U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 17
مشعل کو رہ رہ کر اریش پر غصہ آ رہا تھا وہ اتنی بڑی بات اس سے کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔ اس سے بھی زیادہ غصہ اسے خود پر آ رہا تھا اس نے کیسے اس کی بکواس چپ کر کے سن لی
"اکا آپ جاگ رہی ہیں"
مشعل نے برابر میں دوسری کروٹ پر لیٹی ہوئی آکا سے پوچھا ہانی جبکہ مشعل کے دوسری سائیڈ پر سو چکا تھا
"تمہاری نیند یقیناً اریش کی بات سن کر اڑ گئی ہوگی" اکا نے کروٹ لیتے ہوے مشعل سے کہا
"یعنی آپ نے ساری بات سنی اور مجھے اتنی دیر سے بتا نہیں رہی آپ" مشعل اٹھکر بیٹھتے ہوئے حیرانگی سے کہنے لگی
"میں نے آدھی بات سنی تھی پوری بات مجھے آریش نے بتائی"
اکا بھی اٹھ کر بیٹھ چکی تھیں
"کیسے آپ اسے بھلا بچہ، شریف بچہ کہہ کر مخاطب کرتی تھی اور کیا نکلا وہ، آپ کو تو اسے خوب ذلیل کرنا چاہیے تھا مجھے تو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا ہے کیسے میں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید نہیں کیا" مشعل نے جذباتی ہو کر اکا سے کہا
"عقل سے بھی کام لیا کرو مشعل، میں کیوں بھلا اسے ذلیل کرتی اور تم نے اسے کچھ نہیں کیا تو یہ تم نے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے، ایسی کوئی گستاخی نہیں کی اس نےجس پر ہم اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں"
اکا نے آرام سے مشعل کی بات کا جواب دیا
"کوئی گستاخی نہیں کی اس نے، وہ مجھ سے ہانی کا باپ بننے کی فرمائش کر رہا ہے سمجھتی ہیں آپ۔۔۔ وہ ایک شادی شدہ لڑکی سے شادی کرنے کی بات کر رہا ہے"
آج اکا مشعل کو حیران کرنے پر تلی ہوئی تھیں
"سب سے پہلے تو تم اپنا جملہ درست کر لو تم شادی شدہ نہیں ہو ولی تمہیں طلاق دے چکا ہے، اگر اریش نے تم سے شادی کی خواہشمند ہے تو اس میں کونسی انوکھی بات ہے، کیا دوسری شادیاں نہیں ہوتی۔۔۔ کبھی سوچا ہے کب تک ایسی زندگی گزارو گی"
اکا نے بمشعل کو سمجھانا شروع کیا
"مجھے کسی سے شادی کی ضرورت نہیں ہے ایک تجربہ ہی کافی ہے میرے لیے اور میں ہانی کے اور آپ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہوں"
مشعل نے بات ختم کی اور لیٹ گئی
"بات ختم نہیں ہوئی ابھی اٹھ کر بیٹھو، ضروری نہیں ہے کہ ایک تجربہ اگر ناکام ہوا ہو تو آدمی ڈر کے پیچھے ہٹ جائے، کہ اب یہ کام کرنا ہی نہیں ہے ہانی اب بڑا ہو رہا ہے اس کو بھی باپ کی ضرورت ہے کل کو وہ تم سے باپ کے بارے میں پوچھے گا تو کیا کہوں گی چھوڑ کر چلا گیا تمہارا باپ، دیکھو مشعل یہ کہنا بہت آسان ہے مگر ساری عمر تم ہانی یا میرے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی بیٹا، میں آج ہوں کل نہیں آب حیات پی کر نہیں آئی نہ میں۔۔۔ کل کو ہانی بڑا ہو جائے گا اس کی اپنی زندگی اپنی بیوی بچے ہوں گے تم کیا سارے زندگی ایسے ہی گزار دوں گی عمر ہی کیا ہے تمہاری صرف چوبیس سال اریش کی جگہ کوئی دوسرا اس طرح کی بات تم سے کرتا تو میں واقعی اس کو تھپڑ مار دیتی خوب ذلیل کرتی مگر اتنا تجربہ میرا ہے اریش کی آنکھوں میں میں نے سچائی دیکھی ہے، ہانی کے لیے محبت اور تمہارے لیے پسندیدگی اور احترام"
اکا نے رسانیت سے مشعل کو سمجھ آیا
"میرا دل اندر سے مردہ ہو گیا ہے، آکا بس میں نے سوچ لیا ہے اب ہم یہاں نہیں رہیں گے بات ختم کرے"
مشعل نے دوبارہ لیٹتے ہوئے کہا
"پہلے تم نے غلط فیصلہ کیا بعد میں پچھتائی اور اب جب قسمت تمہارے در پر دستک دے رہی ہے تم میری بات نہ مان کر دوبارہ غلط کرو کی۔۔۔ اپنے بارے میں نہیں تو ہانی کے بارے میں سوچو"
اکا مشعل کو بول کر خود بھی لیٹ گئی
مشعل کافی دیر تک کروٹیں بدلتی رہی مگر نیند آج اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی
****
"آج کیا ہوگیا تھا مزمل کو اس طرح پہلے تو کھبی نہیں کیا اس نے، کہیں میرے گریز سے ناراض تو نہیں ہو گیا مگر یہ ٹھیک بھی تو نہیں ہے۔۔۔ بابا بھی گھر پر نہیں ہے مزمل بھی کوارٹر میں ہوگا" تابی مسلسل ٹہلتے ہوئے سوچے جارہی تھی اکیلے پن اور مزمل کی ناراضگی کا سوچ کر اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا وہ پورے گھر کا چکر لگا کر ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے کمرے میں آئی تھی۔۔۔ سونے کا ارادہ کر کے لیٹی مگر نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی موبائل پر نظر پڑی تو ایک میسج آیا ہوا تھا
"خود کو میری امانت سمجھنے کے لئے شکریہ۔۔۔ یو آر مائین مائی اسنووائٹ"
میسج پڑھنے کے بعد وہ اس کا مطلب سمجھنے لگی یہ تو سمجھ گئی کہ یہ میسج اسے ارتضیٰ نے کیا ہے مگر اس میسج کا مطلب نہیں سمجھ میں آیا
"میں نے کب اس کو اپنی امانت سمجھا۔۔ اس کو میری کس بات سے ایسا فیل ہوا کہ میں اسکی امانت ہو"
اچانک ایک خیال اس کے دماغ کو چھو کر گزرا
"شام میں جب مزمل مجھے۔۔۔ کیا وہ سب ارتضیٰ نے دیکھا۔۔۔ کیا ارتضیٰ اس وقت روم میں موجود تھا، اس وجہ سے وہ شکریہ کررہا ہے"
اس سوچ کے آتے ہی اسے گھبراہٹ شروع ہوگئی
"نہیں وہ میرے روم میں کیسے ہوسکتا ہے"
تعبیر خود سے بولنے لگی پھر اچانک اس کی نظر ٹیرس کے کھلے ہوئے دروازے پر پڑ اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ بند کیا اب اسے خوف محسوس ہونے لگا
"کیا اس شخص نے میری ایک ایک حرکت پر نظر رکھی ہوئی ہے"
"بابا گھر پر نہیں ہے کوئی نوکر بھی نہیں یقینا یہ بات بھی اس کو معلوم ہوگی اگر وہ اس وقت آگیا تو"
تعبیر اٹھ کر بیٹھی جلدی سے لائٹ آن کرکے شال اپنے گرد لپیٹ اس نے مزمل کے پاس کوارٹر میں جانے کا ارادہ کیا
سیڑھیاں اتر کر اس نے باہر کی طرف رخ تبھی اسے گیسٹ روم کی لائٹ جلتی نظر آئی۔۔۔معمولی سا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دروازے تک پہنچی اور جھری سے جھانکا تو مزمل کیسی سے موبائل پر محو گفتگو تھا
"سمجھا کریں سر، اتنی جلدی جلدی مال غائب ہوگا تو اس کو شک ہوجائے گا پہلا والا معاملہ ہی ٹھنڈا نہیں ہوا ابھی"
مزمل بات کرتے کرتے ایک دم مڑا اور جھٹ سے دروازہ کھولا تو تعبیر اچھل کر پیچھے ہوئی
"اف جان نکال دی تم نے میری مزمل" مزمل سنجیدگی سے تابی کو دیکھنے لگا اور موبائل پاکٹ میں رکھا
"جاسوسی کر رہی تھی آپ میری"
مزمل نے کڑے تیوروں سے تابی کو گھورتے ہوئے پوچھا
"مجھے کیا ضرورت پڑی ہے جاسوسی کرنے کی، ایک تو تم ناراض ہو کر بیٹھے ہو اوپر سے مجھے ڈرا بھی دیا۔۔ اب ایسے کیوں گھور رہے ہو"
تعبیر نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گئی
"آپ کو کس نے کہا کہ میں آپ سے ناراض ہوں"
مزمل نے اس کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھا
"تو روم سے بنا کچھ کہے کیوں چلے گئے تھے"
تابی نے ہلکی آواز میں مزمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں جاتا تو آج طوفان آجاتا آپ کا بوڈی گارڈ شریف ہے، مگر اتنا بھی نہیں"
مزمل نے بیڈ پر دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر تابی کے اوپر جھگتے ہوئے کہا
"تم پھر مجھے ڈرا رہے ہو"
تابی پیچھے ہٹتے ہوئے بولی تو مزمل مسکرا کر پیچھے ہٹا
"تو آپ ڈرتی ہیں مجھ سے۔۔۔ میں تو آپ کو تھوڑا بہادر سمجھتا تھا"
مزمل آنکھوں میں شرارت لیے اس سے پوچھ رہا تھا
"ڈرانے کے لئے مجھے وہ ہی کافی تھا مگر اب تم بھی"
تعبیر نے مزمل کو شکایتی انداز سے دیکھ کر بات ادھوری چھوڑی
"کون ڈراتا ہے آپ کو"
مزمل نے حیرت سے تعبیر سے پوچھا
"وہ ارتضیٰ۔۔۔ وہ شاید شام کے وقت بیڈ روم میں موجود تھا اور اس نے تمہیں اور مجھے"
تعبیر نے بات ادھوری چھوڑی
"کیا فضول بول رہی ہیں آپ تعبیر۔۔۔ ایسا کچھ نہیں"
مزمل نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"تمہیں میری بات پر یقین نہیں آرہا تھا اس نے مجھے میسج کیا۔۔ ویسے ابھی تم کس سے بات کر رہے تھے"
تعبیر کا دماغ دوسری طرف گیا اس کی بات سن کر مزمل دوبارہ اس کے پاس آیا اسے بیڈ سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا
"آپ کو کیا لگا کس سے بات کر رہا تھا ارتضیٰ سے"
مزمل نے تعبیر کے تجسس کو دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا
"میں بھلا ایسا کیوں سوچوں گی کہ تم ارتضیٰ سے بات کر رہے تھے میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی"
تعبیر نے برا مانتے ہوئے کہا
"فکر نہیں کریں اپکی سوتن نہیں تھی"
سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا
"ہوتی تو جان سے مار دیتی"
تابی نے سنجیدگی سے کہا
"کسے اپنی سوتن کو"
مزمل نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا
"نہیں تمہیں"
تعبیر نے تپ کر کہا
"اس لحاظ سے تو پھر مجھے اپکو بھی جان سے مار دینا چاہیے مگر اپکی جان تو لینے سے رہا کیا خیال ہے ارتضیٰ کو جان سے مار دوں"
مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تابی کا رنگ فق ہو گیا
"تم مجھے واقعی ڈرا رہے ہو آج"
تابی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
"ریلکس وہ یا میں آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے"
مزمل میں تعبیر کو دیکھ کر کہا
"تمہارا تو مجھے پتہ ہے مگر یہ بات اس کے لیے کیسے کہہ سکتے ہو بھلا"
تعبیر نے مزمل سے پوچھا
"ٹوٹ کر محبت کرنے والے کبھی بھی اپنی محبت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے خیر چھوڑیں ان بات کو یہ بتائے کھانا کھایا آپ نے"
مزمل نے ٹاپک چینج کرتے ہوئے پوچھا
"تمہاری ناراضگی کا سوچ کر میری بھوک اڑ گئی تھی مگر اب جب تم ناراض نہیں ہو تو بہت زوروں سے بھوک لگ رہی ہے"
تعبیر کو واقعی بھوک کا احساس جاگنے لگا
"رکیے میں آپ کے لیے لے کر آتا ہوں"
مزمل چیئر سے اٹھتے ہوئے بولا
"مگر میں نے کک کو منع کردیا تھا ڈنر کا شاید اس نے بنایا ہی نہیں کچھ" تعبیر مزمل کو روم سے جاتا ہوا دیکھ کر بولنے لگے
"آپ کے لئے اسپیشل نہیں بنا ہوگا مگر ہم لوگوں کے لئے تو بنا تھا، بتائیں دال چاول کھانا پسند کریں گی آپ یا باہر سے کچھ آرڈر کروں آپ کے لئے"
مزمل نے سوالیہ نظروں سے تعبیر کو دیکھا
"دال چاول"
تابی نے مسکین سی شکل بنا کر مزمل کی طرف دیکھا جس پر مزمل نے مسکرا کر اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا
"ایسی بھی بات نہیں ہے کبھی کبھی میں کھا لیتی ہوں دال چاول"
تابی کچن میں جانے لگی تو مزمل بھی اس کے پیچھے آگیا
تعبیر نے انگلی دانتوں میں دبا کر فریج میں رکھے ہوئے دال چاول کو دیکھا تو مزمل نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچن میں موجود کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا کیبنٹ سے پلیٹ نکال کر دال چاول پلیٹ میں ڈالے مائکروویو اوون میں گرم کر کے تعبیر کے سامنے پلیٹ رکھی اور دوسری کرسی پر خود بھی بیٹھ گیا
"فورک یا اسپون نہیں ہے"
تابی کہتے ہوئے اٹھنے لگی تاکہ چمچہ لے سکے تو مزمل نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا اور پلیٹ اپنے آگے کھسکائی
"میڈم یہ چمچے اور کانٹے سے کھانا کھانا امیروں کی عادت ہوتی ہے، غریب انسان کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ان چونچلوں کی ضرورت نہیں"
مزمل نے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر تابی کے منہ کی طرف بڑھایا جسے تابی میں تھوڑا جھجھگتے ہوئے کھا لیا تعبیر نے دوسرا نیوالا مزمل کے ہاتھ سے کھاتے ہوئے اسے دیکھا تو مزمل تعبیر کو دیکھ کر مسکرایا
"کیا سوچ رہی ہیں ساری زندگی ایسے ہی کھلا سکتا ہوں" مزمل کی بات سن کر تعبیر مسکرائی
"پیٹ بھرا آپ کا" مزمل نے آخری نوالا کھلاتے ہوئے تعبیر سے پوچھا اور اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے
"پیٹ بھر گیا اور آج کھانا کھانے میں مزا بھی آیا ہے پتہ ہے مزمل مجھے اس طرح کبھی کسی نے اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھلایا، بابا پیار تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھالیں۔۔۔وہ میری ہر فرمائش پوری کرتے ہیں مگر میرے ناز نخرے اٹھانے کا ٹائم نہیں ان کے پاس، پیسوں کی کمی نہیں ہے مجھے مگر میں رشتوں اور محبتوں کو بہت ترسی ہوئی ہو اسلیئے آج تمہارے ہاتھ سے کھانا کھا کر مجھے واقعی بہت اچھا لگا"
تابی نے مزمل سے ان محرومیوں کا ذکر کیا جو بچپن سے محسوس کرتی آئی تھی مزمل اس کی بات سن کر چیئر سے اٹھا اور تعبیر کے پاس آکر اسے چیئر سے کھڑا کیا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے دیکھنے لگا
"میرے پاس آپ کے بابا جتنا پیسہ نہیں ہے اور شاید آگے زندگی میں بھی اتنا پیسہ نہ ہو مگر یہ میرا وعدہ ھے تعبیر اپنے پیار سے میں آپ کی ہر محرومیوں کا ازالہ کروں گا آپ کے سارے ناز نخرے بھی اٹھاؤں گا اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلاو گا اور۔۔۔
مزمل نے بعد ادھوری چھوڑی
"اور"
تعبیر نے جاننا چاہا
"اور ڈھیر سارا پیار بھی دوں گا جس کی آپ مستحق ہیں"
مزمل نے کہنے کے ساتھ اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا
"مزمل میں تمہارے ساتھ پاکیزہ بندھن میں بندھنا چاہتی ہو"
تعبیر نے آنکھیں بند کرکے مزمل کے سینے پر اپنا سر ٹکایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا
اس سے پہلے مزمل اس کی بات کا جواب دیتا تیز جوتوں کی آواز نے ماحول میں چھائے ہوئے سکوت میں خلل پیدا کیا۔۔۔
مزمل کے ساتھ ساتھ تعبیر بھی تیز قدموں سے اندر داخل ہونے والی آواز پر چونکی مزمل تعبیر کو پیچھے کرتا ہوا کچن سے ہال میں آیا اور اس کے پیچھے تعبیر بھی
"سر آپ اتنی جلدی میرا مطلب ہے آپ نے تو کہا تھا دیر ہوجائے گی آنے میں" مزمل نے وہاج کو دیکھ کر پوچھا جو کہ کافی جلدی میں اور گھبرایا ہوا لگ رہا تھا
"ہاں جلدی فارغ ہو گیا تھا، تابی بیٹا آپ ابھی تک جاگ رہی ہوں اور یہاں کیا کر رہی ہو"
مزمل کو جواب دیتا ہوا وہاج نے تعبیر سے سوال کیا
"بھوک لگ رہی تھی بابا اس لئے کھانا کھانے آئی تھی" تابی نے وہاج کو جواب دیا
"ٹھیک ہے اب آپ اپنے کمرے میں جو او رات بہت ہو گئی ہے سو جاؤ"
اس نے تعبیر کو دیکھ کر کہا تو وہ سر ہلا کر ایک نظر مزمل کو دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
"مزمل میرے پیچھے کچھ گڑبڑ وغیرہ تو نہیں ہوئی، یہاں سب ٹھیک ہے"
وہاج مزمل کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا
"نہیں سر یہاں تو سب ٹھیک ہے کیا کوئی پرابلم ہوئی ہے"
مزمل نے وہاج کے چہرے کو دیکھکر کھوج لگاتے ہوئے کہا
"ہاں۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہے سب ٹھیک ہے تم چاہو تو اپنے کواٹر میں جا سکتے ہوں اب میں آگیا ہوں"
وہاج نے مزمل سے کہا
"اوکے سر میں واپس کوارٹر میں جا رہا ہوں گڈنائٹ" مزمل نے کچھ سوچتے ہوئے وہاج سے کہا تھے اور باہر چلا گیا
وہاج اپنے روم میں ایا کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور موبائل پاکٹ سے نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا
"ڈی ایس پی ذیشان احمد میں وہاج صدیقی بات کررہا ہوں آخر کس کی پرمیشن سے میرے فارم ہاؤس میں ریڈ ڈالی گئی ہے میں تم لوگوں کے منہ پیسوں سے اس لیے نہیں بھرتا کہ مجھے اپنے گیسٹ کے سامنے زلیل ہونا پڑے آخر کس نے مخبری کی اور یہ پولیس کیوں پہنچی وہاں پر، میرا کتنا لاکھوں کا نقصان ہو گیا ہے اندازہ ہے تم کو"
وہاج روز سے چلاتا ہوا بولا، شاید آج اس کی قسمت اچھی نہیں تھی، پولیس کے علاقے میں آتے ہی اس کے گارڈ نے پولیس کے آنے کی اطلاع اسے دی، وہاج صدیقی اور اس کے گیسٹ دوسرے راستے سے باہر فرار ہوکر پولیس کی نظر سے نکل گئے مگر بہت سارا اسلحہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا جس پر وہاج صدیقی تلملاتا ہوا رہ گیا۔۔۔ اس مہینے میں یہ اس کا دوسرا بڑا نقصان تھا جو اسے برداشت کرنا پڑا
"وہاج صاحب یہ آرڈرز اوپر سے ایشو کیے گئے ہیں جس کے بنا پر ریڈ ڈالی گئی ہے۔۔۔ مگر مخبر آپ کی طرف کا ہے اطلاع باہر کے بندے نے دی کہ اپکے فارم ہاوس پر بڑی تعداد میں اسلحے کی نمائش ہے، آپ اپنے آدمیوں پر نظر رکھے اور رہی بات اسلحے کی اس کا کچھ نہیں ہوسکتا کیوکہ وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔۔۔ ہاں اس بات کی میں آپ کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ یہ خبر آگے نہیں پھیلے گی اس کا اطمینان رکھیں آپ"
ڈی ایس پی نے وہاج کو اطمینان دلایا
"اگر یہ خبر اخباروں یا میڈیا تک آئی یا پولیس میرے گھر تک آئی نہ ڈی ایس پی تو تم سوچ نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا، مجھے اپنے نام پر کسی قسم کا داغ نہیں چاہیے انڈرسٹینڈ"
وہاج صدیقی نے ڈی ایس پی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی وہ پیچھے مڑا تو روم سے باہر مزمل کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر ٹھٹک گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 17
مشعل کو رہ رہ کر اریش پر غصہ آ رہا تھا وہ اتنی بڑی بات اس سے کیسے کہہ سکتا ہے۔۔۔ اس سے بھی زیادہ غصہ اسے خود پر آ رہا تھا اس نے کیسے اس کی بکواس چپ کر کے سن لی
"اکا آپ جاگ رہی ہیں"
مشعل نے برابر میں دوسری کروٹ پر لیٹی ہوئی آکا سے پوچھا ہانی جبکہ مشعل کے دوسری سائیڈ پر سو چکا تھا
"تمہاری نیند یقیناً اریش کی بات سن کر اڑ گئی ہوگی" اکا نے کروٹ لیتے ہوے مشعل سے کہا
"یعنی آپ نے ساری بات سنی اور مجھے اتنی دیر سے بتا نہیں رہی آپ" مشعل اٹھکر بیٹھتے ہوئے حیرانگی سے کہنے لگی
"میں نے آدھی بات سنی تھی پوری بات مجھے آریش نے بتائی"
اکا بھی اٹھ کر بیٹھ چکی تھیں
"کیسے آپ اسے بھلا بچہ، شریف بچہ کہہ کر مخاطب کرتی تھی اور کیا نکلا وہ، آپ کو تو اسے خوب ذلیل کرنا چاہیے تھا مجھے تو رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا ہے کیسے میں نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید نہیں کیا" مشعل نے جذباتی ہو کر اکا سے کہا
"عقل سے بھی کام لیا کرو مشعل، میں کیوں بھلا اسے ذلیل کرتی اور تم نے اسے کچھ نہیں کیا تو یہ تم نے عقل مندی کا ثبوت دیا ہے، ایسی کوئی گستاخی نہیں کی اس نےجس پر ہم اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں"
اکا نے آرام سے مشعل کی بات کا جواب دیا
"کوئی گستاخی نہیں کی اس نے، وہ مجھ سے ہانی کا باپ بننے کی فرمائش کر رہا ہے سمجھتی ہیں آپ۔۔۔ وہ ایک شادی شدہ لڑکی سے شادی کرنے کی بات کر رہا ہے"
آج اکا مشعل کو حیران کرنے پر تلی ہوئی تھیں
"سب سے پہلے تو تم اپنا جملہ درست کر لو تم شادی شدہ نہیں ہو ولی تمہیں طلاق دے چکا ہے، اگر اریش نے تم سے شادی کی خواہشمند ہے تو اس میں کونسی انوکھی بات ہے، کیا دوسری شادیاں نہیں ہوتی۔۔۔ کبھی سوچا ہے کب تک ایسی زندگی گزارو گی"
اکا نے بمشعل کو سمجھانا شروع کیا
"مجھے کسی سے شادی کی ضرورت نہیں ہے ایک تجربہ ہی کافی ہے میرے لیے اور میں ہانی کے اور آپ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہوں"
مشعل نے بات ختم کی اور لیٹ گئی
"بات ختم نہیں ہوئی ابھی اٹھ کر بیٹھو، ضروری نہیں ہے کہ ایک تجربہ اگر ناکام ہوا ہو تو آدمی ڈر کے پیچھے ہٹ جائے، کہ اب یہ کام کرنا ہی نہیں ہے ہانی اب بڑا ہو رہا ہے اس کو بھی باپ کی ضرورت ہے کل کو وہ تم سے باپ کے بارے میں پوچھے گا تو کیا کہوں گی چھوڑ کر چلا گیا تمہارا باپ، دیکھو مشعل یہ کہنا بہت آسان ہے مگر ساری عمر تم ہانی یا میرے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی بیٹا، میں آج ہوں کل نہیں آب حیات پی کر نہیں آئی نہ میں۔۔۔ کل کو ہانی بڑا ہو جائے گا اس کی اپنی زندگی اپنی بیوی بچے ہوں گے تم کیا سارے زندگی ایسے ہی گزار دوں گی عمر ہی کیا ہے تمہاری صرف چوبیس سال اریش کی جگہ کوئی دوسرا اس طرح کی بات تم سے کرتا تو میں واقعی اس کو تھپڑ مار دیتی خوب ذلیل کرتی مگر اتنا تجربہ میرا ہے اریش کی آنکھوں میں میں نے سچائی دیکھی ہے، ہانی کے لیے محبت اور تمہارے لیے پسندیدگی اور احترام"
اکا نے رسانیت سے مشعل کو سمجھ آیا
"میرا دل اندر سے مردہ ہو گیا ہے، آکا بس میں نے سوچ لیا ہے اب ہم یہاں نہیں رہیں گے بات ختم کرے"
مشعل نے دوبارہ لیٹتے ہوئے کہا
"پہلے تم نے غلط فیصلہ کیا بعد میں پچھتائی اور اب جب قسمت تمہارے در پر دستک دے رہی ہے تم میری بات نہ مان کر دوبارہ غلط کرو کی۔۔۔ اپنے بارے میں نہیں تو ہانی کے بارے میں سوچو"
اکا مشعل کو بول کر خود بھی لیٹ گئی
مشعل کافی دیر تک کروٹیں بدلتی رہی مگر نیند آج اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی
****
"آج کیا ہوگیا تھا مزمل کو اس طرح پہلے تو کھبی نہیں کیا اس نے، کہیں میرے گریز سے ناراض تو نہیں ہو گیا مگر یہ ٹھیک بھی تو نہیں ہے۔۔۔ بابا بھی گھر پر نہیں ہے مزمل بھی کوارٹر میں ہوگا" تابی مسلسل ٹہلتے ہوئے سوچے جارہی تھی اکیلے پن اور مزمل کی ناراضگی کا سوچ کر اس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا وہ پورے گھر کا چکر لگا کر ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنے کمرے میں آئی تھی۔۔۔ سونے کا ارادہ کر کے لیٹی مگر نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی موبائل پر نظر پڑی تو ایک میسج آیا ہوا تھا
"خود کو میری امانت سمجھنے کے لئے شکریہ۔۔۔ یو آر مائین مائی اسنووائٹ"
میسج پڑھنے کے بعد وہ اس کا مطلب سمجھنے لگی یہ تو سمجھ گئی کہ یہ میسج اسے ارتضیٰ نے کیا ہے مگر اس میسج کا مطلب نہیں سمجھ میں آیا
"میں نے کب اس کو اپنی امانت سمجھا۔۔ اس کو میری کس بات سے ایسا فیل ہوا کہ میں اسکی امانت ہو"
اچانک ایک خیال اس کے دماغ کو چھو کر گزرا
"شام میں جب مزمل مجھے۔۔۔ کیا وہ سب ارتضیٰ نے دیکھا۔۔۔ کیا ارتضیٰ اس وقت روم میں موجود تھا، اس وجہ سے وہ شکریہ کررہا ہے"
اس سوچ کے آتے ہی اسے گھبراہٹ شروع ہوگئی
"نہیں وہ میرے روم میں کیسے ہوسکتا ہے"
تعبیر خود سے بولنے لگی پھر اچانک اس کی نظر ٹیرس کے کھلے ہوئے دروازے پر پڑ اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازہ بند کیا اب اسے خوف محسوس ہونے لگا
"کیا اس شخص نے میری ایک ایک حرکت پر نظر رکھی ہوئی ہے"
"بابا گھر پر نہیں ہے کوئی نوکر بھی نہیں یقینا یہ بات بھی اس کو معلوم ہوگی اگر وہ اس وقت آگیا تو"
تعبیر اٹھ کر بیٹھی جلدی سے لائٹ آن کرکے شال اپنے گرد لپیٹ اس نے مزمل کے پاس کوارٹر میں جانے کا ارادہ کیا
سیڑھیاں اتر کر اس نے باہر کی طرف رخ تبھی اسے گیسٹ روم کی لائٹ جلتی نظر آئی۔۔۔معمولی سا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دروازے تک پہنچی اور جھری سے جھانکا تو مزمل کیسی سے موبائل پر محو گفتگو تھا
"سمجھا کریں سر، اتنی جلدی جلدی مال غائب ہوگا تو اس کو شک ہوجائے گا پہلا والا معاملہ ہی ٹھنڈا نہیں ہوا ابھی"
مزمل بات کرتے کرتے ایک دم مڑا اور جھٹ سے دروازہ کھولا تو تعبیر اچھل کر پیچھے ہوئی
"اف جان نکال دی تم نے میری مزمل" مزمل سنجیدگی سے تابی کو دیکھنے لگا اور موبائل پاکٹ میں رکھا
"جاسوسی کر رہی تھی آپ میری"
مزمل نے کڑے تیوروں سے تابی کو گھورتے ہوئے پوچھا
"مجھے کیا ضرورت پڑی ہے جاسوسی کرنے کی، ایک تو تم ناراض ہو کر بیٹھے ہو اوپر سے مجھے ڈرا بھی دیا۔۔ اب ایسے کیوں گھور رہے ہو"
تعبیر نے روم کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گئی
"آپ کو کس نے کہا کہ میں آپ سے ناراض ہوں"
مزمل نے اس کے سامنے کھڑے ہوکر پوچھا
"تو روم سے بنا کچھ کہے کیوں چلے گئے تھے"
تابی نے ہلکی آواز میں مزمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"نہیں جاتا تو آج طوفان آجاتا آپ کا بوڈی گارڈ شریف ہے، مگر اتنا بھی نہیں"
مزمل نے بیڈ پر دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر تابی کے اوپر جھگتے ہوئے کہا
"تم پھر مجھے ڈرا رہے ہو"
تابی پیچھے ہٹتے ہوئے بولی تو مزمل مسکرا کر پیچھے ہٹا
"تو آپ ڈرتی ہیں مجھ سے۔۔۔ میں تو آپ کو تھوڑا بہادر سمجھتا تھا"
مزمل آنکھوں میں شرارت لیے اس سے پوچھ رہا تھا
"ڈرانے کے لئے مجھے وہ ہی کافی تھا مگر اب تم بھی"
تعبیر نے مزمل کو شکایتی انداز سے دیکھ کر بات ادھوری چھوڑی
"کون ڈراتا ہے آپ کو"
مزمل نے حیرت سے تعبیر سے پوچھا
"وہ ارتضیٰ۔۔۔ وہ شاید شام کے وقت بیڈ روم میں موجود تھا اور اس نے تمہیں اور مجھے"
تعبیر نے بات ادھوری چھوڑی
"کیا فضول بول رہی ہیں آپ تعبیر۔۔۔ ایسا کچھ نہیں"
مزمل نے سنجیدگی سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"تمہیں میری بات پر یقین نہیں آرہا تھا اس نے مجھے میسج کیا۔۔ ویسے ابھی تم کس سے بات کر رہے تھے"
تعبیر کا دماغ دوسری طرف گیا اس کی بات سن کر مزمل دوبارہ اس کے پاس آیا اسے بیڈ سے اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا
"آپ کو کیا لگا کس سے بات کر رہا تھا ارتضیٰ سے"
مزمل نے تعبیر کے تجسس کو دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا
"میں بھلا ایسا کیوں سوچوں گی کہ تم ارتضیٰ سے بات کر رہے تھے میں تو بس ویسے ہی پوچھ رہی تھی"
تعبیر نے برا مانتے ہوئے کہا
"فکر نہیں کریں اپکی سوتن نہیں تھی"
سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا
"ہوتی تو جان سے مار دیتی"
تابی نے سنجیدگی سے کہا
"کسے اپنی سوتن کو"
مزمل نے محظوظ ہوتے ہوئے پوچھا
"نہیں تمہیں"
تعبیر نے تپ کر کہا
"اس لحاظ سے تو پھر مجھے اپکو بھی جان سے مار دینا چاہیے مگر اپکی جان تو لینے سے رہا کیا خیال ہے ارتضیٰ کو جان سے مار دوں"
مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہا تابی کا رنگ فق ہو گیا
"تم مجھے واقعی ڈرا رہے ہو آج"
تابی کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگی
"ریلکس وہ یا میں آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے"
مزمل میں تعبیر کو دیکھ کر کہا
"تمہارا تو مجھے پتہ ہے مگر یہ بات اس کے لیے کیسے کہہ سکتے ہو بھلا"
تعبیر نے مزمل سے پوچھا
"ٹوٹ کر محبت کرنے والے کبھی بھی اپنی محبت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے خیر چھوڑیں ان بات کو یہ بتائے کھانا کھایا آپ نے"
مزمل نے ٹاپک چینج کرتے ہوئے پوچھا
"تمہاری ناراضگی کا سوچ کر میری بھوک اڑ گئی تھی مگر اب جب تم ناراض نہیں ہو تو بہت زوروں سے بھوک لگ رہی ہے"
تعبیر کو واقعی بھوک کا احساس جاگنے لگا
"رکیے میں آپ کے لیے لے کر آتا ہوں"
مزمل چیئر سے اٹھتے ہوئے بولا
"مگر میں نے کک کو منع کردیا تھا ڈنر کا شاید اس نے بنایا ہی نہیں کچھ" تعبیر مزمل کو روم سے جاتا ہوا دیکھ کر بولنے لگے
"آپ کے لئے اسپیشل نہیں بنا ہوگا مگر ہم لوگوں کے لئے تو بنا تھا، بتائیں دال چاول کھانا پسند کریں گی آپ یا باہر سے کچھ آرڈر کروں آپ کے لئے"
مزمل نے سوالیہ نظروں سے تعبیر کو دیکھا
"دال چاول"
تابی نے مسکین سی شکل بنا کر مزمل کی طرف دیکھا جس پر مزمل نے مسکرا کر اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا
"ایسی بھی بات نہیں ہے کبھی کبھی میں کھا لیتی ہوں دال چاول"
تابی کچن میں جانے لگی تو مزمل بھی اس کے پیچھے آگیا
تعبیر نے انگلی دانتوں میں دبا کر فریج میں رکھے ہوئے دال چاول کو دیکھا تو مزمل نے ہاتھ کے اشارے سے اسے کچن میں موجود کرسی پر بیٹھنے کے لئے کہا کیبنٹ سے پلیٹ نکال کر دال چاول پلیٹ میں ڈالے مائکروویو اوون میں گرم کر کے تعبیر کے سامنے پلیٹ رکھی اور دوسری کرسی پر خود بھی بیٹھ گیا
"فورک یا اسپون نہیں ہے"
تابی کہتے ہوئے اٹھنے لگی تاکہ چمچہ لے سکے تو مزمل نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا اور پلیٹ اپنے آگے کھسکائی
"میڈم یہ چمچے اور کانٹے سے کھانا کھانا امیروں کی عادت ہوتی ہے، غریب انسان کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے ان چونچلوں کی ضرورت نہیں"
مزمل نے اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر تابی کے منہ کی طرف بڑھایا جسے تابی میں تھوڑا جھجھگتے ہوئے کھا لیا تعبیر نے دوسرا نیوالا مزمل کے ہاتھ سے کھاتے ہوئے اسے دیکھا تو مزمل تعبیر کو دیکھ کر مسکرایا
"کیا سوچ رہی ہیں ساری زندگی ایسے ہی کھلا سکتا ہوں" مزمل کی بات سن کر تعبیر مسکرائی
"پیٹ بھرا آپ کا" مزمل نے آخری نوالا کھلاتے ہوئے تعبیر سے پوچھا اور اپنے ہاتھ ٹشو سے صاف کیے
"پیٹ بھر گیا اور آج کھانا کھانے میں مزا بھی آیا ہے پتہ ہے مزمل مجھے اس طرح کبھی کسی نے اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھلایا، بابا پیار تو بہت کرتے ہیں مگر ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھالیں۔۔۔وہ میری ہر فرمائش پوری کرتے ہیں مگر میرے ناز نخرے اٹھانے کا ٹائم نہیں ان کے پاس، پیسوں کی کمی نہیں ہے مجھے مگر میں رشتوں اور محبتوں کو بہت ترسی ہوئی ہو اسلیئے آج تمہارے ہاتھ سے کھانا کھا کر مجھے واقعی بہت اچھا لگا"
تابی نے مزمل سے ان محرومیوں کا ذکر کیا جو بچپن سے محسوس کرتی آئی تھی مزمل اس کی بات سن کر چیئر سے اٹھا اور تعبیر کے پاس آکر اسے چیئر سے کھڑا کیا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے دیکھنے لگا
"میرے پاس آپ کے بابا جتنا پیسہ نہیں ہے اور شاید آگے زندگی میں بھی اتنا پیسہ نہ ہو مگر یہ میرا وعدہ ھے تعبیر اپنے پیار سے میں آپ کی ہر محرومیوں کا ازالہ کروں گا آپ کے سارے ناز نخرے بھی اٹھاؤں گا اپنے ہاتھ سے کھانا بھی کھلاو گا اور۔۔۔
مزمل نے بعد ادھوری چھوڑی
"اور"
تعبیر نے جاننا چاہا
"اور ڈھیر سارا پیار بھی دوں گا جس کی آپ مستحق ہیں"
مزمل نے کہنے کے ساتھ اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا
"مزمل میں تمہارے ساتھ پاکیزہ بندھن میں بندھنا چاہتی ہو"
تعبیر نے آنکھیں بند کرکے مزمل کے سینے پر اپنا سر ٹکایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا
اس سے پہلے مزمل اس کی بات کا جواب دیتا تیز جوتوں کی آواز نے ماحول میں چھائے ہوئے سکوت میں خلل پیدا کیا۔۔۔
مزمل کے ساتھ ساتھ تعبیر بھی تیز قدموں سے اندر داخل ہونے والی آواز پر چونکی مزمل تعبیر کو پیچھے کرتا ہوا کچن سے ہال میں آیا اور اس کے پیچھے تعبیر بھی
"سر آپ اتنی جلدی میرا مطلب ہے آپ نے تو کہا تھا دیر ہوجائے گی آنے میں" مزمل نے وہاج کو دیکھ کر پوچھا جو کہ کافی جلدی میں اور گھبرایا ہوا لگ رہا تھا
"ہاں جلدی فارغ ہو گیا تھا، تابی بیٹا آپ ابھی تک جاگ رہی ہوں اور یہاں کیا کر رہی ہو"
مزمل کو جواب دیتا ہوا وہاج نے تعبیر سے سوال کیا
"بھوک لگ رہی تھی بابا اس لئے کھانا کھانے آئی تھی" تابی نے وہاج کو جواب دیا
"ٹھیک ہے اب آپ اپنے کمرے میں جو او رات بہت ہو گئی ہے سو جاؤ"
اس نے تعبیر کو دیکھ کر کہا تو وہ سر ہلا کر ایک نظر مزمل کو دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
"مزمل میرے پیچھے کچھ گڑبڑ وغیرہ تو نہیں ہوئی، یہاں سب ٹھیک ہے"
وہاج مزمل کو دیکھ کر پوچھ رہا تھا
"نہیں سر یہاں تو سب ٹھیک ہے کیا کوئی پرابلم ہوئی ہے"
مزمل نے وہاج کے چہرے کو دیکھکر کھوج لگاتے ہوئے کہا
"ہاں۔۔۔ نہیں میرا مطلب ہے سب ٹھیک ہے تم چاہو تو اپنے کواٹر میں جا سکتے ہوں اب میں آگیا ہوں"
وہاج نے مزمل سے کہا
"اوکے سر میں واپس کوارٹر میں جا رہا ہوں گڈنائٹ" مزمل نے کچھ سوچتے ہوئے وہاج سے کہا تھے اور باہر چلا گیا
وہاج اپنے روم میں ایا کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا اور موبائل پاکٹ سے نکال کر نمبر ڈائل کرنے لگا
"ڈی ایس پی ذیشان احمد میں وہاج صدیقی بات کررہا ہوں آخر کس کی پرمیشن سے میرے فارم ہاؤس میں ریڈ ڈالی گئی ہے میں تم لوگوں کے منہ پیسوں سے اس لیے نہیں بھرتا کہ مجھے اپنے گیسٹ کے سامنے زلیل ہونا پڑے آخر کس نے مخبری کی اور یہ پولیس کیوں پہنچی وہاں پر، میرا کتنا لاکھوں کا نقصان ہو گیا ہے اندازہ ہے تم کو"
وہاج روز سے چلاتا ہوا بولا، شاید آج اس کی قسمت اچھی نہیں تھی، پولیس کے علاقے میں آتے ہی اس کے گارڈ نے پولیس کے آنے کی اطلاع اسے دی، وہاج صدیقی اور اس کے گیسٹ دوسرے راستے سے باہر فرار ہوکر پولیس کی نظر سے نکل گئے مگر بہت سارا اسلحہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا جس پر وہاج صدیقی تلملاتا ہوا رہ گیا۔۔۔ اس مہینے میں یہ اس کا دوسرا بڑا نقصان تھا جو اسے برداشت کرنا پڑا
"وہاج صاحب یہ آرڈرز اوپر سے ایشو کیے گئے ہیں جس کے بنا پر ریڈ ڈالی گئی ہے۔۔۔ مگر مخبر آپ کی طرف کا ہے اطلاع باہر کے بندے نے دی کہ اپکے فارم ہاوس پر بڑی تعداد میں اسلحے کی نمائش ہے، آپ اپنے آدمیوں پر نظر رکھے اور رہی بات اسلحے کی اس کا کچھ نہیں ہوسکتا کیوکہ وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔۔۔ ہاں اس بات کی میں آپ کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ یہ خبر آگے نہیں پھیلے گی اس کا اطمینان رکھیں آپ"
ڈی ایس پی نے وہاج کو اطمینان دلایا
"اگر یہ خبر اخباروں یا میڈیا تک آئی یا پولیس میرے گھر تک آئی نہ ڈی ایس پی تو تم سوچ نہیں سکتے میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا، مجھے اپنے نام پر کسی قسم کا داغ نہیں چاہیے انڈرسٹینڈ"
وہاج صدیقی نے ڈی ایس پی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی وہ پیچھے مڑا تو روم سے باہر مزمل کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر ٹھٹک گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment