🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 21
"صدیقی صاحب آپ سے کوئی ارتضیٰ نامی شخص ملنے آیا ہے اور ساتھ میں کوئی خاتون بھی ہیں"
وہاج اپنے بیڈ روم میں کل رات دی جانے والی پارٹی کے لئے اپنے دوستوں کو انوائٹ کرنے کے لیے موبائل میں مصروف تھا تبھی گارڈ نے آکر اسے اطلاع دی
"ارتضیٰ یہ کون ہے۔۔ اس نام کے میں کسی بندے کو نہیں جانتا،، جاو منع کر دو کہو صاحب ابھی بزی ہیں"
وہاج نے یہ نام نہ پہلے کبھی سنا تھا نہ اس نام کا کوئی شخص اسے یاد تھا تبھی گارڈ سے بول کر دوبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا
"صاحب وہ بول رہا تھا اگر تمہارے صاحب ملنے سے منع کردیں یا پہچاننے سے انکار کردیں تو ان سے کہنا اسرار سے ملنا ہے دعا کے سلسلے میں"
اب کی بار وہاج کو نہ صرف جھٹکا لگا بلکہ وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
"جاو اسے ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آ رہا ہو"
پہچانا تو وہ اسے اب بھی نہیں تھا کہ یہ ارتضیٰ ہے کون، مگر وہ اپنے اصل نام پر اور دعا کے نام پر چونکا جب اس نے اپنی پرانی پہچان مٹا دی تو یہ کون تھا جو اس کا اصل نام جانتا تھا پتا نہیں کوئی دوست ہے یا دشمن مگر اس کے لیے کافی تشویش کی بات تھی
****
وہاج ڈرائنگ روم میں آیا تو ایک 28 29 سالہ نوجوان اور ایک خاتون صوفے پر برجمان تھی۔ ۔۔ وہاج کو نہیں یاد پڑتا تھا کہ ارتضیٰ نامی لڑکے کو اس نے پہلے کبھی دیکھا ہے مگر یہ عورت اسے کہاں دیکھا تھا اسے یاد نہیں آرہا تھا۔۔۔ وہ بھی
ڈرائنگ روم میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا ارتضیٰ اور مریم نے ایک دوسرے کو دیکھا
"کہو کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہو" وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر بات کا آغاز کیا
"ہم یہاں پر دعا سے ملنے آئے ہیں اسرار بھائی"
جواب مریم کی طرف سے آیا تو وہاج کو سانپ سونگھ گیا ان لوگوں کو وہ کیسے بھول گیا تھا اب اسے یاد آیا یہ عائشہ کی دوست مریم تھی اور یہ لڑکا یقیناً اس کا بیٹا جس سے دعا کا۔۔۔
"لگتا ہے وقت اور عمر کے ساتھ یاداشت کافی کمزور ہو گئی ہے آپ کی میں آپ کو اپنا مکمل تعارف کروا دیتا ہوں میرا نام ارتضیٰ ہے، ارتضیٰ حسین۔۔۔ یاور حسین کا بیٹا آپ کا ہونے والا داماد اور آپ کی بیٹی دعا کا شوہر۔۔ اب یاد آیا اسرار صاحب"
ارتضیٰ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا جس سے ایک پل کے لیے وہاج خاموش ہوگیا اور ارتضیٰ کو دیکھے گیا
"یہ کیا بکواس ہے نہ ہی میں اسرار ہوں اور نہ ہی میری بیٹی کا نام دعا ہے
آئندہ میرے گھر آنے کی جرات مت کرنا اور اسے میری لاسٹ وارننگ سمجھنا"
وہاج نے ہوش میں آکر سخت لہجے میں اسے تنبہیہ کرتے ہوئے کہا
"نام بدلنے سے شکلیں نہیں بدلتی ہیں نہ ہی رشتے۔۔۔ دعا میری منکوحہ ہے اور میں اسے لیکر جاؤنگا"
ارتضیٰ نے وہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جس پر وہاج کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ کنٹرول کر گیا
"تم نے شاید سنا نہیں میں نے کہا میری بیٹی کا نام دعا نہیں ہے اس سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے اور اگر بالفرض رشتہ ہوتا تو میں توڑ دیتا"
وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا پھر رخ مریم کی طرف کیا
"اگر تم کو اپنے اس جذباتی بیٹے سے محبت ہے اور تم چاہتی ہوں کہ یہ زندہ رہے تو اسے لے کر ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکل جاؤ اور دوبارہ کبھی یہاں مت آنا" وہاج نے سرد لہجے میں مریم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دھمکی دی،، مریم کو 18 سال پہلے والی وہ رات یاد آگئی اس وقت بھی وہاج اسے اور یاور کو اسی طرح آنکھوں سے ڈرا کر وارننگ دے رہا تھا
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ میری ماں سے اس لہجے میں مخاطب ہوں"
ارتضیٰ صوفے سے اٹھتا ہوا آگے بڑھا تو مریم نے فورا اس کا ہاتھ تھام لیا
"بیٹا چلو یہاں سے"
مریم بولی مگر اس کی نظریں وہاج پر تھی اور وہاج ان دونوں ماں بیٹے کو ایسے گھور رہا تھا جیسے ابھی کچا نگل جائے گا
مریم کے بولنے پر ارتضیٰ نے مریم کو حیرت سے دیکھا مریم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چلنے کا اشارہ کیا ارتضیٰ وہاج کو گھورتا ہوا مریم کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
وہ اور مریم باہر جا رہے تھے اسی وقت کار سے تابی اور مزمل باہر نکل کر گھر کی طرف آئے مریم ایک پل کیلئے تعبیر کو دیکھ کر رک گئی تابی نے کوشش کی ان خاتون کو پہچاننے کی مگر اسے یاد نہیں آیا مزمل اور ارتضیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
"چلیں مما"
ارتضیٰ سنجیدگی سے کہتا ہوا مریم کو وہاں سے لے گیا
"کیا ہوا آپ جانتی ہیں ان خاتون کو یہ کون تھی"
مزمل نے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔ جو کہ ابھی بھی ان خاتون کو لان عبور کرتا ہوا دیکھ رہی تھی مریم نے کار میں بیٹھنے سے پہلے ایک بار پھر دور کھڑی دعا کو دیکھا
"نہیں مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر پتہ نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے میں انہیں پہلے سے جانتی ہوں عجیب سی کشش محسوس ہو رہی ہے"
تعبیر نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا تو مزمل نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی
"وہ لوگ اب جا چکے ہیں میڈم ہوش کی دنیا میں آجائیں"
مزمل کے کہنے پر تعبیر واقعی اپنی کیفیت سے باہر نکل کر آئی اور گھور کے مزمل کو دیکھا تو مزمل اس کو دیکھ کر مسکرا دیا تعبیر اپنی مسکراہٹ چھپا کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے بیڈروم میں چلی گئی
***
مزمل اپنے روم کی طرف جانے لگا تو اس کی نظر روم سے نکلتے ہوئے وہاج پر پڑی جو کہ چہرے پر گہری سوچ کے جال لیے کسی اور ہی دنیا میں گم تھا
"سر سب خیریت ہے"
مزمل نے وہاج کو کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا
"ہاں سب خیریت ہے تم تابی کو لے کر آ گئے"
وہاج نے مزمل سے پوچھا
"جی تھوڑی دیر پہلے ہی لے کر آیا ہوں اپنے روم میں ہیں میڈم۔۔۔ کیا آپ کے گیسٹ آئے تھے کوئی"
مزمل نے وہاج سے پوچھا تو وہاج ایک دم چونک
"دراصل میڈم کو لے کر آرہا تھا تو ایک خاتون اور ایک شخص باہر نکل کر جا رہے تھے اس لئے پوچھا"
مزمل وہاج کے چونکتے پر اس کو وضاحت دے کر جانے لگا
"رکو مزمل ڈرائنگ روم میں آو بات کرنی ہے"
وہاج کی نظر سیڑھیوں سے اوپر تابی کے روم کی طرف گئی اور خود ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا وہاج کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے مزمل نے بھی تابی کے روم کے بند دروازے کو دیکھا اور وہاج کے پیچھے قدم اٹھاتا ہوا چلا گیا
"آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں سر۔۔۔ کوئی پریشانی کی بات ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں میں کوشش کروں گا آپ کا کام آسکوں"
مزمل نے وہاج کے چہرے پر گہری سوچ کے بادل دیکھ کر کہا
"دراصل میری مرحوم بیوی عائشہ مرتے مرتے بھی ایک بے وقوفی کر گئی ہے اور اسکی کی ہوئی بیوقوفی آج 18 سال بعد میرے سامنے آئی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ بیوقوفی میرے لیے کوئی بڑی مشکل پیدا کر سکے، اس لیے اب کچھ کرنا پڑے گا" وہاج سوچ سوچ کر بول رہا تھا اور مزمل وہاج کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
"سر میں چاہ کر بھی آپ کی بات نہیں سمجھ پا رہا"
مزمل نے وہاج کو دیکھ کر کہا
"تعبیر جب ڈیڑھ سال کی تھی تو میری بیوی نے اپنی دوست کے بیٹے سے تعبیر کا نکاح کر دیا تھا اور خود اللہ کو پیاری ہوگئی۔۔۔ میں تابی کو لے کر ملک سے باہر چلا گیا وہاں میں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی، نام بنایا اپنے ملک میں واپس آیا۔۔۔ وقت گزرا تو میں اس بات کو فراموش کر بیٹھا مگر آج یہ لوگ میرے در پر سوالی بن کر آئے ہیں تابی پر اپنا حق جتانے" آخری جملہ وہاج نے ہے حقارت سے کہا مزمل نے وہاج کی بات خاموشی سے سنی
"سر جو حق رکھتا ہے وہ تو جتائے کا بھی، میرے کہنے کا مطلب ہے نکاح کوئی معمولی چیز نہیں"
مزمل نے اپنی راۓ دی
"میں بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کوئی بھی منہ اٹھا کر وہاج صدیقی کی بیٹی کا حق دار بن کر آجائے اور میں تابی کو اس کے ساتھ چلتا کردو،،، مختصر یہ کہ میں اس مسئلہ سے ہمیشہ کے لیے نجات چاہتا ہوں"
وہاج صدیقی نے مزمل سے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا وہ نہیں چاہتا تھا اس کی پرانی پہچان کسی دوسرے کے اوپر کھلے ایسا کرنے سے وہ اس کو کئی قسم کے خطرے لاحق ہو سکتے تھے
"نکاح، نکاح ہوتا ہے سر اس کی اہمیت کو آپ یا میں نہیں جھٹلا سکتے، اگر میڈم کا نکاح ہوا ہے تو دعویٰ کرے گا ہی، خیر اب آپ ایسا نہیں چاہتے ہیں وہ الگ بات ہے یہ مسئلہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔۔۔ میں ان ماں بیٹوں کا انتظام کر دوں گا"
مزمل کی بات سن کر وہاج ریلیکس ہوا۔۔ آخر ایسی ہی تھوڑی نہ اعتبار کیا تھا اس نے مزمل پر
"دیکھ لینا اگر آرام سے طلاق دے دیتا ہے تو ٹھیک ہے، نہیں تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے"
وہاج نے مزمل کو سمجھایا جو وہ اچھی طرح سمجھ گیا
"اور ہاں مزمل، تابی کو اس بات سے لاعلم ہی رکھنا۔۔ میں نہیں چاہتا اسے کسی بھی قسم کی ٹینشن ہو"
وہاج نے کمرے سے نکلنے سے پہلے مزمل کو کہا۔۔۔ مزمل استزائیہ ہنستے ہوئے سر جھٹک کر خود بھی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا
****
آج عائشہ کا سوئم تھا جس دن ارتضیٰ اور دعا کا نکاح ہوا اس کے اگلے دن ہی عائشہ انتقال کر گئی شاید اسے علم ہو گیا تھا کہ وہ اب نہیں بچ سکے گی یا اس کے اندر خود جینے کی خواہش ختم ہو گئی تھی بہرحال جو بھی تھا وہ جاتے جاتے اپنی طرف سے اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں سونپ گئی۔۔۔۔ ایک مریم ہی تھی جو اس کی موت پر دل سے دکھی تھی جسے بار بار یاور دلاسہ دے رہا تھا اور تسلی دیے جا رہا تھا مریم بار بار دعا کو گلے لگا کر رو رہی تھی،، دوسرے لوگوں کے ساتھ عائشہ کے انوار بھائی نزہت بھابھی بھی جنازے میں شریک ہوئے اور تعزیت کر کے واپس چلے گئے
دوسرے دن قرآن خوانی رکھی گئی تھی سب لوگ جا چکے تھے مریم گھر سمیٹ رہی تھی ارتضیٰ روتا ہوا کچن میں آیا
"مما جلدی چلیں دیکھیں اسنووائٹ کو کیا ہو گیا ہے" مریم گھبرا کر کچن سے بھاگتی ہوئی روم میں آئی جہاں دعا چیخ چیخ کر رو رہی تھی اس کی تھوڑی سے خون بہہ کر اس کی سفید فراک خون سے لال کر رہا تھا مریم بھاگتی ہوئی دعا کے پاس آئی اور اپنا دوپٹہ اس کی تھوڑی پر رکھتی ہوئی ارتضیٰ کو دیکھ کر بولی
"جاؤ جلدی بابا کو بلاکر لاؤ"
ارتضیٰ روتا ہوا باہر گیا۔۔۔ یاور جو کہ مہمانوں کو رخصت کرکے گھر آ رہا تھا ارتضیٰ کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا
"بابا جلدی چلیں میری اسنووائٹ کو چوٹ لگی ہے اسے درد ہو رہا ہے" ارتضیٰ کی بات سن کر یاور گھر کی طرف آتا مریم دعا کو گود میں اٹھائے باہر آگئی
"یاور خون نہیں رک رہا ہے اس کو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلیں پلیز" مریم کے کہتے ہی وہ چاروں محلے میں موجود ڈاکٹر کے پاس چلے گئے
دعا کو تھوڑی پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کو تین ٹانکے لگے تھے
"میں بہت برا ہوں ممّا اسنووائٹ کو میری وجہ سے چوٹ لگی ہے مجھے اسے بیڈ پر چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا"
گھر آکر دعا تو چپ ہوگئی مگر ارتضیٰ روئے جا رہا تھا
"بیٹا آپ اس کو چھوڑ کر کیوں گئے تھے ابھی آپ کی اسنووائٹ نے پراپر چلنا تو نہیں سیکھا نا"
یاور نے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے پوچھا
"بابا اسنووائٹ کو بھوک لگ رہی تھی میں اس کے لیے فرج سے کھیر لینے گیا تھا"
ارتضیٰ نے سوتی ہوئی دعا کو دیکھ کر کہا
"چلو اب آپ چپ ہو جاؤ آپکی اسنووائٹ سو گئی ہے آپ رو گے تو وہ جاگ جائے گی"
مریم نے ارتضیٰ کو پیار کرتے ہوئے کہا مریم کو معلوم تھا کہ اس کا بیٹا اپنی اسنووائٹ کے لیے بہت زیادہ سنسیٹیو ہے
دعا واپسی پر آتے ہوئے مریم کی گود میں ہی سو گئی تھی مریم نے اسے بیڈ پر لٹایا باہر دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی
"اس وقت کون ہوسکتا ہے"
رات کے 11 بج رہے تھے اس وقت گلی میں عموما سناٹا تھا یاور اٹھ کر باہر دروازہ کھولنے گیا
کالی کمیز شلوار میں کالی چادر سے منہ ڈھانپے ہوئے وہ اسرار تھا یاور نے اسے اندر آنے کی جگہ دی۔۔۔ یاور نے عائشہ کے انتقال کا پیغام تو پہنچادیا تھا مگر وہاں سے اسے خبر ملی کہ وہ جیل سے فرار ہے
"عائشہ اور دعا کہاں ہیں انہیں جلدی بھیجو میرے پاس وقت نہیں ہے" وہ خود دروازہ بند کرتا ہوا یاور سے بولا مریم اور ارتضیٰ بھی روم میں آگئے
"دو دن پہلے ہی عائشہ کا انتقال ہوچکا ہے اسرار بھائی"
مریم نے روہانسی لہجے میں اسرار کو بتایا ایک لمحے کے لئے وہ بھی شاک کے عالم میں ان دونوں کو دیکھے گیا
"یہ کیا بول رہی ہو، کیسے ہوا کب ہوا یہ سب"
اسرار کو یقین نہیں آیا مختصراً یاور نے عائشہ کی بیماری کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی یہ خبر بھی کہ مرنے سے پہلے عائشہ کی خواہش پر دونوں بچوں کا نکاح ہوچکا ہے۔۔۔۔ اس خبر پر ناگواری سی اسرار کے چہرے پر آئی جو کسی سے چھپی نہیں رہ سکی
"میری بیٹی کہاں ہے میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں"
اسرار نے یاور کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی ہے اسرار بھائی"
مریم نے بیڈ روم کی طرف اشارہ کرکے کہا تو اسرار بیڈروم کی طرف گیا اور سوتی ہوئی دعا کو اٹھایا اس کو پیار کیا وہ اس کا خون تھی اس کی بیٹی
"یہ اس کے چوٹ کیسے لگی ہے" اسرار کے ماتھے پر شکن ابھری
"آج گر گئی تھی بیڈ سے"
یاور نے ایسے شرمندہ ہو کر بتایا جیسے اسی کی غلطی ہو
"میں اپنی بیٹی کو لے کر جا رہا ہوں جتنے دن تم لوگوں نے اسے اپنے پاس رکھو اس کا شکریہ" اسرار دعا کو اٹھائے جانے لگا
"یہ کیا کہہ رہے ہیں اسرار بھائی آپ، دعا کو کیسے لے جا سکتے ہیں یہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے ہلی ہوئی ہے وہ کیسے رہے گی"
مریم نے تڑپتے ہوئے کہا
"جبھی یہ حال ہوا ہے اس کا، دو دن ہوئے ہیں ابھی اس کی ماں کو مرے ہوئے۔۔۔ میری بیٹی جس کو میں اتنے مہینے بعد دیکھ رہا ہو وہ اس حالت میں ہے۔۔۔ دیکھو میں تم لوگوں سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتا احسان کیا ہے تم لوگوں نے میری بیوی اور بیٹی کو رکھ کر اس لیے بغیر بات بڑھائے مجھے یہاں سے جانے دو"
اسرار نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
"یہ میری اسنووائٹ ہے میں اسے کہیں نہیں جانے دوں گا" ارتضیٰ کے ننھے سے دماغ میں یہ بات سما گئی کے انکل اس کی اسنووائٹ کو لے کر جا رہے ہیں اس لیے وہ فوراً بولا
"دیکھو اسرار دعا کا ارتضیٰ سے نکاح ہوا ہے اگر قانوناً اور شرحاً دیکھا جائے تو یہ ارتضیٰ کی امانت ہے"
یاور نے تحمل سے اسرار کو سمجھانا چاہا
"بکواس ہے یہ سب میں ایسے کسی نکاح کو نہیں مانتا میں جا رہا ہوں اپنی بیٹی کو لے کر، پولیس کو بلا کر کوئی چلاکی مت کرنا ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم لوگوں نے کوئی احسان کیا ہے مجھ پر"
اسرار بولتا ہوا دعا کو لے کر جانے لگا تو مریم رونے لگی
"انکل چھوڑیے آپ اسے یہ میری اسنووائٹ ہے میں اسے نہیں جانے دوں گا"
اچانک ارتضیٰ نے اسرار کی شال کا سرا تھامتے ہوئے کہا اسرار نے گھور کر اس لڑکے کو دیکھا اور جیب سے پستول نکال کر اس کے سر پر رکھی ویسے ہی یاور نے آگے بڑھ کر ارتضیٰ کو تھام لیا مریم بے یقینی سے اسرار کو دیکھتی رہی وہ احسان فراموش ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہو سکتا ہے یہ اسے اندازہ نہیں تھا اس نے گھور کر ایک نظر مریم کو یآور کو دیکھا
"بابا پلیز ان سے کہیں یہ اسنووائٹ مجھے دے دیں"
یاور نے فورا ارتضیٰ کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی آواز بند کی یاور اور مریم دونوں حیرت اور بے یقینی سے اسرار کو دیکھ رہے تھے وہ ان دونوں پر اور ارتضیٰ پر آخری نظر ڈال کر دعا کو لے کر نکل گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 21
"صدیقی صاحب آپ سے کوئی ارتضیٰ نامی شخص ملنے آیا ہے اور ساتھ میں کوئی خاتون بھی ہیں"
وہاج اپنے بیڈ روم میں کل رات دی جانے والی پارٹی کے لئے اپنے دوستوں کو انوائٹ کرنے کے لیے موبائل میں مصروف تھا تبھی گارڈ نے آکر اسے اطلاع دی
"ارتضیٰ یہ کون ہے۔۔ اس نام کے میں کسی بندے کو نہیں جانتا،، جاو منع کر دو کہو صاحب ابھی بزی ہیں"
وہاج نے یہ نام نہ پہلے کبھی سنا تھا نہ اس نام کا کوئی شخص اسے یاد تھا تبھی گارڈ سے بول کر دوبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہو گیا
"صاحب وہ بول رہا تھا اگر تمہارے صاحب ملنے سے منع کردیں یا پہچاننے سے انکار کردیں تو ان سے کہنا اسرار سے ملنا ہے دعا کے سلسلے میں"
اب کی بار وہاج کو نہ صرف جھٹکا لگا بلکہ وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
"جاو اسے ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آ رہا ہو"
پہچانا تو وہ اسے اب بھی نہیں تھا کہ یہ ارتضیٰ ہے کون، مگر وہ اپنے اصل نام پر اور دعا کے نام پر چونکا جب اس نے اپنی پرانی پہچان مٹا دی تو یہ کون تھا جو اس کا اصل نام جانتا تھا پتا نہیں کوئی دوست ہے یا دشمن مگر اس کے لیے کافی تشویش کی بات تھی
****
وہاج ڈرائنگ روم میں آیا تو ایک 28 29 سالہ نوجوان اور ایک خاتون صوفے پر برجمان تھی۔ ۔۔ وہاج کو نہیں یاد پڑتا تھا کہ ارتضیٰ نامی لڑکے کو اس نے پہلے کبھی دیکھا ہے مگر یہ عورت اسے کہاں دیکھا تھا اسے یاد نہیں آرہا تھا۔۔۔ وہ بھی
ڈرائنگ روم میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا ارتضیٰ اور مریم نے ایک دوسرے کو دیکھا
"کہو کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہو" وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھ کر بات کا آغاز کیا
"ہم یہاں پر دعا سے ملنے آئے ہیں اسرار بھائی"
جواب مریم کی طرف سے آیا تو وہاج کو سانپ سونگھ گیا ان لوگوں کو وہ کیسے بھول گیا تھا اب اسے یاد آیا یہ عائشہ کی دوست مریم تھی اور یہ لڑکا یقیناً اس کا بیٹا جس سے دعا کا۔۔۔
"لگتا ہے وقت اور عمر کے ساتھ یاداشت کافی کمزور ہو گئی ہے آپ کی میں آپ کو اپنا مکمل تعارف کروا دیتا ہوں میرا نام ارتضیٰ ہے، ارتضیٰ حسین۔۔۔ یاور حسین کا بیٹا آپ کا ہونے والا داماد اور آپ کی بیٹی دعا کا شوہر۔۔ اب یاد آیا اسرار صاحب"
ارتضیٰ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا جس سے ایک پل کے لیے وہاج خاموش ہوگیا اور ارتضیٰ کو دیکھے گیا
"یہ کیا بکواس ہے نہ ہی میں اسرار ہوں اور نہ ہی میری بیٹی کا نام دعا ہے
آئندہ میرے گھر آنے کی جرات مت کرنا اور اسے میری لاسٹ وارننگ سمجھنا"
وہاج نے ہوش میں آکر سخت لہجے میں اسے تنبہیہ کرتے ہوئے کہا
"نام بدلنے سے شکلیں نہیں بدلتی ہیں نہ ہی رشتے۔۔۔ دعا میری منکوحہ ہے اور میں اسے لیکر جاؤنگا"
ارتضیٰ نے وہاج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا جس پر وہاج کو غصہ تو بہت آیا مگر وہ کنٹرول کر گیا
"تم نے شاید سنا نہیں میں نے کہا میری بیٹی کا نام دعا نہیں ہے اس سے تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے اور اگر بالفرض رشتہ ہوتا تو میں توڑ دیتا"
وہاج نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا پھر رخ مریم کی طرف کیا
"اگر تم کو اپنے اس جذباتی بیٹے سے محبت ہے اور تم چاہتی ہوں کہ یہ زندہ رہے تو اسے لے کر ابھی اور اسی وقت میرے گھر سے نکل جاؤ اور دوبارہ کبھی یہاں مت آنا" وہاج نے سرد لہجے میں مریم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دھمکی دی،، مریم کو 18 سال پہلے والی وہ رات یاد آگئی اس وقت بھی وہاج اسے اور یاور کو اسی طرح آنکھوں سے ڈرا کر وارننگ دے رہا تھا
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ میری ماں سے اس لہجے میں مخاطب ہوں"
ارتضیٰ صوفے سے اٹھتا ہوا آگے بڑھا تو مریم نے فورا اس کا ہاتھ تھام لیا
"بیٹا چلو یہاں سے"
مریم بولی مگر اس کی نظریں وہاج پر تھی اور وہاج ان دونوں ماں بیٹے کو ایسے گھور رہا تھا جیسے ابھی کچا نگل جائے گا
مریم کے بولنے پر ارتضیٰ نے مریم کو حیرت سے دیکھا مریم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چلنے کا اشارہ کیا ارتضیٰ وہاج کو گھورتا ہوا مریم کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
وہ اور مریم باہر جا رہے تھے اسی وقت کار سے تابی اور مزمل باہر نکل کر گھر کی طرف آئے مریم ایک پل کیلئے تعبیر کو دیکھ کر رک گئی تابی نے کوشش کی ان خاتون کو پہچاننے کی مگر اسے یاد نہیں آیا مزمل اور ارتضیٰ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
"چلیں مما"
ارتضیٰ سنجیدگی سے کہتا ہوا مریم کو وہاں سے لے گیا
"کیا ہوا آپ جانتی ہیں ان خاتون کو یہ کون تھی"
مزمل نے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔ جو کہ ابھی بھی ان خاتون کو لان عبور کرتا ہوا دیکھ رہی تھی مریم نے کار میں بیٹھنے سے پہلے ایک بار پھر دور کھڑی دعا کو دیکھا
"نہیں مجھے نہیں معلوم یہ کون ہے میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا مگر پتہ نہیں کیوں ایسا لگ رہا ہے جیسے میں انہیں پہلے سے جانتی ہوں عجیب سی کشش محسوس ہو رہی ہے"
تعبیر نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا تو مزمل نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی
"وہ لوگ اب جا چکے ہیں میڈم ہوش کی دنیا میں آجائیں"
مزمل کے کہنے پر تعبیر واقعی اپنی کیفیت سے باہر نکل کر آئی اور گھور کے مزمل کو دیکھا تو مزمل اس کو دیکھ کر مسکرا دیا تعبیر اپنی مسکراہٹ چھپا کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے بیڈروم میں چلی گئی
***
مزمل اپنے روم کی طرف جانے لگا تو اس کی نظر روم سے نکلتے ہوئے وہاج پر پڑی جو کہ چہرے پر گہری سوچ کے جال لیے کسی اور ہی دنیا میں گم تھا
"سر سب خیریت ہے"
مزمل نے وہاج کو کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا
"ہاں سب خیریت ہے تم تابی کو لے کر آ گئے"
وہاج نے مزمل سے پوچھا
"جی تھوڑی دیر پہلے ہی لے کر آیا ہوں اپنے روم میں ہیں میڈم۔۔۔ کیا آپ کے گیسٹ آئے تھے کوئی"
مزمل نے وہاج سے پوچھا تو وہاج ایک دم چونک
"دراصل میڈم کو لے کر آرہا تھا تو ایک خاتون اور ایک شخص باہر نکل کر جا رہے تھے اس لئے پوچھا"
مزمل وہاج کے چونکتے پر اس کو وضاحت دے کر جانے لگا
"رکو مزمل ڈرائنگ روم میں آو بات کرنی ہے"
وہاج کی نظر سیڑھیوں سے اوپر تابی کے روم کی طرف گئی اور خود ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا وہاج کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے مزمل نے بھی تابی کے روم کے بند دروازے کو دیکھا اور وہاج کے پیچھے قدم اٹھاتا ہوا چلا گیا
"آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں سر۔۔۔ کوئی پریشانی کی بات ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں میں کوشش کروں گا آپ کا کام آسکوں"
مزمل نے وہاج کے چہرے پر گہری سوچ کے بادل دیکھ کر کہا
"دراصل میری مرحوم بیوی عائشہ مرتے مرتے بھی ایک بے وقوفی کر گئی ہے اور اسکی کی ہوئی بیوقوفی آج 18 سال بعد میرے سامنے آئی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ بیوقوفی میرے لیے کوئی بڑی مشکل پیدا کر سکے، اس لیے اب کچھ کرنا پڑے گا" وہاج سوچ سوچ کر بول رہا تھا اور مزمل وہاج کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
"سر میں چاہ کر بھی آپ کی بات نہیں سمجھ پا رہا"
مزمل نے وہاج کو دیکھ کر کہا
"تعبیر جب ڈیڑھ سال کی تھی تو میری بیوی نے اپنی دوست کے بیٹے سے تعبیر کا نکاح کر دیا تھا اور خود اللہ کو پیاری ہوگئی۔۔۔ میں تابی کو لے کر ملک سے باہر چلا گیا وہاں میں نے اپنی ایک الگ پہچان بنائی، نام بنایا اپنے ملک میں واپس آیا۔۔۔ وقت گزرا تو میں اس بات کو فراموش کر بیٹھا مگر آج یہ لوگ میرے در پر سوالی بن کر آئے ہیں تابی پر اپنا حق جتانے" آخری جملہ وہاج نے ہے حقارت سے کہا مزمل نے وہاج کی بات خاموشی سے سنی
"سر جو حق رکھتا ہے وہ تو جتائے کا بھی، میرے کہنے کا مطلب ہے نکاح کوئی معمولی چیز نہیں"
مزمل نے اپنی راۓ دی
"میں بچپن کے نکاح کو نہیں مانتا ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کوئی بھی منہ اٹھا کر وہاج صدیقی کی بیٹی کا حق دار بن کر آجائے اور میں تابی کو اس کے ساتھ چلتا کردو،،، مختصر یہ کہ میں اس مسئلہ سے ہمیشہ کے لیے نجات چاہتا ہوں"
وہاج صدیقی نے مزمل سے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا وہ نہیں چاہتا تھا اس کی پرانی پہچان کسی دوسرے کے اوپر کھلے ایسا کرنے سے وہ اس کو کئی قسم کے خطرے لاحق ہو سکتے تھے
"نکاح، نکاح ہوتا ہے سر اس کی اہمیت کو آپ یا میں نہیں جھٹلا سکتے، اگر میڈم کا نکاح ہوا ہے تو دعویٰ کرے گا ہی، خیر اب آپ ایسا نہیں چاہتے ہیں وہ الگ بات ہے یہ مسئلہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔۔۔ میں ان ماں بیٹوں کا انتظام کر دوں گا"
مزمل کی بات سن کر وہاج ریلیکس ہوا۔۔ آخر ایسی ہی تھوڑی نہ اعتبار کیا تھا اس نے مزمل پر
"دیکھ لینا اگر آرام سے طلاق دے دیتا ہے تو ٹھیک ہے، نہیں تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے"
وہاج نے مزمل کو سمجھایا جو وہ اچھی طرح سمجھ گیا
"اور ہاں مزمل، تابی کو اس بات سے لاعلم ہی رکھنا۔۔ میں نہیں چاہتا اسے کسی بھی قسم کی ٹینشن ہو"
وہاج نے کمرے سے نکلنے سے پہلے مزمل کو کہا۔۔۔ مزمل استزائیہ ہنستے ہوئے سر جھٹک کر خود بھی ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا
****
آج عائشہ کا سوئم تھا جس دن ارتضیٰ اور دعا کا نکاح ہوا اس کے اگلے دن ہی عائشہ انتقال کر گئی شاید اسے علم ہو گیا تھا کہ وہ اب نہیں بچ سکے گی یا اس کے اندر خود جینے کی خواہش ختم ہو گئی تھی بہرحال جو بھی تھا وہ جاتے جاتے اپنی طرف سے اپنی بیٹی کو محفوظ ہاتھوں میں سونپ گئی۔۔۔۔ ایک مریم ہی تھی جو اس کی موت پر دل سے دکھی تھی جسے بار بار یاور دلاسہ دے رہا تھا اور تسلی دیے جا رہا تھا مریم بار بار دعا کو گلے لگا کر رو رہی تھی،، دوسرے لوگوں کے ساتھ عائشہ کے انوار بھائی نزہت بھابھی بھی جنازے میں شریک ہوئے اور تعزیت کر کے واپس چلے گئے
دوسرے دن قرآن خوانی رکھی گئی تھی سب لوگ جا چکے تھے مریم گھر سمیٹ رہی تھی ارتضیٰ روتا ہوا کچن میں آیا
"مما جلدی چلیں دیکھیں اسنووائٹ کو کیا ہو گیا ہے" مریم گھبرا کر کچن سے بھاگتی ہوئی روم میں آئی جہاں دعا چیخ چیخ کر رو رہی تھی اس کی تھوڑی سے خون بہہ کر اس کی سفید فراک خون سے لال کر رہا تھا مریم بھاگتی ہوئی دعا کے پاس آئی اور اپنا دوپٹہ اس کی تھوڑی پر رکھتی ہوئی ارتضیٰ کو دیکھ کر بولی
"جاؤ جلدی بابا کو بلاکر لاؤ"
ارتضیٰ روتا ہوا باہر گیا۔۔۔ یاور جو کہ مہمانوں کو رخصت کرکے گھر آ رہا تھا ارتضیٰ کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا
"بابا جلدی چلیں میری اسنووائٹ کو چوٹ لگی ہے اسے درد ہو رہا ہے" ارتضیٰ کی بات سن کر یاور گھر کی طرف آتا مریم دعا کو گود میں اٹھائے باہر آگئی
"یاور خون نہیں رک رہا ہے اس کو جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلیں پلیز" مریم کے کہتے ہی وہ چاروں محلے میں موجود ڈاکٹر کے پاس چلے گئے
دعا کو تھوڑی پر چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کو تین ٹانکے لگے تھے
"میں بہت برا ہوں ممّا اسنووائٹ کو میری وجہ سے چوٹ لگی ہے مجھے اسے بیڈ پر چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا"
گھر آکر دعا تو چپ ہوگئی مگر ارتضیٰ روئے جا رہا تھا
"بیٹا آپ اس کو چھوڑ کر کیوں گئے تھے ابھی آپ کی اسنووائٹ نے پراپر چلنا تو نہیں سیکھا نا"
یاور نے بیٹے کو پیار کرتے ہوئے پوچھا
"بابا اسنووائٹ کو بھوک لگ رہی تھی میں اس کے لیے فرج سے کھیر لینے گیا تھا"
ارتضیٰ نے سوتی ہوئی دعا کو دیکھ کر کہا
"چلو اب آپ چپ ہو جاؤ آپکی اسنووائٹ سو گئی ہے آپ رو گے تو وہ جاگ جائے گی"
مریم نے ارتضیٰ کو پیار کرتے ہوئے کہا مریم کو معلوم تھا کہ اس کا بیٹا اپنی اسنووائٹ کے لیے بہت زیادہ سنسیٹیو ہے
دعا واپسی پر آتے ہوئے مریم کی گود میں ہی سو گئی تھی مریم نے اسے بیڈ پر لٹایا باہر دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی
"اس وقت کون ہوسکتا ہے"
رات کے 11 بج رہے تھے اس وقت گلی میں عموما سناٹا تھا یاور اٹھ کر باہر دروازہ کھولنے گیا
کالی کمیز شلوار میں کالی چادر سے منہ ڈھانپے ہوئے وہ اسرار تھا یاور نے اسے اندر آنے کی جگہ دی۔۔۔ یاور نے عائشہ کے انتقال کا پیغام تو پہنچادیا تھا مگر وہاں سے اسے خبر ملی کہ وہ جیل سے فرار ہے
"عائشہ اور دعا کہاں ہیں انہیں جلدی بھیجو میرے پاس وقت نہیں ہے" وہ خود دروازہ بند کرتا ہوا یاور سے بولا مریم اور ارتضیٰ بھی روم میں آگئے
"دو دن پہلے ہی عائشہ کا انتقال ہوچکا ہے اسرار بھائی"
مریم نے روہانسی لہجے میں اسرار کو بتایا ایک لمحے کے لئے وہ بھی شاک کے عالم میں ان دونوں کو دیکھے گیا
"یہ کیا بول رہی ہو، کیسے ہوا کب ہوا یہ سب"
اسرار کو یقین نہیں آیا مختصراً یاور نے عائشہ کی بیماری کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی یہ خبر بھی کہ مرنے سے پہلے عائشہ کی خواہش پر دونوں بچوں کا نکاح ہوچکا ہے۔۔۔۔ اس خبر پر ناگواری سی اسرار کے چہرے پر آئی جو کسی سے چھپی نہیں رہ سکی
"میری بیٹی کہاں ہے میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں"
اسرار نے یاور کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی ہے اسرار بھائی"
مریم نے بیڈ روم کی طرف اشارہ کرکے کہا تو اسرار بیڈروم کی طرف گیا اور سوتی ہوئی دعا کو اٹھایا اس کو پیار کیا وہ اس کا خون تھی اس کی بیٹی
"یہ اس کے چوٹ کیسے لگی ہے" اسرار کے ماتھے پر شکن ابھری
"آج گر گئی تھی بیڈ سے"
یاور نے ایسے شرمندہ ہو کر بتایا جیسے اسی کی غلطی ہو
"میں اپنی بیٹی کو لے کر جا رہا ہوں جتنے دن تم لوگوں نے اسے اپنے پاس رکھو اس کا شکریہ" اسرار دعا کو اٹھائے جانے لگا
"یہ کیا کہہ رہے ہیں اسرار بھائی آپ، دعا کو کیسے لے جا سکتے ہیں یہ بہت چھوٹی ہے مجھ سے ہلی ہوئی ہے وہ کیسے رہے گی"
مریم نے تڑپتے ہوئے کہا
"جبھی یہ حال ہوا ہے اس کا، دو دن ہوئے ہیں ابھی اس کی ماں کو مرے ہوئے۔۔۔ میری بیٹی جس کو میں اتنے مہینے بعد دیکھ رہا ہو وہ اس حالت میں ہے۔۔۔ دیکھو میں تم لوگوں سے کوئی جھگڑا نہیں کرنا چاہتا احسان کیا ہے تم لوگوں نے میری بیوی اور بیٹی کو رکھ کر اس لیے بغیر بات بڑھائے مجھے یہاں سے جانے دو"
اسرار نے دھمکی دیتے ہوئے کہا
"یہ میری اسنووائٹ ہے میں اسے کہیں نہیں جانے دوں گا" ارتضیٰ کے ننھے سے دماغ میں یہ بات سما گئی کے انکل اس کی اسنووائٹ کو لے کر جا رہے ہیں اس لیے وہ فوراً بولا
"دیکھو اسرار دعا کا ارتضیٰ سے نکاح ہوا ہے اگر قانوناً اور شرحاً دیکھا جائے تو یہ ارتضیٰ کی امانت ہے"
یاور نے تحمل سے اسرار کو سمجھانا چاہا
"بکواس ہے یہ سب میں ایسے کسی نکاح کو نہیں مانتا میں جا رہا ہوں اپنی بیٹی کو لے کر، پولیس کو بلا کر کوئی چلاکی مت کرنا ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ تم لوگوں نے کوئی احسان کیا ہے مجھ پر"
اسرار بولتا ہوا دعا کو لے کر جانے لگا تو مریم رونے لگی
"انکل چھوڑیے آپ اسے یہ میری اسنووائٹ ہے میں اسے نہیں جانے دوں گا"
اچانک ارتضیٰ نے اسرار کی شال کا سرا تھامتے ہوئے کہا اسرار نے گھور کر اس لڑکے کو دیکھا اور جیب سے پستول نکال کر اس کے سر پر رکھی ویسے ہی یاور نے آگے بڑھ کر ارتضیٰ کو تھام لیا مریم بے یقینی سے اسرار کو دیکھتی رہی وہ احسان فراموش ہونے کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہو سکتا ہے یہ اسے اندازہ نہیں تھا اس نے گھور کر ایک نظر مریم کو یآور کو دیکھا
"بابا پلیز ان سے کہیں یہ اسنووائٹ مجھے دے دیں"
یاور نے فورا ارتضیٰ کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کی آواز بند کی یاور اور مریم دونوں حیرت اور بے یقینی سے اسرار کو دیکھ رہے تھے وہ ان دونوں پر اور ارتضیٰ پر آخری نظر ڈال کر دعا کو لے کر نکل گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment