🌹: U r mime
By zeenia sharjeel
Epi # 13
"کیسا لگا آپ کو اپنا بیڈ روم"
مریم اپنے اور یاور کا مشترکہ بیڈروم میں کھڑی تھی تب ارتضیٰ روم میں آیا اور مریم کے کندھے تھام کر پوچھا
"بہت پیارا پورے گھر کا تم نے نقشہ بدل دیا مگر اس گھر کے ایک ایک کونے سے میری بہت ساری یادیں جڑی ہیں، جو یہاں آتے ہیں دماغ میں تازہ ہو گئی"
مریم نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے بولا
"آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میں کیا سمجھو آپ کو پسند نہیں آئی یہ چینجنگ"
مریم کو آنسو صاف کرتے دیکھ کر ارتضیٰ نے سوال کیا
"کیوں نہیں پسند آیا سب کچھ بہت اچھا ہے۔۔۔ بس تمہارے بابا، عائشہ اور تمہاری اسنووائٹ کی یاد آگئی تو اس لیے آنکھ بھر آئی"
مریم کے تعبیر کو اسنووائٹ کہنے پر ارتضیٰ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
"آپ کو یہ نام ابھی تک یاد ہے"
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے مریم سے پوچھا
"اس میں بھولنے والی کون سی بات ہے، ہر وقت تو تم میری اسنووائٹ میری سنو وائٹ کہہ کر اسے پورے گھر میں گھومتے تھے"
مریم کی بات پر وہ ایک دفعہ پھر مسکرایا
"اب کیسی لگتی ہے بڑی ہو کر"
مریم نے ارتضیٰ سے سوال کیا
"آپ خود چل کر دیکھ لیے گا"
ارتضیٰ نے مریم سے بولا
"کیا مطلب"
مریم نے نہ سمجھنے والے انداز میں ارتضیٰ کی طرف دیکھا
"مطلب یہ کہ اب وقت قریب آگیا ہے کہ ہم اسرار صاحب سے اپنی امانت واپس لے کر آئے"
ارتضیٰ نے آنکھوں میں سنجیدگی لیے مریم کو دیکھ کر کہا
ارتضیٰ نے اپنا گھر جوکہ یاور کے زمانے میں پرانے طرز کا بنا ہوا تھا، کراچی شفٹ ہونے کے بعد دوبارہ سے نئے طرز کا بنوایا اور اب رنگ و روغن سے فارغ ہوکر اسے فرنیچر خریدنا تھا اس کے بعد ہی مریم کو یہاں شفٹ کرنا تھا اور اس کے بعد وہ تعبیر کو بھی لانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
وہ تعبیر کو کل اچھی طرح اپنے انداز میں سمجھا کر آیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ ارتضیٰ سے بری طرح خوفزدہ بھی ہوگئی تھی۔۔۔۔ مگر وہ خوف وقتی تھا یا پھر مزمل سے اس کی محبت گہری۔۔۔ خیر جو بھی تھا یہ تو پکا تھا کہ تعبیر کو ارتضیٰ کے پاس ہی آنا تھا۔ ۔۔ اب ارتضیٰ کو اپنے دماغ میں سوچے ہوئے پلان پر عمل کرنا تھا
***
"ہانی کہاں ہیں آپ" دونوں کمرے چیک کرنے کے بعد مشعل نے اریش کے گھر کا رخ کیا
اسکول سے آنے بعد اسے ٹیوشن بھی مل گئی تھی اس لئے چار بجے تک اس کا گھر واپس آنا ہوتا۔۔۔ ویسے تو جب سے وہ کوارٹر میں شفٹ ہوئے تھے حالات پہلے سے کافی بہتر ہوگئے تھے اور اریش نے جو سیلری اکا کے لئے مقرر کی تھی اس کے بعد مشعل کو جاب کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی مگر اس کے باوجود وہ کوشش کرتی تھی کہ کم از کم ہانی کا خرچہ خود اٹھائے
"اکا، ہانی نہیں دیکھ رہا۔۔ کہاں ہے وہ، میں نے آپ سے کہا ہے اریش کے آنے سے پہلے، میرے آنے کے بعد ہانی کو کوارٹر بھیج دیا کریں"
مشعل نے آکا کو کچن سے نکلتے دیکھ کر بولا
"مشعل سانس لو بیٹا آجائے گا ہانی تھوڑی دیر میں پھر بھیج دیتی ہوں اسے گھر"
اکا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"کیا مطلب آجائے گا کہا گیا ہے ہانی" مشعل نے پریشان ہو کر اکا سے پوچھا
"آریش آج جلدی آفس سے آگیا تھا تو ہانی ضد کرنے لگا آئس کریم کھانے کی،،، تین دن پہلے بھی تم نے جانے نہیں دیا تھا اسے، تو اریش مجھ سے پوچھ کر ہانی کو اپنے ساتھ لے کر گیا"
اکا نے تحمل سے مشعل کو بتایا اور مشعل اکا کے تحمل کو دیکھ کر حیران رہ گئی
"اکا آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں، ہانی کو آپ نے کسی اجنبی کے ساتھ بھیج دیا اور اتنے سکون سے مجھے بتا رہی ہیں"
مشعل نے حیرانگی سے اکا کو دیکھا
"کیا ہوگیا ہے مشعل اریش کونسا اجنبی ہے اور زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہانی صرف تمہارا ہی بیٹا نہیں ہے، جاو گھر جاکر آرام کرو۔۔۔ ہانی آجائے گا تھوڑی دیر میں تو بھیج دوں گی اسے"
اکا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا تو مشعل گھر سے باہر نکل گئی
سامنے گیٹ سے گاڑی آتی دکھائی دی جس میں اریش اور ہانی بیٹھے ہوئے تھے مشعل اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی کار کی طرف بڑھی
"ماما دیکھیں انکل نے ہانی کو کتنے سارے ٹوائز دلائے اور آئیسکریم بھی کھلائی ہے"
ہانی مشعل کو دیکھ کر چہکتا ہوا بتا رہا تھا اور بہت خوش لگ رہا تھا۔۔۔۔ اریش کار سے اتر کر مسکراتا ہوا مشعل کے پاس آیا۔۔۔ اس کی مسکراہٹ مشعل کو احساس کمتری میں مبتلا کرگئی جیسے وہ جتا رہا ہوں کہ دیکھو تم یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی جو تمہارا بچہ چاہتا ہے، مشعل کو مزید غصہ آنے لگا
"کیسی ہیں آپ" اریش مشعل کے پاس آ کر پوچھنے لگا
"کس کی پرمیشن سے لے کر گئے آپ ہانی کو"
مشعل نے اریش کے سوال کو اگنور کرتے ہوئے سنجیدگی سے اس سے پوچھا
"ہانی تین دن پہلے بھی کہہ رہا تھا پھر اج اس نے اصرار کیا تو مجھے اچھا نہیں لگا اسے منع کرنا اور سچ پوچھیں تو مجھے ہانی کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے، آپ دیکھیں کتنا خوش ہوگیا ہے"
اریش نے اس کے چہرے پر سخت تاثرات کو اگنور کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا
"آئندہ میرے بیٹے کو مجھ سے پوچھے بغیر آپ کہیں نہیں لے کر جائے گے اور یہ چیزیں دلا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں یہ مہنگے ٹوائز افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔ نہیں چاہیے مجھے اپنے بیٹے کے لئے آپ سے بھیک"
مشعل نے غصے میں اریش کو سنائی
"مشعل میں ہانی کو اکا کی اجازت سے لے کر گیا تھا اور رہی بات ان کھلونوں کی مجھے آپ کی سوچ پر بہت افسوس ہو رہا ہے اب یہ سمجھ رہی ہیں کہ یہ چیزیں میں نے ہانی کو ترس کھا کر دلائی ہیں، ایسا سوچتی ہیں آپ میرے بارے میں"
اریش نے مشعل سے شکوہ کیا
"اگر ترس کھا کر نہیں دلائی تو مجھے اپنے بیٹے کے لئے کسی زکوة یا خیرات کی بھی ضرورت نہیں ہے"
مشعل کی بات پر اب اریش کو غصہ آیا
"آپ مسلسل غلط بیانی کررہی ہیں مثعل"
اپنے لہجے میں غصہ سموئے ہوئے اریش نے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"میرے بیٹے سے آپ دور رہیں،،، ہانی انکل کو ان کی چیزیں واپس کرو"
مشعل اپنے اریش کو تنبہی کرنے کے بعد ہانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"مما یہ ہانی کے ٹوائز ہیں،،، ہانی ان سے کھیلے گا"
ہانی نے مشعل کو صاف انکار کردیا
"بیٹا آپ یہ ٹوآئز انکل کو واپس کریں مما آپ کو ایسے ہی کو ٹوائز لا کر دیں گی"
آب کے مشعل نے ضبط کرنے کے باوجود سختی سے بولا۔۔۔ اریش حیران ہوکر مشعل کا غصہ دیکھ رہا تھا جو اس کی سمجھ سے باہر تھا
"ہانی ٹوائز واپس نہیں دے گا آپ گندی ہو،، انکل سے لڑ رہی ہو"
ہانی نے ضدی لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
"مشعل میں ہانی کو آب کچھ نہیں دلاؤں گا مگر آپ پلیز یہ ٹوائز اس سے نہیں لیں۔۔۔۔ یہ سب ہانی نے اپنی پسند سے لیے ہیں اور میں نے بہت دل سے اسے خوش ہوکر دلائے ہیں۔۔۔ آپ اس طرح کریں گی تو ہم دونوں ہی ہرٹ ہوگے"
آریش جو اتنی دیر سے مشعل اور ہانی کی باتیں سن رہا تھا بیچ میں بولا
"یہاں دو یہ ٹوائز" مشعل نے اریش کی بات اگنور کرتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی سے ٹوائز لیے
"یہ ہانی کے ٹوئز ہیں مما پلیز ہانی کو دیجئے"
ہانی روتا ہوا مشعل سے شاپر واپس لینے لگا تو مشعل نے زور دار تھپڑ ہانی کو لگا دیا
"کیا آپ کا دماغ خراب ہوگیا آپ کس طرح کا بی ہیو کر رہی ہیں اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ" اریش کو مشعل کی حرکت پر غصہ آیا تو اس نے چیخ کر مشعل سے کہا
"اس طرح ری ایکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو،، باپ نہیں ہیں آپ اس کے اور میرے بیٹے سے دور رہے آپ"
مشعل نے ٹوائز کا شاپر اریش کے آگے پھینکتے ہوئے کہا اور روتے ہوئے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر کوارٹر کی طرف چلی گئی۔۔۔ جبکہ اریش لب بینچ کر اس کو دور جاتا ہوا دیکھتا رہا
***
مزمل لان میں ٹہلتا ہوا تابی کا ویٹ کر رہا تھا اسے کسی فرینڈ کے برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا
اس دن کے بعد سے مزمل وہاج کے کہنے پر جاب چھوڑ کر تو نہیں گیا مگر تعبیر اس سے ناراض تھی کوئی بات نہیں کر رہی تھی، مزمل نے ایک دو دفعہ خود سے بات کرنے کی کوشش کی مگر تابی نے ہاں ہوں کر کے جواب دیا تو مزمل نے بھی خاموشی میں عافیت جانی
ہیل آواز پر مزمل چونکا سامنے سے آتی ہوئی تعبیر پر اس کی نظر پڑی تو مزمل نے ناگوار نظروں سے تابی کا جائزہ لیا۔۔۔۔ ٹائٹ جینز کے اوپر ریڈ کلر کا ٹآپ جس سلیوز نہ ہونے کے برابر تھی گلا گہرا نہ ہونے کے باوجود مزمل کی نظریں۔۔۔
"کوئی اور ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں آپ کے پاس"
مزمل نے سنجیدگی سے تعبیر کو دیکھ کر کہا، مزمل نے اس کو ابھی تک ایسی ڈریسنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
"کیو ان میں کیا برائی ہے"
تعبیر کو دل میں خوشی ہوئی مزمل کا اس طرح ٹوکنا اسے اپنے پن کا احساس دلایا گیا، وہ تابی کو چھوڑ کر جا رہا تھا اس لئے تابی بھی اس سے ناراض تھی مگر آج اس کے ایک جملے نے اس کی ناراضگی کو بھی ختم کر دیا
"بتاؤ نہ کیا برائی ہے"
مزمل اس کے جواب میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تابی نے دوبارہ پوچھا تو مزمل چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کا بازو تھام کر اسے لان کے عقبی سائڈ پر لے گیا جہاں شیشہ لگا ہوا تھا شیشے کے سامنے تابی کو کھڑا کیا اور خود تابی کے پشت پر کھڑا ہوا
"کیا اچھائی لگ رہی ہے آپ کو ان کپڑوں میں"
مزمل شیشے میں دیکھتا ہوا تھا تابی سے بولا تعبیر نے مڑ کر مزمل کو دیکھا
"یعنی تمہیں میں اچھی نہیں لگ رہی جواب دو"
تعبیر نے منہ بناتے ہوئے مزمل سے کہا
"وہاں میرے علاوہ بھی اور لوگ ہوں گے جو آپ کو دیکھیں گے اور ان کا دیکھنا مجھے اچھا نہیں لگے گا" مزمل نے صاف گوئی سے جواب دیا تو تابی مسکرائی
"مزمل آج سب لڑکیوں نے پارٹی میں ایسی ہی ڈریسنگ کی ہوگی وہاں میں کمیز شلوار پہن کر نمونہ لگو گی"
تعبیر اپنی ڈریسنگ کی وضاحت دی۔۔۔۔ پرسنلی اسے بھی اس طرح کے ڈریسنگ کچھ خاص پسند نہیں تھی پارٹیز یا پکنک کی حد تک وہ جینز وغیرہ پہن لیا کرتی تھی
"ان سب نمونوں میں آپ ہی منفرد لگیں گی۔۔۔ میری بات مان لیں آپ،،، ورنہ ایسے تو میں آپ کو نہیں لے کر جانے والا"
مزمل نے کندھے اچکا کر کہا تو تابی بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی
"ٹھیک ہے تمہاری بات ایک شرط پر مانو گی تمہاری پسند کی ڈریسنگ میں تمہیں میری تعریف کرنی ہوگی" تعبیر نے اپنی شرط بتائی
"واپسی میں ہمہیں دیر ہوجائے گی، آپ دس منٹ کے اندر واپس آئے"
مزمل نے ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے تابی سے کہا تو تابی چلی گئی
مزمل کار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا تو تابی تھوڑی دیر میں واپس آئی۔۔۔۔ مزمل کی نظر اس پر ٹھہر گئی،،، انگوری رنگ کی شارٹ شرٹ جس پر ڈل گولڈن کلر کا نفیس کام ہوا تھا ہم رنگ دوپٹے اور ٹراؤزر میں، وہ بے حد حسین لگ رہی تھی
تعبیر نے اس کو اسمائل دے کر سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔ وہ مزمل کی آنکھوں میں اپنے لیے ستائش محسوس کر چکی تھی،،، مگر لفظوں میں بھی سننا چاہتی تھی
"کیا ہوا آج پیاری لگ رہی ہو"
تعبیر نے اس کا دیکھنا محسوس کیا تو خود ہی مسکراہٹ دبا کر پوچھا،، مزمل اس کے قریب آیا
"پیاری نہیں بہت پیاری"
مزمل نے اس کے کیچڑ میں قید بالوں کو آزاد کرتے ہوئے کہا اس طرح کرنے سے تابی کی کمر بالوں سے ڈھک گئی مزمل کی اس حرکت پر اور اس کی نظروں کی تپش سے تابی نظریں جھکی
"چلئیے چلتے ہیں" مزمل نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تو تابی کار میں بیٹھ گئی مزمل نے سیٹ سنبھال کر کار اسٹارٹ کردی
***
یہ پارٹی تابی کے یونیورسٹی فیلو نے دی تھی وہاں پر سارے ہائی کلاس کے بگڑے ہوئے بچے موجود تھے لڑکیاں اوٹ پٹانگ ڈریسنگ میں لڑکوں سے فری ہو کر تالیاں مار کر باتیں کرتی ہوئی مزمل کو فل چھچھوری محسوس ہو رہی تھی
"ارے یار تعبیر تھینکس تم آگئی، ورنہ مجھے لگا ہر پارٹی کی طرح شاید یہاں بھی نہ آؤ"
ثاقب تعبیر کے پاس آ کر بولا
"تم نے اتنا انسسٹ کیا اس لئے آنا پڑا، باقی سب لوگ کہاں پر ہیں"
تیز میوزک کی آواز میں تعبیر نے تھوڑا زور سے ثاقب سے پوچھا
"اس سائڈ پر تمہارا گروپ موجود ہے،، میں اور بھی لوگوں سے ملنے کے اتا ہو" ثاقب کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
"آؤ میں تمہیں اپنے فرینڈز سے ملواؤں" تابی نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں آپ جائیں اپنے فرینڈز کے پاس میں یہی بیٹھا ہوں" مزمل چیئر پر بیٹھتا ہوا بولا، تو تابی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔ اتنا تو تعبیر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک بار اس نے منع کردیا وہ نہیں آئے گا،، مزمل وہی سامنے چئیر پر بیٹھ گیا اور ناپسندیدہ نظروں سے وہاں پر موجود لوگوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ لڑکیوں کی ڈریسنگ ایسی کے بند کانوں کو ہاتھ لگائے،،، لڑکوں سے چپک چپک کر ٹیڑھے منہ بنا کر سیلفیاں لیتی ہوئی لڑکیاں اسے کوفت میں مبتلا کر رہی تھی
ہائی کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود تعبیر ان سب لڑکیوں سے کتنی مختلف تھی 'شکر ہے میڈم ایسی بالکل نہیں' مزمل سوچنے لگا
اس کی نظر دور کھڑی تعبیر پر گئی جو اپنی دوستوں میں موجود بار بار اسی کو دیکھ رہی تھی کہ وہ یہاں آکر بور تو نہیں ہو رہا۔۔۔ مزمل نے دور سے اس کو دیکھ کر اسمائل دی جس سے وہ ریلیکس ہوگئی اور خود بھی اسمائل دے کر اپنی دوستوں کی طرف متوجہ ہوگئی
اب تو آپ کو اپنی زندگی میں جلد شامل کرنا پڑے گا بہت ضروری ہوتی جا رہی ہیں آپ دن بدن میرے لئے" مزمل تعبیر کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا
"ہیلو مزمل کیسے ہو تم نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔ میں شبنم ہوں،، نشا باجی (تابی کی دوست) کے گھر کام کرتی ہو۔۔۔ میں نے تمہیں دیکھا تھا تعبیر باجی کے ساتھ۔۔۔۔ کیا تم مجھ سے دوستی کروگے"
شبنم شکل سے اچھی خاصی لڑکی تھی کام کرنے والی نہیں لگ رہی تھی مگر منہ کھولنے پر اس کا پروفیشن سمجھ آ رہا تھا
"سوری شبنم مگر مجھے نسوار کا سستا نشہ پسند نہیں"
مزمل نے سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر بولا جس پر شبنم سلگ گئی
"ہیرو نہیں ہو، باڈی گارڈ ہو تم تعبیر باجی کے سمجھے" شبنم نے جل کر بولا
"سمجھ گیا اب پھٹو یہاں سے فوراً"
مزمل نے اس کی مزید عزت افزائی کرتے ہوئے کہا۔۔۔ شبنم تپ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
ویٹر سب کو ڈرنگ سرو کرتا ہوا مزمل کے آگے بھی گلاس رکھ کر چلا گیا مزمل نے جیسے ہی ایک گھونٹ لیا مگر اگلے ہی لمحے اس نے کلی کردی
"لاحول ولا یہ تو شراب ہے، توبہ آخر کیوں آئی ہے میڈم ایسی بیہودہ پارٹی میں"
مزمل کے ماتھے پر شکنیں واضح ہونے لگی
***
تابی اپنی دوستوں کے ساتھ کھڑی باتیں کرنے میں مصروف تھی تبھی اس کا موبائل بجا، اس کا دھیان مزمل کی طرف تھا شاید وہی بلا رہا ہوں وہ بیگ سے موبائل نکال کر سامنے کرسی پر دیکھنے لگیں مگر وہاں پر مزمل موجود نہیں تھا
"ہیلو کہاں ہو تم" تابی نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا، جب کہ نظریں مسلسل مزمل کو ڈھونڈ رہی تھی
"تمہاری نگاہوں سے بہت دور ہو، اسنووائٹ مگر کبھی میرے پاس آکر دیکھو، میرے دل میں جھانک کر۔۔۔ وہاں صرف تم اپنے آپ کو ہی پاؤ گی" ارتضیٰ کی آواز سے تابی کی ہتھیلیاں پسینے سے گیلی ہونے لگی
"کیوں پریشان کرتے ہو تم مجھے، آخر کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا" تعبیر اپنی دوستوں کے سے اٹھی اور مزمل کو چاروں طرف دیکھ رہی تھی
"غلط بول رہی ہو پریشان میں نہیں، تم نے مجھے کیا ہے۔۔۔ ابھی سے نہیں بچپن سے۔۔ اب وقت قریب آگیا ہے کہ تمھارے اور اپنے درمیان سارے فاصلے ختم کر کے تمہاری قربت سے اپنے اندر کی تشنگی مٹاؤ۔۔۔ بہت جلد تمہارے بابا کے پاس آؤں گا تمہیں مانگنے۔۔۔۔ اپنے دماغ میں یہ بات اچھی طرح بٹھالو، یو آر مائین"
ارتضیٰ بول کر موبائل بند کر چکا تھا جبکہ تابی ابھی بھی موبائل کان پر رکھے اسٹیچو بنی کھڑی تھی
"کسے ڈھونڈ رہی ہے میڈم، میں یہاں ہوں"
اپنے پیچھے سے مزمل کی آواز سنائی دی تو تابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے
"کیا ہوا آپ کو، آپ ٹھیک ہیں"
تابی کے چہرے پر ہوائیاں اڑھتی ہوئی دیکھ کر مزمل نے تشویش سے پوچھا
"وہ اسی کی کال آئی تھی وہ کہہ رہا تھا وہ مجھے لے جائے گا، مزمل وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا"
تعبیر غائب دماغی کے ساتھ بولی مزمل کو وہ کسی ڈرے میں بچے کی طرح لگی۔۔۔ مزمل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کرسی پر بٹھایا
"کوئی ایسے ہی لے جائے گا آپ کو، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ ریلکس ہوجائے اور پلیز چلیں یہاں سے مجھے تو یہاں پر وحشت ہو رہی ہے"
مزمل نے اس کو دیکھ کر کہا
ہاں اب چلنا چاہیے ثاقب کو بول کر آ جاؤ"
تعبیر اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوئے بولا ویسے بھی مزمل اس کے ساتھ تھا کوئی اس کا کیا کر سکتا تھا یہ سوچ اسے مزید ریلکس کر گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 13
"کیسا لگا آپ کو اپنا بیڈ روم"
مریم اپنے اور یاور کا مشترکہ بیڈروم میں کھڑی تھی تب ارتضیٰ روم میں آیا اور مریم کے کندھے تھام کر پوچھا
"بہت پیارا پورے گھر کا تم نے نقشہ بدل دیا مگر اس گھر کے ایک ایک کونے سے میری بہت ساری یادیں جڑی ہیں، جو یہاں آتے ہیں دماغ میں تازہ ہو گئی"
مریم نے آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتے ہوئے بولا
"آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میں کیا سمجھو آپ کو پسند نہیں آئی یہ چینجنگ"
مریم کو آنسو صاف کرتے دیکھ کر ارتضیٰ نے سوال کیا
"کیوں نہیں پسند آیا سب کچھ بہت اچھا ہے۔۔۔ بس تمہارے بابا، عائشہ اور تمہاری اسنووائٹ کی یاد آگئی تو اس لیے آنکھ بھر آئی"
مریم کے تعبیر کو اسنووائٹ کہنے پر ارتضیٰ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
"آپ کو یہ نام ابھی تک یاد ہے"
ارتضیٰ نے مسکراتے ہوئے مریم سے پوچھا
"اس میں بھولنے والی کون سی بات ہے، ہر وقت تو تم میری اسنووائٹ میری سنو وائٹ کہہ کر اسے پورے گھر میں گھومتے تھے"
مریم کی بات پر وہ ایک دفعہ پھر مسکرایا
"اب کیسی لگتی ہے بڑی ہو کر"
مریم نے ارتضیٰ سے سوال کیا
"آپ خود چل کر دیکھ لیے گا"
ارتضیٰ نے مریم سے بولا
"کیا مطلب"
مریم نے نہ سمجھنے والے انداز میں ارتضیٰ کی طرف دیکھا
"مطلب یہ کہ اب وقت قریب آگیا ہے کہ ہم اسرار صاحب سے اپنی امانت واپس لے کر آئے"
ارتضیٰ نے آنکھوں میں سنجیدگی لیے مریم کو دیکھ کر کہا
ارتضیٰ نے اپنا گھر جوکہ یاور کے زمانے میں پرانے طرز کا بنا ہوا تھا، کراچی شفٹ ہونے کے بعد دوبارہ سے نئے طرز کا بنوایا اور اب رنگ و روغن سے فارغ ہوکر اسے فرنیچر خریدنا تھا اس کے بعد ہی مریم کو یہاں شفٹ کرنا تھا اور اس کے بعد وہ تعبیر کو بھی لانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔
وہ تعبیر کو کل اچھی طرح اپنے انداز میں سمجھا کر آیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ ارتضیٰ سے بری طرح خوفزدہ بھی ہوگئی تھی۔۔۔۔ مگر وہ خوف وقتی تھا یا پھر مزمل سے اس کی محبت گہری۔۔۔ خیر جو بھی تھا یہ تو پکا تھا کہ تعبیر کو ارتضیٰ کے پاس ہی آنا تھا۔ ۔۔ اب ارتضیٰ کو اپنے دماغ میں سوچے ہوئے پلان پر عمل کرنا تھا
***
"ہانی کہاں ہیں آپ" دونوں کمرے چیک کرنے کے بعد مشعل نے اریش کے گھر کا رخ کیا
اسکول سے آنے بعد اسے ٹیوشن بھی مل گئی تھی اس لئے چار بجے تک اس کا گھر واپس آنا ہوتا۔۔۔ ویسے تو جب سے وہ کوارٹر میں شفٹ ہوئے تھے حالات پہلے سے کافی بہتر ہوگئے تھے اور اریش نے جو سیلری اکا کے لئے مقرر کی تھی اس کے بعد مشعل کو جاب کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی مگر اس کے باوجود وہ کوشش کرتی تھی کہ کم از کم ہانی کا خرچہ خود اٹھائے
"اکا، ہانی نہیں دیکھ رہا۔۔ کہاں ہے وہ، میں نے آپ سے کہا ہے اریش کے آنے سے پہلے، میرے آنے کے بعد ہانی کو کوارٹر بھیج دیا کریں"
مشعل نے آکا کو کچن سے نکلتے دیکھ کر بولا
"مشعل سانس لو بیٹا آجائے گا ہانی تھوڑی دیر میں پھر بھیج دیتی ہوں اسے گھر"
اکا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
"کیا مطلب آجائے گا کہا گیا ہے ہانی" مشعل نے پریشان ہو کر اکا سے پوچھا
"آریش آج جلدی آفس سے آگیا تھا تو ہانی ضد کرنے لگا آئس کریم کھانے کی،،، تین دن پہلے بھی تم نے جانے نہیں دیا تھا اسے، تو اریش مجھ سے پوچھ کر ہانی کو اپنے ساتھ لے کر گیا"
اکا نے تحمل سے مشعل کو بتایا اور مشعل اکا کے تحمل کو دیکھ کر حیران رہ گئی
"اکا آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں، ہانی کو آپ نے کسی اجنبی کے ساتھ بھیج دیا اور اتنے سکون سے مجھے بتا رہی ہیں"
مشعل نے حیرانگی سے اکا کو دیکھا
"کیا ہوگیا ہے مشعل اریش کونسا اجنبی ہے اور زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہانی صرف تمہارا ہی بیٹا نہیں ہے، جاو گھر جاکر آرام کرو۔۔۔ ہانی آجائے گا تھوڑی دیر میں تو بھیج دوں گی اسے"
اکا نے بات ختم کرتے ہوئے کہا تو مشعل گھر سے باہر نکل گئی
سامنے گیٹ سے گاڑی آتی دکھائی دی جس میں اریش اور ہانی بیٹھے ہوئے تھے مشعل اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی کار کی طرف بڑھی
"ماما دیکھیں انکل نے ہانی کو کتنے سارے ٹوائز دلائے اور آئیسکریم بھی کھلائی ہے"
ہانی مشعل کو دیکھ کر چہکتا ہوا بتا رہا تھا اور بہت خوش لگ رہا تھا۔۔۔۔ اریش کار سے اتر کر مسکراتا ہوا مشعل کے پاس آیا۔۔۔ اس کی مسکراہٹ مشعل کو احساس کمتری میں مبتلا کرگئی جیسے وہ جتا رہا ہوں کہ دیکھو تم یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی جو تمہارا بچہ چاہتا ہے، مشعل کو مزید غصہ آنے لگا
"کیسی ہیں آپ" اریش مشعل کے پاس آ کر پوچھنے لگا
"کس کی پرمیشن سے لے کر گئے آپ ہانی کو"
مشعل نے اریش کے سوال کو اگنور کرتے ہوئے سنجیدگی سے اس سے پوچھا
"ہانی تین دن پہلے بھی کہہ رہا تھا پھر اج اس نے اصرار کیا تو مجھے اچھا نہیں لگا اسے منع کرنا اور سچ پوچھیں تو مجھے ہانی کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے، آپ دیکھیں کتنا خوش ہوگیا ہے"
اریش نے اس کے چہرے پر سخت تاثرات کو اگنور کرتے ہوئے نرمی سے جواب دیا
"آئندہ میرے بیٹے کو مجھ سے پوچھے بغیر آپ کہیں نہیں لے کر جائے گے اور یہ چیزیں دلا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں یہ مہنگے ٹوائز افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔ نہیں چاہیے مجھے اپنے بیٹے کے لئے آپ سے بھیک"
مشعل نے غصے میں اریش کو سنائی
"مشعل میں ہانی کو اکا کی اجازت سے لے کر گیا تھا اور رہی بات ان کھلونوں کی مجھے آپ کی سوچ پر بہت افسوس ہو رہا ہے اب یہ سمجھ رہی ہیں کہ یہ چیزیں میں نے ہانی کو ترس کھا کر دلائی ہیں، ایسا سوچتی ہیں آپ میرے بارے میں"
اریش نے مشعل سے شکوہ کیا
"اگر ترس کھا کر نہیں دلائی تو مجھے اپنے بیٹے کے لئے کسی زکوة یا خیرات کی بھی ضرورت نہیں ہے"
مشعل کی بات پر اب اریش کو غصہ آیا
"آپ مسلسل غلط بیانی کررہی ہیں مثعل"
اپنے لہجے میں غصہ سموئے ہوئے اریش نے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا
"میرے بیٹے سے آپ دور رہیں،،، ہانی انکل کو ان کی چیزیں واپس کرو"
مشعل اپنے اریش کو تنبہی کرنے کے بعد ہانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
"مما یہ ہانی کے ٹوائز ہیں،،، ہانی ان سے کھیلے گا"
ہانی نے مشعل کو صاف انکار کردیا
"بیٹا آپ یہ ٹوآئز انکل کو واپس کریں مما آپ کو ایسے ہی کو ٹوائز لا کر دیں گی"
آب کے مشعل نے ضبط کرنے کے باوجود سختی سے بولا۔۔۔ اریش حیران ہوکر مشعل کا غصہ دیکھ رہا تھا جو اس کی سمجھ سے باہر تھا
"ہانی ٹوائز واپس نہیں دے گا آپ گندی ہو،، انکل سے لڑ رہی ہو"
ہانی نے ضدی لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا
"مشعل میں ہانی کو آب کچھ نہیں دلاؤں گا مگر آپ پلیز یہ ٹوائز اس سے نہیں لیں۔۔۔۔ یہ سب ہانی نے اپنی پسند سے لیے ہیں اور میں نے بہت دل سے اسے خوش ہوکر دلائے ہیں۔۔۔ آپ اس طرح کریں گی تو ہم دونوں ہی ہرٹ ہوگے"
آریش جو اتنی دیر سے مشعل اور ہانی کی باتیں سن رہا تھا بیچ میں بولا
"یہاں دو یہ ٹوائز" مشعل نے اریش کی بات اگنور کرتے ہوئے آگے ہاتھ بڑھا کر ہانی سے ٹوائز لیے
"یہ ہانی کے ٹوئز ہیں مما پلیز ہانی کو دیجئے"
ہانی روتا ہوا مشعل سے شاپر واپس لینے لگا تو مشعل نے زور دار تھپڑ ہانی کو لگا دیا
"کیا آپ کا دماغ خراب ہوگیا آپ کس طرح کا بی ہیو کر رہی ہیں اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ" اریش کو مشعل کی حرکت پر غصہ آیا تو اس نے چیخ کر مشعل سے کہا
"اس طرح ری ایکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو،، باپ نہیں ہیں آپ اس کے اور میرے بیٹے سے دور رہے آپ"
مشعل نے ٹوائز کا شاپر اریش کے آگے پھینکتے ہوئے کہا اور روتے ہوئے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر کوارٹر کی طرف چلی گئی۔۔۔ جبکہ اریش لب بینچ کر اس کو دور جاتا ہوا دیکھتا رہا
***
مزمل لان میں ٹہلتا ہوا تابی کا ویٹ کر رہا تھا اسے کسی فرینڈ کے برتھ ڈے پارٹی میں جانا تھا
اس دن کے بعد سے مزمل وہاج کے کہنے پر جاب چھوڑ کر تو نہیں گیا مگر تعبیر اس سے ناراض تھی کوئی بات نہیں کر رہی تھی، مزمل نے ایک دو دفعہ خود سے بات کرنے کی کوشش کی مگر تابی نے ہاں ہوں کر کے جواب دیا تو مزمل نے بھی خاموشی میں عافیت جانی
ہیل آواز پر مزمل چونکا سامنے سے آتی ہوئی تعبیر پر اس کی نظر پڑی تو مزمل نے ناگوار نظروں سے تابی کا جائزہ لیا۔۔۔۔ ٹائٹ جینز کے اوپر ریڈ کلر کا ٹآپ جس سلیوز نہ ہونے کے برابر تھی گلا گہرا نہ ہونے کے باوجود مزمل کی نظریں۔۔۔
"کوئی اور ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں آپ کے پاس"
مزمل نے سنجیدگی سے تعبیر کو دیکھ کر کہا، مزمل نے اس کو ابھی تک ایسی ڈریسنگ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا
"کیو ان میں کیا برائی ہے"
تعبیر کو دل میں خوشی ہوئی مزمل کا اس طرح ٹوکنا اسے اپنے پن کا احساس دلایا گیا، وہ تابی کو چھوڑ کر جا رہا تھا اس لئے تابی بھی اس سے ناراض تھی مگر آج اس کے ایک جملے نے اس کی ناراضگی کو بھی ختم کر دیا
"بتاؤ نہ کیا برائی ہے"
مزمل اس کے جواب میں خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تابی نے دوبارہ پوچھا تو مزمل چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور اس کا بازو تھام کر اسے لان کے عقبی سائڈ پر لے گیا جہاں شیشہ لگا ہوا تھا شیشے کے سامنے تابی کو کھڑا کیا اور خود تابی کے پشت پر کھڑا ہوا
"کیا اچھائی لگ رہی ہے آپ کو ان کپڑوں میں"
مزمل شیشے میں دیکھتا ہوا تھا تابی سے بولا تعبیر نے مڑ کر مزمل کو دیکھا
"یعنی تمہیں میں اچھی نہیں لگ رہی جواب دو"
تعبیر نے منہ بناتے ہوئے مزمل سے کہا
"وہاں میرے علاوہ بھی اور لوگ ہوں گے جو آپ کو دیکھیں گے اور ان کا دیکھنا مجھے اچھا نہیں لگے گا" مزمل نے صاف گوئی سے جواب دیا تو تابی مسکرائی
"مزمل آج سب لڑکیوں نے پارٹی میں ایسی ہی ڈریسنگ کی ہوگی وہاں میں کمیز شلوار پہن کر نمونہ لگو گی"
تعبیر اپنی ڈریسنگ کی وضاحت دی۔۔۔۔ پرسنلی اسے بھی اس طرح کے ڈریسنگ کچھ خاص پسند نہیں تھی پارٹیز یا پکنک کی حد تک وہ جینز وغیرہ پہن لیا کرتی تھی
"ان سب نمونوں میں آپ ہی منفرد لگیں گی۔۔۔ میری بات مان لیں آپ،،، ورنہ ایسے تو میں آپ کو نہیں لے کر جانے والا"
مزمل نے کندھے اچکا کر کہا تو تابی بیچارگی سے اسے دیکھنے لگی
"ٹھیک ہے تمہاری بات ایک شرط پر مانو گی تمہاری پسند کی ڈریسنگ میں تمہیں میری تعریف کرنی ہوگی" تعبیر نے اپنی شرط بتائی
"واپسی میں ہمہیں دیر ہوجائے گی، آپ دس منٹ کے اندر واپس آئے"
مزمل نے ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھتے ہوئے تابی سے کہا تو تابی چلی گئی
مزمل کار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا تو تابی تھوڑی دیر میں واپس آئی۔۔۔۔ مزمل کی نظر اس پر ٹھہر گئی،،، انگوری رنگ کی شارٹ شرٹ جس پر ڈل گولڈن کلر کا نفیس کام ہوا تھا ہم رنگ دوپٹے اور ٹراؤزر میں، وہ بے حد حسین لگ رہی تھی
تعبیر نے اس کو اسمائل دے کر سوالیہ نظروں سے پوچھا۔۔۔ وہ مزمل کی آنکھوں میں اپنے لیے ستائش محسوس کر چکی تھی،،، مگر لفظوں میں بھی سننا چاہتی تھی
"کیا ہوا آج پیاری لگ رہی ہو"
تعبیر نے اس کا دیکھنا محسوس کیا تو خود ہی مسکراہٹ دبا کر پوچھا،، مزمل اس کے قریب آیا
"پیاری نہیں بہت پیاری"
مزمل نے اس کے کیچڑ میں قید بالوں کو آزاد کرتے ہوئے کہا اس طرح کرنے سے تابی کی کمر بالوں سے ڈھک گئی مزمل کی اس حرکت پر اور اس کی نظروں کی تپش سے تابی نظریں جھکی
"چلئیے چلتے ہیں" مزمل نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تو تابی کار میں بیٹھ گئی مزمل نے سیٹ سنبھال کر کار اسٹارٹ کردی
***
یہ پارٹی تابی کے یونیورسٹی فیلو نے دی تھی وہاں پر سارے ہائی کلاس کے بگڑے ہوئے بچے موجود تھے لڑکیاں اوٹ پٹانگ ڈریسنگ میں لڑکوں سے فری ہو کر تالیاں مار کر باتیں کرتی ہوئی مزمل کو فل چھچھوری محسوس ہو رہی تھی
"ارے یار تعبیر تھینکس تم آگئی، ورنہ مجھے لگا ہر پارٹی کی طرح شاید یہاں بھی نہ آؤ"
ثاقب تعبیر کے پاس آ کر بولا
"تم نے اتنا انسسٹ کیا اس لئے آنا پڑا، باقی سب لوگ کہاں پر ہیں"
تیز میوزک کی آواز میں تعبیر نے تھوڑا زور سے ثاقب سے پوچھا
"اس سائڈ پر تمہارا گروپ موجود ہے،، میں اور بھی لوگوں سے ملنے کے اتا ہو" ثاقب کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
"آؤ میں تمہیں اپنے فرینڈز سے ملواؤں" تابی نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا
"نہیں آپ جائیں اپنے فرینڈز کے پاس میں یہی بیٹھا ہوں" مزمل چیئر پر بیٹھتا ہوا بولا، تو تابی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔ اتنا تو تعبیر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک بار اس نے منع کردیا وہ نہیں آئے گا،، مزمل وہی سامنے چئیر پر بیٹھ گیا اور ناپسندیدہ نظروں سے وہاں پر موجود لوگوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ لڑکیوں کی ڈریسنگ ایسی کے بند کانوں کو ہاتھ لگائے،،، لڑکوں سے چپک چپک کر ٹیڑھے منہ بنا کر سیلفیاں لیتی ہوئی لڑکیاں اسے کوفت میں مبتلا کر رہی تھی
ہائی کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود تعبیر ان سب لڑکیوں سے کتنی مختلف تھی 'شکر ہے میڈم ایسی بالکل نہیں' مزمل سوچنے لگا
اس کی نظر دور کھڑی تعبیر پر گئی جو اپنی دوستوں میں موجود بار بار اسی کو دیکھ رہی تھی کہ وہ یہاں آکر بور تو نہیں ہو رہا۔۔۔ مزمل نے دور سے اس کو دیکھ کر اسمائل دی جس سے وہ ریلیکس ہوگئی اور خود بھی اسمائل دے کر اپنی دوستوں کی طرف متوجہ ہوگئی
اب تو آپ کو اپنی زندگی میں جلد شامل کرنا پڑے گا بہت ضروری ہوتی جا رہی ہیں آپ دن بدن میرے لئے" مزمل تعبیر کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا
"ہیلو مزمل کیسے ہو تم نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔ میں شبنم ہوں،، نشا باجی (تابی کی دوست) کے گھر کام کرتی ہو۔۔۔ میں نے تمہیں دیکھا تھا تعبیر باجی کے ساتھ۔۔۔۔ کیا تم مجھ سے دوستی کروگے"
شبنم شکل سے اچھی خاصی لڑکی تھی کام کرنے والی نہیں لگ رہی تھی مگر منہ کھولنے پر اس کا پروفیشن سمجھ آ رہا تھا
"سوری شبنم مگر مجھے نسوار کا سستا نشہ پسند نہیں"
مزمل نے سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر بولا جس پر شبنم سلگ گئی
"ہیرو نہیں ہو، باڈی گارڈ ہو تم تعبیر باجی کے سمجھے" شبنم نے جل کر بولا
"سمجھ گیا اب پھٹو یہاں سے فوراً"
مزمل نے اس کی مزید عزت افزائی کرتے ہوئے کہا۔۔۔ شبنم تپ کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
ویٹر سب کو ڈرنگ سرو کرتا ہوا مزمل کے آگے بھی گلاس رکھ کر چلا گیا مزمل نے جیسے ہی ایک گھونٹ لیا مگر اگلے ہی لمحے اس نے کلی کردی
"لاحول ولا یہ تو شراب ہے، توبہ آخر کیوں آئی ہے میڈم ایسی بیہودہ پارٹی میں"
مزمل کے ماتھے پر شکنیں واضح ہونے لگی
***
تابی اپنی دوستوں کے ساتھ کھڑی باتیں کرنے میں مصروف تھی تبھی اس کا موبائل بجا، اس کا دھیان مزمل کی طرف تھا شاید وہی بلا رہا ہوں وہ بیگ سے موبائل نکال کر سامنے کرسی پر دیکھنے لگیں مگر وہاں پر مزمل موجود نہیں تھا
"ہیلو کہاں ہو تم" تابی نے کال ریسیو کرتے ہوئے کہا، جب کہ نظریں مسلسل مزمل کو ڈھونڈ رہی تھی
"تمہاری نگاہوں سے بہت دور ہو، اسنووائٹ مگر کبھی میرے پاس آکر دیکھو، میرے دل میں جھانک کر۔۔۔ وہاں صرف تم اپنے آپ کو ہی پاؤ گی" ارتضیٰ کی آواز سے تابی کی ہتھیلیاں پسینے سے گیلی ہونے لگی
"کیوں پریشان کرتے ہو تم مجھے، آخر کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا" تعبیر اپنی دوستوں کے سے اٹھی اور مزمل کو چاروں طرف دیکھ رہی تھی
"غلط بول رہی ہو پریشان میں نہیں، تم نے مجھے کیا ہے۔۔۔ ابھی سے نہیں بچپن سے۔۔ اب وقت قریب آگیا ہے کہ تمھارے اور اپنے درمیان سارے فاصلے ختم کر کے تمہاری قربت سے اپنے اندر کی تشنگی مٹاؤ۔۔۔ بہت جلد تمہارے بابا کے پاس آؤں گا تمہیں مانگنے۔۔۔۔ اپنے دماغ میں یہ بات اچھی طرح بٹھالو، یو آر مائین"
ارتضیٰ بول کر موبائل بند کر چکا تھا جبکہ تابی ابھی بھی موبائل کان پر رکھے اسٹیچو بنی کھڑی تھی
"کسے ڈھونڈ رہی ہے میڈم، میں یہاں ہوں"
اپنے پیچھے سے مزمل کی آواز سنائی دی تو تابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ اس کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے
"کیا ہوا آپ کو، آپ ٹھیک ہیں"
تابی کے چہرے پر ہوائیاں اڑھتی ہوئی دیکھ کر مزمل نے تشویش سے پوچھا
"وہ اسی کی کال آئی تھی وہ کہہ رہا تھا وہ مجھے لے جائے گا، مزمل وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے گا"
تعبیر غائب دماغی کے ساتھ بولی مزمل کو وہ کسی ڈرے میں بچے کی طرح لگی۔۔۔ مزمل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کرسی پر بٹھایا
"کوئی ایسے ہی لے جائے گا آپ کو، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ ریلکس ہوجائے اور پلیز چلیں یہاں سے مجھے تو یہاں پر وحشت ہو رہی ہے"
مزمل نے اس کو دیکھ کر کہا
ہاں اب چلنا چاہیے ثاقب کو بول کر آ جاؤ"
تعبیر اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوئے بولا ویسے بھی مزمل اس کے ساتھ تھا کوئی اس کا کیا کر سکتا تھا یہ سوچ اسے مزید ریلکس کر گئی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment