🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 8
آج اتوار کا دن تھا مشعل نے ہانی کو ناشتے سے فارغ کرا کر نہلا دھلا کر مشین لگالی۔ ۔۔۔وہ ہانی کو اپنے ہی اسکول میں ایڈمیشن کرانے کا سوچ رہی تھی اور گھر میں اسے کافی کچھ سکھاتی رہتی تھی۔۔۔ ایک وقت تھا جب اسے کپڑے پریس کرنے سے چڑ تھی اکثر اپنے کپڑے فوزیہ بھابھی سے پریس کرواتی۔۔۔۔ اب وہ کپڑے دھونے سے لے کر پریس کرنا اور گھر کا سارا کام بغیر ماتھے پر شکن لائے آرام سے کرلیتی تھی آخر وقت سب کچھ سکھا ہی دیتا ہے۔۔۔ اکا نے مشعل کا اس وقت ساتھ دیا جب اس کا ساتھ اپنوں نے چھوڑ دیا تب اکا نے خالہ ہوتے ہوئے بھی ماں کا کردار نبھایا۔۔۔۔ ولی کے جانے کے بعد وہ بکھر ہی تو گئی تھی آکا نے اسے اپنے بازو میں سمیٹتے ہوئے سہارا دیا۔۔ ہانی کو جنم تو اس نے دیا تھا مگر اس کو اکا نے پالا تھا۔۔۔۔ اکثر وہ کام میں مشغول ہو کر ماضی میں گم ہوجاتی تھی سر جھٹک کر وہ دوبارہ کپڑے دھونے لگی
اکا آج بھی اریش کی طرف اپنی ڈیوٹی سنبھالے ہوئی تھی۔۔۔گھر آکر وہ اکثر مشعل کے سامنے اریش کا جن لفظوں میں ذکر کرتی مشعل کو حیرت ہی ہوتی اکا کے لئے اریش شریف فرمابردار اور سعادت مند بچہ تھا شکل سے تو وہ مشعل کو بھی شریف لگا،، مگر اس دن وہ جس طرح سے مشعل کو دیکھ رہا تھا مشعل کو اس پر کافی غصہ آیا
****
ہانی بال لے کر گھر کے اندر داخل ہوا سامنے سے آتے ملازم سے اریش کا روم پوچھا
"بچے اگر تمہیں صاحب نے دیکھ لیا تو غصہ ہوں گے چلو یہ بال لے کر باہر کھیلو"
ملازم نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"وہ ہانی پر غصہ نہیں ہونگے انہوں نے ہانی سے فرینڈشپ کی ہے اور پرامس کیا ہے کہ سنڈے کے دن ہانی کے ساتھ فٹ بال کھیلے گے۔۔۔ آپ ہانی کو ان کا روم بتا دیں پلیز"
ہانی نے ملازم سے کہا
"ارے بچے تمہیں ایسے نہیں سمجھ آئے گی رکو میں ابھی اکا کو بلا کر لاتا ہوں"
ملازم نے ہانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا
"کیا ہو رہا ہے یہاں پر۔۔۔ ارے ہانی آپ یہاں پر"
اریش اپنے کمرے سے آوازیں سن کر باہر آیا اور سامنے ہانی کو دیکھا تو مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
"انکل یہ والے انکل ہانی کو منع کر رہے تھے آپ سے ملنے کو اور یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ ہانی پر غصہ ہوں گے۔۔۔ آپ انہیں بتا دیں کہ آپ ہانی کی فرینڈ ہیں اور آپ ہانی پر غصہ نہیں کر سکتے"
ہانی نے فورا اپنی بات کی تصدیق چاہی
"ہانی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے آئندہ کوئی بھی ہانی کو یہاں آنے سے منع نہیں کرے گا اور تم جاؤ اپنا کام کرو" آریش ملازم سے کہتا ہوا ہانی کی طرف دیکھ کر بولا
"تو بولیے جناب۔۔ اریش کے کیوٹ سے فرینڈ کا کیا پروگرام ہے۔۔۔ فرسٹ ٹائم ہانی میرے گھر پر آیا ہے تو ہانی کیا کھانا پسند کرے گا" اریش نے دلچسپی سے ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا
"ہانی ابھی بریک فاسٹ کر کے آیا ہے اس کو بھوک نہیں لگی ہے۔۔ آپ اس کے ساتھ فٹبال کھیلے نا آپ نے ہانی سے پرامس کیا تھا یاد کریں"
ہانی نے معصومیت سے اپنا پرامس اریش کو یاد دلایا
"چلو یار بچپن کی یاد تازہ ہوجائے گی کھیلتے ہیں فٹبال"
اریش ہانی کا ہاتھ تھام کر لان میں آ گیا اور ہانی کے ساتھ فٹبال کھیلنے لگا۔۔۔ پہلے تو اسے خود کی بچکانہ حرکت پر ہنسی آئی مگر تھوڑی دیر بعد وہ خود بھی انجوائے کرنے لگا۔۔۔۔
سارا وقت آفس آفس سے گھر فیملی والی زندگی، نہ کوئی دوست۔۔ نہ کسی سے گپ شپ۔۔۔ کھیلنے میں اتنا مگن ہوا اس نے بال پر زور سے کک ماری بال ہوا میں اڑتی ہوئی دور تک گئی اور کوارٹر کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی مشعل کے ماتھے پر زور سے لگی جس سے اس کا جوڑا کھل گیا اور بال کمر پر بکھر گئے جوڑے کے ساتھ ساتھ ہی حیرت اور صدمے سے اس کا منہ بھی کھل گیا۔۔۔ مشعل نے دور کھڑے آریش کو گھور کر دیکھا، جو O شیپ میں منہ کھولے اسی کو دیکھ رہا تھا اور ہانی پہلے افسوس سے دیکھتے ہوئے بعد میں منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر کھی کھی کرنے میں مصروف تھا
مشعل نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کپڑوں سے بھری بالٹی کو نیچے رکھا، ،، کندھے سے کمر تک آتے دوپٹے کی گھٹا کھول کر اسے اوڑھا اور چلتی ہوئی اریش کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی
"یہ کوئی جگہ ہے فٹبال کھیلنے کی" اس نے غصے میں اریش کو دیکھ کر پوچھا
"میرے خیال میں فٹبال کھیلنے کی یہی جگہ ہوتی ہے اب بندہ فٹبال کچن یا باتھ روم میں تو کھیلنے سے رہا"
اریش نے غصہ کرتی مشعل کو اپنی ہنسی روکتے ہوئے جواب دیا مگر ہانی اس کی بات سن کر زور سے ہنسنے لگا
"اتنے بڑے گھوڑے ہوکر آپ کو یوں بچوں والی حرکتیں کرنا زیب نہیں دیتی۔۔ ہانی ہنسنا بند کرو"
اریش کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ اس نے ہانی کو بھی گرکا
"میرے خیال میں اگر میں بڑوں والی حرکتیں کروں گا تو آپ تب بھی یہی کہیے گئی کہ یہ حرکت آپ کو زیب نہیں دیتی اور مس آپ مجھے گھوڑا کہہ کر میری انسلٹ کر رہی ہیں میں ایک اچھا خاصہ انسان ہوں"
اریش کو اس سے بات کر کے ابھی بھی ہنسی آ رہی تھی مگر وہ ہنسی کنٹرول کرتا ہوا بولا۔۔۔ یہ اور بات ہے اتنی باتیں وہ کسی کی بھی نہیں سنتا کہ جتنی وہ لڑکی اسے سنا رہی تھی مگر مشعل کی باتیں بری لگنے کی بجائے اسے مزہ دے رہی تھی
"شکل سے تو آپ کافی سوبر اور ڈیسنٹ انسان لگتے ہیں"
مشعل کو صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کی بجائے باتوں ہی باتوں میں اسکے ساتھ انجوائے کر رہا ہے
"میم میں سوبر اور ڈیسنٹ لگتا ہی نہیں بلکہ سوبر اور ڈیسنٹ ہو آزمائش شرط ہے"
اریش نے آبرو اوپر کرکے بولا
"مما آپ ہانی کے فرینڈ پر غصہ نہیں کرسکتی انکل آپ مما کو کس کرلے۔۔۔ مما غصہ بھول کر خوش ہو جائیں گیں ہانی بھی یہی کرتا ہے"
ہانی نے اپنے فرینڈ کی مما کے ہاتھوں عزت افزائی ہوتے دیکھی تو فوراً اپنے فرینڈ کو مشورہ دیا۔۔۔ ۔ ہانی کا مشورہ سن کر جہاں پر اریش ایک دم سے سٹپٹایا وہی مشعل نے جھینپ مٹانے کو ہانی کا ہاتھ پکڑا
"اندر چلو آپ،، اب بالکل فٹ بال نہیں کھیلو گے بہت بدتمیز ہوتے جا رہے ہو"
مشعل ایسے ری ایکٹ کرنے لگی جیسے اس نے ہانی کی بات سنی ہی نہ ہو اور ہانی کو ڈانٹتے ہوئے کوارٹر کی طرف لے کر جانے لگی ہانی نے مشعل کے ساتھ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر اریش کو دیکھا اور ہاتھ ہلا کر بائے کیا جس پر اریش نے بھی مسکرا کر اپنا ہاتھ ہلایا اور گھر کی طرف چل دیا
****
"میڈم کو اندر سے بلاو انہیں کہیں جانا ہے"
مزمل نے وہاج کے ملازم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ سر ہلا کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تھا تابی کو بلانے چلا گیا۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں تابی سیڑھیاں اترتی ہوئی نظر آئی، لیمن کلر کی شارٹ شرٹ پر اف وائٹ ٹراؤزر اور ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکائے وہ مزمل کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تو مزمل نے فورا اپنی نظروں کا زاویہ بدلا
"میں کافی دیر سے ویٹ کر رہی تھی تمہارا"
تعبیر نے مسکرا کر اسے بتایا
"مگر میں تو وقت سے آیا ہوں۔۔۔ صبح 9 بجے کا ٹائم ہی تو دیا تھا آپ نے"
مزمل نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھ کر کہا
"ہاں شاید میں ہی وقت سے پہلے تیار ہوگئی چلو چلتے ہیں"
تعبیر کہتے ہوئے گھر سے باہر نکلی
"کہاں جانا ہے آپ کو"
مزمل گاڑی کے پاس پہنچ کر تابی سے پوچھنے لگا
"شاپنگ کرنا ہے ایٹریم مال لے چلو" تعبیر نے گاڑی کی کیز مزمل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"میں آپ کا بوڈی گارڈ ہو ڈرائیور نہیں"
مزمل نے تابی کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر اس سے کہا جس میں گاڑی کی کیز تھی
"او میں سمجھی تمہیں ڈرائیونگ آتی ہوگی"
تابی نے اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا تبھی مزمل نے اس کے ہاتھ سے گاڑی کی کیز لی
"ایسا کوئی کام نہیں جو مزمل کو کرنا نہ آتا ہو"
مزمل نے گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو تابی نے اس کا کھولا ہوا دروازہ بند کردیا
"تم میرے باڈی گارڈ ہو ڈرائیور نہیں" مزمل کو جتاتے ہوئے وہ گاڑی کے فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی۔۔۔ مزمل نے غور سے اس کو دیکھا،، پھر خود بھی کار میں آ کر بیٹھ گیا اور کار اسٹارٹ کی
"کیا کالیفیکیشن ہے تمھاری"
مزمل نے چونک کر تابی کو دیکھا تو وہ موبائل میں کچھ ٹائپ کر رہی تھی
"بارہ جماعتیں پڑھ رکھی ہیں"
مزمل نے سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا
"کون کون ہوتا ہے تمہاری فیملی میں"
تابی کے دوسرے سوال پر مزمل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر پھر اس کو دیکھا مگر وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی
"ابا حیات نہیں ہیں اماں بڑی بہن کے ساتھ رہتی ہیں، بڑی بہن شادی ہوکر وہ خالہ کے گھر شادی گئی ہے۔۔۔ چھوٹی بہن اسی شہر میں ہے اپنے خاوند کے ساتھ"
مزمل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کو جواب دیا
"او یعنی تم اکیلے رہتے ہو ایسا کرو آج رات ہی تم ہمارے گھر میں شفٹ ہو جاؤ سرونٹ کوارٹر میں"
تابی کی بات پر مزمل نے پھر ایک دفعہ اس کی طرف دیکھا تو وہ اپنے ہینڈ بیگ میں کچھ ڈھونڈنے میں مصروف نظر آئی
"آپ کو جب بھی میری ضرورت ہو گی میں حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔ آپ کو اپنا موبائل نمبر دے دوں گا، مجھے اگاہ کردیئے گا"
مزمل نے گاڑی کا گیئر چینج کرتے ہوئے کہا وہ مہارت سے ڈرائیونگ کر رہا تھا
"مجھے تو ہر وقت تمہاری ضرورت ہوگی"
تابی کے بولنے پر مزمل نے دوبارہ اس کو دیکھا مگر وہ چہرے پر سنجیدگی لائے اسی کو دیکھ رہی تھی
"ایز آ سیکیورٹی پرپز تمہں ہمارے گھر شفٹ ہو جانا چاہیے، تمہیں بابا نے میری پروٹیکشن کے لیے رکھا ہے یہ تمہاری جواب کا حصہ ہے"
تابی نے اس کو دیکھتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔۔۔ کار ایک جھٹکے سے رکی تابی نے فورا ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھا ورنہ اس کا سر لگتا ہے
"دھیان سے بھئی کیا ایکسیڈنٹ کرنے کا ارادہ ہے"
تعبیر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"لگ رہا ہے، دھیان دینے کے باوجود ایکسیڈنٹ ہو ہی جائے گا"
مزمل نے اس کو دیکھ کر کہا اور کار سے نیچے اتر گیا سامنے مال دیکھ کر تابی بھی کار سے اتر کر باہر آئی
****
تعبیر مال کے اندر داخل ہوئی اس کے پیچھے مزمل تھا تعبیر نے جینٹس کی ایک شاپ میں قدم رکھا۔۔۔ 4 سے 5 شرٹز سلیکٹ کرکے مزمل کی طرف بڑھائی۔ ۔۔ تو اس نے سوالیہ نظروں سے تعبیر کو دیکھا
"دیکھ کیا رہے ہو جاو ڈریسنگ روم میں ٹرائی کرو" مزمل کی سوالیہ نظریں دیکھتے ہوئے تعبیر نے کہا
"آپ اس لئے لے کر آئی ہیں مجھے یہاں پر"
مزمل نے تعبیر کو گھور کر دیکھا اور سنجیدگی سے پوچھا
"تو کیا اب تم ہر جگہ میرے ساتھ ان کپڑوں میں جاؤ گے" تابی نے اس کی گھسی ہوئی پینٹ اور بدرنگ شرٹ کی طرف اشارہ کیا
"معاف کیجئے گا میڈم، مگر مزمل بھیگ لینے کا عادی نہیں"
مزمل کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمایاں ہوئی جیسے اسے یہ بات پسند نہ آئی ہو
"میں کیوں بھیک دینے لگی تم جیسے ہٹے کٹے انسان کو، یہ تمہاری جاب کی ریکوائرمنٹ ہے۔۔۔ جاو چیک کرو ٹرائل روم میں جاکر"
اب کے تابی آرڈر دینے والے انداز میں مزمل کو دیکھ کر کہا مزمل سنجیدہ نظروں سے اپنی چھوٹی سی میڈم کو دیکھے گیا کچھ سوچ کر اس کے ہاتھ سے شرٹ لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔ پورے دو گھنٹے لگا کر تابی نے صرف اور صرف مزمل کے لئے شاپنگ کی۔۔ پینٹ شرٹز بیلٹ والٹ پرفیوم ڈیوڈرنٹس شیونگ کٹ جوتے وغیرہ شاپنگ کے بعد اب تابی کے کہنے کے مطابق گاڑی سے سلون کے پاس روکی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 8
آج اتوار کا دن تھا مشعل نے ہانی کو ناشتے سے فارغ کرا کر نہلا دھلا کر مشین لگالی۔ ۔۔۔وہ ہانی کو اپنے ہی اسکول میں ایڈمیشن کرانے کا سوچ رہی تھی اور گھر میں اسے کافی کچھ سکھاتی رہتی تھی۔۔۔ ایک وقت تھا جب اسے کپڑے پریس کرنے سے چڑ تھی اکثر اپنے کپڑے فوزیہ بھابھی سے پریس کرواتی۔۔۔۔ اب وہ کپڑے دھونے سے لے کر پریس کرنا اور گھر کا سارا کام بغیر ماتھے پر شکن لائے آرام سے کرلیتی تھی آخر وقت سب کچھ سکھا ہی دیتا ہے۔۔۔ اکا نے مشعل کا اس وقت ساتھ دیا جب اس کا ساتھ اپنوں نے چھوڑ دیا تب اکا نے خالہ ہوتے ہوئے بھی ماں کا کردار نبھایا۔۔۔۔ ولی کے جانے کے بعد وہ بکھر ہی تو گئی تھی آکا نے اسے اپنے بازو میں سمیٹتے ہوئے سہارا دیا۔۔ ہانی کو جنم تو اس نے دیا تھا مگر اس کو اکا نے پالا تھا۔۔۔۔ اکثر وہ کام میں مشغول ہو کر ماضی میں گم ہوجاتی تھی سر جھٹک کر وہ دوبارہ کپڑے دھونے لگی
اکا آج بھی اریش کی طرف اپنی ڈیوٹی سنبھالے ہوئی تھی۔۔۔گھر آکر وہ اکثر مشعل کے سامنے اریش کا جن لفظوں میں ذکر کرتی مشعل کو حیرت ہی ہوتی اکا کے لئے اریش شریف فرمابردار اور سعادت مند بچہ تھا شکل سے تو وہ مشعل کو بھی شریف لگا،، مگر اس دن وہ جس طرح سے مشعل کو دیکھ رہا تھا مشعل کو اس پر کافی غصہ آیا
****
ہانی بال لے کر گھر کے اندر داخل ہوا سامنے سے آتے ملازم سے اریش کا روم پوچھا
"بچے اگر تمہیں صاحب نے دیکھ لیا تو غصہ ہوں گے چلو یہ بال لے کر باہر کھیلو"
ملازم نے ہانی کو سمجھاتے ہوئے کہا
"وہ ہانی پر غصہ نہیں ہونگے انہوں نے ہانی سے فرینڈشپ کی ہے اور پرامس کیا ہے کہ سنڈے کے دن ہانی کے ساتھ فٹ بال کھیلے گے۔۔۔ آپ ہانی کو ان کا روم بتا دیں پلیز"
ہانی نے ملازم سے کہا
"ارے بچے تمہیں ایسے نہیں سمجھ آئے گی رکو میں ابھی اکا کو بلا کر لاتا ہوں"
ملازم نے ہانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا
"کیا ہو رہا ہے یہاں پر۔۔۔ ارے ہانی آپ یہاں پر"
اریش اپنے کمرے سے آوازیں سن کر باہر آیا اور سامنے ہانی کو دیکھا تو مسکراتا ہوا اس کے پاس آیا
"انکل یہ والے انکل ہانی کو منع کر رہے تھے آپ سے ملنے کو اور یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ ہانی پر غصہ ہوں گے۔۔۔ آپ انہیں بتا دیں کہ آپ ہانی کی فرینڈ ہیں اور آپ ہانی پر غصہ نہیں کر سکتے"
ہانی نے فورا اپنی بات کی تصدیق چاہی
"ہانی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے آئندہ کوئی بھی ہانی کو یہاں آنے سے منع نہیں کرے گا اور تم جاؤ اپنا کام کرو" آریش ملازم سے کہتا ہوا ہانی کی طرف دیکھ کر بولا
"تو بولیے جناب۔۔ اریش کے کیوٹ سے فرینڈ کا کیا پروگرام ہے۔۔۔ فرسٹ ٹائم ہانی میرے گھر پر آیا ہے تو ہانی کیا کھانا پسند کرے گا" اریش نے دلچسپی سے ہانی کو دیکھتے ہوئے کہا
"ہانی ابھی بریک فاسٹ کر کے آیا ہے اس کو بھوک نہیں لگی ہے۔۔ آپ اس کے ساتھ فٹبال کھیلے نا آپ نے ہانی سے پرامس کیا تھا یاد کریں"
ہانی نے معصومیت سے اپنا پرامس اریش کو یاد دلایا
"چلو یار بچپن کی یاد تازہ ہوجائے گی کھیلتے ہیں فٹبال"
اریش ہانی کا ہاتھ تھام کر لان میں آ گیا اور ہانی کے ساتھ فٹبال کھیلنے لگا۔۔۔ پہلے تو اسے خود کی بچکانہ حرکت پر ہنسی آئی مگر تھوڑی دیر بعد وہ خود بھی انجوائے کرنے لگا۔۔۔۔
سارا وقت آفس آفس سے گھر فیملی والی زندگی، نہ کوئی دوست۔۔ نہ کسی سے گپ شپ۔۔۔ کھیلنے میں اتنا مگن ہوا اس نے بال پر زور سے کک ماری بال ہوا میں اڑتی ہوئی دور تک گئی اور کوارٹر کا دروازہ کھول کر باہر نکلتی مشعل کے ماتھے پر زور سے لگی جس سے اس کا جوڑا کھل گیا اور بال کمر پر بکھر گئے جوڑے کے ساتھ ساتھ ہی حیرت اور صدمے سے اس کا منہ بھی کھل گیا۔۔۔ مشعل نے دور کھڑے آریش کو گھور کر دیکھا، جو O شیپ میں منہ کھولے اسی کو دیکھ رہا تھا اور ہانی پہلے افسوس سے دیکھتے ہوئے بعد میں منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر کھی کھی کرنے میں مصروف تھا
مشعل نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کپڑوں سے بھری بالٹی کو نیچے رکھا، ،، کندھے سے کمر تک آتے دوپٹے کی گھٹا کھول کر اسے اوڑھا اور چلتی ہوئی اریش کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی
"یہ کوئی جگہ ہے فٹبال کھیلنے کی" اس نے غصے میں اریش کو دیکھ کر پوچھا
"میرے خیال میں فٹبال کھیلنے کی یہی جگہ ہوتی ہے اب بندہ فٹبال کچن یا باتھ روم میں تو کھیلنے سے رہا"
اریش نے غصہ کرتی مشعل کو اپنی ہنسی روکتے ہوئے جواب دیا مگر ہانی اس کی بات سن کر زور سے ہنسنے لگا
"اتنے بڑے گھوڑے ہوکر آپ کو یوں بچوں والی حرکتیں کرنا زیب نہیں دیتی۔۔ ہانی ہنسنا بند کرو"
اریش کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ اس نے ہانی کو بھی گرکا
"میرے خیال میں اگر میں بڑوں والی حرکتیں کروں گا تو آپ تب بھی یہی کہیے گئی کہ یہ حرکت آپ کو زیب نہیں دیتی اور مس آپ مجھے گھوڑا کہہ کر میری انسلٹ کر رہی ہیں میں ایک اچھا خاصہ انسان ہوں"
اریش کو اس سے بات کر کے ابھی بھی ہنسی آ رہی تھی مگر وہ ہنسی کنٹرول کرتا ہوا بولا۔۔۔ یہ اور بات ہے اتنی باتیں وہ کسی کی بھی نہیں سنتا کہ جتنی وہ لڑکی اسے سنا رہی تھی مگر مشعل کی باتیں بری لگنے کی بجائے اسے مزہ دے رہی تھی
"شکل سے تو آپ کافی سوبر اور ڈیسنٹ انسان لگتے ہیں"
مشعل کو صاف اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کی بجائے باتوں ہی باتوں میں اسکے ساتھ انجوائے کر رہا ہے
"میم میں سوبر اور ڈیسنٹ لگتا ہی نہیں بلکہ سوبر اور ڈیسنٹ ہو آزمائش شرط ہے"
اریش نے آبرو اوپر کرکے بولا
"مما آپ ہانی کے فرینڈ پر غصہ نہیں کرسکتی انکل آپ مما کو کس کرلے۔۔۔ مما غصہ بھول کر خوش ہو جائیں گیں ہانی بھی یہی کرتا ہے"
ہانی نے اپنے فرینڈ کی مما کے ہاتھوں عزت افزائی ہوتے دیکھی تو فوراً اپنے فرینڈ کو مشورہ دیا۔۔۔ ۔ ہانی کا مشورہ سن کر جہاں پر اریش ایک دم سے سٹپٹایا وہی مشعل نے جھینپ مٹانے کو ہانی کا ہاتھ پکڑا
"اندر چلو آپ،، اب بالکل فٹ بال نہیں کھیلو گے بہت بدتمیز ہوتے جا رہے ہو"
مشعل ایسے ری ایکٹ کرنے لگی جیسے اس نے ہانی کی بات سنی ہی نہ ہو اور ہانی کو ڈانٹتے ہوئے کوارٹر کی طرف لے کر جانے لگی ہانی نے مشعل کے ساتھ چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر اریش کو دیکھا اور ہاتھ ہلا کر بائے کیا جس پر اریش نے بھی مسکرا کر اپنا ہاتھ ہلایا اور گھر کی طرف چل دیا
****
"میڈم کو اندر سے بلاو انہیں کہیں جانا ہے"
مزمل نے وہاج کے ملازم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ سر ہلا کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا تھا تابی کو بلانے چلا گیا۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں تابی سیڑھیاں اترتی ہوئی نظر آئی، لیمن کلر کی شارٹ شرٹ پر اف وائٹ ٹراؤزر اور ہم رنگ دوپٹہ گلے میں ڈالے کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکائے وہ مزمل کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تو مزمل نے فورا اپنی نظروں کا زاویہ بدلا
"میں کافی دیر سے ویٹ کر رہی تھی تمہارا"
تعبیر نے مسکرا کر اسے بتایا
"مگر میں تو وقت سے آیا ہوں۔۔۔ صبح 9 بجے کا ٹائم ہی تو دیا تھا آپ نے"
مزمل نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھ کر کہا
"ہاں شاید میں ہی وقت سے پہلے تیار ہوگئی چلو چلتے ہیں"
تعبیر کہتے ہوئے گھر سے باہر نکلی
"کہاں جانا ہے آپ کو"
مزمل گاڑی کے پاس پہنچ کر تابی سے پوچھنے لگا
"شاپنگ کرنا ہے ایٹریم مال لے چلو" تعبیر نے گاڑی کی کیز مزمل کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
"میں آپ کا بوڈی گارڈ ہو ڈرائیور نہیں"
مزمل نے تابی کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر اس سے کہا جس میں گاڑی کی کیز تھی
"او میں سمجھی تمہیں ڈرائیونگ آتی ہوگی"
تابی نے اپنا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا تبھی مزمل نے اس کے ہاتھ سے گاڑی کی کیز لی
"ایسا کوئی کام نہیں جو مزمل کو کرنا نہ آتا ہو"
مزمل نے گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھولتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تو تابی نے اس کا کھولا ہوا دروازہ بند کردیا
"تم میرے باڈی گارڈ ہو ڈرائیور نہیں" مزمل کو جتاتے ہوئے وہ گاڑی کے فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی۔۔۔ مزمل نے غور سے اس کو دیکھا،، پھر خود بھی کار میں آ کر بیٹھ گیا اور کار اسٹارٹ کی
"کیا کالیفیکیشن ہے تمھاری"
مزمل نے چونک کر تابی کو دیکھا تو وہ موبائل میں کچھ ٹائپ کر رہی تھی
"بارہ جماعتیں پڑھ رکھی ہیں"
مزمل نے سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا
"کون کون ہوتا ہے تمہاری فیملی میں"
تابی کے دوسرے سوال پر مزمل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے ایک نظر پھر اس کو دیکھا مگر وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی
"ابا حیات نہیں ہیں اماں بڑی بہن کے ساتھ رہتی ہیں، بڑی بہن شادی ہوکر وہ خالہ کے گھر شادی گئی ہے۔۔۔ چھوٹی بہن اسی شہر میں ہے اپنے خاوند کے ساتھ"
مزمل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے تعبیر کو جواب دیا
"او یعنی تم اکیلے رہتے ہو ایسا کرو آج رات ہی تم ہمارے گھر میں شفٹ ہو جاؤ سرونٹ کوارٹر میں"
تابی کی بات پر مزمل نے پھر ایک دفعہ اس کی طرف دیکھا تو وہ اپنے ہینڈ بیگ میں کچھ ڈھونڈنے میں مصروف نظر آئی
"آپ کو جب بھی میری ضرورت ہو گی میں حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔ آپ کو اپنا موبائل نمبر دے دوں گا، مجھے اگاہ کردیئے گا"
مزمل نے گاڑی کا گیئر چینج کرتے ہوئے کہا وہ مہارت سے ڈرائیونگ کر رہا تھا
"مجھے تو ہر وقت تمہاری ضرورت ہوگی"
تابی کے بولنے پر مزمل نے دوبارہ اس کو دیکھا مگر وہ چہرے پر سنجیدگی لائے اسی کو دیکھ رہی تھی
"ایز آ سیکیورٹی پرپز تمہں ہمارے گھر شفٹ ہو جانا چاہیے، تمہیں بابا نے میری پروٹیکشن کے لیے رکھا ہے یہ تمہاری جواب کا حصہ ہے"
تابی نے اس کو دیکھتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔۔۔ کار ایک جھٹکے سے رکی تابی نے فورا ڈیش بورڈ پر ہاتھ رکھا ورنہ اس کا سر لگتا ہے
"دھیان سے بھئی کیا ایکسیڈنٹ کرنے کا ارادہ ہے"
تعبیر نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا
"لگ رہا ہے، دھیان دینے کے باوجود ایکسیڈنٹ ہو ہی جائے گا"
مزمل نے اس کو دیکھ کر کہا اور کار سے نیچے اتر گیا سامنے مال دیکھ کر تابی بھی کار سے اتر کر باہر آئی
****
تعبیر مال کے اندر داخل ہوئی اس کے پیچھے مزمل تھا تعبیر نے جینٹس کی ایک شاپ میں قدم رکھا۔۔۔ 4 سے 5 شرٹز سلیکٹ کرکے مزمل کی طرف بڑھائی۔ ۔۔ تو اس نے سوالیہ نظروں سے تعبیر کو دیکھا
"دیکھ کیا رہے ہو جاو ڈریسنگ روم میں ٹرائی کرو" مزمل کی سوالیہ نظریں دیکھتے ہوئے تعبیر نے کہا
"آپ اس لئے لے کر آئی ہیں مجھے یہاں پر"
مزمل نے تعبیر کو گھور کر دیکھا اور سنجیدگی سے پوچھا
"تو کیا اب تم ہر جگہ میرے ساتھ ان کپڑوں میں جاؤ گے" تابی نے اس کی گھسی ہوئی پینٹ اور بدرنگ شرٹ کی طرف اشارہ کیا
"معاف کیجئے گا میڈم، مگر مزمل بھیگ لینے کا عادی نہیں"
مزمل کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمایاں ہوئی جیسے اسے یہ بات پسند نہ آئی ہو
"میں کیوں بھیک دینے لگی تم جیسے ہٹے کٹے انسان کو، یہ تمہاری جاب کی ریکوائرمنٹ ہے۔۔۔ جاو چیک کرو ٹرائل روم میں جاکر"
اب کے تابی آرڈر دینے والے انداز میں مزمل کو دیکھ کر کہا مزمل سنجیدہ نظروں سے اپنی چھوٹی سی میڈم کو دیکھے گیا کچھ سوچ کر اس کے ہاتھ سے شرٹ لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔ پورے دو گھنٹے لگا کر تابی نے صرف اور صرف مزمل کے لئے شاپنگ کی۔۔ پینٹ شرٹز بیلٹ والٹ پرفیوم ڈیوڈرنٹس شیونگ کٹ جوتے وغیرہ شاپنگ کے بعد اب تابی کے کہنے کے مطابق گاڑی سے سلون کے پاس روکی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment