Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 11

🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 11



رات کا پہر تھا جب ارتضیٰ وہاج صدیقی کے گھر میں داخل ہوا پورا گھر سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا وہ گھر میں موجود اس کمرے میں داخل ہوا جو کہ سب سے کونے میں موجود تھا اس کمرے میں کافی ساری بکس ترتیب دے کر شیلف میں رکھی گئی تھی، کہا جاسکتا ہے کہ اس کمرے کو لائبریری کی شکل دی گئی تھی۔۔۔ کمرے کا دروازہ لاک کر کے وہ کمرے کی ایک ایک چیز کا جائزہ لینے لگا کمرے میں بچھا ہوا رگ کو ہٹا کر اس نے یقین کیا کہ یہاں کوئی تہخانہ نہیں، پھر اس نے دیواروں کو چھو کر محسوس کیا سب سے آخری والی دیوار کا تھوڑا حصہ جس پر دیوار کی طرح رنگ کرکے دیوار کی ہی شکل بھی دی تھی، آہستہ آہستہ دبا کر اس نے محسوس کیا کہ یہ کوئی دروازہ ہے جس کے پیچھے کوئی کمرہ وغیرہ ہوگا مگر یہ کھلے گا کیسے وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔ اس کی نظر برابر دیوار پر لگی پینٹنگ پر گئی ذہن میں کچھ کلک کیا دیوار سے پینٹنگ ہٹائی،،، اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری دیوار میں نسب بٹن کو اس نے دبایا دیوار کھل گئی اور اس میں اندر جانے کا خوف یہ راستہ نمودار ہوا

ارتضیٰ پسٹل ہاتھ میں لے کر دیوار تک پہنچا تو ایک پتلی سی گلی تھی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ گلی کے اندر داخل ہوا گلی کے اختتام پر ایک بڑا سا ہال نما کمرہ تھا جس میں چاروں طرف لکٹری کی پیٹیاں رکھی ہوئی تھی اور بیچ میں ایک بڑا سا ٹیبل کمرے میں موجود تھا۔۔۔۔پورے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھا اور کمرے میں قدم رکھا ایک ایک کر کے ساری پیٹیاں چیک کی توقع کے مطابق ساری ہی ہتھیاروں سے لیس تھیں۔۔۔۔ بہت آسانی سے وہ پولیس کو انفارم کر کے وہاں پر ریڈ دلوا سکتا تھا مگر اس نے کچھ اور سوچا ہوا تھا،، اس لئے ٹیبل کے نیچے ایک منی مائیکرو فون لگا کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔

لائبریری میں واپس آکر اس نے پر پینٹنگ ویسے ہی لگائی اور کمرے سے نکل گیا سیڑھیوں کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا

"کیو نا اپنی اسنووائٹ کو بھی ملاقات کا شرف بخش دیا جائے"

یہ سوچ آتے ہی اس نے اپنا موبائل نکال کر ایک کال ملائی اور سیڑھیاں چڑھنے لگا

****

تعبیر بڑے مزے سے بیڈ پر لیٹی ہوئی ہارر مووی دیکھ رہی تھی مگر اب اسے ہلکی ہلکی نیند آنے لگی، دماغ بھٹک کر مزمل کی طرف چلا گیا۔۔۔۔

جب سے مزمل نے اس کو بچانے کے لئے اپنے اوپر گولی کھائی تھی تابی کو تو اس نے بچا لیا مگر تابی اپنا دل نہیں بچا پائی تھی جو بری طرح اسے خود سے بغاوت کرنے پر اکسا رہا تھا۔ ۔۔۔ بار بار دماغ اس اجنبی کی طرف جاتا تو تابی کو لگا وقتی طور پر وہ مزمل کے لئے ایسی فیلنگ رکھ رہی ہے، ظاہر سی باتیں اس نے جان بچائی تھی۔۔۔ مگر ہفتے بعد جب اس کو یقین ہو گیا کہ وہ اب نہ اس کے دماغ سے نکلنے والا ہے اور نہ ہی دل سے تب اس نے ارادہ کیا کہ وہاج صدیقی سے اس اسپتال کا پتہ پوچھے گی جہاں وہ ایڈمٹ ہے۔۔۔۔ مگر دوسرے دن ہی اسے خود اپنے گھر میں روبرو دیکھ کر تابی کو پختہ یقین ہو گیا تقدیر بھی اس کو مزمل سے ملانا چاہتی ہے

"تو مسٹر باڈی گارڈ تمھاری یہ میڈم تم پر اپنے پیار کا جادو چلا ہی دی گی"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے سوچا ویسے ہی کمرے کی لائٹ بند ہوئی

"یہ لائٹ کیسے بند ہو گئی"
تابی بیڈ سے اٹھی اچانک کمرے میں اندھیرا ہونے سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔ دیوار پر ہاتھ مار کر سوئچ بورڈ کو ٹٹولا تو اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور بند ہوا

"کون ہے"
کھڑکی سے اندر آتی چاند کی روشنی،، کمرے کا اندھیرا ختم کرنے کے لیے ناکافی تھی۔۔۔۔ تابی کو کمرے کے اندر آنے والا شخص دکھائی نہیں دیا البتہ کمرے میں کوئی دوسرا موجود تھا اس کی موجودگی کا احساس وہ کر سکتی تھی۔۔۔ تابی نے اندازے سے اپنے قدم بیڈ کی طرف بڑھائے تاکہ موبائل اٹھا کر ٹارچ آن کر سکے مگر اس سے پہلے ہی اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔۔۔۔

 تابی نے پیچھے مڑ کر دیکھا ہی تھا کسی نے اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈالا

"کون ہو تم چھوڑو مجھے"
تابی کا دل بری طرح دہل گیا وہ اپنے ہاتھ پاؤں چلاتی ہوئی چیخ کر بولی۔۔۔۔ ارتضیٰ نے اسے بیڈ پر لاکر پھینکا تابی خوف کے مارے بیڈ کی دوسری سائیڈ سے اترنے لگی ارتضیٰ نے اس کا ارادہ بھانپ کر تابی کے دونوں پاؤں پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔ تابی نے مضبوطی سے بیڈ شیڈ پکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔ ارتضیٰ کے اپنی طرف کھینچنے پر وہ بیڈ شیٹ سمیت کھینچتی ہوئی ارتضیٰ کی طرف آئی

"نہیں۔۔۔ کون ہو تم"
ارتضیٰ اسے اپنی طرف کھینچ کر اس پر جھک چکا تھا۔۔۔ تابی کے دونوں ہاتھ اور ارتضیٰ کے ہاتھوں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔ تابی کے پاؤں کو اس نے اپنے پیر سے قابو میں کیا ہوا تھا

"یہی بتانے آیا ہوں کون ہوں میں"
تابی اس کی آواز اچھی طرح پہچان گئی تھی اس کا دل سوکھے پتے کی طرح لرزنے لگا

"آئندہ میری کال کو یا مجھے اگنور کرنے کی ہرگز غلطی مت کرنا۔۔۔۔ اور اپنے اس نئے بوڈی گارڈ سے دور رہو۔۔۔۔ بتایا تھا نا تمہیں کہ تم میری ہو سمجھ نہیں آیا تمہیں"
ارتضیٰ تابی کے اوپر جھکا ہوا اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب لائے اس سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔خوف کے مارے تابی کا خون خشک ہونے لگا۔۔۔ اس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی ہوئی تھی

"پلیز مجھے چھوڑ دو"
فرار کے راستے بند ہونے کی وجہ سے مزاحمت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لئے تابی روتے ہوئے کہنے لگی

"تمہیں چھوڑنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اب سب کچھ چھوڑ کر تمہیں میرے پاس آنا ہوگا"
وہ کہتا ہوا تابی کی گردن پر جھکا، ارتضیٰ کے ہونٹوں نے تابی کی گردن کو چھوا ہی تھا۔۔۔ تابی کو اپنی گردن پر اس کے ہونٹوں کے لمس اور بڑی ہوئی شیو کی چبھن کا احساس مزید خوفزدہ کر گیا

"مزمل۔۔۔۔ مزمل" تعبیر زور زور سے چیخنے لگی۔۔۔۔ ارتضیٰ نے اپنا سر اٹھایا اور تعبیر کے چہرے کے قریب لایا

"کیا بولا۔۔ پھر سے بولو زرا"
ارتضیٰ نے غراتے ہوئے کہا اور اپنے ہاتھوں کی گرفت تابی کلائیوں پر اور بھی سخت کردی

"سوری پلیز میرے ساتھ ایسا نہیں کرو"
تعبیر نے سسکتے ہوئے کہا۔۔۔ اس کو روتا ہوا، خوف زدہ دیکھ کر ارتضیٰ تابی کے ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اس کا مقصد اسے سمجھانا تھا اور وہ اسے اچھی طرح سمجھا چکا تھا

"آئندہ کے لیے احتیاط برتنا ورنہ میں احتیاط ہرگز نہیں کروں گا"
تابی کو مزید دھمکاتا ہوا وہ اس کے کمرے سے نکل گیا

تابی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر بیٹھے وہ خوفزدہ سی ہو کر بیڈ پر لیٹی رہی، چند منٹ گزرنے کے بعد  جب اسے محسوس ہوا جیسے وہاں مزمل کی آواز آئی ہو۔۔۔۔ ویسے ہی لائٹ کی روشنی سے پورا کمرہ نہا گیا

"میڈم"
مزمل نے دوبارہ پکارا تابی بیڈ سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔ مزمل سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آرہا تھا تب تابی اسے نائٹ ڈریس میں روتی ہوئی تیزی سے سیڑھیاں اترتی ہوئی نظر آئی۔۔۔ وہ مزمل کی سینے پر سر ٹکا کر زور زور سے رونے لگی

"میڈم کیا ہوا آپ کو"
تابی کو اس طرح روتا دیکھ کر وہ پریشان ہو کر پوچھنے لگا

"تم وہاں پر کیوں نہیں تھے مزمل، وہ آج پھر آیا تھا میرے روم میں"
تابی نے رونے کے درمیان مزمل سے کہا

"کون آیا تھا آپ کے روم میں یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ"
مزمل نے حیران ہو کر اس سے پوچھا

"اس نے میرے ساتھ"
تابی روتے ہوئے ادھورا جملہ بولا۔۔۔ تو مزمل نے اس کو کندھوں سے تھام کر اسے اپنے سے الگ کیا

"کیا کیا اس نے، آپ کیا بول رہی ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا" مزمل نے سنجیدگی سے تابی کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"اس نے مجھے دھمکایا، مجھے خوفزدہ کیا میں بہت ڈر گئی تھی مزمل"
تابی نے اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونا شروع کر دیا اب وہ اسے کیا بتاتی کہ اپنی گردن پر کسی دوسرے کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے وہ کتنی خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔۔ مزمل کی نظر تابی کی سرخ کلائیوں پر پڑی جس پر انگلیوں کے نشان واضح تھے 

"میڈم یہاں بیٹھیے" مزمل نے تابی کا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا اور خود وہاں سے جانے لگا، تو تابی نے اس کا ہاتھ تھام لیا جیسے اسے ڈر ہو وہ کہیں جا رہا ہو

"کہیں نہیں جا رہا یہی ہوں"
تابی کو خوف زدہ دیکھ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر وہ نرمی سے بولا اور کچن کی طرف چلا گیا ڈسپنسر سے ایک گلاس میں پانی نکالا اور اپنی پاکٹ سے ایک شیشی نکال کر اس میں سے دو گولیاں پانی میں ڈالی۔۔۔ گولیاں پانی میں تحلیل ہوئی تو وہ کچن سے نکلا اور تابی کے پاس آیا

"یہ لیجیے پانی پی لیں"
مزمل نے اس کی طرف پانی کا گلاس بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ تابی اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر پانی پینے لگی۔۔۔ مزمل اسی کو دیکھ رہا تھا، دو گھونٹ پانی پینے کے بعد اس نے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا، مزمل نے گلاس اٹھایا

"تھوڑا اور پیئے میڈم"
مزمل بولتا ہوا گلاس اس کے لبوں تک لے گیا اور خود اسے پانی پلانے لگا کہیں وہ دوبارہ دو گھونٹ پی کر واپس نہ رکھ دے۔۔۔ مزمل کے ہاتھوں سے پانی پیتے ہوئے تابی اسی کو دیکھ رہی تھی، مزمل کی نگاہیں بھی تابی پر تھی۔۔۔ آدھے سے زیادہ گلاس پانی پینے کے بعد تابی نے اپنا منہ پیچھے کیا

"اب بتائیے کیا ہوا تھا"
مزمل نے گلاس ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا

"ایک دم کمرے کی لائٹ بند ہوئی اور وہ میرے روم میں آیا"
تعبیر دوبارہ بولی

"کون"
مزمل نے اس کا جملہ کاٹا

"میں نہیں جانتی وہ کون ہے وہ مجھے کال کرتا ہے اور کہتا ہے"
تعبیر رکی

"کیا کہتا ہے"
مزمل نے تجسس سے پوچھا

"وہ کہتا ہے، یو آر مائین"
تابی نے نیچی نظر کرکے اسے بتایا تو مزمل اس کو دیکھتا رہا

"یعنی وہ جو بھی کوئی ہے آپ کو پسند کرتا ہے، اپکو اپنا مانتا ہے"
مزمل نے تابی سے کہا

"مگر میں نہ ہی تو اسے پسند کرتی ہوں اور نہ ہی اپنا مانتی ہو"
تابی نے سنجیدگی سے مزمل کو دیکھتے ہوئے بولا

"جبکہ پیار کرنے والوں کی قدر کرنی چاہیے اور خوش نصیب ہے آپ، جو آپ کو کوئی اتنا پیار کرتا ہے"
مزمل نے تابی کو جتاتے ہوئے کہا تو تابی صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آئی

"اپنے بارے میں کیا خیال ہے تم بھی تو خوش نصیب ہو، خوش نصیبی تمہارے دروازے پر بھی تو کھڑی دستک دے رہی ہے کھول دو اپنے دل کے دروازے"
تابی نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا

"میرے خیال میں آپ کو اپنے بیڈ روم میں جا کر سو جانا چاہیے"
مزمل تابی کو غور سے دیکھتا ہوا بولا

"بس اتنی ویلیو ہے میری، تمھاری نظر میں"
تابی نے تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

آپ ویلیو کی بات نہیں کریں۔۔۔ آپ مزمل سوچ تک کبھی نہیں جاسکتی مگر مزمل اپنی اوقات اور حدود سے واقف ہے پلیز میڈم رات کافی ہو گئی ہے آپ اپنے بیڈ روم میں جائے" مزمل نے بات ختم کرتے ہوئے کہا

"مجھے اکیلے اپنے بیڈروم میں ڈر لگے گا"
تابی ایک دفعہ پھر اکیلے بیڈ روم جانے کا سوچ کر، اس سے کہنے لگی

"اب کوئی بھی آپ کے بیڈروم میں نہیں آئے گا میں یہی موجود ہوں، آپ بے خوف ہو کر سوجائیں"
مزمل نے دوبارہ اس کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھکر اس کو اطمینان دلایا

"نہیں بابا گھر پر نہیں ہے میں اکیلے بیڈ روم میں نہیں جانے والی تم میرے ساتھ چلو پلیز" تعبیر نے اپنے آپ سے الجھتے ہوئے مزمل سے کہا

"یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں آپ کو میرے ساتھ ڈر نہیں لگے گا، ایک نامحرم کو اپنے بیڈ روم میں لے جانے کے لئے کہہ رہی ہیں آپ"
مزمل نے حیرت سے اس کو یاد دلاتے ہوئے کہا

"کیوکہ مجھے معلوم ہے یہ نامحرم میرا نگہبان ہے، تمہاری ذات سے مجھے کبھی خطرہ نہیں ہوسکتا۔۔۔ تمہارے ساتھ میں اپنے آپ کو محفوظ فیل کرتی ہوں"
تابی نے پر یقین لہجے میں کہا

"اتنا اعتبار ہے آپ کو مزمل پر"
مزمل نے اس کو غور سے دیکھتے ہوئے اس سے سوال کیا

"اعتبار بھی ہے اور پیار بھی"
تابی نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

"آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں جب کہ آپ"
مزمل نے گھور کر اسکو دیکھا اور اپنے آپ کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا

"کیوں تمہیں پیار نہیں ہے مجھ سے"
تعبیر نے اس کا گریبان پکڑتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا

"کمرے میں جائے آپ اپنے"
نگاہیں پھیرتے ہوئے مزمل نے کہا

"جواب دو پہلے"
تعبیر نے اس کا گریبان جھنجھوڑا

"نہیں ہے پیار، آپ کو کس نے کہا کہ مجھے آپ سے پیار ہے" 
مزمل نے اس کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکتے ہوئے پوچھا

"پیار نہیں ہے کیا ہر ایک کے لیے یوں ہی گولی کھا لیتے ہو،،، بولو۔۔۔۔ جو تم منہ سے نہیں بولتے وہ تمہاری انکھیں صاف بولتی ہیں ابھی سے نہیں پہلے دن سے۔۔۔ مزمل میرے پاس بابا کے علاوہ دوسرا کوئی رشتہ نہیں جو کے میرا اپنا ہو، جس سے میں اپنی ہر بات، ہر خوشی، غم شیئر کر سکو پلیز میرے ساتھ ایسے مت کرو"     
یہ کہنے کے ساتھ ہی تابی کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اس سے پہلے وہ بات کرتے ہوئے نیچے گرتی مزمل نے اس کو تھام لیا

"شاید گولیوں کا اثر ہو گیا ہے"
مزمل نے سوچا اور اسے بانہوں میں اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگا

تابی کو اس کے بیڈروم میں لا کر بیڈ پر لیٹایا چہرے پر آئے ہوئے بال اپنے ہاتھوں سے پیچھے کرتے ہوئے اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا،، تابی کا ہاتھ تھام کر اس کی کلائی پر موجود نشانات پر اپنی انگلیاں پھیرنے لگا جو کہ اب مدھم پڑگئے تھے

"سوری میڈم مگر اس وقت آپ کو سکون کی نیند لینا ضروری ہے تاکہ میں اپنا کام سکون سے کرسکو"
مزمل تابی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا 

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment