🌹u r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 18
کیوکہ وہاج کی پشت دروازے کی طرف تھی اس وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ مزمل وہاں کب سے کھڑا تھا اور اس نے کیا کیا سنا
"تم یہاں کیا کر رہے ہو"
وہاج نے ماتھے پر بل لیے مزمل سے پوچھا
"گیسٹ روم کی چابی آپ کو دینے آیا تھا"
مزمل نے ہاتھ بڑھا کر چابی وہاج کو تھمانی چاہی مگر نگاہیں وہاج پر تھی وہاج بھی اسی کو دیکھ رہا تھا
"کیا کیا سنا ہے تم نے"
بغیر چابی لیے وہاج نے سنجیدگی سے مزمل سے پوچھا مزمل جس طرح دیکھ رہا تھا وہ سمجھ گیا کچھ نہ کچھ تو سن چکا ہو گا
"شاید مجھے جو نہیں سننا چاہیے تھا وہ سب کچھ سن چکا ہوں میں"
مزمل نے چابی سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
"پھر آگے کا ارادہ رکھتے ہوں"
وہاج نے مزمل کی سوچ جانی چاہی
"ارادہ تو آپ بتائے اپنا۔۔ اپنے ساتھ مجھے شامل کرنا چاہیں گے یا ہمیشہ کے لئے میرا منہ بند کرنا چاہیں گے" مزمل نے بے خوفی سے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا
"منہ دو طریقوں سے بند ہوتا ہے ایک پیسوں سے اور دوسرا گولی سے، مگر میں تمہیں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہوں گا۔۔۔ اگر میرے وفادار بن کر رہو گے اور فائدہ پہنچاتے رہو گے تو لازمی تمہارا منہ میں پیسوں سے بھر دوں گا مگر دھوکے بازی کی صورت میں گولی سے تمہارا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا"
وہاج نے مزمل کو دونوں صورتوں سے باخبر کیا
"سر آپ مجھ پر اعتبار کر کے دیکھیں میں آپ کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا"
مزمل نے وہ اس کو اپنا یقین دلایا
"ایک بات کا خیال رکھنا مزمل تابی کو اس کام کی زرا بھی بھنک نہیں پڑنی چاہیے اور یہ روم کی چابی اٹھا لو آج سے تم گھر کے باہر کوارٹر میں نہیں گھر کے اندر گیسٹ روم میں رہو گے" وہاج نے بات ختم کرتے ہوئے کہا مگر اس کا دماغ ابھی بھی الجھا ہوا تھا ایک ماہ میں اس کو دوبارہ نقصان پہنچا تھا
"سر تابی میڈم کی آپ فکر نہیں کریں اور رہی بات مجھ پر بھروسہ کرنے کی تو آپ مجھے ہمیشہ اپنا وفادار پائیں گے اور اس کے لئے بھی شکریہ چلتا ہوں" چابی واپس اٹھا کر مزمل روم سے باہر نکل گیا
"تو بیٹا مزمل تم سرونٹ کوارٹر سے گیسٹ روم میں پہنج گئے یعنی اپنی منزل کے قریب"
مزمل سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچنے لگا
***
کل رات مشعل کافی دیر تک جاگی جس کی وجہ سے اس کی آنکھ دیر سے کھلی، وہ اسکول کے لیے لیٹ ہوگئی مگر چھٹی نہیں کر سکتی تھی اس لئے تیز قدم بڑھاتے ہوۓ گیٹ عبور کر کے سڑک پر چلنے لگی تبھی کار کے ہارن پر پیچھے مڑ کر دیکھا
"مشعل آجائے میں آپ کو ڈراپ کردوں گا"
اریش نے کار کی کھڑکی سے سر نکالتے ہوئے مشعل کہا پہلے مشعل نے سوچا کہ وہ انکار کردے مگر اس کو جلدی اسکول پہنچنا تھا اس لئے کار میں آکر بیٹھ گئی
"ایڈمیشن نہیں کروایا آپ نے ابھی تک ہانی کا"
اریش کے پوچھنے پر مشعل نے آریش کو دیکھا وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا سامنے دیکھ رہا تھا
"اسی مہینے کروانے کا سوچا ہے"
مشعل نے مختصر جواب دیا
"گڈ اب ہانی اسکول گوئنگ ہو گیا ہے، میری نظر میں دو تین اسکولز ہم شام میں ڈیسائیڈ کرلیتے ہیں کہ کونسا بیسٹ رہے گا اور کل یا پرسوں ایڈمیشن کے لئے چلتے ہیں"
اریش نے اپنا سوچا ہوا پلان اس کو بتایا
"جو بیسٹ اسکولز ہوں گے ان کی فیس میں افورڈ نہیں کر سکتی اس لئے میں نے سوچ لیا ہے ہانی کا اسی اسکول میں ایڈمیشن کراؤ گی جہاں میں جاب کرتی ہوں"
مشعل نے جتانے والے انداز میں اریش کو دیکھ کر کہا
"تو آپ سے کون کہہ رہا ہے ہانی کی فیس پے کرنے کو یہ تو میرا کام ہوگا، آگے آپکی اور ہانی کی ضرورتوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہوگی اور میں کافی زمہ دار شخص ہوں اب آپ بھی اسکول سے ریزائن کردیں بس اپنی ساری توجہ گھر اور ہانی کو دیا کریں اور تھوڑی سی مجھے بھی اگر چاہیں تو"
اریش نے نارمل انداز میں بولا آخری جملہ بڑبڑاہٹ میں بولا گیا مگر بڑبڑاہٹ اتنی واضح تھی کہ مشعل کو صاف سنائی دی
"آپ کیوں ہانی کی فیس پے کریں گے اور میں کس خوشی میں ریزائن کرو اپنی جاب سے۔۔۔ ہانی میرا بیٹا ہے اور وہ صرف میری ذمہ داری ہے اس طرح کی باتیں کر کے کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں آپ" مشعل نے گھورتے ہوئے اس سے پوچھا
"حیرت ہے آپ کو میری باتوں سے ظاہر نہیں ہورہا کہ میں کیا چاہتا ہوں کل بتایا تو تھا میں نے آپ کو"
اریش نے اس بار مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"جو اپ چاہتے ہیں وہ ناممکن ہے اریش، آپ بچوں والی باتیں نہیں کریں میرے ساتھ"
مشعل نے سنجیدگی سے آریش سے کہا
"کسی لڑکی کو پرپوز کرنا بچوں والی بات کہاں سے ہوگئی بھلا، مانا کے پرپوز کرنے کا اسٹائل زرا روکھا سا ہے، اس بات کا اگر آپ کو دلی طور پر قلق ہے تو شام میں آپ کو کسی بیچ پر لے کر چلا جاتا ہوں کینڈل لائٹ ڈنر کے بعد ایک ڈائمنڈ کے رنگ پہنا کر پرپوز کردیتا ہوں"
اریش نے بات کو مذاق کر رنگ دے کر کہا مشعل نے گھور کر اریش کو دیکھا، تو اس نے مشعل کو دیکھ کر اسمائل دی
"یہ سب ممکن نہیں ہے اریش، میں امید کروں گی کہ آپ دوبارہ ایسی فضول گوئی سے گریز کریں"
مشعل نے سنجیدگی سے اریش کو دیکھ کر کہا اسکول کے پاس کار رکی تو مشعل اترنے لگی
"اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے مشعل میں امید کروں گا آپ ٹھنڈے دماغ سے اس بات پر غور کریں"
اریش نے مشعل دیکھ کر کہا مشعل بغیر کچھ بولے کار سے اتر گئی
"بہت نخرے والی ہے یہ ہانی کی مما بھی"
اریش نے نفی میں سر ہلایا اسکول کے اندر داخل ہوتی مشعل کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر مسکرایا خود بھی اسکول کے اندر چلا گیا
***
"ہاں عماد بولو" ارتضیٰ نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"سر معلوم تو ہو گیا ہوگا آپ کو، ریڈ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے اور ڈی۔ایس۔پی اریسٹ وارنٹ نہیں ایشو کر رہے کہ وہاج صدیقی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے اور نہ ہی اسے اریسٹ کیا جائے"
عماد نے مایوس ہوکر ارتضیٰ کو تفصیل بتائی
"عماد یہ ریڈ کامیاب رہی ہے تم بد دل مت ہو، بےشک وہاں سے سب لوگ فرار ہوگئے مگر ان کا اسلحہ پکڑا گیا ہے، اس اسلحے سے نہ جانے کتنے بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ویسے بھی وہاج صدیقی جیسے لوگ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتے کیونکہ ان جیسوں کی سرپرستی ہمارے ہی افسران کرتے ہیں، تم میرے اکیلے اقدام کا ویٹ کرو"
عماد سے بات کرکے ارتضیٰ نے کال کاٹی تو مریم روم میں آئی
"کب چلنا ہے دعا کو لینے تم تو گھر میں ٹکتے نہیں کم ازکم دعا میرے پاس ہوگی تو اکیلے پن کا احساس تو نہیں ہو گا مجھے"
مریم نے ارتضیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما آپ کو میری جاب کا پتہ تو ہے، ایک دو کام پھنسے ہوئے ہیں، بس اس کے بعد ہی ان محترمہ کا نمبر آئے گا"
ارتضیٰ ابھی بھی کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا مریم سر ہلا کر دوسرے روم میں چلی گئی
***
تابی کی آنکھ کھلی تو اٹھ کر ٹیرس میں آئی نیچے لان میں نظر پڑی تو مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا اس کی نظر مزمل پر پڑی جو کہ چیئر پر بیٹھا ہوا پسٹل میں بلیٹس ڈالنے میں مصروف تھا
"آف یہ میرا باڈی گارڈ اور اس کے انداز"
تابی کو خود اپنی سوچ پر ہنسی آئی
دوپٹہ اوڑھتی ہوئی وہ لان میں چلی آئی، مزمل نے دور سے آتی تعبیر کو دیکھا تو مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی جسے دیکھ کر تعبیر بھی مسکرائی
"کیا ہوا کل رات کو کہیں بابا سے ڈانٹ تو نہیں پڑی"
تابی نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"ڈانٹ وہ کس خوشی میں"
مزمل کو سمجھ نہیں آیا
"رات کو تم اپنی میڈم کے ساتھ اکیلے کچن میں پائے گئے" تابی نے یاد دلایا تو مزمل ہنسا
"ہاں آپ کے جانے کے بعد آپ کے بابا نے پوچھا تھا، کیا کر رہے تھے تم میری بیٹی کے ساتھ۔۔۔ تو میں نے انھیں بتایا آپ کی لاڈلی کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا تھا اور کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر آپ اچانک آگئے"
شرارت میں کی ہوئی بات کو اس نے مزید معنی خیزی کا رنگ دیا تو تابی نظریں جھکا کر وہاں سے جانے لگی تبھی مزمل چیئر سے اٹھا اس کا ہاتھ پکڑا
"آگے نہیں سنیں گیں اس کے بعد آپ کے بابا نے مجھ سے کیا کہا"
مزمل نے بولنے پر تابی سوالیہ نظروں سے مزمل کو دیکھا تو مزمل مسکراتے ہوئے بولا
"میرے کھانا کھلانے کے اقدام پر آپ کے بابا اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے میری ترقی کرتے ہوئے مجھے کوارٹر کی بجائے، گھر کے اندر گیسٹ روم میں شفٹ ہونے کو کہا"
مزمل کے بتانے پر تابی بھی مسکرا دی
"ویسے میں کل سے ایک بات اور بھی سوچ رہا ہوں"
مزمل نے اپنے ٹراؤزر کی پاکٹ سے چھوٹی سی ڈبیہ نکالتے ہوئے کہا
"کیوں نہ آپ کو جلد سے جلد نیچے گیسٹ روم میں شفٹ کرلیا جائے جب تک آپ کے لیے مزمل گھر نہ تعمیر کروا لے"
رنگ تعبیر کے دودھیا ہاتھ کی انگلیوں میں پہناتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا
"یہ رینگ بہت اچھی ہے"
تابی نے اس کی بات پر نظر جھکائی اور رینگ کی تعریف کی جو اس کے لئے اچانک بہت قیمتی ہوگئی
"اور میری بات وہ اچھی نہیں لگی آپ کو"
مزمل کے پوچھنے پر تابی نے مزمل کی آنکھوں میں جھانکا جہاں وہ اپنے لیے چاہت کے رنگ باآسانی دیکھ سکتی تھی
"تمہاری بات مجھے اتنی اچھی لگی کہ میرا دل چاہ رہا ہے اس خوشی میں تمہیں صبح ہی صبح نہلا دیا جائے" کہنے کے ساتھ ہی اچانک تعبیر کو شرارت سوجھی، تھوڑی دیر پہلے مالی جو پودوں کے پاس پائپ کھلا چھوڑ گیا تھا تابی نے پائپ اٹھا کر مزمل کو پانی سے بھگوانا شروع کردیا جس پر مزمل نے پہلے اسے گھور کر دیکھا مگر تابی کو ہنستا دیکھ کر، اس نے خود بھی مسکرا کر تعبیر کی طرف قدم بڑھائے وہ جتنا تعبیر کے قریب آتا جا رہا تھا تعبیر ہنستے ہوئے مزید اس کو اور بھی بھگوتے ہوتے دور ہوتی جا رہی تھی مزمل کا چہرہ بال شرٹ تقریبا پورے ہی بھیگ چکے تھے،
کوئی اور بھی تو جو یہ منظر بہت غور سے دیکھ رہا تھا
جب تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے تو وہ ہنستے ہوئے پائپ وہی پھینک اندر بھاگی اور گیسٹ روم میں آکر روم کا دروازہ بند کرنے لگی۔۔۔۔ دروازے کے درمیان پاؤں رکھ کر جسے مزمل نے بند ہونے سے روکا اور خود بھی گیسٹ روم کے اندر آکے دروازہ بند کر دیا
"مزمل میں ناراض ہو جاؤں گی تم سے"
اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر تعبیر نے دھمکی دی جس کا مزمل پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا تعبیر دیوار سے جا لگی مزمل اس کے قریب آیا اور دیوار پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تعبیر کے فرار کا راستہ بند کیا
"یہ تو مجھے بھگونے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نا"
وہ مزید اس کے قریب آ کر بولا
"اف ہٹو پیچھے کیا میرے کپڑے گیلے کرنے ہیں"
تابی کا دل زور سے دھڑکا، اسے ڈر تھا اس کی شرارت اسی کو مہنگی نہ پڑ جائے
"نہیں آپ کے کپڑے گیلے نہیں کرنے بلکہ کل جو کام ادھورا رہ گیا تھا وہ مکمل کرنا ہے"
مزمل نے تعبیر کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"مزمل نہیں پلیز" تعبیر نے رونی شکل بنا کر کہا جیسے وہ پچھتا رہی ہو
"ایسی روتی شکل دیکھ کر بھی میں نہیں بخشنے والا اب صرف مجھ سے نجات کا ایک ذریعہ ہے آپ کے پاس، جو آپ نے میری حالت بگاڑی اس کو سنوارے گی بھی آپ"
مزمل نے اس کو بخشش کا راستہ دکھایا
"مطلب"
تابی میں گڑبڑاتے ہوئے کہا
"مطلب یہ کہ میری یہ گیلی شرٹ اتار کر مجھے دوسری شرٹ آپ پہنائے گی"
مزمل نے آنکھوں میں شرارت لیے شرط بتائی
"بےشرم میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی"
تعبیر نے اسکو گھورتے ہوئے کہا
"پھر آپ پچھتانے کے لئے تیار ہو جائیں"
اس نے تعبیر کا بازو پکڑ کر کہا
"اچھا ٹھیک ہے پہلے تم پیچھے ہٹو" تعبیر نے ہار مانتے ہوئے کہا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
"شکل سے تم بہت سیدھے لگتے ہو" شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے تعبیر نے اس کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا
"میری شکل پر مت جائیے گا یہ اکثر لوگوں کو دھوکا دیتی ہے"
مزمل بہت غور سے اسی کو دیکھ کر کہہ رہا تھا جو کہ نیچی نگاہیں کیے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھی
"شرٹ اتارو میں دوسری شرٹ لاتی ہو"
تعبیر نے اس کی بات کو اگنور کر کے وارڈروب سے ٹاول اور شرٹ نکالی اور ویسے ہی نظریں جھکا کر اس کے پاس آئی مزمل اس کے ہاتھ سے ٹاول لے کر اپنے بال خشک کرنے لگا تعبیر کی نظر اس کے بازو سے اوپر گولی کے نشان پر ٹھہر گئی
"یہ اسی گولی کا نشان ہے نا"
تعبیر نے اپنی انگلیوں سے اس نشان کو چھو کر دیکھا آج تعبیر کو اور بھی زیادہ تکلیف ہوئی اسے وہ وقت یاد آیا جب اس کے نام کی گولی کتنے ارام سے مزمل اپنے اوپر کھا گیا تھا
"کیا ہوا آپ کو پریشان کیوں ہو رہی ہیں"
مزمل نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا تعبیر کی کیفیت ایسے ہو رہی تھی جیسے وہ ابھی رو دے گی اس کے ہاتھ سے شرٹ لے کر وہ پہننے لگا کیوکہ جتنی دیر وہ گولی کے نشان کو دیکھتی اتنی دیر تک ایسی کیفیت میں گھری رہتی
"اپنی جان بچانے کے بجائے تم نے میری جان کیوں بچائی مزمل، کیا تمہیں موت کا بالکل خوف تھا اس وقت"
تعبیر نے مزمل کو دیکھ کر سوال کیا
"موت کا خوف تو ہر ایک کو ہوتا ہے مگر تعبیر سے جدا ہونے کا بھی ڈر تھا، بناء تعبیر کے بندہ زندگی کے خواب کیسے دیکھتا بھلا، میں نے اپنی ہی جان بچائی ہے"
مزمل نے اس کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تاکہ تعبیر کو ڈر کی کیفیت نکال سکے
"تم تو ایسے بات کر رہے ہوں جیسے پہلے سے مجھے جانتے ہو"
تعبیر نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی
"آپ کو کیوں محسوس نہیں ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں"
مزمل کی بات پر تعبیر نے اپنا سر اس کے سینے سے سر ہٹا کر مزمل کو دیکھا۔۔ مزمل کی نظر اس کی تھوڑی کے خم پر لگے نشان پر گئی بے ساختہ مزمل نے اپنے ہونٹ اس نشان پر رکھ دیے جس پر تعبیر ایک دم پیچھے ہوئی اور شکایتی انداز میں مزمل کو دیکھا
"سوری نہیں کہو گا کیوکہ یہ غلطی نہیں تھی بلکہ مداعوہ تھا اس غلطی کا جو بہت پہلے میری غفلت کے بنا پر مجھ سے لاحق ہوگئی تھی" مزمل نے دوبارہ تعبیر کو خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
"مزمل ایسے نہیں کرو پلیز"
تعبیر نے مزمل سے فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہا
"اور اگر میں کہو کہ میں حق رکھتا ہو تو۔۔۔۔ پھر بھی منع کرے گی آپ"
مزمل نے تعبیر کا ہاتھ پکڑ کر گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"صرف انگوٹھی پہنانے سے کوئی حق دار نہیں بن جاتا۔۔۔ پاپڑ بیلنے پڑے گے، بابا کو منانے کے لئے"
تعبیر نے چیلنج کرتے ہوئے مزمل کو کہا جس پر وہ مسکرایا
"ہوسکتا ہے پاپڑ بیلنے کی نوبت ہی نہ آئے، پوری بازی ہی مزمل کے ہاتھ میں ہو"
دروازے پر ہونے والی دستک پر دونوں نے دروازے کو دیکھا۔۔۔ مزمل نے دروازے کے پاس پہنچ کر ہلکا سا دروازہ کھولا اور سر باہر نکالا
"وہاج صاحب کہہ رہے ہیں تعبیر بی بی کو یونیورسٹی چھوڑ کر آپ ان سے ملنے آئے"
فضل نے وہاج کا پیغام دیا اور کمرے میں جھانکنے کی کوشش کی
"ٹھیک ہے"
مزمل نے مختصر سا جواب دے کر دروازہ بند کر دیا
"اب مجھے جانا چاہیے یونیورسٹی کے لئے ریڈی بھی ہونا ہے"
تابی روم سے باہر جانے لگی
"ایک سوال پوچھوں تعبیر۔۔۔۔ رشتہ یا محبت ان دونوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کس کو چننے گی"
مزمل نے جانچتی ہوئی نظروں سے تعبیر کو دیکھ کر سوال کیا تو تعبیر سوچنے لگی اسے محبت مزمل سے ہے تو رشتہ اسی کے ساتھ قائم کرے گی
"ایسا مشکل سوال بھی نہیں دونوں صورتوں میں جیت آپ ہی کی ہوگی"
مزمل نے مسکراتے ہوئے تعبیر سے کہا اسے معلوم تھا وہ اسی کو ترجیح دی گئی یعنی محبت کو
"اف کورس میں رشتے کو چنوں گی، دس منٹ بعد واپس آتی ہوں"
تعبیر کہتی ہوئی مزمل کے روم سے باہر نکل گئی مزمل الجھن بھری نظروں سے اس کو دیکھتا رہا پھر کچھ سوچنے لگا
تعبیر کے روم سے باہر نکلنے کے بعد فضل تعبیر کو سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بیڈ روم میں جاتا دیکھنے لگا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 18
کیوکہ وہاج کی پشت دروازے کی طرف تھی اس وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ مزمل وہاں کب سے کھڑا تھا اور اس نے کیا کیا سنا
"تم یہاں کیا کر رہے ہو"
وہاج نے ماتھے پر بل لیے مزمل سے پوچھا
"گیسٹ روم کی چابی آپ کو دینے آیا تھا"
مزمل نے ہاتھ بڑھا کر چابی وہاج کو تھمانی چاہی مگر نگاہیں وہاج پر تھی وہاج بھی اسی کو دیکھ رہا تھا
"کیا کیا سنا ہے تم نے"
بغیر چابی لیے وہاج نے سنجیدگی سے مزمل سے پوچھا مزمل جس طرح دیکھ رہا تھا وہ سمجھ گیا کچھ نہ کچھ تو سن چکا ہو گا
"شاید مجھے جو نہیں سننا چاہیے تھا وہ سب کچھ سن چکا ہوں میں"
مزمل نے چابی سامنے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا
"پھر آگے کا ارادہ رکھتے ہوں"
وہاج نے مزمل کی سوچ جانی چاہی
"ارادہ تو آپ بتائے اپنا۔۔ اپنے ساتھ مجھے شامل کرنا چاہیں گے یا ہمیشہ کے لئے میرا منہ بند کرنا چاہیں گے" مزمل نے بے خوفی سے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا
"منہ دو طریقوں سے بند ہوتا ہے ایک پیسوں سے اور دوسرا گولی سے، مگر میں تمہیں اپنے ساتھ شامل کرنا چاہوں گا۔۔۔ اگر میرے وفادار بن کر رہو گے اور فائدہ پہنچاتے رہو گے تو لازمی تمہارا منہ میں پیسوں سے بھر دوں گا مگر دھوکے بازی کی صورت میں گولی سے تمہارا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا"
وہاج نے مزمل کو دونوں صورتوں سے باخبر کیا
"سر آپ مجھ پر اعتبار کر کے دیکھیں میں آپ کے اعتبار کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا"
مزمل نے وہ اس کو اپنا یقین دلایا
"ایک بات کا خیال رکھنا مزمل تابی کو اس کام کی زرا بھی بھنک نہیں پڑنی چاہیے اور یہ روم کی چابی اٹھا لو آج سے تم گھر کے باہر کوارٹر میں نہیں گھر کے اندر گیسٹ روم میں رہو گے" وہاج نے بات ختم کرتے ہوئے کہا مگر اس کا دماغ ابھی بھی الجھا ہوا تھا ایک ماہ میں اس کو دوبارہ نقصان پہنچا تھا
"سر تابی میڈم کی آپ فکر نہیں کریں اور رہی بات مجھ پر بھروسہ کرنے کی تو آپ مجھے ہمیشہ اپنا وفادار پائیں گے اور اس کے لئے بھی شکریہ چلتا ہوں" چابی واپس اٹھا کر مزمل روم سے باہر نکل گیا
"تو بیٹا مزمل تم سرونٹ کوارٹر سے گیسٹ روم میں پہنج گئے یعنی اپنی منزل کے قریب"
مزمل سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچنے لگا
***
کل رات مشعل کافی دیر تک جاگی جس کی وجہ سے اس کی آنکھ دیر سے کھلی، وہ اسکول کے لیے لیٹ ہوگئی مگر چھٹی نہیں کر سکتی تھی اس لئے تیز قدم بڑھاتے ہوۓ گیٹ عبور کر کے سڑک پر چلنے لگی تبھی کار کے ہارن پر پیچھے مڑ کر دیکھا
"مشعل آجائے میں آپ کو ڈراپ کردوں گا"
اریش نے کار کی کھڑکی سے سر نکالتے ہوئے مشعل کہا پہلے مشعل نے سوچا کہ وہ انکار کردے مگر اس کو جلدی اسکول پہنچنا تھا اس لئے کار میں آکر بیٹھ گئی
"ایڈمیشن نہیں کروایا آپ نے ابھی تک ہانی کا"
اریش کے پوچھنے پر مشعل نے آریش کو دیکھا وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا سامنے دیکھ رہا تھا
"اسی مہینے کروانے کا سوچا ہے"
مشعل نے مختصر جواب دیا
"گڈ اب ہانی اسکول گوئنگ ہو گیا ہے، میری نظر میں دو تین اسکولز ہم شام میں ڈیسائیڈ کرلیتے ہیں کہ کونسا بیسٹ رہے گا اور کل یا پرسوں ایڈمیشن کے لئے چلتے ہیں"
اریش نے اپنا سوچا ہوا پلان اس کو بتایا
"جو بیسٹ اسکولز ہوں گے ان کی فیس میں افورڈ نہیں کر سکتی اس لئے میں نے سوچ لیا ہے ہانی کا اسی اسکول میں ایڈمیشن کراؤ گی جہاں میں جاب کرتی ہوں"
مشعل نے جتانے والے انداز میں اریش کو دیکھ کر کہا
"تو آپ سے کون کہہ رہا ہے ہانی کی فیس پے کرنے کو یہ تو میرا کام ہوگا، آگے آپکی اور ہانی کی ضرورتوں کا خیال رکھنا میری ذمہ داری ہوگی اور میں کافی زمہ دار شخص ہوں اب آپ بھی اسکول سے ریزائن کردیں بس اپنی ساری توجہ گھر اور ہانی کو دیا کریں اور تھوڑی سی مجھے بھی اگر چاہیں تو"
اریش نے نارمل انداز میں بولا آخری جملہ بڑبڑاہٹ میں بولا گیا مگر بڑبڑاہٹ اتنی واضح تھی کہ مشعل کو صاف سنائی دی
"آپ کیوں ہانی کی فیس پے کریں گے اور میں کس خوشی میں ریزائن کرو اپنی جاب سے۔۔۔ ہانی میرا بیٹا ہے اور وہ صرف میری ذمہ داری ہے اس طرح کی باتیں کر کے کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں آپ" مشعل نے گھورتے ہوئے اس سے پوچھا
"حیرت ہے آپ کو میری باتوں سے ظاہر نہیں ہورہا کہ میں کیا چاہتا ہوں کل بتایا تو تھا میں نے آپ کو"
اریش نے اس بار مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"جو اپ چاہتے ہیں وہ ناممکن ہے اریش، آپ بچوں والی باتیں نہیں کریں میرے ساتھ"
مشعل نے سنجیدگی سے آریش سے کہا
"کسی لڑکی کو پرپوز کرنا بچوں والی بات کہاں سے ہوگئی بھلا، مانا کے پرپوز کرنے کا اسٹائل زرا روکھا سا ہے، اس بات کا اگر آپ کو دلی طور پر قلق ہے تو شام میں آپ کو کسی بیچ پر لے کر چلا جاتا ہوں کینڈل لائٹ ڈنر کے بعد ایک ڈائمنڈ کے رنگ پہنا کر پرپوز کردیتا ہوں"
اریش نے بات کو مذاق کر رنگ دے کر کہا مشعل نے گھور کر اریش کو دیکھا، تو اس نے مشعل کو دیکھ کر اسمائل دی
"یہ سب ممکن نہیں ہے اریش، میں امید کروں گی کہ آپ دوبارہ ایسی فضول گوئی سے گریز کریں"
مشعل نے سنجیدگی سے اریش کو دیکھ کر کہا اسکول کے پاس کار رکی تو مشعل اترنے لگی
"اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے مشعل میں امید کروں گا آپ ٹھنڈے دماغ سے اس بات پر غور کریں"
اریش نے مشعل دیکھ کر کہا مشعل بغیر کچھ بولے کار سے اتر گئی
"بہت نخرے والی ہے یہ ہانی کی مما بھی"
اریش نے نفی میں سر ہلایا اسکول کے اندر داخل ہوتی مشعل کو دیکھا پھر کچھ سوچ کر مسکرایا خود بھی اسکول کے اندر چلا گیا
***
"ہاں عماد بولو" ارتضیٰ نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا
"سر معلوم تو ہو گیا ہوگا آپ کو، ریڈ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے اور ڈی۔ایس۔پی اریسٹ وارنٹ نہیں ایشو کر رہے کہ وہاج صدیقی کے خلاف کوئی ایکشن لیا جائے اور نہ ہی اسے اریسٹ کیا جائے"
عماد نے مایوس ہوکر ارتضیٰ کو تفصیل بتائی
"عماد یہ ریڈ کامیاب رہی ہے تم بد دل مت ہو، بےشک وہاں سے سب لوگ فرار ہوگئے مگر ان کا اسلحہ پکڑا گیا ہے، اس اسلحے سے نہ جانے کتنے بے گناہ لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ویسے بھی وہاج صدیقی جیسے لوگ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آتے کیونکہ ان جیسوں کی سرپرستی ہمارے ہی افسران کرتے ہیں، تم میرے اکیلے اقدام کا ویٹ کرو"
عماد سے بات کرکے ارتضیٰ نے کال کاٹی تو مریم روم میں آئی
"کب چلنا ہے دعا کو لینے تم تو گھر میں ٹکتے نہیں کم ازکم دعا میرے پاس ہوگی تو اکیلے پن کا احساس تو نہیں ہو گا مجھے"
مریم نے ارتضیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
"مما آپ کو میری جاب کا پتہ تو ہے، ایک دو کام پھنسے ہوئے ہیں، بس اس کے بعد ہی ان محترمہ کا نمبر آئے گا"
ارتضیٰ ابھی بھی کہیں جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا مریم سر ہلا کر دوسرے روم میں چلی گئی
***
تابی کی آنکھ کھلی تو اٹھ کر ٹیرس میں آئی نیچے لان میں نظر پڑی تو مالی پودوں کو پانی دے رہا تھا اس کی نظر مزمل پر پڑی جو کہ چیئر پر بیٹھا ہوا پسٹل میں بلیٹس ڈالنے میں مصروف تھا
"آف یہ میرا باڈی گارڈ اور اس کے انداز"
تابی کو خود اپنی سوچ پر ہنسی آئی
دوپٹہ اوڑھتی ہوئی وہ لان میں چلی آئی، مزمل نے دور سے آتی تعبیر کو دیکھا تو مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی جسے دیکھ کر تعبیر بھی مسکرائی
"کیا ہوا کل رات کو کہیں بابا سے ڈانٹ تو نہیں پڑی"
تابی نے مسکراتے ہوئے پوچھا
"ڈانٹ وہ کس خوشی میں"
مزمل کو سمجھ نہیں آیا
"رات کو تم اپنی میڈم کے ساتھ اکیلے کچن میں پائے گئے" تابی نے یاد دلایا تو مزمل ہنسا
"ہاں آپ کے جانے کے بعد آپ کے بابا نے پوچھا تھا، کیا کر رہے تھے تم میری بیٹی کے ساتھ۔۔۔ تو میں نے انھیں بتایا آپ کی لاڈلی کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہا تھا اور کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر آپ اچانک آگئے"
شرارت میں کی ہوئی بات کو اس نے مزید معنی خیزی کا رنگ دیا تو تابی نظریں جھکا کر وہاں سے جانے لگی تبھی مزمل چیئر سے اٹھا اس کا ہاتھ پکڑا
"آگے نہیں سنیں گیں اس کے بعد آپ کے بابا نے مجھ سے کیا کہا"
مزمل نے بولنے پر تابی سوالیہ نظروں سے مزمل کو دیکھا تو مزمل مسکراتے ہوئے بولا
"میرے کھانا کھلانے کے اقدام پر آپ کے بابا اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے میری ترقی کرتے ہوئے مجھے کوارٹر کی بجائے، گھر کے اندر گیسٹ روم میں شفٹ ہونے کو کہا"
مزمل کے بتانے پر تابی بھی مسکرا دی
"ویسے میں کل سے ایک بات اور بھی سوچ رہا ہوں"
مزمل نے اپنے ٹراؤزر کی پاکٹ سے چھوٹی سی ڈبیہ نکالتے ہوئے کہا
"کیوں نہ آپ کو جلد سے جلد نیچے گیسٹ روم میں شفٹ کرلیا جائے جب تک آپ کے لیے مزمل گھر نہ تعمیر کروا لے"
رنگ تعبیر کے دودھیا ہاتھ کی انگلیوں میں پہناتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا
"یہ رینگ بہت اچھی ہے"
تابی نے اس کی بات پر نظر جھکائی اور رینگ کی تعریف کی جو اس کے لئے اچانک بہت قیمتی ہوگئی
"اور میری بات وہ اچھی نہیں لگی آپ کو"
مزمل کے پوچھنے پر تابی نے مزمل کی آنکھوں میں جھانکا جہاں وہ اپنے لیے چاہت کے رنگ باآسانی دیکھ سکتی تھی
"تمہاری بات مجھے اتنی اچھی لگی کہ میرا دل چاہ رہا ہے اس خوشی میں تمہیں صبح ہی صبح نہلا دیا جائے" کہنے کے ساتھ ہی اچانک تعبیر کو شرارت سوجھی، تھوڑی دیر پہلے مالی جو پودوں کے پاس پائپ کھلا چھوڑ گیا تھا تابی نے پائپ اٹھا کر مزمل کو پانی سے بھگوانا شروع کردیا جس پر مزمل نے پہلے اسے گھور کر دیکھا مگر تابی کو ہنستا دیکھ کر، اس نے خود بھی مسکرا کر تعبیر کی طرف قدم بڑھائے وہ جتنا تعبیر کے قریب آتا جا رہا تھا تعبیر ہنستے ہوئے مزید اس کو اور بھی بھگوتے ہوتے دور ہوتی جا رہی تھی مزمل کا چہرہ بال شرٹ تقریبا پورے ہی بھیگ چکے تھے،
کوئی اور بھی تو جو یہ منظر بہت غور سے دیکھ رہا تھا
جب تعبیر کو سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کرے تو وہ ہنستے ہوئے پائپ وہی پھینک اندر بھاگی اور گیسٹ روم میں آکر روم کا دروازہ بند کرنے لگی۔۔۔۔ دروازے کے درمیان پاؤں رکھ کر جسے مزمل نے بند ہونے سے روکا اور خود بھی گیسٹ روم کے اندر آکے دروازہ بند کر دیا
"مزمل میں ناراض ہو جاؤں گی تم سے"
اس کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر تعبیر نے دھمکی دی جس کا مزمل پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا تعبیر دیوار سے جا لگی مزمل اس کے قریب آیا اور دیوار پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر تعبیر کے فرار کا راستہ بند کیا
"یہ تو مجھے بھگونے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نا"
وہ مزید اس کے قریب آ کر بولا
"اف ہٹو پیچھے کیا میرے کپڑے گیلے کرنے ہیں"
تابی کا دل زور سے دھڑکا، اسے ڈر تھا اس کی شرارت اسی کو مہنگی نہ پڑ جائے
"نہیں آپ کے کپڑے گیلے نہیں کرنے بلکہ کل جو کام ادھورا رہ گیا تھا وہ مکمل کرنا ہے"
مزمل نے تعبیر کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"مزمل نہیں پلیز" تعبیر نے رونی شکل بنا کر کہا جیسے وہ پچھتا رہی ہو
"ایسی روتی شکل دیکھ کر بھی میں نہیں بخشنے والا اب صرف مجھ سے نجات کا ایک ذریعہ ہے آپ کے پاس، جو آپ نے میری حالت بگاڑی اس کو سنوارے گی بھی آپ"
مزمل نے اس کو بخشش کا راستہ دکھایا
"مطلب"
تابی میں گڑبڑاتے ہوئے کہا
"مطلب یہ کہ میری یہ گیلی شرٹ اتار کر مجھے دوسری شرٹ آپ پہنائے گی"
مزمل نے آنکھوں میں شرارت لیے شرط بتائی
"بےشرم میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی"
تعبیر نے اسکو گھورتے ہوئے کہا
"پھر آپ پچھتانے کے لئے تیار ہو جائیں"
اس نے تعبیر کا بازو پکڑ کر کہا
"اچھا ٹھیک ہے پہلے تم پیچھے ہٹو" تعبیر نے ہار مانتے ہوئے کہا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
"شکل سے تم بہت سیدھے لگتے ہو" شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے تعبیر نے اس کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا
"میری شکل پر مت جائیے گا یہ اکثر لوگوں کو دھوکا دیتی ہے"
مزمل بہت غور سے اسی کو دیکھ کر کہہ رہا تھا جو کہ نیچی نگاہیں کیے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھی
"شرٹ اتارو میں دوسری شرٹ لاتی ہو"
تعبیر نے اس کی بات کو اگنور کر کے وارڈروب سے ٹاول اور شرٹ نکالی اور ویسے ہی نظریں جھکا کر اس کے پاس آئی مزمل اس کے ہاتھ سے ٹاول لے کر اپنے بال خشک کرنے لگا تعبیر کی نظر اس کے بازو سے اوپر گولی کے نشان پر ٹھہر گئی
"یہ اسی گولی کا نشان ہے نا"
تعبیر نے اپنی انگلیوں سے اس نشان کو چھو کر دیکھا آج تعبیر کو اور بھی زیادہ تکلیف ہوئی اسے وہ وقت یاد آیا جب اس کے نام کی گولی کتنے ارام سے مزمل اپنے اوپر کھا گیا تھا
"کیا ہوا آپ کو پریشان کیوں ہو رہی ہیں"
مزمل نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا تعبیر کی کیفیت ایسے ہو رہی تھی جیسے وہ ابھی رو دے گی اس کے ہاتھ سے شرٹ لے کر وہ پہننے لگا کیوکہ جتنی دیر وہ گولی کے نشان کو دیکھتی اتنی دیر تک ایسی کیفیت میں گھری رہتی
"اپنی جان بچانے کے بجائے تم نے میری جان کیوں بچائی مزمل، کیا تمہیں موت کا بالکل خوف تھا اس وقت"
تعبیر نے مزمل کو دیکھ کر سوال کیا
"موت کا خوف تو ہر ایک کو ہوتا ہے مگر تعبیر سے جدا ہونے کا بھی ڈر تھا، بناء تعبیر کے بندہ زندگی کے خواب کیسے دیکھتا بھلا، میں نے اپنی ہی جان بچائی ہے"
مزمل نے اس کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہا تاکہ تعبیر کو ڈر کی کیفیت نکال سکے
"تم تو ایسے بات کر رہے ہوں جیسے پہلے سے مجھے جانتے ہو"
تعبیر نے اس کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی
"آپ کو کیوں محسوس نہیں ہوتا کہ ہم ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں"
مزمل کی بات پر تعبیر نے اپنا سر اس کے سینے سے سر ہٹا کر مزمل کو دیکھا۔۔ مزمل کی نظر اس کی تھوڑی کے خم پر لگے نشان پر گئی بے ساختہ مزمل نے اپنے ہونٹ اس نشان پر رکھ دیے جس پر تعبیر ایک دم پیچھے ہوئی اور شکایتی انداز میں مزمل کو دیکھا
"سوری نہیں کہو گا کیوکہ یہ غلطی نہیں تھی بلکہ مداعوہ تھا اس غلطی کا جو بہت پہلے میری غفلت کے بنا پر مجھ سے لاحق ہوگئی تھی" مزمل نے دوبارہ تعبیر کو خود سے قریب کرتے ہوئے کہا
"مزمل ایسے نہیں کرو پلیز"
تعبیر نے مزمل سے فاصلہ قائم کرتے ہوئے کہا
"اور اگر میں کہو کہ میں حق رکھتا ہو تو۔۔۔۔ پھر بھی منع کرے گی آپ"
مزمل نے تعبیر کا ہاتھ پکڑ کر گہری نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
"صرف انگوٹھی پہنانے سے کوئی حق دار نہیں بن جاتا۔۔۔ پاپڑ بیلنے پڑے گے، بابا کو منانے کے لئے"
تعبیر نے چیلنج کرتے ہوئے مزمل کو کہا جس پر وہ مسکرایا
"ہوسکتا ہے پاپڑ بیلنے کی نوبت ہی نہ آئے، پوری بازی ہی مزمل کے ہاتھ میں ہو"
دروازے پر ہونے والی دستک پر دونوں نے دروازے کو دیکھا۔۔۔ مزمل نے دروازے کے پاس پہنچ کر ہلکا سا دروازہ کھولا اور سر باہر نکالا
"وہاج صاحب کہہ رہے ہیں تعبیر بی بی کو یونیورسٹی چھوڑ کر آپ ان سے ملنے آئے"
فضل نے وہاج کا پیغام دیا اور کمرے میں جھانکنے کی کوشش کی
"ٹھیک ہے"
مزمل نے مختصر سا جواب دے کر دروازہ بند کر دیا
"اب مجھے جانا چاہیے یونیورسٹی کے لئے ریڈی بھی ہونا ہے"
تابی روم سے باہر جانے لگی
"ایک سوال پوچھوں تعبیر۔۔۔۔ رشتہ یا محبت ان دونوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کس کو چننے گی"
مزمل نے جانچتی ہوئی نظروں سے تعبیر کو دیکھ کر سوال کیا تو تعبیر سوچنے لگی اسے محبت مزمل سے ہے تو رشتہ اسی کے ساتھ قائم کرے گی
"ایسا مشکل سوال بھی نہیں دونوں صورتوں میں جیت آپ ہی کی ہوگی"
مزمل نے مسکراتے ہوئے تعبیر سے کہا اسے معلوم تھا وہ اسی کو ترجیح دی گئی یعنی محبت کو
"اف کورس میں رشتے کو چنوں گی، دس منٹ بعد واپس آتی ہوں"
تعبیر کہتی ہوئی مزمل کے روم سے باہر نکل گئی مزمل الجھن بھری نظروں سے اس کو دیکھتا رہا پھر کچھ سوچنے لگا
تعبیر کے روم سے باہر نکلنے کے بعد فضل تعبیر کو سیڑھیاں چڑھ کر اپنے بیڈ روم میں جاتا دیکھنے لگا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment