Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 15

🌹:U r mine
By zeenia sharjeel
Epi 15


"کیا قسم کھا رکھی ہے آپ نے اور ہانی نے کہ مجھ سے بات نہیں کریں گے آپ دونوں۔۔۔ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے جو آپ دونوں ہی مجھ سے خفا ہیں"
آکا بی پی لو ہونے کی وجہ سے صبح سے ہی اپنی طبعیت بہتر فیل نہیں کر رہی تھیں، تو مشعل نے اسکول سے چھٹی لے لی۔۔۔ مگر کل والے واقعے کے بعد ہانی تو مشعل سے ناراض تھا ہی اکا بھی اس سے بات نہیں کر رہی تھی اور مشعل کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ زیادہ دیر تک اکا اور ہانی کی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتی تھی اس لیے بول اٹھی

"کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ کس وجہ سے میں اور ہانی تم سے ناراض ہیں۔۔۔ تم نے بلاوجہ میں کتنی باتیں اریش کو سنائی ہیں،،، وہ مجھ سے پوچھ کر ہانی کو لے کر گیا تھا۔۔۔ کل وہ افس سے جلدی، آرام کرنے کی غرض سے آگیا تھا، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی اس بچے نے ہانی کے اصرار پر اپنی طبیعت کا نہ سوچتے ہوئے اسے باہر گھمانے لے گیا کہ ہانی احساس نہ کرے اور تم نے الٹا اسی کو باتیں سنا دی اور ہانی پر کیسے ہاتھ اٹھا تمھارا، تم نے آج تک کبھی ایسی حرکت نہیں کی مجھے رہ رہ کر افسوس ہو رہا ہے"
آکا کی بات پر وہ شرمندہ تو ہوئی مگر ترنت بولی

"اور آپ کے اس معصوم بچے (اریش) کے پیٹ میں ایک بات نہیں رکی۔۔۔ فورا آپ کے کان بھر دیے اس معصوم نے میرے خلاف"
کل شام والے واقعہ کے وقت اکا وہاں موجود نہیں تھی۔۔۔ یقینا ان کو اریش نے گھر جا کر بتایا ہوگا مشعل نے سوچ کر سر جھٹکا

"اسی بات کا تو افسوس مشعل، یہ باتیں میرے معصوم بچے (اریش) نے مجھے نہیں بتائی وہ تو گھر میں داخل ہوکر چپ کر کے اپنے بیڈ روم میں چلا گیا، کچھ بھی کہے بناء۔۔۔ یہ باتیں مجھے تمہارے معصوم بچے نے بتائی"
آکا کے جتانے پر مشعل چپ ہوگئی

"اب کہاں جا رہی ہیں صبح سے بی پی لو ہے آپ کا"
اکا کو باہر جاتا دیکھ کر مشعل نے پوچھا

"اریش کی بھی طبعیت ٹھیک نہیں۔۔۔ کاڑی اسکی باہر کھڑی ہے یقیناً وہ افس نہیں گیا ہوگا ذرا دیکھ کر تو آو"
اکا مشعل کو بتا کر جانے لگیں

"اکا رہنے دیں آپ،  میں دیکھ لیتی ہو جاکر آپ کی خود کون سی طبیعت ٹھیک ہے"
مشعل نے دوپٹہ اوڑھتے ہوئے کہا

"پھر نوکروں سے بھی اپنے سامنے کھڑے ہو کر کام کروا لینا، بہت ہی ہڈ حرام ہیں سب کے سب، میں تھوڑی دیر لیٹ جاتی ہوں" آکا روم میں جاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ مشعل بیڈ روم میں آئی اور سوتے ہوئے ہانی کو پیار کیا، اس نے پہلی دفعہ ہانی پر ہاتھ اٹھایا تھا مشعل کو افسوس ہونے لگا

"مما کی جان آج کتنا سوئے گیں آپ۔۔۔ اٹھنا نہیں ہے کیا"
مشعل نے ہانی کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوئے کہا

"ہانی آپ سے ناراض ہے آپ نے ہانی کو مارا اور ہانی کے فرینڈ سے بھی لڑائی کی"
ہانی نیند سے بیدار  ہوا تو کل والا واقعہ یاد کرکے بولا

"تو پھر معافی نہیں ملے گی مما کو"
مشعل نے اس کے گال چومتے ہوئے پوچھا

"ہانی نے انکل کو بتایا تھا ہانی کی مما فیری کی طرح ہیں لیکن آپ ان کے سامنے وچ بن گئی"
ہانی کے شکوہ کرنے پر مشعل کو ہنسی آئی

"اوکے مما اپنے بیٹے سے سوری کرلیتی ہیں اور اس کی پسند کا پاسٹا بھی بنائے گی"
مشعل نے ہانی کو مناتے ہوئے کہا

"آپ ہانی کے فرینڈ کو بھی سوری کریں ورنہ وہ آپ کو وچ سمجھے گے"
ہانی نے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا

"اوکے چلیں آپ کی فرینڈ کو بھی سوری کر لیتی ہیں مما۔۔۔ لیکن آپ پہلے ٹیتھ برش کریں جب تک مما آپ کے لئے ناشتہ بنا کے لاتی ہیں"
مشعل نے روم سے نکلتے ہوئے کہا

***

"میں نے منع کیا تھا نا کہ کمرے میں بار بار آنے سے، اب مجھے کوئی بھی ڈسٹرب نہ کرے" مشعل ہانی کو لے کر اریش کے بیڈ روم کی طرف بڑھ رہی تھی تب اس کے کانوں میں اریش کی آواز پڑی اور منہ لٹکاتا ہوا خانساماں کھانے کی ٹرے لے کر روم سے باہر نکلتا ہوا نظر آیا

"کیا ہوا"
مشعل نے خانساماں کا اترا ہوا منہ دیکھ کر سوال کیا

"اریش صاحب کی کل سے طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اوپر سے چڑچڑے اتنے ہورہے ہیں کھڑے کھڑے بےعزتی کر دی نہ ہی کچھ کھا رہے ہیں"
خانسامہ منہ لٹکاتا ہوا واپس کچن میں چلا گیا

"ہانی ہم بعد میں مل لے گے آپ کے فرینڈ سے"
مشعل کو لگا کہیں اس کی بھی عزت افزائی نہ ہوجائے اس لئے اس نے واپسی کی راہ لینے کا سوچا

"مما ہانی اپنے فرینڈ سے ابھی ملے گا" ہانی دوڑتا ہوا روم کے اندر چلا گیا مشعل اس کو پیچھے سے پکارتی رہ گئی مگر جب تک وہ اندر جا چکا تھا مشعل بیڈروم کے باہر ہی رک گئی

"ہانی آگیا اپنے فرینڈ کے پاس"
اریش آنکھیں بند کر کے لیٹا ہوا تھا۔۔ ہانی کی چہکتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی اور دھب کر کے وہ اس کے سینے پر آ گرا

"ہانی یہ کیا طریقہ ہے اس طرح ملتا ہے کوئی اپنے فرینڈ سے"
اس سے پہلے اریش ہانی کو اپنی بانہوں میں سماتا دروازہ کھول کر مشعل اندر آکر بولی

"ہر چیز سے ہی آپ کو پروبلم ہوتی ہے مشعل، مجھے یہ سمجھ نہیں آتا آخر آپ کی پرابلم کیا ہے آپ نے کبھی غور کیا ہے آپ کتنی نک چڑی ٹائپ خاتون ہیں"
ہانی کا اس طرح سینے سے لگنا آریش کو اچھا لگا، بری تو اسے مشعل بھی نہیں لگی۔۔۔ مگر اس طرح ہانی کو ٹوکنا اسے چڑ میں مبتلا کرگیا

" کیا کہا آپ نے مجھے، نک چڑی خاتون"
مشعل کو اپنا یہ نام کچھ خاص پسند نہیں آیا اس لئے اس نے غصے سے پوچھا

"مشعل پلیز میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور اس وقت بھوکے پیٹ میرے اندر اتنا اسٹیمنا نہیں کہ میں آپ کی گولا باری کا مقابلہ کر سکو۔۔۔ میری آدھی طبعیت ہانی کو دیکھ کر ٹھیک ہوگئی ہے، کیا آپ مجھے اور ہانی کو کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ سکتی ہیں"
اریش نے عاجزی سے مشعل سے پوچھا

"اچھا طریقہ ہے گیٹ آؤٹ کہنے کا، مجھے یہاں پر رکنے کا شوق بھی نہیں ہے۔۔۔ اکا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تبھی آپ کے گھر آئی ہو آکا کے کہنے پر۔۔۔ اپنے کل کے رویے پر آپ سے سوری کہنے"
مشعل بول کر بنا سوری بولے روم سے چلی گئی۔۔۔۔ اریش نے سیریز ہو کر ہانی کو دیکھا پھر وہ دونوں زور سے ہنس پڑے

"اپنے صاحب کو بریک فاسٹ میں کیا دیا آپ نے"
مشعل نے کچن میں آکر خانساماں سے پوچھا 

"جی بریک فاسٹ میں چائے اور بریڈ دی تھی مگر انہوں نے کھانے سے انکار کردیا۔۔۔ کل رات سے کچھ نہیں کھایا صاحب نے"
خانساماں نے مشعل کو بتایا

"اچھا دلیہ موجود ہے گھر میں"
مشعل نے خانساماں سے پوچھا

"رہنے دیں مشعل بی بی۔۔۔ صاحب کو دلیہ کچھ خاص پسند نہیں وہ غصہ کریں گے"
خانساماں نے مشعل کو مشورہ دیا

"جو میں پوچھ رہی ہوں آپ وہ بتائے بلکہ ایسا کریں ساری چیزیں نکال کر مجھے دیں، میں خود بناتی ہوں اور جا کر بوا سے کہہ دیں دو گھنٹے کے اندر گھر کی صفائی مکمل ہوجانی چاہیے میں آکر چیک کرتی ہوں"
مشعل نے کھانے کے برتن میں پانی چڑھاتے ہوئے بولا

دلیہ تیار ہوا تو مشعل نے ٹرالی میں پلیٹ، اسپون، ٹشو کے ساتھ تمام لوازمات رکھ کر اریش کے بیڈروم کا دروازہ ناک کیا۔ ۔۔

کمنٹ ان کی آواز پر وہ روم میں داخل ہوئی۔۔۔ ہانی اریش کو کوئی قصہ سنانے میں مصروف تھا

"ہانی آپ اکا کے پاس جائے اب۔ ۔۔ مما آرہی ہیں تھوڑی دیر میں"
مشعل نے ہانی کو بغیر دیکھے مخاطب کیا

"مشعل کیا مجھ میں کانٹے لگے ہیں، جو ہانی کو چبھ جائے گے۔۔۔ آپ اپنا مسئلہ آج بتا ہی دیں"
اریش نے سنجیدگی سے پوچھا

"وہ آپ کو کھانا کھاتے ہوئے ڈسٹرب کرے گا میں آپ ہی کے خیال سے کہہ رہی ہوں"
مشعل نے اریش کو دیکھ کر جواب دیا

"میرا خیال رکھنے کا شکریہ اچھا لگا سن کر، آدھی طبیعت میری ہانی کو دیکھ کر ٹھیک ہوگئی تھی اور اب پوری طبیعت آپ کی بات سن کر"
اریش نے مسکرا کر مشعل کو دیکھا تو وہ سیریز ہو کر اریش کو دیکھنے لگی

"مما ہانی بھی انکل کے ساتھ بیٹھ انکے روم میں کھانا کھائے گا"
ہانی مشعل کو دیکھتے ہوئے بولا

"مشعل پلیز ایکسٹرا پلیٹ اور اسپون منگوائے"
اس سے پہلے مشعل ہانی کو منع کرتی اریش بولا

"وہ خود نہیں کھا سکے گا مجھے کھلانا پڑے گا"
مشعل نے ہچکچاتے ہوئے کہا

"آپ کو ہانی کو کھانا کھلانے میں پروبلم ہے یا میرے روم میں میرے سامنے کھانا کھلانے میں"
اریش نے کل کا بدلا  لیتے ہوئے پوری کسر نکالی۔۔۔۔ مشعل اکا کی ناراضگی کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی بغیر جواب دیے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور دوسری پلیٹ میں ہانی کو دلیہ کھلانے لگی

"یہ آپ نے بنایا ہے" آریش نے دلیہ ٹیسٹ کرتے ہوئے پوچھا تو مشعل نے کنفیوز ہو کر اثبات میں سر ہلایا

"مرچیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے" آریش نے اسے مزید مرچیں لگائی جو کہ اسے لگ بھی گئی۔۔۔ مگر وہ کچھ بولنے کے لئے منہ کھولتی

"نہیں نہیں میرا مطلب ہے بہت اچھا ہے مجھے اس وقت چٹ پٹا ہی کچھ کھانے کا دل چاہ رہا تھا مگر غصے کے علاوہ"
اریش اسکے غضب ناک تیور دیکھ کر بولا اور وہ مشعل کا دل چاہا یہ پورا دلیہ وہ اس کے سر پر الٹ دے

****

تعبیر کی آنکھ کھلی تو کافی دیر تک اس کا دماغ سن رہا چھت کو گھور کر دیکھتے ہوئے وہ کل رات کے بارے میں سوچنے لگی

میں گھر کیسے آئی یاد کیوں نہیں آرہا میں تو ثاقب کو بائے کہنے کے لئے گئی تھی اس کے بعد وہ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے سوچنے لگی مگر جیسے جیسے اس کو باتیں یاد آنے لگی اور جو جو اسے یاد آ رہا تھا اس کو گھبراہٹ شروع ہوگی اس کا جھومنا، مزمل کا گریبان پکڑنا، مزمل سے اوٹ پٹانگ باتیں، مزمل کو گود میں اٹھانے کا کہنا اور کس کرنے کا کہنا۔۔۔۔ یہ سوچ آنے کے بعد تعبیر فوراً اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا

"او میرے خدا مزمل کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں کتنی چھچھوری لڑکی سمجھ رہا ہوگا وہ مجھے۔۔۔ کس طرح اس کی غلط فہمی دور کرو گی میں،، بلکہ اس کے سامنے کون سا منہ لے کر جاؤں گی اب" 

ابھی تابی یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اسکا موبائل بجنے لگا

"کیا ضرورت تھی کل ایسی واہیات قسم کی پارٹی میں جانے کی"
کال ریسیو کرتے ہی ارتضیٰ کی آواز سنائی دی تو تعبیر کو کال ریسیو کرنے پر افسوس ہونے لگا مگر اس نے کال بھی ڈر کی وجہ سے ہی ریسیو کی تھی۔۔۔ اندر سے کہیں اسے اس سے کھڑوس شخص سے ڈر لگتا تھا جو بلاوجہ اس کے پیچھے پڑ چکا تھا

"تو کیا ہر جگہ اب میں تمہاری پرمیشن لے کر آؤں گی جاونگی"
تابی نے اپنے ڈر کو دباتے ہوئے ارتضیٰ سے کہا

"ویسے اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے اسنووائٹ تم اچھے بچوں کی طرح بی ہیو کرو گی،، تو میں بھی تمہیں بہت پیار سے ڈیل کروں گا"
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے کہا

"پیار نہیں تمہیں صرف خوفزدہ کرنا آتا ہے"
تابی کو اسکا اپنے بیڈروم میں آنا یاد آیا تو بےساختہ اس کے منہ سے نکلا

"نہیں مجھے پیار بھی بہت اچھے طریقے سے کرنا آتا ہے، ابھی تم میری شدتوں سے واقف ہی کہاں ہوئی ہو۔۔۔ جس دن میری شدتوں کا ادراک ہوگیا تو اپنے آپ کو دنیا کی خوش نصیب لڑکی سمجھو گی"
ارتضیٰ نے چاہا وہ اس کی محبت کا یقین کرے

"دیکھو مجھے تمہاری ان بے ہودہ باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے، جو سامنے آکر اپنا چہرہ نہیں دیکھا سکتا اس کو اتنے بڑے بڑے دعوے نہیں کرنے چاہیے" تعبیر نے اس کو اس لئے اکسایا تاکہ وہ سامنے آئے اور وہ مزمل سے اس کی اچھی طرح دھلائی کرا سکے

"ہاہاہا اچھی کوشش ہے اسنوائٹ مجھے سامنے بلانے کی۔۔۔ لگتا ہے اب سامنے آنا ہی پڑے گا۔۔۔ اپنے دل کو بس تھوڑا مضبوط کر لینا میری جان کیونکہ جس دن میں تمہارے سامنے آیا گرانٹی ہے اس بات کی وہ دن تمہارے لیے یادگار دنوں میں سے ایک ہوگا"
 ارتضیٰ کی بکواس سن کر اس نے کال کاٹی اور موبائل کو بیڈ پر پھینکا

"یہ لازمی یونیورسٹی کا ہی کوئی گھٹیا انسان ہے۔۔۔ اس کا دن تو میں مزمل سے کہہ کر یاد گار بنواو گی"
تعبیر نے سوچا اور اپنا موڈ بحال کرنے لگی جو کہ ارتضیٰ کی کال سے خراب ہو گیا تھا

****

"آو سائیں یہاں بیٹھو"
ستار میمن نے صوفے کی طرف اشارہ کیا

"شکریہ ستار صاحب آپ نے یاد کیا"
دو دن سے ستار میمن مزمل کو کال کرکے ملنے کیلئے بلا رہا تھا۔۔ آج تعبیر نے یونیورسٹی نہ جانے کے لیے میسج کر کے منع کردیا تھا۔۔ مزمل وہاج سے اپنے گھر والوں سے ملنے کا کہہ کر ستار کے پاس آگیا

"تم تو بھول ہی گئے ہو وہاج کے پاس جاکر ہمیں کہیں دل ول تو نہیں لگ گیا۔۔۔ ویسے دل لگانے والی چیز بھی تو موجود ہے وہاں"  اپنی بات پر ستار نے خود ہی بےباک قہقہہ لگایا مزمل کو تابی کا اس کے منہ سے ذکر اچھا نہیں لگا

"اگر میں وہاج کے پاس جاکر آپ کو بھولا ہوتا تو یوں آپ کے فون کرنے پر نہ اتا اور اگر آپ کو میری وفاداری کا ثبوت چاہئے تو وہ میں چند دن پہلے اسلحہ کی صورت آپ کو دے چکا ہوں"
مزمل نے بغیر لگی لپٹی رکھے ستار کو بولا

"ناراض نہ ہو  سائیں، تم نے تو سمجھو میدان مار لیا اس کا انعام ستار تمہیں ضرور دے گا ابھی سمجھو بابا میں نے تمھیں دوسرے کام کے لئے بلایا ہے"
ستار میمن کام کی بات پر آتے ہوئے بولا

"آپ کام بتائے" مزمل نے ستار کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"وہاج صدیقی کی چھوکری چاہیے ستار میمن کو، اس کو اٹھا لاؤ نہ بابا ہمارے غریب خانے میں"
ستار میمن کی بات پر مزمل نے صوفے ہتہ مضبوطی سے تھام کر اپنا غصہ کنٹرول کیا ورنہ سامنے دیوار پر لگی ہوئی میان میں موجود تلوار کو دیکھ کر، مزمل کا دل چاہا اس تلوار سے ستار میمن کی گردن اتار دےے

"ستار صاحب ایسا فلحال ممکن نہیں ہے اور آپ ایسا سوچئے گا بھی نہیں۔۔۔ صرف دو ٹرک اسلحہ سے کیا ہوتا ہے، آپ وہاج کا مال قبضے میں کریں لڑکی کے چکر میں پڑ گئے تو آپ مال سے بھی جائیں گے۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے وہاج کو کہیں شک نہ ہوجائے اجازت"
مزمل نے اس کا دماغ تابی کی طرف سے ہٹانے کی کوشش کی مگر وہ اس کی غلیظ خصلت سے بھی واقف تھا

"کچھ انتظام کرنا پڑے گا"
وہ باہر نکلتے ہوئے سوچنے لگا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment