Tuesday, May 28, 2019

you are mine novel by zeenia sharjeel episode 9

🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 9



تعبیر کے کہنے کے مطابق گاڑی سلون کے پاس رکی

"چلو اترو نیچے"
تعبیر نے مزمل کو اطمینان سے بیٹھے دیکھ کر کہا

"کیوں اب کیا ہوا" مزمل نے اس کو دیکھ کر پوچھا

"تمہارا یہ حلیہ ڈھنک کا کرنا ہے"
تعبیر نے اس کی بڑھی ہوئی شیو اور لمبے بال دیکھ کر کہا

"مجھے ڈھنگ کا انسان بنا کر آپ کو میرا کیا کرنا ہے" مزمل نے تعبیر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا

"اچار ڈالنا ہے تمہارا اترور کار سے جلدی" تعبیر نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا

"میڈم پلیز میری بات سنیں، آپ کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں میرے ساتھ"
مزمل کو خطرے کی گھنٹی بجتی ہوئی محسوس ہوئی تبھی اس نے تعبیر کو دیکھ کر پوچھا

"ڈرو نہیں کچھ زیادہ نہیں کرنا، بس یہ تمہاری یہ حسین زلفوں کو کٹوانا ہے اور چہرے پر جو یہ جنگل تم نے اگا رکھا ہے اس کو صاف کروانا ہے تاکہ تمہاری شکل تو سامنے آئے"
تعبیر نے بات کو مذاق کا رنگ دیتے ہوئے کہا 

"میڈم مجھے اپنی مونچھوں سے بہت محبت ہے۔۔۔ معذرت کے ساتھ، میں انہیں ہرگز نہیں کٹوا سکتا"
مزمل نے اس کے خطرناک عزائم سن کر صاف انکار کیا

"اف منچھے کٹوانے سے کون سا تمہاری مردانگی میں کمی آجائے گی۔۔۔۔ یہ مچھڑ ٹائپنگ آدمی زہر لگتے ہیں مجھے،، چلو جلدی سے گاڑی سے اترو"
تعبیر اسکو حکم دیتی ہوئی خود بھی گاڑی سے اتر کر سلون میں چلی گئی۔۔۔ مزمل بھی آج اپنی قسمت پر افسوس کرتا ہوا تعبیر کے پیچھے سیلون کے اندر داخل ہوا۔۔۔ وہ کوئی بہت بڑا سلون تھا جس میں چاروں طرف شیشے لگے ہوئے تھے ،،، وہاں پر سب برگر قسم کے لڑکے آئے ہوئے تھے مزمل ان برگر لڑکوں کے درمیان خود کو بن کباب فیل کر رہا تھا۔۔۔۔ تھوڑا اور آگے چل کر اسے اپنی میڈم دکھائی دی جو کسی لڑکی سے بات کر رہی تھی مگر کچھ قریب جا کر دیکھا تو وہ لڑکی نہیں لڑکا تھا۔۔۔۔ غور سے دیکھنے پر پتہ چلانا وہ لڑکی تھی نہ وہ لڑکا۔۔۔۔ مزمل کو سمجھ میں نہیں آیا میڈم کی ساتھ کھڑی ہوئی مخلوق کو باجی کہہ کر مخاطب کرے یا بھیا۔۔۔۔ وہ کنفیوز ہوتا ہوا تعبیر کے پاس آیا

"کہاں رہ گئے تھے تم، چلو اس کے ساتھ جاو"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا

"آئیے سر اپ اس روم میں چلیں۔۔۔ میم آپ یہی ویٹ کریں" 
اس باجی پلس بھیا نے بڑے اسٹائل سے مزمل کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا۔۔۔۔ مزمل نے مدد طلب نظروں سے ایک دفعہ تابی کو دیکھا۔۔۔ تو تابی نے اپنی مسکراہٹ دبا کر مزمل کو گھورا اور اسے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔ وہی سامنے چئیر پر بیٹھ گئی اور سامنے رکھا ہوا میگزین دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب مزمل سامنے آیا تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ آنکھوں کے نیچے رکھ کر اپنا آدھا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔۔۔ اسے اس طرح کھڑے دیکھ کر شرارتی بھری مسکراہٹ تعبیر کے لبوں پر رینگی جیسے ہی مزمل نے خونخوار نظروں سے تعبیر کو گھورا تو تعبیر فورا سنجیدہ ہو گئی

"تم تو ایسے اپنا منہ چھپا رہے ہو جیسے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہو۔۔۔ ہاتھ ہٹاو اپنے چہرے سے"
تعبیر نے سنجیدہ لہجہ اپناتے ہوئے مزمل سے کہا

مزمل نے آہستہ سے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے۔۔۔ جیسے ہی تعبیر کی نظر مزمل کے چھلے ہوئے چہرے پر پڑی تو اس کا قہقہہ بلند ہوا، جس سے اس پاس کے لوگ بھی متوجہ ہوئے

"میڈم یہ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔"
مزمل نے شکایتی انداز میں تعبیر کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔ لمبی زلفوں کی بجائے اس کے بال اب ترتیب سے کٹے ہوئے تھے اور چہرے سے داڑھی مونچھوں کا صفایا کردیا گیا تھا

"ارے نہیں سیریز تم تو اچھے خاصے انسان لگ رہے ہو، ایک دم ہیرو کی طرح"
تعبیر نے اپنی آنکھیں زور میچ کر کھولیں شاید یہ مزمل کو اپنی بات پر یقین دلانے کا انداز تھا جس پر وہ مزمل کو کیوٹ لگی تو مزمل کے دل کو تھوڑی ڈھارس ہوئی

"تو پھر آپ ایسے ہنسی کیو تھی"  مزمل نے کنفیوز ہو کر پوچھا

"یہ میں تمہیں کبھی بھی نہیں بتانے والی چلو اب لیٹ ہورہی ہیں ہم"
تعبیر نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے مزمل سے کہا اور باہر کی طرف چل دی

"ایسا کرو گاڑی اب اپنے گھر کی طرف لے لو"
تعبیر کی نئی فرمائش پر ایک وہ ایک دم بھنا اٹھا آج پہلا ہی دن تھا اور اسکی میڈم اسے بری طرح زچ کر چکی تھی

"میڈم آپ میرے گھر جا کر کیا کریں گی"
مزمل نے ضبط کرتے ہوئے اس سے پوچھا 

"تمہارا ضروری سامان لے کر آجاتے ہیں نہ تاکہ تمہیں کوئی مسئلہ نہ ہو شفٹنگ میں"
تعبیر نے اس کی طرف دیکھا اور اسمائل دے کر کہا

"وہاج سر کی اجازت کے بغیر مجھے اسطرح شفٹ ہونا معقول نہیں لگ رہا۔۔۔ آپ پہلے اپنے والد محترم سے اجازت لے لیں"  مزمل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

"بابا میری کسی بھی بات کو نہیں ٹالتے، چلو اپنے گھر کی طرف گاڑی لو" تعبیر کے دوبارہ حکم دینے پر مزمل نے لمبی سانس خارج کہ گاڑی کا رخ اپنے گھر کی طرف کرلیا

"اس سے آگے نہیں جا سکتی کار، گلی چھوٹی ہے آپ یہی بیٹھے میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں، اپنا ضروری سامان لے کر"
مزمل نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا

"نہیں میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں"
تعبیر گاڑی سے اترنے لگی

"میڈم آپ سمجھ کیو نہیں رہی ہیں، میں گھر میں اکیلا رہتا ہوں اس طرح آپ کو لے کر جانا۔۔۔ پتہ نہیں لوگ کس نظر سے دیکھیں۔۔۔ پلیز آپ یہی رکیں"
مزمل نے اس کو کھل کر سمجھایا

"تو تم لوگوں کو بتا دینا میں تمہاری گرل فرینڈ نہیں، میڈم ہو"
تابی نے ہینڈ بیگ شولڈر پر لٹکاتے ہوئے کہا

اس کا مطلب صاف تھا اب وہ نہیں روکے گی، ناچار مزمل کو تعبیر کو بھی اپنے ساتھ لے کر جانا پڑا مگر واقعی یہ کوئی غریب علاقہ تھا یہاں کی گلیاں چھوٹی چھوٹی تھی جگہ جگہ کچرے کا ڈھیر اور پانی پڑا ہوا تھا روڈ ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔۔ اونچی ہیل کی وجہ سے تابی کو چلنے میں پرابلم ہو رہی تھی وہ یہاں آکر واقعی پچھتا رہی تھی

"آرام سے میڈم لائے اپنا ہاتھ دے"
تعبیر جیسے ہی لڑکھڑائی اور گرنے سے بچنے کے لیے اس نے گرل تھاما تو مزمل نے مڑ تعبیر کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ تعبیر نے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر مزمل کی طرف نظر اٹھائی۔۔۔ تو مزمل تعبیر کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔۔۔۔ مزمل تعبیر کا نازک ہاتھ تھام کر چلنے لگا

"ارے مزمل بھائی یہ کیا کروا لیا قسم سے بالکل چھلے ہوئے آلو لگ رہے ہو" ایک 12 سالہ بچہ سامنے سے بھاگتا ہوا آیا مزمل کو دیکھ کر بولا، جس پر اس بچے کے ساتھ ساتھ تابی بھی ہنسنے لگی مزمل نے گھور کر اس بچے کو دیکھا

"مزمل بھائی کون ہے"
بچے نے تعبیر کی طرف دیکھ کر آنکھوں میں شرارت لیے بڑے اسٹائل سے پوچھا

"نکلو یہاں سے فوراً نہیں تو ابھی تمہارے ابا کو بتاتا ہو کہ رات بھر تم کہاں آوارہ گردی کرتے ہو"
مزمل کی دی ہوئی دھمکی سے بچہ ایک دم سیدھا ہوگیا

"ہاں ہاں جا رہا ہوں، غصہ کیوں کرتے ہو۔۔۔ ویسے مال ٹائیٹ ہے"
بچہ لب کشائی کرتا ہوا وہاں سے رفو چکر ہوگیا

مزمل نے جتاتی ہوئی نظر سے تعبیر کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اور شریف لاو میرے محلے۔۔۔ مگر اس بات کا تعبیر پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا وہ نیچے منہ کر کے مسکرا دی

مزمل نے گھر کا دروازہ کھولا چھوٹے سے برامدے کے بعد ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔۔۔۔ جس میں دیوار پر اچھی خاصی سیلن تھی وہ جگہ جگہ سے پینٹ اکھڑا ہوا تھا۔۔۔۔ کمرے کے کونے میں ایک طرف پلنگ بچھا ہوا تھا، سائڈ پر ایک الماری اور دو کرسیاں موجود تھی

"آپ کے بیٹھنے کے لئے میرے غریب خانے میں کوئی جگہ نہیں ہے فی الحال اسی سے کام چلائیں"
مزمل نے کونے میں رکھی ہوئی کرسی تابی کی طرف رکھتے ہوئے کہا جس پر تعبیر بیٹھ گئی

مزمل کچن میں گیا اور چائے کا پانی چڑھایا اور موبائل نکال کر میسج ٹائپ کرنے لگا

"مبارک ہو ستار صاحب آپ کے دشمن کے گھر جاب میری پہلی کامیابی تھی اور آج میں نے اس کے گھر تک رسائی حاصل کر لی۔۔۔ وقفے وقفے سے ساری معلومات آپ تک فراہم کرتا رہوں گا"
مزمل نے ستار میمن کو میسج ٹائپ کیا

"ستار میمن ایک بہت ہی کرپٹ آدمی مشھور تھا غیر قانونی طور پر اسلحہ کے کاروبار میں ملوث تھا۔۔۔ اسلحہ کا کاروبار وہاج صدیقی بھی کرتا تھا مگر اس کا نام وائٹ کالر میں آتا تھا۔۔۔۔ ان دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔۔۔ وجہ یہ تھی کے پچھلے ایک سال سے وہاج صدیقی کو اسلحہ کاروبار دن بدن
فائدہ ہو رہا تھا اس کے پاس جدید قسم کے الات اور اسلحہ تھا جن کو وہ دوسرے ممالک میں اسمگل کرتا تھا، اس طرح ستار میںمن کاروبار ٹھپ ہوگیا تھا۔۔۔ ستار میمن کو اندازہ تھا کہ وہاج صدیقی کی جان اس کے بیٹی میں ہے اسی وجہ سے اس نے تابی کو اٹھوانے کا پلان بنایا جو کہ اتفاق سے مزمل کی وجہ سے ناکام ہوا۔۔۔ معلومات حاصل کرنے پر جب ستار میمن کو  مزمل کے بارے میں معلوم ہوا تو ستار میمن نے مزمل کو اپنے پاس کام کرنے کے لئے کہا۔۔۔۔چند دن بعد مزمل نے ستار میمن کو بتایا کہ وہاج صدیقی اسے اپنے پاس جاب پر رکھنا کا ارادہ رکھتا ہے تو ستار میمن نے اس کو وہاں پر جاب کرنے کے لئے کہا اور یہ بھی کہا کہ وہ اس کے پاس رہ کر ستار میمن کے لئے کام کرے"

"کیا کر رہے ہو"
کافی دیر گزر گئی تو تابی نے مزمل کے پاس آکر پوچھا

"چائے بنا رہا تھا آپ کے لئے مزمل نے اپنا موبائل رکھتے ہوئے دو کپوں میں چائے نکالی اور ایک کپ تابی کو تھمایا

"تھینکس چائے اچھی بنائی ہے تم نے"
تابی نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا

"میرے بارے میں تو کار میں آپ نے سب جان لیا اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا"
مزمل نے چائے پیتے ہوئے تابی کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔ بوڈی گارڈ ہوتے ہوئے بھی اتنی ہمت کہ وہ تابی سے اس طرح بات کرے، تابی کی صبح سے فرینک نیچر کی ہی عطا کردہ تھی

"تم نے پوچھا ہی نہیں"
تعبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

"چلئے اب پوچھ رہا ہوں آپ بتادیں"
مزمل نے اس کی آنکھوں میں جھانگتے ہوئے کہا

"میرا نام تعبیر صدیقی ہے بابا مجھے پیار سے تابی کہتے ہیں عمر 19سال، یونیورسٹی میں پہلا سال ہے سبجکٹ ماس کمیونیکیشن، بہن بھائی کوئی ہے نہیں، مما کی ڈیتھ میرے بچپن میں ہوگئی۔۔۔ اکلوتی ہونے کی وجہ سے اپنے بابا کی لاڈلی،، اور خوبصورت ہونے کے ساتھ تھوڑی شرارتی ہو۔۔۔ ہر ایک سے فری ہونا میری عادت نہیں ہے، بس جو دل کو اچھا لگے اس سے بات کرنا پسند کرتی ہوں" تابی نے مسکراتے ہوئے سادہ انداز میں اپنا تعارف کرایا اور چیدہ چیدہ خصوصیات بتائیں اس کے تعارف کروانے پر مزمل اسے خاموشی سے سن رہا تھا مگر آنکھیں اس کی مسکرا رہی تھی 

"یعنی میں آپ کو میں اچھا لگا ہو"
مزمل نے تعبیر کو دیکھتے ہوئے پوچھا

"یہ تمہیں کس نے کہا"
تعبیر نے اپنی  مسکراہٹ چھپاتے ہوئے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا

"ابھی آپ ہی نے تو کہا ہے کہ جو آپ کو اچھا لگے آپ اس سے بات کرنا پسند کرتی ہیں"
مزمل نے اس کی کہی ہوئی بات اسے یاد دلائی
 
"اچھا ایسا کہا میں نے"
تابی چائے کا کپ رکھ کر ہینڈ بیگ شولڈر پر لٹکا کر کھڑی ہو گئی

"تو آپ نہیں بتائیں گی"
مزمل بھی اس کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا

"کبھی بھی نہیں" تعبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ مزمل اس کو غور سے دیکھے گیا

"چلیں گھر" مزمل نے تابی کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو اس نے سر ہلایا

****

"تابی کہاں ہو بیٹا آپ،  شام ہونے والی ہے"
گھر میں داخل ہوتے ہی وہاج نے تابی سے پوچھا

"بابا مزمل کے ساتھ گئی تھی بتایا تو تھا آپ کو"
تابی میں صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔ ہال میں مزمل کو آتا دیکھ کر وہاج صدیقی چونکا کپڑے تو اس کے صبح والے تھے مگر حلیہ کافی حد تک چینج

"ایسے کیا دیکھ رہے ہیں بابا، اس کا گیٹ اپ میں نے چینج کرایا ہے"
تابی نے مسکرا کر اپنا کارنامہ بتایا جس پر وہاج مسکرایا

"اچھے لگ رہے ہو"
تن پر اگر کپڑے ڈھنگ کے ہو تو واقعی اس کی کلاس بدل جائے۔۔۔ وہاج نے ایسا دل میں سوچا

"فضل مزمل کے لیے کوارٹر کی صفائی کرادو یہ آج سے یہی رہیں گے ٹھیک ہے نا بابا"
تعبیر نے فضل کو ہدایت دی اور پھر وہاج سے پوچھا

"ہاں میرے خیال میں ایسا ہی ٹھیک رہے گا ویسے بھی کل مجھے کچھ ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے۔۔۔۔ مزمل تم گھر کا اور تابی کا دھیان رکھنا"         
وہاج نے اپنا پراگرم بتا کر مزمل کو ضروری ہدایت دی

"آپ فکر نہ کریں سر"
مزمل نے تابی کو ایک نظر دیکھا اور بولا

جاری ہے

0 comments:

Post a Comment