Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 10

🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 10


مشعل اسکول سے تھکی ہوئی گھر آئی تو ہانی منہ پھلائے ہوئے سیڑھیوں پر ہی بیٹھا تھا

"کیا ہوگیا۔۔ مما کا بیٹا چپ چپ کیوں ہے"
مشعل نے پیار سے اس کے سلکی بالوں کو بکھیرتے ہوئے کہا

آپ نے ہانی کو منع کردیا اس کے فرینڈ سے ملنے سے۔۔۔آکا سارے دن وہی ہوتی ہیں آپ کے آنے کے ٹائم پر ہانی کو گھر جانے کا کہتی ہیں۔۔۔ ہانی بور ہوجاتا ہے اب وہ کس کے ساتھ کھیلے"
ہانی نے اپنی لائف کی سب سے بڑی پرابلم مشعل کو بتائی

"اس میں اتنا سیڈ ہونے والی کون سی بات ہے مما کھیلے گئی اپنے ہانی کے ساتھ۔۔۔ اچھا بتاؤ کونسا گیم کھیلے"  مشعل نے ہینڈ بیگ اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے ہانی سے پوچھا

"یہ ہوئی نا بات۔۔۔ اب مما اور ہانی ہائیڈ اینڈ سیک کھیلے گے۔۔۔ آپ کاؤنٹنگ کریں ہانی چھپے گا"
ہانی نے آئیڈیا دیتے ہوئے کہا

"اوکے ہانی زیادہ دور چھپنے کی نہیں ہو رہی"
مشعل نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر گنتی گننا شروع کری

"آئی ایم کامینگ" مشعل نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا

کھلے ہوئے دروازے سے باہر نظر پڑی تو وہ دور سے ہی ہانی کو اریش کی طرف جاتا ہوا دیکھ چکی تھی

"یہ نہیں سدھرے گا"
مشعل ہانی کے پیچھے پیچھے بھاگی اور گھر کے اندر داخل ہوئی ہانی کو پکارنے لگی مگر ہانی اسے کہیں نہیں دکھا۔۔۔۔ سامنے روم پر اس کی نظر پڑی تو وہ دروازہ کھول کر روم کے اندر داخل ہوئی۔۔۔

اریش جو تھوڑی دیر پہلے آفس سے آیا تھا شاور لینے کے غرض سے واش روم گیا ہوا تھا۔۔۔ بغیر شرٹ کے، ٹراؤزر پہنا ہوا, وہ ٹاول سے بال رگڑتا ہوا واش روم سے باہر نکلا اپنے سامنے کھڑی مشعل کو دیکھا، اور مشعل نے اریش کا حلیہ دیکھا دونوں نے بیک وقت چیخ ماری اور اپنا اپنا منہ دیوار کی طرف کر لیا

"اف میرے خدا آپ میں تو ذرا بھی مینرز نام کی چیز نہیں ہے۔۔۔۔ آپ کیا اپنے پورے گھر میں ایسے ہی گھومتے رہتے ہیں"
مشعل کی بات پر اریش نے مڑ کر مشعل کو دیکھا وہ ابھی بھی دیوار کی طرف اپنا رخ کیے کھڑی تھی۔۔۔ اریش نے جلدی سے بیڈ سے اٹھا کر اپنی شرٹ پہنی اور شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا اس کے سامنے آیا

"ایکسکیوز می میم آپ میں بھی اتنے ایٹیکیٹس ہونے چاہیے کے کسی کے روم میں آنے سے پہلے ڈور ناک کریں اور جب کہ روم ایک مرد کا ہو تو دس بار سوچنا چاہیے"
آریش نے اس کو جتاتے ہوئے کہا۔۔۔ جس پر مشعل ایک دم چپ ہو گئی کیوکہ بات وہ صحیح کہہ رہا تھا اس لئے مشعل چپ کر کے جانے لگی

"کہاں جا رہی ہیں اب آپ"
اریش کو لگا کہ شاید وہ کچھ زیادہ بول گیا ہے اس لیے مشعل کو جاتا دیکھ کر پوچھ بیٹھا مگر غلطی کی

"آپ سے مطلب آپ ابا ہیں میرے جو میں آپ کو بتاؤں اپنے کام سے کام رکھا کریں"
بلاوجہ کی بےعزتی پر اریش حیرت ذدہ ہوکر رہ گیا۔۔۔ جبکہ مشعل باہر جانے کے ارادے سے دروازے کی طرف بڑھنے لگی

"ایک تو آپ بلا اجازت کے میرے روم میں آئی اوپر سے اس طرح بدتمیزی کر رہی ہیں۔۔۔ جب تک آپ اپنے آنے کا مقصد نہیں بتائیں گی تب تک آپ میرے روم سے واپس نہیں جاسکتی اور آخری بات میں عمر میں آپ سے چار یا پانچ سال بڑا ہی ہو اس لئے میں آپ کا ابا ہرگز نہیں ہوسکتا"
اریش نے دروازے کے سامنے آکر حساب کتاب برابر کرتے ہوئے کہا۔۔۔ مشعل اس کی بات بہت اطمینان سے اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر سنتی

"مسٹر آریش بجا فرمایا آپ نے چار پانچ سال بڑے ہونے سے اب یقینا میرے ابا نہیں ہو سکتے۔۔۔ مگر چار پانچ سال بڑا بھائی ضرور ہوتا ہے تو ایک اچھے بھائی ہونے کے ناطے آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ اپنی بہن کی عزت کریں اور اسے عزت سے اپنے روم سے جانے دیجئے" مشعل کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا وہ اسی طرح بغیر گھبرائے ہاتھ باندھتے ہوئے آریش سے کہہ رہی تھی،، اس کی باتیں سن کر آریش کو ہنسی آئی

"آپ کو میرے روم سے جانے کے لئے مجھے بھائی بنانے کی ضرورت نہیں ہے مس مشعل، الحمدللہ میری دو بہنیں پہلے ہی موجود ہیں اور تیسری کی مجھے ضرورت نہیں۔۔۔ آپ میرے روم سے جاسکتی ہیں اور میں آپ کو اپنے روم سے اس لئے جانے دے رہا ہوں کیونکہ میں ایک سوبر اور ڈیسنٹ انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف انسان بھی ہو"
اریش نے روم کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا تو مشعل ایک سیکنڈ لگائے بغیر اس کے روم سے باہر نکل گئی۔۔۔ اریش نے روم کا دروازہ دوبارہ بن گیا

"ہانی بیڈ کے نیچے سے باہر آجاؤ آپ کی مما چلی گئی ہیں"
اریش جب بیڈ سے اپنی شرٹ اٹھا رہا تھا تب اس نے ہانی کو بیٹھ کے نیچے چھپا ہوا دیکھ لیا تھا اور مشعل کا اپنے روم میں آنے کا مقصد بھی سمجھ گیا تھا

"ہانی کی مما کو آپ اپنے روم سے جانے کیوں نہیں دے رہے تھے"
ہانی بیڈ سے نکلتے ہوئے اریش سے پوچھنے لگا

"لو جی اب مما کے بیٹے کو وضاحتیں دو"
اریش نے دل میں سوچا

"کیوکہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں ہانی کی مما سے باتیں کرو"
اریش نے ہانی کو گود میں اٹھا کر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے سچی بات بتائی

"ہانی کی ماما پیاری بھی تو بہت ہیں، آپ کو ہانی کی مما اچھی لگتی ہیں"
ہانی نے معصومیت سے سوال کیا۔۔۔۔ اریش نے اس کی بات سن کر غور سے ہانی کو دیکھا اور مسکرایا

"جی مجھے ہانی کی مما پسند ہے مگر ان سے بھی زیادہ مجھے ہانی اچھا لگتا ہے"
اریش نے ہانی کو گدگداتے ہوئے کہا تو ھانی زور سے ہنسنے لگا 

"پتہ ہے ہانی کی مما کو پاسٹا بہت مزے کا بنانا آتا ہے اور ہانی کی مما کو بہت ساری اسٹوریز بھی آتی ہیں۔۔۔ ہانی کی مما ہانی کو اپنے اسکول بھی لے کر جاۓ گی۔۔۔ ویسے اگر آپ کو ہانی اچھا لگتا ہے تو آپ ہانی کو اپنی کار میں بٹھا کر آئسکریم کھلا سکتے ہیں"
ہانی نے فخریہ مما کی خصوصیات بیان کر کے آخر میں اپنے مطلب کی بات کی جس پر اریش مسکرایا

"اوکے ایسا کرو مما سے پرمیشن لے کر آؤ پھر ہانی اور انکل کار میں ڈھیر سارا گھومیں گے بھی اور آئیسکریم بھی کھائے گے"
آفس سے آنے کے بعد اریش اکثر اپنے آفس کے کام میں لیپ ٹاپ میں بزی رہتا۔۔۔ مگر آج اس کا بھی دل چاہا کہ وہ اپنی بور روٹین سے ہٹ کر اس معصوم سے بچے کے ساتھ اپنا ٹائم اسپینڈ کرے

"ہانی مما سے پوچھ کر ابھی آیا"
ہانی بھاگتا ہوا روم سے گیا اور اریش اس کو دیکھ کر مسکرانے لگا

****

 آج صبح تابی کی آنکھ دیر سے کھلی امپورٹنٹ لیکچر ہونے کی وجہ سے وہ آج کی کلاس مس بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ اس لئے سستی کو بائے بائے کہہ کر وہ یونیورسٹی کے لئے جلدی جلدی تیار ہونے لگی۔۔۔۔ موبائل اٹھا کر بیگ میں رکھنے لگی تو موبائل پر 7 مسیڈ کالز پرائیویٹ نمبر سے شو ہو رہی تھی ٹائم دیکھ کر اندازہ ہوا وہ کال رات کے 12 بجے کے بعد آئی تھی کال کرنے والے پر لعنت بھیج کر اس نے موبائل اپنا بیگ میں ڈالا اور دوپٹہ گلے میں ڈال کر روم سے باہر نکلی۔۔۔ سامنے سے مزمل آتا ہوا دکھائی دیا جو اس کے دلائے ہوئے کپڑے زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔بالوں کو ترتیب سے سیٹ کیے ہوئے کلین شیو،،، تابی اس کو دیکھ کر مسکرا دی

"ضرورت رشتہ میں اگر تمہاری تصویر دی جائے تو لائن لگ جائے گی رشتوں کی"
تابی نے آنکھوں میں ستائش لئے ہوئے مسکرا کر بولا

"یہ تعریف تھی یا مذاق"
مزمل نے سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر پوچھا جبکہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے ستائش وہ دیکھ چکا تھا

"تمہیں مذاق لگ رہا ہے"
تابی نے اس سے سوال کیا

"تو یعنیٰ آپ میری تعریف کر رہی ہیں" مزمل نے تابی کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا

"کافی سمجھدار ہو" تابی نے مسکراتے ہوئے کہا

"میرے خیال میں آپ کو بھی سمجھ داری سے کام لینا چاہیے میڈم۔۔۔ چلئے یونیورسٹی کا ٹائم ہوگیا ہے"
مزمل سنجیدگی سے کہتا ہوا باہر نکل گیا

"میرے خیال میں آپ کو پیچھے بیٹھنا چاہیے"
مزمل نے کار کے پاس آکر پیچھے کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا

"اور مجھے کیوں ایسا کرنا چاہیے" تعبیر نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"تاکہ ہم دونوں کی حیثیت میں فرق واضح رہے"
اپنی طرف سے مزمل نے اس ایک جملے میں تابی کو بہت کچھ سمجھانا چاہا تھا اور شاید تابی سمجھ بھی گئی۔۔۔۔ تبھی اس نے مزمل کو غصہ سے دیکھا اور گاڑی کے دروازے سے اس کا ہاتھ ہٹا کر پیچھے کا دروازہ بند کیا اور جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر فرنٹ ڈور کھول کر، وہ گاڑی میں بیٹھ گئی جس پر مزمل تاسف سے سر ہلاتا ہوا رہ گیا یعنی اس کا سمجھنا بے کار تھا۔۔۔ مزمل نے کار میں بیٹھ کر کار اسٹارٹ کردی راستے میں دونوں کے درمیان خاموشی رہی یونیورسٹی آنے پر مزمل نے کار روکی

"صرف چند منٹ کا کھیل ہوتا ہے چند منٹ میں حیثیت بھی بدل سکتی ہے اور رشتہ بھی۔۔۔ اور محبت ہونے کے لیے تو ایک لمحہ ہی کافی ہوتا ہے"
تعبیر اس کو بول کر گاڑی سے اتر گئی اور مزمل حیرانگی سے اس کو دور جاتا دیکھتا رہا

****

"ارتضیٰ کھانا لے کر آؤ"
مریم نے ارتضیٰ پوچھا وہ تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا 

"نہیں مما خاص بھوک نہیں لگی"
وہ سنجیدگی سے کہتا ہوا اپنا لیپ ٹاپ کھول کر مصروف ہوگیا

جس دن اسرار اسکے گھر سے دعا کو لے گیا تھا۔۔۔۔ اس دن سے ارتضیٰ نے تہیہ کر لیا تھا وہ اپنی اسنووائٹ ان انکل سے واپس لے آئے گا۔۔۔۔ وہ بڑا ہوا کافی وقت گزرا مگر اسے دعا کا پتہ نہیں چل سکا پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اس جاب کا اپنے لیے انتخاب کیا تو زندگی کو نیا مقصد ملا۔۔۔ ایک سیکرٹ ایجنٹ بن کر اس نے پچلھے دو اسائنمنٹ مہارت سے پورے کیے مگر دل کے کونے میں ایک خلش ابھی بھی باقی تھی۔۔۔

جب کرنل فراز نے اس کے سامنے وہاج صدیقی کا کیس رکھا جو کہ دنیا والوں کی نظر میں ایک شریف انسان تھا مگر اندر سے اس کا شمار ضمیر فروش انسانوں کی فہرست میں ہوتا تھا۔۔۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنے مفاد کے لئے اپنے ہی ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔۔۔ وہاج صدیقی اسلحے کا کاروبار کرتا اور غیر قانونی طور پر باہر ممالک میں اسلحہ فروخت کرتا۔۔۔۔ جب ارتضیٰ نے وہ فائل پر وہاج صدیقی کی تصویر دیکھی تو اس کو ایک لمحہ نہیں لگا وہاج صدیقی کو پہچاننے میں وہ اس شکل کو کیسے بھول سکتا تھا جو کہ ارتضیٰ سے اسکی اسنووائٹ چھین کر لے گیا تھا۔۔۔

جب ارتضیٰ نے اس کیس کو پوری طرح اسٹیڈی کیا تو ساری کڑیاں خود بخود جڑ گئی ۔۔۔۔

اسرار نامی قیدی جوکہ 18 سال پہلے جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اچانک کہاں روپوش ہوگیا کھبی کسی کو کچھ معلوم نہ ہوسکا۔۔۔ یقیناً وہ اپنا اور دعا کا نام اور شناخت بدل کر امریکا شفٹ ہو گیا تھا

چار سال پہلے امریکہ سے وہاج صدیقی اپنی اکلوتی بیٹی تعبیر صدیقی کے ساتھ پاکستان شفٹ ہوا۔۔۔۔

ارتضیٰ کو یقین نہیں آیا کہ جس کی اتنے سالوں سے تلاش تھی وہ اس کے سامنے یوں اچانک کا جائے گا۔۔۔

جو اس کو ڈیٹیلز دی گئی تھی اس کے مطابق وہاج صدیقی اسلحہ اپنے گھر میں ہی کسی خفیہ جگہ پر رکھتا تھا اور وہ معلوم کرنے کے لئے ارتضیٰ کو اس کے گھر جانا تھا، مگر وہ یہ کام صرف رات  میں ہی کرسکتا تھا اس لیے گھر میں موجود کل کیمروں کی تعداد اور لوکیشن نوٹ کرکے انہیں 20 منٹ کے لئے ڈی ایکٹیویٹ کیا اور اس رات وہ وہاج صدیقی کے گھر پہنچا ایک کمرے کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد اسے خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کو واپس جاننے کے لئے روم سے نکلا مگر دل میں خواہش جاگی کہ ایک نظر اپنی اسنووائٹ کو دیکھے کہ وہ کیسی ہے۔۔۔۔ اپنے دل کی خواہش کا احترام کرتا ہوا وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا تعبیر کے کمرے میں پہنچا،،، ٹارچ کی روشنی میں جب اس نے تعبیر کا چہرہ دیکھا تو اسے لگا ایک پل کے لئے اس کے دل کی دھڑکنیں تھم سی گئی ہیں۔۔۔۔ کتنے سالوں بات ہو اپنی اسنووائٹ کو دیکھ رہا تھا،، وہ بالکل ویسی ہی دکھتی تھی جیسی  بچپن میں تھی۔۔۔ اسکی اسنووائٹ

جب تابی نے اس کے چہرے پر موجود ماسک اتارنا چاہا۔۔۔تب ارتضیٰ نے فیصلہ کیا جب تک اس کا مشن مکمل نہیں ہو جاتا تب تک وہ تعبیر یا وہاج صدیقی کے سامنے نہ تو آئے گا نہ اپنی شناخت ظاہر کرے گا۔۔۔۔ مگر وہ اس دن تعبیر کو یہ باور کرانا نہیں بھولا کہ وہ صرف اس کی ہے۔۔۔

ہفتے بعد جب وہ وہاج صدیقی کے گھر دوبارہ آیا تو تعبیر کے ڈریسر پر اس کی لپ اسٹک سے یو آر مائین لکھ کر گیا تاکہ تعبیر کی یاداشت میں یہ بات اچھی طرح محفوظ رہے۔۔۔۔ مگر شاید وہ یہ بات بھول چکی تھی یا پھر اس نے ارتضیٰ کو سیریز نہیں لیا تھا۔۔۔اسی وجہ سے وہ دو دن سے تعبیر کو مزمل کے ساتھ دیکھ رہا تھا اسے تابی پر غصہ آرہا تھا وہ اسے بتا چکا تھا کہ وہ صرف اسی کی ہے پھر بھی وہ کیسے کسی دوسرے کے ساتھ گاڑی کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر ہنس ہنس کر شاپنگ مال میں گھوم رہی تھی

اس کو خبر ملی تھی کہ وہ آج رات وہاج صدیقی کو شہر سے باہر جا رہا ہے اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ارتضیٰ نے آج رات وہاج صدیقی کے گھر جانا کا پلان بنایا ساتھ ہی اس نے یہ بھی سوچا تھا کہ آج رات روبرو مکمل ہوش وہواس میں اچھی طرح وہ تعبیر کو اپنے انداز سے سمجھائے گا بلکہ اس کے ہوش و حواس بھی مکمل ٹھکانے لگائے گا


جاری ہے

0 comments:

Post a Comment