🌹: u r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 19
"کیسی ہو"
مشعل نے کال ریسیو کی تو موبائل سے ولی کی آواز ابھری
"تمہیں کیا فرق پڑتا ہے جیسی بھی ہوں میں"
مشعل نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"اتنا غصہ، پھر بھابھی سے لڑائی ہو گئی ہے کیا"
ولی نے ہنستے ہوئے پوچھا
"وہ لڑائی نہیں، ڈرامے کر سکتی ہیں چلتا پھرتا اسٹار پلس ہے میری بھابھی۔۔۔ یہ بھابھی نامہ چھوڑو یہ بتاؤ کالج کیوں نہیں آئے آج"
مشعل نے ولی کی خبر لیتے ہوئے کہا
"یار رات میں دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بن گیا تھا اس کے بعد لونگ ڈرائیو، صبح کالج کے لئے آنکھ ہی نہیں کھل سکی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے اٹھا ہوں اور اب پچھتا رہا ہوں" ولی نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"کس بات پر پچھتا رہے ہو"
مشعل ناسمجھی سے پوچھا
"آف کورس یار تمہیں نہیں دیکھا آج، سنو کہیں باہر ملنے کا پروگرام بنا لو،، پلیز منع نہیں کرنا سیٹرڈے سنڈے ویسے بھی of ہوگا تین دن کیسے گزرے تمھیں دیکھے بغیر" ولی نے بیچارگی سے کہا
ولی اور مشعل دونوں ایک ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھے اور سیکنڈ ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے دوستی کب محبت میں بدلی یہ دونوں کو ہی خبر نہیں ہوئی۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے اور ان کے سچے پیار کا گواہ پورا کالج تھا
"ولی اس طرح باہر ملنا مناسب نہیں ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو"
ولی کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا دل تو مشعل کا بھی چاہ رہا تھا مگر وہ اس سے پہلے کبھی باہر نہیں ملی تھی اس لئے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ویسے اس کو باہر ملنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی کیونکہ اس کام کے لئے کالج ہی کافی تھا۔۔۔۔ جب باتیں کرنے کا موڈ ہوا تو کلاس چھوڑ کر وہ دونوں کینٹین میں بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کرتے
"مشعل میں نے پہلے کبھی تم سے اس طرح ملنے کی فرمائش کی۔۔۔ پلیز ٹرائے کرلو کوئی بھی بہانہ بنا کر آ جاؤ یار پلیز"
ولی نے پہلے کبھی اتنا اصرار نہیں کیا تھا اس لئے وہ کشمکش میں پڑ گئی
"اوکے پکا نہیں کہہ سکتی ٹرائے کر کے دیکھتی ہوں مشعل نے اپنی نیم رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ولی سے کہا
"یہ ہوئی نا بات شام5 بجے میں تمہارے گھر کے پاس گلی میں تم ہی پک کرلوں گا"
ولی نے خوش ہو کر پروگرام ڈسائیڈ کیا
****
"کیا کر رہی ہیں بھابھی آپ"
مشعل نے فوزیہ کے روم میں آتے ہوئے اس سے پوچھا
"کچھ نہیں چندا آؤ بیٹھو"
فوزیہ نے تہہ شدہ کپڑے الماری میں رکھتے ہوئے کہا
"نہیں بیٹھنا نہیں ہے بس یہ کہنے آئی تھی آج ماہین کی برتھڈے ہے ساری فرینڈ جارہی ہیں تو میں بھی چلی جاتی ہوں، بس آپ بھائی سے پرمیشن لے لیں زیادہ لیٹ نہیں ہوگی"
مشعل نے کانفیڈنس سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا
"مگر مشعل اس طرح اکیلے کیسے جاؤ گی تم،،، پہلے تو کبھی نہیں گئ ہو کسی دوست کے گھر تمہارے بھائی بہت ناراض ہوں گے"
فوزیہ نے گھبراتے ہوئے کہا
"اوہ بھابھی اکیلے کہاں جا رہی ہو شزا سے بات ہوئی ہے وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ جائے گی تو مجھے بھی پک کر لے گی،، آپ کو اس لئے بول رہی ہو بھائی اپ کی بات نہیں ٹالے گے چلیں کال ملائیں جلدی سے" مشعل نے موبائل فوزیہ کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو ناچار اسے ارباز کو کال ملانا پڑی
"جی ارباز۔۔۔ ہاں سب خیریت ہے وہ دراصل مشعل کی فرینڈ ماہین کی برتھ ڈے ہے تو مشعل جانے کا کہہ رہی تھی میں نے اسے اجازت دے دی ہے گھر میں کیا کرتی بیچاری" مشعل کا منہ دیکھتے ہوئے فوزیہ کو بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑا
"کچھ نہیں ہوتا ارباز تھوڑی دیر کی بات ہے وہ جلدی آ جائے گی۔۔۔ شزا سے بات ہو گئی ہے میری، وہ لے جائے گی اور واپس بھی چھوڑ دے گی۔۔۔ جی جی میں کہہ دوں گی اسے"
فوزیہ نے کال کاٹی تو مشعل مسکرا دی
"تمھارے بھائی کہہ رہے ہیں جلدی واپس آ جانا آب شزا کا نمبر ملا کر دو میں اس سے بھی بات کر لیتی ہوں" فوزیہ نے مشعل کو دیکھ کر کہا
"آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے میں کسی اور کے ساتھ کہیں اور بھاگ کر جا رہی ہو۔۔۔ شزا سے میں بات کر چکی ہوں آپ ایسا کریں جلدی سے میرے کپڑے پریس کر دیں"
مشعل فوزیہ کو آرڈر دیتی ہوئے روم سے باہر نکل گئی تاکہ ولی کو اپنا پروگرام بتا سکے
****
"بہت خوبصورت لگ رہی ہو"
ولی اس کو دیکھتے ہوئے بولا تو مشعل اس کع گھورنے لگی
"سیریس ہو جاؤں ولی یہ تم مجھے تیسری بار بتا چکے ہو" مشعل کے بولنے پر وہ مسکرا دیا
"ِیہ میں ساری زندگی وقفے وقفے سے بتاتا سکتا ہو" اس نے مشعل کا ہاتھ تھاما
"کیا کر رہے ہو یہ پبلک پلیس ہے مشعل نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
ولی مشعل کو ایک ریسٹورینٹ لے کر آیا تھا مگر آج اسکی قسمت خراب کیوکہ ارباز بھی اپنے دوست سے ملنے اسی ریسٹورینٹ میں موجود تھا
"مشعل گھر چلو" ارباز کی آواز اپنے کانوں میں پڑتے ہی مشعل کے چہرے پر قیامت کے آثار رونما ہو گئے
****
"شرم نہیں آئی اس طرح جھوٹ بول کر تمہیں گھر سے باہر جاتے ہوئے وہ بھی کسی غیر لڑکے کے ساتھ، دل کو چاہ رہا ہے تمہیں یہی زمین میں گاڑ دو" ارباز گھر پہنچتے ہی مشعل پر چیخا اور جیسے ہی اس کی طرف بڑھا
"ارباز کیا کر رہے ہیں آپ بہن ہیں وہ آپکی۔ ۔۔غلطی ہو گئی اس سے میں سمجھا دوں گی اسے"
فوزیہ نے ارباز کو غصے میں دیکھ کر روکا کیوکہ ارباز کو غصہ کم آتا تھا مگر جب آتا تھا تو بڑا برا آتا تھا
"یہ صلہ دیا ہے اس نے ہماری محبت کا، بھائی کی عزت نیلام کر رہی ہے باہر نکل کر۔۔۔ سن لو فوزیہ اب نہ یہ کالج جائے گی نہ ہی کہیں گھر سے باہر جائے گی بلاو اپنے امی ابو کو، حارث کے سلسلے میں ان سے بات کرو۔۔۔ میں اسی مہینے اس کی شادی کر دوں گا" ارباز بولتا ہوا گھر سے میں باہر نکل گیا
حارث فوزیہ کا بھائی تھا عمر میں مشعل سے 8 سال بڑا شریف ہونے کے ساتھ بہت اچھی ملٹی نیشنل کمپنی میں اس کی جوب تھی سب سے بڑی بات وہ مشعل کو پسند کرتا تھا مگر اس کی پسندیدگی صرف آنکھوں سے چھلکنے کی حد تک تھی اس نے اپنی چاہت کا برملا اظہار نہیں کیا تھا مگر فوزیہ اس سے واقف تھی
****
"بھابھی پلیز مجھے ایک فون کرنا ہے" مشعل نے صبح ارباز کے آفس جانے کے بعد فوزیہ سے کہا کیوکہ اس کا موبائل بھی ارباز نے اپنے پاس رکھ لیا تھا
"مشعل پلیز ایسی فرمائش مت کرو جو میں پوری نہ کر سکو تمھارے بھائی غصہ ہوگے انہوں نے سختی سے منع کیا ہے بلکہ مجھ سے بھی ناراض تھے کہ میں نے شزا سے کنفرم کیوں نہیں کیا"
فوزیہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے اگر آپ اجازت نہیں دیتی تو کوئی بات نہیں، بس امی کو رات کو خواب میں دیکھا تھا تو ان کی یاد آ گئی سوچا اکا سے بات کرلو۔۔۔ ماں کی بہن بھی تو بہن جیسی ہوتی ہے" مشعل افسردہ ہو کر روم سے باہر جانے لگی
"رکو مشعل پلیز اب کچھ غلط نہیں کرنا ورنہ تمہارے بھائی کا تمہیں اندازہ ہے" فوزیہ کارلیس اسے تھاما کر روم سے باہر چلی گئی
مشعل نے جلدی سے ولی کا نمبر ملایا اور رو رو کر اس نے اپنے اوپر ہونے والی ساری پابندیوں کا بتایا۔۔۔ اس وقت اس کو ولی سے بڑا اپنا کوئی ہمدرد نظر نہیں آیا
"تم فکر نہیں کرو مشعل اور اس طرح مت رو میں ہو نا یار تمھارے ساتھ۔۔۔ میں اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں" ولی نے اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"تمہیں بھائی کا اندازہ نہیں ہے ولی وہ اب کبھی بھی تمھارا بھیجا ہوا رشتہ ایکسیپٹ نہیں کریں گے، بھائی میری شادی بھابھی کے بھائی سے کرا رہے ہیں جوکہ عمر دار آدمی ہے"
مشعل کو اپنے اوپر ہوتے ظلم پر خود بھی رونا آرہا تھا دوسری طرف تمام صورتحال پر ولی پریشان تھا
"بس مشعل پھر جیسا میں کہوں گا تمھیں ویسا ہی کرنا ہے۔۔۔ کیوکہ اگر تمہاری کسی اور سے شادی ہو گئی تو زندہ میں بھی نہیں رہوں گا"
ولی نے اس کو اپنا پورا پلان بتایا جو کہ اس نے بہت غور سے سنا
****
رات کے دو بجے کا وقت تھا جب مشعل بڑی سی چادر میں اپنا منہ ڈھک کر ایک ہاتھ میں مضبوطی سے بیگ تھامتی ہوئی دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کی دہلیز عبور کر گئی روتے ہوئے مڑ کر اس نے ایک بار گھر کی طرف دیکھا
"سوری"
کہتی ہوئی وہ گلی کے آخر تک پہنچی وہاں ولی اس کا بائیک پر ہیلمٹ پہنا ہوا انتظار کررہا تھا وہ جلدی سے بائیک پر بیٹھی اور ولی طے شدہ پلان کے مطابق اسے اپنے دوست کے فلیٹ پر لے کر پہنچا جہاں پر اس کے دوستوں کی موجودگی میں ان دونوں کا نکاح ہوا
****
"یار بند کرو اس کا منہ، کتنا روتا ہے یہ ہر وقت،،، افس جانا ہے مجھے صبح" ولی کچی نیند سے اٹھ کر دو ماہ کے روتے ہوئے ہانی کو دیکھ کر مشکل سے کہنے لگا
"کیسے بند کرو اس کا منہ کہا تھا نہ کہ دودھ کا ڈبہ ختم ہو گیا ہے واپسی پر لے کر آنا"
مشعل نے غصے میں آکر ولی کو بولا
ہانی کافی کمزور پیدا ہوا تھا ڈاکٹر نے اسے مدر فیڈ کے ساتھ ساتھ ٹاپ فیڈ بھی سجیٹٹ کیا تھا
"پیسے کیا درخت پر لگے ہیں جو دودھ کا ڈبہ لے کر آؤ۔۔۔ کتوں کی طرح دو دو نوکریاں کرتا ہوں میں تب جاکر مشکل سے گھر کا خرچہ چلتا ہے پورا دن کا تھکا ہارا آتا ہوں ایک رات ملتی ہے اس میں بھی سکون سے نیند نہیں نصیب ہوتی، لعنت ہے ایسی زندگی پر" ولی چیختا ہوا گھر سے باہر چلا گیا چارو ناچار مشعل اٹھ کر بیٹھی اور ہانی کی بھوک کا انتظام کرنے لگی
دھواں دھار محبت کے بعد بھاگ کر شادی۔۔۔۔ اب محبت بھی کہیں دھواں ہوگئی تھی نکاح کرنے کے بعد جب ولی مشعل کو اپنے گھر لے کر گیا تو ولی کے پیرنٹس نے بھی مشعل کو گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کہہ کر ایکسپٹ نہیں کیا۔۔۔ جیسے دوستوں کی مدد سے نکاح ہوا تھا، ویسے ہی دوستوں کی مدد سے ایک کمرے کا سستا کرائے کا مکان بھی مل گیا مگر دوست بھی آخر کب تک مدد کرتے آگے کی زندگی گزارنے کے لئے کمانا تو اسے ہی تھا،،، جب ہانی کی پیدائش کا پتہ چلا تو ولی خوش نہیں تھا اس نے مشعل کو ایبارشن کا مشورہ دیا تو مشعل نے صاف انکار کردیا مگر مشعل کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ پیار کی نشانی کو خود اسے اکیلے پالنا پڑے گا روز روز کی چخ چخ لڑائی جھگڑوں مکان کا کرایہ، تو کبھی ہانی کے ڈائپر، کبھی زوز زوز پکی ہوئی سبزی، تو کبھی بجلی کا زیادہ بل۔۔۔ ایسے ہی ایک دن وہ ہوگیا جو مشعل نے سوچا بھی نہیں تھا ولی نے غصے میں آکر اسے طلاق دے دی اور گھر چھوڑ کر نکل گیا
مشعل کافی دیر تک سکتے کے عالم میں بیٹھی رہی ایک دن تک گھر میں اکیلی رہی ولی کا انتظار بھی کیا شاید وہ واپس آجائے مگر پھر یہ خیال آیا وہ واپس بھی آتا تو کیسے رشتہ تو وہ ختم کرکے چلا گیا تھا واپسی کا کونسا راستہ بچا تھا،،، اپنے ڈھائی ماہ کے بیٹے کو لے کر مشعل اپنے بھائی کی دہلیز پر واپس لوٹی
****
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھرانے کی"
ارباز نے مشعل کو دیکھ کر بولا فوزیہ اور اکا مشعل کو دیکھ کر سکتے کی کیفیت میں آگئی
"بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوگیا میں بہت شرمسار ہوں"
مشعل نے روتے ہوئے کہا
ارباز آپ میری بات سنیں"
فوزیہ نے بیچ میں بولنا چاہا
"تم چپ کرو یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے"
ارباز نے بیوی کو سخت نظروں سے گھورا اور وہ چپ ہو گئی
"تم کتنی بے غیرت ہو مشعل، یہاں کس منہ سے آئی ہو۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے تم رات کے اندھیرے میں میرے منہ پر کالک پوت کر جاؤں گی، مجھے دنیا میں ذلیل کروں گی اور گناہ کر کے واپس آؤ گی تو میں تمھیں اپنے گھر میں جگہ دوں گا یہ بھول ہے تمہاری۔۔ اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے آئندہ کبھی بھی میرے گھر اپنا اسکا ناپاک وجود لے کر مت آنا نکلوں یہاں سے"
ارباز نے ہانی کی طرف اشارہ کرکے چیختے ہوئے کہا مشعل نے سوچا تھا وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پر جوڑ لے گی تو بھائی مان جائے گا مگر ارباز نہیں مانا اس کی منت سماجت کام نہ آئی تو اکا اسے اپنے ساتھ لے آئی۔۔۔ جس پر فرید (اکا کا بیٹا) اپنی ماں کے فیصلے پر خاصا برہم ہوا اس کا کہنا تھا جب اس کے کرتوتوں کی وجہ سے اس کے سگے بھائی نے اسے نہیں رکھا تو آپ کو کیا ضرورت تھی یہاں لانے کی مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فرید کی دبئی میں جاب لگ گئی وہ دبئی جانے کے وقت گھر بیچ کر آکا کو دو کمروں کے کرائے کے مکان دلا گیا یہ وعدہ کرکے کہ بہت جلد انہیں بلا لے گا مگر اس نے وہاں جاکر شادی کر لی اور مناسب رقم بطور جیب خرچ بھیج دیتا اس رقم میں دو ماہ کے بعد کمی آنے لگی وجہ وہی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی یہ سب دیکھ کر مشعل نے محلے میں قریب اسکول میں جاب کرلی۔۔۔۔ اکا اور ہانی کے ساتھ زندگی گزارنے لگی ارباز نے بھی کبھی پلٹ کر بہن کی خبر نہیں لی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 19
"کیسی ہو"
مشعل نے کال ریسیو کی تو موبائل سے ولی کی آواز ابھری
"تمہیں کیا فرق پڑتا ہے جیسی بھی ہوں میں"
مشعل نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"اتنا غصہ، پھر بھابھی سے لڑائی ہو گئی ہے کیا"
ولی نے ہنستے ہوئے پوچھا
"وہ لڑائی نہیں، ڈرامے کر سکتی ہیں چلتا پھرتا اسٹار پلس ہے میری بھابھی۔۔۔ یہ بھابھی نامہ چھوڑو یہ بتاؤ کالج کیوں نہیں آئے آج"
مشعل نے ولی کی خبر لیتے ہوئے کہا
"یار رات میں دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بن گیا تھا اس کے بعد لونگ ڈرائیو، صبح کالج کے لئے آنکھ ہی نہیں کھل سکی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے اٹھا ہوں اور اب پچھتا رہا ہوں" ولی نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"کس بات پر پچھتا رہے ہو"
مشعل ناسمجھی سے پوچھا
"آف کورس یار تمہیں نہیں دیکھا آج، سنو کہیں باہر ملنے کا پروگرام بنا لو،، پلیز منع نہیں کرنا سیٹرڈے سنڈے ویسے بھی of ہوگا تین دن کیسے گزرے تمھیں دیکھے بغیر" ولی نے بیچارگی سے کہا
ولی اور مشعل دونوں ایک ساتھ ہی کالج میں پڑھتے تھے اور سیکنڈ ایئر کے اسٹوڈنٹ تھے دوستی کب محبت میں بدلی یہ دونوں کو ہی خبر نہیں ہوئی۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے اور ان کے سچے پیار کا گواہ پورا کالج تھا
"ولی اس طرح باہر ملنا مناسب نہیں ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو"
ولی کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا دل تو مشعل کا بھی چاہ رہا تھا مگر وہ اس سے پہلے کبھی باہر نہیں ملی تھی اس لئے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ویسے اس کو باہر ملنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی کیونکہ اس کام کے لئے کالج ہی کافی تھا۔۔۔۔ جب باتیں کرنے کا موڈ ہوا تو کلاس چھوڑ کر وہ دونوں کینٹین میں بیٹھ کر ڈھیر ساری باتیں کرتے
"مشعل میں نے پہلے کبھی تم سے اس طرح ملنے کی فرمائش کی۔۔۔ پلیز ٹرائے کرلو کوئی بھی بہانہ بنا کر آ جاؤ یار پلیز"
ولی نے پہلے کبھی اتنا اصرار نہیں کیا تھا اس لئے وہ کشمکش میں پڑ گئی
"اوکے پکا نہیں کہہ سکتی ٹرائے کر کے دیکھتی ہوں مشعل نے اپنی نیم رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ولی سے کہا
"یہ ہوئی نا بات شام5 بجے میں تمہارے گھر کے پاس گلی میں تم ہی پک کرلوں گا"
ولی نے خوش ہو کر پروگرام ڈسائیڈ کیا
****
"کیا کر رہی ہیں بھابھی آپ"
مشعل نے فوزیہ کے روم میں آتے ہوئے اس سے پوچھا
"کچھ نہیں چندا آؤ بیٹھو"
فوزیہ نے تہہ شدہ کپڑے الماری میں رکھتے ہوئے کہا
"نہیں بیٹھنا نہیں ہے بس یہ کہنے آئی تھی آج ماہین کی برتھڈے ہے ساری فرینڈ جارہی ہیں تو میں بھی چلی جاتی ہوں، بس آپ بھائی سے پرمیشن لے لیں زیادہ لیٹ نہیں ہوگی"
مشعل نے کانفیڈنس سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا
"مگر مشعل اس طرح اکیلے کیسے جاؤ گی تم،،، پہلے تو کبھی نہیں گئ ہو کسی دوست کے گھر تمہارے بھائی بہت ناراض ہوں گے"
فوزیہ نے گھبراتے ہوئے کہا
"اوہ بھابھی اکیلے کہاں جا رہی ہو شزا سے بات ہوئی ہے وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ جائے گی تو مجھے بھی پک کر لے گی،، آپ کو اس لئے بول رہی ہو بھائی اپ کی بات نہیں ٹالے گے چلیں کال ملائیں جلدی سے" مشعل نے موبائل فوزیہ کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا تو ناچار اسے ارباز کو کال ملانا پڑی
"جی ارباز۔۔۔ ہاں سب خیریت ہے وہ دراصل مشعل کی فرینڈ ماہین کی برتھ ڈے ہے تو مشعل جانے کا کہہ رہی تھی میں نے اسے اجازت دے دی ہے گھر میں کیا کرتی بیچاری" مشعل کا منہ دیکھتے ہوئے فوزیہ کو بھی جھوٹ کا سہارا لینا پڑا
"کچھ نہیں ہوتا ارباز تھوڑی دیر کی بات ہے وہ جلدی آ جائے گی۔۔۔ شزا سے بات ہو گئی ہے میری، وہ لے جائے گی اور واپس بھی چھوڑ دے گی۔۔۔ جی جی میں کہہ دوں گی اسے"
فوزیہ نے کال کاٹی تو مشعل مسکرا دی
"تمھارے بھائی کہہ رہے ہیں جلدی واپس آ جانا آب شزا کا نمبر ملا کر دو میں اس سے بھی بات کر لیتی ہوں" فوزیہ نے مشعل کو دیکھ کر کہا
"آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے میں کسی اور کے ساتھ کہیں اور بھاگ کر جا رہی ہو۔۔۔ شزا سے میں بات کر چکی ہوں آپ ایسا کریں جلدی سے میرے کپڑے پریس کر دیں"
مشعل فوزیہ کو آرڈر دیتی ہوئے روم سے باہر نکل گئی تاکہ ولی کو اپنا پروگرام بتا سکے
****
"بہت خوبصورت لگ رہی ہو"
ولی اس کو دیکھتے ہوئے بولا تو مشعل اس کع گھورنے لگی
"سیریس ہو جاؤں ولی یہ تم مجھے تیسری بار بتا چکے ہو" مشعل کے بولنے پر وہ مسکرا دیا
"ِیہ میں ساری زندگی وقفے وقفے سے بتاتا سکتا ہو" اس نے مشعل کا ہاتھ تھاما
"کیا کر رہے ہو یہ پبلک پلیس ہے مشعل نے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
ولی مشعل کو ایک ریسٹورینٹ لے کر آیا تھا مگر آج اسکی قسمت خراب کیوکہ ارباز بھی اپنے دوست سے ملنے اسی ریسٹورینٹ میں موجود تھا
"مشعل گھر چلو" ارباز کی آواز اپنے کانوں میں پڑتے ہی مشعل کے چہرے پر قیامت کے آثار رونما ہو گئے
****
"شرم نہیں آئی اس طرح جھوٹ بول کر تمہیں گھر سے باہر جاتے ہوئے وہ بھی کسی غیر لڑکے کے ساتھ، دل کو چاہ رہا ہے تمہیں یہی زمین میں گاڑ دو" ارباز گھر پہنچتے ہی مشعل پر چیخا اور جیسے ہی اس کی طرف بڑھا
"ارباز کیا کر رہے ہیں آپ بہن ہیں وہ آپکی۔ ۔۔غلطی ہو گئی اس سے میں سمجھا دوں گی اسے"
فوزیہ نے ارباز کو غصے میں دیکھ کر روکا کیوکہ ارباز کو غصہ کم آتا تھا مگر جب آتا تھا تو بڑا برا آتا تھا
"یہ صلہ دیا ہے اس نے ہماری محبت کا، بھائی کی عزت نیلام کر رہی ہے باہر نکل کر۔۔۔ سن لو فوزیہ اب نہ یہ کالج جائے گی نہ ہی کہیں گھر سے باہر جائے گی بلاو اپنے امی ابو کو، حارث کے سلسلے میں ان سے بات کرو۔۔۔ میں اسی مہینے اس کی شادی کر دوں گا" ارباز بولتا ہوا گھر سے میں باہر نکل گیا
حارث فوزیہ کا بھائی تھا عمر میں مشعل سے 8 سال بڑا شریف ہونے کے ساتھ بہت اچھی ملٹی نیشنل کمپنی میں اس کی جوب تھی سب سے بڑی بات وہ مشعل کو پسند کرتا تھا مگر اس کی پسندیدگی صرف آنکھوں سے چھلکنے کی حد تک تھی اس نے اپنی چاہت کا برملا اظہار نہیں کیا تھا مگر فوزیہ اس سے واقف تھی
****
"بھابھی پلیز مجھے ایک فون کرنا ہے" مشعل نے صبح ارباز کے آفس جانے کے بعد فوزیہ سے کہا کیوکہ اس کا موبائل بھی ارباز نے اپنے پاس رکھ لیا تھا
"مشعل پلیز ایسی فرمائش مت کرو جو میں پوری نہ کر سکو تمھارے بھائی غصہ ہوگے انہوں نے سختی سے منع کیا ہے بلکہ مجھ سے بھی ناراض تھے کہ میں نے شزا سے کنفرم کیوں نہیں کیا"
فوزیہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
"ٹھیک ہے اگر آپ اجازت نہیں دیتی تو کوئی بات نہیں، بس امی کو رات کو خواب میں دیکھا تھا تو ان کی یاد آ گئی سوچا اکا سے بات کرلو۔۔۔ ماں کی بہن بھی تو بہن جیسی ہوتی ہے" مشعل افسردہ ہو کر روم سے باہر جانے لگی
"رکو مشعل پلیز اب کچھ غلط نہیں کرنا ورنہ تمہارے بھائی کا تمہیں اندازہ ہے" فوزیہ کارلیس اسے تھاما کر روم سے باہر چلی گئی
مشعل نے جلدی سے ولی کا نمبر ملایا اور رو رو کر اس نے اپنے اوپر ہونے والی ساری پابندیوں کا بتایا۔۔۔ اس وقت اس کو ولی سے بڑا اپنا کوئی ہمدرد نظر نہیں آیا
"تم فکر نہیں کرو مشعل اور اس طرح مت رو میں ہو نا یار تمھارے ساتھ۔۔۔ میں اپنے پیرنٹس سے بات کرتا ہوں" ولی نے اپنی محبت کا یقین دلاتے ہوئے کہا
"تمہیں بھائی کا اندازہ نہیں ہے ولی وہ اب کبھی بھی تمھارا بھیجا ہوا رشتہ ایکسیپٹ نہیں کریں گے، بھائی میری شادی بھابھی کے بھائی سے کرا رہے ہیں جوکہ عمر دار آدمی ہے"
مشعل کو اپنے اوپر ہوتے ظلم پر خود بھی رونا آرہا تھا دوسری طرف تمام صورتحال پر ولی پریشان تھا
"بس مشعل پھر جیسا میں کہوں گا تمھیں ویسا ہی کرنا ہے۔۔۔ کیوکہ اگر تمہاری کسی اور سے شادی ہو گئی تو زندہ میں بھی نہیں رہوں گا"
ولی نے اس کو اپنا پورا پلان بتایا جو کہ اس نے بہت غور سے سنا
****
رات کے دو بجے کا وقت تھا جب مشعل بڑی سی چادر میں اپنا منہ ڈھک کر ایک ہاتھ میں مضبوطی سے بیگ تھامتی ہوئی دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کی دہلیز عبور کر گئی روتے ہوئے مڑ کر اس نے ایک بار گھر کی طرف دیکھا
"سوری"
کہتی ہوئی وہ گلی کے آخر تک پہنچی وہاں ولی اس کا بائیک پر ہیلمٹ پہنا ہوا انتظار کررہا تھا وہ جلدی سے بائیک پر بیٹھی اور ولی طے شدہ پلان کے مطابق اسے اپنے دوست کے فلیٹ پر لے کر پہنچا جہاں پر اس کے دوستوں کی موجودگی میں ان دونوں کا نکاح ہوا
****
"یار بند کرو اس کا منہ، کتنا روتا ہے یہ ہر وقت،،، افس جانا ہے مجھے صبح" ولی کچی نیند سے اٹھ کر دو ماہ کے روتے ہوئے ہانی کو دیکھ کر مشکل سے کہنے لگا
"کیسے بند کرو اس کا منہ کہا تھا نہ کہ دودھ کا ڈبہ ختم ہو گیا ہے واپسی پر لے کر آنا"
مشعل نے غصے میں آکر ولی کو بولا
ہانی کافی کمزور پیدا ہوا تھا ڈاکٹر نے اسے مدر فیڈ کے ساتھ ساتھ ٹاپ فیڈ بھی سجیٹٹ کیا تھا
"پیسے کیا درخت پر لگے ہیں جو دودھ کا ڈبہ لے کر آؤ۔۔۔ کتوں کی طرح دو دو نوکریاں کرتا ہوں میں تب جاکر مشکل سے گھر کا خرچہ چلتا ہے پورا دن کا تھکا ہارا آتا ہوں ایک رات ملتی ہے اس میں بھی سکون سے نیند نہیں نصیب ہوتی، لعنت ہے ایسی زندگی پر" ولی چیختا ہوا گھر سے باہر چلا گیا چارو ناچار مشعل اٹھ کر بیٹھی اور ہانی کی بھوک کا انتظام کرنے لگی
دھواں دھار محبت کے بعد بھاگ کر شادی۔۔۔۔ اب محبت بھی کہیں دھواں ہوگئی تھی نکاح کرنے کے بعد جب ولی مشعل کو اپنے گھر لے کر گیا تو ولی کے پیرنٹس نے بھی مشعل کو گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کہہ کر ایکسپٹ نہیں کیا۔۔۔ جیسے دوستوں کی مدد سے نکاح ہوا تھا، ویسے ہی دوستوں کی مدد سے ایک کمرے کا سستا کرائے کا مکان بھی مل گیا مگر دوست بھی آخر کب تک مدد کرتے آگے کی زندگی گزارنے کے لئے کمانا تو اسے ہی تھا،،، جب ہانی کی پیدائش کا پتہ چلا تو ولی خوش نہیں تھا اس نے مشعل کو ایبارشن کا مشورہ دیا تو مشعل نے صاف انکار کردیا مگر مشعل کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ پیار کی نشانی کو خود اسے اکیلے پالنا پڑے گا روز روز کی چخ چخ لڑائی جھگڑوں مکان کا کرایہ، تو کبھی ہانی کے ڈائپر، کبھی زوز زوز پکی ہوئی سبزی، تو کبھی بجلی کا زیادہ بل۔۔۔ ایسے ہی ایک دن وہ ہوگیا جو مشعل نے سوچا بھی نہیں تھا ولی نے غصے میں آکر اسے طلاق دے دی اور گھر چھوڑ کر نکل گیا
مشعل کافی دیر تک سکتے کے عالم میں بیٹھی رہی ایک دن تک گھر میں اکیلی رہی ولی کا انتظار بھی کیا شاید وہ واپس آجائے مگر پھر یہ خیال آیا وہ واپس بھی آتا تو کیسے رشتہ تو وہ ختم کرکے چلا گیا تھا واپسی کا کونسا راستہ بچا تھا،،، اپنے ڈھائی ماہ کے بیٹے کو لے کر مشعل اپنے بھائی کی دہلیز پر واپس لوٹی
****
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھرانے کی"
ارباز نے مشعل کو دیکھ کر بولا فوزیہ اور اکا مشعل کو دیکھ کر سکتے کی کیفیت میں آگئی
"بھائی پلیز مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوگیا میں بہت شرمسار ہوں"
مشعل نے روتے ہوئے کہا
ارباز آپ میری بات سنیں"
فوزیہ نے بیچ میں بولنا چاہا
"تم چپ کرو یہ میرا اور اس کا معاملہ ہے"
ارباز نے بیوی کو سخت نظروں سے گھورا اور وہ چپ ہو گئی
"تم کتنی بے غیرت ہو مشعل، یہاں کس منہ سے آئی ہو۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے تم رات کے اندھیرے میں میرے منہ پر کالک پوت کر جاؤں گی، مجھے دنیا میں ذلیل کروں گی اور گناہ کر کے واپس آؤ گی تو میں تمھیں اپنے گھر میں جگہ دوں گا یہ بھول ہے تمہاری۔۔ اب میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے آئندہ کبھی بھی میرے گھر اپنا اسکا ناپاک وجود لے کر مت آنا نکلوں یہاں سے"
ارباز نے ہانی کی طرف اشارہ کرکے چیختے ہوئے کہا مشعل نے سوچا تھا وہ اپنے بھائی کے ہاتھ پر جوڑ لے گی تو بھائی مان جائے گا مگر ارباز نہیں مانا اس کی منت سماجت کام نہ آئی تو اکا اسے اپنے ساتھ لے آئی۔۔۔ جس پر فرید (اکا کا بیٹا) اپنی ماں کے فیصلے پر خاصا برہم ہوا اس کا کہنا تھا جب اس کے کرتوتوں کی وجہ سے اس کے سگے بھائی نے اسے نہیں رکھا تو آپ کو کیا ضرورت تھی یہاں لانے کی مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ فرید کی دبئی میں جاب لگ گئی وہ دبئی جانے کے وقت گھر بیچ کر آکا کو دو کمروں کے کرائے کے مکان دلا گیا یہ وعدہ کرکے کہ بہت جلد انہیں بلا لے گا مگر اس نے وہاں جاکر شادی کر لی اور مناسب رقم بطور جیب خرچ بھیج دیتا اس رقم میں دو ماہ کے بعد کمی آنے لگی وجہ وہی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی یہ سب دیکھ کر مشعل نے محلے میں قریب اسکول میں جاب کرلی۔۔۔۔ اکا اور ہانی کے ساتھ زندگی گزارنے لگی ارباز نے بھی کبھی پلٹ کر بہن کی خبر نہیں لی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment