🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 14
"یار پارٹی تو زبردست دی ہے اگر آج شراب کے ساتھ شباب بھی مل جائے تو رات رنگین ہوجائے اور پارٹی کا مزا دوبالا ہو جائے" نبیل نے شراب پیتے ہوئے خباثت سے ثاقب کو آنکھ ماری
"ثاقب اوکے اب میں چلتی ہوں، تمہیں بائے کہنے کے لئے آئی تھی"
ثاقب کو اپنی پشت سے تعبیر کی آواز آئی
"اتنی جلدی، ابھی تو ڈنر بھی اسٹارٹ نہیں ہوا یار"
ثاقب نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
"نہیں دیر ہو رہی ہے پھر کبھی سہی" تعبیر جانے کے لئے مڑی نبیل نے ثاقب کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لے کر، جو کہ ادھا ثاقب پی چکا تھا اس میں اپنے گلاس سے وائن جوس اس میں ڈالی
"تعبیر کچھ کھا نہیں کم ازکم جوس تو پیتی جاو"
نبیل تعبیر کو جاتا دیکھ کر جلدی سے بولا،،، تو ثاقب نے گھور کر نبیل کو دیکھا
"نو تھینکس ابھی موڈ نہیں ہے"
تعبیر نے مسکرا کر نبیل کو جواب دیا
"بہت بری بات ہے تعبیر اگر تم ہمارے ساتھ ڈنر نہیں کر رہی تو ایٹلیز جوس تو پی لو، ثاقب خوش ہو جائے گا" نبیل دوبارہ مسکرا کر بولا
"رہنے دو نبیل اگر وہ نہیں پینا چاہ رہی اس کا موڈ نہیں ہوگا"
ثاقب نے نبیل کو تنبہی کرتے ہوئے منع کیا
"مائنڈ نہیں کرنا ثاقب ڈنر کے لیے بہت لیٹ ہوجائے گا،، یہ جوس میں پی لیتی ہوں"
تعبیر نے ثاقب کا دل رکھنے کے لئے جوس کا گلاس ہاتھ میں تھاما اور پینے لگی۔۔۔۔ اس کو ٹیسٹ تھوڑا عجیب لگا مگر وہ چپ کر کے پی گئی۔۔۔ جس پر ثاقب نے نبیل کو ملامت بھری نظروں سے دیکھا، تو نبیل کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ آئی
"آوکے اب میں چلتی ہوں"
جوس کا گلاس خالی کرنے کے بعد تعبیر کہنے لگی
"تعبیر تم ثاقب کی مدر سے نہیں ملی" نبیل نے تعبیر سے پوچھا
"کیا آنٹی آئی ہیں۔۔ مجھے نہیں دکھی"
"ہاں وہ اوپر روم میں ہے تمہارا پوچھ رہی تھی مل لو ان سے"
نبیل نے اوپر روم کی طرف اشارہ کیا تو تعبیر کو چکر آنے لگے
"کیا ہوا تم ٹھیک ہو تمہیں اب گھر جانا چاہیے"
ثاقب نے تعبیر کو دیکھ کر کہا اور گھور کر نبیل کو دیکھا
"تعبیر میں تمہیں آنٹی سے ملوا دیتا ہوں۔۔۔ ثاقب تم اپنے دوسرے گیسٹ دیکھو پلیز"
نبیل نے آنکھ مارتے ہوئے ثاقب سے کہا
"کیا کر رہے ہو یار یہ اس ٹائپ کی لڑکی نہیں"
ثاقب نہ آئستہ آواز میں اسے منع کرنا چاہا
"چپ کر بس آدھے گھنٹے میں واپس آتا ہوں۔۔۔ جب تک تو یہاں سنبھال"
نبیل کہتا ہوا تعبیر کا ہاتھ تھام کر اسے اوپر لے گیا۔ ۔۔۔۔ دور سے مزمل کی نظر کسی لڑکے کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی تعبیر پر پڑی تو وہ وہی رک کر اس کے واپس آنے کا ویٹ کرنے لگا تب اسے ثاقب نظر آیا۔۔۔۔
ثاقب نے مزمل کو دیکھا تو اس کے چہرے کی گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے جو کہ مزمل کی نظروں سے چھپ نہیں سکے،،،، ثاقب زبردستی مسکرا کر ٹائی کی نوب ٹھیک کرنے لگا۔۔۔۔۔ مزمل کچھ سوچتا ہوا ثاقب کے قریب آیا
"میڈم کہاں ہے" مزمل سنجیدگی سے ثاقب کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"تعبیر یہی کہی ہوگی اپنی دوستوں کے پاس، مجھے دکھی نہیں"
اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی مزمل نے لب بینچ کر اسے دیکھا مزمل کا دل چاہا اس کو زمین میں گاڑھ دے کیوکہ وہ دور سے ہی ثاقب نبیل اور تابی کو باتیں کرتا ہوا دیکھ رہا تھا مگر یہ ٹائم اس کو مارنے میں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ۔۔ وہ بھاگتا ہوا سیڑھیوں کے پاس آیا دو تین سڑھیاں اکھٹی چڑھ کر وہ روم تک پہنچا اور دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانے لگا
"کیا پرابلم ہے"
نبیل نے دروازے سے تھوڑا سا سر باہر نکال کر مزمل سے پوچھا
"میڈم کہاں ہے بلاو انہیں"
مزمل ضبط کرتا ہوا نبیل سے بولا
"باہر ویٹ کرو آرہی ہیں تمہاری میڈم تھوڑی دیر میں"
نبیل نے تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر مزمل نے مٹھی بند کرکے پوری شدت سے کھینچ کر مکا اس کی ناک پر جڑ دیا جس پر نبیل بلبلا اٹھا
دروازہ کھول کر مزمل روم کے اندر داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر تعبیر بیٹھی ہوئی ہوش و حواس سے بیگانہ لگ رہی تھی،، اس کی گردن کبھی ایک سائیڈ پر لڑھک رہی تھی کبھی دوسری سائیڈ پر
"تعبیر تم ٹھیک ہو" مزمل نے بے اختیار اس کا نام پکارتا ہوا اسکی طرف بڑھا اس کا چہرہ تھام کر اس سے پوچھنے لگا تعبیر نے نشیلی آنکھوں سے مزمل کو دیکھا
"اوئی اللہ، ایک دو تین چار۔۔۔ تم چار کیسے ہوگئے"
تعبیر تالیاں بجا کر بچوں کی طرح ہنسنے لگی مزمل کو ایک سیکنڈ نہیں لگا یہ سمجھنے میں کہ تعبیر کی یہ حالت کس چیز سے ہوئی ہے
"یو باسٹرڈ تو نے میری ناک توڑدی" نبیل ناک سے خون صاف کرتا ہوا غصے میں مزمل کی طرف بڑھا تو مزمل نے نبیل کو دیکھا اور سامنے پڑی ہوئی کرسی اٹھا کر نبیل کو ماری جس سے وہ نیچے گر پڑا وہ ابھی نیچے ہی پڑا درد میں کر رہا تھا مزمل نے زوردار لات اس کے پیٹ میں ماری اور گریبان پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور اس کے چہرے پر دو زور دار مکے رسید کیے
"واہ میرے شیر، چبا ڈال، آج اسے کچا" تابی بیڈ سے اٹھتی ہوئی مزمل کو بولی اور خود بھی ہوا میں مکے چلانے لگی
"یہ کیا کر رہے ہو بھائی، پلیز چھوڑ دو اس کو"
ثاقب نے کمرے میں آکر مزمل کو روکنا چاہا مزمل نے نبیل کو چھوڑ کر ایک تھپڑ اس کو بھی رسید کیا اور گریبان پکڑ کر بولا
"تف ہے تم جیسے لوگوں پر، جانوروں سے بھی بدتر ہو تم لوگ"
مزمل نے ایک نظر تعبیر کو دیکھا جس کا دوپٹے نیچے گرا ہوا تھا اور وہ ابھی بھی ڈشم ڈشم کی آواز منہ سے نکال کر ہوا میں مکے چلا رہی تھی۔۔۔۔ ثاقب کا گریبان چھوڑ کر وہ تابی کی طرف بڑھا اور اس کا دوپٹہ نیچے سے اٹھا کر تعبیر کے گلے میں ڈالا۔۔۔۔ تعبیر شرماتی ہوئی دوپٹہ منہ میں لے کر مزمل کو دیکھنے لگی
"تعبیر کو پیچھے کے راستے سے لے جاؤ،، یہ دروازہ باہر کی طرف کھلتا ہے" ثاقب نے بےسود پڑے نبیل کو اٹھا کر کہا اور روم سے اسے لے کر باہر نکل گیا
مزمل بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ سب لوگوں کے سامنے سے تعبیر کو اس حالت میں لے کر جائے بلاوجہ میں لوگ متوجہ ہوں۔۔۔ ثاقب اور نبیل کے جانے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا پلٹ کر تعبیر کو دیکھا تو وہ گلے میں دوپٹہ ڈالے دوپٹے کے دونوں سرے ہاتھ سے پکڑ کر جہاز اڑانے میں مصروف تھی۔۔۔ مزمل دونوں ہاتھ باندھ کر اس کی اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھنے لگا
"اوِئے یہاں آو میرے پاس"
تابی نے بڑی مشکلوں سے اپنے قدم زمین پر جمائے ہوئے تھے۔۔۔۔جھومتے ہوئے اس نے مزمل کو دیکھ کر کہا
"فرمائیے"
مزمل قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ نشے سے فل ٹن ہو چکی ہے
"اور قریب آو یار تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گی"
تابی نے لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ خود ہی بے ہنگم قہقہ لگا کر کہا تو مزمل نے اس کو گھور کر دیکھا
"اور قریب آیا تو پھر دور جانا مشکل ہوجائے گا میڈم۔۔۔ آئیے اب ہمہیں گھر چلنا چاہیے"
مزمل نے اس کی حالت کے مدنظر، اسے سہارا دینے کے غرض سے اس کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا
"مطلب کیا ہے تمہارا اوقات میں رہو، ڈرائیور ہو تم میرے"
تابی مشکل سے قدم اٹھاتی ہوئی مزمل کے پاس آئی اور اس کے اگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے بولی۔۔۔تالی مار کر وہ خود بھی گرنے لگی تو مزمل نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر سہارا دیا
"مس تعبیر صدیقی میں آپ کا ڈرائیور ہرگز نہیں ہوں"
مزمل نے اس کو باور کراتے ہوئے کہا اور اسکے بازوں سے ہاتھ ہٹائے تو تابی نے مزمل کا کالر پکڑ لیا
"ڈرائیور نہیں ہو تو کیا ہوا، باڈی گارڈ تو ہو ناں۔۔۔۔ اے ہیرو صرف ڈشم ڈشم کرنا آتا ہے یا پھر رومانس بھی ہاں"
وہ مزمل کا کالر پکڑے، بمشکل اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے مزمل سے پوچھ رہی تھی،، وہ چھوٹی صرف دیکھنے میں لگتی مگر اندر سے پوری تھی، مزمل نے اس کی بات پر اپنی مسکراہٹ دبائی
"میڈم لگتا ہے شراب آپ کے دماغ پر چڑھ گئی ہے،، چلیں آپ کو گاڑی تک لے چلو"
وہ اپنے گریبان سے تابی کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا
"میڈم کے بچے میڈم گاڑی تک خود کیسے جائگی، چلو اپنی میڈم کو گود میں اٹھاو"
آنکھیں بند کرکے وہ مزمل کے سینے پر سر ٹکاتے ہوئے بولی۔۔۔اس کی انوکھی سی فرمائش پر مزمل نے پوری آنکھیں کھول کر اپنی چھوٹی سی میڈم کو دیکھا
"ایسا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے"
مزمل نے جھک کر اس کے کان میں کہا اور دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو تھاما۔۔۔ تو تعبیر نے سر اونچا کرکے اپنی بند آنکھیں کھول کر مزمل کو دیکھا۔۔۔وہ مزمل کے سینے سے لگی ہوئی بےحد اس کے نزدیک کھڑی تھی،،، اس کے سر اونچا کرنے سے مزمل کی نگاہیں بھٹک کر اسکے ہونٹوں پر گئی
"کیا تمہیں کس کرنا ہے"
تابی اس کی نظروں کا زاویہ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ مزمل اس کی بات سن کر زور سے ہنسا
"ہاں ایسا کرنے کو میرا دل چاہ رہا ہے" مزمل نے پوری سچائی سے حقیقت بیان کی۔۔۔اور تعبیر کو پوری طرح اپنے حصار میں لیا کیوکہ تعبیر نے اپنا پورا وزن مزمل پر ڈالا ہوا تھا اگر مزمل اسے نہ تھامتا تو وہ نیچے گری ہوئی ہوتی
"تو کر کیوں نہیں رہے"
تابی نے نشیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"کرلو"
مزمل نے سنجیدگی سے اجازت لی تو تابی نے دائیں گال پر انگلی رکھ کر جگہ منتخب کی
"نہیں یہاں نہیں کرنا"
مزمل نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر تابی کے ہونٹوں پر رکھا اور سنجیدگی سے تابی کو دیکھا
"پھر ہم بےبی کا نام کیا رکھیں گے"
تابی نے کنفیوز ہوتے ہوئے مزمل سے پوچھا
"بےبی کس کا بےبی"
مزمل نے الجھن بھری نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھا
"ہمارا بےبی ڈفر، تمہیں تو کچھ نہیں معلوم"
تابی نے غصے میں اسے دیکھا
"اور مجھے آپ کے ناخذ علم کے بارے میں جان کر، اب خود پر ترس آرہا ہے چلے گھر چلتے ہیں" مزمل نے اس کو بانہوں میں اٹھایا اور پچھلے راستے سے دروازہ کھول کر باہر نکلا
"تمہیں معلوم ہے تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو، مگر میں یہ تم کو کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ گزارا ہوا وقت بہت اچھا لگتا ہے،، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ آج میں یہاں پر آئی اس لئے کہ تم میرے ساتھ رہو،، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی"
وہ مسلسل نشے میں بڑبڑائے جارہی تھی
مزمل ڈرائیونگ کے دوران مسلسل اسکی بڑبڑاہٹ سن رہا تھا گھر آیا تو مزمل نے گاڑی روکی۔۔تابی اب خاموش ہو چکی تھی اس کی آنکھیں بند تھی
"کیا ہوا مزمل بھائی بی بی ٹھیک ہیں" مزمل نے تابی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا تو گارڈ نے آکر پوچھا
"ہاں طبیعت خراب ہوگئی تھی،، نیند لے گیں تو صبح تک ٹھیک ہوجائے گیں۔۔۔ وہاج سر کہاں ہے" مزمل نے گارڈ کو دیکھ کر پوچھا
"وہ تھوڑی دیر پہلے آئے تھے۔۔۔ بی بی جی اور آپ کا پوچھ رہے تھے،، ابھی روم میں گئے ہیں"
گارڈ نے مزمل کو جواب دیا
"ٹھیک ہے میں مل لیتا ہوں ان سے بھی"
مزمل کہتا ہوا تابی کو اس کے روم لایا اور اسے بیڈ پر لٹایا۔۔۔ ہیل سے اس کے پاؤں آزاد کئے اور دوپٹہ سائڈ پر رکھا تو اس کی نظر دوبارہ تابی کے گلابی ہونٹوں پر گئی
"پھر بےبی کا نام کیا رکھے گے"
تابی کی بات یاد آئی تو اس کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ دوڑ گئی
وہ تابی کو کمفرٹر اڑاتا اس کے روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 14
"یار پارٹی تو زبردست دی ہے اگر آج شراب کے ساتھ شباب بھی مل جائے تو رات رنگین ہوجائے اور پارٹی کا مزا دوبالا ہو جائے" نبیل نے شراب پیتے ہوئے خباثت سے ثاقب کو آنکھ ماری
"ثاقب اوکے اب میں چلتی ہوں، تمہیں بائے کہنے کے لئے آئی تھی"
ثاقب کو اپنی پشت سے تعبیر کی آواز آئی
"اتنی جلدی، ابھی تو ڈنر بھی اسٹارٹ نہیں ہوا یار"
ثاقب نے تعبیر کو دیکھ کر کہا
"نہیں دیر ہو رہی ہے پھر کبھی سہی" تعبیر جانے کے لئے مڑی نبیل نے ثاقب کے ہاتھ سے جوس کا گلاس لے کر، جو کہ ادھا ثاقب پی چکا تھا اس میں اپنے گلاس سے وائن جوس اس میں ڈالی
"تعبیر کچھ کھا نہیں کم ازکم جوس تو پیتی جاو"
نبیل تعبیر کو جاتا دیکھ کر جلدی سے بولا،،، تو ثاقب نے گھور کر نبیل کو دیکھا
"نو تھینکس ابھی موڈ نہیں ہے"
تعبیر نے مسکرا کر نبیل کو جواب دیا
"بہت بری بات ہے تعبیر اگر تم ہمارے ساتھ ڈنر نہیں کر رہی تو ایٹلیز جوس تو پی لو، ثاقب خوش ہو جائے گا" نبیل دوبارہ مسکرا کر بولا
"رہنے دو نبیل اگر وہ نہیں پینا چاہ رہی اس کا موڈ نہیں ہوگا"
ثاقب نے نبیل کو تنبہی کرتے ہوئے منع کیا
"مائنڈ نہیں کرنا ثاقب ڈنر کے لیے بہت لیٹ ہوجائے گا،، یہ جوس میں پی لیتی ہوں"
تعبیر نے ثاقب کا دل رکھنے کے لئے جوس کا گلاس ہاتھ میں تھاما اور پینے لگی۔۔۔۔ اس کو ٹیسٹ تھوڑا عجیب لگا مگر وہ چپ کر کے پی گئی۔۔۔ جس پر ثاقب نے نبیل کو ملامت بھری نظروں سے دیکھا، تو نبیل کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ آئی
"آوکے اب میں چلتی ہوں"
جوس کا گلاس خالی کرنے کے بعد تعبیر کہنے لگی
"تعبیر تم ثاقب کی مدر سے نہیں ملی" نبیل نے تعبیر سے پوچھا
"کیا آنٹی آئی ہیں۔۔ مجھے نہیں دکھی"
"ہاں وہ اوپر روم میں ہے تمہارا پوچھ رہی تھی مل لو ان سے"
نبیل نے اوپر روم کی طرف اشارہ کیا تو تعبیر کو چکر آنے لگے
"کیا ہوا تم ٹھیک ہو تمہیں اب گھر جانا چاہیے"
ثاقب نے تعبیر کو دیکھ کر کہا اور گھور کر نبیل کو دیکھا
"تعبیر میں تمہیں آنٹی سے ملوا دیتا ہوں۔۔۔ ثاقب تم اپنے دوسرے گیسٹ دیکھو پلیز"
نبیل نے آنکھ مارتے ہوئے ثاقب سے کہا
"کیا کر رہے ہو یار یہ اس ٹائپ کی لڑکی نہیں"
ثاقب نہ آئستہ آواز میں اسے منع کرنا چاہا
"چپ کر بس آدھے گھنٹے میں واپس آتا ہوں۔۔۔ جب تک تو یہاں سنبھال"
نبیل کہتا ہوا تعبیر کا ہاتھ تھام کر اسے اوپر لے گیا۔ ۔۔۔۔ دور سے مزمل کی نظر کسی لڑکے کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی تعبیر پر پڑی تو وہ وہی رک کر اس کے واپس آنے کا ویٹ کرنے لگا تب اسے ثاقب نظر آیا۔۔۔۔
ثاقب نے مزمل کو دیکھا تو اس کے چہرے کی گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے جو کہ مزمل کی نظروں سے چھپ نہیں سکے،،،، ثاقب زبردستی مسکرا کر ٹائی کی نوب ٹھیک کرنے لگا۔۔۔۔۔ مزمل کچھ سوچتا ہوا ثاقب کے قریب آیا
"میڈم کہاں ہے" مزمل سنجیدگی سے ثاقب کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"تعبیر یہی کہی ہوگی اپنی دوستوں کے پاس، مجھے دکھی نہیں"
اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی مزمل نے لب بینچ کر اسے دیکھا مزمل کا دل چاہا اس کو زمین میں گاڑھ دے کیوکہ وہ دور سے ہی ثاقب نبیل اور تابی کو باتیں کرتا ہوا دیکھ رہا تھا مگر یہ ٹائم اس کو مارنے میں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ۔۔ وہ بھاگتا ہوا سیڑھیوں کے پاس آیا دو تین سڑھیاں اکھٹی چڑھ کر وہ روم تک پہنچا اور دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانے لگا
"کیا پرابلم ہے"
نبیل نے دروازے سے تھوڑا سا سر باہر نکال کر مزمل سے پوچھا
"میڈم کہاں ہے بلاو انہیں"
مزمل ضبط کرتا ہوا نبیل سے بولا
"باہر ویٹ کرو آرہی ہیں تمہاری میڈم تھوڑی دیر میں"
نبیل نے تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر مزمل نے مٹھی بند کرکے پوری شدت سے کھینچ کر مکا اس کی ناک پر جڑ دیا جس پر نبیل بلبلا اٹھا
دروازہ کھول کر مزمل روم کے اندر داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر تعبیر بیٹھی ہوئی ہوش و حواس سے بیگانہ لگ رہی تھی،، اس کی گردن کبھی ایک سائیڈ پر لڑھک رہی تھی کبھی دوسری سائیڈ پر
"تعبیر تم ٹھیک ہو" مزمل نے بے اختیار اس کا نام پکارتا ہوا اسکی طرف بڑھا اس کا چہرہ تھام کر اس سے پوچھنے لگا تعبیر نے نشیلی آنکھوں سے مزمل کو دیکھا
"اوئی اللہ، ایک دو تین چار۔۔۔ تم چار کیسے ہوگئے"
تعبیر تالیاں بجا کر بچوں کی طرح ہنسنے لگی مزمل کو ایک سیکنڈ نہیں لگا یہ سمجھنے میں کہ تعبیر کی یہ حالت کس چیز سے ہوئی ہے
"یو باسٹرڈ تو نے میری ناک توڑدی" نبیل ناک سے خون صاف کرتا ہوا غصے میں مزمل کی طرف بڑھا تو مزمل نے نبیل کو دیکھا اور سامنے پڑی ہوئی کرسی اٹھا کر نبیل کو ماری جس سے وہ نیچے گر پڑا وہ ابھی نیچے ہی پڑا درد میں کر رہا تھا مزمل نے زوردار لات اس کے پیٹ میں ماری اور گریبان پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور اس کے چہرے پر دو زور دار مکے رسید کیے
"واہ میرے شیر، چبا ڈال، آج اسے کچا" تابی بیڈ سے اٹھتی ہوئی مزمل کو بولی اور خود بھی ہوا میں مکے چلانے لگی
"یہ کیا کر رہے ہو بھائی، پلیز چھوڑ دو اس کو"
ثاقب نے کمرے میں آکر مزمل کو روکنا چاہا مزمل نے نبیل کو چھوڑ کر ایک تھپڑ اس کو بھی رسید کیا اور گریبان پکڑ کر بولا
"تف ہے تم جیسے لوگوں پر، جانوروں سے بھی بدتر ہو تم لوگ"
مزمل نے ایک نظر تعبیر کو دیکھا جس کا دوپٹے نیچے گرا ہوا تھا اور وہ ابھی بھی ڈشم ڈشم کی آواز منہ سے نکال کر ہوا میں مکے چلا رہی تھی۔۔۔۔ ثاقب کا گریبان چھوڑ کر وہ تابی کی طرف بڑھا اور اس کا دوپٹہ نیچے سے اٹھا کر تعبیر کے گلے میں ڈالا۔۔۔۔ تعبیر شرماتی ہوئی دوپٹہ منہ میں لے کر مزمل کو دیکھنے لگی
"تعبیر کو پیچھے کے راستے سے لے جاؤ،، یہ دروازہ باہر کی طرف کھلتا ہے" ثاقب نے بےسود پڑے نبیل کو اٹھا کر کہا اور روم سے اسے لے کر باہر نکل گیا
مزمل بھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ سب لوگوں کے سامنے سے تعبیر کو اس حالت میں لے کر جائے بلاوجہ میں لوگ متوجہ ہوں۔۔۔ ثاقب اور نبیل کے جانے کے بعد اس نے دروازہ بند کیا پلٹ کر تعبیر کو دیکھا تو وہ گلے میں دوپٹہ ڈالے دوپٹے کے دونوں سرے ہاتھ سے پکڑ کر جہاز اڑانے میں مصروف تھی۔۔۔ مزمل دونوں ہاتھ باندھ کر اس کی اوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھنے لگا
"اوِئے یہاں آو میرے پاس"
تابی نے بڑی مشکلوں سے اپنے قدم زمین پر جمائے ہوئے تھے۔۔۔۔جھومتے ہوئے اس نے مزمل کو دیکھ کر کہا
"فرمائیے"
مزمل قدم بڑھاتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ نشے سے فل ٹن ہو چکی ہے
"اور قریب آو یار تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گی"
تابی نے لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ خود ہی بے ہنگم قہقہ لگا کر کہا تو مزمل نے اس کو گھور کر دیکھا
"اور قریب آیا تو پھر دور جانا مشکل ہوجائے گا میڈم۔۔۔ آئیے اب ہمہیں گھر چلنا چاہیے"
مزمل نے اس کی حالت کے مدنظر، اسے سہارا دینے کے غرض سے اس کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا
"مطلب کیا ہے تمہارا اوقات میں رہو، ڈرائیور ہو تم میرے"
تابی مشکل سے قدم اٹھاتی ہوئی مزمل کے پاس آئی اور اس کے اگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر تالی مارتے ہوئے بولی۔۔۔تالی مار کر وہ خود بھی گرنے لگی تو مزمل نے اسے دونوں بازوں سے پکڑ کر سہارا دیا
"مس تعبیر صدیقی میں آپ کا ڈرائیور ہرگز نہیں ہوں"
مزمل نے اس کو باور کراتے ہوئے کہا اور اسکے بازوں سے ہاتھ ہٹائے تو تابی نے مزمل کا کالر پکڑ لیا
"ڈرائیور نہیں ہو تو کیا ہوا، باڈی گارڈ تو ہو ناں۔۔۔۔ اے ہیرو صرف ڈشم ڈشم کرنا آتا ہے یا پھر رومانس بھی ہاں"
وہ مزمل کا کالر پکڑے، بمشکل اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے مزمل سے پوچھ رہی تھی،، وہ چھوٹی صرف دیکھنے میں لگتی مگر اندر سے پوری تھی، مزمل نے اس کی بات پر اپنی مسکراہٹ دبائی
"میڈم لگتا ہے شراب آپ کے دماغ پر چڑھ گئی ہے،، چلیں آپ کو گاڑی تک لے چلو"
وہ اپنے گریبان سے تابی کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا
"میڈم کے بچے میڈم گاڑی تک خود کیسے جائگی، چلو اپنی میڈم کو گود میں اٹھاو"
آنکھیں بند کرکے وہ مزمل کے سینے پر سر ٹکاتے ہوئے بولی۔۔۔اس کی انوکھی سی فرمائش پر مزمل نے پوری آنکھیں کھول کر اپنی چھوٹی سی میڈم کو دیکھا
"ایسا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے"
مزمل نے جھک کر اس کے کان میں کہا اور دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو تھاما۔۔۔ تو تعبیر نے سر اونچا کرکے اپنی بند آنکھیں کھول کر مزمل کو دیکھا۔۔۔وہ مزمل کے سینے سے لگی ہوئی بےحد اس کے نزدیک کھڑی تھی،،، اس کے سر اونچا کرنے سے مزمل کی نگاہیں بھٹک کر اسکے ہونٹوں پر گئی
"کیا تمہیں کس کرنا ہے"
تابی اس کی نظروں کا زاویہ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی۔۔۔ مزمل اس کی بات سن کر زور سے ہنسا
"ہاں ایسا کرنے کو میرا دل چاہ رہا ہے" مزمل نے پوری سچائی سے حقیقت بیان کی۔۔۔اور تعبیر کو پوری طرح اپنے حصار میں لیا کیوکہ تعبیر نے اپنا پورا وزن مزمل پر ڈالا ہوا تھا اگر مزمل اسے نہ تھامتا تو وہ نیچے گری ہوئی ہوتی
"تو کر کیوں نہیں رہے"
تابی نے نشیلی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"کرلو"
مزمل نے سنجیدگی سے اجازت لی تو تابی نے دائیں گال پر انگلی رکھ کر جگہ منتخب کی
"نہیں یہاں نہیں کرنا"
مزمل نے اس کی کمر سے ہاتھ ہٹا کر تابی کے ہونٹوں پر رکھا اور سنجیدگی سے تابی کو دیکھا
"پھر ہم بےبی کا نام کیا رکھیں گے"
تابی نے کنفیوز ہوتے ہوئے مزمل سے پوچھا
"بےبی کس کا بےبی"
مزمل نے الجھن بھری نظروں سے اس کو دیکھ کر پوچھا
"ہمارا بےبی ڈفر، تمہیں تو کچھ نہیں معلوم"
تابی نے غصے میں اسے دیکھا
"اور مجھے آپ کے ناخذ علم کے بارے میں جان کر، اب خود پر ترس آرہا ہے چلے گھر چلتے ہیں" مزمل نے اس کو بانہوں میں اٹھایا اور پچھلے راستے سے دروازہ کھول کر باہر نکلا
"تمہیں معلوم ہے تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو، مگر میں یہ تم کو کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ مجھے تمہارے ساتھ گزارا ہوا وقت بہت اچھا لگتا ہے،، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی۔۔۔ آج میں یہاں پر آئی اس لئے کہ تم میرے ساتھ رہو،، مگر میں تم کو یہ کبھی بھی نہیں بتانے والی"
وہ مسلسل نشے میں بڑبڑائے جارہی تھی
مزمل ڈرائیونگ کے دوران مسلسل اسکی بڑبڑاہٹ سن رہا تھا گھر آیا تو مزمل نے گاڑی روکی۔۔تابی اب خاموش ہو چکی تھی اس کی آنکھیں بند تھی
"کیا ہوا مزمل بھائی بی بی ٹھیک ہیں" مزمل نے تابی کو گود میں اٹھایا ہوا تھا تو گارڈ نے آکر پوچھا
"ہاں طبیعت خراب ہوگئی تھی،، نیند لے گیں تو صبح تک ٹھیک ہوجائے گیں۔۔۔ وہاج سر کہاں ہے" مزمل نے گارڈ کو دیکھ کر پوچھا
"وہ تھوڑی دیر پہلے آئے تھے۔۔۔ بی بی جی اور آپ کا پوچھ رہے تھے،، ابھی روم میں گئے ہیں"
گارڈ نے مزمل کو جواب دیا
"ٹھیک ہے میں مل لیتا ہوں ان سے بھی"
مزمل کہتا ہوا تابی کو اس کے روم لایا اور اسے بیڈ پر لٹایا۔۔۔ ہیل سے اس کے پاؤں آزاد کئے اور دوپٹہ سائڈ پر رکھا تو اس کی نظر دوبارہ تابی کے گلابی ہونٹوں پر گئی
"پھر بےبی کا نام کیا رکھے گے"
تابی کی بات یاد آئی تو اس کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ دوڑ گئی
وہ تابی کو کمفرٹر اڑاتا اس کے روم سے باہر نکل گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment