U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 16
"اکا ہانی کو بھیجا نہیں آپ نے"
اکا اریش کی طرف تھیں مشعل ٹیشن کے بعد گھر آئی ہانی کو نہ پاکر اریش کی طرف آئی اور اکا سے پوچھنے لگی
"اریش آفس سے آگیا تھا تو ہانی اس کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دونوں روم میں گئے ہیں"
اکا نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مشعل کو بتایا
"اکا آپ کے کہنے پر میں نے اریش سے معافی مانگی مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب ہانی ہر وقت اس کے ساتھ چپکا رہے، آپ کو میری نیچر کا پتہ ہے میں ہانی کے معاملے میں کتنی پوزیسو ہو" مشعل نے مائنڈ کرتے ہوئے کہا
"مشعل میری ایک بات سنو اب ہانی بڑا ہو رہا ہے اسے میرے یا تمھارے علاوہ بھی کسی اور کی ضرورت ہے وہ بھی چاہتا ہوگا جیسے سب کے دوست ہوتے ہیں اس کے پاس بھی دوست ہو، اگر وہ اریش کے ساتھ وقت گزار لیتا ہے تو اس میں برا کیا ہے"
اکا نے مشعل کو سمجھانے کی کوشش کی
"اکا برا یہ ہے کہ ہانی آہستہ آہستہ اریش سے اٹیچ ہو رہا ہے وہ اب مجھ سے بھی اریش کی باتیں کرتا ہے اور یہ بات ہانی ہا میرے لئے اچھی نہیں۔۔۔ اریش ابھی ہانی کو ٹائم دے رہا ہے اس کے ساتھ کھیلتا ہے مگر کل کو جب اس کی اپنی فیملی ہوگی یا پھر چند دنوں بعد ہی اس کا ہانی سے دل بھر جائے گا تو وہ اسے اگنور کرے گا۔۔ تو میرے لئے پروبلم ہوگی اور ویسے بھی اکا آپ کو نہیں لگتا کہ نوکر اور مالک کے بیچ میں ایک لمٹ ہونی چاہیے کیونکہ اگر کل کو ہانی سے کوئی غلطی ہوگئی اور آریش نے ہانی کو برا بھلا کہا تو مجھے برا لگے گا" مشعل یہ ساری باتیں اکا سے کہہ رہی تھی مگر اسے اندازہ نہیں تھا اس کے پیچھے اریش کھڑا اسکی ساری گفتگو سن رہا تھا۔۔ اکا نے دو دفعہ آنکھوں سے مشعل کو اشارہ بھی کیا مگر وہ اپنی رو میں بولتی ہی چلی جا رہی تھی
"اکا آکر کھانے میں نمک چیک کرلیں"
خانساماں کچن سے نکل کر بولا۔۔۔ تو اکا اٹھ کر تاسف سے سر ہلاتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔۔مشعل کی نظر اریش پر پڑی تو وہ ٹھٹک گئی جس انداز میں وہ مشعل کو دیکھ رہا تھا مشعل سمجھ گئی کہ اریش نے اکا اور اس کی ساری گفتگو سن لی
"ہانی کہاں ہے"
خفگی مٹاتے ہوئے مشعل نے آریش کو دیکھ کر پوچھا
"مشعل میں نے آپ کی ساری باتیں سنی ہیں پہلی بات تو میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں کوئی ام میچور پرسن نہیں ہوکہ آج میں کسی سے دل لگاؤ یا جو میرے دل کے قریب ہوں کل کو اس سے میرا دل بھر جائے یہ میری نیچر میں شامل نہیں ہے۔۔۔ جو مجھے اچھا لگتا ہے تاعمر میرے دل کے قریب رہتا ہے ہانی کے ساتھ میرا دوسرا معاملہ ہے ان چند دنوں میں وہ مجھے عزیز ہوگیا ہے اور دوسری بات مشعل پلیز آپ اپنے اندر سے احساس کمتری نکال دیں، میرے کون سے سلوک سے یا بات کرنے سے آپ کو یہ لگا کہ میرے گھر میں آپ کے آکا کے یا پھر ہانی کے ساتھ مالک نوکر والا معاملہ ہے" اریش نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مشعل سے پوچھا
"یہ آپ کی اعلی ظرفی ہے کہ آپ ایسا نہیں سمجھتے مگر حقیقت یہی اریش کہ ہم اس گھر میں نوکر ہیں بے شک آپ ایسا نہیں سمجھتے نہ ہی آپ نے اپنے سلوک یا رویے سے اس بات کا احساس دلایا مگر حقیقت کو آپ جھٹلا نہیں سکتے۔۔۔ ہانی بہت چھوٹا ہے وہ جس طرح آپ سے اٹیچ ہو رہا ہے آگے جاکر میرے لئے مسئلہ ہوگا۔۔۔ پلیز آپ خود اس بات کو relize کریں کل کو آپ کی بچے ہونگے آپ کی فیملی ہوگی کیا ہانی کو اسطرح ٹائم دے سکیں گے جسطرح ابھی دے رہے ہیں۔۔۔ آپ میچور ہیں میری باتوں پر غور کریں" مشعل نے نرمی سے اریش کو اپنا نظریہ سمجھایا
"یہ بات آپ کی مناسب لگ رہی ہے مشعل، ہانی مجھ سے اٹیچ ہے بلکے میں خود بھی ہانی سے اٹیچ ہوگیا ہو کل کو واقعی میری فیملی ہوگی تو میں نہیں چاہؤں گا کہ ہانی کو کسی کے لیے بھی اگنور کیا جائے ان سب پرابلم کا ایک سلوشن ہے میرے پاس"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"تین دن پہلے آپ نے ہانی پر ہاتھ اٹھایا جس پر مجھے غصہ آیا آپ نے کہا۔۔۔ آپ ہانی کے باپ نہیں ہے جو اس طرح ری ایکٹ کر رہے ہیں۔۔ اگر واقعی باپ کا ریکشن ایسے ہی ہوتا ہے تو میں ہانی کا فادر بننا چاہتا ہوں"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر کہا
"آپ ایسا فضول مذاق کیسے کر سکتے ہیں"
مشعل نے بے یقینی سے اریش کو دیکھ کر کہا کیوکہ اتنی بڑی بات کوئی سنجیدگی میں تو نہیں بول سکتا تھا
"میں آپ کو اتنا گھٹیا انسان لگتا ہوں کہ کسی لڑکی کو مذاق میں پرپوز کروں گا میں سیریس ہو مشعل، ،، میں آپکو اور ہانی کو اپنی فیملی کی طرح دیکھنا چاہتا ہوں"
اریش نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا
"چپ ہوجائیں۔۔۔ اب آگے ایک لفظ نہیں بولیں گے آپ" مشعل نے ایک دم ڈپٹنے والے انداز میں کہا اور وہاں سے چلی گی۔۔۔ اریش اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا اپنے کمرے میں جانے لگا تو اس کی نظر اکا پر پڑی جو اریش کو ہی دیکھ رہی تھیں
****
"آپ نے بلایا سر" مزمل وہاج کے روم میں آیا تو وہ کہی جانے کی تیاری کر رہا تھا
'ہاں میں نے تمہیں یہ بتانے کے لئے بلایا ہے میرے کچھ گیسٹ آرہے ہیں باہر سے میں بھی ان کو ریسیو کرنے جا رہا ہوں اور رات دیر تک واپسی ہوگی۔۔ تابی کا خیال رکھنا اور کوارٹر کی بجائے نیچے گیسٹ روم میں رہنا پسٹل کہاں ہے تمہاری"
وہاج نے مزمل کو ہدایت دیتے ہوئے سوال کیا
"جی سر وہ کوارٹر میں ہی موجود ہے" مزمل نے جواب دیا
"وہ پسٹل میں نے کوارٹر میں رکھنے کیلئے نہیں دی ہے اپنے ساتھ رکھو پسٹل کو، پچھلی دفعہ کی طرح کوئی بھی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔۔ کوئی گڑبڑ لگے تو پسٹل کا استعمال بلا جھجک کر لینا"
وہاج کو پچھلی دفعہ اپنے غائب ہوئے ہوئے اصلحہ سے زیادہ غصہ یہ تھا کہ کوئی تابی کے روم میں کیسے آ سکتا ہے اسی وجہ سے اس نے پرانے واچ مین اور دونوں نوکرو کی بھی چھٹی کر دی تھی اس وقت وہ مزمل پر بھروسہ کرسکتا تھا، فضل اس کے ساتھ ہی جا رہا تھا
"سر آپ فکر ہو جائیں تعبیر میڈم کی فکر مت کریں میں یہی موجود ہو، اور الرٹ ہو ہر حرکت پر میری نظر ہوگی آپ ٹینشن نہیں لیں"
مزمل نے وہاج کو اطمینان دلایا
****
"ہیلو انسپکٹر عماد، ارتضیٰ اسپیکنگ" ارتضیٰ نے عماد کو کال ملائی
"بولیں سر میرے لائق کیا خدمت ہے" عماد ارتضیٰ کی کال دیکھ کر سمجھ گیا ضرور کوئی ٹاسک آگیا ہے تبھی فورا پوچھا
"سمجھو خدمت لینے کے لیے ہی کال کی ہے عماد ابھی تازہ انفارمیشن ملی ہے جس کے مطابق ہائی وے کے قریب وہاج صدیقی کے فارم ہاؤس پر آج رات اسلحٰہ کی نمائش ہے۔۔۔ اسلحہ خریدنے ملکی اور غیر ملکی لوگ وہاں موجود ہوں گے۔۔۔ فارم ہاؤس کی ایکوریٹ لوکیشن میں تمہیں واٹس اپ کر دیتا ہوں۔۔۔ تم اپنے ساتھ چند اعتماد والے ساتھی شامل کرو اور اپنے سارے پلان سے مجھے آگاہ کروں۔۔ پھر آگے بات کرتے ہیں"
ارتضیٰ نے عماد کو اس کی ایمانداری اور بہادری کی وجہ سے چنا تھا بات مکمل کر کے اس نے فون رکھا
"تو اسنووائٹ آج رات اکیلی ہوگی گھر پر، مگر آج رات تمہارے بابا سے دو دو ہاتھ کرنے کا وقت ہے تم سے پھر کبھی سہی"
ارتضیٰ نے موبائل میں موجود تعبیر کی تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
****
وہاج کے گھر سے نکلنے کے بعد مزمل نے اپنے کوارٹر جانے کے بجائے، گیسٹ روم پر ایک نظر ڈال کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تابی کے بیڈ روم کا رخ کیا
"تعبیر ابھی شاور لے کر نکلی تھی ٹاول سے بالوں کو باندھا ہوا دوپٹے سے بے نیاز وہ ڈریسر کے آگے موجود ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی تبھی اس کے روم کا دروازہ کھلا اور مزمل اندر آیا اس کی نظریں مزمل پر پڑی تو ہاتھوں کی حرکت وہی تھم گئی
"تم میرے بیڈروم میں"
کل رات والے قصّے کے بعد تابی مزمل کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی اس لئے اچانک اسے بیڈ روم میں آتا دیکھ کر بےساختہ بولی
"کیوں نہیں آ سکتا آپ کے بیڈروم میں یہ جرت بھی تو آپ کی ہی فراہم کردہ ہے تو پھر اب اعتراض کیسا"
مزمل قدم بڑھاتا ہوا تابی کے پاس آ کر بولا
"نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا"
تابی نظریں جھکا کر بولی
"تو پھر کیا مطلب تھا۔۔ سمجھا دیں آج، فرصت ہی فرصت اپکے باڈی گارڈ کے پاس"
مزمل نے اس کے بالوں سے بندھا ٹاول ہٹا کر سائیڈ پر رکھا
تابی کے گیلے بال لٹوں کی صورت بکھر گئے،، وہ چپ رہی
"آج آپ نے صبح سے اپنے دیدار کا شرف نہیں بخشا، آپ کو دیکھنے کا دل کیا تو اس لیے آگیا آپ کے بیڈروم میں۔۔ اور تھوڑی دیر ہوجاتی تو مزمل کی جان پر بن آنی تھی"
مزمل نے کیلے بالوں کی لٹیں تابی کے چہرے سے ہٹائی اور اس کو اپنے آنے کی وجہ بتائی
"میری ڈرنگ میں شاید کسی نے مذاق میں یا شرارت میں کچھ ملا دیا تھا"
تابی نے نیچے نگاہیں کر کے اسے بتانا چاہا
"وہ مذاق میں یا شرارت میں نہیں بلکے زلالت میں کی گئی حرکت تھی، جس کا خمیادہ وہ ابھی اور بھکتے گے جس نے یہ حرکت آپ کے ساتھ کی۔۔۔۔ ایسے گھٹیا دوستو سے دور رہے پلیز، آپکو اس بات کا احساس بھی نہیں کہ آپ کسی کے لئے کتنی قیمتی ہیں"
بلیک کلر کے کپڑوں میں اس کی دمکتی
رنگت مزمل کے دل کو کوئی گستاخی کرنے پر اکسا رہی تھی مزمل نے غور سے اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا
"مزمل وہ کل رات" تابی کو آگے سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے تابی کے منہ سے کل رات الفاظ سن کر مزمل کے چہرے پر اسمائل آگئی۔۔۔ مزمل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تابی کا چہرہ تھام کر اونچا کیا
"کل رات تو آپ کے بریک فیل ہوگئے تھے۔۔۔ نون اسٹاپ شروع تھی آپ، آج کیوں بریک لگی ہوئی ہے"
مزمل کی بات سنکر تابی کی نگاہیں دوبارہ جھک گئی
"کل رات مجھے بالکل بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ سب میں نے کیسے بولا اور کسطرح بولا"
مزمل کو وضاحت دیتے ہوئے تابی کا حلق خشک ہونے لگا
"جو بھی بولا تھا مگر بولا تو سچ تھا نہ سب"
مزمل نے غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا آج پہلی بار اس نے اپنی میڈم کو اتنا نروس دیکھا اس کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے کہا
"کیا سچ بولا تھا" تابی نے گھبراتے ہو مزمل سے پوچھا
"کل رات واپسی پر کار میں بیٹھتے ہوئے آپ نے مجھے وہ ساری باتیں بتائی جو آپ مجھے کبھی بھی بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی" مزمل ابھی بھی اسکا چہرہ تھامے ہوئے کھڑا تھا۔۔ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا جبکہ آنکھیں اس کی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔ تابی اس کی بات سن کر چور سی بن گئی
"ویسے کل رات آپ نے مجھے ایک افر بھی کی تھی میں نے سوچا اس آفر کا فائدہ آپ کے ہوش وحواس میں اٹھایا جائے"
مزمل نے تعبیر کے ہونٹوں کو دیکھ کر کہا تعبیر کا دل بہت زور سے دھڑکنے لگا کیوکہ مزمل نے اب اسکا چہرہ اپنے چہرے کے اور بھی قریب کر لیا تھا
"اس وقت میں اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھی مزمل، مجھے اس وقت بالکل احساس نہیں تھا کہ میں کیا بول رہی ہو"
دھڑکتے دل کے ساتھ تابی نے اپنی صفائی پیش کی
"آپ اس وقت ہوش وحواس میں نہیں تھی تو میں نے بھی آپ کی بھی بےہوشی کا فائدہ نہیں اٹھایا مگر اب مزمل ہوش وحواس میں نہیں رہنا چاہتا"
مزمل نے ایک ہاتھ سے تعبیر کا چہرے تھاما دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھ کر اسے مزید خود سے قریب کیا تو تعبیر نے مزمل کی شرٹ اپنے ہاتھوں سے دبوچی
"مزمل پلیز"
تابی احتجاج کرتی ہوئی بولی
"کیوں مزمل کی جان لینے پر تلی ہوئی ہیں آپ، پرامس بےبی نہیں ہوگا"
مزمل نے مدہوشی کے عالم میں کہتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو تعبیر کے ہونٹوں پر رکھا اس سے پہلے وہ اس کی سانسوں کی خوشبوں اپنی سانسوں میں اتارتا تعبیر نے جھٹکے سے مزمل خود سے دور کیا اور بیڈ کی طرف رخ کیا اپنا دوپٹہ اوڑھا
"مزمل نہیں پلیز"
تابی اس کی طرف سے اپنا رخ پھیر کر کھڑی ہوگئی تو مزمل اس کو غور سے دیکھتا رہا کچھ بولے دینا اس کے بیڈ روم سے چلا گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 16
"اکا ہانی کو بھیجا نہیں آپ نے"
اکا اریش کی طرف تھیں مشعل ٹیشن کے بعد گھر آئی ہانی کو نہ پاکر اریش کی طرف آئی اور اکا سے پوچھنے لگی
"اریش آفس سے آگیا تھا تو ہانی اس کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دونوں روم میں گئے ہیں"
اکا نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے مشعل کو بتایا
"اکا آپ کے کہنے پر میں نے اریش سے معافی مانگی مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب ہانی ہر وقت اس کے ساتھ چپکا رہے، آپ کو میری نیچر کا پتہ ہے میں ہانی کے معاملے میں کتنی پوزیسو ہو" مشعل نے مائنڈ کرتے ہوئے کہا
"مشعل میری ایک بات سنو اب ہانی بڑا ہو رہا ہے اسے میرے یا تمھارے علاوہ بھی کسی اور کی ضرورت ہے وہ بھی چاہتا ہوگا جیسے سب کے دوست ہوتے ہیں اس کے پاس بھی دوست ہو، اگر وہ اریش کے ساتھ وقت گزار لیتا ہے تو اس میں برا کیا ہے"
اکا نے مشعل کو سمجھانے کی کوشش کی
"اکا برا یہ ہے کہ ہانی آہستہ آہستہ اریش سے اٹیچ ہو رہا ہے وہ اب مجھ سے بھی اریش کی باتیں کرتا ہے اور یہ بات ہانی ہا میرے لئے اچھی نہیں۔۔۔ اریش ابھی ہانی کو ٹائم دے رہا ہے اس کے ساتھ کھیلتا ہے مگر کل کو جب اس کی اپنی فیملی ہوگی یا پھر چند دنوں بعد ہی اس کا ہانی سے دل بھر جائے گا تو وہ اسے اگنور کرے گا۔۔ تو میرے لئے پروبلم ہوگی اور ویسے بھی اکا آپ کو نہیں لگتا کہ نوکر اور مالک کے بیچ میں ایک لمٹ ہونی چاہیے کیونکہ اگر کل کو ہانی سے کوئی غلطی ہوگئی اور آریش نے ہانی کو برا بھلا کہا تو مجھے برا لگے گا" مشعل یہ ساری باتیں اکا سے کہہ رہی تھی مگر اسے اندازہ نہیں تھا اس کے پیچھے اریش کھڑا اسکی ساری گفتگو سن رہا تھا۔۔ اکا نے دو دفعہ آنکھوں سے مشعل کو اشارہ بھی کیا مگر وہ اپنی رو میں بولتی ہی چلی جا رہی تھی
"اکا آکر کھانے میں نمک چیک کرلیں"
خانساماں کچن سے نکل کر بولا۔۔۔ تو اکا اٹھ کر تاسف سے سر ہلاتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔۔مشعل کی نظر اریش پر پڑی تو وہ ٹھٹک گئی جس انداز میں وہ مشعل کو دیکھ رہا تھا مشعل سمجھ گئی کہ اریش نے اکا اور اس کی ساری گفتگو سن لی
"ہانی کہاں ہے"
خفگی مٹاتے ہوئے مشعل نے آریش کو دیکھ کر پوچھا
"مشعل میں نے آپ کی ساری باتیں سنی ہیں پہلی بات تو میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں کوئی ام میچور پرسن نہیں ہوکہ آج میں کسی سے دل لگاؤ یا جو میرے دل کے قریب ہوں کل کو اس سے میرا دل بھر جائے یہ میری نیچر میں شامل نہیں ہے۔۔۔ جو مجھے اچھا لگتا ہے تاعمر میرے دل کے قریب رہتا ہے ہانی کے ساتھ میرا دوسرا معاملہ ہے ان چند دنوں میں وہ مجھے عزیز ہوگیا ہے اور دوسری بات مشعل پلیز آپ اپنے اندر سے احساس کمتری نکال دیں، میرے کون سے سلوک سے یا بات کرنے سے آپ کو یہ لگا کہ میرے گھر میں آپ کے آکا کے یا پھر ہانی کے ساتھ مالک نوکر والا معاملہ ہے" اریش نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مشعل سے پوچھا
"یہ آپ کی اعلی ظرفی ہے کہ آپ ایسا نہیں سمجھتے مگر حقیقت یہی اریش کہ ہم اس گھر میں نوکر ہیں بے شک آپ ایسا نہیں سمجھتے نہ ہی آپ نے اپنے سلوک یا رویے سے اس بات کا احساس دلایا مگر حقیقت کو آپ جھٹلا نہیں سکتے۔۔۔ ہانی بہت چھوٹا ہے وہ جس طرح آپ سے اٹیچ ہو رہا ہے آگے جاکر میرے لئے مسئلہ ہوگا۔۔۔ پلیز آپ خود اس بات کو relize کریں کل کو آپ کی بچے ہونگے آپ کی فیملی ہوگی کیا ہانی کو اسطرح ٹائم دے سکیں گے جسطرح ابھی دے رہے ہیں۔۔۔ آپ میچور ہیں میری باتوں پر غور کریں" مشعل نے نرمی سے اریش کو اپنا نظریہ سمجھایا
"یہ بات آپ کی مناسب لگ رہی ہے مشعل، ہانی مجھ سے اٹیچ ہے بلکے میں خود بھی ہانی سے اٹیچ ہوگیا ہو کل کو واقعی میری فیملی ہوگی تو میں نہیں چاہؤں گا کہ ہانی کو کسی کے لیے بھی اگنور کیا جائے ان سب پرابلم کا ایک سلوشن ہے میرے پاس"
اریش نے سنجیدگی سے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"تین دن پہلے آپ نے ہانی پر ہاتھ اٹھایا جس پر مجھے غصہ آیا آپ نے کہا۔۔۔ آپ ہانی کے باپ نہیں ہے جو اس طرح ری ایکٹ کر رہے ہیں۔۔ اگر واقعی باپ کا ریکشن ایسے ہی ہوتا ہے تو میں ہانی کا فادر بننا چاہتا ہوں"
اریش نے مشعل کو دیکھ کر کہا
"آپ ایسا فضول مذاق کیسے کر سکتے ہیں"
مشعل نے بے یقینی سے اریش کو دیکھ کر کہا کیوکہ اتنی بڑی بات کوئی سنجیدگی میں تو نہیں بول سکتا تھا
"میں آپ کو اتنا گھٹیا انسان لگتا ہوں کہ کسی لڑکی کو مذاق میں پرپوز کروں گا میں سیریس ہو مشعل، ،، میں آپکو اور ہانی کو اپنی فیملی کی طرح دیکھنا چاہتا ہوں"
اریش نے اپنے چہرے پر سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا
"چپ ہوجائیں۔۔۔ اب آگے ایک لفظ نہیں بولیں گے آپ" مشعل نے ایک دم ڈپٹنے والے انداز میں کہا اور وہاں سے چلی گی۔۔۔ اریش اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا اپنے کمرے میں جانے لگا تو اس کی نظر اکا پر پڑی جو اریش کو ہی دیکھ رہی تھیں
****
"آپ نے بلایا سر" مزمل وہاج کے روم میں آیا تو وہ کہی جانے کی تیاری کر رہا تھا
'ہاں میں نے تمہیں یہ بتانے کے لئے بلایا ہے میرے کچھ گیسٹ آرہے ہیں باہر سے میں بھی ان کو ریسیو کرنے جا رہا ہوں اور رات دیر تک واپسی ہوگی۔۔ تابی کا خیال رکھنا اور کوارٹر کی بجائے نیچے گیسٹ روم میں رہنا پسٹل کہاں ہے تمہاری"
وہاج نے مزمل کو ہدایت دیتے ہوئے سوال کیا
"جی سر وہ کوارٹر میں ہی موجود ہے" مزمل نے جواب دیا
"وہ پسٹل میں نے کوارٹر میں رکھنے کیلئے نہیں دی ہے اپنے ساتھ رکھو پسٹل کو، پچھلی دفعہ کی طرح کوئی بھی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔۔ کوئی گڑبڑ لگے تو پسٹل کا استعمال بلا جھجک کر لینا"
وہاج کو پچھلی دفعہ اپنے غائب ہوئے ہوئے اصلحہ سے زیادہ غصہ یہ تھا کہ کوئی تابی کے روم میں کیسے آ سکتا ہے اسی وجہ سے اس نے پرانے واچ مین اور دونوں نوکرو کی بھی چھٹی کر دی تھی اس وقت وہ مزمل پر بھروسہ کرسکتا تھا، فضل اس کے ساتھ ہی جا رہا تھا
"سر آپ فکر ہو جائیں تعبیر میڈم کی فکر مت کریں میں یہی موجود ہو، اور الرٹ ہو ہر حرکت پر میری نظر ہوگی آپ ٹینشن نہیں لیں"
مزمل نے وہاج کو اطمینان دلایا
****
"ہیلو انسپکٹر عماد، ارتضیٰ اسپیکنگ" ارتضیٰ نے عماد کو کال ملائی
"بولیں سر میرے لائق کیا خدمت ہے" عماد ارتضیٰ کی کال دیکھ کر سمجھ گیا ضرور کوئی ٹاسک آگیا ہے تبھی فورا پوچھا
"سمجھو خدمت لینے کے لیے ہی کال کی ہے عماد ابھی تازہ انفارمیشن ملی ہے جس کے مطابق ہائی وے کے قریب وہاج صدیقی کے فارم ہاؤس پر آج رات اسلحٰہ کی نمائش ہے۔۔۔ اسلحہ خریدنے ملکی اور غیر ملکی لوگ وہاں موجود ہوں گے۔۔۔ فارم ہاؤس کی ایکوریٹ لوکیشن میں تمہیں واٹس اپ کر دیتا ہوں۔۔۔ تم اپنے ساتھ چند اعتماد والے ساتھی شامل کرو اور اپنے سارے پلان سے مجھے آگاہ کروں۔۔ پھر آگے بات کرتے ہیں"
ارتضیٰ نے عماد کو اس کی ایمانداری اور بہادری کی وجہ سے چنا تھا بات مکمل کر کے اس نے فون رکھا
"تو اسنووائٹ آج رات اکیلی ہوگی گھر پر، مگر آج رات تمہارے بابا سے دو دو ہاتھ کرنے کا وقت ہے تم سے پھر کبھی سہی"
ارتضیٰ نے موبائل میں موجود تعبیر کی تصویر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
****
وہاج کے گھر سے نکلنے کے بعد مزمل نے اپنے کوارٹر جانے کے بجائے، گیسٹ روم پر ایک نظر ڈال کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تابی کے بیڈ روم کا رخ کیا
"تعبیر ابھی شاور لے کر نکلی تھی ٹاول سے بالوں کو باندھا ہوا دوپٹے سے بے نیاز وہ ڈریسر کے آگے موجود ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی تبھی اس کے روم کا دروازہ کھلا اور مزمل اندر آیا اس کی نظریں مزمل پر پڑی تو ہاتھوں کی حرکت وہی تھم گئی
"تم میرے بیڈروم میں"
کل رات والے قصّے کے بعد تابی مزمل کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی اس لئے اچانک اسے بیڈ روم میں آتا دیکھ کر بےساختہ بولی
"کیوں نہیں آ سکتا آپ کے بیڈروم میں یہ جرت بھی تو آپ کی ہی فراہم کردہ ہے تو پھر اب اعتراض کیسا"
مزمل قدم بڑھاتا ہوا تابی کے پاس آ کر بولا
"نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا"
تابی نظریں جھکا کر بولی
"تو پھر کیا مطلب تھا۔۔ سمجھا دیں آج، فرصت ہی فرصت اپکے باڈی گارڈ کے پاس"
مزمل نے اس کے بالوں سے بندھا ٹاول ہٹا کر سائیڈ پر رکھا
تابی کے گیلے بال لٹوں کی صورت بکھر گئے،، وہ چپ رہی
"آج آپ نے صبح سے اپنے دیدار کا شرف نہیں بخشا، آپ کو دیکھنے کا دل کیا تو اس لیے آگیا آپ کے بیڈروم میں۔۔ اور تھوڑی دیر ہوجاتی تو مزمل کی جان پر بن آنی تھی"
مزمل نے کیلے بالوں کی لٹیں تابی کے چہرے سے ہٹائی اور اس کو اپنے آنے کی وجہ بتائی
"میری ڈرنگ میں شاید کسی نے مذاق میں یا شرارت میں کچھ ملا دیا تھا"
تابی نے نیچے نگاہیں کر کے اسے بتانا چاہا
"وہ مذاق میں یا شرارت میں نہیں بلکے زلالت میں کی گئی حرکت تھی، جس کا خمیادہ وہ ابھی اور بھکتے گے جس نے یہ حرکت آپ کے ساتھ کی۔۔۔۔ ایسے گھٹیا دوستو سے دور رہے پلیز، آپکو اس بات کا احساس بھی نہیں کہ آپ کسی کے لئے کتنی قیمتی ہیں"
بلیک کلر کے کپڑوں میں اس کی دمکتی
رنگت مزمل کے دل کو کوئی گستاخی کرنے پر اکسا رہی تھی مزمل نے غور سے اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا
"مزمل وہ کل رات" تابی کو آگے سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے تابی کے منہ سے کل رات الفاظ سن کر مزمل کے چہرے پر اسمائل آگئی۔۔۔ مزمل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تابی کا چہرہ تھام کر اونچا کیا
"کل رات تو آپ کے بریک فیل ہوگئے تھے۔۔۔ نون اسٹاپ شروع تھی آپ، آج کیوں بریک لگی ہوئی ہے"
مزمل کی بات سنکر تابی کی نگاہیں دوبارہ جھک گئی
"کل رات مجھے بالکل بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ سب میں نے کیسے بولا اور کسطرح بولا"
مزمل کو وضاحت دیتے ہوئے تابی کا حلق خشک ہونے لگا
"جو بھی بولا تھا مگر بولا تو سچ تھا نہ سب"
مزمل نے غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا آج پہلی بار اس نے اپنی میڈم کو اتنا نروس دیکھا اس کو مزید تنگ کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے کہا
"کیا سچ بولا تھا" تابی نے گھبراتے ہو مزمل سے پوچھا
"کل رات واپسی پر کار میں بیٹھتے ہوئے آپ نے مجھے وہ ساری باتیں بتائی جو آپ مجھے کبھی بھی بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی" مزمل ابھی بھی اسکا چہرہ تھامے ہوئے کھڑا تھا۔۔ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا جبکہ آنکھیں اس کی مسلسل مسکرا رہی تھی۔۔۔ تابی اس کی بات سن کر چور سی بن گئی
"ویسے کل رات آپ نے مجھے ایک افر بھی کی تھی میں نے سوچا اس آفر کا فائدہ آپ کے ہوش وحواس میں اٹھایا جائے"
مزمل نے تعبیر کے ہونٹوں کو دیکھ کر کہا تعبیر کا دل بہت زور سے دھڑکنے لگا کیوکہ مزمل نے اب اسکا چہرہ اپنے چہرے کے اور بھی قریب کر لیا تھا
"اس وقت میں اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھی مزمل، مجھے اس وقت بالکل احساس نہیں تھا کہ میں کیا بول رہی ہو"
دھڑکتے دل کے ساتھ تابی نے اپنی صفائی پیش کی
"آپ اس وقت ہوش وحواس میں نہیں تھی تو میں نے بھی آپ کی بھی بےہوشی کا فائدہ نہیں اٹھایا مگر اب مزمل ہوش وحواس میں نہیں رہنا چاہتا"
مزمل نے ایک ہاتھ سے تعبیر کا چہرے تھاما دوسرا ہاتھ اس کی کمر کے گرد باندھ کر اسے مزید خود سے قریب کیا تو تعبیر نے مزمل کی شرٹ اپنے ہاتھوں سے دبوچی
"مزمل پلیز"
تابی احتجاج کرتی ہوئی بولی
"کیوں مزمل کی جان لینے پر تلی ہوئی ہیں آپ، پرامس بےبی نہیں ہوگا"
مزمل نے مدہوشی کے عالم میں کہتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو تعبیر کے ہونٹوں پر رکھا اس سے پہلے وہ اس کی سانسوں کی خوشبوں اپنی سانسوں میں اتارتا تعبیر نے جھٹکے سے مزمل خود سے دور کیا اور بیڈ کی طرف رخ کیا اپنا دوپٹہ اوڑھا
"مزمل نہیں پلیز"
تابی اس کی طرف سے اپنا رخ پھیر کر کھڑی ہوگئی تو مزمل اس کو غور سے دیکھتا رہا کچھ بولے دینا اس کے بیڈ روم سے چلا گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment