🌹:U R Mine
By zeenia sharjeel
Epi # 19
مشعل اسکول سے واپس گھر لوٹی تو وہ بہت غصے میں تھی ہانی کو گھر میں موجود نہ پا کر اسے مزید غصہ آیا ہینڈ بیگ صوفے پر رکھ کر وہ اریش کی طرف چلی گئی اریش کے بیڈروم کا دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوئی تو اریش بیڈ پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا جبکہ ہانی اس کے برابر میں بیٹھا ہوا اریش کے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا
"ہانی یہاں کیا کر رہے ہیں آپ، کتنی بار آپ کو کہا ہے مما کے گھر آنے کے ٹائم پر آپ کو گھر پر موجود ہونا چاہیے مما کے پاس"
مشعل کو اریش سے نمٹنا تھا مگر اس نے سوچا پہلے ہانی کو یہاں سے بھیجے اس لیے اریش کو اگنور کرتی ہوئی ہانی کو مخاطب کرکے بولی
"ڈیڈ بھی ہانی کو مس کرتے ہیں آپ کو بھی ہانی چاہیے اب ہانی بیچارا کہاں جائے۔۔۔۔ آپ بھی ہانی اور ڈیڈ کے پاس یہی آجائے نہ"
ہانی مشعل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا اریش کو ڈیڈ کہنے پر جہاں مشعل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا وہی اریش اپنا لیپ ٹاپ چھوڑ کر ہانی کو پیار کرنے لگا
"ہانی کی مما سے زیادہ سمجھدار تو مما کا بیٹا ہے، نہ ہی نخرے دکھانے والا نہ ہی بور کرنے والا اور نہ ہی بلاوجہ میں غصہ کرنے والا"
اریش نے مسکرا کر مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ڈیڈ ہانی کی مما نخرے نہیں دکھاتی جب آپ انہیں پیار کریں گے تو وہ بھی آپ کو پیار کریں گی، وہ بورینگ بھی نہیں جب آپ ان کے پاس سوئے گے تو وہ آپ کو بہت اچھی اسٹوریز سنائے گی آور آپ پوری روٹی فنش کرے گیں تو وہ آپ کو کس بھی دے گی"
مشعل کے دو بار بیچ میں ہانی کو ٹوکنے پر بھی ہانی نے اریش کو مما کی خوبیاں بتائی جس کو اریش نے O شیپ میں منہ کھول کر انجوائے کرتے ہوئے سنا
"ہانی یہ آپ کے ڈیڈ ہرگز نہیں ہیں یہ انکل ہیں"
مشعل نے سنجیدگی سے ہانی کو سمجھانا چاہتا
"انکل یہ مارننگ میں تھے ایوننگ میں ہانی کے ڈیڈ بن گئے ہیں۔۔۔ ہانی کبھی غلط بات نہیں کرتا"
ہانی مشعل کو جواب دے کر دوبارہ موبائل میں گیم کھیلنے لگا
"میرا بیٹا"
اریش نے ہانی کے سلکی بالوں پر کس کرتے ہوئے کہا جس پر مشعل کے تن بدن میں آگ لگ گئی
"ہانی آپ کو ڈیڈ کیوں بول رہا ہے اریش"
ہانی کی بات کو اگنور کرکے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے مشعل نے اریش کو دیکھ کر پوچھا
"کیونکہ وہ کیوٹ اور انوسینٹ ہونے کے ساتھ کافی جینیئس بچہ بھی ہے جو ایک دفعہ کی بات سمجھانے پر بلاوجہ کی بحث میں نہیں پڑتا"
اریش نے حتلامکان اپنے فیس ایکسپریشن کو سیریس رکھنے کی کوشش کی
"یعنی ہانی کو آپ نے بولا ہے کہ وہ آپ کو ڈیڈ بولے"
مشعل نے سنجیدگی سے اریش کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"واو اب آپ بھی جینیس ہوتی جا رہی ہیں"
اریش نے مسکرا کر کہا
"بہت غلط حرکت کی ہے آپ نے، آپ کو ہانی کی دماغ میں ایسی الٹی سیدھی باتیں نہیں ڈالنی چاہیے"
مشعل نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"میں نے ہانی کے دماغ میں کوئی الٹی سیدھی بات نہیں ڈالی ہے صرف سیدھی سیدھی بات ڈالی ہے اگر آپ کو ڈیڈ کہلانے میں اعتراض ہے تو ٹھیک ہے وہ مجھے بابا ڈیڈی یا ابو بولے گا اب تو خوش ہو جائیں آپ"
اریش نے پرابلم کا سلوشن نکالا
"اریش پلیز میں سیریس ہو"
مشعل نے ڈپٹتے ہوئے کہا
"اور میں آپ سے بھی زیادہ سیریس ہو"
اس کے ڈپٹنے پر اریش نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
"اور آپ آج صبح اسکول کے پرنسپل سے کیا بات کرکے آئے ہیں"
مشعل کو وہ بات بھی یاد آئی جس کی وجہ سے وہ غصے میں اسکول سے گھر آئی تھی
"اسکول کی پرنسپل سے بھی میں نے سیدھی سیدھی ہی بات کری ہے کہ مس مشعل کی ہفتے بعد شادی ہے اس وجہ سے وہ اب مزید جاب نہیں کر سکتی"
اریش نے اپنا کارنامہ مشعل کو بتایا
"اگر اب آپ نے آگے سے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کری، تو میں آپکی جان لے لوں گی"
مشعل کا دل چاہا وہ واقعی اس کا گلا دبا دے
"جان آپ پہلے ہی لے چکی ہیں میں مشعل اور یہ بات میں نے آپ کو پہلے بھی بتائی تھی اور ابھی بھی یاد دہانی کرا رہا ہوں میں ایک شریف انسان ہوں شادی سے پہلے الٹی سیدھی حرکتوں کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ جبھی آپ کو سیدھے سیدھے پر پرپوز کیا"
اریش ابھی بھی سنجیدگی سے گفتگو کر رہا تھا مگر مشعل اس کی آنکھوں میں شوخی صاف دیکھ سکتی تھی
"کیوں کر رہے ہیں آپ مجھے پریشان، آخر کیا ملے گا آپ کو یہ سب کر کے"
مشعل کی بے بس ہوکر بولنے پر اریش نے ہانی کو دیکھا
"ہانی آپ فٹبال لے کر لان میں جائے ڈیڈ آپ کے ساتھ تھوڑی دیر میں آکر کھیلتے ہیں"
ہانی تابعداری سے بات مانتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تو اریش نے مشعل کی طرف دیکھا
"مشعل میرا آپ کو پریشان کرنا یا ہرٹ کرنا مقصد ہرگز نہیں ہے، اچھی لگتی ہیں آپ مجھے، اتنی اچھی کہ میں باقی کی ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہانی بالکل اپنا اپنا سا لگنے لگا ہے وہ مجھ سے کم، میں اس سے زیادہ اٹیچ ہو گیا ہوں میں آپ دونوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں آئی سوئر میں آپ کو اور ہانی کو بہت پیار دوں گا بہت خوش رکھوں گا آپ دونوں کو"
اریش مشعل کے دونوں ہاتھ تھامے اسے اپنی بات پر یقین دلارہا تھا اور مشعل بہت غور سے اس کو دیکھ رہی تھی
"میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی"
مشعل نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر کہا
"وجہ جان سکتا ہوں"
اریش نے سنجیدگی سے پوچھا
"نہیں"
مشعل روم سے جانے لگی تبھی اریش نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا
"وجہ بتائے بغیر آپ یہاں سے نہیں جا سکتی"
اب سنجیدگی کے ساتھ اریش کے لہجے میں ضد بھی شامل تھی
"وجہ جاننا چاہتے ہیں نہ آپ، تو سنیے مجھے آپ سے نفرت ہے، بلکے ہر مرد سے نفرت ہے نہیں کر سکتی میں کسی پر دوبارہ اعتبار، اچھی لگتی ہو ناں میں آپ کو۔۔۔ تو جائے جاکر آکا سے میرا ماضی پوچھے پھر معلوم ہوگا آپ کو کہ میں کتنی اچھی ہو دیکھے گے تک نہیں آپ مجھے پلٹ کر"
مشعل اریش کا ہاتھ جھٹک کر روم سے باہر چلی گئی
****
"آو مزمل میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا چھوڑ کر آ گئے تم تابی کو یونیورسٹی" صوفے سے اٹھتے ہوئے وہاج نے مزمل سے پوچھا
"جی سر تین بجے میڈم کی کلاس ختم ہوجائے گی تو لینے جاؤنگا"
وہاج روم سے نکلا تو مزمل نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔۔
وہاج نے لائبریری پہنچ کر دیوار کی پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا
"ہٹاو اس پینٹنگ کو"
مزمل نے پینٹنگ ہٹائی
"بٹن دباؤ"
وہاج کے کہنے پر مزمل نے بٹن دبایا تو دیوار نما دروازہ کھل گیا جس پر مزمل نے حیرت زدہ ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی تو وہاج اس کو حیرت ذدہ دیکھ کر مسکرایا
"حیرت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوکہ اب تم میرے خاص آدمیوں میں سے ہوں میرے اصل کاروبار کا تمہیں علم ہے اور بھی بہت سی چیزوں سے تمہیں واقفیت ہونی چاہیے"
وہاج نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا تو مزمل آگے بڑھتا ہوا گودام میں پہنچا جہاں پیٹیوں کا انبار لگا ہوا تھا۔۔۔
وہاج اس کے پیچھے آیا اور ایک پیٹی کھول کر چھوٹی سی پسٹل نکالی
"جانتے ہو اس کی قیمت مارکیٹ میں"
وہاج نے جدید طرز کی پسٹل اس کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا مزمل چپ رہا
"¹³ لاکھ"
وہاج نے اس کی قیمت بتائی
"یہ اسلحہ جب دوسرے ممالک کے لوگ خریدنے آتے ہیں تو ہم اس کو دوگنی بلکے تگنی قیمت میں فروخت کرتے ہیں۔۔۔ کہاں سے میں یہ اسلحہ خریدتا ہوں،، کتنے میں خریدتا ہوں،، کن لوگوں کو میں آگے بیچتا ہوں۔۔۔ ڈیلنگ کرنے کا طریقہ تمہیں سب سکھاو گا اور تم بنو گے میرے رائٹ ہینڈ۔۔۔ تمہیں جب میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا تبھی میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ اگر تم میرے اس کاروبار میں شامل ہو جاؤ تو ہم راتوں رات امیر ہو سکتے ہیں"
وہاج جو بھی باتیں کر رہا تھا مزمل اسے بہت غور سے سن رہا تھا
"سر آپ نے بہت احسانات کئے ہیں مجھ پر، میں بے روزگار تھا آپ نے مجھے جاب دی رہنے کے لئے رہائش دی میں بہت جلد آپ کے سارے احسانات کا بدلہ سود سمیت اتاروں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے"
مزمل نے وہاج کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
"دراصل مزمل میں کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا میں تمہیں دیکھ کر ہی پہچان گیا تھا کہ تم کام کے بندے ہو اور میرے بہت کام آ سکتے ہو یقین کرو اس میں میرے ساتھ ساتھ تمہارا بھی بہت فائدہ ہو گا۔۔۔ خیر یہ باتیں تو ہوتی رہے گی پرسوں میں کچھ اپنے خاص دوستو کو انوائٹ کر رہا ہوں اچھا ہے تمہارا بھی ان سب سے تعارف ہو جائے گا اور بھی تمہیں بہت سی باتوں کی نالج ہوگی"
اس کے بعد وہاج مزمل کو دوسری بہت سی باتیں بتا رہا تھا جو مزمل بہت دھیان سے سن رہا تھا
****
"سائیں تم تو بھول گئے ہو ہمیں، ستار نے سوچا تمہیں خود یاد دلادے کوئی ستار میمن ہوتا ہے جس کا تم نے نمک کھایا ہوا ہے،،، اب تو نمک کا حق ادا کئے کافی دن گزر گئے،،، نہ حاضری لگائی نہ کال اٹھاتے ہو کہیں پارٹی شارٹی تو نہیں بدل لی تم نے"
مزمل نے روم میں آکر ستار میمن کی کال ریسیو کی
"کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ستار صاحب میں نے آپ کا نمک کھایا ہے آپ سے ہی وفادار نبھاو گا آپ نے سنا ہوگا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ابھی مجھے معلوم ہوا ہے پرسوں وہاج صدیقی کے دوست گھر پر مدعو ہیں۔ ۔۔ساری سکیورٹی گیٹ پر موجود ہوگی پچھلے راستے سے میں مال آپ تک پہنچا دوگا۔۔ کیسے کب کتنے بجے یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔۔۔ فی الحال ابھی جلدی میں ہوں کال رکھتا ہوں"
مزمل کال کاٹ کر دروازے سے باہر نکلا تو فضل دروازے پر ہی کھڑا تھا مزمل ایک دم چونکا
"کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہو"
مزمل نے اس کے چہرے سے کھوج لگانا چاہا
"یاد دلانے آیا تھا تابی بی بی کا یونیورسٹی کا ٹائم ختم ہوگیا ہے"
فضل نے جتنا نارمل لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزمل سے کہا۔۔ مزمل فورا سمجھ گیا وہ فون پر ہونے والی گفتگو سن چکا ہے
"وہی جا رہا ہوں"
مزمل نے بھی اس کو نارمل لہجے میں جواب دیا اور سر جھٹک کر تعبیر کو لینے نکل گیا
****
تپتی ہوئی دھوپ نے آج اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا آج حد سے زیادہ گرمی تھی پسینے میں لبریز وہ گھر پہنچی
"آ گئی مشعل کالج سے بہت گرمی ہو گی نہ باہر، چلو جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آجاو میں کھانا گرم کرتی ہوں"
فوزیہ نے گرمی کی حدت سے مشعل کے سرخ گالوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"افوہ اور کوئی کام نہیں ہے بھابھی آپکو بندہ باہر سے تھکا ہارا گھر آیا ہے اور آتے کے ساتھ ہی آپ نے آرڈر دینا شروع کردیا کہ وہ ہاتھ دھو لو یہ کر لو وہ کرلو"
مشعل نے کافی بدتمیزی سے فوزیہ کو جواب دیا، یہ گرمی کا اثر ہرگز نہیں کہا بلکہ فوزیہ کو دیکھ کر اس کا دماغ اسی طرح گرم ہو جاتا تھا
"ایسا کیا کہہ دیا فوزیہ نے تمہیں جو تم اسے اتنی بدتمیزی سے بات کر رہی ہوں، کھانا کھانے کا یہ پوچھا ہے نا تم سے اس نے"
ارباز نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا
"اووو تو یہ اچھا بننے کا ڈرامہ اس لئے کیا جارہا تھا کہ گھر میں بھائی موجود ہیں ورنہ یہ ایک گلاس جو پانی پوچھ لیں مجال ہے" مشعل نے ہنستے ہوئے جواب دیا فوزیہ کی آنکھوں میں نمی ان دونوں سے ہی نہیں چھپ سکی وہ روم سے نکلتی ہوئی چلے گی
"مشعل بہت بری بات ہے میں دیکھ رہا ہوں تم دن بدل زبان چلانے لگی ہو فوزیہ سے وہ تمہیں بالکل اولاد کی طرح ٹریٹ کرتی ہے بلکہ اعزاز سے بھی زیادہ تمہارا خیال رکھتی ہے اور تم اپنی باتوں سے نہ صرف اس کا بلکہ میرا بھی دل دکھاتی ہو" ارباز نے مشعل کے رویے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"یہ تو ہونا ہی تھا نہ بھائی بیوی اور بیٹے کی محبت کی پٹی آپ کی آنکھوں پر بندھی ہوئی ہے تو بہن تو بدتمیز اور بدزبان ہی دیکھے گی"
مشعل مزید بدتمیزی کرتے ہوئے کہنے لگی
"غلطی میری ہی تھی وہ باہر گرمی سے آئی تھی میں نے فوراً کھانے کا پوچھ لیا یہ لو مشعل پانی پی لو اور فریش ہو کر آ جانا تو کھانا گرم کر دوں گی"
فوزیہ نے پانی کا گلاس مشعل کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
"گھر میں سارا دن رہ کر آپ صرف ڈرامے ہی دیکھتی رہتی ہیں بھابھی،، میرے سامنے ذرا ڈرامے کم کیا کریں" مشعل نے ایک نظر ارباز پر ڈالی اور فوزیہ کو کہتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی
"تمہارے بلاوجہ کے لاڈ نے اس کو بدتمیز بنا دیا ہے فوزیہ، اس کے اتنے نخرے نہیں اٹھایا کرو بلکے اسکو اس کے حال پر چھوڑ دو"
ارباز نے فوزیہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"آپ کی امی نے وعدہ لیا تھا آخری وقت میں مشعل کا خیال رکھنا وعدہ وفا کرنا بھی تو ضروری ہے"
فوزیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
"پتہ نہیں اتنی برداشت اور اتنا اچھا دل تم کہاں سے لے کر آئی ہوں چلو ہم کھانا کھا لیتے ہیں بھوک لگ رہی ہے آعزاز آچکا ہوگا اسکول سے"
ارباز کے کہنے پر فوزیہ سر ہلا کر روم سے چلی گئی
****
مشعل روم میں آئی بیگ اور ڈوپٹہ بیڈ پر اچھالا جوتے بھی اسی انداز میں اچھال کر دور پھینکے واش روم سے منہ دھو کر واپس آئی تو اس کے موبائل پر ولی کی کال آ رہی تھی جسے دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے والی گرمی ختم ہوگئی۔۔۔۔ ولی کا نام دیکھ کر اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی ٹھنڈک سے اتر گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 19
مشعل اسکول سے واپس گھر لوٹی تو وہ بہت غصے میں تھی ہانی کو گھر میں موجود نہ پا کر اسے مزید غصہ آیا ہینڈ بیگ صوفے پر رکھ کر وہ اریش کی طرف چلی گئی اریش کے بیڈروم کا دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوئی تو اریش بیڈ پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں مصروف تھا جبکہ ہانی اس کے برابر میں بیٹھا ہوا اریش کے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا
"ہانی یہاں کیا کر رہے ہیں آپ، کتنی بار آپ کو کہا ہے مما کے گھر آنے کے ٹائم پر آپ کو گھر پر موجود ہونا چاہیے مما کے پاس"
مشعل کو اریش سے نمٹنا تھا مگر اس نے سوچا پہلے ہانی کو یہاں سے بھیجے اس لیے اریش کو اگنور کرتی ہوئی ہانی کو مخاطب کرکے بولی
"ڈیڈ بھی ہانی کو مس کرتے ہیں آپ کو بھی ہانی چاہیے اب ہانی بیچارا کہاں جائے۔۔۔۔ آپ بھی ہانی اور ڈیڈ کے پاس یہی آجائے نہ"
ہانی مشعل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا اریش کو ڈیڈ کہنے پر جہاں مشعل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا وہی اریش اپنا لیپ ٹاپ چھوڑ کر ہانی کو پیار کرنے لگا
"ہانی کی مما سے زیادہ سمجھدار تو مما کا بیٹا ہے، نہ ہی نخرے دکھانے والا نہ ہی بور کرنے والا اور نہ ہی بلاوجہ میں غصہ کرنے والا"
اریش نے مسکرا کر مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"ڈیڈ ہانی کی مما نخرے نہیں دکھاتی جب آپ انہیں پیار کریں گے تو وہ بھی آپ کو پیار کریں گی، وہ بورینگ بھی نہیں جب آپ ان کے پاس سوئے گے تو وہ آپ کو بہت اچھی اسٹوریز سنائے گی آور آپ پوری روٹی فنش کرے گیں تو وہ آپ کو کس بھی دے گی"
مشعل کے دو بار بیچ میں ہانی کو ٹوکنے پر بھی ہانی نے اریش کو مما کی خوبیاں بتائی جس کو اریش نے O شیپ میں منہ کھول کر انجوائے کرتے ہوئے سنا
"ہانی یہ آپ کے ڈیڈ ہرگز نہیں ہیں یہ انکل ہیں"
مشعل نے سنجیدگی سے ہانی کو سمجھانا چاہتا
"انکل یہ مارننگ میں تھے ایوننگ میں ہانی کے ڈیڈ بن گئے ہیں۔۔۔ ہانی کبھی غلط بات نہیں کرتا"
ہانی مشعل کو جواب دے کر دوبارہ موبائل میں گیم کھیلنے لگا
"میرا بیٹا"
اریش نے ہانی کے سلکی بالوں پر کس کرتے ہوئے کہا جس پر مشعل کے تن بدن میں آگ لگ گئی
"ہانی آپ کو ڈیڈ کیوں بول رہا ہے اریش"
ہانی کی بات کو اگنور کرکے اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے مشعل نے اریش کو دیکھ کر پوچھا
"کیونکہ وہ کیوٹ اور انوسینٹ ہونے کے ساتھ کافی جینیئس بچہ بھی ہے جو ایک دفعہ کی بات سمجھانے پر بلاوجہ کی بحث میں نہیں پڑتا"
اریش نے حتلامکان اپنے فیس ایکسپریشن کو سیریس رکھنے کی کوشش کی
"یعنی ہانی کو آپ نے بولا ہے کہ وہ آپ کو ڈیڈ بولے"
مشعل نے سنجیدگی سے اریش کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"واو اب آپ بھی جینیس ہوتی جا رہی ہیں"
اریش نے مسکرا کر کہا
"بہت غلط حرکت کی ہے آپ نے، آپ کو ہانی کی دماغ میں ایسی الٹی سیدھی باتیں نہیں ڈالنی چاہیے"
مشعل نے افسوس کرتے ہوئے کہا
"میں نے ہانی کے دماغ میں کوئی الٹی سیدھی بات نہیں ڈالی ہے صرف سیدھی سیدھی بات ڈالی ہے اگر آپ کو ڈیڈ کہلانے میں اعتراض ہے تو ٹھیک ہے وہ مجھے بابا ڈیڈی یا ابو بولے گا اب تو خوش ہو جائیں آپ"
اریش نے پرابلم کا سلوشن نکالا
"اریش پلیز میں سیریس ہو"
مشعل نے ڈپٹتے ہوئے کہا
"اور میں آپ سے بھی زیادہ سیریس ہو"
اس کے ڈپٹنے پر اریش نے نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
"اور آپ آج صبح اسکول کے پرنسپل سے کیا بات کرکے آئے ہیں"
مشعل کو وہ بات بھی یاد آئی جس کی وجہ سے وہ غصے میں اسکول سے گھر آئی تھی
"اسکول کی پرنسپل سے بھی میں نے سیدھی سیدھی ہی بات کری ہے کہ مس مشعل کی ہفتے بعد شادی ہے اس وجہ سے وہ اب مزید جاب نہیں کر سکتی"
اریش نے اپنا کارنامہ مشعل کو بتایا
"اگر اب آپ نے آگے سے کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کری، تو میں آپکی جان لے لوں گی"
مشعل کا دل چاہا وہ واقعی اس کا گلا دبا دے
"جان آپ پہلے ہی لے چکی ہیں میں مشعل اور یہ بات میں نے آپ کو پہلے بھی بتائی تھی اور ابھی بھی یاد دہانی کرا رہا ہوں میں ایک شریف انسان ہوں شادی سے پہلے الٹی سیدھی حرکتوں کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔ جبھی آپ کو سیدھے سیدھے پر پرپوز کیا"
اریش ابھی بھی سنجیدگی سے گفتگو کر رہا تھا مگر مشعل اس کی آنکھوں میں شوخی صاف دیکھ سکتی تھی
"کیوں کر رہے ہیں آپ مجھے پریشان، آخر کیا ملے گا آپ کو یہ سب کر کے"
مشعل کی بے بس ہوکر بولنے پر اریش نے ہانی کو دیکھا
"ہانی آپ فٹبال لے کر لان میں جائے ڈیڈ آپ کے ساتھ تھوڑی دیر میں آکر کھیلتے ہیں"
ہانی تابعداری سے بات مانتا ہوا روم سے باہر نکل گیا تو اریش نے مشعل کی طرف دیکھا
"مشعل میرا آپ کو پریشان کرنا یا ہرٹ کرنا مقصد ہرگز نہیں ہے، اچھی لگتی ہیں آپ مجھے، اتنی اچھی کہ میں باقی کی ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔ ہانی بالکل اپنا اپنا سا لگنے لگا ہے وہ مجھ سے کم، میں اس سے زیادہ اٹیچ ہو گیا ہوں میں آپ دونوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں آئی سوئر میں آپ کو اور ہانی کو بہت پیار دوں گا بہت خوش رکھوں گا آپ دونوں کو"
اریش مشعل کے دونوں ہاتھ تھامے اسے اپنی بات پر یقین دلارہا تھا اور مشعل بہت غور سے اس کو دیکھ رہی تھی
"میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی"
مشعل نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر کہا
"وجہ جان سکتا ہوں"
اریش نے سنجیدگی سے پوچھا
"نہیں"
مشعل روم سے جانے لگی تبھی اریش نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف موڑا
"وجہ بتائے بغیر آپ یہاں سے نہیں جا سکتی"
اب سنجیدگی کے ساتھ اریش کے لہجے میں ضد بھی شامل تھی
"وجہ جاننا چاہتے ہیں نہ آپ، تو سنیے مجھے آپ سے نفرت ہے، بلکے ہر مرد سے نفرت ہے نہیں کر سکتی میں کسی پر دوبارہ اعتبار، اچھی لگتی ہو ناں میں آپ کو۔۔۔ تو جائے جاکر آکا سے میرا ماضی پوچھے پھر معلوم ہوگا آپ کو کہ میں کتنی اچھی ہو دیکھے گے تک نہیں آپ مجھے پلٹ کر"
مشعل اریش کا ہاتھ جھٹک کر روم سے باہر چلی گئی
****
"آو مزمل میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا چھوڑ کر آ گئے تم تابی کو یونیورسٹی" صوفے سے اٹھتے ہوئے وہاج نے مزمل سے پوچھا
"جی سر تین بجے میڈم کی کلاس ختم ہوجائے گی تو لینے جاؤنگا"
وہاج روم سے نکلا تو مزمل نے اس کے پیچھے چلتے ہوئے اسے جواب دیا۔۔۔۔
وہاج نے لائبریری پہنچ کر دیوار کی پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا
"ہٹاو اس پینٹنگ کو"
مزمل نے پینٹنگ ہٹائی
"بٹن دباؤ"
وہاج کے کہنے پر مزمل نے بٹن دبایا تو دیوار نما دروازہ کھل گیا جس پر مزمل نے حیرت زدہ ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی تو وہاج اس کو حیرت ذدہ دیکھ کر مسکرایا
"حیرت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوکہ اب تم میرے خاص آدمیوں میں سے ہوں میرے اصل کاروبار کا تمہیں علم ہے اور بھی بہت سی چیزوں سے تمہیں واقفیت ہونی چاہیے"
وہاج نے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا تو مزمل آگے بڑھتا ہوا گودام میں پہنچا جہاں پیٹیوں کا انبار لگا ہوا تھا۔۔۔
وہاج اس کے پیچھے آیا اور ایک پیٹی کھول کر چھوٹی سی پسٹل نکالی
"جانتے ہو اس کی قیمت مارکیٹ میں"
وہاج نے جدید طرز کی پسٹل اس کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا مزمل چپ رہا
"¹³ لاکھ"
وہاج نے اس کی قیمت بتائی
"یہ اسلحہ جب دوسرے ممالک کے لوگ خریدنے آتے ہیں تو ہم اس کو دوگنی بلکے تگنی قیمت میں فروخت کرتے ہیں۔۔۔ کہاں سے میں یہ اسلحہ خریدتا ہوں،، کتنے میں خریدتا ہوں،، کن لوگوں کو میں آگے بیچتا ہوں۔۔۔ ڈیلنگ کرنے کا طریقہ تمہیں سب سکھاو گا اور تم بنو گے میرے رائٹ ہینڈ۔۔۔ تمہیں جب میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا تبھی میرے دل میں یہ بات آئی تھی کہ اگر تم میرے اس کاروبار میں شامل ہو جاؤ تو ہم راتوں رات امیر ہو سکتے ہیں"
وہاج جو بھی باتیں کر رہا تھا مزمل اسے بہت غور سے سن رہا تھا
"سر آپ نے بہت احسانات کئے ہیں مجھ پر، میں بے روزگار تھا آپ نے مجھے جاب دی رہنے کے لئے رہائش دی میں بہت جلد آپ کے سارے احسانات کا بدلہ سود سمیت اتاروں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے"
مزمل نے وہاج کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
"دراصل مزمل میں کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا میں تمہیں دیکھ کر ہی پہچان گیا تھا کہ تم کام کے بندے ہو اور میرے بہت کام آ سکتے ہو یقین کرو اس میں میرے ساتھ ساتھ تمہارا بھی بہت فائدہ ہو گا۔۔۔ خیر یہ باتیں تو ہوتی رہے گی پرسوں میں کچھ اپنے خاص دوستو کو انوائٹ کر رہا ہوں اچھا ہے تمہارا بھی ان سب سے تعارف ہو جائے گا اور بھی تمہیں بہت سی باتوں کی نالج ہوگی"
اس کے بعد وہاج مزمل کو دوسری بہت سی باتیں بتا رہا تھا جو مزمل بہت دھیان سے سن رہا تھا
****
"سائیں تم تو بھول گئے ہو ہمیں، ستار نے سوچا تمہیں خود یاد دلادے کوئی ستار میمن ہوتا ہے جس کا تم نے نمک کھایا ہوا ہے،،، اب تو نمک کا حق ادا کئے کافی دن گزر گئے،،، نہ حاضری لگائی نہ کال اٹھاتے ہو کہیں پارٹی شارٹی تو نہیں بدل لی تم نے"
مزمل نے روم میں آکر ستار میمن کی کال ریسیو کی
"کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ستار صاحب میں نے آپ کا نمک کھایا ہے آپ سے ہی وفادار نبھاو گا آپ نے سنا ہوگا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ابھی مجھے معلوم ہوا ہے پرسوں وہاج صدیقی کے دوست گھر پر مدعو ہیں۔ ۔۔ساری سکیورٹی گیٹ پر موجود ہوگی پچھلے راستے سے میں مال آپ تک پہنچا دوگا۔۔ کیسے کب کتنے بجے یہ میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔۔۔ فی الحال ابھی جلدی میں ہوں کال رکھتا ہوں"
مزمل کال کاٹ کر دروازے سے باہر نکلا تو فضل دروازے پر ہی کھڑا تھا مزمل ایک دم چونکا
"کیا ہوا یہاں کیوں کھڑے ہو"
مزمل نے اس کے چہرے سے کھوج لگانا چاہا
"یاد دلانے آیا تھا تابی بی بی کا یونیورسٹی کا ٹائم ختم ہوگیا ہے"
فضل نے جتنا نارمل لہجہ اختیار کرتے ہوئے مزمل سے کہا۔۔ مزمل فورا سمجھ گیا وہ فون پر ہونے والی گفتگو سن چکا ہے
"وہی جا رہا ہوں"
مزمل نے بھی اس کو نارمل لہجے میں جواب دیا اور سر جھٹک کر تعبیر کو لینے نکل گیا
****
تپتی ہوئی دھوپ نے آج اس کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا آج حد سے زیادہ گرمی تھی پسینے میں لبریز وہ گھر پہنچی
"آ گئی مشعل کالج سے بہت گرمی ہو گی نہ باہر، چلو جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آجاو میں کھانا گرم کرتی ہوں"
فوزیہ نے گرمی کی حدت سے مشعل کے سرخ گالوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"افوہ اور کوئی کام نہیں ہے بھابھی آپکو بندہ باہر سے تھکا ہارا گھر آیا ہے اور آتے کے ساتھ ہی آپ نے آرڈر دینا شروع کردیا کہ وہ ہاتھ دھو لو یہ کر لو وہ کرلو"
مشعل نے کافی بدتمیزی سے فوزیہ کو جواب دیا، یہ گرمی کا اثر ہرگز نہیں کہا بلکہ فوزیہ کو دیکھ کر اس کا دماغ اسی طرح گرم ہو جاتا تھا
"ایسا کیا کہہ دیا فوزیہ نے تمہیں جو تم اسے اتنی بدتمیزی سے بات کر رہی ہوں، کھانا کھانے کا یہ پوچھا ہے نا تم سے اس نے"
ارباز نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا
"اووو تو یہ اچھا بننے کا ڈرامہ اس لئے کیا جارہا تھا کہ گھر میں بھائی موجود ہیں ورنہ یہ ایک گلاس جو پانی پوچھ لیں مجال ہے" مشعل نے ہنستے ہوئے جواب دیا فوزیہ کی آنکھوں میں نمی ان دونوں سے ہی نہیں چھپ سکی وہ روم سے نکلتی ہوئی چلے گی
"مشعل بہت بری بات ہے میں دیکھ رہا ہوں تم دن بدل زبان چلانے لگی ہو فوزیہ سے وہ تمہیں بالکل اولاد کی طرح ٹریٹ کرتی ہے بلکہ اعزاز سے بھی زیادہ تمہارا خیال رکھتی ہے اور تم اپنی باتوں سے نہ صرف اس کا بلکہ میرا بھی دل دکھاتی ہو" ارباز نے مشعل کے رویے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا
"یہ تو ہونا ہی تھا نہ بھائی بیوی اور بیٹے کی محبت کی پٹی آپ کی آنکھوں پر بندھی ہوئی ہے تو بہن تو بدتمیز اور بدزبان ہی دیکھے گی"
مشعل مزید بدتمیزی کرتے ہوئے کہنے لگی
"غلطی میری ہی تھی وہ باہر گرمی سے آئی تھی میں نے فوراً کھانے کا پوچھ لیا یہ لو مشعل پانی پی لو اور فریش ہو کر آ جانا تو کھانا گرم کر دوں گی"
فوزیہ نے پانی کا گلاس مشعل کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا
"گھر میں سارا دن رہ کر آپ صرف ڈرامے ہی دیکھتی رہتی ہیں بھابھی،، میرے سامنے ذرا ڈرامے کم کیا کریں" مشعل نے ایک نظر ارباز پر ڈالی اور فوزیہ کو کہتے ہوئے اپنے روم میں چلی گئی
"تمہارے بلاوجہ کے لاڈ نے اس کو بدتمیز بنا دیا ہے فوزیہ، اس کے اتنے نخرے نہیں اٹھایا کرو بلکے اسکو اس کے حال پر چھوڑ دو"
ارباز نے فوزیہ کو دیکھتے ہوئے کہا
"آپ کی امی نے وعدہ لیا تھا آخری وقت میں مشعل کا خیال رکھنا وعدہ وفا کرنا بھی تو ضروری ہے"
فوزیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
"پتہ نہیں اتنی برداشت اور اتنا اچھا دل تم کہاں سے لے کر آئی ہوں چلو ہم کھانا کھا لیتے ہیں بھوک لگ رہی ہے آعزاز آچکا ہوگا اسکول سے"
ارباز کے کہنے پر فوزیہ سر ہلا کر روم سے چلی گئی
****
مشعل روم میں آئی بیگ اور ڈوپٹہ بیڈ پر اچھالا جوتے بھی اسی انداز میں اچھال کر دور پھینکے واش روم سے منہ دھو کر واپس آئی تو اس کے موبائل پر ولی کی کال آ رہی تھی جسے دیکھ کر تھوڑی دیر پہلے والی گرمی ختم ہوگئی۔۔۔۔ ولی کا نام دیکھ کر اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی ٹھنڈک سے اتر گئی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment