🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 12
"سوری میڈم اس وقت آپ کو سکون کی نیند لینا ضروری ہے، تاکہ میں اپنا کام سکون سے کرسکوں"
مزمل تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اسے سینے تک کمفرٹر اڑا کر کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا اور پاکٹ سے موبائل نکال کر ستار میمن کا نمبر ملانے لگا
سیڑھیاں اترتا ہوا وہ نیچے ہال میں آیا۔۔۔ ہال میں موجود لائبریری کا رخ کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔ پینٹگ کو نیچے رکھتا ہوا وہاں موجود مخصوص بٹن دبایا تو خفیہ دیوار نما دروازہ کھل گیا،،، مزمل کا موبائل بجنے لگا
"سائیں میرے آدمی پہنچ گئے ہیں، دو ٹرک میں اپنی نگرانی میں مال لوڈ کراؤ تمہیں تمہارا انعام صبح مل جائے گا"
ستار میمن کی آواز ابھری
"جو حکم"
کال کاٹتا ہوا وہ پتلی سی گلی طے کر کے گودام میں آیا جہاں تعداد میں پیٹیاں موجود تھی گودام میں موجود ایک دروازہ جوکہ گھر سے باہر کھلتا تھا۔ ۔۔۔ مزمل نے دروازہ کھولا تو وہاں پہ دو ٹرک موجود تھے مزمل کا اشارہ پاکر ان میں سے آدمی نکلے اور پیٹیوں میں موجود اسلحہ ٹرک میں رکھنے لگے
"احتیاط سے رکھو اور جلدی ہاتھ چلاو"
مزمل نے کلائی پر بندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھ کر کہا، کیونکہ ایک گھنٹے بعد شفٹ چینج ہوجاتی اور گھر کے گیٹ پر دوسرے چوکیدار آتا جو کہ وہاج صدیقی کا خاص وفادار تھا اور مزمل نہیں چاہتا تھا کہ اس پر کوئی کسی قسم کا شک کرے۔۔۔ اس نے جلدی سے ان دونوں کو وہاں سے فارغ کیا کام مکمل کرکے وہ پینٹنگ سیٹ کرتا ہوا لائبریری سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا تابی کے روم میں آیا۔۔۔ جہاں تابی گہری نیند میں بے خبر سو رہی تھی
رات کا پہر ہوں، حسن ایسا کہ چونکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جب وہ آپ کی توجہ کا طالب ہو۔۔۔ہوش و خروش سے بیگانہ،،، شیطان تو پھر آ ہی جاتا ہے
"کیا، کیا جائے پھر"
مزمل نے کمفرٹر تابی کے اوپر سے ہٹا کے اس کے سراپے پر بھرپور نظر ڈال کر خود سے سوال کیا۔۔۔
تابی کے چہرے پر انگلیاں پھیرتا ہوا وہ تھوڑی تک لایا تھوڑی کے نیچے انگلی ٹکا کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔ اپنے ہونٹ تابی کے ہونٹوں کے قریب لا کر پورے استحقاق سے مہر ثبت کی۔۔۔ تھوڑی سے انگلی ہٹا کر وہ اپنی شہادت کی انگلی گردن تک لایا۔۔۔ گردن سے نیچے، اس کی شرٹ میں انگلی اٹکا دی
"تمہاری ذات سے مجھے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، تمہارے ساتھ میں اپنا آپ محفوظ فیل کرتی ہو"
تابی کی آواز مزمل کے کانوں میں ابھری مزمل نے تابی کی بند آنکھوں کو دیکھا یہ وہ جملے تھے جو اس نے چند گھنٹے پہلے تعبیر نے اپنے ہوش و حواس میں اس سے کہے تھے
"بہت نادان ہے آپ میڈم۔۔۔ غلط جگہ محبت کر کے برا پھنسایا خود کو اتنی محبت کرلی وہ بھی بغیر جانے کہ مزمل ہے کون۔۔۔ آپ کی اس نادانی کی سزا آپ کو ملے گی ضرور، مگر آج نہیں، پھر کبھی سہی۔۔ آج کے لیے معاف کیا مزمل نے آپ کو"
وہ تابی سے کہتا ہوں اٹھا تابی کو دوبارہ کمفرٹر اڑھایا۔ ۔۔ کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے میں موجود صوفے پر لیٹ گیا نظر بھٹک بھٹک کر تعبیر اوپر جا رہی تھی لمبا سانس کھینچتا ہوا اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا
****
آج شام افس سے آنے کے بعد اریش کی ٹی وی دیکھتے ہوئے انکھ لگ گئی تھی۔۔۔۔اس لئے آدھی رات کو اس کی آنکھ کھل گئی کھڑی میں ٹائم دیکھا تو ساڑھے چار ہو رہے تھے۔۔۔۔کافی دن ہوگئے تھے ماہرہ(بہن) کی طرف چکر لگائے ہوئے ساحرہ سے بھی فون پر ہفتے بعد بات ہو جاتی تھی۔۔۔۔ اچانک اریش کا دماغ اپنے دوست کی طرف گیا اس کا اکلوتا دوست۔۔۔ اس سے بھی ملاقات ہوئے مہینہ ہوگیا تھا اس عجیب و غریب مخلوق سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس ٹائم جاگ رہا ہو، یہ سوچ آتے اریش نے موبائل اٹھا کر کل ملائی عین توقع کے مطابق کال ریسیو کرلی گئی
"کیسے یاد کرلیا بےوفا قوم کے سردار نے آج"
کال ریسیو کرتے ہی طنز بھرا تیر اڑھتا ہوا آیا۔۔۔۔ اریش کے ہونٹ مسکرائے
"میں نے تو یاد بھی کرلیا تم بتاو آج کل کہا گم ہو"
اریش نے اس کی خبر لیتے ہوئے پوچھا
"کہاں گم ہونا ہے یار مجھ غریب کو ابھی سونے لیٹا تھا، یہ بتاو تم کس کی یاد میں جاگ رہے ہو۔۔۔۔ کہیں کوئی حسیں حادثہ تو نہیں ہوگیا، جس نے میرے یار کی نیندیں اڑ دی"
دوست نے معنی خیزی سے اریش سے کہا
"فل الحال تو روٹین آوٹ ہونے کی وجہ سے نیند آڑی ہے۔۔۔۔ مگر حادثہ بھی شاید ہوگیا ہے امکان یہی ہیں"
اریش نے دھیمے لہجے میں خود سے ہار مانتے ہوئے کہا
"شکر ہے خدا کا تم بھی نارمل انسانوں کی طرح کا بی ہیو کیا۔۔۔۔ ورنہ مجھے تو لگا تم نے کنورہ ہی کوچ کر جانا ہے۔۔۔۔ ویسے اس حسین حادثہ کا نام کیا ہے"
دوست نے جاننا چاہا
"ہانی کی مما"
اریش نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تو پردوں کے پیچھے مشعل کا عکس لہرایا
"ابے یہ تم کس کی ماں سے دل لگا بیٹھا ہے۔۔۔۔ واقعی تجھ سے تو نارمل کام کی توقع کرنا ہی بےکار ہے"
دوست اسکی بات سن کر ایک دم اریش کی عزت افزائی پر اتر آیا جس کا اریش کو برا نہیں لگا،،، کیو کہ اکثر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی انداز میں مخاطب ہوتے
"زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ تھورے دن میں آکر مجھ سے مل،،،، فون رکھ رہا ہو شاید وہ باہر آگئی ہے"
اریش کی کھڑکی سے مشعل پر نظر پڑی جو کواٹر سے نکل کر لان کی طرف آرہی تھی
"کیا بول رہا ہے کون باہر آگئی ہے"
دوست نے حیرت سے پوچھا
"یار بتایا تو تھا ہانی کی مما۔۔بعد میں بات کرتے ہیں اللہ حافظ"
مشعل کو دیکھ کر اریش کو مال رکھنے کی جلدی ہونے لگی
"بیٹا تیرا تو اللہ ہی حافظ"
دوست نے افسوس کرتے ہوئے کال کاٹی تو اریش کمرے سے نکل کر لان کی طرف گیا
***
مشعل کی برے خواب سے آنکھ کھلی تو واپس اسے نیند نہیں آئی وہ لان میں چہل قدمی کے غرض سے آگئی مگر اریش کو بھی لان میں آتا دیکھ کر وہ واپس کوارٹر میں جانے لگی
"مشعل میری بات سنیئے"
اریش نے مشعل کو جاتا دیکھا تو پکار بیٹھا ہوں
"فرمائیے کوئی کام تھا" مشعل کر سنجیدہ انداز میں اس سے پوچھنے لگی رک
"آپ اس وقت جاگ رہی ہیں ہے خیریت"
اس کا روکھا انداز دیکھ کر آریش کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس سے کیا بولے
"جی اس وقت میرا فٹبال کھیلنے کا دل چاہ رہا تھا اس لئے لان میں آگئی"
بغیر مذاق کا تاثر دیئے مشعل نے سیریز انداز اختیار کرتے ہوئے اریش کو بولا
"آپ شاید ابھی تک اس دن کی بات کا برا مانی ہوئی ہے آئی ایم ویری سوری اس دن کے لئے۔۔۔۔ اب تو ہماری دوستی پکی نہ"
آریش نے معذرت کر کے دوستانہ انداز اختیار کرتے ہوئے مشکل کو دیکھ کر کہا
"آکا میری ماں جیسی ہیں جو کہ آپ کے گھر جاب کرتی ہیں۔۔۔۔ مالک اور نوکر کے درمیان فرق ہوتا ہے آپ پلیز اس گھر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بلاوجہ میں فرینک ہونے سے گریز کریں"
مشعل نے آرائش کو اپنے اور اس کے درمیان کا فرق واضح طور پر سمجھایا تو اریش کی مسکراہٹ تھم گئی مشعل اس کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر واپس کوارٹر میں چلی گئی۔۔۔۔۔ اریش اسے سنجیدگی سے جاتا ہوا دیکھنے لگا
****
وہاج تھوڑی دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا وہ گیا بھی نئے اسلحے کی خریداری کے سلسلے میں تھا
"صدیقی صاحب نیا مال گودام سیٹ کروا دیا ہے مگر پرانے مال میں سے کافی پیٹیاں کم ہے"
غلام بخش کی اطلاع دینے پر وہاج جو ریلیکس انداز میں صوفے پر برجمان تھا ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
"پیٹیاں کم ہیں یہ کیا کہ رہے ہو تم کتنی پیٹیاں کم ہیں"
وہاج نے حیرت سے غلام بخش سے پوچھا
"کم سے کم دو ٹرک کا مال صاحب" غلام بخش کی بات سن کر وہاج غصے میں آگیا
"کیا بکواس کر رہے ہو تم، دو ٹرک کا مال غائب ہوگیا ہے جانتے ہو اس کا مطلب، مجھے لاکھوں کا نقصان ہوا ہے جا کر گنتی کرو دوبارہ اور فضل کو میرے پاس بھیجو"
وہاج کے لیے یہ خبر کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی
"جی وہاج صاحب آپ نے بلایا"
فضل نے آتے ہی وہاج سے پوچھا
"میرے پیچھے کون آیا تھا گھر میں"
وہاج نے فضل سے پوچھا
"نہیں صاحب گھر پر تو کوئی نہیں آیا تھا نہ ہی گھر سے باہر تابی بی بی یا مزمل میں سے کوئی گیا تھا"
فضل نے وہاج کو پریشان دیکھ کر کہا
"مزمل کہا ہے اسے بھیجو میرے پاس" مزمل کے نام پر وہاج چونکہ وہی ایک نیا بندہ تھا باقی سب پرانے ملازم تھے اور پہلے کبھی اس طرح کی واردات بھی سامنے نہیں آئی وہاج سوچنے لگا
"صاحب مزمل اپنے کواٹر میں موجود نہیں ہے"
فضل نے تھوڑی دیر میں آکر بتایا یہ بات وہاج کو مزید شک میں مبتلا کر گئی
****
تابی کی صبح آنکھ کھلی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی دونوں بازو کھول کر اوپر کرتے ہوئے اس نے انگڑائی لی تو سامنے صوفے پر سوتے ہوۓ مزمل پر نظر گئی تعبیر کے چہرے پر حسین مسکراہٹ آئی اسے رات خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب مزمل سے باتیں کرتے کرتے وہ سو گئی مگر دماغ پر زور ڈالے بناء وہ بیڈ سے اٹھ کر وہ صوفے کے پاس آئی اور فرش پر بیٹھ گئی مزمل کا چہرہ دیکھنے لگی
"آخر کیوں اتنے اچھے لگنے لگے ہو تم"
تابی نے دل ہی دل میں مزمل کو مخاطب کیا
"کیا دیکھ رہی ہیں آپ میڈم، وہ بھی اتنے غور سے"
مزمل نے آنکھیں کھولے بناء تعبیر سے کہا۔۔۔ تو تعبیر کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی
"تمہیں جاننے کا شوق ہے کہ میں کیا دیکھ رہی ہوں"
تابی نے مسکراتے ہوئے سوال کیا
"اپنے بارے میں جاننے کا تجسس کسی نہیں ہوتا ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے معلوم ہوکہ سامنے والا اس کے متعلق کیا سوچ رہا ہے"
مزمل نے آنکھیں کھول کر تعبیر سے سوال کیا
"ایسے تو پھر مجھے بھی تجسس ہے کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو"
تابی نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے وہ اپنے بارے میں پوچھنا چاہ رہی ہو
"مزمل تو آپ کو دیکھ کر صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے کہ کتنا خوش نصیب ہے وہ، جس کو اس کی پریوں جیسی میڈم اپنا نازک سا دل دیئے بیٹھی ہیں"
مزمل نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، تعبیر نیچی نظریں کرکے مسکرائی
"اب آپ کیا سوچ رہی ہے مزمل کے بارے میں"
مزمل نے اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر پوچھا
"میں جو بھی سوچ رہی ہوں وہ تمہیں میں کبھی بھی نہیں بتانے والی" تابی نے شرارت سے مسکراتے ہوئے مزمل کو کہا تو اس کی بات سن کر مزمل بھی مسکرا دیا یہ جملہ اسکی میڈم اسے شروع دن سے بول رہی تھی اور جب جب وہ آنکھوں میں شرارت لیے مزمل کو اس طرح بولتی تھی تو وہ مزمل کو اور زیادہ اچھی لگتی تھی مگر یہ بات بھی مزمل اس کو فل الحال نہیں بتانے والا تھا
"کب سے جاگے ہوئے ہو"
مزمل صوفے سے اٹھ کر بیٹھا تو تابی نے پوچھا
"جب آپ ہاتھ اوپر کرکے انگڑائی لے رہی تھی تب سے"
مزمل نے اس کو دیکھتے ہوئے نارمل انداز میں شرارت بھرا جواب دیا جس کو سن کر وہ جھینپ گئی
"کل رات تمہیں نیند آگئی تھی"
تابی نے مزمل کی بات سن کر اپنی جھینپ مٹانے کو سوال کیا
"نہیں کل رات میرا سونا اور بھی زیادہ مشکل ہوگیا تھا"
وہ تابی کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا
"جگہ چینج ہونے کی وجہ سے"
تابی نے اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا
"نہیں وجہ یہ نہیں تھی"
مزمل نے تابی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
"پھر کیا وجہ تھی" تابی نے ویسے ہی بیٹھے بیٹھے پوچھا تو مزمل اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر آئے ہوئے بال کان کے پیچھے کیے
"یہ میں بھی آپ کو کبھی نہیں بتانے والا"
وہ بولتا ہوا روم سے چلا گیا تو تابی اس کی بات سن کر مسکرا دی
****
وہاج ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مزمل کہا گیا ہوگا اس کی نظر مزمل پر پڑی جو کہ بال ہاتھ سے سنوارتا ہوا تابی کے روم سے نکل رہا تھا۔۔۔۔ وہاج کی سوچوں کا دھارا کہیں اور ہی چلا گیا اس کا مزمل کو دیکھ کر مزید خون کھول گیا
"مزمل"
وہاج دھاڑتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر مزمل کی طرف میں آیا مزمل وہاج کو دیکھ کر وہی رک گیا
"کیا کر رہے تھے تم اس وقت تابی کے روم میں، میں نے تمہیں اپنی بیٹی کی رکھوالی کے لئے رکھا تھا نہ کہ"
وہاج مزمل کا گریبان پکڑتا ہوا بولا۔۔۔ مگر اس سے پہلے مزمل وہاج کی بات کا جواب دیتا یا اپنا گریبان اسے چھڑاتا تابی اپنی روم سے نکل آئی
"کیا ہوگیا ہے بابا آپ کو، یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔ آپ نے اسے میری رکھوالی کے لئے رکھا تھا تو وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا،، میرے کہنے پر وہ میرے بیڈ روم میں آیا تھا میں نے کہا تھا اسے"
تابی نے وہاج کا ہاتھ مزمل کے گریبان سے ہٹاتے ہوئے کہا
"اپنے باپ کے سامنے ایسی بکواس کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تمہیں" وہاج کا ہاتھ تابی کے گال پڑنے والا تھا مگر مزمل نے تھام لیا
"معاف کریئے گا سر مگر آپ پوری بات جانے بناء اس طرح نہ مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں اور نہ ہی میڈم پر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔۔۔ کل رات کو کوئی میڈم کے کمرے میں آگیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے میڈم کافی خوفزدہ تھی اور یہی وجہ تھی کہ رات میں نے میڈم کے کمرے میں گزاری میڈم کی عزت اور جان کی حفاظت کرنا میری جاب ہے اور میں نے اپنی جاب ایمانداری سے کی ہے مگر یہ بات میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں کہیں گر کر جاب نہیں کرتا اس لئے میں اسی وقت یہ جاب چھوڑتا ہوں اللہ حافظ"
مزمل کہتا ہوا سیڑھیاں اتر کر وہاں سے چلا گیا جہاں وہاج کو اس کی بات سن کر سانپ سونگ گیا وہی مزمل کی جاب چھوڑنے کی بات پر تابی مزمل کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
****
"کیا بول کر آئے ہو تم وہاں پر مزمل، تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو تم یہ جواب چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والے میں بتارہی ہوں"
تعبیر کواٹر کا دروازہ کھول کر اندر آئی اور مزمل کو دیکھ کر بولنا شروع ہوگئی
"میڈم پلیز مجھے اپنی عزت نفس بہت عزیز ہے اس لیے میں یہ جاب مزید نہیں کرسکتا"
مزمل بیگ میں اپنے کپڑے ڈالتا ہوا بولا
"تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے ہو مزمل، ایسا کر کے تم مجھے ہرٹ کرو گے"
تابی مزمل کے ڈالے ہوئے کپڑے بیک سے نکالتے ہوئے بولی
"آپ اپنے بابا کے خیالات جان کر بھی مجھ سے ایسی باتیں کر رہی ہیں، حقیقت کی دنیا میں قدم رکھیں اور اسے تسلیم کریں ہم دونوں کے درمیان فرق بہت معنی رکھتا ہے"
مزمل تابی کے ہاتھ سے اپنی شرٹ لیتے ہوئے بولا
"بابا کے خیالات کو چھوڑو تم اپنے خیالات بتاؤ مجھے تمہیں میں پسند نہیں"
تعبیر مزمل کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تو نظریں چرا گیا
"میڈم پلیز"
مزمل نے بولا دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ جس پر وہ دونوں مڑے وہاج وہی کھڑا تھا
"بابا روکیے اسے یہ جاب چھوڑ کر جا رہا ہے"
تعبیر نے وہاج کو دیکھ کر کہا
"مزمل کہیں نہیں جارہا ہے آپ اپنے کمرے میں جائے"
وہاج نے تعبیر کو دیکھ کر کہا۔۔۔ تعبیر نے ایک نظر مزمل کی طرف دیکھا قدم اٹھاتی ہوئی کوارٹر سے باہر چلی گئی
جس طرح تم صبح کے وقت تابی کے رو سے باہر نکلے۔،۔۔ تو ایک باپ ہونے کے ناطے میرا یہی ریکشن ہونا چاہیے تھا اس لئے میں غلط بالکل نہیں ہوں۔۔۔ تم نے اپنی جاب ایمانداری سے نبھائی میری بیٹی کی اس انجان دشمن سے حفاظت کی۔۔۔۔۔ اس کے لئے میں تمہارا مشکور ہوں، تابی کی یونیورسٹی کا ٹائم ہو جائے گا تو اسے باحفاضت یونیورسٹی لیکر جانا اور واپس لے کر آنا"
وہاج بولتا ہوا کوارٹر سے چلا گیا
وہاج کو یقین ہوگیا اس انجان آنے والے دشمن نے اس کا نہ صرف اسلحہ غائب کیا ہے۔۔ بلکہ اس کی بیٹی کی بھی جان اور عزت خطرے میں ہے ایسی صورتحال میں وہ مزمل کو بالکل نہیں نکال سکتا تھا اب اسے پتہ لگانا تھا۔۔۔ یہ دشمن ستار میمن ہے یا پھر کوئی اور
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 12
"سوری میڈم اس وقت آپ کو سکون کی نیند لینا ضروری ہے، تاکہ میں اپنا کام سکون سے کرسکوں"
مزمل تعبیر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اسے سینے تک کمفرٹر اڑا کر کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا اور پاکٹ سے موبائل نکال کر ستار میمن کا نمبر ملانے لگا
سیڑھیاں اترتا ہوا وہ نیچے ہال میں آیا۔۔۔ ہال میں موجود لائبریری کا رخ کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔ پینٹگ کو نیچے رکھتا ہوا وہاں موجود مخصوص بٹن دبایا تو خفیہ دیوار نما دروازہ کھل گیا،،، مزمل کا موبائل بجنے لگا
"سائیں میرے آدمی پہنچ گئے ہیں، دو ٹرک میں اپنی نگرانی میں مال لوڈ کراؤ تمہیں تمہارا انعام صبح مل جائے گا"
ستار میمن کی آواز ابھری
"جو حکم"
کال کاٹتا ہوا وہ پتلی سی گلی طے کر کے گودام میں آیا جہاں تعداد میں پیٹیاں موجود تھی گودام میں موجود ایک دروازہ جوکہ گھر سے باہر کھلتا تھا۔ ۔۔۔ مزمل نے دروازہ کھولا تو وہاں پہ دو ٹرک موجود تھے مزمل کا اشارہ پاکر ان میں سے آدمی نکلے اور پیٹیوں میں موجود اسلحہ ٹرک میں رکھنے لگے
"احتیاط سے رکھو اور جلدی ہاتھ چلاو"
مزمل نے کلائی پر بندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھ کر کہا، کیونکہ ایک گھنٹے بعد شفٹ چینج ہوجاتی اور گھر کے گیٹ پر دوسرے چوکیدار آتا جو کہ وہاج صدیقی کا خاص وفادار تھا اور مزمل نہیں چاہتا تھا کہ اس پر کوئی کسی قسم کا شک کرے۔۔۔ اس نے جلدی سے ان دونوں کو وہاں سے فارغ کیا کام مکمل کرکے وہ پینٹنگ سیٹ کرتا ہوا لائبریری سے نکلا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا تابی کے روم میں آیا۔۔۔ جہاں تابی گہری نیند میں بے خبر سو رہی تھی
رات کا پہر ہوں، حسن ایسا کہ چونکا دینے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جب وہ آپ کی توجہ کا طالب ہو۔۔۔ہوش و خروش سے بیگانہ،،، شیطان تو پھر آ ہی جاتا ہے
"کیا، کیا جائے پھر"
مزمل نے کمفرٹر تابی کے اوپر سے ہٹا کے اس کے سراپے پر بھرپور نظر ڈال کر خود سے سوال کیا۔۔۔
تابی کے چہرے پر انگلیاں پھیرتا ہوا وہ تھوڑی تک لایا تھوڑی کے نیچے انگلی ٹکا کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔ اپنے ہونٹ تابی کے ہونٹوں کے قریب لا کر پورے استحقاق سے مہر ثبت کی۔۔۔ تھوڑی سے انگلی ہٹا کر وہ اپنی شہادت کی انگلی گردن تک لایا۔۔۔ گردن سے نیچے، اس کی شرٹ میں انگلی اٹکا دی
"تمہاری ذات سے مجھے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، تمہارے ساتھ میں اپنا آپ محفوظ فیل کرتی ہو"
تابی کی آواز مزمل کے کانوں میں ابھری مزمل نے تابی کی بند آنکھوں کو دیکھا یہ وہ جملے تھے جو اس نے چند گھنٹے پہلے تعبیر نے اپنے ہوش و حواس میں اس سے کہے تھے
"بہت نادان ہے آپ میڈم۔۔۔ غلط جگہ محبت کر کے برا پھنسایا خود کو اتنی محبت کرلی وہ بھی بغیر جانے کہ مزمل ہے کون۔۔۔ آپ کی اس نادانی کی سزا آپ کو ملے گی ضرور، مگر آج نہیں، پھر کبھی سہی۔۔ آج کے لیے معاف کیا مزمل نے آپ کو"
وہ تابی سے کہتا ہوں اٹھا تابی کو دوبارہ کمفرٹر اڑھایا۔ ۔۔ کمرے کی لائٹ بند کر کے کمرے میں موجود صوفے پر لیٹ گیا نظر بھٹک بھٹک کر تعبیر اوپر جا رہی تھی لمبا سانس کھینچتا ہوا اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا
****
آج شام افس سے آنے کے بعد اریش کی ٹی وی دیکھتے ہوئے انکھ لگ گئی تھی۔۔۔۔اس لئے آدھی رات کو اس کی آنکھ کھل گئی کھڑی میں ٹائم دیکھا تو ساڑھے چار ہو رہے تھے۔۔۔۔کافی دن ہوگئے تھے ماہرہ(بہن) کی طرف چکر لگائے ہوئے ساحرہ سے بھی فون پر ہفتے بعد بات ہو جاتی تھی۔۔۔۔ اچانک اریش کا دماغ اپنے دوست کی طرف گیا اس کا اکلوتا دوست۔۔۔ اس سے بھی ملاقات ہوئے مہینہ ہوگیا تھا اس عجیب و غریب مخلوق سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس ٹائم جاگ رہا ہو، یہ سوچ آتے اریش نے موبائل اٹھا کر کل ملائی عین توقع کے مطابق کال ریسیو کرلی گئی
"کیسے یاد کرلیا بےوفا قوم کے سردار نے آج"
کال ریسیو کرتے ہی طنز بھرا تیر اڑھتا ہوا آیا۔۔۔۔ اریش کے ہونٹ مسکرائے
"میں نے تو یاد بھی کرلیا تم بتاو آج کل کہا گم ہو"
اریش نے اس کی خبر لیتے ہوئے پوچھا
"کہاں گم ہونا ہے یار مجھ غریب کو ابھی سونے لیٹا تھا، یہ بتاو تم کس کی یاد میں جاگ رہے ہو۔۔۔۔ کہیں کوئی حسیں حادثہ تو نہیں ہوگیا، جس نے میرے یار کی نیندیں اڑ دی"
دوست نے معنی خیزی سے اریش سے کہا
"فل الحال تو روٹین آوٹ ہونے کی وجہ سے نیند آڑی ہے۔۔۔۔ مگر حادثہ بھی شاید ہوگیا ہے امکان یہی ہیں"
اریش نے دھیمے لہجے میں خود سے ہار مانتے ہوئے کہا
"شکر ہے خدا کا تم بھی نارمل انسانوں کی طرح کا بی ہیو کیا۔۔۔۔ ورنہ مجھے تو لگا تم نے کنورہ ہی کوچ کر جانا ہے۔۔۔۔ ویسے اس حسین حادثہ کا نام کیا ہے"
دوست نے جاننا چاہا
"ہانی کی مما"
اریش نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا تو پردوں کے پیچھے مشعل کا عکس لہرایا
"ابے یہ تم کس کی ماں سے دل لگا بیٹھا ہے۔۔۔۔ واقعی تجھ سے تو نارمل کام کی توقع کرنا ہی بےکار ہے"
دوست اسکی بات سن کر ایک دم اریش کی عزت افزائی پر اتر آیا جس کا اریش کو برا نہیں لگا،،، کیو کہ اکثر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی انداز میں مخاطب ہوتے
"زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ تھورے دن میں آکر مجھ سے مل،،،، فون رکھ رہا ہو شاید وہ باہر آگئی ہے"
اریش کی کھڑکی سے مشعل پر نظر پڑی جو کواٹر سے نکل کر لان کی طرف آرہی تھی
"کیا بول رہا ہے کون باہر آگئی ہے"
دوست نے حیرت سے پوچھا
"یار بتایا تو تھا ہانی کی مما۔۔بعد میں بات کرتے ہیں اللہ حافظ"
مشعل کو دیکھ کر اریش کو مال رکھنے کی جلدی ہونے لگی
"بیٹا تیرا تو اللہ ہی حافظ"
دوست نے افسوس کرتے ہوئے کال کاٹی تو اریش کمرے سے نکل کر لان کی طرف گیا
***
مشعل کی برے خواب سے آنکھ کھلی تو واپس اسے نیند نہیں آئی وہ لان میں چہل قدمی کے غرض سے آگئی مگر اریش کو بھی لان میں آتا دیکھ کر وہ واپس کوارٹر میں جانے لگی
"مشعل میری بات سنیئے"
اریش نے مشعل کو جاتا دیکھا تو پکار بیٹھا ہوں
"فرمائیے کوئی کام تھا" مشعل کر سنجیدہ انداز میں اس سے پوچھنے لگی رک
"آپ اس وقت جاگ رہی ہیں ہے خیریت"
اس کا روکھا انداز دیکھ کر آریش کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس سے کیا بولے
"جی اس وقت میرا فٹبال کھیلنے کا دل چاہ رہا تھا اس لئے لان میں آگئی"
بغیر مذاق کا تاثر دیئے مشعل نے سیریز انداز اختیار کرتے ہوئے اریش کو بولا
"آپ شاید ابھی تک اس دن کی بات کا برا مانی ہوئی ہے آئی ایم ویری سوری اس دن کے لئے۔۔۔۔ اب تو ہماری دوستی پکی نہ"
آریش نے معذرت کر کے دوستانہ انداز اختیار کرتے ہوئے مشکل کو دیکھ کر کہا
"آکا میری ماں جیسی ہیں جو کہ آپ کے گھر جاب کرتی ہیں۔۔۔۔ مالک اور نوکر کے درمیان فرق ہوتا ہے آپ پلیز اس گھر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور بلاوجہ میں فرینک ہونے سے گریز کریں"
مشعل نے آرائش کو اپنے اور اس کے درمیان کا فرق واضح طور پر سمجھایا تو اریش کی مسکراہٹ تھم گئی مشعل اس کو کچھ بھی بولنے کا موقع دیئے بغیر واپس کوارٹر میں چلی گئی۔۔۔۔۔ اریش اسے سنجیدگی سے جاتا ہوا دیکھنے لگا
****
وہاج تھوڑی دیر پہلے ہی گھر لوٹا تھا وہ گیا بھی نئے اسلحے کی خریداری کے سلسلے میں تھا
"صدیقی صاحب نیا مال گودام سیٹ کروا دیا ہے مگر پرانے مال میں سے کافی پیٹیاں کم ہے"
غلام بخش کی اطلاع دینے پر وہاج جو ریلیکس انداز میں صوفے پر برجمان تھا ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
"پیٹیاں کم ہیں یہ کیا کہ رہے ہو تم کتنی پیٹیاں کم ہیں"
وہاج نے حیرت سے غلام بخش سے پوچھا
"کم سے کم دو ٹرک کا مال صاحب" غلام بخش کی بات سن کر وہاج غصے میں آگیا
"کیا بکواس کر رہے ہو تم، دو ٹرک کا مال غائب ہوگیا ہے جانتے ہو اس کا مطلب، مجھے لاکھوں کا نقصان ہوا ہے جا کر گنتی کرو دوبارہ اور فضل کو میرے پاس بھیجو"
وہاج کے لیے یہ خبر کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی
"جی وہاج صاحب آپ نے بلایا"
فضل نے آتے ہی وہاج سے پوچھا
"میرے پیچھے کون آیا تھا گھر میں"
وہاج نے فضل سے پوچھا
"نہیں صاحب گھر پر تو کوئی نہیں آیا تھا نہ ہی گھر سے باہر تابی بی بی یا مزمل میں سے کوئی گیا تھا"
فضل نے وہاج کو پریشان دیکھ کر کہا
"مزمل کہا ہے اسے بھیجو میرے پاس" مزمل کے نام پر وہاج چونکہ وہی ایک نیا بندہ تھا باقی سب پرانے ملازم تھے اور پہلے کبھی اس طرح کی واردات بھی سامنے نہیں آئی وہاج سوچنے لگا
"صاحب مزمل اپنے کواٹر میں موجود نہیں ہے"
فضل نے تھوڑی دیر میں آکر بتایا یہ بات وہاج کو مزید شک میں مبتلا کر گئی
****
تابی کی صبح آنکھ کھلی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی دونوں بازو کھول کر اوپر کرتے ہوئے اس نے انگڑائی لی تو سامنے صوفے پر سوتے ہوۓ مزمل پر نظر گئی تعبیر کے چہرے پر حسین مسکراہٹ آئی اسے رات خبر ہی نہیں ہوئی کہ کب مزمل سے باتیں کرتے کرتے وہ سو گئی مگر دماغ پر زور ڈالے بناء وہ بیڈ سے اٹھ کر وہ صوفے کے پاس آئی اور فرش پر بیٹھ گئی مزمل کا چہرہ دیکھنے لگی
"آخر کیوں اتنے اچھے لگنے لگے ہو تم"
تابی نے دل ہی دل میں مزمل کو مخاطب کیا
"کیا دیکھ رہی ہیں آپ میڈم، وہ بھی اتنے غور سے"
مزمل نے آنکھیں کھولے بناء تعبیر سے کہا۔۔۔ تو تعبیر کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی
"تمہیں جاننے کا شوق ہے کہ میں کیا دیکھ رہی ہوں"
تابی نے مسکراتے ہوئے سوال کیا
"اپنے بارے میں جاننے کا تجسس کسی نہیں ہوتا ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے معلوم ہوکہ سامنے والا اس کے متعلق کیا سوچ رہا ہے"
مزمل نے آنکھیں کھول کر تعبیر سے سوال کیا
"ایسے تو پھر مجھے بھی تجسس ہے کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو"
تابی نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے وہ اپنے بارے میں پوچھنا چاہ رہی ہو
"مزمل تو آپ کو دیکھ کر صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے کہ کتنا خوش نصیب ہے وہ، جس کو اس کی پریوں جیسی میڈم اپنا نازک سا دل دیئے بیٹھی ہیں"
مزمل نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، تعبیر نیچی نظریں کرکے مسکرائی
"اب آپ کیا سوچ رہی ہے مزمل کے بارے میں"
مزمل نے اس کو مسکراتا ہوا دیکھ کر پوچھا
"میں جو بھی سوچ رہی ہوں وہ تمہیں میں کبھی بھی نہیں بتانے والی" تابی نے شرارت سے مسکراتے ہوئے مزمل کو کہا تو اس کی بات سن کر مزمل بھی مسکرا دیا یہ جملہ اسکی میڈم اسے شروع دن سے بول رہی تھی اور جب جب وہ آنکھوں میں شرارت لیے مزمل کو اس طرح بولتی تھی تو وہ مزمل کو اور زیادہ اچھی لگتی تھی مگر یہ بات بھی مزمل اس کو فل الحال نہیں بتانے والا تھا
"کب سے جاگے ہوئے ہو"
مزمل صوفے سے اٹھ کر بیٹھا تو تابی نے پوچھا
"جب آپ ہاتھ اوپر کرکے انگڑائی لے رہی تھی تب سے"
مزمل نے اس کو دیکھتے ہوئے نارمل انداز میں شرارت بھرا جواب دیا جس کو سن کر وہ جھینپ گئی
"کل رات تمہیں نیند آگئی تھی"
تابی نے مزمل کی بات سن کر اپنی جھینپ مٹانے کو سوال کیا
"نہیں کل رات میرا سونا اور بھی زیادہ مشکل ہوگیا تھا"
وہ تابی کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا
"جگہ چینج ہونے کی وجہ سے"
تابی نے اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا
"نہیں وجہ یہ نہیں تھی"
مزمل نے تابی کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
"پھر کیا وجہ تھی" تابی نے ویسے ہی بیٹھے بیٹھے پوچھا تو مزمل اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر آئے ہوئے بال کان کے پیچھے کیے
"یہ میں بھی آپ کو کبھی نہیں بتانے والا"
وہ بولتا ہوا روم سے چلا گیا تو تابی اس کی بات سن کر مسکرا دی
****
وہاج ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ مزمل کہا گیا ہوگا اس کی نظر مزمل پر پڑی جو کہ بال ہاتھ سے سنوارتا ہوا تابی کے روم سے نکل رہا تھا۔۔۔۔ وہاج کی سوچوں کا دھارا کہیں اور ہی چلا گیا اس کا مزمل کو دیکھ کر مزید خون کھول گیا
"مزمل"
وہاج دھاڑتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر مزمل کی طرف میں آیا مزمل وہاج کو دیکھ کر وہی رک گیا
"کیا کر رہے تھے تم اس وقت تابی کے روم میں، میں نے تمہیں اپنی بیٹی کی رکھوالی کے لئے رکھا تھا نہ کہ"
وہاج مزمل کا گریبان پکڑتا ہوا بولا۔۔۔ مگر اس سے پہلے مزمل وہاج کی بات کا جواب دیتا یا اپنا گریبان اسے چھڑاتا تابی اپنی روم سے نکل آئی
"کیا ہوگیا ہے بابا آپ کو، یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔ آپ نے اسے میری رکھوالی کے لئے رکھا تھا تو وہ اپنی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا،، میرے کہنے پر وہ میرے بیڈ روم میں آیا تھا میں نے کہا تھا اسے"
تابی نے وہاج کا ہاتھ مزمل کے گریبان سے ہٹاتے ہوئے کہا
"اپنے باپ کے سامنے ایسی بکواس کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تمہیں" وہاج کا ہاتھ تابی کے گال پڑنے والا تھا مگر مزمل نے تھام لیا
"معاف کریئے گا سر مگر آپ پوری بات جانے بناء اس طرح نہ مجھ پر الزام لگا سکتے ہیں اور نہ ہی میڈم پر ہاتھ اٹھا سکتے ہیں۔۔۔ کل رات کو کوئی میڈم کے کمرے میں آگیا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے میڈم کافی خوفزدہ تھی اور یہی وجہ تھی کہ رات میں نے میڈم کے کمرے میں گزاری میڈم کی عزت اور جان کی حفاظت کرنا میری جاب ہے اور میں نے اپنی جاب ایمانداری سے کی ہے مگر یہ بات میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں کہیں گر کر جاب نہیں کرتا اس لئے میں اسی وقت یہ جاب چھوڑتا ہوں اللہ حافظ"
مزمل کہتا ہوا سیڑھیاں اتر کر وہاں سے چلا گیا جہاں وہاج کو اس کی بات سن کر سانپ سونگ گیا وہی مزمل کی جاب چھوڑنے کی بات پر تابی مزمل کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
****
"کیا بول کر آئے ہو تم وہاں پر مزمل، تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو تم یہ جواب چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والے میں بتارہی ہوں"
تعبیر کواٹر کا دروازہ کھول کر اندر آئی اور مزمل کو دیکھ کر بولنا شروع ہوگئی
"میڈم پلیز مجھے اپنی عزت نفس بہت عزیز ہے اس لیے میں یہ جاب مزید نہیں کرسکتا"
مزمل بیگ میں اپنے کپڑے ڈالتا ہوا بولا
"تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہے ہو مزمل، ایسا کر کے تم مجھے ہرٹ کرو گے"
تابی مزمل کے ڈالے ہوئے کپڑے بیک سے نکالتے ہوئے بولی
"آپ اپنے بابا کے خیالات جان کر بھی مجھ سے ایسی باتیں کر رہی ہیں، حقیقت کی دنیا میں قدم رکھیں اور اسے تسلیم کریں ہم دونوں کے درمیان فرق بہت معنی رکھتا ہے"
مزمل تابی کے ہاتھ سے اپنی شرٹ لیتے ہوئے بولا
"بابا کے خیالات کو چھوڑو تم اپنے خیالات بتاؤ مجھے تمہیں میں پسند نہیں"
تعبیر مزمل کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تو نظریں چرا گیا
"میڈم پلیز"
مزمل نے بولا دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ جس پر وہ دونوں مڑے وہاج وہی کھڑا تھا
"بابا روکیے اسے یہ جاب چھوڑ کر جا رہا ہے"
تعبیر نے وہاج کو دیکھ کر کہا
"مزمل کہیں نہیں جارہا ہے آپ اپنے کمرے میں جائے"
وہاج نے تعبیر کو دیکھ کر کہا۔۔۔ تعبیر نے ایک نظر مزمل کی طرف دیکھا قدم اٹھاتی ہوئی کوارٹر سے باہر چلی گئی
جس طرح تم صبح کے وقت تابی کے رو سے باہر نکلے۔،۔۔ تو ایک باپ ہونے کے ناطے میرا یہی ریکشن ہونا چاہیے تھا اس لئے میں غلط بالکل نہیں ہوں۔۔۔ تم نے اپنی جاب ایمانداری سے نبھائی میری بیٹی کی اس انجان دشمن سے حفاظت کی۔۔۔۔۔ اس کے لئے میں تمہارا مشکور ہوں، تابی کی یونیورسٹی کا ٹائم ہو جائے گا تو اسے باحفاضت یونیورسٹی لیکر جانا اور واپس لے کر آنا"
وہاج بولتا ہوا کوارٹر سے چلا گیا
وہاج کو یقین ہوگیا اس انجان آنے والے دشمن نے اس کا نہ صرف اسلحہ غائب کیا ہے۔۔ بلکہ اس کی بیٹی کی بھی جان اور عزت خطرے میں ہے ایسی صورتحال میں وہ مزمل کو بالکل نہیں نکال سکتا تھا اب اسے پتہ لگانا تھا۔۔۔ یہ دشمن ستار میمن ہے یا پھر کوئی اور
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment