🌹: U r mine
By zeenia sharjeel
Epi # 6
"تم گھر کب اور کہاں تھے اتنے دنوں سے"
مریم کو ارتضیٰ کے روم میں لائٹ جلتی ہوئی دکھی تو روم میں آکر پوچھا
"ضروری کام کی وجہ سے جانا پڑا تھا مما، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں آپ سو رہی تھی اس لیے آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا"
ارتضیٰ نے وارڈروب سے اپنی ڈریس نکالتے ہوئے مریم سے کہا
"کیا حلیہ بنا رکھا ہے ارتضیٰ تم نے، اپنے اوپر بالکل دھیان نہیں دیتے۔۔۔جتنے بڑے ہوتے جارہے ہو اتنا ہی پریشان کرنے لگے ہو تم مجھے"
مریم نے ملامتی نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"مما آپکو میری جاب کا پتہ تو ہے ایک ضروری اسائنمنٹ پر کام کر رہا ہوں اس لئے خود پر دھیان نہیں دے پا رہا ورنہ میں آپ سے یا اپنے آپ سے بالکل لاپروا نہیں"
ارتضیٰ نے مریم کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"ایک رشتہ اور بھی ہے جس سے تم لاپرواہی برت رہے ہو"
مریم نے اسے کچھ یاد دلایا
"میں اپنے سے منسلک رشتوں سے نہ ہی لاپرواہی برتتا سکتا ہوں اور نہ ہی انھیں اپنے آپ سے لاپروا ہونے دیتا ہوں صرف مناسب وقت کا انتظار کررہا ہوں"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دہانی کرائی
"اور وہ مناسب وقت کب آئے گا" مریم نے اس سے جاننا چاہا
"دعا کریں میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاو۔۔۔ بہت جلد اپکی دعا سے، اپکی دعا اپکے اور میرے پاس ہوگی"
ارتضیٰ نے مسکرا کر مریم کو یقین دلایا
"دعا تو وہ میری ہے، تمہاری تو وہ اسنووائٹ ہے"
مریم کے کہنے پر ارتضیٰ نے زوردار قہقہہ لگایا
"آپکو ابھی تک یاد ہے"
ارتضیٰ نے مسکرتے ہوئے پوچھا
"یاد کیوں نہیں ہوگا، یہ بتاؤ تم نے اسے دیکھا، کیسی لگتی ہے وہ دیکھنے میں"
مریم کے لہجے میں اشتیاق دیکھ کر وہ مسکرایا
"بہت خوبصورت،، اسنوائٹ ایسے ہی تو نہیں کہتا تھا میں"
ارتضیٰ نے مریم کو دیکھ کر کہا
"اسے ہمارے بارے میں علم کی"
مریم نے بڑی امید سے ارتضیٰ سے پوچھا
"مجھے نہیں لگتا کہ اسے کچھ پتہ ہوگا، اسے لاعلم رکھا گیا ہے"
ارتضیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے مریم سے کہا
"مگر آپ فکر نہ کریں میں اپنا کہا پورا کروں گا بہت جلد دعا ہمارے پاس ہوگی"
ارتضیٰ نے مریم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے یقین دلایا
"اور میں اس وقت کا انتظار کروں گی چلو بیٹھو میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں"
مریم نے اس کا گال تھپتھپا کر کہا
"اور میں نے اتنے دن آپ کے ہاتھ کا ناشتہ کو بہت مس کیا"
ارتضیٰ نے مریم سے کہا تو وہ مسکرا کر کچن میں چلی گئی
****
"کیسے ہیں آپ اریش بیٹا جلدی آ گئے آفس سے"
آریش گھر آیا تو آکا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"جی اکا آج جو میٹنگ ہونے والی تھی وہ کینسل ہو گئی اس لیے سوچا گھر آ جاؤ۔۔۔ آپ بتائیں کیسی ہی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو"
آریش نے اپنا بریف کیس ایک طرف رکھتے ہوئے اکا سے پوچھا
اسے جینی کا فیصلہ بالکل ٹھیک لگا آکا کو گھر کا چارج سنبھالے ہوئے ہفتہ بھر ہو گیا تھا۔۔۔ اکا اسے مل کر اسے اندازہ ہوگیا وہ اچھی خاتون ہیں گھر کو بہت اچھے طریقے سے مینٹین کر کے رکھا ہوا ہے، ان خاتون کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے سے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کم ذات یا پھر نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کسی اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں یا کسی مشکل کی وجہ سے یا کرائسس میں آکر انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔ اکا کی بیٹی کو بھی اس نے اس دن کے بعد سے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس نے اکا سے اس کے متعلق پوچھنا مناسب سمجھا
"پاک پروردگار کا احسان ہے بیٹا کسی چیز کی ضرورت نہیں آپ بتاؤ رات کے کھانے میں تو ٹائم ہے۔۔۔ آپ کے روم میں چائے بھیجوا دوں یا پھر یہی پیو گے"
آکا کے پوچھنے پر وہ اٹھ کر کھڑا ہوا
"موسم اچھا ہو رہا ہے آپ ایسا کریں باہر لان میں چائے ارینج کروا دیں میں فریش ہو کر آتا ہو" وہ آکا سے بولتا ہوا روم میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد لان میں پہنچا تو ٹیبل پر چائے اور دوسرے لوازمات سجے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اریش نے کیٹل سے اپنے لیے کپ میں چائے نکالی اور وہ کپ ہاتھ میں اٹھانے والا تھا جب ہوا میں اڑتی ہوئی بال آئی اور زور سے چائے سے بھرے کپ پر لگی۔۔۔ وہ ایک دم پیچھے نہ ہوتا تو پوری چائے اس کے اوپر ہوتی،،، احتیاط کے باوجود چائے کے چند چھیٹے اس کے اوپر آئے
"واٹ داہیل کس نے کی ہے یہ فضول حرکت"
وہ غصے میں کھڑا ہو کر چیخا تو سامنے سے ایک تین سالہ بچہ آتا دکھائی دیا
"یہ حرکت تمہاری ہے"
اپنے سامنے سلکی بالوں والے معصوم شکل کے بچے کو دیکھ کر اس نے تیوری پر بل چڑھا کر پوچھا
"نہیں وہ بال میری ہے کیا ہانی اسے لے سکتا ہے"
ہانی نے بول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"پہلے بتاؤ یہ کیا کیا ہے"
اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اریش نے کہا۔۔۔ چائے کہ چھیٹے اس کے نفاست طبیعت پر گراں گزر رہے تھے
"انکل یہ تو آپ کے کپڑے ہیں"
ہانی نے اپنے سامنے اتنے بڑے انکل کو دیکھ کر معصومیت سا جواب دیا جنہوں نے ایک بیوقوفانہ سوال اس سے پوچھا تھا
"مجھے معلوم ہے یہ کپڑے ہیں ان کپڑوں کے اوپر یہ کیا ہے"
اریش ہانی کے جواب پر جزبز ہوکر اپنی شرٹ پر موجود چائے کے دھبے کے اوپر انگلی رکھ کر بولا
"اوووو یہ۔۔۔ یہ تو داغ ہے مگر داغ تو اچھے ہوتے ہیں" ہانی نے چٹکی بجا کر کہا۔۔۔۔ ہانی کے اس اسٹائل پر اریش کے ماتھے پر پڑے ہوئے بل غائب ہو گئے
"آپ کے بال پھینکنے کی وجہ سے چائے میرے کپڑوں پر گری اور میرے کپڑے خراب ہوئے کیا یہ اچھی بات ہے"
اریش نے اب کی بار نرمی سے اسے اس کی غلطی بتانی چاہیے
"کیا آپ کو برا لگا" ہانی نے سیریس ہوتے ہوئے اس سے پوچھا
"ہاں مجھے برا لگا" اریش نے اسے دیکھ کر صاف گوئی سے کہا
تو ہانی اس کے پاس چل کر آیا اور اشارے سے اسے نیچے بیٹھنے کے لئے کہا اور اس کی بات مانتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا تو ہانی نے اس کے گال پر کس کی
"کیا اب بھی آپ ہانی سے ناراض ہیں"
ہانی نے دوبارہ معصومیت سے پوچھا
"نہیں اب میں ہانی سے بالکل ناراض نہیں ہو"
اریش کو وہ بچہ کیوٹ لگا اور اس کے پوچھنے پر مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
"یعنی آپ ہانی کے فرینڈ ہیں اور ہانی کے ساتھ فٹ بال کھیلے گے"
ہانی نے دوستی کے ساتھ ساتھ اس سے اپنے مطلب کی بات کی
"ہانی یہاں آئیے" اس سے پہلے اریش ہانی کی بات کا جواب دیتا ایک نسوانی آواز نے اریش کی توجہ اپنی طرف مندمل کی، تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اس دن لان میں ٹہلنے والی لڑکی سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی
"ہانی آرہا ہے ویٹ کریں پلیز"
ہانی نے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔پھر اریش کا ہاتھ تھام کر بولا
"بولیے آپ ہانی کے فرینڈ ہیں اور ہانی کے ساتھ بال کھیلیں گے"
ہانی نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو اریش نے مسکرا کر اسے دیکھا
"اوکے میں ہانی کا فرینڈ ہو اور ہانی کے ساتھ سنڈے کو پکا فٹبال کھیلو گا ابھی آپ جاو آپ کی سسٹر بلا رہی ہیں"
اریش نے مشعال کو دیکھ کر ہانی سے کہاجو کہ 7 سے 8 قدم کے فاصلے پر وہی رہی تھی
"ہاہاہا انکل وہ ہانی کی سسٹر نہیں ہآنی کی مما ہیں"
ہانی کے حیرت زدہ انکشاف پر وہ چونکا اور دوبارہ مشعل کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں ناگواری لیے ہانی سے مخاطب تھی
"ہانی آپ آرہے ہیں یا نہیں"
مشعل نے اب کی ہانی کو ڈپٹتے ہوئے کہا
"ہانی آرہا ہے مما" ہانی سر پر ہاتھ مارتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور مشعل نے ایک نظر گھور کر اپنے سامنے کھڑے اس فضول شخص کو دیکھا جو ہونقوں کی طرح اس کو گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہانی کا ہاتھ تھام کر وہ چلی گئی
"یہ لڑکی مما ٹائپ چیز کہاں سے لگتی ہے۔۔۔۔ مما کا اتنا پرفیکٹ فگر"
اریش کو یقین نہیں آیا وہ حیرت کرتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا
****
"صاحب کوئی مزمل نامی شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے"
وہاج لان میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا جب واچ مین نے آکر اس کو اطلاع دی
"کون مزمل بھیجو اسے"
ذہن پر زور ڈالتے ہوئے وہاج کو مزمل یاد آیا تو اس کو بلایا
"السلام علیکم سر کیسے ہیں آپ"
مزمل نے لان میں اخبار پڑھتے ہوئے وہاج کو دیکھ کر سلام کیا
"وعلیکم سلام ہم تو ٹھیک ہے تم سناؤ کیسی طبیعت ہے تمہاری"
وہاج نے اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے مزمل کو بیٹھنے کی لئے کہا
"اللہ کا کرم ہے سر، اب تو بہتر ہے طبیعت، آپ کی مہربانی، اپ نے اسپتال کا خرچہ اٹھایا اور میرا علاج کروایا اسی کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں"
مزمل نے اپنے آنے کا مقصد بتایا
"اس کے لیے شکریہ کہہ کر ہمیں شرمندہ نہیں کرو یہ تو میرا فرض تھا کیونکہ تم نے میری جان بچائی، اپنی جان خطرے میں ڈال کر۔۔۔ میری بیٹی میری جان ہے"
وہاج نے اس کو مشکور ہوتے ہوئے کہا
"انسانیت کے ناتے۔۔ یہ تو ہر انسان کا فرض ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کریں"
مزمل نے وہاج کو جواب دیا
"تمہاری باتوں سے اندازہ ہورہا ہے تم کافی اچھے انسان ہو۔۔۔۔ اس دن اسپتال میں تم نے بتایا تھا کہ تم چار ماہ سے بےروزگار ہو، کیا تم میرے پاس جاب کرو گے مزمل" وہاج نے فورا اپنے کام کی بات کرتے ہو اسے جاب کی آفر کی
"جاب۔۔۔۔ کس نوعیت کی جاب"
مزمل نے سوالیہ نظروں سے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اس نے گارڈ کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس سے ریوالور مانگی
"تمہیں یہ تو پتہ ہوگا کہ یہ کیا چیز ہے۔۔۔ کیا اس کے استعمال جانتے ہو" وہاج نے ریوالور ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ جسے مزمل نے اٹھایا مسکرا کر ایک نظر پورے لان کا جائزہ لیا اور اپنے دائے جانب سیور بلب پر فوکس کیا، وہاج کی طرف دیکھتے ہوئے بلب کا نشانہ پر فائر کیا۔۔۔ فائر کی آواز آئی بلب پھٹ کر نیچے گرا۔۔۔۔۔ وہاج نے ایمپریس ہونے والے انداز میں مزمل کو دیکھا
"منہ سے اگر بولتا کہ اس کا استعمال جانتا ہوں۔۔۔۔ تو شاید آپ کو اتنا یقین نہیں آتا، سوری آپ کے لان کا ایک بلب کا نقصان میرے ہاتھوں ہوا۔۔۔۔تو کس قسم کی جاب آفر کر رہے ہیں آپ مجھے"
مزمل نے ریوالور ٹیبل پر واپس رکھتے ہوئے وہاج سے پوچھا
"بڑا آدمی بننے کا یہ بڑا نقصان ہے کہ بڑے آدمی کے دشمن بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔۔۔ جیسے کہ میں نے بتایا کہ میری بیٹی میں میری جان ہے تو میں چاہتا ہوں تم اس کو پروٹیکٹ کرو ہر جگہ اس کے ساتھ آؤ جاؤ تابی پر نظر رکھنے والوں کے اوپر نظر رکھو اور اس کی ضرورت پڑے تو اس کا استعمال بھی کرلو لائسنس میرے آدمی تمہیں اس کا بنوا کر دے دیں گے ایک دو دن میں اور تنخواہ جو تمہاری ڈیمانڈ ہو وہ بتا دو"
وہاج نے بغیر لگی لپٹی رکھے اس کو بتایا
"کیا میں جان سکتا ہوں کہ میڈم کو اس دن کون لوگ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے یعنی انہیں کس سے خطرہ ہے"
مزمل نے وہاج سے پوچھا
"وہ ستار میمن کے آدمی تھے۔۔۔ دشمن ہے وہ بہت بڑا میرا، کسی بھی طرح مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے"
وہاج نے مزمل کو دیکھتے ہوئے بتایا
"اور وہ آپ کو کیوں نقصان پہنچانا چاہتا ہے"
مزمل نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر سوال کیا
"یہ تم ہمارے ساتھ رہو گے تو جان جاؤ گے"
وہاج نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ اتنی جلدی نئے بندے پر اعتبار کرنا ٹھیک نہیں تھا یہی سوچتے ہوئے وہاج نے اس کو جواب دیا
"بابا یہ گولی کی آواز کہاں سے آئی ہے"
تابی ایک دم آئی گھبراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ سامنے مزمل کو دیکھ کر ایک دم رک گئی مزمل نے اس کی طرف دیکھا اور سر کے اشارے سے اسے سلام کیا
"ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے بیٹا اس سے ملو یہ مزمل ہے، آج سے تمہارے قید ختم۔۔ جہاں چاہے گھوم سکتی ہوں مگر مزمل کے ساتھ۔۔۔ یہ تمہیں پروٹیک کرے گا"
وہاج بتا رہا تھا اور تابی اپنے سامنے کھڑے لمبے چوڑے شخص کو دیکھ رہی تھی، جس نے اس کے لئے اپنے اوپر گولی کھائی۔۔ اور جو ایک ہفتے سے اس کے دماغ پر چپک سا گیا تھا۔۔۔ مزمل بھی سامنے کھڑی میڈم کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا
"صحیح ہے پھر مزمل، پرسو نو بجے تابی یونیورسٹی جائے گی تم پرسوں صبح آجانا"
وہاج نے پاکٹ سے بچتا ہوا موبائل نکالا اور وہاں سے چلا گیا
"شکریہ اس دن میری جان بچانے کے لئے اب کیسا ہے تمہارا زخم"
وہاج کے جانے کے بعد تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"آپ کی جان بچا کر میں نے کسی اور کی بھی جان پر احسان کیا ہے اور احسان اتارنے کا بھی اب وقت آگیا ہے زخم کا کیا ہے وہ تو وقت کے ساتھ ساتھ بھر ہی جاتے ہیں پرسوں آو گا یونیورسٹی کے ٹائم پر"
مزمل جانے کے لئے مڑا
"کل کیوں نہیں آؤ گے"
تابی کے منہ سے بے ساختہ نکلا مزمل نے مڑ کر اس کو دیکھا
"میڈم آپ کی یونیورسٹی چھٹی والے دن بھی کھلی رہتی ہے کیا"
مزمل نے تابی کی اجلی رنگت کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ دھوپ میں اور بھی چمک رہی تھی
"نہیں پرسوں لیٹ ہوجائے گا، تم کل آجاو کل مجھے ضروری کام سے جانا ہے"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا وہاں سے چلی گئی مزمل دور تک اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا اور خود بھی وہاج کے گھر سے باہر نکل گیا
"ستار صاحب مزمل بات کر رہا ہوں" مزمل نے وہاج کے گھر سے نکلتے ہی موبائل پر کال ملائی
"آپ کو مبارکباد دینے کے لئے کال کی ہے آپ کے دشمن کے گھر نوکری مل گئی ہے۔۔۔ گوٹ اب آپ کے ہاتھ آنے والی ہے" مزمل نے سنجیدگی سے اہم خبر ستار میمن کو پہنچائی وہاں سے کچھ کہا گیا جس پر وہ مسکرایا
"اس کا اعتبار جیتنا کوئی مشکل کام نہیں بس اب آپ آم کھانے کی تیاریاں کریں"
کال ڈسکنکٹ کرکے مزمل وہاں سے چلا گیا
جاری ہے
By zeenia sharjeel
Epi # 6
"تم گھر کب اور کہاں تھے اتنے دنوں سے"
مریم کو ارتضیٰ کے روم میں لائٹ جلتی ہوئی دکھی تو روم میں آکر پوچھا
"ضروری کام کی وجہ سے جانا پڑا تھا مما، ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا ہوں آپ سو رہی تھی اس لیے آپ کو ڈسٹرب نہیں کیا"
ارتضیٰ نے وارڈروب سے اپنی ڈریس نکالتے ہوئے مریم سے کہا
"کیا حلیہ بنا رکھا ہے ارتضیٰ تم نے، اپنے اوپر بالکل دھیان نہیں دیتے۔۔۔جتنے بڑے ہوتے جارہے ہو اتنا ہی پریشان کرنے لگے ہو تم مجھے"
مریم نے ملامتی نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے کہا
"مما آپکو میری جاب کا پتہ تو ہے ایک ضروری اسائنمنٹ پر کام کر رہا ہوں اس لئے خود پر دھیان نہیں دے پا رہا ورنہ میں آپ سے یا اپنے آپ سے بالکل لاپروا نہیں"
ارتضیٰ نے مریم کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
"ایک رشتہ اور بھی ہے جس سے تم لاپرواہی برت رہے ہو"
مریم نے اسے کچھ یاد دلایا
"میں اپنے سے منسلک رشتوں سے نہ ہی لاپرواہی برتتا سکتا ہوں اور نہ ہی انھیں اپنے آپ سے لاپروا ہونے دیتا ہوں صرف مناسب وقت کا انتظار کررہا ہوں"
ارتضیٰ نے مریم کو یقین دہانی کرائی
"اور وہ مناسب وقت کب آئے گا" مریم نے اس سے جاننا چاہا
"دعا کریں میں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاو۔۔۔ بہت جلد اپکی دعا سے، اپکی دعا اپکے اور میرے پاس ہوگی"
ارتضیٰ نے مسکرا کر مریم کو یقین دلایا
"دعا تو وہ میری ہے، تمہاری تو وہ اسنووائٹ ہے"
مریم کے کہنے پر ارتضیٰ نے زوردار قہقہہ لگایا
"آپکو ابھی تک یاد ہے"
ارتضیٰ نے مسکرتے ہوئے پوچھا
"یاد کیوں نہیں ہوگا، یہ بتاؤ تم نے اسے دیکھا، کیسی لگتی ہے وہ دیکھنے میں"
مریم کے لہجے میں اشتیاق دیکھ کر وہ مسکرایا
"بہت خوبصورت،، اسنوائٹ ایسے ہی تو نہیں کہتا تھا میں"
ارتضیٰ نے مریم کو دیکھ کر کہا
"اسے ہمارے بارے میں علم کی"
مریم نے بڑی امید سے ارتضیٰ سے پوچھا
"مجھے نہیں لگتا کہ اسے کچھ پتہ ہوگا، اسے لاعلم رکھا گیا ہے"
ارتضیٰ نے کچھ سوچتے ہوئے مریم سے کہا
"مگر آپ فکر نہ کریں میں اپنا کہا پورا کروں گا بہت جلد دعا ہمارے پاس ہوگی"
ارتضیٰ نے مریم کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے یقین دلایا
"اور میں اس وقت کا انتظار کروں گی چلو بیٹھو میں ناشتہ بنا کر لاتی ہوں"
مریم نے اس کا گال تھپتھپا کر کہا
"اور میں نے اتنے دن آپ کے ہاتھ کا ناشتہ کو بہت مس کیا"
ارتضیٰ نے مریم سے کہا تو وہ مسکرا کر کچن میں چلی گئی
****
"کیسے ہیں آپ اریش بیٹا جلدی آ گئے آفس سے"
آریش گھر آیا تو آکا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
"جی اکا آج جو میٹنگ ہونے والی تھی وہ کینسل ہو گئی اس لیے سوچا گھر آ جاؤ۔۔۔ آپ بتائیں کیسی ہی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں آپ کو"
آریش نے اپنا بریف کیس ایک طرف رکھتے ہوئے اکا سے پوچھا
اسے جینی کا فیصلہ بالکل ٹھیک لگا آکا کو گھر کا چارج سنبھالے ہوئے ہفتہ بھر ہو گیا تھا۔۔۔ اکا اسے مل کر اسے اندازہ ہوگیا وہ اچھی خاتون ہیں گھر کو بہت اچھے طریقے سے مینٹین کر کے رکھا ہوا ہے، ان خاتون کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے سے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کم ذات یا پھر نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں بلکہ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ کسی اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں یا کسی مشکل کی وجہ سے یا کرائسس میں آکر انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔۔ اکا کی بیٹی کو بھی اس نے اس دن کے بعد سے نہیں دیکھا تھا اور نہ اس نے اکا سے اس کے متعلق پوچھنا مناسب سمجھا
"پاک پروردگار کا احسان ہے بیٹا کسی چیز کی ضرورت نہیں آپ بتاؤ رات کے کھانے میں تو ٹائم ہے۔۔۔ آپ کے روم میں چائے بھیجوا دوں یا پھر یہی پیو گے"
آکا کے پوچھنے پر وہ اٹھ کر کھڑا ہوا
"موسم اچھا ہو رہا ہے آپ ایسا کریں باہر لان میں چائے ارینج کروا دیں میں فریش ہو کر آتا ہو" وہ آکا سے بولتا ہوا روم میں چلا گیا
تھوڑی دیر بعد لان میں پہنچا تو ٹیبل پر چائے اور دوسرے لوازمات سجے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ اریش نے کیٹل سے اپنے لیے کپ میں چائے نکالی اور وہ کپ ہاتھ میں اٹھانے والا تھا جب ہوا میں اڑتی ہوئی بال آئی اور زور سے چائے سے بھرے کپ پر لگی۔۔۔ وہ ایک دم پیچھے نہ ہوتا تو پوری چائے اس کے اوپر ہوتی،،، احتیاط کے باوجود چائے کے چند چھیٹے اس کے اوپر آئے
"واٹ داہیل کس نے کی ہے یہ فضول حرکت"
وہ غصے میں کھڑا ہو کر چیخا تو سامنے سے ایک تین سالہ بچہ آتا دکھائی دیا
"یہ حرکت تمہاری ہے"
اپنے سامنے سلکی بالوں والے معصوم شکل کے بچے کو دیکھ کر اس نے تیوری پر بل چڑھا کر پوچھا
"نہیں وہ بال میری ہے کیا ہانی اسے لے سکتا ہے"
ہانی نے بول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
"پہلے بتاؤ یہ کیا کیا ہے"
اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اریش نے کہا۔۔۔ چائے کہ چھیٹے اس کے نفاست طبیعت پر گراں گزر رہے تھے
"انکل یہ تو آپ کے کپڑے ہیں"
ہانی نے اپنے سامنے اتنے بڑے انکل کو دیکھ کر معصومیت سا جواب دیا جنہوں نے ایک بیوقوفانہ سوال اس سے پوچھا تھا
"مجھے معلوم ہے یہ کپڑے ہیں ان کپڑوں کے اوپر یہ کیا ہے"
اریش ہانی کے جواب پر جزبز ہوکر اپنی شرٹ پر موجود چائے کے دھبے کے اوپر انگلی رکھ کر بولا
"اوووو یہ۔۔۔ یہ تو داغ ہے مگر داغ تو اچھے ہوتے ہیں" ہانی نے چٹکی بجا کر کہا۔۔۔۔ ہانی کے اس اسٹائل پر اریش کے ماتھے پر پڑے ہوئے بل غائب ہو گئے
"آپ کے بال پھینکنے کی وجہ سے چائے میرے کپڑوں پر گری اور میرے کپڑے خراب ہوئے کیا یہ اچھی بات ہے"
اریش نے اب کی بار نرمی سے اسے اس کی غلطی بتانی چاہیے
"کیا آپ کو برا لگا" ہانی نے سیریس ہوتے ہوئے اس سے پوچھا
"ہاں مجھے برا لگا" اریش نے اسے دیکھ کر صاف گوئی سے کہا
تو ہانی اس کے پاس چل کر آیا اور اشارے سے اسے نیچے بیٹھنے کے لئے کہا اور اس کی بات مانتے ہوئے گھٹنوں کے بل بیٹھا تو ہانی نے اس کے گال پر کس کی
"کیا اب بھی آپ ہانی سے ناراض ہیں"
ہانی نے دوبارہ معصومیت سے پوچھا
"نہیں اب میں ہانی سے بالکل ناراض نہیں ہو"
اریش کو وہ بچہ کیوٹ لگا اور اس کے پوچھنے پر مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
"یعنی آپ ہانی کے فرینڈ ہیں اور ہانی کے ساتھ فٹ بال کھیلے گے"
ہانی نے دوستی کے ساتھ ساتھ اس سے اپنے مطلب کی بات کی
"ہانی یہاں آئیے" اس سے پہلے اریش ہانی کی بات کا جواب دیتا ایک نسوانی آواز نے اریش کی توجہ اپنی طرف مندمل کی، تو اس نے گردن موڑ کر دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔ اس دن لان میں ٹہلنے والی لڑکی سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی
"ہانی آرہا ہے ویٹ کریں پلیز"
ہانی نے مشعل کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔پھر اریش کا ہاتھ تھام کر بولا
"بولیے آپ ہانی کے فرینڈ ہیں اور ہانی کے ساتھ بال کھیلیں گے"
ہانی نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو اریش نے مسکرا کر اسے دیکھا
"اوکے میں ہانی کا فرینڈ ہو اور ہانی کے ساتھ سنڈے کو پکا فٹبال کھیلو گا ابھی آپ جاو آپ کی سسٹر بلا رہی ہیں"
اریش نے مشعال کو دیکھ کر ہانی سے کہاجو کہ 7 سے 8 قدم کے فاصلے پر وہی رہی تھی
"ہاہاہا انکل وہ ہانی کی سسٹر نہیں ہآنی کی مما ہیں"
ہانی کے حیرت زدہ انکشاف پر وہ چونکا اور دوبارہ مشعل کی طرف دیکھا جو آنکھوں میں ناگواری لیے ہانی سے مخاطب تھی
"ہانی آپ آرہے ہیں یا نہیں"
مشعل نے اب کی ہانی کو ڈپٹتے ہوئے کہا
"ہانی آرہا ہے مما" ہانی سر پر ہاتھ مارتا ہوا مشعل کے پاس آیا اور مشعل نے ایک نظر گھور کر اپنے سامنے کھڑے اس فضول شخص کو دیکھا جو ہونقوں کی طرح اس کو گھور کر دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہانی کا ہاتھ تھام کر وہ چلی گئی
"یہ لڑکی مما ٹائپ چیز کہاں سے لگتی ہے۔۔۔۔ مما کا اتنا پرفیکٹ فگر"
اریش کو یقین نہیں آیا وہ حیرت کرتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا
****
"صاحب کوئی مزمل نامی شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے"
وہاج لان میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا جب واچ مین نے آکر اس کو اطلاع دی
"کون مزمل بھیجو اسے"
ذہن پر زور ڈالتے ہوئے وہاج کو مزمل یاد آیا تو اس کو بلایا
"السلام علیکم سر کیسے ہیں آپ"
مزمل نے لان میں اخبار پڑھتے ہوئے وہاج کو دیکھ کر سلام کیا
"وعلیکم سلام ہم تو ٹھیک ہے تم سناؤ کیسی طبیعت ہے تمہاری"
وہاج نے اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے مزمل کو بیٹھنے کی لئے کہا
"اللہ کا کرم ہے سر، اب تو بہتر ہے طبیعت، آپ کی مہربانی، اپ نے اسپتال کا خرچہ اٹھایا اور میرا علاج کروایا اسی کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں"
مزمل نے اپنے آنے کا مقصد بتایا
"اس کے لیے شکریہ کہہ کر ہمیں شرمندہ نہیں کرو یہ تو میرا فرض تھا کیونکہ تم نے میری جان بچائی، اپنی جان خطرے میں ڈال کر۔۔۔ میری بیٹی میری جان ہے"
وہاج نے اس کو مشکور ہوتے ہوئے کہا
"انسانیت کے ناتے۔۔ یہ تو ہر انسان کا فرض ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو مشکل میں دیکھ کر اس کی مدد کریں"
مزمل نے وہاج کو جواب دیا
"تمہاری باتوں سے اندازہ ہورہا ہے تم کافی اچھے انسان ہو۔۔۔۔ اس دن اسپتال میں تم نے بتایا تھا کہ تم چار ماہ سے بےروزگار ہو، کیا تم میرے پاس جاب کرو گے مزمل" وہاج نے فورا اپنے کام کی بات کرتے ہو اسے جاب کی آفر کی
"جاب۔۔۔۔ کس نوعیت کی جاب"
مزمل نے سوالیہ نظروں سے وہاج کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ اس نے گارڈ کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس سے ریوالور مانگی
"تمہیں یہ تو پتہ ہوگا کہ یہ کیا چیز ہے۔۔۔ کیا اس کے استعمال جانتے ہو" وہاج نے ریوالور ٹیبل پر رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔ جسے مزمل نے اٹھایا مسکرا کر ایک نظر پورے لان کا جائزہ لیا اور اپنے دائے جانب سیور بلب پر فوکس کیا، وہاج کی طرف دیکھتے ہوئے بلب کا نشانہ پر فائر کیا۔۔۔ فائر کی آواز آئی بلب پھٹ کر نیچے گرا۔۔۔۔۔ وہاج نے ایمپریس ہونے والے انداز میں مزمل کو دیکھا
"منہ سے اگر بولتا کہ اس کا استعمال جانتا ہوں۔۔۔۔ تو شاید آپ کو اتنا یقین نہیں آتا، سوری آپ کے لان کا ایک بلب کا نقصان میرے ہاتھوں ہوا۔۔۔۔تو کس قسم کی جاب آفر کر رہے ہیں آپ مجھے"
مزمل نے ریوالور ٹیبل پر واپس رکھتے ہوئے وہاج سے پوچھا
"بڑا آدمی بننے کا یہ بڑا نقصان ہے کہ بڑے آدمی کے دشمن بہت بڑے بڑے ہوتے ہیں۔۔۔ جیسے کہ میں نے بتایا کہ میری بیٹی میں میری جان ہے تو میں چاہتا ہوں تم اس کو پروٹیکٹ کرو ہر جگہ اس کے ساتھ آؤ جاؤ تابی پر نظر رکھنے والوں کے اوپر نظر رکھو اور اس کی ضرورت پڑے تو اس کا استعمال بھی کرلو لائسنس میرے آدمی تمہیں اس کا بنوا کر دے دیں گے ایک دو دن میں اور تنخواہ جو تمہاری ڈیمانڈ ہو وہ بتا دو"
وہاج نے بغیر لگی لپٹی رکھے اس کو بتایا
"کیا میں جان سکتا ہوں کہ میڈم کو اس دن کون لوگ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے یعنی انہیں کس سے خطرہ ہے"
مزمل نے وہاج سے پوچھا
"وہ ستار میمن کے آدمی تھے۔۔۔ دشمن ہے وہ بہت بڑا میرا، کسی بھی طرح مجھے نقصان پہنچانا چاہتا ہے"
وہاج نے مزمل کو دیکھتے ہوئے بتایا
"اور وہ آپ کو کیوں نقصان پہنچانا چاہتا ہے"
مزمل نے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر سوال کیا
"یہ تم ہمارے ساتھ رہو گے تو جان جاؤ گے"
وہاج نے جانچتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ اتنی جلدی نئے بندے پر اعتبار کرنا ٹھیک نہیں تھا یہی سوچتے ہوئے وہاج نے اس کو جواب دیا
"بابا یہ گولی کی آواز کہاں سے آئی ہے"
تابی ایک دم آئی گھبراتے ہوئے پوچھا۔۔۔ سامنے مزمل کو دیکھ کر ایک دم رک گئی مزمل نے اس کی طرف دیکھا اور سر کے اشارے سے اسے سلام کیا
"ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے بیٹا اس سے ملو یہ مزمل ہے، آج سے تمہارے قید ختم۔۔ جہاں چاہے گھوم سکتی ہوں مگر مزمل کے ساتھ۔۔۔ یہ تمہیں پروٹیک کرے گا"
وہاج بتا رہا تھا اور تابی اپنے سامنے کھڑے لمبے چوڑے شخص کو دیکھ رہی تھی، جس نے اس کے لئے اپنے اوپر گولی کھائی۔۔ اور جو ایک ہفتے سے اس کے دماغ پر چپک سا گیا تھا۔۔۔ مزمل بھی سامنے کھڑی میڈم کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا
"صحیح ہے پھر مزمل، پرسو نو بجے تابی یونیورسٹی جائے گی تم پرسوں صبح آجانا"
وہاج نے پاکٹ سے بچتا ہوا موبائل نکالا اور وہاں سے چلا گیا
"شکریہ اس دن میری جان بچانے کے لئے اب کیسا ہے تمہارا زخم"
وہاج کے جانے کے بعد تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
"آپ کی جان بچا کر میں نے کسی اور کی بھی جان پر احسان کیا ہے اور احسان اتارنے کا بھی اب وقت آگیا ہے زخم کا کیا ہے وہ تو وقت کے ساتھ ساتھ بھر ہی جاتے ہیں پرسوں آو گا یونیورسٹی کے ٹائم پر"
مزمل جانے کے لئے مڑا
"کل کیوں نہیں آؤ گے"
تابی کے منہ سے بے ساختہ نکلا مزمل نے مڑ کر اس کو دیکھا
"میڈم آپ کی یونیورسٹی چھٹی والے دن بھی کھلی رہتی ہے کیا"
مزمل نے تابی کی اجلی رنگت کو دیکھتے ہوئے کہا جو کہ دھوپ میں اور بھی چمک رہی تھی
"نہیں پرسوں لیٹ ہوجائے گا، تم کل آجاو کل مجھے ضروری کام سے جانا ہے"
تعبیر نے مزمل کو دیکھتے ہوئے کہا وہاں سے چلی گئی مزمل دور تک اسے جاتا ہوا دیکھنے لگا اور خود بھی وہاج کے گھر سے باہر نکل گیا
"ستار صاحب مزمل بات کر رہا ہوں" مزمل نے وہاج کے گھر سے نکلتے ہی موبائل پر کال ملائی
"آپ کو مبارکباد دینے کے لئے کال کی ہے آپ کے دشمن کے گھر نوکری مل گئی ہے۔۔۔ گوٹ اب آپ کے ہاتھ آنے والی ہے" مزمل نے سنجیدگی سے اہم خبر ستار میمن کو پہنچائی وہاں سے کچھ کہا گیا جس پر وہ مسکرایا
"اس کا اعتبار جیتنا کوئی مشکل کام نہیں بس اب آپ آم کھانے کی تیاریاں کریں"
کال ڈسکنکٹ کرکے مزمل وہاں سے چلا گیا
جاری ہے


0 comments:
Post a Comment