھی اسے بیڈ روم میں لے جا کر سلاو گا آپ اور اکا بھی کواٹر سے گھر میں آجائے"
مشعل اریش کو ایسے دیکھنے لگی جیسے اس نے بہت مشکل بات کہہ دی ہو

"مشعل پلیز یار میرے غصّے میں کی گئی باتیں تو آپ فوراً اپنے دل سے لگا کر بیٹھ جاتی ہیں، جو باتیں میں نے آج آپ کو پیار سے کہی ہیں پلیز ذرا ان کو بھی دل سے سوچئے۔۔۔۔ ہانی کوارٹر میں سنگل بیڈ پر کمفرٹیبل نہیں سوئے گا اسے ریلیکس ہو کر نیند لینے دیں آکا کو بھی بلا لائے پلیز"
مشعل کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہ مشعل کو بولا اپنی بات بول کر رکا نہیں گھر کی طرف بڑھ گیا

مشعل اب کیا بولتی چپ رہی۔۔۔ ہسپتال کے بلز سے لے کر دوا کے سارے اخراجات اریش نے پے کیے تھے اور سب سے بڑی بات وہ ہانی اور مشعل کے ساتھ چار سے پانچ گھنٹے اسپتال میں رہا ناچار مشعل کو کوارٹر میں جانا پڑا تاکہ اکا کو بلا سکے

****

آج وہاں صدیقی کے گھر اسکے خاص دوست ڈنر پر مدعو تھے یہ ڈنر وہاج نے اس لیے رکھا تھا تاکہ وہ مزمل کو متعارف کروا سکے اور اس نے کئی لوگوں سے مزمل کا تعارف بھی کروایا فضل چونکہ وہاج کا پرانا وفادار ملازم تھا مزمل کو دیکھ دیکھ کر جل رہا تھا کیونکہ اتنے سالوں سے وہاج صدیقی کے پاس کام کر کے بھی اس نے وہ مقام حاصل نہیں کیا تھا جو ایک ماہ کے اندر اس کل کے آئے ہوئے لڑکے کو مل گیا تھا۔۔۔ تعبیر کے ساتھ بڑھتی ہوئی دوستی بھی اس کی نظر سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور اس نے مزمل کو ستار میمن سے بھی فون پر بات کرتے ہوئے سنا تھا مگر آج وہ پورے ثبوت کے ساتھ وہاج صدیقی کو سب کچھ بتانے کا ارادہ رکھتا تھا

****

تابی اپنے بیڈ روم میں بیٹھی ہوئی کافی دیر سے کتابوں میں اپنا سر کھپائے ہوئے تھی کیوکہ سمسٹر کی ڈیٹ شیٹ بھی آج مل گئی تھی

یونیورسٹی سے واپس آنے کے بعد وہ اپنے روم سے باہر نہیں نکلی تھی ویسے بھی آج وہاج کے دوست ڈنر پر مدعو تھے وہاں اس کا کیا کام

اس نے مزمل کو 3 سے 4 بار کال کی اور میسجز بھی کیے مگر مزمل کا رپلائی نہیں آیا تابی نے اس بات پر دھیان نہیں دیا اس کو مصروف جان کر وہ خود بھی اپنی کتابوں میں مصروف ہوگئی مگر اب مسلسل کتابیں پڑھتے پڑھتےاس کا سر بھاری ہو رہا تھا خود کو ریلیکس کرنے کے لیے شاور لینے کا ارادہ کیا سارے نوٹز اٹھا کر ٹیبل پر رکھے اور وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھتی ہوئی باتھ گاؤن لے کر وہ واش روم میں چلی گئی۔۔۔
بالوں کا اونچا جوڑا بنا کر آنکھیں بند کرتے ہوئے وہ ریلیکس موڈ میں باتھ ٹپ میں بیٹھی ہوئی تھی اچانک کلک کی آواز پر اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔

بلیک جینز پر بلیک شرٹ چہرے کو ہڈ سے کور کیے ہوئے وہ واش روم میں داخل ہوا اور واش روم کا دروازہ بند کیا تعبیر کی آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ گئی

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment