🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 7
تعبیر مزمل سے بات کر کے اپنے روم میں آئی تو بیڈ پر پڑا ہوا اس کا موبائل کافی دیر سے بچ رہا تھا تعبیر نے کال ریسیو کی
"کہاں پر تھی اتنی دیر سے، میں کب سے کال کر رہا ہوں"
وہ تعبیر سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ہمیشہ سے بہت فرینک ہو
"تم آخر کال ہی کیوں کر رہے تھے"
فون پر سننے والی آواز سے تعبیر کا موڈ خراب ہوا
"اپنے دل سے مجبور ہوں کر اسنووائٹ"
ارتضیٰ مسکرا کر بولا
"دیکھو تم جو بھی کوئی ہو مجھے تم پسند نہیں، تعبیر صدیقی تم جیسے گلی کے عاشقوں کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھنا پسند نہیں کرتی اور اپنے دل کا بھی علاج کراؤ یہ نہ ہو اس دل سے ہی ہاتھ دھو بیٹھو"
تعبیر نے سوچا آج اسے اس کی اوقات یاد دلادے
"دل سے میں ابھی سے نہیں بچپن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو،، یہ گلی کا عاشق اب تعبیر صدیقی کی جوتی سے کیسے اس کے سر کا تاج اور پھر سرتاج بنتا ہے اس کا اندازہ بہت جلد تمہیں ہو جائے گا اسنوائٹ۔۔۔ تم صرف میری ہو اس لئے پسند تو اب تمہیں اپنی بدلنی پڑے گی،، خوشی خوشی مان جاو گی تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا نہیں تو تمہیں آگے بہت مشکل ہوگی"
ارتضیٰ نے اس کو سمجھانے والا انداز اختیار کیا
"نہ ہی میں کوئی اسنوائٹ ہوں اور نہ ہی تمہاری ہوں اور میرے سر کا تاج کم از کم تم نہیں بن سکتے۔۔۔ وہ جو بھی کوئی ہے میں اسے خود چن چکی ہوں"
تعبیر کو اس کی باتیں سن کر غصہ آیا تھا اس لئے نڈر انداز میں وہ اس سے بولی
"تم میری اسنووائٹ ہی ہو۔۔۔۔ کسی کو بھی اپنے سر کا تاج بنانے سے پہلے اس کی زندگی کے بارے میں ضرور سوچنا بے چارہ بے موت مارا جائے گا میرے ہاتھوں"
ارتضیٰ نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا
"مجھے دھمکی دینا اور اپنا حق جتانا بند کرو"
تعبیر نے غصے میں کہا
"ابھی اپنا حق کہا جتایا ہے، جس دن اپنا حق جتایا نہ تو اس دن لال ہو جاؤں گی شرم سے بھی اور۔۔۔۔"
تعبیر اس کی معنی خیز بات سن کر لال ہی ہوگئی تھی اس لئے فورا کال کاٹ دی
****
"مما یہ دیکھے اب اسنوائٹ چلنے لگ گئی ہے"
ارتضیٰ نے خوش ہو کر مریم کو بتایا۔۔ اپنے چھوٹے چھوٹے پاؤں سے دعا اب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگ گئی تھی
"بڑی جو ہورہی ہے ماشاءاللہ"
مریم نے چھوٹی سی دعا کو پاؤں پاوں چلتے دیکھ کر کہا
عائشہ کو مریم کے پاس آئے ہوئے چھ مہینے ہوگئے تھے اور دعا سوا سال کی ہوچکی تھی وہ اب عائشہ سے زیادہ ارتضیٰ اور مریم سے اٹیچ ہوگئی تھی وجہ یہ تھی کہ ان چھ ماہ میں عائشہ کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی اور طبیعت زیادہ تر خراب رہتی۔۔۔ اس لیے دعا کی دیکھ بھال مریم ہی کرتی اور اسکول سے آنے کے بعد دعا ارتضیٰ کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔۔۔ مریم کا شوہر یاور نرم دل اور رحمدل تھا اس نے نہ صرف عائشہ کو اپنے گھر میں جگہ دی بلکہ اس کا علاج بھی کروا رہا تھا چند دنوں پہلے جو امپورٹنٹ ٹیسٹ کروائے تھے آج ان کی رپورٹ آنی تھی مگر یاور نے جو بھیانک خبر مریم کو سنائیاس سے نہ صرف مریم کا دل دہل گیا بلکہ روم باہر دروازے پر کھڑی عائشہ کے قدم بھی لڑکھڑا گئے۔۔۔ مریم اور یاور نے دروازے کی طرف عائشہ کو دیکھا تو وہ دونوں بھی ایک پل کے لئے چپ ہو گئے
"عائشہ میں نے آپ کو اپنی بہن مانا ہے آپ پریشان مت ہوں حوصلہ رکھیے کینسر کا علاج ممکن ہے اور ابھی تو اس کی ابتداء ہے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں ہر ممکن آپ کا علاج کراؤں گا بس آپ کو ہمت سے کام لینا ہے"
یاور نے عائشہ کو روتے ہوئے دیکھ کر کہا تو مریم بھی آنسو صاف کرکے اس کے پاس آئی
"یاور بالکل ٹھیک ہے رہی عائشہ تم بالکل فکر نہیں کرو ہم ہر ممکن تمہارا علاج کرائے گے اور تم دیکھنا بہت جلد صحت یاب ہو جاؤں گی مجھے یقین ہے" مریم نے آگے بڑھ کر عائشہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا
"میں دن رات خدا سے شکوہ کرتی رہتی تھی میرے بھائی نے مجھے چھوڑ دیا، شوہر نے قدر نہیں کی مگر میں کتنی خوش نصیب ہوں تم نے اپنی دوستی سے بڑھ کر حق ادا کیا ہے یاور بھائی آپ تو میرے سگے بھائی سے بھی زیادہ میرا خیال رکھتے ہیں"
عائشہ رونے لگی
"کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ عائشہ دل چھوٹا مت کریں انشااللہ اللہ پاک سب بہتر کرے گا" یاور نے عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا
"آپ دونوں سے ایک التجا ہے پلیز میری بات مانیں گے" عائشہ نے بڑی امید سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم التجا کیوں کر رہی ہو، بولو کیا چاہتی ہوں اسرار بھائی سے ملنے جانا ہے یا انوار بھائی کے پاس"
مریم نے عائشہ کا ہاتھ تھام کر پوچھا
"نہیں مجھے ان دونوں میں سے کسی سے نہیں ملنا نہ ہی انکو کچھ کہنا ہے میں بس یہی چاہتی ہوں آج میری آنکھوں کے سامنے ارتضیٰ اور دعا کا نکاح کردیا جائے بولیے یاور بھائی آپ مانیں گی میری بات"
عائشہ نے ایک بار پھر آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے یاور سے پوچھا
"عائشہ آپ یقین مانئے ارتضیٰ کے لیے میں نے دعا کا ہی سوچا ہے اور یہ میرے بھی دل کی خواہش ہے کہ دعا ہمیشہ ہمارے پاس رہے ہماری بیٹی بن کر مگر ابھی دونوں ہی چھوٹے ہیں بلکہ بہت چھوٹے ہیں آپ دعا کی طرف سے بالکل بے فکر رہے یہ میرے ارتضیٰ کی دلہن بنے گی"
یاور نے عائشہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور بھائی مگر پلیز اسے میری آخری خواہش سمجھ لیں۔۔۔ میں آج ہی اپنی آنکھوں کے سامنے ان دونوں کو ایک بندھن میں بندھا دیکھنا چاہتی ہوں"
عائشہ نے بہت امید سے دوبارہ یاور سے کہا
"ٹھیک ہے یاور مان لیں گے تمہاری بات مگر تم آخری خواہش کہہ کر ہمیں اس طرح پریشان مت کرو ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی عائشہ"
مریم اور عائشہ دونوں ایک دوسرے کے گلے رکھ کر دوبارہ رونے لگی
"مریم تم تو اس طرح مت رو۔۔۔ ٹھیک ہے ارتضیٰ اور دعا کا نکاح کر دیتے ہیں مگر آج ممکن نہیں۔۔۔ میں اپنے والدین اور مریم کے والدین اور آپ کے بھائی کو کل کی دعوت دے دیتا ہوں نکاح کی اب آپ دونوں خواتین بالکل رونا بند کریں"
یاور نے ان دونوں کو دیکھ کر کہا
"ناظرین آج کی اہم خبر سے ہم آپ کو اگاہ کرتے ہیں۔۔۔۔ آج پولیس کی وین سے چار قیدی فرار۔۔۔۔۔ پولیس کی وین جس میں سوار 12 قیدویوں کو دوسری جیل میں منتقل کیا جا رہا تھا اچانک وین کی خرابی پر۔۔۔وین میں موجود تمام قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی جس میں سے 8 قیدی پکڑے گئے ہیں جبکہ چار قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے"
"ارتضیٰ ٹی وی کی آواز آہستہ کرو بیٹا۔۔۔۔ ٹھیک ہے مریم میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں کل نکاح کے لئے قاری صاحب کو بھی کہہ دوں گا"
یاور مریم سے کہتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا
آج عائشہ بہت خوش تھی۔۔۔ کل بیشک اس کی دعا اس کے لئے پرائی ہو جائے گی مگر وہ مطمئن تھی اگر وہ دنیا سے چلی بھی جائے گی تو کم از کم وہ اپنی بیٹی کو ایسے ہاتھوں میں دے کر جائے گی جو اس کی قدر کرے اور اس سے محبت کریں عائشہ نے ارتضیٰ کو اپنے پاس بلایا
"میں نے اپنی اسنووائٹ ہمیشہ کے لئے آپ کو دے دی ہے اب وہ آپکی اسنووائٹ ہے پرومس کرو اپنی اسنووائٹ کا ہمیشہ خیال رکھو گے اور اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھو گے"
عائشہ نے ارتضیٰ کا ہاتھ تھام کر کہا
"میں پرومس کرتا ہوں آنٹی اپنی اسنووائٹ کا ہمیشہ خیال رکھوں گا اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا اس کے ساتھ کھیلوں گا بھی اسے اسکول بھی لے کر جاؤں گا اور چاکلیٹز بھی کھلاؤں گا۔۔۔۔ آپ روئے مت آنٹی مما نے منع کیا ہے آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی"
ارتضی نے اپنے ہاتھوں سے عائشہ کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"نہیں اب میں بالکل نہیں رو گی تھینکیو بیٹا، آپ بہت پیارے بیٹے ہیں"
عائشہ نے ارتضیٰ کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا
"ارتضیٰ آپ یہاں بیٹھے ہو چلو جاو اپنے روم میں، صبح اسکول جانا ہے آپ کو"
مریم سوتی ہوئی دعا کو گود میں اٹھائے عائشہ کے روم میں آئی
"تم بھی سو جاؤ اب"
ارتضیٰ کو بھیج کر مریم نے عائشہ کو دوا دی اور دعا کو لے جانے لگی
"مریم آج دعا کو میں سلا لیتی ہوں اپنے پاس"
عائشہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے مریم دعا کو اپنے پاس ہی سلاتی تھی
"تم پھر سکون سے نہیں سو گئی اسے میرے پاس ہی رہنے دو"
مریم نے اسے سمجھایا
"نہیں آج ہی تو مجھے سکون کی نیند آئے گی کیونکہ میں آج بہت خوش ہوں۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے میری دعا کا نصیب جس سے بندھا گا وہ اسے بہت خوش رکھے گا کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گا"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس کی بات پر مریم بھی مسکرا دی
"اس بات کی تو میں تمہیں لائف ٹائم گرانٹی دیتی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے یاور اسے سمجھا رہے تھے،، کہ کل ہمارے وہ گھر بہت سارے مہمان آئے گیں اور آپ کی اسنووائٹ ہمیشہ کے لئے آپ کی ہوجائے گی۔۔۔ یقین مانو میرے جذباتی بیٹے نے اتنے سوالات پوچھ ڈالے کہ ہم دونوں خود پریشان ہو گئے"
مریم کے بتانے پر عائشہ اور مریم ایک دفعہ پھر ہنس دیں۔۔۔ مریم نے دعا کو عائشہ کے برابر میں لٹایا اور روم سے جانے لگی
"مریم تم نے دوستی سے بڑھ کر حق ادا کیا ہے میں ساری زندگی تمہاری شکر گزار رہوں گی"
عائشہ نے مریم کو جاتا دیکھ کر کہا
"تم آج شام سے مجھے رلائے جا رہی ہوں اگر اب نے الٹی سیدھی اور یہ جذباتی باتیں بند نہیں تو میں تمھیں تھپڑ لگاؤ گی چپ کر کے سو جاؤ"
مریم اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے لائٹ بند کرکے روم سے باہر چلی گئی
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 7
تعبیر مزمل سے بات کر کے اپنے روم میں آئی تو بیڈ پر پڑا ہوا اس کا موبائل کافی دیر سے بچ رہا تھا تعبیر نے کال ریسیو کی
"کہاں پر تھی اتنی دیر سے، میں کب سے کال کر رہا ہوں"
وہ تعبیر سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے ہمیشہ سے بہت فرینک ہو
"تم آخر کال ہی کیوں کر رہے تھے"
فون پر سننے والی آواز سے تعبیر کا موڈ خراب ہوا
"اپنے دل سے مجبور ہوں کر اسنووائٹ"
ارتضیٰ مسکرا کر بولا
"دیکھو تم جو بھی کوئی ہو مجھے تم پسند نہیں، تعبیر صدیقی تم جیسے گلی کے عاشقوں کو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھنا پسند نہیں کرتی اور اپنے دل کا بھی علاج کراؤ یہ نہ ہو اس دل سے ہی ہاتھ دھو بیٹھو"
تعبیر نے سوچا آج اسے اس کی اوقات یاد دلادے
"دل سے میں ابھی سے نہیں بچپن سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو،، یہ گلی کا عاشق اب تعبیر صدیقی کی جوتی سے کیسے اس کے سر کا تاج اور پھر سرتاج بنتا ہے اس کا اندازہ بہت جلد تمہیں ہو جائے گا اسنوائٹ۔۔۔ تم صرف میری ہو اس لئے پسند تو اب تمہیں اپنی بدلنی پڑے گی،، خوشی خوشی مان جاو گی تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا نہیں تو تمہیں آگے بہت مشکل ہوگی"
ارتضیٰ نے اس کو سمجھانے والا انداز اختیار کیا
"نہ ہی میں کوئی اسنوائٹ ہوں اور نہ ہی تمہاری ہوں اور میرے سر کا تاج کم از کم تم نہیں بن سکتے۔۔۔ وہ جو بھی کوئی ہے میں اسے خود چن چکی ہوں"
تعبیر کو اس کی باتیں سن کر غصہ آیا تھا اس لئے نڈر انداز میں وہ اس سے بولی
"تم میری اسنووائٹ ہی ہو۔۔۔۔ کسی کو بھی اپنے سر کا تاج بنانے سے پہلے اس کی زندگی کے بارے میں ضرور سوچنا بے چارہ بے موت مارا جائے گا میرے ہاتھوں"
ارتضیٰ نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا
"مجھے دھمکی دینا اور اپنا حق جتانا بند کرو"
تعبیر نے غصے میں کہا
"ابھی اپنا حق کہا جتایا ہے، جس دن اپنا حق جتایا نہ تو اس دن لال ہو جاؤں گی شرم سے بھی اور۔۔۔۔"
تعبیر اس کی معنی خیز بات سن کر لال ہی ہوگئی تھی اس لئے فورا کال کاٹ دی
****
"مما یہ دیکھے اب اسنوائٹ چلنے لگ گئی ہے"
ارتضیٰ نے خوش ہو کر مریم کو بتایا۔۔ اپنے چھوٹے چھوٹے پاؤں سے دعا اب چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگ گئی تھی
"بڑی جو ہورہی ہے ماشاءاللہ"
مریم نے چھوٹی سی دعا کو پاؤں پاوں چلتے دیکھ کر کہا
عائشہ کو مریم کے پاس آئے ہوئے چھ مہینے ہوگئے تھے اور دعا سوا سال کی ہوچکی تھی وہ اب عائشہ سے زیادہ ارتضیٰ اور مریم سے اٹیچ ہوگئی تھی وجہ یہ تھی کہ ان چھ ماہ میں عائشہ کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی اور طبیعت زیادہ تر خراب رہتی۔۔۔ اس لیے دعا کی دیکھ بھال مریم ہی کرتی اور اسکول سے آنے کے بعد دعا ارتضیٰ کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔۔۔۔ مریم کا شوہر یاور نرم دل اور رحمدل تھا اس نے نہ صرف عائشہ کو اپنے گھر میں جگہ دی بلکہ اس کا علاج بھی کروا رہا تھا چند دنوں پہلے جو امپورٹنٹ ٹیسٹ کروائے تھے آج ان کی رپورٹ آنی تھی مگر یاور نے جو بھیانک خبر مریم کو سنائیاس سے نہ صرف مریم کا دل دہل گیا بلکہ روم باہر دروازے پر کھڑی عائشہ کے قدم بھی لڑکھڑا گئے۔۔۔ مریم اور یاور نے دروازے کی طرف عائشہ کو دیکھا تو وہ دونوں بھی ایک پل کے لئے چپ ہو گئے
"عائشہ میں نے آپ کو اپنی بہن مانا ہے آپ پریشان مت ہوں حوصلہ رکھیے کینسر کا علاج ممکن ہے اور ابھی تو اس کی ابتداء ہے خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔ میں ہر ممکن آپ کا علاج کراؤں گا بس آپ کو ہمت سے کام لینا ہے"
یاور نے عائشہ کو روتے ہوئے دیکھ کر کہا تو مریم بھی آنسو صاف کرکے اس کے پاس آئی
"یاور بالکل ٹھیک ہے رہی عائشہ تم بالکل فکر نہیں کرو ہم ہر ممکن تمہارا علاج کرائے گے اور تم دیکھنا بہت جلد صحت یاب ہو جاؤں گی مجھے یقین ہے" مریم نے آگے بڑھ کر عائشہ کو گلے لگاتے ہوئے کہا
"میں دن رات خدا سے شکوہ کرتی رہتی تھی میرے بھائی نے مجھے چھوڑ دیا، شوہر نے قدر نہیں کی مگر میں کتنی خوش نصیب ہوں تم نے اپنی دوستی سے بڑھ کر حق ادا کیا ہے یاور بھائی آپ تو میرے سگے بھائی سے بھی زیادہ میرا خیال رکھتے ہیں"
عائشہ رونے لگی
"کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ عائشہ دل چھوٹا مت کریں انشااللہ اللہ پاک سب بہتر کرے گا" یاور نے عائشہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا
"آپ دونوں سے ایک التجا ہے پلیز میری بات مانیں گے" عائشہ نے بڑی امید سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا
"تم التجا کیوں کر رہی ہو، بولو کیا چاہتی ہوں اسرار بھائی سے ملنے جانا ہے یا انوار بھائی کے پاس"
مریم نے عائشہ کا ہاتھ تھام کر پوچھا
"نہیں مجھے ان دونوں میں سے کسی سے نہیں ملنا نہ ہی انکو کچھ کہنا ہے میں بس یہی چاہتی ہوں آج میری آنکھوں کے سامنے ارتضیٰ اور دعا کا نکاح کردیا جائے بولیے یاور بھائی آپ مانیں گی میری بات"
عائشہ نے ایک بار پھر آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے یاور سے پوچھا
"عائشہ آپ یقین مانئے ارتضیٰ کے لیے میں نے دعا کا ہی سوچا ہے اور یہ میرے بھی دل کی خواہش ہے کہ دعا ہمیشہ ہمارے پاس رہے ہماری بیٹی بن کر مگر ابھی دونوں ہی چھوٹے ہیں بلکہ بہت چھوٹے ہیں آپ دعا کی طرف سے بالکل بے فکر رہے یہ میرے ارتضیٰ کی دلہن بنے گی"
یاور نے عائشہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا
"آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور بھائی مگر پلیز اسے میری آخری خواہش سمجھ لیں۔۔۔ میں آج ہی اپنی آنکھوں کے سامنے ان دونوں کو ایک بندھن میں بندھا دیکھنا چاہتی ہوں"
عائشہ نے بہت امید سے دوبارہ یاور سے کہا
"ٹھیک ہے یاور مان لیں گے تمہاری بات مگر تم آخری خواہش کہہ کر ہمیں اس طرح پریشان مت کرو ورنہ میں تم سے ناراض ہو جاؤں گی عائشہ"
مریم اور عائشہ دونوں ایک دوسرے کے گلے رکھ کر دوبارہ رونے لگی
"مریم تم تو اس طرح مت رو۔۔۔ ٹھیک ہے ارتضیٰ اور دعا کا نکاح کر دیتے ہیں مگر آج ممکن نہیں۔۔۔ میں اپنے والدین اور مریم کے والدین اور آپ کے بھائی کو کل کی دعوت دے دیتا ہوں نکاح کی اب آپ دونوں خواتین بالکل رونا بند کریں"
یاور نے ان دونوں کو دیکھ کر کہا
"ناظرین آج کی اہم خبر سے ہم آپ کو اگاہ کرتے ہیں۔۔۔۔ آج پولیس کی وین سے چار قیدی فرار۔۔۔۔۔ پولیس کی وین جس میں سوار 12 قیدویوں کو دوسری جیل میں منتقل کیا جا رہا تھا اچانک وین کی خرابی پر۔۔۔وین میں موجود تمام قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی جس میں سے 8 قیدی پکڑے گئے ہیں جبکہ چار قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے"
"ارتضیٰ ٹی وی کی آواز آہستہ کرو بیٹا۔۔۔۔ ٹھیک ہے مریم میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں کل نکاح کے لئے قاری صاحب کو بھی کہہ دوں گا"
یاور مریم سے کہتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا
آج عائشہ بہت خوش تھی۔۔۔ کل بیشک اس کی دعا اس کے لئے پرائی ہو جائے گی مگر وہ مطمئن تھی اگر وہ دنیا سے چلی بھی جائے گی تو کم از کم وہ اپنی بیٹی کو ایسے ہاتھوں میں دے کر جائے گی جو اس کی قدر کرے اور اس سے محبت کریں عائشہ نے ارتضیٰ کو اپنے پاس بلایا
"میں نے اپنی اسنووائٹ ہمیشہ کے لئے آپ کو دے دی ہے اب وہ آپکی اسنووائٹ ہے پرومس کرو اپنی اسنووائٹ کا ہمیشہ خیال رکھو گے اور اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھو گے"
عائشہ نے ارتضیٰ کا ہاتھ تھام کر کہا
"میں پرومس کرتا ہوں آنٹی اپنی اسنووائٹ کا ہمیشہ خیال رکھوں گا اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا اس کے ساتھ کھیلوں گا بھی اسے اسکول بھی لے کر جاؤں گا اور چاکلیٹز بھی کھلاؤں گا۔۔۔۔ آپ روئے مت آنٹی مما نے منع کیا ہے آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی"
ارتضی نے اپنے ہاتھوں سے عائشہ کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
"نہیں اب میں بالکل نہیں رو گی تھینکیو بیٹا، آپ بہت پیارے بیٹے ہیں"
عائشہ نے ارتضیٰ کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا
"ارتضیٰ آپ یہاں بیٹھے ہو چلو جاو اپنے روم میں، صبح اسکول جانا ہے آپ کو"
مریم سوتی ہوئی دعا کو گود میں اٹھائے عائشہ کے روم میں آئی
"تم بھی سو جاؤ اب"
ارتضیٰ کو بھیج کر مریم نے عائشہ کو دوا دی اور دعا کو لے جانے لگی
"مریم آج دعا کو میں سلا لیتی ہوں اپنے پاس"
عائشہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے مریم دعا کو اپنے پاس ہی سلاتی تھی
"تم پھر سکون سے نہیں سو گئی اسے میرے پاس ہی رہنے دو"
مریم نے اسے سمجھایا
"نہیں آج ہی تو مجھے سکون کی نیند آئے گی کیونکہ میں آج بہت خوش ہوں۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے میری دعا کا نصیب جس سے بندھا گا وہ اسے بہت خوش رکھے گا کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑے گا"
عائشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس کی بات پر مریم بھی مسکرا دی
"اس بات کی تو میں تمہیں لائف ٹائم گرانٹی دیتی ہوں۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے یاور اسے سمجھا رہے تھے،، کہ کل ہمارے وہ گھر بہت سارے مہمان آئے گیں اور آپ کی اسنووائٹ ہمیشہ کے لئے آپ کی ہوجائے گی۔۔۔ یقین مانو میرے جذباتی بیٹے نے اتنے سوالات پوچھ ڈالے کہ ہم دونوں خود پریشان ہو گئے"
مریم کے بتانے پر عائشہ اور مریم ایک دفعہ پھر ہنس دیں۔۔۔ مریم نے دعا کو عائشہ کے برابر میں لٹایا اور روم سے جانے لگی
"مریم تم نے دوستی سے بڑھ کر حق ادا کیا ہے میں ساری زندگی تمہاری شکر گزار رہوں گی"
عائشہ نے مریم کو جاتا دیکھ کر کہا
"تم آج شام سے مجھے رلائے جا رہی ہوں اگر اب نے الٹی سیدھی اور یہ جذباتی باتیں بند نہیں تو میں تمھیں تھپڑ لگاؤ گی چپ کر کے سو جاؤ"
مریم اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے لائٹ بند کرکے روم سے باہر چلی گئی
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment